کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی

سید اسد علی


مجھے نہیں پتہ کہ یہ کیسے ہوا۔ میں بہت دیر سے بس سٹاپ پر کھڑا تھا۔ وہاں بہت سناٹا تھا۔ ایسا ہمیشہ نہیں ہوتا تھا مگر جب کبھی مجھے دفتر میں بہت دیر تک رکنا پڑتا تو یہاں ایسا ہی سناٹا ہوا کرتا تھا۔ یہ عجیب شہر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اتنا پر ہجوم پر چھٹی کے ایک گھنٹے میں خالی ہو جاتا تھا۔ ایسے میں بسیں بھی بہت کم ہو جاتیں اور جو آتیں بھی ان میں بڑے مختلف قسم کے لوگ ہوتے ۔ یہ وہ لوگ نہیں ہوتے تھے جو ہر روز میرے ساتھ سفر کرتے تھے ۔ یہ تو کوئی اور ہی مخلوق تھی۔ چہرے ایسے بے شناخت جیسے سات پشتوں تک کسی نے زندگی نہ جی ہو، آنکھوں کے گر د حلقے اتنے گہرے جیسے کسی نے مصنوعی طور پر بنا رکھے ہوں اور سب بس کی ٹوٹی پھوٹی کرسیوں پر ایسے اکڑ کر بیٹھے ہوتے کہ جیسے یہاں سے کہیں جائیں گے بھی نہیں ۔ ان میں سے کوئی بھی کہیں نہیں اترتا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایسا لگتا تھا جیسے سبھی کو آخری سٹاپ پر اترنے کا شوق ہو۔ اگر کوئی پہلے اترتا بھی تو اس دل کے ساتھ جیسے کسی نے اس سے کوئی متاعِ عزیز چھین لی ہو۔

میں ایسے وقت میں گھر جانا نہیں چاہتا تھا۔ میں کبھی دفتر میں دیر تک رکنا نہیں چاہتا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پر کیا کرتا؟ میری بات کون سمجھ سکتا تھا؟میں نے اپنے صاحب کو کہا بھی تو کہنے لگے کہ دیر تک تو کوئی بھی نہیں رکنا چاہتا۔ میں انہیں کیسے بتاتا کہ اُن کی بات اور تھی۔ میں انہیں کسے سمجھاتا کہ میں دیر ہونے پر بس میں ایسے بیٹھتا ہوں جیسے اوباشوں کی بس میں کوئی غریب طالبہ…… جسے ہر صورت سکول جانا ہے ۔ باپ کو شکایت اس لئے نہیں کر سکتی کہ وہ بے بس بھلا کیا کر پائے گا۔ ہاں اتنا با غیرت ضرور تھا کہ اسے سکول سے ہی اٹھا لیتا۔ تو وہ ایک بہتر مستقبل کے خواب کے لیئے یہ قربانی دینے پر تیار تھی۔ یہ عزت کی قربانی نہیں تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عزت کی حفاظت تو وہ اپنی جان سے بھی بڑھ کر کرتی تھی۔ یہ تو اس سکون کی قربانی تھی ،اس بے فکر ی کی قربانی تھی جس کے ساتھ وہ جی سکتی تھی اگر اسے اس بس میں سفر نہ کرنا پڑتا۔ مگر وہ یہاں تھی اور ہر لمحہ اس کا دل دعائیں مانگتا تھا کہ کسی کے دل میں کوئی شرارت نہ ابھر آئے ۔

