کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

جونک اور تتلیاں

سید اسد علی


(Throw (the child)

Into the chest, and throw

(The chest) into the river:

 

The river will cast him

Up on the bank, and he

Will be taken up by one

Who is an enemy to Me

And an enemy to him':

 

But I cast (the garment

of) love over thee from Me:

And (this) in order that

Thou mayest be reared

Under Mine eye."

 

Ta-Ha - 39 (Al-Quran)

 

کیا آپ یقین کرو گے کہ ایک بالشت بھر کی مچھلی پانچ کلو کی مچھلی کو کھا جائے اور اس طرح کہ اس کی ہڈیوں کی بھی خبر نہ رہے ۔ اور آخری چیز جو کوئی دیکھ سکے وہ بڑی مچھلی کی دم ہو جو بالشتیا کے منہ میں گم ہوتی نظر آتی ہو۔ میں بھی یقین نہیں کرتا تھا۔ اس وقت بھی نہیں جب وہ چھوٹی مچھلی میرے قریب آئی۔ تب تو خیر میں نے اسے اتنی اہمیت بھی نہ دی تھی کہ اسے غور سے دیکھ ہی لیتا کہ وہ میرے لئے ایسی ہی بے حقیقت شئے تھی مگر جب اس نے اپنے دانتوں کو میرے جسم میں پیوست کر دیا اور درد کے پیام بر بڑی بڑی مشعلیں لئے میرے جسم میں دوڑنے لگے تو میں نے پہلی بار اسے غور سے دیکھا۔ وہ تب بھی اتنی ہی بے حقیقت تھی کہ اسے خود سے علیحدہ کرنا بھی ایک کارِ بے کار لگتا تھا۔ آخر وہ کیا کر لے گی؟یہ تھا وہ سوال جس نے مجھے چند لمحے اور غفلت کی گود دے دی۔ اور یہ تو ہونا ہی تھا۔ وقت نے مجھے کبھی ایسے مقابلے کے لئے تو تیار کیا ہی نہ تھا۔ میں تو مچھلیوں کے جھنڈ میں تیرتا تھا اور زندگی نے مجھے سکھایا تھا تو صرف اتنا کہ مجھے اس سفر میں محتاط رہنا ہو گا ان بڑی مچھلیوں سے جو کبھی کبھار کسی انجانی سمت سے ہم پر آ لپکتی ہیں ۔ اور میں بہت محتاط تھا۔ مچھلیوں کے غول کے بیچ ایسی محفوظ جگہ تیرتا تھا جہاں کسی بھی حملے کی صورت میں بچ کر نکل سکوں ۔ مگر محفوظ جگہ کوئی نہیں ہوتی اور یہی میری عجیب کہانی کا واحد نکتہ ہے جو منطقی نتیجے کے طور پر ہم آگے لے کر چل سکتے ہیں ۔ وگرنہ باقی سب تو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ باقی سب تو بس اتنا نہ سمجھ میں آنے والا ہے کہ ایسی کہانی کو بھول جانا ہی بہتر ہے ۔

میں جیسے رنگین تتلیوں میں گھرا ایک ننھا خرگوش تھا جو گیت گاتے پرندوں اور نرم گھاس کی کونپلوں کے بیچ بھاگا پھرتا تھا۔ میرے پاس سب کچھ تھا سوائے ایک مقصد کے اور پھر ایک دن کچھ ہوا۔ ایک زوردار دھماکہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شاید کوئی گولی چلی اور سب کچھ بدل سا گیا۔ وہ ساری تتلیاں ، وہ سارے پرندے کسی خاموش،پرسکون دیس کی کھوج میں پر پھڑپھڑاتے اڑ گئے اور میں ایک کاٹ دینے والی تنہائی سے لڑنے کو اکیلا رہ گیا۔

اور اس دن میں پہلی بار اسے محسوس کیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ جونک جو نجانے کب سے میری پشت پر اپنے پنجے گاڑے بیٹھی تھی۔ پہلی مرتبہ میں نے ایک جونک کے وجود میں چھپی نعمت کو محسوس کیا۔

میں اکیلا نہیں تھا۔ کوئی تھا جو انتہائے خوف کی ان گھڑیوں میں بھی میرے ساتھ تھا۔ گویا وہ میرے بدن کا حصہ ہو۔ میری آنکھیں تشکر سے بھیگ گئیں ۔ مجھے لگا کہ خوف کی چادر پھینک کر مجھے پھر سے زندگی کی دوڑ میں شامل ہونا ہے ۔ اس لئے نہیں کہ مجھے یکایک زندگی سے کوئی لگاؤ ہونے لگا تھا۔ نہیں مجھے تو شاید اس جونک کے وجود سے محبت ہو گئی تھی۔ مجھے پہلی بار لگا کہ کسی کو کتنی شدت سے میری ضرورت ہے ۔ تو میں اب سالوں زندہ رہنا چاہتا تھا صرف اس لئے کہ جونک کو تازہ خون ملتا رہے ۔

میں نہیں کہہ سکتا کہ یہ کہانی کہاں سے شروع ہوتی ہے کیونکہ اس کا آغاز تو میری پیدائش سے بھی بہت پہلے ہو گیا تھا۔ مگر وہ سب واقعات ہیں ، اعداد و شمار ہیں جن میں کوئی ربط نہیں ہے ۔ مگر پھر ایک واقعہ ہوا جس نے میری پوری زندگی کے بکھرے موتیوں کو گویا ایک لڑی میں پرو دیا۔ تو میں اسی واقعہ سے آغاز کرتا ہوں ۔

 یہ کہانی ایک گھر سے شروع ہوتی ہے ۔ ایک گھر جو بہت خوبصورت، نہائیت شاندار تھا مگر نہ تو اسے بیچا جا سکتا تھا اور نہ کرائے پر دیا جا سکتا تھا۔ اور یہ سب اس لئے کہ آپ انسانیت پر ایک ٹکے کا بھی اعتبار نہیں کر سکتے ۔ یقین کیجئے کہ میں نے بہت کوشش کی مگر کیا کروں کہ ایک پورا شہر مل کر بھی مجھے ایک چھوٹی سی بات کا یقین نہیں دلا سکا کہ اس گھر کی ایک کھڑکی کو کھولا نہیں جائے گا۔ اس گھر میں درجنوں کھڑکیاں تھیں اور صرف ایک کھڑکی تھی جسے نہیں کھولا جانا تھا مگر کیا کریں کہ انسان چیزوں کو عجیب ہی نظر سے دیکھتا ہے ۔ پوری جنت ایک طرف اور شجرِ ممنوعہ کا پھل ایک طرف ہو جاتا ہے ۔ اگر میں انسانیت کو صحیح سمجھا ہوں تو وہ چیزوں کو دو رنگوں میں دیکھتا ہے ۔ وہ جو اسے میسر ہیں اور وہ جو ابھی اس کی دسترس سے باہر ہیں ۔ جب تک ایک بھی شئے اس کی دسترس سے باہر ہے تو وہ میسر چیزوں سے بھی لطف اندوز نہیں ہو سکتا۔

آخری چارے کے طور پر میں نے خود اس میں رہنا شروع کر دیا۔ اور تکلیف کی بات یہ ہے کہ مجھے خود پر بھی یقین نہیں تھا کہ میرے ہاتھ کسی کمزور لمحے میں اس کھڑکی کو کھولنے سے رکے رہیں گے ۔ میں تقریباً دو سال وہاں رہا لیکن اس دوران میں ایک لمحہ بھی ایسا نہیں آیا جب میں مکمل اعتماد سے خود کو کہ پاتا کہ کم از کم آج کے دن میں یہ کھڑکی نہیں کھولوں گا۔ میں نے آخر میں وہ کھڑکی کھولی یا نہیں ؟یہ ایک آسان سوال ہے اور اس کا جواب بڑی آسانی سے ایک واقعہ بتاتے ہوئے دیا جا سکتا ہے ۔ اور میں آپ کو یہ بات بتاؤں گا بھی لیکن مجھے کہنے دیں کہ میں نے وہ کھڑکی کھولی یا نہیں یہ بالکل randomسا عمل تھا۔ یہ حقیقت آپ کو اس اسرار کے بارے میں کوئی بھی مفید چیز نہیں بتا پائے گی۔ اگر مجھے زندگی میں دوبارہ انہی حالات میں لا پھینکا جائے تو شاید میں اس کے بالکل مختلف،بالکل الٹا عمل کر گذرتا۔ لیکن اگر ہم زندگی کی سطحیت سے ذرا بلند ہو کر اس سب کو دیکھیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جہاں سے اس کھیل کے بڑے کھلاڑی خدا اور شیطان وغیرہ دیکھتے ہیں تو آپ کو سمجھ آئی گی کہ وہاں randomnessکی کوئی جگہ نہیں ہے ۔ وہاں ہر چیز کی ایک نہ جھٹلائی جانے والی وجہ ہوتی ہے ۔ تو میں اس کہانی میں اسی چھپی ہوئی وجہ کو کھوجنے کی کوشش کروں گا۔

