کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

ایک المیے کا المیہ

سید اسد علی


ہم لوگ وقت کو معین رفتار سے چلنے والی سوئیوں سے ماپتے ہیں ،ایک کوزے میں زرہ زرہ گرنے والی ریت کا تصور باندھتے ہیں ۔ کائنات کے دل میں چھپی ایک غیر مرئی گھڑی کو لازم گردانتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور یوں اکڑے ہوئے پھرتے ہیں جیسے ہم نے کوئی عفریت بانہوں میں جکڑ رکھا ہو۔ ۔ ۔ ۔ عفریت جو ہر ساعت آزاد ہونے کو مچلے جاتا ہے ۔ جو Prometheusکی طرح ہر لمحہ اپنی ہیئت بدل سکتا ہے ،عفریت جو بہت طاقتور اور تیز رو ہے مگر ہم گویا اس کی رفتار سے بھاگنے پر قادر ہیں ۔

وقت زندگی کی عمومیت سے بہت بالا ایک ماورائی دنیا کے خواب کی طرح ہے ۔ اس شاہراہ کی طرح جو ہمارے قدموں سے لپٹی ہے مگر اس کا دوسرا سرا انجانی بستیوں تک پھیلا ہے ۔ وہ بستیاں ہم جن تک کبھی نہ پہنچ پائیں گے ۔ جہاں بہت ممکن ہے کہ ہمارے جیسے لوگ رہتے ہوں پر وہ سب کہانیوں کے کرداروں کی طرح سطحِ زمین سے ذرا اوپر تیرتے رہتے ہیں ۔ ہر کہانی ایک ڈور کی طرح ہوتی ہے جس سے کھنچ کر یہ کردار ہماری زندگیوں میں اتر آتے ہیں ۔ ہم جو آنکھیں بند کئے شاہراہ کے آغاز پر کھڑے رہتے ہیں ۔ ایسے میں کبھی کبھار ہوا کے بے نیاز جھونکے محیر العقول چیزوں کو آپ کے اتنے قریب لے آتے ہیں کہ آپ ان کی سرگوشیاں بھی سن سکتے ہو لیکن عام حالات میں تو آپ بس حقیقت کو خود سے چمٹائے رکھتے ہو جیسے کوئی بچہ اپنے پسندیدہ کمبل کو چمٹائے رکھتا ہے ۔

تو ایک بہت بڑا کہانی کار ہے جو بڑی شدت سے آپ کے گرد ایک انجانی دنیا بھرتا چلا جاتا ہے ۔ زندگی سی عمومیت سے بہت بالا ایک ماورائی دنیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

جیسے کسی شہزادی کا سوئمبر ہو

جیسے بہت بڑی جنگ کا منظر ہو

جیسے خونخوار درندہ نہتے راہگیر پر دوڑا چلا آئے

ہم اس دنیا میں پوری طرح پیوست ہوتے چلے جاتے ہیں ،کہانی سے جڑتے چلے جاتے ہیں ۔ ہماری آنکھیں کہانی کار سے آگے دیکھنے کو مچلے جاتی ہیں ۔

اس شہزادے کو کھوجتی ہیں جو سوئمبر کی ناممکن العمل شرائط کو پورا کر سکے ۔ اس داؤد کو دیکھتی ہیں جو Goliathسے پہلوانوں کو زیر کر دے ۔ بڑی بیتابی سے گھنے جنگل میں درندے سے بچنے کا راستہ سوچتی ہیں ۔ اور ایسے میں کہانی کار ایک عام آدمی کو لئے آگے بڑھتا ہے ۔

