کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا

سید اسد علی


ہمارے قصبے میں اس دن پہلے گھنٹہ گھر کی تعمیر مکمل ہوئی۔ ہر جگہ خوشی کا سماں تھا۔ لوگ ایسے تیار ہوئے پھر رہے تھے جیسے کرسمس کا دن ہو۔ یہ گھڑیال ہمارے نئے میئر کی ذہنی اختراع تھی۔ اسے لگتا تھا جیسے یہ قصبہ قدامت پسند لوگوں سے بھرا ہوا ہے ۔ لوگ جنہیں وقت کی قدر نہیں ہے ۔ لوگ جو گھنٹوں تلک خاموش بیٹھ کر پہاڑ کی چوٹی کو تکے جاتے ہیں ۔

’’نہیں میرے دوستو!ہمیں وقت کے ایک ایک لمحے کی قدر کرنا ہو گی۔ زندگی کے ایک ایک دن کو مفید بنانا ہو گا۔ اور یہ گھڑیال ہمیں یاد دلائے گا وہ عہد جو ہم اپنے آپ سے کرنے جا رہے ہیں ۔ ‘‘میں وہاں نہیں تھا مگر جانتا تھا کہ وہ کچھ ایسے ہی الفاظ دہرا رہا ہو گا۔ وہ تھا ہی ایسا predictable۔ میں بچپن سے اسے جانتا تھا۔ سکول سے لے کر آج تک میں نے کبھی اسے بے عمل نہیں دیکھا تھا۔ وہ مشکل سے مشکل فیصلہ بھی لمحوں میں کر گزرتا تھا اور پھر باقی وقت کام میں مصروف رہتا۔ جب کہ میرا معاملہ بڑا مختلف تھا۔ میں سوچتا بہت تھا مگر کبھی نتیجے پر نہ پہنچ پاتا تھا اور آخر میں بس وہی کر گذرتا جو حالات مجھے کرنے پر مجبور کرتے ۔

اس معاملے میں میں بہت حد تک شہر کے دوسرے لوگوں کی طرح ہی تھا۔ ہم سب لوگ صبح سویرے اٹھنے کے بعد اپنے اپنے کاموں کی طرف جاتے تھے ۔ جیسے میرا کام commodity marketکا تھا۔ میرے دفتر میں ہر وقت شکاگو سے آنے والی ٹیلی فون کالز کا تانتا بندھا رہتا۔ اگر کوئی مجھے کام کرتا دیکھتا تو یقیناً یہی سمجھتا کہ میں کوئی بہت غیر معمولی ذہانت کا مالک شخص ہوں ۔ ایک ایسا شخص جو ہر لحظہ مارکیٹ کی بدلتی قیمتوں پر نظر رکھتا ہے ۔ پر حقیقت میں ایسا تھا نہیں ۔ میں تو بس اس کرسی پر بیٹھا تھا اور میرا کام تھا دو مختلف دنیاؤں میں جیسے ایک پل ہوتا ہے ۔ ایک دنیا ان لوگوں کی تھی جن کے لئے commodity marketکا مطلب آلو،گندم اور مکئی نہیں تھا بلکہ رنگین ہندسے تھے ۔ رنگین ہندسے جو کسی نامعلوم دھن پر ناچتے رہتے تھے اور یہ لوگ اس دھن سے مطابقت پیدا کرنے کی کوشش میں لگے رہتے تھے ۔ اور دوسری دنیا ان لوگوں کی تھی جنہیں بس اپنے کھیتوں میں کام کرنا تھا۔ جو بس یہ جانتے تھے کہ سال کہ کس مہینے میں ٹریکٹر چلنا ہے ،کس دن بیج بونا ہے ،کس موسم میں فصل کاٹنا ہے اور پھر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مجھ جیسے لوگوں کو منڈیوں میں اسے خرید لینا تھا۔ ہم سب کے بیچ مشترک چیز پیسہ تھا۔ یہی ہماری زبان تھی اور یہی ثقافت۔

ہمارا میئر ہمیں اسی passivityسے نکالنا چاہتا تھا۔ وہ یہ چاہتا تھا کہ کسان گونگے غلاموں کی فوج کی طرح کام نہ کریں بلکہ رنگین ہندسوں کی دھن کو سمجھیں اور وہی کچھ پیدا کریں جو انہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس قصبے کو آگے لے جائے ۔