میں جانتا ہوں کہ میں خود ہی اپنی چیزوں کو مشکل بنا رہا ہوں لیکن میری کتنی بیوقوفی ہو گی کہ اگر میں اس چیز کو آسان و سادہ بنانے کی کوشش کروں جسے فطرت نے پیچیدگی کے لئے تخلیق کیا ہے ۔ اسی طرح اس چیز کو ایک اور levelپر سمجھنے کی بھی ضرورت ہے کیونکہ اس کہانی میں کچھ بڑے کھلاڑی بھی ایک مقام پر شامل ہو جاتے ہیں (اور لامحالہ ان کے ساتھ وہ پوری higher dimensionبھی چلی آتی ہے )۔ میں خدا کے بارے میں کوئی حتمی بات نہیں کہ پاؤں گا(خدا کے بارے میں کب کوئی حتمی بات کہ پایا ہے ؟)ہاں مگر شیطان شاید ایک موقع پر اس کہانی میں آ وارد ہوتا ہے ۔ یہ وہ مقام ہے جہاں کہانی ’’کہانی کار‘‘ کو اپنے قبضے میں لے لیتی ہے ۔ یہاں روشنی ملگجے اندھیروں میں ڈھلنے لگتی ہے ۔ اس لئے میں کوئی وعدہ نہیں کر پاؤں گا کہ میں آپ کو ہر چیز اس کے صحیح رنگ میں دکھا پاؤں گا۔ ہاں مگر میں کوشش کروں گا کہ میں سب واقعات کو بڑے سیدھے اور آسان طریقے سے بیان کر دوں (شاید صرف حقائق ہی بیان کر دوں ) پر اصل کہانی ان سطروں کے کہیں بیچ میں چھپی ہو گی۔ میری واحد استدعا یہی ہو گی کہ ان سطروں سے گذرتے ہوئے اگر کسی کہانی کو پگڈنڈی پر بیٹھے دیکھیں تو اسے نظرانداز کرنے کی بجائے اپنی چھوٹی سی گاڑی میں بٹھا کر ساتھ لے چلیں ۔

مجھے شہر کے outskirtsمیں ایک گھر وراثت میں ملا اور اس نے گویا ہر شئے میرے لئے بدل کے رکھ دی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ایک بہت بڑی تبدیلی تھی۔ اتنی ہی بڑی تبدیلی جیسے آپ کی شادی ہو جائے یا پھر آپ کو کسی جرم میں جیل میں پھینک دیا جائے ۔ گھر میں کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آخر کوئی اعتراض کر بھی کیسے سکتا ہے اگر آج کے دور میں اسے ایک گھر دے دیا جائے اور وہ بھی اتنا بڑا اور خوبصورت۔ مگر اس گھر میں ایک کھڑکی تھی جسے کسی بھی صورت میں کھولا نہیں جانا تھا۔ یہ سب اتنا ہی آسان تھا کہ گھر کی درجنوں کھڑکیوں میں سے صرف ایک تھی جسے کھولا نہیں جانا تھا لیکن یہ مجھے ناممکن حد تک مشکل لگا اور میری پوری زندگی اس کھڑکی کی حفاظت میں گویا ایک جال میں پھنستی چلی گئی۔

اور حفاظت میں ہم انسان کبھی اچھے نہیں رہے ۔ آخر ہم انسانوں نے چیزوں کی حفاظت کو کیا کیا کچھ نہیں کیا؟ یہ خواہش درحقیقت دنیا کی ساری جنگوں ،اخلاقیات اور قوانین کی ماں ہے لیکن اگر ہم نے اپنی تاریخ کو ذرا بھی سمجھا ہے تو شاید ہم اس کے سوا کسی اور نتیجے پر پہنچ ہی نہیں سکتے کہ ’’ہم کسی بھی شئے کی حفاظت نہیں کر سکتے ۔ ‘‘فطرت گویا ایک منچلا بچہ ہے جس کے ہاتھوں ہر کھلونے کو بالآخر ٹوٹنا ہی ہے ۔ حتیٰ کہ خدا بھی اپنے شجرِ ممنوعہ کی حفاظت نہیں کر پایا اور وہ بھی آدم جیسے شرمیلے اور ڈرے ہوئے بندے سے ۔ لیکن یہی انسانوں کی سب سے عجیب بات ہے ۔ وہ جب کسی ناممکن شئے کو دیکھتا ہے تو اسے محض اس لئے چھوڑ نہیں دیتا کہ وہ منطقی طور پر ناممکن ہے ۔ نہیں جناب! ہم انسانوں کو منطقی مشینوں کے طور پر بنایا ہی نہیں گیا۔ آپ لاکھوں کی فوج سے چند سو لوگوں کو ڈرانے کی کوشش کرتے ہو اور وہ پھر بھی اتنی واضح rationalityکے سامنے جھکنے سے ان کار کر دیتے ہیں ۔ وہ اس وقت تک لڑتے ہیں جب تک آخری بندے کی گردن تن سے جدا نہیں کر دی جاتی۔ تو میرے دل میں اس بات کو شائبہ بھی نہیں تھا کہ مجھے اس کھڑکی کی حفاظت سے ہاتھ اٹھا لینا چاہیے ۔ ہاں مگر میں نے بھرپور کوشش ضرور کی کہ میں اسے اپنے لئے آسان بنا سکوں ۔

تو میں نے کیا کچھ نہیں کیا کہ میری زندگی اس حفاظت سے متاثر نہ ہو۔ میں نے اسے بیچنے کی کوشش کی۔ میں نے اسے دیوار میں چھپانے کی کوشش کی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اوہ میں نے کیا کچھ نہیں کیا کہ یہ کھڑکی میری زندگی کو متاثر نہ کرے ۔ لیکن نتیجہ کیا ہوا ؟میں اپنے خاندان، نوکری، زندگی کو تقریباً کھو ہی بیٹھا۔ میں نے تقریباً کہا ہے کیونکہ کسی کی چھوٹی سی نیکی نے مجھے بچا لیا۔ اب اس نے وہ نیکی کیوں کی یہ اس کہانی کا موضوع نہیں ہے ۔ یہ میری کہانی ہے اس کی نہیں ۔ اگر اسے کبھی اپنی کہانی لکھنے کا موقع ملا تو شاید آپ یہ راز بھی جان لو مگر اس راز کے علاوہ میں سب کچھ آپ کو بتائے دیتا ہوں ۔

اس قصے کے واقعات کوئی دو سال تک چلے اور کیا اہمیت ہوتی ہے بھلا اتنی بڑی زندگی میں محض دو سال کی۔ لیکن اس دوران مجھ پر اتنا کچھ گذرا کہ میرا یقین زندگی کی برتر مقصدیت اور انسانیت کی اچھائی تک سے اٹھ گیا۔ یہ تو بہت بعد میں ہوا جب مجھے اس ساری شئے کا اصل مقصد سمجھ آیا اور میں نے کسی قدر متانت سے حالات کو سلجھانے کی کوشش کی مگر اس وقت سے پہلے تو میں گویا سب کچھ کھو چکا تھا۔