عام آدمی جو دور ٹنگی انگوٹھیوں میں سے تیر گذار دیتا ہے ۔

جس کی غلیل آہنی زرہ میں بھی کمزور مقامات بھانپ لیتی ہے ۔

جس کے تعاقب میں بھاگتا درندہ ان دیکھے پھندے میں جا گرتا ہے ۔

یہاں انجام ہمیشہ دادو تحسین کے ڈونگرے ہوتے ہیں ۔ تحسین جو ہمارے دل کی گہرائیوں سے نکلتی ہے ۔ تحسین جو اس لئے ہوتی ہے کہ ان عام آدمیوں کے بیچ ہمیں اپنا پرتو نظر آتا ہے ۔ زندگی کی بے مقصد مشقتوں کے بیچ بہشت کا خواب جاگتا ہے ۔ اور زندگی بھلا ہے ہی کیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ غیر ضروری،چھوٹے چھوٹے ،بے حقیقت کام۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم انسان جنہیں سرانجام دیتے ہوئے کیڑے مکوڑوں کی طرح مرتے رہتے ہیں ۔ بس ایک کہانی کار ہی ہمیں ایسی پست زندگی کے بوجھ سے آزاد کروا سکتا ہے ۔ اور وقت جیسے اس کہانی کار کا سب سے خوبصورت افسانہ ہے ۔ ایک ایسا فسوں ہے جسے بہت بڑے ساحر نے ہمارے گرد پھیلا رکھا ہے ۔ اس فسانے کی زنجیریں سونے کی مانند چمکدار ہیں ۔ یہ شاید بہت مضبوط نہیں ہیں مگر ہم لوگ انہیں بیش قیمت جان کر اتنی شدت سے خود سے لپٹائے بیٹھے ہیں کہ ہر فرار ناممکن نظر آتا ہے ۔ پتہ نہیں کیوں ہمیں لگتا ہے جیسے ہم نے اپنی گھڑی کی بوتل میں کسی بے پناہ طاقت والے جن کو قید کر رکھا ہو اور اسے ہم اپنی بہت بڑی achievementبھی سمجھتے ہیں ۔

پر ہم میں سے کتنے ہیں جو ذرہ ذرہ گرنے والی ریت دیکھتے رہیں ،معین رفتار سے چلنے والی سوئیوں کا مشاہدہ کریں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کچھ اس طرح کہ ہر ساعت ہماری آنکھیں اس شاطر پر جمی رہیں ،اس کے بطن سے ابھرنے والے ہر سراب کا تجزیہ کر سکیں ۔ نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایسے مشاہدہ کرنے والے کہیں نہیں ہیں ۔ کسی کے پاس اتنی فرصت نہیں ہے ۔

پھر یہاں ہم کیسے یقین کر لیں کہ یہ سوئیاں معین رفتار سے ہی چلتی ہوں گی۔ کون جانے کہ نظر چوکتے ہی وہ تھم سی جائیں اور کسی سست الوجود خرگوش کر طرح گھنے برگدوں کی چھاؤں میں سستانے لگیں ۔ وہ پڑی سوتی رہیں اور جب ہمارے متوجہ ہونے کی آہٹ سنائی دے تو جھٹ چھلانگیں مارتے ہوئے بہت آگے پہنچ جائیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کسے خبر کہ ایسا ہی ہوتا ہو؟

جیسے کوئی انسپکشن ٹیم کسی سکول میں جائے اور ہر کلاس میں دھلے ،کلف لگائے کپڑوں والے استاد پڑھاتے نظر آئیں ،سکول کا ہر کونہ اتنا صاف ہو کہ بے اختیار سانس لینے کو دل چاہے ،ہر جماعت کی حاضری پوری ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سب کچھ آپ کی آنکھوں کے سامنے ہے مگر یقین ہے کہ دل زدہ بچے کی طرح بہلنے کو نہیں آتا۔ سکول ایسے تو نہیں ہوتے نہ۔ کوئی بچہ تو ایسا ہونا چاہیے جو صبح استری شدہ کپڑے پہن کر آنا بھول گیا ہو۔ کوئی استاد تو رات ہونے والی بدمزگی کا غصہ بچوں پر اتار رہا ہو۔ سکول کا کوئی چپراسی تو ہیڈ ماسٹر کے ذاتی کام سے گیا ہونا چاہیے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایسے میں آپ کو لگتا ہے کہ کوئی گڑبڑ ہے ۔ آخر سب کچھ اتنے سلیقے ،اتنی ترتیب سے تو نہیں ہو سکتا نہ؟آپ کا دل گھبرانے لگتا ہے پر آپ جب ٹیم کے دوسرے لوگوں کو دیکھتے ہو تو وہ سب اتنے مطمئن نظر آتے ہیں جیسے اس بھونڈے جھوٹ پر یقین کئے بیٹھے ہوں ۔ ایک بہت بڑی بے یقینی آپ کی روح میں سرسرانے لگتی ہے ۔ پر آپ خود پر جبر کر کر مسکراتے ہوئے سکول کا معائنہ کرتے ہو۔ بڑی خوشدلی سے ہر چیز کی تعریف کرتے ہو۔ ہاں مگر دل میں کہیں بڑبڑاتے ضرور ہو۔