اس گھڑیال کا افتتاح دوپہر کو بارہ بجے ہونا تھا۔ یقیناً تمام قصبہ وہاں موجود ہو گا۔ ابھی تھوڑی دیر میں فضا میں رنگین پروں والے پرندے چھوڑے جائیں گے اور غبارے اڑیں گے ۔ قصبہ کا بینڈ اپنی تیار کردہ دھنیں بجائے گا۔ میئر ایک بہت پر جوش تقریر کرے گا۔ وہاں بہت کچھ ہونے والا تھا مگر میں وہاں نہیں جا سکتا تھا۔ میں آج اس بڑے گھر میں تنہا تھا اور خود کو کوس رہا تھا۔ آخر میں کیوں اتنی سردی میں گھر سے باہر نکلا تھا اور اب بخار کی وجہ سے چند دن مجھے گھر میں گذارنا تھے ۔ میرے ملازم نے ڈرتے ڈرتے مجھ سے تقریب میں جانے کی اجازت مانگی۔

’’مجھے معلوم ہے کہ اس حالت میں مجھے آپ کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہیے مگر میں کیا کروں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم آج ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں اور میں کل کو اپنے بیٹے کو فخر سے بتانا چاہتا ہوں کہ اس تاریخی موقع پر میں بھی موجود تھا۔ ‘‘

میرے ذہن میں اس کا چھوٹا سا بیوقوف لڑکا آیا جو سارا دن گھٹنوں کے بل رینگتا ہوا صحن میں مٹی کھاتا رہتا تھا۔ اس مٹی کھانے والے کو کیا پروا ہو گی کہ اس کا باپ ایک تاریخی اجتماع کا حصہ تھا ؟بہرحال میں نے اسے بخوشی اجازت دے دی۔ پر کیا واقعی کوئی اہم واقعہ ہونے جا رہا تھا۔ جیسے آنے والا مورخ تاریخ لکھتے لکھتے ایک لمحے کو یہاں رکے گا۔ اسے لگے گا جیسے چند ساعتوں کے لئے بے حقیقت کیڑے مکوڑوں کا یہ شہر کچھ زندہ ہو گیا ہو۔ فانی لوگوں کے شہر میں وقت سا لافانی دیوتا اتر آیا ہو۔ ٹھیک بارہ بجے جیسے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا۔ گھڑیال کی ٹن ٹن جیسے سارے قصبے میں گونجے گی اور ہر شخص اپنے اندر ایک ماورائی سی طاقت مچلتی محسوس کرے گا۔

تو میں اپنے بستر پر لیٹا ہو ا تھا۔ کمرے کی کھڑکیاں میں نے ملازم کو کہ کر پہلے ہی کھلوا دی تھیں ۔ وہ اس بات پر خاصا جز بز ہو ا تھا۔

’’ڈاکٹر صاحب نے سردی سے بچنے کی سختی سے تاکید کی تھی۔ ‘‘

’’فکر نہ کرو میں کمبل اوڑھے رہوں گا۔ پر مجھے بھی گھڑیال کی ٹن ٹن سننا ہے ۔ ‘‘

اس نے تھوڑا سوچا اور ساری کھڑکیاں کھول دیں اور پھر ساتھ کے کمرے سے ایک اور کمبل لا کر میرے اوپر ڈال دیا۔ اس نے جاتے ہوئے تپائی پر سوپ کا گرم پیالہ رکھا اور چلا گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد مجھے گیٹ کے قریب سے اس کی آواز سنائی دی جس میں وہ اپنی بیوی سے کچھ کہہ رہا تھا۔ اس کے مٹی کھانے والے لڑکے نے کوئی چیخ بھی ماری(جو کہ اس کا معمول ہی تھا) اور پھر لمبی خاموشی چھا گئی۔ میں بستر پر لیٹا تھا پر سڑک پر اسے اپنی بیوی اور اچھلتے بیٹے کے ساتھ شہر کی طرف جاتا دیکھ سکتا تھا۔

ٹھیک بارہ بجے ایک مدھم سی ٹن ٹن سنائی دی۔ یہ اتنی مدھم تھی جیسے کسی ٹیونگ فورک سے نکل رہی ہو لیکن میرا دل جیسے ہواؤں میں اڑنے لگا۔ میں شہر کے اس چوک سے بہت دور تھا مگر مجھے لگا جیسے میں ان تمام خوشیاں مناتے لوگوں کو دیکھ سکتا تھا جو گھنٹہ گھر کے گرد کھڑے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر میں شاید ان ہزاروں لوگوں کو دیکھ سکتا تھا جو کبھی اس قصبے میں رہے تھے یا پھر یہاں سے گذرے تھے ۔ وہ سب بھی حیرت و استعجاب سے اس عظیم منظر کو دیکھ رہے تھے ۔ فرطِ مسرت سے میرے آنسو نکلنے کو تھے کہ ٹیلی فون کی بے رحم اور کرخت گھنٹی نے مجھے چونکا دیا۔ میں جیسے پھر سے زمین پر لا پھینکا گیا۔ زمین جس پر ہر سمت کیڑے مکوڑے رینگتے تھے ۔ میرے جسم میں بہت بڑی بدمزگی در آئی۔ میں نے کمبل کو چہرے کے اوپر کر لیا جیسے کہتا ہوں کہ