میں اس گھر میں مہینوں اکیلا رہا جس میں کوئی دوسرا شخص قدم رکھتے ہوئے بھی گھبراتا تھا۔ میں نے ان حالات میں بھی ہر ممکن کوشش کی کہ زندگی کو اسی عام نہج پر گذار سکوں جس کا میں عادی تھا لیکن وہ کوئی عام گھر نہیں تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے یاد ہے وہ دن جب میں سونے کی کوشش کر رہا تھا اور بہت سے بھوت چھلانگیں لگا رہے تھے ۔ میں نہیں جانتا کہ وہ کیوں چھلانگیں لگا رہے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شاید کسی اکتائے ہوئے بھوت کے ذہن میں خیال آیا ہو گا

’’کیوں نہ ہم ساری رات چھلانگیں لگائیں ؟‘‘

اور ہر ایک نے سوچا ہو گا کہ کتنا زبردست خیال ہے ۔ وہ لوگ پورے انہماک اور جذبے سے چھلانگیں لگاتے رہے یہاں تک کہ میں انہیں صرف دیکھ دیکھ کر ہی اتنا اکتا گیا کہ میرے ذہن میں جاگنے والے خیالات بھی مجھے چھلانگیں لگاتے ہوئے محسوس ہوتے تھے ۔

وہ ایسا کیوں کر رہے تھے ؟یہاں مت بھولئے کہ ان بھوتو ں میں بھی بیوقوف ہوتے ہیں جیسے ہمیں عام انسانوں کے بیچ میں ملتے ہیں ۔ یہ بھی جذباتی ہوتے ہیں ، کوتاہ نظر ہوتے ہیں ،بہت عام سے ہوتے ہیں ۔ ان میں یقیناً کچھ ذہین بھوت بھی ہوتے ہوں گے مگر آپ عام زندگی میں کتنی بار ذہین لوگوں سے مل پاتے ہو؟شاید کچھ ایسا ہی حساب یہاں بھی ہوتا ہو گا۔

تو جب آپ رات بھر سو نہیں پاؤ گے تو پھر بھلا کیسے اگلے دن دفتر جا کر روزمرہ کے کام سرانجام دے سکو گے ؟اور یہاں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کیا کام کرتے ہو۔ ان چیزوں سے متاثر ہونے کے لئے کوئی Rocket scientist  ہونا ضروری نہیں بالکل مجھ جیسے اسسٹنٹ مارکیٹنگ مینیجر کے لئے بھی کام کرنا ناممکن ہو جاتا ہے ۔ اور پھر یہ بھلا ایک رات کی بات تھوڑے ہی تھی ہر رات ایک نیا فسانہ ہوتا تھا۔

ایک مرتبہ ایک بوڑھی عورت تھی جو مجھے اپنی دکھ بھری بپتا سنا رہی تھی کہ کیسے اس کا شوہر اس وقت ایک حادثے میں مارا گیا جب وہ بالکل جوان تھی۔ اسے اس بات پر گہرا یقین تھا کہ اس نے اپنے شوہر کے احترام میں ایک پاکیزہ زندگی گذاری تھی۔ اس کا یہ یقین بہت گہرا تھا۔ گرچہ اس دوران میں اس نے نہ صرف چند ایک معاشقے بھی چلائے بلکہ چند لوگوں کے ساتھ تو وہ سوئی بھی

’’میں نے اپنی جوانی کی دس ہزار راتیں اپنے شوہر کی یاد میں پاکیزگی سے گذار دیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا تم مجھے ان بیس کے لئے قصوروار ٹھہراؤ گے جہاں میں ذرا سا لڑکھڑا گئی؟‘‘اس نے معصومیت سے کہا اور میں واقعی سوچ میں پڑ گیا۔ وہ اتنا غلط تو نہیں کہہ رہی تھی۔ اس نے بہرحال ایک بڑی قربانی تو دی تھی۔ وہ ان بزرگوں کی طرح پاکیزہ تو بہرحال نہیں تھی جنہیں کبھی شر اور برائی کے خیال نے بھی چھوا نہ ہو(کیا ایسے بزرگ ممکن بھی ہیں ؟) لیکن اگر عام دنیاکے معیار سے دیکھیں تو وہ خاصی معقول حد تک معصوم ہی تھی۔ شاید ہم انسانوں کے لئے یہ ضروری ہے بھی نہیں کہ ہم کہانیوں والے بزرگوں کی طرح ہو جائیں (ان بزرگوں کی زندگیوں میں بھی کئی تاریک پہلو pre-sainthood periodمیں ہوں گے پر ہم یہاں اس پر بات نہیں کرتے )۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ شر کا ہمارے دلوں میں کوئی legitimateحصہ رکھ دیا گیا ہے ۔ نیکی یہ نہیں ہے کہ ہم شیطان کو اس کے اس جائز حق سے محروم کر دیں بلکہ نیکی تو اس یقین کا نام ہے کہ روح شر سے کبھی corruptہو ہی نہیں سکتی۔ ایسا بھی تو ہو سکتا ہے کہ انسانی روح ایک چلتی ندی کی طرح ہو جو اپنے اندر آلائشوں کو چھپاتی چلی جائے اور پھر بھی انسانوں کو استعمال کے واسطے پاکیزہ پانی مہیا کرنے پر قادر ہو۔

ٍشاید اصل مقصد یہ نہیں ہے کہ ہم خدا بن جائیں (اگر ہم یہ کوشش کریں گے تو بری طرح ناکام ہو جائیں گے )جیسے کہ ہمارے مذہبی رہنما ہمیں بنانے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ اصل مقصد یہ ہے کہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم ان حالات میں بھی انسان رہ سکیں جب شیطان اس پوری دنیا کے بوجھ سے ہمیں تاریکیوں میں دھکیلنے کی سعی میں لگا ہو۔ وہ واحد چیز جو روح کو آلودہ کر سکتی ہے وہ ناامیدی کا احساس ہے ۔ امید ہی وہ ڈھلان ہے جس سے یہ ندی چلتی ہے اور اگر امید ختم ہوئی تو یہ پانی رک جائے گا اور رک جانے پر تو شفاف سے شفاف پانی بھی پینے کے قابل نہیں رہتا۔

ہاں البتہ جب وہ پینتالیس برس کی ہو گئی تو اس نے اپنے آپ کو اس کھیل سے مکمل طور پر علیحدہ کر لیا۔ اس کے بعد آنے والی راتوں کو نہ تو اس نے اپنی قربانی کی دس ہزار راتوں میں گنا اور نہ ہی کسی غلط خیال نے تصور میں بھی اسے ستایا۔ وہ باقی کی زندگی مکمل طور پر عبادات، دعاؤں اور دوسروں کے ساتھ چھوٹی موٹی بھلائیاں کرنے میں گذار رہی تھی اور امید کرتی تھی کہ یقیناً ایک اچھی موت اس کی منتظر ہو گی۔

وہ ابھی مری نہیں تھی۔ وہ یقیناً کہیں بڑی مطمئن اور پرسکون زندگی گذار رہی تھی۔ میں نے البتہ اس سے نہیں پوچھا کہ وہ کہاں رہتی تھی۔ میں ’’اُن‘‘ کی زندگیوں میں اس سے زیادہinvolveنہیں ہونا چاہتا تھا جتنا کہ بہت ضروری تھا۔ مجھے یہ بھی پتا تھا کہ اسے شاید خبر بھی نہ ہو کہ وہ مجھے یہ سب بتا رہی ہے ۔ وہ تو شاید کہیں سو رہی ہو گی جب یہاں اس کی Astral bodyاس حیرت کدے میں میر ے ساتھ بیٹھی تھی۔ تو اس کے لئے وہ ایک عام رات ہو گی۔ بس شاید صبح کو اٹھتے ہوئے وہ سوچے

’’کیا زبردستFeelingہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں خود کو کتنا ہلکا اور پرسکون محسوس کر رہی ہوں ۔ ‘‘