’’میں جانتا ہوں کہ یہ سب جھوٹ ہے اور میں سچائی کو ڈھونڈ کر رہوں گا۔ ‘‘

پر سچائی ایک ایسا خواب ہے جس کی تعبیر بنی آدم کو سزاوار نہیں ۔ اس دنیا کا خمیر جھوٹ میں گوندھا گیا ہے ۔ ’’بے شک یہ دنیا جھوٹ اور دھوکہ ہے ۔ سمندر کا پانی کسی کی پیاس نہیں بجھا سکتا۔ ایسی کوششوں میں مسافر وقت سے کہیں پہلے اپنی جانیں گنوا بیٹھتے ہیں ۔ لیکن آپ یہ بات نہیں مانتے اور اس سکول سے ایک نیا عزم لے کر نکلتے ہو۔ اب چاہے کچھ بھی کرنا پڑے پر اس پردے کو تو اٹھنا ہی ہو گا۔ بڑی مشکل سے آپ دوبارہ انسپکشن کی اجازت لیتے ہو(یہ بہرحال کوئی آسان کام نہیں کہ سینکڑوں دوسرے سکول بھی آپ کی توجہ کے منتظر ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پر پتہ نہیں کیوں آپ کو لگتا ہے کہ اگر ایک غلط کار بھی پکڑا جا سکے تو اس نوکری کا حق ادا ہو جائے گا)۔ تو اب کے آپ اپنی انسپکشن کو بہت خفیہ رکھتے ہو۔ پر جب سکول کے سامنے پہنچتے ہو تو دور سے چونے کی کھچی لکیریں آپ کا استقبال کرتی ہیں ۔ غور سے دیکھیے تو شاید اس چونے سے کسی خوش مذاق نے ’’خوش آمدید‘‘ بھی لکھ رکھا ہے ۔

اور یہ بڑی عجیب گھڑی ہوتی ہے ۔ چونے کی بے جان لکیریں آپ پر ہنستی ہیں ۔ گراؤنڈ میں کھڑے وہ چھوٹے چھوٹے بچے قہقہے لگاتے ہیں جنہیں ٹھیک طرح سے اپنی ناک صاف کرنی بھی نہیں آتی۔ سکول کی دیواروں پر لکھے شعر طنز کے نشتروں کی طرح روح میں اترتے چلے جاتے ہیں ۔

دل میں ایک جسیم بدمزگی دوڑتی ہے ۔ آپ نہیں جانتے کہ کیا ہوا؟انہیں کس نے خبر کی؟آپ جانتے ہو تو بس اتنا کہ آپ انہیں کبھی پکڑ نہ پاؤ گے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو اس کے بعد کے پچیس برس آپ کلف لگائے استادوں اور دھلے دھلائے بچوں کی تعریفیں لکھتے گذار دیتے ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان سکولوں کی تعریفیں جن کے باتھ روم مہینوں تلک خراب رہتے ہیں ؟جن کے اساتذہ گھروں میں پاؤں پسارے لیٹے رہتے ہیں اور ان کی حاضریوں سے سکول کے رجسٹر بھرے نظر آتے ہیں ،جن کی جماعتوں میں لکھنے کے لئے چند روپوں کے چاک تلک نہیں ہوتے ۔

ایسی ہی بدمزگی مجھے محسوس ہوتی ہے جب جب میں اپنی گھڑی کی سمت دیکھتا ہوں ۔ میں نے وہ وقت گذارا تھا جب چند گھڑیوں کے انتظار میں آدمی بوڑھا ہو جاتا ہے اور وہ ساعتیں بھی جن کی اوٹ میں برسوں گذرتے چلے جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں اب اس کھیل کو اچھی طرح جاننے لگا تھا۔ ایسے جیسے لوگ اپنے بچوں کو جانتے ہیں ۔ لیکن پھر بھی جب جب میری نظر معین رفتار سے چلتی سوئیوں پر پڑتی ہے تو میرا اعتبار ہر چیز سے اٹھتا چلا جاتا۔