’’چلے جاؤ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں اس ماورائی لمحے میں منڈیوں کے بھاؤ نہیں سننا چاہتا۔ ‘‘

لیکن گھنٹی بجتی رہی۔ فون کرنے والا بہت ضدی تھا۔ مجھے لگ رہا تھا جیسے وہ میرے سامنے آن بیٹھا ہو اور چلا چلا کر کہہ رہا ہو

’’اٹھو اور فون سنو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کم بخت،سست الوجود کیڑے تمہیں کوئی پروا نہیں کہ میں تم سے بات کرنا چاہ رہا ہوں ۔ ‘‘

میں زیادہ دیر تک ان طعنوں کا سامنا نہیں کر سکا اور میں نے تنگ آ کر ماوتھ پیس اٹھایا اور کرخت آواز میں ’’ہیلو‘‘ کہا۔ وہ جو کوئی بھی تھا میں اسے یقین دلانا چاہتا تھا کہ میں اس فون کال سے کتنا ناخوش ہوا تھا۔ لیکن دوسری طرف سے وکٹر کی پر جوش آواز سن کر میرا غصہ دھیما ہو گیا۔

’’انکل وہ ٹھیک بارہ بجے آ گیا۔ ‘‘شدتِ جذبات سے اس کے لئے بولنا مشکل ہو رہا تھا۔

’’آپ یقین کریں کہ ٹھیک بارہ بجے ۔ ادھر گھڑیال کی پہلی ٹن سنائی دی اور ادھر جونیئر کے رونے کی آواز آئی۔ ‘‘

وکٹر میری بہن کا بیٹا تھا۔ وہ میری بڑی بہن تھی۔ گرچہ ہمارے تعلقات کبھی بھی زیادہ خوشگوار نہیں رہے تھے مگر بہرحال رشتہ تو تھا۔ بچپن میں وہ چڑتی تھی جب اسے باہر نکلتے ہوئے اپنے چھوٹے بھائی کو بھی لے جانے کا حکم ملتا تھا۔ پھر اگر سینما میں میں رونے لگ جاتا یا کسی تقریب میں کپڑے خراب کر لیتا تو اسے ہی مجھے سنبھالنے کا حکم ملتا تھا۔ وہ بھی انتقاما اتنے سخت ہاتھوں سے مجھے تھامتی کہ میری چیخیں نکل جاتیں ۔ وہ ذرا جوان ہوئی تو ایک اوباش بارمین کے ساتھ اس شہر کو چھوڑ گئی۔ اس کے بعد کبھی کبھار وہ میری ماں کو خط لکھتی اور بتاتی رہتی کہ کیسے وہ لوگ فلم میں کام کرنے کے لئے کئی سال محنت کرتے رہے اور کیسے اس کا شوہر آہستہ آہستہ شراب کا عادی ہوتا گیا۔ پھر بہت سالوں کے بعد وہ ایک چھوٹے سے ہوٹل میں ویٹرس بن گئی اور شوہر غالباً کثرتِ شراب نوشی سے چل بسا۔

میں نے کبھی اس کے خطوط نہیں پڑھے تھے ۔ پر اتنا معلوم تھا کہ جب بھی وہ آتے تو میری ماں بہت پریشان ہو جاتی اور کمرہ بند کر کر بیٹھ جاتی۔ ایسے میں کبھی کبھار اس کے سسکیاں لینے کی آوازیں بھی سنائی دیتیں ۔ پھر جو میں انہیں تسلیاں دیتا تو وہ مجھے بہن کے بارے میں کچھ نہ کچھ بتاتی رہتیں ۔ ماں کی موت پر بھی وہ نہ آ سکی البتہ اس نے ایک کارڈ ڈال دیا جس پر لکھا تھا کہ پیسے کم ہونے کی وجہ سے وہ سفر نہ کر سکی۔ اس کے بعد خطوط آنا بند ہو گئے ۔ پھر کئی سال کے بعد ایک نوجوان میرے آفس میں داخل ہوا۔ اس کے چہرے کے نقوش میں کچھ تھا۔ میں نہیں سمجھ پایا کہ وہ کیا تھا مگر کچھ تھا۔ اس نے ایک خط میرے سامنے رکھا۔ خط میری بہن کی طرف سے تھا۔

’’پیارے بھائی!

