کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

خوابوں کا تاجر

انجینئر محمد فرقان سنبھلی


نہ جس کا نام ہے کوئی نہ جس کی شکل ہے کوئی

ایک ایسی شے کا مجھے ازل سے انتظار ہے

                                                                             (شہر یار)

         

          ’’کیا بندہ کو رات قیام کا سکون میسر ہو گا؟‘‘ کالے تندرست گھوڑے سے اترتے ہوئے مسافر نے سرائے کے مالک سے دریافت کیا۔

’ضرور ملے گا۔ گھوڑے کو اصطبل میں چھوڑ دو اور میرے ساتھ آؤ۔‘‘ بزرگ سے دکھائی دینے والے شخص نے مسافر کو اسی لہجے میں جواب دیا اور اپنے پیچھے آنے کا اشارہ بھی کر دیا۔ پتلے گلیارے کو پار کر کے وہ دونوں ایک بڑے ہال نما کمرے میں داخل ہوئے جس میں کئی پلنگ صاف چادروں سے آراستہ موجود تھے۔ سبھی پلنگ بھرے ہوئے تھے۔

’’تم یہاں بیٹھو۔‘‘ بزرگ سرائے مالک نے مسافر کو کرسی پیش کرتے ہوئے کہا۔

’’میں تمہارے لیے ایک پلنگ کا انتظام کرتا ہوں ‘‘ بزرگ فوراً باہر نکل گیا۔

’’کہاں سے آرہے ہو میاں ‘‘ لمبی سی داڑھی اور سفید جُبّے میں ملبوس شخص نے مسافر سے دریافت کیا۔

’’جی میرا نام سراج الدین ہے اور میں رام گڑھ راجیہ سے مرشدآباد جا رہا ہوں واسطے تجارت کے۔‘‘ مسافر سراج الدین نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے اپنا تعارف کرایا۔ بعدہٗ باری باری کمرے میں موجود سبھی لوگوں نے اپنا تعارف کرایا۔

’’ہاں تو بھائیو سنو میں نے رات ایک بڑا حسین خواب دیکھا۔‘‘ جمیل نے کہا۔

’’ضرور کوئی حسینہ نے دل دیا ہو گا ‘‘ ساتھی بشیر نے مذاق اڑایا تو جمیل نے برا سا منھ بنایا۔ جمیل اور بشیر اچھے دوست تھے اور دونوں ایک ہی شہر کے رہنے والے تھے۔ دونوں ایک دوسرے کی باتوں کو مذاق میں اڑا کر تفریح کا سامان مہیا کرتے تھے۔

’’اچھا بتاؤ کہ تم نے کیا دیکھا۔‘‘ بشیر نے جمیل کو راضی کرنے کے لیے کہا۔

’’میں نے دیکھا کہ میں ایک خوبصورت مکان کے لان میں نرم گھاس پر لیٹا ہوا ہوں۔میرے اوپر چاند اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ جھکا ہوا ہے اور میری بغل میں سورج بیٹھا مجھے نہار رہا ہے۔ ‘‘

’’ارے میاں تم تو اب آسمان کی سیر پر نکل گئے ہو۔ذرا جلدی لوٹ آنا کہ ہمیں زمیں کے مسائل پر بات کرنی ہے۔‘‘ بشیر نے پھر جمیل کا مذاق اڑانے کی کوشش کی۔

’’بھائی میں ایک تاجر ہوں اور میں تم سے تمہارا یہ حسین خواب خریدنا چاہتا ہوں۔‘‘ سراج الدین نے جمیل کے پاس پہنچ کر اس کے ہاتھ پکڑ لیے۔

’’لیکن خواب بھی کہیں فروخت ہوتے ہیں میاں ‘‘ ۔جمیل نے قدرے حیرانی سے کہا۔

’’بس آپ ہاں کر دیں۔ مجھے آپ سے یہ خواب خریدنا ہے۔ جو قیمت کہو دوں گا۔‘‘

’’ٹھیک ہے مابدولت نے یہ خواب تمھیں ایک ہزار اشرفیوں میں فروخت کیا۔‘‘ سچ مچ سراج الدین نے اپنی انٹی میں لگی تھیلی سے ایک ہزار اشرفیاں گن کر جمیل   کو دیں۔