ایک وقت تھا جب مجھے لگتا تھا کہ میں اس شرا رت کو پکڑ پاؤں گا۔ ایک وقت تھا جب میں پلٹ پلٹ کر گھڑیوں کی سمت دیکھتا تھا اور اب۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب کمرے میں لگے وال کلاک کی مدھم ٹِک ٹِک مجھے سونے نہیں دیتی۔ تو میں نے اپنے کمرے ،اپنی کلائی،اپنی زندگی سے گھڑیوں کو نوچ پھینکا ہے ۔ اب اگر اتنے واضح اعلانِ شکست کے بعد بھی میں جی رہا ہوں تو مان لیجئے کہ موت کے بعد ایک لازوال،نہ گذرنے والے وقت کے تصور نے مجھے سہما رکھا ہے ۔ میں اتنا خوفزدہ ہوں کہ مرنے کا حوصلہ کھو چکا ہوں ۔

مرنے کا حوصلہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم بھلے خود کشی کرنے والوں کو بزدل و کم ہمت سمجھ کر ان کی تحقیر کرتے رہیں مگر سچ یہی ہے کہ مرنے کے لئے بھی بہت حوصلہ چاہیے ہوتا ہے ۔ لیکن آپ یہ بات کبھی سمجھ نہیں پاؤ گے ۔ اسے سمجھنے کے لئے شاید آپ کو کسی بلند مینار سے کودنا پڑے ۔ اور ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو محض ایک چیز جاننے کے لئے اتنی بڑی قربانی دے پائیں گے ؟چلو میں ہی آپ کو بتائے دیتا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جب آپ چھلانگ لگانے کے لئے کسی مینار پر بنے جنگلے پر چڑھ رہے ہوتے ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جنگلہ جو کسی کو روک تو بہرحال نہیں سکتا مگر سوچنے کا موقع ضرور دیتا ہے ۔ ہونہہ سوچنے کا موقع؟جب آپ سینکڑوں سیڑھیاں چڑھ کر مینا ر کی بلندی پر آتے ہو یا پھر بیس منٹ لفٹ کے لئے انتظار کرتے ہو اور پھر پندرہ بندوں کے بیچ سینڈوچ بن کر چوٹی پر پہنچتے ہو تو کیا آپ کو لگتا ہے کہ آپ کو سوچنے کا موقع نہیں ملا؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بہرحال سچ یہی ہے کہ ان آخری ساعتوں میں پوری زندگی،سرشتۂ زیست سے جڑے سارے لوگ،ان لوگوں سے اٹھتی ہوئی مہکار یادیں ،یادوں کو بوجھل کرتی ہوئی پہاڑ خوشیاں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سب آپ کا بوجھ بن جاتی ہیں ۔

اور کوئی کم حوصلہ اتنے بھاری بوجھ کو لئے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ میرے آپ سے لوگ تو جنگلے کے قریب ہو کر نیچے جھانکتے ہیں ،چھوٹے چھوٹے نکتوں کی صورت گھومتے آدمی دیکھتے ہیں ۔ اور خود کو سمٹائے ہوئے لفٹ میں دبک جاتے ہیں ۔ گراؤنڈ فلور پر لفٹ کا دروازہ کھلتا ہے اور ہم پھر سے اپنی پہاڑ خوشیوں ،مہکار یادوں ،لاچار لوگوں اور بیکار زندگیوں کے بیچ بہنے لگتے ہیں ۔ لاکھوں کیڑے مکوڑوں کے بیچ کلبلاتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم جو چاہتے تو ابدی زندگی کے سارے بھید جان سکتے تھے ۔ ہم جو اس چھوٹے سے جنگلے کو چھلانگتے ہوئے بڑے پرندوں کی سی سبک خرامی سے اڑ سکتے تھے ۔ ہم اگر اتنے کم حوصلہ نہ ہوتے ۔

کم حوصلہ تو ہم ہیں مگر ساتھ میں شرمناک حد تک لاعلم بھی ہیں ۔ ہمارے مشاق حسی آلات ہر لحظہ معلومات اکھٹی کرتے رہتے ہیں لیکن ہمارے پاس ان معلومات کو processکرنے کا وقت نہیں ہوتا۔ عمر بھر ہم عجیب قسم کی غیر ضروری مصروفیات میں گھرے رہتے ہیں ۔ اپنے تئیں ہم محنت کے ہتھیاروں سے وقت کو مات دینے کا عزم کئے ہوتے ہیں اور وقت پرسکون انداز میں ہمیں تکے جاتا ہے ۔ اس کے چہرے پر وہ اطمینان ہوتا ہے ۔ جیسا شاید فاختہ کے پیچھے اڑتے عقاب کے دل میں ہوتا ہو گا۔ شاید وہ نہیں جانتا کہ ہم کب تھک کر اس کے پنجوں سے آ ٹکرائیں گے ۔ وہ جانتا ہے تو بس ایک بات کہ کسی کے لئے بھی فرار ممکن نہیں ہے ۔