تو میں کسی کو بتا نہیں سکتا تھا مگر جب بھی مجھے دیر تک رکنا پڑتا تو میں سمٹا ہوا بس سٹاپ پر کھڑا ہو جاتا اور انتظار کرتا۔ بس آتی تو خاموشی سے دروازے کے سب سے قریب بیٹھ جاتا(جیسے موقع ملتے ہی بھاگ لوں گا) اور پھر چلتی بس میں میرے دھڑکتے دل کی آواز کے سوا کوئی آواز نہیں آتی۔ میں جتنی دیر تک سٹاپ پر کھڑا رہتا بڑی توجہ سے اپنے اردگرد دیکھتا رہتا۔ کہیں کوئی مشتبہ شخص نظر آتا تو فوراً ہوشیار ہو جاتا۔ ایسے ہی بس میں داخل ہوتے ہی میں سب سے پہلے بڑی باریک بینی سے پوری بس کا جائزہ لیتا۔ کوشش کرتا کہ میرے ساتھ والی نشست پر کوئی بے ضرر سا بوڑھا بیٹھا ہوا ہویا پھر کوئی لاتعلق کلرک۔ بہرحال کوئی بھی ہو مگر وہ خالی نہیں ہونی چاہیے ۔ رات کے اس پہر خالی نشست سے خوفناک کوئی چیز نہیں ہوتی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خالی نشست کا مطلب ہے کہ کوئی بھی آپ کے ساتھ آ کر یہاں بیٹھ سکتا ہے ۔ کوئی بھی۔ تو میں اس معاملے میں ہمیشہ محتاط رہتا مگر نجانے آج کیا ہوا کہ میں جیسے اسے بالکل ہی بھول گیا۔ کہیں راستے میں توجہ ہوئی تو دیکھا کہ اس نشست پر ایک شریر سا خیال میرے ساتھ بیٹھا تھا۔ نہیں وہ پہلے کہیں نہیں تھا۔ میں نے تو اسے بس سٹاپ پر کہیں دور دور تک نہ دیکھا تھا۔ اور پہلے سے تو وہ ہرگز نہ بیٹھا تھا۔ نجانے وہ کہاں سے آورد ہوا۔ لیکن غلطی میری ہی تھی کہ میں نے اپنے ساتھ کی نشست بھلا خالی کیوں چھوڑ دی تھی۔

تو بہرحال اب وہ میرے ساتھ تھا اور مسکرا کر مجھے دیکھ رہا تھا۔ جیسے کہہ رہا ہو کہ ’’چلو کچھ ہنگامہ کرتے ہیں ‘‘۔ اس کا انداز اکسانے والا تھا۔ وہ جیسے میرا تمسخر اڑا رہا تھا کہ میں کس طرح خود کو سمٹا کر ، ڈرا ڈرا بیٹھا ہوں ۔ میں کیسے ایک انسان سے اُس گائے میں ڈھل گیا تھا جو ہر شام کو گھاس چرنے کے بعد اپنے کھونٹے سے بندھنے کے لئے چلی آتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ جانتی ہے کہ اس کے پاؤں سے بندھی زنجیر اسے رات بھر تنگ کرے گی۔ وہ جانتی ہے کہ زنجیر کی بدولت اس کے پاؤں میں زخم ناسور بنتے جا رہے ہیں ۔ مگر پھر بھی وہ آئے گی اور گھر کی دہلیز پر کھڑے ہو کر سر ہلائے گی۔ گھنٹی کی آواز پر کوئی آئے گا اور اسے کھونٹے سے باندھ دے گا۔ وہ تمام رات اپنی قید کا ماتم کرے گی، اپنے مالک کو کوسے گی مگر اگلی شام پھر سے دروازے سے لگی کھڑی ہو گی۔ پھر سے گردن ہلائے گی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کون جانے کہ وہ ایسا کیوں کرتی ہے ۔ کیا ماتم کی لذت اُسے یہاں کھینچ لاتی ہے یا پھر وہ بے لذت چارہ جو ابھی کھرلی میں انڈیل دیا جائے گا۔ کون جانے ؟