میں جانتی ہوں کہ میں کبھی اچھی بہن ثابت نہیں ہوئی مگر یقین کرو کہ اس خیال سے تکلیف دہ اب میرے لئے کوئی چیز نہیں ۔ لیکن وقت واپس نہیں آتا۔ مجھے اب باقی عمر اس بڑے شہر کے سمندر میں مردہ مچھلی کی طرح تیرنا ہے مگر میں وکٹر کو ایسے انجام سے بچانا چاہتی ہوں ۔ میرا تم پر کوئی حق نہیں ہے مگر تم اگر اس چھوٹے قصبے کی بڑی زندگی میں اسے اسے کچھ حصہ دے سکو تو میں ہمیشہ تمہاری مشکور رہوں گی۔

تمہاری بہن۔ ‘‘

میں نے ایک نظر اس چہرے پر ڈالی اور اس کے نقوش میں چھپا راز سمجھ میں آنے لگا۔ اس لمبے مردانہ جسم میں کہیں میری نازک سی بہن چھپی تھی۔ اس دن سے وکٹر میرے ساتھ کام کرنے لگا۔ میں نے تو اُسے ایک نوکری اور کرائے کا چھوٹا سا کمرہ ہی دلایا مگر اس نے گویا مجھے اپنا سب کچھ مان لیا تھا۔ ہر تہوار پر وہ مجھے ملنے آنے والا پہلا شخص ہوتا۔ میں وہ پہلا شخص تھا جسے اس نے اپنی محبت کے بارے میں بتایا۔ اکثر اس کی بیوی میرے لئے سوپ یا کوئی دوسری کھانے پینے کی چیز بھجواتی رہتی۔ پہلے مجھے لگتا تھا کہ جیسے وہ یہ سب کچھ اس لئے کرتا تھا کہ میں اسے دفتر میں بہتر انداز سے treatکروں مگر ایسا تھا نہیں ۔ اسے ان چیزوں کی پروا نہیں تھی۔ وہ ویسے بھی دفتر کا سب سے محنتی اور ایماندار شخص تھا۔ وہ کام ایسی لگن سے کرتا کہ رات کو مجھے کہنا پڑتا  ’’بھائی گھر جاؤ اور نئی نویلی دلہن کو اتنا انتظار مت کروایا کرو۔ ‘‘

 

تو آج وہ باپ بن گیا تھا۔ یقیناً یہ خوشی کی خبر تھی۔ میں نے اسے مبارکباد دی اور فون بند کر دیامگردل میں عجیب سی بے چینی تھی۔ جہاں پہلے ایک گھنٹہ گھر دیکھنے کی خواہش تھی وہاں ایک بچے کا چہرہ بھی آن موجود ہوا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چہرہ جو اس گھنٹہ گھر کے گرد تیر رہا تھا۔ چہرہ جو کبھی گھڑیال کی جگہ گھنٹہ گھر میں پیوست ہو جاتا تھا اور فضا میں ٹن ٹن کی بجائے قلقاریاں گونجنے لگتیں ۔

میرا نوکر واپس آیا تو اس نے مجھے بخار سے تپتے پایا۔ اس نے جھٹ کھڑکی بند کی اور مجھے کوسنے لگا کہ میں اپنا خیال نہیں رکھتا۔ تھوڑی ہی دیر میں ڈاکٹر کو بھی بلوا لیا گیا۔ شام تک بخار اتر گیا اور تیسرے ہی دن میں گھر سے دفتر کے لئے بھی نکل کھڑا ہوا۔

گھر سے نکلا تو یہی سوچتا تھا کہ پہلے گھنٹہ گھر کو دیکھوں گا اور پھر دفتر چلا جاؤں گا مگر رستے میں وکٹر کا گھر دیکھ کر دیکھ کر رہا نہیں گیا اور میں نے اس کا دروازہ کھٹکھٹا ڈالا۔ اس کی بیوی مجھے دروازے پر دیکھ کر بہت خوش ہوئی۔ وہ فوراً مجھے اندر لے گئی۔ وہاں وکٹر جونیئر ایک چھوٹے سے جھولے میں سو رہا تھا۔ میں کچھ دیر کھڑا اسے دیکھتا رہا اور سچ پوچھیں تو میں کچھ مایوس ہی تھا۔ اس کے چہرے اور جسم میں کوئی بھی تو ایسی بات نہ تھی جو اسے کسی بھی طرح سے ممتاز کر سکتی۔ اور ایک میرا دل تھا جو یہ ماننے کو تیار ہی نہیں تھا کہ ’’وہ بس ایک عام سا بچہ‘‘ ہو سکتا ہے ۔ وہ وقت کے ایک ایسے لمحے میں پیدا ہو اٹھا جو ہماری دنیا کا نہیں تھا اور یہ محض اتفاق نہیں ہو سکتا تھا۔

لیکن وہ سو رہا تھا اور میں ایسے میں اس کی آنکھیں نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اور آنکھیں ہمارے اور بڑے بڑے رازوں کے بیچ کھڑکیوں کی مانند ہوتی ہیں ۔ مجھے کہنے دیجئے کہ اگر آپ کسی کی آنکھیں نہیں دیکھ سکتے تو پھر آپ اس کے بارے میں بہت کچھ نہیں جان سکتے ۔ ’’میں پھر آؤں گا اور ان آنکھوں کو دیکھوں گا اور میں اُس تعلق کو سمجھ لوں گا۔ آخر یہ کتنا مشکل ہو سکتا ہے ؟‘‘میں نے سوچا۔