یہ ہماری زندگی ایک المیہ ڈرامے کی طرح ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ المیہ ڈرامہ جس میں کئی بار اداکاروں کی مسحور کن شخصیت ہمارے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیر دیتی ہے ۔ مگر اختتام ہمیشہ بڑی بڑی کراہوں کی صورت میں ہوتا ہے جو ہمارے کلیجے پھاڑے دیتی ہیں اور چھوٹے چھوٹے آنسوؤں کی صورت جو ہمارے گالوں پر بکھرتے رہتے ہیں ۔

المیہ ڈرامہ جہاں ہر مسکراہٹ کی بڑی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے ۔ ڈرامہ جس میں ایک معصوم، فرشتہ صورت بچہ اسٹیج پر آتا ہے اور دیر تک اپنی من موہنی حرکتوں سے ہمیں فرحاں رکھتا ہے ۔ وہ ہمیں اتنا ہنساتا ہے کہ ایک لمحے کو تو زندگی بڑی ممکن نظر آنے لگتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کتنا آسان ہے سب کچھ۔ ایک بچہ اور ساری زندگی کے غم اڑن چھو۔

لیکن آپ بھول رہے ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آپ تو یہاں ایک المیہ ڈرامہ دیکھنے آئے تھے ۔ المیہ ڈرامہ جہاں ہنسی ستر گنا کرب کے ساتھ لوٹا دی جاتی ہے ۔ ابھی آپ کی آنکھوں کے سامنے وہ بچہ بیمار پڑے گا۔ اتنا بیمار کہ تمام دنیا کے اطبا بے بس ہو جائیں گے ۔ سارے رشتوں کی محبتیں بے حقیقت ہو جائیں گی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور پھر تدفین کا وہ ماورائی منظر آتا ہے جس میں سیاہ لباس میں ملبوس عورتیں دل پھاڑ دینے والے انداز میں ماتم کرتی ہیں اور آپ کی گالوں پر گر م آنسو بکھرنے لگتے ہیں ۔ نجانے ڈرامے والوں کو کیسے خبر ہوئی کہ وہ بچہ آپ کو اچھا لگنے لگا تھا۔ آپ کو اس سے ایک گونہ تعلق محسوس ہونے لگا تھا۔

یہیں چھپا ہے اس المیے کا اصل سحر۔ انہوں نے ٹکٹ بیچتے ہوئے آپ کو رلانے کا وعدہ کیا تھا۔ آپ کو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو زندگی کے بڑے بڑے تھپیڑے کو مسکرا کر ٹال دینے کے عادی ہو۔

’’میں بھلا کیسے رو سکتا ہوں ؟‘‘آپ دل میں مسکراتے ہوئے سوچتے ہو اور محبوبہ کا بازو تھامے بڑی متانت سے تھیٹر میں داخل ہوتے ہو۔ ڈرامہ شروع ہوتا ہے ۔ ایک کے بعد ایک کردار سامنے آتے ہیں ۔ زندگی کے سارے رنگ اس مختصر سے اسٹیج پر بکھرنے لگتے ہیں ۔ آپ آہستہ آہستہ کہانی سے جڑتے چلے جاتے ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور ایسے میں کہیں کوئی بہت شاطر ڈرامہ نگار ہے جو ہر ساعت آپ کے چہرے پر نظریں جمائے بیٹھا رہتا ہے (میں نے بارہا اسے پردے کے پیچھے کھوجنے کی کوشش کی مگر وہاں پھنکاریں مارتے اندھیرے کے سوا کچھ نہ تھا)اور جیسے ہی آپ کسی کردار کو دیکھ کر مسکراتے ہو تو وہ جان جاتا ہے کہ آپ کا کلیجہ پھٹا جاتا ہے ۔ آپ کا دل درد سے بھر جاتا ہے ۔ ہاں مگر تھیٹر سے نکلتے ہوئے آپ کے ہونٹوں پر بھی ڈرامہ نگار کی قابلیت کے رجز ہوں گے ۔