’’اب یہ خواب میرا ہو گیا۔‘‘  سراج الدین نے فرط مسرت سے جمیل کا ہاتھ چوم لیا۔ جمیل اور بشیر سراج الدین کو اب بھی حیرت سے تکے جا رہے تھے۔

’’اچھا دوستو شب بخیر‘‘ سراج الدین اپنے پلنگ پر لیٹا اور جلد ہی نیند کے آغوش میں چلا گیا۔

صبح اٹھ کر سراج الدین نے تازہ دم گھوڑے پر سوار ہو کر اسے شاہراہ پر دوڑا دیا۔ برق رفتار گھوڑے نے شام ہوتے ہوتے سراج الدین کو مرشد آباد پہنچا دیا۔ مرشدآباد پہنچ کر وہ سیدھا بازار پہنچا اور اس نے اونچے چبوترے پر کھڑے ہو کر اعلان کیا۔

’’میں سراج الدین ہوں۔مشہور خوابوں کا تاجر۔آؤ اور مجھ سے جیسا چاہو خواب خرید لو۔‘‘ سراج الدین کا اعلان اتنا عجیب و غریب تھا کہ اس کے چاروں طرف  بھیڑ جمع ہو گئی۔

’’چاہیے کسی کو کوئی بہترین خواب جو سچ ہو جائے۔‘‘ سراج الدین کی آواز پر مجمع میں کانا پھوسی ہونے لگی۔خفیہ ذرائع نے سراج ا لدین تاجر کے خوابوں کی تجارت کے فلسفے کو معمہ بنا کر مرشد آباد کے بادشاہ شاہ زماں کو رپورٹ کی۔ بادشاہ خود بہت حیران ہوا۔اس نے اپنے مشیروں اور نجومیوں کو فوراً طلب کر کے اس بابت دریافت کیا۔

’’بادشاہ حضور آپ خوابوں کے تاجر سے وہ خواب خرید لیں جو اس نے مرشدآباد آتے وقت سرائے میں خریدا تھا۔ ‘‘ بادشاہ کے ایک قابل نجومی نے بادشاہ کو مشورہ دیا۔

’’وہ خواب اگر آپ خریدنے میں کامیاب رہے تو آپ کی منھ مانگی مراد پوری ہو جائے گی۔‘‘ نجومی نے بادشاہ کے تجسس کی آگ بھڑکا دی۔

بادشاہ خود بازار میں سراج الدین کی قیام گاہ پہنچا اور اس سے سرائے والا خواب فروخت کرنے کی درخواست کی۔

’’لیکن میں وہ خواب آپ کو فروخت نہیں کر سکتا۔وہ میں نے اپنی تجارت کے لیے نہیں بلکہ اپنی خواہش کے لیے خریدا ہے۔‘‘

’’لیکن مجھے وہی خواب چاہیے۔‘‘

’’آپ کوئی دوسرا خواب لے لیں بادشاہ حضور۔ میرے پاس اور بھی بہت سے اچھے خواب ہیں۔‘‘

’’اگر تم مجھے وہ خواب فروخت نہیں کرو گے تو میں تم کو گرفتار کر وا کر جیل بھیج دوں گا۔‘‘ بادشاہ سراج الدین کی نا سے بے حد خفا ہو گیا تھا۔

’’بادشاہ حضور مجھے معاف فرمائیں …‘‘

’’گرفتار کر لو اسے اور تب تک قید میں رکھو جب تک کہ یہ اپنا خواب فروخت کرنے کو راضی نہ ہو جائے۔‘‘

’’رحم حضور …رحم…‘‘

سپاہیوں نے بادشاہ کے حکم کی تعمیل کی۔ وہ تاجر کو گرفت میں لے کر شاہی محل کی طرف چل پڑے۔ جمع ہوئی بھیڑ یہ سوچ کر حیران پریشان تھی کہ بادشاہ کی سنک کا تو کوئی علاج نہیں لیکن یہ تاجر تو بادشاہ سے بھی گیا گزرا معلوم پڑتا ہے بھلا وہ خواب فروخت کرنے کیوں تیار نہ ہوا۔