میں وہاں سے نکل کر گھنٹہ گھر پہنچا۔ ویسے یہ کہنا مشکل ہے کہ میں کب اس تک پہنچا کیونکہ میں اسے دیکھنے تو خاصے فاصلے سے ہی لگا تھا۔ چھوٹے چھوٹے مکانوں اور نیچی چھتوں والی دکانوں کے شہر میں ایک بڑا گھنٹہ گھر بڑی مختلف چیز ہوتا ہے ۔ لیکن ایک عجیب بات ہوئی۔ جیسے جیسے میں اس کے قریب ہو رہا تھا ویسے ویسے مینار کو گھیرے ہوئی ماورائیت کا ہالہ چھٹتا جا رہا تھا۔ وہ بس ایک عام سی عمارت بنتا جا رہا تھا جو بس ذرا بلند تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک عام سی بد رنگ عمارت جس میں بس ایک لکڑی کا گھڑیال جڑا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نہیں یہ وہ جگہ نہیں تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک رفعت جہاں سے وقت سارے شہر کو تنبیہی نظر سے دیکھ سکتا تھا۔ ایک شہر کو جس میں لوگ بے مقصد اپنے صحنوں میں ٹہلتے تھے ،گھنٹوں تلک اونچے پہاڑوں کو تکتے تھے ،ساری شام شراب خانوں میں چھوٹی باتوں اور گھٹیا لطائف پر ہنستے تھے ۔

لیکن یہاں تو کچھ بھی نہیں تھا۔ چوک پر زندگی معمول سے بہہ رہی تھی۔ لوگ اس بلند قد و قامت عمارت کے سائے سے بڑی لاپروائی سے گذرتے چلے جا رہے تھے جیسے ان کے سامنے کوئی غیر مرئی چیز ہو۔ وہ یوں اپنی دھن میں چلے آتے تھے جیسے عمارت کی مضبوط دیوار کے بیچ سے گذر جائیں گے ۔ نجانے کیوں مجھے لگا جیسے ان لوگوں کے لئے وہ گھنٹہ گھر ہی سمٹ سمٹ جا رہا ہو۔ ایک بے اعتنائیت کے طوفان میں کسی بازی گر کی طرح باریک رسی پہ چلے جا رہا ہو۔

میں وہیں ایک بنچ پر بیٹھ گیا اور اس عجیب منظر کو دیکھتا رہا۔ میں سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ یہ سب کیسے ہوا؟صرف دو دن پہلے تما م شہر اس عمارت کے گرد کھڑا خوشیاں منا رہا تھا۔ اُسے ایک نئے عہد کا آغاز سمجھ رہا تھا اور آج۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور میں یہ سب محض اس لئے جان پایا تھا کیونکہ میں اس دن یہاں نہیں تھا۔ کبھی کبھی یہ چھوٹے چھوٹے حادثے ہمیں زندگی کے ان پہلوؤں سے روشناس کروا دیتے ہیں جنہیں ہم ویسے کبھی نہیں جان پاتے ۔ میں گھنٹہ گھر کو دیکھتا رہا۔ وہ بڑی سیدھی سی عمارت تھی۔ جیسے اس میں کوئی الجھن ،کوئی راز نہ ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پر کچھ تھا۔ کوئی راز ایسا تھا جو اتنا مقدس،اتنا بڑا تھا کہ اس کے وجود کا ادراک بھی چھپا لیا گیا تھا۔ بالکل وکٹر جونئیر کے راز کی طرح۔ پتہ نہیں کیوں مجھے لگ رہا تھا کہ میں اس گھنٹہ گھر کو بھی وکٹر جونئیر کے بنا سمجھ نہ پاؤں گا اور شاید کوئی وکٹر جونئیر کو بھی اس کے بغیر نہ سمجھ سکے ۔

وہاں سے میں دفتر چلا گیا۔ مجھے یہ دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی کہ وکٹر  سینئر نے سارا کام بڑی ذمہ داری سے سنبھال رکھا تھا۔ اس نے گذشتہ چند دنوں میں ہونے والی ہر بات ایک ڈائری میں نوٹ کر رکھی تھی۔ میرے آنے پر اس نے چند گھنٹو ں میں وہ ساری معلومات گویا مجھ میں انڈیل دیں ۔ جیسے اس نے گذرے وقت اور آج کے بیچ ایک پیوند لگا دیا اور مجھے پھر سے گذرے وقت سے جوڑ دیا۔ میں نے گہرے تشکر سے اسے دیکھا لیکن کچھ کہا نہیں ۔ میں شکریہ کہ کر اُسے شرمندہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔ وہ تھوڑی دیر تک وہاں خاموش کھڑا رہا اور پھر کمرے سے نکلنے لگا تو میں نے اپنے لہجے کو زیادہ سے زیادہ casualبناتے ہوئے پوچھا