پر وہ بوجھ جو میری روح پر بڑھتا جاتا تھا۔

ایسا صرف ایک بار ہوا جب میں اس گھر میں ملنے والے کسی شخص سے اصل زندگی میں بھی ملا۔ وہ ایک خود پسند اور گھٹیا شخص تھا جو کسی چائینیز ہوٹل میں کُک تھا۔ وہ ان لوگوں میں سے تھا جنہیں میں نے کئی مرتبہ اس گھر میں دیکھا۔ ایک دن سیڑھیوں میں بیٹھے ہوئے اس نے بتایا کہ وہ اکثر گاہکوں کے کھانے میں تھوک دیتا ہے ۔ خاص طور پر جہاں اسے ذرا بھی شبہ ہو کہ کوئی اس کے کھانے پکانے کی صلاحیت پر شک کر رہا ہے ۔ اس کے نزدیک ایسا کرنے میں کوئی غلط بات نہیں تھی۔ مجھے اعتراف کرنے دیں کہ نہ صرف وہاں میں نے اس سے اتفاق کیا بلکہ بعض اوقات تو اس کے بتائے گئے واقعات کو قدرے دلچسپی سے بھی سنا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم کتنے سکون سے اچھی خاصی کریہہ اور بھیانک چیزوں کو دیکھ سکتے ہیں جب وہ ہم سے متعلق نہ ہوں ۔ جیسے دور دراز پہاڑوں سے نکلتا لاوا کتنا بھی گرم ہو ہمارے جسم میں کسی کافی کے کپ جتنی گرمی بھی پیدا نہیں کر سکتا۔ ہاں مگر جب ہم اس تصویر میں آتے ہیں تو گویا سب کچھ بدل جاتا ہے ۔

میں ہوٹل میں اپنے دفتر کے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا جہاں ہم اپنے نئے مارکیٹنگ ڈائرکٹر کر خوش آمدید کہنے کے لئے آئے تھے ۔ ہم تیس چالیس لوگ اپنا آڈر لکھوا رہے تھے کہ ایسے میں مارکیٹنگ ڈائرکٹر نے فرمائش کی کہ کُک کو بلوایا جائے کیونکہ وہ اسے کچھ خاص ہدایات دینا چاہتا ہے ۔ یہ کوئی بہت اہم بات نہیں تھی پر میری پریشانی انتہا کو پہنچ گئی جب میں نے دیکھا کہ وہی آدمی ہمارے سامنے آ کھڑا ہوا۔ اس کے چہرے پر اس وقت اور ہی تاثرات تھے جیسے دنیا میں ہمارے مارکیٹنگ ڈائیرکٹر سے اہم اس کے لئے کوئی ہو ہی نہ۔ اور وہ ایسی توجہ سے اس کی ہدایات کو سن رہا تھا جیسے لوگ مذہبی sermonsکو سنتے ہیں ۔ اور مجھے کہنے دیں کہ وہ ساری ہدایات انتہائی فضول اور واہیات تھیں اور وہ جتنی محبت و توجہ سے اسے سن رہا تھا وہی اس کو مستحق بناتی تھی کہ وہ بغیر کسی Guiltکے اس کے کھانے میں تھوک سکے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو میں یہاں تک تو اس کے استحقاق کا قائل تھا لیکن کیا وہ صرف اسی کی ڈش میں تھوکے گا؟ اوہ خدایا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میں بھی کبھی اس صورتحال کا شکار ہو جاؤں گا۔ آخر ہم اس شخص کے پہلو میں بیٹھے ہوئے تھے اور اس کی ہر بات پر یوں سر دھن رہے تھے جیسے وہ کوئی اشلوک پڑھتا ہو۔ ایسے میں کک جیسی ذہنی استعداد کا شخص کیسے سمجھتا کہ ہم اس کے ساتھ نہیں ہیں ۔ بہت ممکن تھا کہ وہ کسی مہربان لمحے میں مارکیٹنگ ڈائرکٹر کو تو معاف کر بھی دیتا کہ شاید خدا نے اسے بنایا ہی ایسا annoyingہو مگر ہمارے کھانے میں وہ ہر حال میں دو مرتبہ تھوکتا کہ ہم اپنی مرضی اور خوشی سے اس جیسے شخص کے ساتھ کیوں ہیں ۔

میں نہیں سمجھ پا رہا تھا کہ مجھے کیا کرنا چاہیے ؟مجھے کھانا تو کھانا ہی تھا وگرنہ بگ باس اسے کبھی معاف نہیں کرے گا لیکن کوئی آنکھوں دیکھا تھوک بھلا کیسے نگلے ؟پھر کون جانے کہ بھائی صاحب نے تھوک کہاں پھینکا ہو گا؟یہ چائینیز کھانے تو ہوتے بھی ایسے ہی ہیں کہ آپ جان نہیں سکتے ۔ بعد میں میں نے صرف چند گلاس پانی پینے اور کچھ کھیرے کھانے پر اکتفا کیا(یہ علیٰحدہ بات ہے کہ اس دن مجھے کھیرے بھی کچھ زیادہ نرم اور slivyسے محسوس ہوا)۔ ہر ایک مجھ سے پوچھ رہا تھا کہ میں کچھ کھا کیوں نہیں رہا ہوں بلکہ مجھے لگا کہ مارکیٹنگ ڈائرکٹر نے بھی اس کا نوٹس لیا تھا۔

میں نے کچھ ہفتوں کے بعد اس کُک کو اپنے گھر میں پایا اور میں نے کوشش کی کہ اس سے پوچھوں کہ اس دن اس نے ہمارے کھانے میں تھوکا تھا یا نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن یہ بہرحال ایک ناممکن کام ثابت ہوا۔ یہ ایسے ہی تھا جیسے آپ کسی کتے سے پوچھو کہ تمہیں وہ کار یاد ہے جس کے پیچھے تم دو ہفتے پہلے بھاگے تھے ۔ اس معاملے میں اس کی یادداشت سے کچھ نکلوانا ایسا ہی کراہت انگیز اور غلیظ تھا جیسے گلتے سڑتے ہوئے تعفن زدہ کوڑے کے ڈھیر سے کسی کو کوئی انگوٹھی ڈھونڈنے کو کہا جائے ۔ میں نے تنگ آ کر موضوع ہی بدل دیا۔

اب آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ کیسے یہ چیز میری زندگی پر اثر انداز ہوئے چلی جا رہی تھی۔ ہر لمحہ جو میں اس گھر میں گذارتا تھا مجھے باقی ساری دنیا سے دور لئے جا رہا تھا۔ مجھے یہ سب پسند نہیں تھا مگر کیا کرتا کہ اب یہی میری زندگی تھی۔ میری حالت اس کتے کی سی تھی جو اب سڑک کنارے ٹانگ اٹھا کر پیشاب بھی نہیں کر سکتا تھا۔ آپ نے یقیناً کتوں کو بڑی بے نیازی سے اس عمل میں مشغول دیکھا ہو گا اور اگر آپ تھوڑے سے نازک طبع واقع ہوئے ہیں تو یہ عمل آپ کو الجھن میں بھی ڈال دے گا لیکن یہ عمل ہے تو وہی جو ہم سب کرتے ہیں ۔ مانا کہ تب کوئی ہمیں دیکھ نہیں رہا ہوتا مگر بات تو وہی ہے نہ۔ تو اب میری زندگی بھی جیسے اپنا تقدس کھو بیٹھی تھی۔ میری گرد اٹھائی گئی جھوٹی دیواروں کو گرا دیا گیا تھا اور میں اب ہزاروں لوگوں کے شہر میں بے پردہ کھڑا سوچتا تھا کہ کیا کروں ؟

میں نے شروع میں فیصلہ کیا کہ میں اسے کرائے پر دے دیتا ہوں ۔ گو مجھے کھڑکی والی شق کا ادراک تو تھا لیکن میں سوچتا تھا کہ بھلا کتنا مشکل ہو گا کرائے داروں کو سمجھانا کہ وہ پورا گھر استعمال کر سکتے ہیں بس ایک کھڑکی ہے جو انہیں نہیں کھولنا ہے ۔ لیکن یہ ناممکن ثابت ہوا۔ اور یقین کیجئے کہ میں ایک ہی کوشش میں دل چھوڑنے والا نہیں تھا لیکن جب اس گھر میں ایک کرائے دار اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تو مجھے اپنا خیال بدلنا پڑا۔ پراپرٹی ڈیلرز نے بھی مجھے صاف کہ دیا کہ