سراج الدین تاجر کو لے کر سپاہیوں کا جتھا شاہی محل میں پہنچا۔ وہ قید خانے کی طرف جاہی رہے تھے کہ راستے میں شاہی باغ پڑا۔ باغ میں گلاب کے درخت کے قریب کھڑی ایک بے مثال حسن کی دیوی پر یکایک تاجر کی نگاہ پڑ گئی۔

’’آہ…بے مثال‘‘ تاجر کے منھ سے بربس نکلا۔

’’کیا ہوا…‘‘ سپاہیوں نے تاجر کی آہ سنی تو پوچھنے لگا۔

’’یہ پری رو کون ہے دوستو۔‘‘ سراج الدین تاجر نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے سپاہیوں سے کہا۔ تو سپاہیوں نے اسے لات گھونسوں پر رکھ لیا۔

’’خبردار گندے انسان…وہ بادشاہ کی ہونے والی رانی ہیں۔‘‘

’’اوہ…لیکن یہ اتنی اداس کیوں ہے اور اس کے گرد سخت پہرہ کیوں ہے۔‘‘

’’اس نے ایک خواب کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بادشاہ سے شادی نہیں کر سکتی۔ ‘‘

’’کیا…کیا خواب دیکھا ہے اس نے۔‘‘ تاجر محو حیرت تھا۔

سپاہیوں کے سربراہ نے تاجر کے دوہتھڑ جمایا تو وہ  لڑکھڑا کر گر گیا۔

’’اسے کیوں مارا جا رہا ہے۔‘‘ حسن کی دیوی نے سیدھے سپاہیوں کے قریب آ کر سوال کیا۔

’’ملکہ حضور …یہ بادشاہ سلامت کا قیدی ہے اور آپ کے بارے میں نازیبا کلمات بول رہا تھا۔‘‘ ایک سپاہی نے خوش آمدانہ لہجے میں جواب دیا۔

’’میرا نام عارفہ ہے۔ تم کون ہو اجنبی۔لگتا ہے میں نے تمھیں کہیں دیکھا ہے۔‘‘   حسن کی دیوی نے تاجر کا بغور جائزہ لیا۔

لمبا قد، چوڑا ما تھا، چوڑا سینا اور گھنگھرالے بال تاجر کی مردانہ وجاہت کے اہم عنصر  معلوم ہو رہے تھے۔

’’میرا نام سراج الدین ہے اے ملکہ ٔحسن،اور میں خوابوں کا تاجر ہوں۔‘‘

’’چلو چلو اسے لے جا کر قید خانے میں ڈال دو۔‘‘ سربراہ نے ہانک لگائی۔

سراج الدین کو لے جا کر قید خانہ میں ڈال دیا گیا۔ بادشاہ کا حکم تھا کہ تاجر کو خواب فروخت کرنے کے لیے تیار کرنے کی کوشش کی جائے۔ لیکن بھلا کون ایسا کر سکتا تھا جب کہ تاجر نے بادشاہ کو صاف انکار کر دیا تھا۔ جو بھی سنتا وہی حیران ہوتا کہ بادشاہ کو یہ کیا سنک سوار ہوئی ہے کہ وہ من چاہا خواب خریدنا چاہتا ہے اس سے زیادہ لوگ تاجر کی قسمت کو کوستے کہ وہ بھلا کیوں نہیں راجہ کو کہہ دیتا کہ لو یہ خواب تمہارا ہوا۔ بھلا کہنے بھر سے کہیں ممکن تھا کہ اس کا خواب راجہ کومل جاتا۔

تاجر کو قید ہوئے پورے ایک ہفتے کا وقت گزر چکا تھا۔تاجر کو اب فکر کھائے جا رہی تھی کہ اگر وہ یہاں سے نہ نکل سکا تو اس کا خواب کیسے پورا ہو گا۔ بھلا ایک ہزار اشرفیاں کیا وہ یوں ہی ضائع ہو جانے دے گا۔ ان ہی خیالات میں گم و ہ قید خانے کے جالی دار دروازے پر پالتی مارے بیٹھا تھا کہ گھنگھرو کی طرح بجتی نرم و نازک نسوانی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی۔