اور میں ہمیشہ سے ایسا تو نہیں تھا۔ ایک وقت تھا جب مجھے بستر پر سلانے کے لئے میری ماں کو سو سو جتن کرنے پڑتے اور آج جب مجھے روکنے والا کوئی نہیں تھا تو میں دفتر سے آتے ہی بستر پر گر جاتا۔ کھانا بھی بستر پر ہی کھاتا اور پھر وہیں لیٹ جاتا۔ کچھ دیر تک تو میرے کانوں میں بھن بھن کرتی آوازیں آتیں جن میں بیوی کسی بچے پر چلا رہی ہوتی یا پھر دو بچے آپس میں لڑ رہے ہوتے اور پھر میں ایک بے رنگ سی نیند میں چلا جاتا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نیند جس میں کوئی خواب نہیں ہوتے ۔ نیند جس میں سکون کا شائبہ تلک نہیں ہوتا۔ نیند جو بس ایک شکست کی طرح جسم پر آ وارد ہوتی اور صبح (اگر اسے صبح کہا جا سکے )کو کوئی جذبہ مجھے نہیں اٹھاتا تھا بلکہ ایک اکتاہٹ جو بہت دیر تک نیند کے پہلو میں رہنے کی وجہ سے مجھ پر چھا جاتی اور مجھے گھسیٹتی ہوئی دفتر لے جاتی۔

میں نے یہ زندگی اپنے لیئے خود نہیں چنی تھی۔ اور میں اس زندگی کو جینے میں اکیلا بھی نہیں تھا۔ مجھ جیسے بہت سے تھے ………وہ جو میرے ساتھ بس میں سفر کرتے تھے ۔ جن کے ہوتے ہوئے میں سفر میں خوفزدہ نہیں ہوتا تھا۔ وہ جو سارا دن میرے ساتھ دفتر میں بھرے رہتے ۔ مجھ جیسے بہت سے تھے ۔ مگر یہ تو کوئی جواز نہ ہوا۔ اگر مجھ جیسے بہت سے تھے ، اگر ان جیسوں سے دوری پرمیرا سانس گھٹنے لگتا تھا مگر پھر بھی یہ کوئی جواز تو نہ ہو ا ایسے جینے کا۔ مگر میں جواز سے بہت آگے نکل چکا تھا یا پھر جواز سے بہت پیچھے رہ گیا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں بس کہیں اور تھا اور سار ی منطق، ساری امید، سارے خواب کسی اور جگہ تھے ۔ وہ جو بچپن میں تتلیوں کی طرح میرے اردگرد اڑتے پھرتے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ باوجود اس کے کہ میں ان کے پر نوچ ڈالتا تھا مگر وہ مجھ سے ڈرتے نہیں تھے ۔ باوجود اس کے کہ میں انہیں اپنی بوتلوں میں بند کر لیتا تھا، کتابوں کے بیچ رکھ ڈالتا تھا مگر وہ پھر بھی میرے تھے ۔ اور آج جب میں ان کی قدر کرنا سیکھ گیا ہوں تو وہ مجھ سے بہت دور ہیں ۔ اتنا دور کہ میں ان کے کھنکتے قہقہے بھی نہیں سن سکتا۔ اتنا دور کہ میں ان کی خوشبو کا بھی سزاوار نہیں ۔

میں نے یہ زندگی خود اپنے لئے نہیں چنی تھی مگر میں خود کو ذمہ دار سمجھ کر جی بھر کر مطعون ضرور کرتا تھا۔ میں جب چاہتا اس زندگی سے نکل بھی سکتا تھا مگر کبھی اپنے معمولات سے لمحہ بھر بھی انحراف نہیں کر پاتا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پر اس دن مجھے ایک بہت مختلف احساس ہوا۔ اس دن بس میں بیٹھے بیٹھے میں نے اپنے ساتھ ایک شرارتی خیال کو بیٹھے دیکھا۔ وہ کسی کھلنڈرے بچے کی طرح مجھے اکسا رہا تھا کہ میں چلوں اور اس کے ساتھ دور کھیتوں سے خربوزے توڑ کر لاؤں ۔ کہ میں خوامخواہ میں کسی گھر کی گھنٹی بجاؤں اور بھاگ لوں ۔ اس کی ضد لایعنی تھی۔ کوئی وجہ نہیں تھی کہ میں اس کی بات سنتا۔ مجھے بس بیس منٹ تک خاموش ہو کر سامنے تکے جانا تھا اور پھر میرا اسٹاپ آ جاتا۔ سب ٹھیک ہو جتا۔ لیکن جب دو نظریں بڑی بے چینی سے آپ پر جمی ہوں تو آپ بہت سادہ سے کام (جیسے خاموشی سے بیٹھ کر اگلی سیٹ کو تکے جانا)بھی نہیں کر پاتے ۔ نظریں بڑے بڑے ہیٹرز کی طرح آپ کو پگھلائے جاتی ہیں ۔ میں بہت دیر تک اس کی نظروں کا سامنا نہیں کر سکا اور اور ایک سٹاپ پر بس رکی تو میں اتر گیا۔