’’آپ کے پاس ایک آسیب زدہ گھر ہے ۔ بہتر ہے کہ آپ اسے اپنے ہی پاس رکھیں ۔ ہم بہرحال کسی ناحق قتل میں ہر گز شریک نہ ہوں گے ۔ ‘‘

’’میں اس آسیب زدہ گھر کے ساتھ کیا کروں ؟یہ ایک ایسا سوال تھا جس کے جواب میں مجھے کوئی بھی interestedنہیں نظر آتا تھا۔ شاید دنیا ایسی ہی ہے ۔ کچھ چیزیں ایسی ہیں جہاں لوگ اپنی ذہنی صلاحیتوں کو ضائع کرنا مناسب نہیں سمجھتے ۔ یہ ان کے لئے جیسے کسی بند گلی کی طرح ہوتی ہیں ۔ تو اگر آپ کے پاس ایک آسیب زدہ گھر ہے تو اسے تالا لگائیے اور انتظار کیجئے کہ آپ کی زندگی اس سے باہر گذرتی رہے ۔ ‘‘

مجھے لگتا ہے کہ سب لوگ آغاز میں ایسا نہیں سوچتے ہوں گے ۔ یہ تو شاید وہ انجام ہے جس پر وہ بالآخر settleہوتے ہوں گے ۔ میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ تھا۔ میں ایک بڑی نارمل سی زندگی گذار رہا تھا۔ میری بیوی تھی، دو بچے تھے ایک کمپنی میں اچھی خاصی نوکری تھی۔ ہم کبھی کبھار جھگڑتے تھے ۔ سال میں ایک بار سیر کے لئے پہاڑوں پر بھی جاتے تھے ۔ غرض میری زندگی میں کوئی ایسی بات نہیں تھی جو مجھے کسی بھی طرح سے ممتاز بناتی۔ ایسے میں جب ایک دن دروازے کی گھنٹی بجی اور نوکرانی نے کہا کہ کوئی وکیل صاحب آپ سے ملنا چاہ رہیں ہیں تو مجھے بے حد حیرت ہوئی۔ مجھے لگنے لگا تھا کہ میری زندگی اتنی عام اور بے رنگ تھی کہ اس میں اتفاق سے بھی کوئی مختلف واقعہ نہیں ہو سکتا ہے ۔ ایسے میں مجھے جب بتایا گیا کہ میرے ماموں کرنل شیر دل کا انتقال ہو گیا ہے اور وہ میرے لئے ایک گھر چھوڑ گئے ہیں تو میری بیوی کا چہرہ جیسے کھِل سا گیا۔ جیسے اسے لگا ہو کہ زندگی میں ہم جس تبدیلی یا بہتری کا خواب دیکھ رہے تھے وہ شاید اب حقیقت بن سکے ۔ میں البتہ تھوڑا پریشان تھا۔ چاہتا تو یہی تھا کہ فوراً ہی ’’شکریہ‘‘ کے الفاظ کے ساتھ گھر واپس کر دیتا مگر ’’کسے ‘‘؟ یہ سوال اہم تھا۔ کرنل شیر دل نے کبھی شادی نہیں کی تھی اور ان کا میرے علاوہ کوئی رشتہ دار بھی نہیں تھا۔ ان کا پورا خاندان تقسیم کے ہنگام میں مار ڈالا گیا۔ صرف میرے نانا ہی اپنے خاندان کے ساتھ بڑی مشکل سے جان بچا کر آ پائے تھے ۔ میری ماں کی شادی تو نانا کی زندگی میں ہی ہو گئی تھی۔ لیکن پھر جلد ہی نانا نانی ایک ٹریفک کے حادثے میں مارے گئے تو دنیا میں شیر دل ماموں کا میری ماں کے سوا کوئی بھی نہ رہا۔

وہ اس وقت آرمی میں تھے ۔ مجھے یاد ہے کہ جب وہ ہمارے نانا نانی کی وفات پر آئے تو بالکل بھی اداس نہیں لگ رہے تھے ۔ وہ بس خاموشی سے گھر کے ایک کونے میں آ کر بیٹھ گئے اور ایک چھپکلی کو دیکھے جا رہے تھے ۔ وہاں موجود لوگوں کو لگا کہ وہ شاید بہت دلبرداشتہ ہیں اور ہوش کھو بیٹھے ہیں مگر میں جانتا تھا کہ وہ ضرور اس چھپکلی سے staring contestکر رہے تھے ۔ میں شاید انہیں کچھ زیادہ ہی اچھی طرح جانتا تھا۔ آپ ان کے چہرے پر مت جاؤ۔ یہ مت سوچو کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔ حقیقت یہی تھی کہ وہ بہت عجیب انسان تھے ۔ وہ پوری زندگی ہی عجیب سے انداز میں زندہ رہے اور شاید انہیں کوئی بھی اس طرح نہیں جانتا ہو گا جس طرح میں جانتا تھا۔ حتیٰ کہ شاید اس چھپکلی کو بھی کوئی اندازہ نہیں تھا کہ وہ کس کے مقابل ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ evolutionنے اس چھپکلی کو ایسے کسی مقابلے کے لئے لاکھوں سالوں میں تیار کیا تھا لیکن وہ پھر بھی ہارنے والی تھی۔ آخری ہنسی ہمیشہ کرنل شیر دل کی ہی ہوتی تھی۔

انکے بارے میں میرا پہلا impressionبڑا مختلف تھا۔ وہ ایک کسرتی جسم کے مالک تھے (بالکل میرے بابا سے الٹ جو کہ میری طرح نرم تھے ) اور اوپر سے وہ آرمی میں بھی تھے تو میں بچپن سے ہی انہیں آئیڈیلاز کرتا تھا۔ میں نے کئی مرتبہ انہیں اپنے خوابوں میں بھی دیکھا جہاں وہ جھٹ سے کئی وحشی عفریتوں کو ٹھکانے لگا دیتے ۔ وہ اپنی چھٹیوں کے دوران ہمارے گھر آ یٰنتا تھا۔حتٰ، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبیدجاتے تھے ۔ میری امی ہمیشہ انہیں میرے سامنے والا کمرہ دیتی تھیں ۔ میں اس عمر میں بڑا مختلف تھا۔ آپ تو جانتے ہی ہو گے کہ ایسی عمروں کے بچے کیسے ہوتے ہیں ۔ وہ بڑی جلدی لوگوں سے متاثر ہو جاتے ہیں اور پھر ایسی عمر میں بھلا کون ایک وجیہہ آرمی آفیسر سے متاثر ہوئے بنا رہ سکتا ہے ؟وہ ہمیشہ ایک پستول اپنی کمر میں لگائے رکھتے اور میں تو جیسے ان کی پرستش سی کرتا تھا۔ سکول سے آنے کے بعد میں سارا دن ان کے پیچھے ہی گھومتا رہتا۔ وہ جیسے کوئی سورج تھے اور میں سورج مکھی۔

ایک دن ان کے کمرے کا دروازہ بند تھا اور میں نے تالے کے سوراخ سے اندر دیکھا(میں نہیں جانتا کہ میں نے ایسا کیوں کیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شاید میرے پاس اس وقت کرنے کو کوئی بہتر چیز تھی ہی نہیں )لیکن میں نے جو دیکھا اس نے میری ان کے بارے میں رائے ہمیشہ کے لئے بدل دی۔ وہ فرش پر بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے ہاتھ میں ایک معصوم کالے رنگ کا پرندہ پھڑپھڑا رہا تھا۔ ان کی آنکھیں بند تھیں اور ان کے ہونٹ ہل رہے تھے جیسے وہ کچھ پڑھ رہے تھے ۔ اور پھر انہوں نے اپنے خالی ہاتھوں سے پرندے کی گردن کو اس کے جسم سے علیٰحدہ کر دیا۔ پرندے کے جسم سے خون کی پچکاریاں سی نکلیں اور ایسی میں انہوں نے اپنی آنکھیں کھولیں جو خود بھی سرخ ہو رہی تھیں ۔ وہ عجیب آنکھیں تھیں ایسا لگتا تھا جیسے وہ تالے کے سوراخ سے بھی مجھے دیکھ رہی تھیں ۔ میں گھبرا گیا اور بڑی مشکل سے خود کو گرنے سے روک پایا۔ میں بھاگتا ہوا اپنے کمرے کو گیا اور دروازہ لاک کر کر بستر میں گھس گیا۔ لیکن وہ منظر گھنٹوں تک میری آنکھوں کے سامنے رہا۔ میں نہیں جانتا تھا کہ وہ کیا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شرم، افسوس یا پھر خوف۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس دن میری امی کو گھسیٹ کر مجھے کھانے کی میز تک لے جانا پڑا۔ وہاں وہ بڑے مزے سے چکن کھا رہے تھے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ ہاں البتہ جب سب لوگ کھانے وغیرہ میں مصروف ہو گئے تو انہوں نے مجھے عجیب نظروں سے دیکھا جیسے کہہ رہے ہوں کہ ’’بچو میں سب جانتا ہوں ‘‘