’’جونئیر کیسا ہے ؟‘‘

وکٹر بہت خوش ہوا۔ اس کے چہرے پر ایسے تاثرات ابھر آئے جیسے وہ مجھے کوئی بات بتانا چاہ رہا ہو۔ کوئی بہت گہری بات۔ مگر پھر وہ رک گیا۔ شاید اسے لگا کہ میں بھلا اس بات میں کیا دلچسپی لوں گا۔ اور اس نے سپاٹ سے لہجے میں کہا۔

’’بہت اچھا‘‘

میں بہت مایوس ہوا۔ مجھے نہیں پتہ کہ وہ مجھے کیا بتانا چاہتا تھا۔ پر مایوسی صرف لاعلمی کی نہیں تھی۔ مایوسی اس بات کی تھی کہ میں کتنا بدل گیا تھا۔ ابھی کل کی بات تھی جب میں چھوٹا سا تھا اور اپنے گرد بکھری ہر بات کرید کرید کر اپنی بہن سے پوچھتا تھا۔ تب سب کو لگتا تھا جیسے وہ مجھے سب کچھ بتا سکتے ہیں اور آج کا دن تھا جب لوگ میرے اندر کے پر اشتیاق بچے کو دیکھ ہی نہیں پاتے تھے اور میں ہر لمحہ اپنے اندر کی لاعلمی میں ڈوبتا چلا جاتا ہوں ۔

دن گذرتے رہے ۔ میں روز دفتر جاتے ہوئے گھنٹہ گھر کے سامنے سے گذرتا اور کچھ اس طرح کہ میرا سر جھکا ہوا ہوتا۔ گویا میں اس سے شرمندہ ہوں ۔ جیسے کہتا ہوں کہ مجھے معاف کر دینا کہ میں تمہیں جان نہیں سکا۔ لیکن باقی سارے لوگ بڑے مطمئن نظر آتے تھے ۔ وہ تو بڑے سکون سے گھنٹہ گھر کی عمارت سے پشت ملا کر کھڑے ہو جاتے اور گھنٹوں تلک بیکار باتیں کرتے یا پھر اونچے پہاڑوں کو تکا کرتے ۔ میں بڑا حیران ہوتا۔ کیا واقعی وہ سب اس را ز کو جانتے تھے یا پھر جیسے وہاں کوئی راز تھا ہی نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں نہیں جانتا تھا۔ میں نہیں جانتا تھا کیونکہ ایک فرق تھا مجھ میں اور ان سب میں ۔ میں اس دن یہاں موجود نہیں تھا۔ میں نے تو بس دور ہواؤں میں گھٹی گھٹی سی ایک ٹن ٹن سنی تھی۔ نہیں میں بھلا وہ راز کیسے جان سکتا تھا۔

تو میں بس سر جھکائے مینار کے پاس سے گذر جاتا اور سارا دن دفتر میں مصروف رہتا۔ بس کبھی کبھار وکٹر سے پوچھ لیتا۔

’’جونئیر کیسا ہے ؟‘‘

اور وہ مجھے اس کے بارے میں کوئی نہ کوئی بات بتا دیتا۔ جیسے ایک مرتبہ اس نے بتا یا کہ وکٹر کو سردی لگ گئی ہے ۔ نجانے کیوں وہ ساری رات میں بے چین رہا۔ جیسے میرا جسم بخار میں تپ رہا ہو۔ صبح ہوتے ہی میں نے وکٹر کو فون کیا اور دفتر سے متعلقہ چند غیر ضروری باتیں پوچھنے لگا۔ وکٹر کو لگا جیسے میں آج آفس نہیں آؤں گا اسی لئے ایسی چیزیں پوچھ رہا ہوں ۔ اس نے بڑی سنجیدگی سے مجھے ساری باتیں بتائیں اور پھر جیسے فون بند کر دینے سے پہلے میں نے بڑے عام سے انداز میں پوچھا

’’جونئیر کیسا ہے ؟‘‘

’’اب بہت بہتر ہے ۔ میرے سامنے بڑے سکون سے سو رہا ہے ۔ ‘‘

اور ایک بہت بڑا اطمینان میرے اندر اتر آیا۔ ’’اب اگر آج دفتر جاتا ہوں تو وکٹر خوامخواہ ہی میں اس فون کال کے بارے میں سوچ کر پریشان ہوتا رہے گا ‘‘۔ اس لئے میں نے وہ سار ا دن گھر میں ہی گذارا۔