مجھے اس شہر میں رہتے ہوئے بہت دیر ہو گئی تھی لیکن حقیقت یہی تھی کہ میں اس شہر کو بہت زیادہ نہیں جانتا تھا۔ یہ جس جگہ میں اترا تھا میرے لئے اتنی ہی اجنبی تھی جتنی کہ کوئی جگہ کسی کے لئے اجنبی ہو سکتی ہے ۔ اور پھر میں نہیں جانتا تھا کہ میں یہاں کیوں اترا ہوں اور یہاں سے کہاں جاؤں گا؟آپ رات کے اس پہر ، ایسی ویران اور اجنبی جگہ پر صرف اسی صورت اتر سکتے ہو اگر آپ نتائج کے بارے میں نہیں سوچ رہے ہوتے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کسی بھی بارے میں نہیں سوچ رہے ہوتے ۔ تو مجھ سے مت پوچھو کہ میں یہاں کیوں اترا تھا؟ بس میرے ساتھ دیکھو اس شہر کو جس کو میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ میں بھی تو دیکھ رہا تھا اُس دیہاتی کے سے ہونق پن سے جو پہلی بار شہر میں آیا ہو۔

میں جہاں اترا وہ کوئی مصروف سٹاپ ہر گز نہیں تھا۔ دور تک پھیلی ایک سنسان سڑک تھی اور سڑک کے دونوں طرف زندگی سے خالی گھر تھے ۔ گھر جن سے روشنی کی کرنیں بھی بڑی کفائیت شعاری سے سڑک پر پڑتی تھیں ۔ میں جانتا تھا کہ میں غلطی کر چکا ہوں ۔ ایسی جگہ پر رات کو گھومنا مجھے خاصی مشکل میں ڈال سکتا تھا۔ کوئی بھی سائیکل پر سیٹیاں بجاتا چوکیدار یا پولیس کی خالی گاڑی مجھے دیکھ کر ضرور ہی رک جاتے اور اگر کہیں وہ پوچھ ڈالتے کہ میں یہاں کیوں ہوں تو میرا کوئی جواب بھی انہیں مطمئن نہ کر پاتا۔ میں آخر کہ بھی کیا سکتا تھا ؟کہ میں فلاں سرکاری محکمے میں کام کرتا ہوں ،فلاں محلے میں رہتا ہوں ۔ وہ میری طرف ایسے دیکھتے جیسے میں کوئی پاگل ہوں ۔ اس سے کیا فرق پڑتا تھا کہ میں کون ہوں ۔ سوال یہ تھا کہ میں یہاں کیوں ہوں اور میرے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں تھا۔ اور اگر تھا بھی تو میں اسے کسی کو سمجھا نہیں سکتا تھا۔ تو مجھے سنبھل کر چلنا ہو گا۔ اگر کسی پولیس کی گاڑی کو دیکھ کر مجھے سڑک کے ساتھ بنے کسی گڑھے میں بھی بیٹھ جانا پڑے تو شاید میں یہ کر گذروں گا۔ ایسا اس لئے نہیں کہ میرے دل میں کچھ چور تھا۔ بس کچھ یوں تھا کہ شاید پولیس کے ساتھ ہونے والی وہ ایک لمبی بیکار گفتگو کا تصور ہی مجھے گھبرائے دیتا تھا۔ میرا وقت تو خیر بالکل بھی قیمتی نہیں تھا مگر وہ خوامخواہ ہی میرے لئے اپنا وقت برباد کرتے ۔ تو انہیں اس مشکل سے بچانے کے لئے میں گڑھے تک میں اترنے کے لئے تیار تھا۔