وہ واقعہ ہمارے تعلق کا turning pointتھا۔ اس کے بعد میں ہمیشہ ان سے خوفزدہ ہی رہا۔ اور میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ انہوں نے بھی کبھی اس فاصلے کو کم کرنے کی کوشش کی ہو۔ ان کے لئے تو میں جیسے ایک بیکار ، gigantic looserتھا جس پر وہ اپنا وقت بھلا کیوں برباد کرتے ؟

میری ماں نے بڑی کوشش کی کہ ان کی کہیں شادی طے کر پائیں مگر وہ اس کے لئے تیا ر ہی نہ تھے اور انہیں جو بھی لڑکی دکھائی جاتی وہ اس کا مذاق اڑاتے ۔ ان کی شادی تو نہ ہو سکی مگر میری ماں نے رشتے ڈھونڈنے کی کوشش کبھی ترک نہ کی۔ ان کے لئے یہی ایک طریقہ تھا کہ انہیں زندگی میں واپس لے کر آیا جا سکتا۔ پھر ایک بیماری نے امی کی جان لے لی تو جیسے ہمارے بیچ کچھ مشترک رہا ہی نہیں ۔ میرے بابا کو بھی ان کی پروا نہیں تھی اور وہ تو تھے ہی ایسے ہی لا ابالی۔ اس کے بعد تو جیسے میں بھول ہی گیا کہ میرے ایک ماموں بھی ہیں یہاں تک کہ وکیل صاحب نے بتایا کہ وہ میرے لئے ایک گھر چھوڑ گئے ہیں ۔

جب وکیل صاحب نے مجھے بتایا تو شروع شروع میں مجھے لگا کہ وہ مذاق کر رہے ہیں ۔ میں نے اپنے ماموں کے بارے میں بیس سال سے کچھ نہیں سنا تھا۔ وہ بھلا میرے لئے کچھ کیوں چھوڑ کر جانے لگے ؟سچ بتاؤں تو میں بالکل بھی interestedنہیں تھا مگر میری بیوی خوشی سے پاگل ہوئی جا رہی تھی۔ گو میں اس وقت ایک مناسب نوکری کر رہا تھا مگر ہمارے لائف سٹائل میں پیسہ ہمیشہ کم ہی نظر آتا تھا اور ایسے میں یہ کوئی ایسی چیز نہیں تھی جسے ہم یونہی جانے دیتے ۔

ہماری شادی کے بعد وہ پہلی رات تھی جس میں میری بیوی نے صحیح معنوں میں مجھے پیار کیا۔ اس سے پہلے تو وہ جیسے مجھ پر کوئی احسان اتار رہی ہوتی تھی مگر اس رات جیسے میں کوئی شہنشاہ تھی اور وہ کوئی کنیز۔ اگلے دن ہم اکٹھے گھر دیکھنے کے لئے گئے ۔ شہر سے باہر بہت سے امیر لوگوں نے بڑے بڑے فارم ہاوسز نما گھر بنا رکھے تھے اور یہ بھی انہی میں سے ایک تھا۔ زمین خاصی قیمتی تھی اور گھر بھی خاصا بڑا دکھائی دیتا تھا اور سب کچھ تھا بھی بالکل نیا۔ مجھے بتایا گیا کہ گھر بالکل نیا تھا اور میرے ان کل کو ابھی اس میں رہنے کا موقع بھی نہیں ملا تھا۔ وکیل نے مجھے سارے کاغذات دکھائے اور سب کچھ سچ بتاؤں تو بہت ہی excitingلگ رہا تھا سوائے ایک چھوٹی سی شق کے جو کچھ عجیب نظر آ رہی تھی۔ وہ شق کچھ یوں تھی کہ فرسٹ فلور پر موجود بیڈ روم کی کھڑکی کو ہر حال میں بند رکھنا ہو گا۔ اسے کسی بھی صورت میں نہیں کھولا جائے گا۔ وکیل نے اس شق کو تین مرتبہ ٹھہر ٹھہر کا پڑھا(شاید اسے لکھا ہی اس طرح گیا تھا) لیکن سچ بتاؤں تو اس وقت میں نے اسے ایک مرتبہ بھی نہیں سنا۔ میں نے کاغذات پر دستخط کئے اور وہ گھر میرا ہو گیا۔

تو خوش قسمتی کے ایک داؤ سے ہم اس خوبصورت گھر کے مالک بن گئے ۔ ہم اس کے خالی کمروں میں بڑی دیر تک گھومتے رہے ۔ ہم نے اس کھڑکی کو بھی بڑی توجہ سے دیکھا جس کے بارے میں وہ شق لکھی گئی تھی اور ہمیں تو اس میں کوئی خاص بات نظر نہیں آئی۔ سب کچھ بہت ٹھیک لگ رہا تھا لیکن مجھے معلوم تھا کہ سب ٹھیک نہیں ہے ۔ میں اپنے ان کل کو بہت اچھی طرح سے جانتا تھا۔ وہ گھر میرے لئے بالکل بھی کوئی تحفہ نہیں تھا بلکہ ایک امتحان تھا اور اس سارے راز کی کنجی اس کھڑکی میں تھی۔ لیکن میں یہ سب اپنی بیوی کو بتا کر اس کی خوشی خراب نہیں کرنا چاہتا تھا۔

’’لیکن میں یہ بلی چوہے کا کھیل کھیلوں گا نہیں ۔ میں جلدی سے اسے بیچ ڈالوں گا اور اس امتحان سے نکل آؤں گا۔ ‘‘اگرچہ بعد کے واقعات نے ثابت کیا کہ میں کتنا غلط سوچ رہا تھا مگر کم از کم اس وقت تو مجھے ایسے ہی لگتا تھا۔ میں نے کچھ رئیل اسٹیٹ کے لوگوں سے بات کی اور ان سب نے مانا کہ یہ یقیناً بہت قیمتی پراپرٹی تھی لیکن ہر ایک نے مجھے یہی مشورہ دیا کہ میں اسے ابھی نہیں بیچوں ۔ ایک تو وہ علاقہ ابھی شہر سے باہر تھا اور ڈیولپ ہو رہا تھا اس لئے کچھ ہی سالوں کا انتظار مجھے خاصی بہتر قیمت دلوا سکتا تھا اور پھر پراپرٹی کی مارکیٹ ویسے بھی خاصی ڈاؤن تھی۔ شاید سب سے بہترین آپشن یہی تھی کہ اسے کرایہ پر چڑھا دیا جائے ۔ اس طرح نہ صرف ایک لگی بندھی آمدنی آتی رہے گی بلکہ گھر بھی میرا ہی رہے گا اور میں اسے جب چاہوں بیچ سکتا تھا۔