پھر ایک ڈھلتی دوپہر میں میں نے وکٹر کی بیوی کو بازار میں چلتے دیکھا۔ وہ ایک پش چیئر کو دھکیلے چل رہی تھی اور اس کی نظر دکان کے اندر ٹنگے کپڑوں پر تھی اس لئے مجھے نہ دیکھ سکی۔ ایکدم میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ میں جونئیر کو دیکھوں ۔ پر اب میں سڑک پار کر کر اس کے پاس جانے سے تو رہا۔ خواہش اتنی شدید تھی کہ میں مڑا اور قریبی گلی میں گھس گیا۔ وہاں سے تقریباً بھاگتا ہوا نکلا تاکہ اس کے رستے پر آگے سے آنے کا بہانہ کر سکوں ۔ پر جب گلی کا موڑ مڑ کر دوبارہ سڑک پر آیا تو وہ ایکدم سے میرے سامنے تھی۔ میں بوکھلا گیا۔ بولنا بھی مشکل ہو رہا تھا کہ سانس چڑھی ہوئی تھی۔

’’مسٹر اینڈرسن۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خیریت تو ہے نہ؟‘‘اس نے معصومانہ انداز میں پوچھا۔

’’ہاں بالکل۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بس گھر کی طرف جا رہا تھا۔ ‘‘میں حتیٰ الامکان سانس کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔ پھر ذرا آگے بڑھا اور ایک نظر جونئیر پر ڈالی۔ اب کی بار اس کی آنکھیں کھلی تھیں اور وہ بڑی سادگی سے مجھے دیکھے جا رہا تھا۔ لیکن اس کے چہرے پر،ان آنکھوں میں کوئی بات نہ تھی۔ میں بڑی مایوسی کے عالم میں وہاں سے چل دیا۔

پھر جونئیر بھی گھنٹہ گھر کی طرح ہو گیا۔ وہ اب میرے لینڈ  اسکیپ کا حصہ تھا اور میں سر جھکائے اسے قریب سے گذر جاتا۔ بس کبھی کبھار اس کی جھلک نظر آ جاتی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسٹریٹ کے بچوں سے کھیلتے ہوئے ،یونیفارم پہن کر سکول جاتے ہوئے ،اپنے باپ کے ساتھ پکنک مناتے ہوئے ۔ وہ ہر بار مجھے ایک عام سا بچہ نظر آیا۔ بچہ جس میں کوئی اسرار،کوئی بھید نہ ہو۔ عام سا بچہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جیسے کوئی بھی دوسرا بچہ ہو سکتا تھا۔ پر مجھے کبھی اس سب پر یقین نہ آیا۔

کبھی کبھار میں اسے چھوٹی چھوٹی چیزیں بھی دلا دیتا۔ وہ آنکھیں نیچی کئے ہوئے آتا اور چاکلیٹ یا آئیس کریم لے کر خاموشی سے کھڑا ہو جاتا۔ تھوڑی دیر وہ جیسے سوچتا کہ مجھے کیا کہنا ہے اور پھر مدھم سی آواز میں کہتا۔

’’تھینک یو مسٹر اینڈرسن۔ ‘‘

میں نے اسے بہت بار سمجھایا کہ وہ مجھے ان کل کہہ سکتا ہے ۔ وہ خاموشی سے میر ی ہر بات سن لیتا مگر کہتا مجھے مسٹر اینڈرسن ہی۔ ایک دن اُسی خاموشی کے انداز میں اس نے میری پیش کردہ نوکری قبول کر لی۔

’’تھینک یو مسٹر اینڈرسن‘‘۔ اس نے ایک جملہ کہا اور اگلے دن سے میرے دفتر کا حصہ بن گیا۔ وہ اب سارا دن میری نظروں کے سامنے گھومتا رہتا۔ شاید میں غلط ہی تھا۔ شاید اس میں کوئی بھید تھا ہی نہیں ۔

زندگی یونہی بہتی رہی اور ایک دن قصبے میں ویسا ہی اجتماع تھا۔ سب لوگ چوک میں جمع تھے ۔ بہت سی آوازیں گھنٹہ گھر کو گرانے کی بات کر رہی تھیں ۔

’’گھنٹہ گھر شہر کی قدامت پسندی کی علامت بن گیا ہے ۔ ‘‘

’’باہر سے آنے والے لوگ ایسی پرانی چیز کو دیکھ کر ہنستے ہیں ۔ ‘‘

وہ لوگ آگے بڑھے جنہیں گھڑیال کی ٹن ٹن پریشان کر تی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بوڑھے جن کی نیندیں اڑ گئی تھیں ،طالبِ علم جن کی پڑھائی کا حرج ہو رہا تھا۔ آن کی آن میں سارا شہر گھنٹہ گھر کے خلاف ہو گیا اور پھر فیصلہ کیا گیا کہ گھنٹہ گھر کو توڑ دیا جائے گا اور اس کی جگہ ایک اشتہاری کمپنی بڑی سی ٹیلی ویژن سکرین نصب کرے گی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک ایسی ٹیلی ویژن سکرین جسے شہر میں ہر مقام سے دیکھا جا سکے گا۔