’’کس سوچ میں گم ہو سوداگر۔‘‘

’’آپ…ملکہ حسن اور …یہاں ‘‘ وہ عارفہ ہی تھی۔

’’ہاں …تم خوابوں کی تجارت کرتے ہو نہ ‘‘ عارفہ کی مترنم آواز اس کے کانوں میں شہد گھول رہی تھی۔

’’وہ تو ٹھیک ہے لیکن آپ …‘‘ سراج الدین کو اب بھی یقین نہیں ہو رہا تھا کہ عارفہ اس کے اتنے قریب موجود ہے۔وہ تو اسے دیکھنے کے بعد ہی اس کا اسیر ہو چکا تھا اور چاہتا تھا کہ کسی طرح اس سے گفتگو کا موقع ملے۔ اور خدا نے اسے یہ حسین موقع فراہم کر دیا تھا۔ خوشی خود اس کے گاؤں چلی آئی تھی اپنے پاؤں چل کر۔

’’میں بھی تم سے ایک خواب خریدنا چاہتی ہوں سوداگر۔‘‘

’’کیا…لیکن آپ تو خود سراپا خواب ہیں پھر آپ کو کسی خواب کی کیا ضرورت۔‘‘

عارفہ کھلکھلا کر ہنس پڑی لیکن ایک دم سے سنجیدہ ہو گئی۔

’’کیا تم مجھے ایک خواب دو گے۔‘‘  اس نے اصرار کیا۔

’’کون سا خواب چاہتی ہو۔میرے پاس تو بہت سے خواب ہیں۔‘‘

’’عام سی لڑکی ہوں بہت عام سی سوچ ہے میری ،ایک گھر ہو دریچہ ہو اور پھول سا بچہ ہو۔‘‘ عارفہ نے گنگنا کر خواب بتایا۔

’’لیکن تم مجھ سے اور بھی اچھا خواب مانگ سکتی ہو…‘‘

’’نہیں مجھے صرف اتنی ہی خواہش ہے۔‘‘

’’لیکن تم تو بادشاہ کی رانی بننے جا رہی ہو تو پھر یہ خواب…‘‘

’’نہیں ایسا کچھ نہیں ہو گا۔‘‘ عارفہ نے بے حد سختی سے انکار کیا تو سراج الدین خاموش ہو گیا۔

’’بولو خواب فروخت کروگے۔‘‘

’’ہاں -یہ خواب تو میرے پاس ہے اور میں تمھیں ابھی اسی وقت یہ خواب سونپتا ہوں۔ ‘‘

’’شکریہ میرے محسن…اور اس کی قیمت…‘‘

’’یہ میں نے تحفتاً تمھیں دیا ہے ‘‘ سوداگر نے کہا تو عارفہ کی ہرنی جیسی آنکھوں نے خاموشی کے ساتھ اظہار تشکر کیا۔ پھر عارفہ پلٹی اور واپس چلی گئی۔

تاجر کو قید ہوئے ایک ماہ گزر گیا تھا۔ اس کی داڑھی مزید بڑھ گئی تھی ،کھانا پیٹ بھر نہ کھا سکنے کی وجہ سے جسم بھی قدرے کمزور ہو گیا تھا۔اس کے کپڑے بھی میلے تھے۔ اسے آج بادشاہ نے دربار میں حاضر ہونے کا حکم دیا تھا۔بادشاہ کے سپاہی اسے لینے آ چکے تھے۔وہ ان کے ہمراہ بادشاہ کے دربار میں حاضر ہونے چل دیا۔ جیسے ہی وہ اس باغ کے قریب سے گزرا جہاں اس نے عارفہ کو پہلی بار دیکھا تھا تو شوق تجسس میں اس کی نظر باغ کی طرف اٹھی لیکن اسے وہاں عارفہ نظر نہیں آئی، اس کی اچانک چمک اٹھی آنکھیں مایوس ہو گئیں۔