میں خود کو سمٹائے ہوئے چل رہا تھا اور میرے کان ادھر ادھر سے اٹھنے والی آوازوں پر لگے تھے ۔ پر آوازیں وہاں تھیں ہی کہاں ؟ان گھروں میں اگر کوئی رہتا بھی تھا تو وہ لوگ سو چکے تھے ۔ یا پھر دن بھر کی اکتاہٹ کا بوجھ انہیں سانس لینے کے سوا کسی بھی دوسرے کام سے روکتا تھا۔ ایک عجیب سا احساس میرے اندر دوڑنے لگا۔ مجھے لگا جیسے میں ان بڑی بڑی دیواروں کے پرے دیکھ سکتا تھا۔ ہر گھر کے اندر ،مختلف کمروں میں سفید چادریں اوڑھے لوگ لیٹے تھے ۔ اتنے ساکت کہ زندگی بھی گھبرا کے ان سے تھوڑی دور کھڑی تھی۔ مجھے اس خاموشی سے ڈر لگنے لگا۔ ایک سنسان سڑک، سڑک پر دونوں طرف پھیلے تا حدِ نظر گھر اور ہر گھر میں پڑی وہ زندہ لاشیں ۔ میں وہاں سے بھاگ جانا چاہتا تھا۔ اور میں یقیناً بھاگ جاتا مگر ایک خوف نے میرے قدموں کو جکڑ لیا۔ اگر میں گھر واپس گیا تو تھوڑی ہی دیر میں میں بھی سفید چادر اوڑھ کر ان لوگوں کی طرح لیٹا ہوں گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کتنی آسانی سے میں ایک جیتے جاگتے انسان سے زندہ لاش میں ڈھل جاؤں گا۔ نہیں میں گھر نہیں جا سکتا تھا۔

اتنے میں ایک بالکونی پر کھڑی ایک لڑکی نے بے خواب نظروں سے میری طرف دیکھا۔ اس کی نگاہوں میں ایک التجا تھی۔ جیسے وہ کوئی شہزادی تھی جسے کسی دیو نے کسی اونچے مینا ر پر قید کر رکھا تھا۔ اس پہلی نظر میں ہم نے بہت سی باتیں کر لیں ۔ میں نے اسے بتا دیا کہ میں شہزادی کے دکھ کو سمجھ گیا ہوں ۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ اسے کیا چاہیے اور یہ بھی کہ میں اس کا شہزادہ نہیں ہوں ۔ میں اپنی پوری زندگی میں کبھی وہ شہزادہ بن ہی نہیں سکا۔ میں تو ایک چیونٹی ہوں جو صبح گھر سے رزق کی تلاش میں نکلتی ہے اور شام کو بل کی گرم دیواروں سے لپٹ کر سو جاتی ہے ۔ میں کسی کے لئے کچھ نہیں کر سکتا۔ وہ خاموش رہی مگر اب اس کی آنکھوں میں ایک بہت بڑی حقارت اتر آئی تھی۔ جیسے کہتی ہو کہ ’’ایک چیونٹی کو یہ اذن کس نے دیا کہ وہ میری امیدوں سے کھیل سکے ۔ تم اگر ایک چیونٹی ہی تھے (اور یقیناً ہو بھی۔ ۔ ۔ ۔ بلکہ اس سے بھی قابل رحم کوئی مخلوق ہو)تو تمہیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ تم شہزادوں کے راستوں پر چلو۔ ہاتھیوں کے راستے پر چلنے والے چوہے کچلے جاتے ہیں یا پھر گوبر میں لتھڑے گھر کو لوٹتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دور ہو جاؤ میری نظروں سے اے حقیر چیونٹی کہ یہ راستہ تمہارا نہیں ۔ ‘‘