آ ج پھر بہت برسوں کے بعد اس شہر میں ہر ایک پر جوش تھا۔ پتہ نہیں کیوں مجھے لگا کہ کاش میں آج بھی بیمار ہو کر گھر پڑا ہوتا۔ ایسے میں ہجوم کے بیچ مجھے وکٹر جونئیر نظر آیا۔ وہ بڑی لاتعلقی سے ایک کونے میں کھڑا تھا۔ میرے اندر کوئی چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ گھڑیال کے بعد جونئیر جی نہ سکے گا مگر وہ تو بالکل ہی لاتعلق تھا۔

جس دن گھنٹہ گھر کو گرایا گیا تو شہر میں جشن کا سماں تھا۔ لوگ اس کی اینٹیں اٹھا اٹھا کر اپنے گھروں میں لے جا رہے تھے ۔ وہ ان اینٹوں کو اب اپنے کارنس پر سجائیں گے اور بڑے فخر سے خود کو ماضی سے جڑا محسوس کریں گے ۔ گھڑیال کو البتہ توڑنے کی بجائے اٹھا کر میوزیم کے دروازے کے قریب جڑ دیا گیا۔ پھر چند ہی دنوں میں ٹیلی ویژن سکرین نصب ہو گئی اور ایک مرتبہ پھر سارا قصبہ وہاں موجود تھا۔ ہر ایک کے ہاتھ میں بئیر کی بوتلیں تھیں اور لوگ اسکرین پر تھرکتے فنکاروں کے ساتھ ناچ رہے تھے ۔ میں بہت دیر وہاں گھومتا رہا۔ لوگوں کو خوشی مناتے دیکھتا رہا مگر ایسے میں کہیں جونئیر مجھے نظر نہیں آیا۔ میرے دل میں آہستہ آہستہ پریشانی بڑھنے لگی اور میں اس ہجوم اور شور و غل سے باہر نکل آیا۔ میری آنکھیں ہر جگہ جونیئر کو ڈھونڈ رہی تھیں ۔ اس دن وہی پرانے والا یقین پھر سے میرے دل میں در آیا تھا۔ میں سیدھا میوزیم میں پہنچا جس کے دروازے پر رکھا وہ گھڑیال بہت اداس لگ رہا تھا۔ میں نے دیکھا کہ گھڑیال کے قدموں میں کوئی بیٹھا تھا اور آہستہ آہستہ سسکیاں لے رہا تھا۔ وہ جونئیر تھا۔ مجھے اپنے جسم میں سنسنی کی لہر دوڑتی محسوس ہوئی۔ میں اس کے اور قریب ہو گیا۔

قدموں کی چاپ پر اس نے سر اٹھایا اور پہلی بار میں نے اس کی آنکھوں میں ایک دوسری ہی دنیا کی جھلک دیکھی۔ اس کے گالوں پر بڑے بڑے آنسو تھے ،چہرے پر جہاں بھر کی بے یقینی اور آنکھوں میں بیس برس پہلے کے ایک گھنٹہ گھر کی جھلک تھی جس پر لگے گھڑیال کی سوئیاں بارہ کے ہندسے پر ٹھہر گئی تھیں ۔

مجھے دیکھ کر وہ سسکتا ہوا اٹھا اور میرے سینے سے لگ گیا۔ روندھی ہوئی آواز کے بیچ اس دن اس نے مجھے بہت سی باتیں بتائیں ۔ اس نے بتایا کہ اس کی ماں کو کینسر ہو گیا ہے ۔ اس نے بتایا کہ اس کی گرل فرینڈ اسے چھوڑ کر کسی دوسرے شہر میں پڑھنے کو جا رہی تھی۔ اس نے بتایا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

مگر میں نے اس کی ہر بات سنی ان سنی کر دی۔ حقیقت وہ نہیں تھی جو وہ بتا رہا تھا۔ حقیقت وہ نہیں تھی جو وہ جانتا تھا۔ حقیقت بس اتنی تھی کہ شہر کی تاریخ کا سب سے بڑا جشن منایا جا رہا تھا اور وہ ہر جگہ کو چھوڑ کر ایک پرانے گھڑیال کے قدموں تلے بیٹھا تھا۔ حقیقت بس اتنی تھی۔ میں اس کی کمر تھپتھپاتا رہا اور وہ مجھے اپنی گرل فرینڈ کے بارے میں بتاتا رہا اور شہر میں ایک اور رات تھی کہ ڈھلتی جا رہی تھی۔

٭٭٭