’’کیا کہتے ہو تاجر…کیا تم اپنا خواب فروخت کرو گے۔تمھیں منھ مانگا دام ملے گا۔‘‘ بادشاہ کے مشیر خاص نے اونچی آواز میں تاجر سے کہا۔

’’میرا فیصلہ اب بھی وہی ہے بادشاہ حضور۔‘‘

’’کیا بکتے ہو۔ ‘‘ بادشاہ کا غصہ پھٹ پڑا۔ ’’تم دو ٹکے کے سوداگر تمہاری یہ مجال کہ تم میری حکم عدولی کرو۔‘‘

’’لیکن بادشاہ سلامت صرف اسی خواب کو کیوں خریدنا چاہتے ہیں جب کہ میرے پاس …‘‘

وزیر اعظم نے تاجر کی بات کاٹتے ہوئے کہا ’’بادشاہ سلامت عارفہ کو اپنی رانی بنانا چاہتے ہیں لیکن وہ منع کرتی ہے۔ اگر تم وہ خواب بادشاہ کو دے دو تو عارفہ بادشاہ کے رشتہ میں آسکتی ہے۔کیوں کہ دنیا میں اگر چاند کے مشابہ کوئی ہے تو وہ عارفہ ہی ہے۔‘‘

’’وزیر اعظم کی بات پر تاجر کا سر چکرا گیا۔وہ جانتا تھا کہ عشق کے معاملات میں بادشاہ کبھی ہار ماننے والا نہیں۔ اسے اب اپنی زندگی تاریک نظر آنے لگی۔ اسے لگا کہ یا تو اب اس کی زندگی ختم ہوئی یا پھر اس کا خواب ٹوٹا۔

اچانک اسے یاد آیا کہ عارفہ تو اس سے عام لڑکی بننے کا خواب خرید چکی ہے تو بھلاوہ بادشاہ کی رانی کیسے بن سکتی ہے۔

’’لیکن بادشاہ حضور گستاخی معاف۔عارفہ تو مجھ سے پہلے ہی عام سی لڑکی ہونے کا خواب خرید چکی ہے۔اس لیے اب بھلا وہ کیسے رانی بن سکتی ہے۔‘‘

’’کیا…کیا کہا تم نے۔‘‘ مشیر خاص اور بڑے نجومی نے ایک ساتھ کہا تو بادشاہ بھی مایوس ہو کر دھم سے سنگھاسن پر گر پڑا۔

’’ہاں وہ تو پہلے ہی عام لڑکی کا خواب مجھ سے لے چکی ہے۔‘‘

’’تب تو بادشاہ حضور یہ خواب خریدنے سے آپ کو کوئی فائدہ نہ ہو گا۔‘‘ نجومی نے مدھم آواز میں بادشاہ سے کہا اور ہاتھ باندھ کر گردن جھکا کر کھڑا ہو گیا۔

’’ٹھیک ہے تاجر کو آزاد کر دیا جائے اور اسے ایک ہزار ایک سو اشرفیاں دے کر وداع کردو۔‘‘ بادشاہ بے حد غمزدہ تھا۔

’’اور عارفہ…‘‘ بادشاہ نے ٹھنڈی سانس بھری۔

’’عارفہ عام زندگی چاہتی ہے نا…تو…اس کی شادی سراج الدین تاجر سے کر دی جائے۔‘‘ بادشاہ نے بے حد ہلکی آواز میں حکم دیا اور اٹھ کر آرام گاہ میں چلا گیا۔

سراج الدین کو تو جیسے منھ مانگی مراد مل گئی تھی اس نے بادشاہ سے اشرفیاں وصول کیں اور عارفہ کے خیالوں میں گم ہو گیا۔