میں احتجاج کرنا چاہتا ہے ۔ چیخ چیخ کر اس سے کہنا چاہتا تھا کہ ’’تم صحیح ہو۔ شاید میں ایک چیونٹی ہو ہوں ۔ ہاں میں اتنا ہی بے حقیقت ہوں کہ کسی کی امید تلک نہیں بن سکتا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر یہ تو میں ہوں ۔ مگر یہ عرفانِ ذات تو برسوں اپنے ساتھ رہنے کے بعد آج مجھے ہوا ہے ۔ تم کون ہوتی ہو مجھے مجھ سے زیادہ بہتر سمجھنے والی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نہیں تم دنیا ہو۔ تمہیں تو مجھ سے امید لگانی چاہیے ۔ تم تو سمجھ سکتی ہو نہ کہ انسان اپنے اندر بہت طاقت رکھتا ہے وہ کچھ بھی کر سکتا ہے ۔ اگر برسوں کی بے حسی کے بعد میں اپنے آپ سے مایوس ہو گیا ہو تو مجھے حق ہے مگر تمہیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ تم یوں میری تضحیک کر سکو۔ کہ ایک انسان کبھی بھی بدل سکتا ہے ۔ میں چاہتا ہوں کہ تمہیں ان سب بڑے لوگوں کے قصے کھول کھول کر سنا دوں جو ایک ساعتِ تغیر سے پہلے محض چیونٹیاں ہی تھے ۔ تمہیں کیا خبر کہ میں تمہاری مدد کیوں نہیں کر رہا؟کیا خبر میں بہت مصروف ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کوئی ڈاکٹر ہوں جو کسی مریض کی جان بچانے کو جاتا ہو۔ جس کا ایک ایک لمحہ قیمتی ہو۔ کوئی بہت بڑا بزنس مین ہوں جس کے ایک فیصلے کے انتظار میں دفتر کے لوگ انتظار کر رہے ہوں ۔ میں کوئی بھی ہو سکتا ہوں ۔ تمہیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ تم یوں مجھے بے حقیقت جانو۔ ‘‘

میں نے کچھ کہا نہیں مگر شاید اس لمحے میں کچھ کہنے کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ اس نے گردن پھیر لی اور خالی سڑک کو دیکھنے لگی۔ اس کے نزدیک ایک خالی سڑک میرے وجود سے زیادہ دلچسپ تھی۔ مگر وہ بھول کر رہی تھی۔ ایک انسان خواہ تیس سال تک چیونٹی کیوں نہ رہے وہ کسی بھی لمحے میں انسان بن سکتا ہے ۔ اور مجھے کہنے دیں کہ وہ ایک ساعت ہوتی ہے جس میں ہم اپنے جسموں سے چیونٹیوں کا خول اتار پھینکتے ہیں اور پھر سے زندگی جینے لگتے ہیں ۔ وہ ایک لمحہ کیسے آتا ہے ، کب آتا ہے ، اسے کون لاتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ کوئی نہیں جانتا مگر انسان سے مایوس ہونا کفر ہے ۔ اور میں آج یہ بات ثابت کر کر رہوں گا۔ میں نے قدم آگے بڑھائے اور اس گھر کی گھنٹی بجا دی۔ گھنٹی کی آواز پر وہ لڑکی چونک پڑی۔ اس نے نظر بھر کر مجھے دیکھا۔

’’یہ شخص کیا کر رہا ہے ؟کیا چاہتا ہے ؟‘‘اس نے سوچا۔

اور ایک بہت بڑی مسکراہٹ میرے جسم میں رقص کرنے لگی۔ ایک ہی جھٹکے میں میں چیونٹی سے شخص میں ڈھل گیاتھا۔ ہمیں بس اتنی ہی کوشش چاہیے ہوتی ہے خود کو انسانوں میں شامل کرنے کے لئے اور ہم زندگی بھر اتنی کوشش بھی نہیں کر پاتے ۔

مجھے دور سے قدموں کی آواز آ رہی تھی۔ کوئی دروازہ کھولنے کو آ رہا تھا۔ وہ جو کوئی بھی تھا مجھ سے سوال کرنے والا تھا۔ اور سوال جو بھی کیا جاتا میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا۔