شاید پردوں کے پیچھے کوئی ڈرامہ نگار نہیں چھپا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر بھلا ہال میں بھرے اتنے لوگوں پر نظر رکھنا ممکن بھی کہاں ہو گا؟نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ ڈرامہ نگار اس سے کہیں زیادہ عیار ہے ۔ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ اس تھیٹر میں گھسا ہر شخص آنسوؤں کو روکنے کا عزم کر کے آیا ہے (میں خواتین کی بات نہیں کر رہا جنہیں آنسوؤں کو نکالنے کے لئے محض موقع کی تلاش رہتی ہے )۔ ہر ایک یہ توقع کر رہا ہے کہ اسے رلانے کی کوششیں کی جائیں گی جن پر وہ دل کھول کر ہنسے گا۔ ڈرامہ فلاپ ہو جائے گا۔

پر ڈرامہ نگار ایسا کچھ نہیں کرتا۔ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ انسانی انا کے مقابلے میں کوئی چیز ٹھہر نہیں سکتی۔ اسے تو بس انا کی اس بے پناہ طاقت کو اپنے مقصد کے لئے استعمال کرنا ہے ۔ جیسے تیز ہواؤں کے دیس میں windmillsبنا دی جاتی ہیں ۔ منہ زور دریاؤں کے ملک میں نہروں کے جال بچھا دیے جاتے ہیں ۔ جیسے فاسٹ باؤلر کی تیز گیند کو باؤنڈری تک پہنچانے کے لئے بلے کا کنارا ہی کافی ہوتا ہے ۔

تو وہ آپ کو رلانے کی بجائے ہنسانے لگتا ہے اور آپ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آپ تو دکھوں کے سیلاب پر بھی ہنسنے کو تیار تھے ۔ پھر بھلا قہقہے لگانا کیا مشکل ہو سکتا ہے ۔ تو آپ اس کے بچھائے جال میں پھنستے چلے جاتے ہو۔ نوجوان لڑکیوں کی محبت پر یقین کر بیٹھتے ہو،چھوٹے بچوں کی معصوم حرکتوں سے محظوظ ہوتے ہو۔ آپ آہستہ آہستہ اس مصنوعی زندگی کا حصہ بنتے چلے جاتے ہو۔ گھیرہ تنگ ہونے پر وہ شاطر اپنا داؤ کھیلتا ہے اور آپ سوائے جھنجھلانے کے کچھ بھی تو نہیں کر سکتے ۔ آپ کے پسندیدہ کرداروں کو بڑی بے رحمی سے توڑا جاتا ہے اور آنسو ہیں کہ تھمنے کو نہیں آتے ۔ شاید آپ یہاں اپنی مردانگی کی لاج رکھنے کے لئے خاموش رہ سکو،اپنی محبوبہ کو رونے پر کمزور دلی کا طعنہ بھی دے لو مگر آنے والی زندگی میں غم آپ کے سر پر منڈلاتا رہے گا۔

تو آپ تھیٹر سے ڈرامہ نگار،اداکاروں اور ہدایت کار کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملاتے ہوئے نکلتے ہو۔ مگر اس رات آپ کو بہت دیر تک نیند نہیں آتی۔ آپ کا دل ان کے لئے پھٹا جاتا ہے جو کبھی تھے ہی نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نہیں ،کوئی اتنا بیوقوف نہیں ہو سکتا۔ آپ تو بس اس لئے روتے ہو کہ ایک اور بازی گر آنکھوں میں دھول جھونک گیا۔ ہم تو اپنی بے بصری پر روتے ہیں لیکن فنکاروں کے لئے ہمارے د ل میں ستائش کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا۔

اور یہ ستائش انہیں سزاوار بھی ہے کہ فنکار تو ایسے بھی ہیں جو ہزاروں سالوں سے ایک ہی ڈرامے کے ذریعے ہمیں رلاتے چلے آ رہے ہیں ۔ ہم سب جانتے ہیں مگر orpheusکے چوہوں کی طرح مست ہوئے ان کے جال میں پھنسے چلے آتے ہیں ۔ اور یہ سلسلہ چلتا رہے گا جب تک شہر میں ایک بھی چوہا موجود ہے ۔

٭٭٭