’’ہمیں افسوس ہے کہ عارفہ خانم سپاہیوں کو دھوکہ دے کر غائب ہو گئی ہیں۔‘‘ سپاہ کے سربراہ نے سراج الدین کو مطلع کیا تو اس کا دل غمگین ہو گیا۔اسے فوراً خیال آیا کہ اس نے بادشاہ سے جو اشرفیاں وصول کی ہیں شاید یہ ا س کی لعنت ہے کہ اس کا خواب ادھورا رہ گیا۔ اسے بادشاہ نے خواب کی قیمت تو ادا نہیں کی اسے اچانک خیال آیا کہ بادشاہ کے دل میں یہ خیال آیا ہو گا کہ اگر چاند اسے نہ ملا تو کیا تاجر کا خواب بھی ادھورا ہی رہے گا۔شاید اسی لیے اس نے سو اشرفیاں زیادہ اسے دی ہیں۔ تاجر نے سوچا کہ وہ اشرفیاں واپس کر دے لیکن اب کیا ہو سکتا تھا بادشاہ اپنی خوابگاہ میں جا چکا تھا۔ سوداگر بھرے من اور بوجھل قدموں سے محل سے باہر آیا اور اپنے کالے گھوڑے پر سوار ہو کر چل دیا۔وہ سیدھا بازار میں آیا۔ اس نے اپنی قیام گاہ پہنچ کر آرام کرنے کا فیصلہ کیا۔

سراج الدین دو دن اور رات تک مسلسل سوتا رہا۔ ایک ماہ کی قید اور عارفہ کے داغ مفارقت نے اسے بہت تھکا دیا تھا۔وہ جب دو دنوں کے بعد نیند سے جاگا تو اسے تیز بھوک لگی تھی۔ وہ اٹھا اور بازار سے اپنے لیے کھانا اور گھوڑے کے لیے چنے خرید لایا۔ پیٹ کی آگ بجھی تو اسے مستقبل کی فکر لاحق ہوئی۔اس نے پہلی فرصت میں طے کر لیا تھا کہ وہ اب خوابوں کا کاروبار نہیں کرے گا۔وہ اب اپنے خواب کی تکمیل و الی بات بھی بھول جانا چاہتا تھا۔اس نے طے کیا کہ وہ اب ظروف کا کاروبار کرے گا۔

سراج الدین نے دھیرے دھیرے ظروف کا کاروبار خوب جما لیا۔اس نے محل کے قریب ہی ایک کشادہ مکان بھی تعمیر کرا لیا تھا جس میں کافی بڑا سا لان بھی تھا۔ وہ دن رات تجارت کے فروغ میں مصروف رہتا تھا۔ حمید جو کہ اس کا وفادار نوکر تھا نے اسے کئی مرتبہ شادی کرنے کا مشورہ دیا لیکن سراج الدین کو فرصت ہی کہاں تھی کہ وہ اس طرف غور کر پاتا۔ وہ پرانی تمام باتیں بھول چکا تھا۔

سراج الدین کافی عرصے کے بعد کاروباری ضرورت سے سفر پر نکلا تھا۔ وہ اپنے پسندیدہ کالے گھوڑے پر سوار تھا اور  سکندرآباد کی طرف جا رہا تھا۔ اس کے ساتھ اس کا وفادار نوکر حمید بھی تھا۔ راستے میں سراج الدین کو تیز پیاس لگی۔ اتفاق سے اس کے پاس جتنا بھی پانی تھا وہ راستے میں ختم ہو چکا تھا۔

’’حمید کہیں پانی مل سکتا ہے کیا۔‘‘ سراج نے حمید سے پوچھا۔

’’وہ سامنے ایک مکان ہے شاید وہاں پانی مل جائے۔‘‘

حمید اور سراج مکان کے نزدیک پہنچ کر گھوڑوں سے اتر گئے۔ حمید نے دروازہ پر دستک دی۔’’کون ہے ‘‘ ؟ایک نسوانی آواز آئی۔

’’ہم مسافر ہیں کیا پینے کا پانی مل سکتا ہے خاتون۔‘‘ حمید نے بے حد مہذب انداز میں خاتون سے درخواست کی۔