’’ایسی خوبصورت جگہ کے لئے آپ کو کرایہ دار ڈھونڈنے میں بالکل بھی مشکل نہیں ہو گی‘‘ ایک پراپرٹی ڈیلر نے کہا اور میں نے سوچا کہ ’’کیوں نہیں ؟‘‘۔ میرے پاس میری جاب تھی اور یہ کرایہ میرے اوپر کے خرچوں کے لئے کافی ہو گا۔ پراپرٹی والا اگلے ہی دن ایک نوجوان جوڑے کو لے کر آ گیا جو ایسی خوابناک جگہ میں رہنے کے تصور سے خاصے excitedلگ رہے تھے ۔ سب کچھ طے ہو گیا اور میں نے انہیں خاص طور پر بتا بھی دیا کہ اس کھڑکی کو کسی صورت میں کھولا نہیں جائے گا۔ انہوں نے اثبات میں سر ہلا دیا لیکن مجھے لگا جیسے وہ اس بات کو بہت سنجیدگی سے نہیں لے رہے ۔ پہلے مجھے لگا کہ سنجیدگی سے نہیں لیتے تو میں کیا کروں میرا کام تھا انہیں بتا دینا۔ لیکن بات اتنی سادہ تھی نہیں ۔

میں اسے ایک مثال سے سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں ۔ آپ کسی آرمی کی بیرک میں جانے کی کوشش کرو جہاں عام لوگوں کا داخلہ ممنوع ہوتا ہے ۔ آپ گیٹ پر جاؤ گے تو آپ کو بڑے واضح انداز میں بتا دیا جائے گا کہ آپ یہاں نہیں جا سکتے ۔ لیکن اگر آپ اپنے قدم روکو گے نہیں تو وہ آپ کو کالر سے پکڑے گا اور گھسیٹتا ہوا دور سڑک پر لے جا پھینکے گا۔ وہ ایسا ہی کرے گا کیونکہ وہ اسی لئے تو یہاں ہے ۔ اسے یہاں اس لئے کھڑا نہیں کیا گیا کہ وہ دوستانہ انداز میں لوگوں کو کہتا پھرے کہ وہ یہاں جائیں یا نہیں ۔ اس کا کام تو یہ ہے کہ کوئی بھی یہاں سے بلا اجازت اندر نہیں جانے پائے ۔ تو وقت نے مجھے بھی ایسے ہی ایک گیٹ پر لا کھڑا کیا تھا۔ اور یہ وہ نوکری تھی جسے میرے سر پر لاد دیا گیا تھا۔

میں نہیں جانتا کہ اس کھڑکی کے کھولنے سے کون سی قیامت ٹوٹ پڑنی تھی؟کون جانے کے کیا ہوتا؟۔ جیسے کوئی پنڈورا باکس ہے جس کے کھلنے سے ہزاروں برس سے چھپے عفریت دنیا پر جھپٹ پڑتے ہیں یا پھر ایک ایٹم کو پھاڑنے سے کتنا بڑا دھماکہ کیا جا سکتا ہے ۔ میں نہیں جانتا تھا اور اسی لئے میں انہیں اس کھڑکی کے کھولنے کی اجازت نہیں دے سکتا تھا۔

میں نے انہیں واپس بلایا اور دوبارہ کہا ’’یہ ایسے نہیں چلے گا۔ مجھے لگتا ہے کہ تم لوگ وہ کھڑکی ضرور ہی کھولو گے ۔ ‘‘

’’آخر تم ایک کھڑکی کے پیچھے ہی کیوں پڑ گئے ہو۔ ایک Goddamnکھڑکی کھولنے سے بھلا کیا ہو جائے گا‘‘ اس نے کہا۔

’’تمہیں کوئی اندازہ نہیں ہے ۔ ‘‘میں نے سرد لہجے میں کہا۔ حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ مجھے بھی کوئی اندازہ نہیں تھا کہ کیا ہونے والا تھا۔

’’اگر ایسا ہے تو آپ رکھو اپنا گھر۔ ۔ ۔ ۔ ہمیں نہیں رہنا یہاں ۔ میرے خاندان کی حفاظت میرے لئے سب سے اہم ہے ۔ ‘‘اس نے جواب دیا اور بیوی کو لے کر چلا گیا۔

اور وہ صحیح تھا۔ کوئی بھی اپنے ہوش و حواس میں ایسے چیز پر بھلا کیوں رضامند ہونے لگا۔ مجھے جلد از جلد اس مسئلے کا کوئی حل سوچنا تھا کیونکہ اگر میرے گھر کی کوئی عجیب و غریب شہرت پھیل جاتی تو نہ صرف اسے کرائے پر دینا مشکل ہو جاتا بلکہ بعد میں میں اسے بیچ بھی نہیں پاتا۔ تو پھر کیا کیا جائے ؟ایک حل تو یہ تھا کہ تھوڑی محنت سے اس کھڑکی کو مستقل طور پر بند ہی کر دیا جائے ۔ یہ بیڈ روم میں تھی اور اگر میں اس کے آگے ایک خوبصورت سا آتشدان بنا دیتا تو کمرہ خوبصورت بھی نظر آتا اور میرا مسئلہ بھی ہمیشہ کے لئے حل ہو جاتا۔ میں نے اس کے لئے ایک interior designerکو بلوایا تاکہ وہ نہ صرف کوئی خوبصورت سا آتشدان مجھے تجویز کر دے ۔ وہ ایک ناراض سی خاتون تھی اور میری بات سن کراس نے مجھے ایسے دیکھا جیسے میں کوئی بیوقوف ہوں ۔ ’’Who made fire places in this part of the world‘‘۔ میرے اصرار پر اس نے ایک نظر کمرے پر ڈالی مگر جب کھڑکی کو دیکھا تو اس نے گویا صاف ہی ان کار کر دیا۔ آپ سوچ نہیں سکتے کہ یہ کھڑکی ہوا اور روشنی کے لئے کتنی ضروری ہے ۔ اور یہ دیکھیں کہ باہر کا کتنا خوبصورت نظارہ یہاں سے دیکھا جا سکتا ہے ۔ وہ آگے بڑھی تاکہ کھڑکی کھول کر مجھے دکھا دے مگر میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور ذرا سختی سے کہا۔ مجھے اس کھڑکی کے سامنے ایک آتشدان چاہیے اور بس۔

اس نے میری طرف بے یقینی سے دیکھا اور میرا ہاتھ جھٹک کر باہر کی طرف چل دی۔

’’کیا؟ آپ کہاں جا رہی ہو؟‘‘

’’میں ایک آرٹسٹ ہوں اور میں اس کمرے کی integrityپر سمجھوتہ نہیں کر سکتی‘‘

میرے دل سے پوچھیں تو میں اس وقت اسے ہزار صلواتیں سنا رہا تھا لیکن مجھے اس کی ضرورت تھی اس لئے میں نے اپنے غصے پر قابو پاتے ہوئے اسے بڑے سکون سے ساری کہانی سنا دی۔ پتہ نہیں کیوں مجھے لگا کہ اگر اسے ساری سچوئیشن سمجھا دی جائے تو وہ شاید کام پر رضامند ہو جائے ۔

’’یہ تو زیادہ بڑی وجہ ہو گئی کھڑکی کو نہ بند کرنے کی۔ آپ کو اندازہ ہے کہ ایسی کھڑکی کو بند کرنے کا مطلب کیا ہے ؟اگر ہم انسانوں کے پاس اس قسم کی کھڑکیاں نہ ہوتیں تو ہم ابھی تک غاروں میں رہ رہے ہوتے ۔ میرے نزدیک ایسے خوبصورت راز کو چھپانا جرم ہے اور میں ایسے جرم میں شریک نہیں ہو سکتی۔ وہ پھر باہر جانے کو نکلی اور اب کی بار میں نے اسے روکنے کی کوشش بھی نہیں کی۔

ایک تو یہ ہو سکتا تھا کہ میں اس کمرے میں کچھ سامان رکھ کر اسے لاک کر دیتا اور ہر کرایہ دار کو بتا دیتا کہ اس کمرے کو کھولنا نہیں مگر مجھے اس طرح سے تسلی نہیں ہونے والی تھی۔ ایک چیز یہ ہو سکتی تھی کہ اس کھڑکی کے سامنے لکڑی کی بڑی سی بک شیلف بنوا دی جائے ۔ اس کے لئے تو کسی آرکیٹکٹ کی بھی ضرورت نہیں تھی۔ میں اگلے ہی دن ایک کارپینٹر کو پکڑ لایا اور اور کچھ ہی دنوں میں اس نے ایک مضبوط لکڑی کی الماری بنا دی جس کے پیچھے وہ ساری کھڑکی ایسے چھپی کہ جیسے کبھی تھی ہی نہیں ۔