کچھ دیر خاموشی رہی اور پھر اچانک دروازہ کھلا۔

’’لیجئے پانی پی لیجئے۔‘‘ نسوانی آواز کی طرف دونوں کی نظریں اٹھیں۔

پانی سے بھری صراحی ہاتھ میں لیے ایک خوبصورت خاتون انھیں پکار رہی تھی۔ دونوں نے خوب ڈٹ کر پانی پیا۔

’’شکریہ خاتون‘‘ سراج نے جیسے ہی واپسی کا ارادہ کیا اچانک اس کی نظر خاتون پر پڑی۔ اس کا دل اچھل کر حلق میں آگیا۔

’’عارفہ…‘‘ سراج کے منھ سے بے خودی کے عالم میں جو لفظ نکلا اس نے اس خاتون کو بھی چونکا دیا۔ خاتون نے بغور سراج کا جائزہ لیا۔

’’سوداگر‘‘ فرط مسرت سے اس کا چہرہ لال ہو گیا۔

’’اوہ میرے خدا یہ تم ہو…عارفہ …تم کہاں غائب ہو گئیں تھیں۔ ‘‘ سراج نے عارفہ سے شکوہ کیا۔

’’میں نے تم سے خواب تو حاصل کر لیا لیکن یہ اب تک بھی شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکا۔ لگتا ہے تم نے مجھے ادھورا تحفہ دیا تھا۔ ‘‘ عارفہ نے بھی سراج سے شکوہ کر ڈالا۔ حمید دونوں کی بات کرتے ہوئے دیکھ کر حیران تھا۔

’’نہیں تمہارا خواب ضرور پورا ہو گا۔‘‘ سراج نے دل میں سوچا۔پھر اچانک اس نے عارفہ سے سوال کیا۔’’لیکن تم محل سے غائب کیسے ہو گئیں۔‘‘

’’مجھے ایک سپاہی نے بڑا خطرہ اٹھا کر بھاگنے میں مدد کی اور اپنے اس گھر کا پتہ بھی دیا کہ مجھے یہاں چھپنے میں دقت نہ ہو۔ لیکن افسوس کہ وہ بادشاہ کے قہر سے محفوظ نہ رہ سکا۔‘‘

حمید نے ما حول کو مزید رنگین کرتے ہوئے عارفہ سے درخواست کی کہ وہ سراج سے نکاح کر لے اور مرشدآباد والے گھر کو آباد کرے۔ عارفہ نے فوراً ہی رضامندی کا اظہار کیا۔ اور سراج کے ساتھ گھوڑے پر سوار ہو گئی۔

عارفہ کی رفاقت میں سراج بے حد خوش اور مطمئن تھا اسے ایک سال کب گزرا پتہ ہی نہ چلا۔ عارفہ نے ایک خوبصورت بچے کو جنم دیا۔ اس مشغلے نے دونوں کی زندگی کو زیادہ گلزار کر دیا تھا۔

سراج الدین کو تین سال کے عرصہ میں حمید نے کاروباری مصروفیت سے دور رکھا تھا لیکن اب دھیرے دھیرے سراج نے اپنے کاروبار پر دھیان دینا شروع کر دیا تھا۔وہ حساب کتاب کرتے کرتے لان میں ہی لیٹ گیا۔ اس کا دو سال کا بیٹا بھاگتا ہوا آیا اور اس کی بغل میں آ کر بیٹھ گیا۔ چند سیکنڈ کے لیے تھکان کے سبب آنکھ لگ گئی اور جب اس کی آنکھ کھلی تو عارفہ اس کے اوپر جھکی ہوئی تھی اور اسے اندر جا کر سونے کی تاکید کر رہی تھی۔

بالکل اچانک سراج الدین کے ذہن میں بجلی سی کوند گئی۔اسے اپنا وہ خواب یاد ہو آیا جس کے لیے وہ بادشاہ تک سے لڑ گیا تھا۔

’’میں ایک خوبصورت مکان کے لان میں نرم گھاس پر لیٹا ہوا ہوں۔میرے اوپر چاند اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ جھکا ہوا ہے اور میری بغل میں سور ج بیٹھا مجھے نہار رہا ہے۔‘‘ اور مکمل ہو گیا تھا عارفہ کا خواب بھی۔

٭٭٭