اب کی بار جو کرایہ دار ملا وہ چھوٹے قد کا funnyسا شخص تھا۔ پر بہت سے لوگ ہوتے ہیں جن کی شکل ایسی ہوتی ہے ۔ اب گھر دیتے ہوئے مجھے یہ تو نہیں کہا گیا تھا کہ میں اسے کسی مزاحیہ شکل کے شخص کو کرایے پر نہیں دوں گا۔ وہ لوگ اگلے ہی دن اپنا سامان لے کر آ گئے ۔ اس کے دو تین بیوقوف سے بچے تھے اور ایک بہت سادہ سی موٹی بیوی تھی۔ میں کچھ کاغذات سائین کروانے کے لئے گھر میں گیا اور مجھے ایک عجیب سا احساس ہوا جیسے وہ بہت پر جوش ہو۔

’’نئے گھر میں جاتے ہوئے لوگ تھوڑے excitedتو ہوتے ہی ہیں ۔ یہ تو فطری سی بات ہے ۔ ‘‘میں نے خود کو تسلی دینے کی کوشش کی۔

لیکن وہاں کچھ نہ کچھ عجیب بات تھی ضرور۔ اس خاندان کے ہر فرد کی آنکھیں تھوڑی دیر میں اس کمرے کی طرف اٹھ جاتی تھیں جہاں و ہ کھڑکی تھی۔ پتہ نہیں کیوں مجھے لگتا تھا جیسے وہ اس کھڑکی کا راز جانتے ہوں ۔

خیر میں وہاں سے آ گیا۔ میں نے کوشش کی کہ ایک اچھی فلم دیکھ لوں ، پیپسی کے دو کین پئے ، شاور لیا لیکن کچھ تھا جو مجھے تنگ کر رہا تھا۔ کوئی تھا جو میرے اندر چیخ رہا تھا کہ کچھ گڑبڑ ہے ۔ ایک گھنٹے میں میں نے تنگ آ کر فیصلہ کیا کہ جا کر مجھے اس گھر کو دیکھ لینا چاہیے ۔ وہاں دروازہ بند تھا۔ گھنٹی بجائی تو کافی دیر تک کوئی نہ نکلا اور پھر نکلا تو وہ بیوقوف سا لڑکا اور اس کی نظر جب مجھ پر پڑی تو اس نے مجھے ایسے دیکھا جیسے اس نے کوئی بھوت دیکھ لیا ہو۔ وہ بھاگتا ہوا اندر گیا اور باپ کو بلا لایا۔ باپ اپنی طرف سے سنجیدہ نظر آنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن میں صاف دیکھ سکتا تھا کہ سب ٹھیک نہیں ہے ۔ اس کے بالوں میں لکڑی کا برادہ گھسا ہوا تھا۔ وہ یقیناً کچھ کر رہا تھا

’’کیا ہو رہا تھا؟‘‘ میں نے ڈھٹائی سے پوچھا

’’کیا مطلب؟‘‘وہ خوفزدہ ہو گیا۔

’’میں بتاتا ہوں کہ کیا مطلب‘‘ میں اسے دھکا دے کر گھر میں داخل ہو گیا۔ اس کمرے کا دروازہ کھلا تھا۔ میں نے انہیں موقع ہی نہ دیا کہ وہ مجھے روکتے ۔ میں سیدھا اس کمرے میں گیا اور مجھے اندازہ ہوا کہ میں کتنے صحیح وقت پر آیا تھا۔ وہ لوگ ایک کلہاڑی سے بک شیلف کو توڑنے میں لگے ہوئے تھے ۔

’’یہاں کیا ہو رہا تھا؟‘‘

وہ کچھ دیر تو خاموش کھڑا رہا ’’مجھے لگا کہ تم نے اس کھڑکی میں کچھ خزانہ چھپا رکھا ہے ‘‘ اس کے ہونٹ کپکپائے

’’تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے ۔ یہ ایک کھڑکی ہے کوئی الماری نہیں کہ میں اس میں کچھ چھپا سکوں ۔ یہ صرف ایک کھڑکی ہے ۔ ‘‘

’’تو پھر تم نے اس کے سامنے یہ بک شیلف کیوں بنوا دی تھی؟‘‘اس نے پوچھا

’’وہ تو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ میں پہلے تو کچھ کہنے لگا مگر پھر رک گیا۔ ’’کمینے انسان۔ میں تمہیں کیوں اس کے لئے جواب دیتا پھروں ۔ اب دفع ہو جاؤ میرے گھر سے اور اپنا سارا سامان بھی لے جاؤ وگرنہ میں اس سارے کاٹھ کباڑ کو آ گ لگا دوں گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سمجھے ؟‘‘

اس نے کوشش کی کہ میں اسے تھوڑا اور وقت دے دوں تاکہ وہ کوئی گھر ڈھونڈ سکے لیکن میں نے دوسری بات ہی نہیں کی۔ میں نے لکڑی کا ایک ٹکڑا اٹھایا اور اسے شیشے کی ٹرالی پر دے مارا۔ ٹرالی ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی۔

’’تمہارے پاس صرف چند گھنٹے ہیں وگرنہ میں پورے سامان کا یہی حشر کروں گا۔ ‘‘

اب اسے سمجھ آ گئی اور وہ جلدی سے ٹرک لینے کو بھاگا۔ اگلے چند گھنٹوں کے بیچ جب مزدور لوگ اس کا سارا سامان ٹرک میں ڈال رہے تھے تو اس کے بیوقوف بچے اور موٹی بیوی کمرے کے کونے میں بیٹھے تھرتھراتے رہے ۔

جب وہ چلے گئے تو میں نے گھر کو اچھی طرح سے لاک کیا اور واپس آ گیا۔ رات کے کسی پہر میری آنکھ کھلی تو مجھے پھر وہی بے چینی سی محسوس ہو رہی تھی

’’اب یہ تو فضول بات ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں اس وقت تو اس گھر میں نہیں جا رہا۔ ‘‘میں نے سر جھٹک کر سونے کی کوشش کی مگر وہ بے چینی اتنی بڑی تھی کہ میں لیٹا نہیں رہ سکا اور اگلے ہی لمحے میں گاڑی میں اس گھر کی طرف جا رہا تھا۔ رات کے وقت وہاں بے انتہا سناٹا تھا اور سچ پوچھیں تو میں اندر سے گھبرا ہی رہا تھا لیکن وہ احساس کہ کوئی گڑبڑ ہے مجھے رکنے نہیں دے رہا تھا۔ میں نے خاموشی سے دروازہ کھولا اور میری بے چینی بے وجہ نہیں تھی۔ اس کمرے کی روشنی جل رہی تھی۔ میں بھاگتا ہوا اس کمرے تک گیا اور وہی کرایہ دار تقریباً پوری الماری کو اکھاڑ چکا تھا اور اب وہ کھڑکی کھولا ہی چاہتا تھا۔ میرے کمرے میں داخل ہونے کی آواز سن کر وہ ایک لمحے کو تو ٹھٹھک گیا مگر جب اس کی نظر میرے پر پڑی تو ایک سکون کی لہر اس کے چہر پر ابھر آئی ’’یہ تو وہی بے حقیقت سا شخص ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ کیا کر لے گا اس سے زیادہ کہ یہ کچھ دیر مجھ پر جھلائے گا اور دھکے مار کر مجھے گھر سے باہر نکال دے گا۔ ‘‘

اگرچہ مجھے اس پر بہت غصہ آ رہا تھا لیکن میرے ذہن میں دور دور تک بھی یہ خیال نہیں تھا کہ میں اسے نقصان پہنچاؤں لیکن اس نے مجھے بہت آسان لے لیا تھا۔ آپ کبھی اُس شخص کو یہ احساس نہیں دلا سکتے کہ وہ بے حقیقت ہے جس کے گھر آپ چوری کو داخل ہوتے ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کوئ