 ’’تو پھر کیا کیا جائے ؟‘‘

’’کیا بھاگ نکلوں ؟میں ایک چیونٹی سے انسا ن تو بن ہی گیا تھا۔ ایک رات کے لئے اتنا ایڈوینچر کافی تھا۔ ‘‘

میں یقیناً بھاگ جاتا مگر اس لڑکی کی نگاہیں مجھ پر جمی تھیں ۔ اور ان نظروں میں اتنے بڑے سوالات اتنی گہری امیدیں تھیں کہ میں بھاگ نہیں پایا۔ دروازہ پچاس سال کے ایک ادھیڑ عمر شخص نے کھولا۔ وہ ایک سفید پوش شخص تھا اور جیسا کہ کسی سفید پوش شخص کا ردِ عمل ہو سکتا تھا وہ مجھے ڈری ہوئی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ یہ آج کی بات نہیں تھی میں قسم اٹھانے کو تیا ر ہوں کہ اس کی ساری زندگی ہی ایسے ڈرتے ہوئے گذری تھی۔ آ پ کو اس شخص کی کیفیت سمجھنی ہے تو کبھی نئے سفید کپڑے پہن کر کسی کیچڑ بھری گلی میں گذر جائیں ۔ صرف تب ہی آپ اس شخص کی حالت کو صحیح سمجھ سکیں گے ۔ گلی میں پھڑپھڑاتی مرغیوں سے لے کر سکول جاتے بچوں سے آپ کو ڈر لگے گا۔ آپ ہر ایک سے بچ بچ کر چلو گے ۔ قدم بھی ایسے رکھو گے کہ زمین پر بوجھ نہ پڑے اور پھر نجانے کہاں سے ایک کار تیزی سے آئے گی اور آپ کے سارے کپڑوں کو داغدار کر کر چلی جائے گی۔ تب۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ صرف تب آپ سوچو گے کہ ساری احتیاط تو بیکار میں ہی تھی۔ اس کار سے تو آپ بچ سکتے نہیں تھے اور اگر یہ کار نہیں آتی تو چاہے آپ تھوڑی بے احتیاطی سے بھی چل رہے ہوتے تو بھلا کتنا برا ہو جاتا۔ اصل قصور آ پ کی بے احتیاطی کا نہیں بلکہ اس حقیقت کا ہے کہ وہ تیز رفتار کار وہاں سے آپ کے ہوتے گذرے گی یا نہیں ۔ کار جس پر آپ کا کوئی کنٹرول نہیں ہے ۔ مگر ہم یہ بات نہیں سمجھتے اور ڈرے ہوئے رہتے ہیں ۔ تو وہ بھی ڈری ڈری نظروں سے مجھے دیکھ رہا تھا۔ نجانے مجھ ایسے اجنبی کے روپ میں تقدیر نے کیسا طوفان اس کے دروازے پر بھیجا تھا؟

ایک دفعہ تو مجھے لگا کہ بہت ہو چکا اس سے معذرت کر کر واپس ہو لیتا ہوں ۔ کیوں خوامخواہ اس شریف انسان کو تکلیف دوں مگر وہ لڑکی کی آنکھیں جو بالکونی سے اب بھی مجھ پر جمی تھیں ۔ خدا کی قسم اگر وہ آنکھیں اور ان میں چھپی حقارت کی بات نہیں ہوتی تو میں کب کا وہاں سے رخصت ہو چکا ہوتا۔ میں جانتا تھا کہ میرا یہاں گذرنے والا ہر لمحہ مجھے آنے والوں برسوں تک تکلیف دیتا رہے گا مگر وہ آنکھیں میرے واپسی کے دروازے پر پڑا ہوا کوئی قفل تھیں جس کی چابی میں کھو چکا تھا۔ میں نے وہاں رکنے کا فیصلہ نہیں کیا مگر میرے قدم اس زمین پر ایسے جمے تھے کہ دو صحت مند جوان کھینچ کر بھی مجھے وہاں سے ہٹا نہیں سکتے تھے ۔

اس شخص کی نظریں مجھ پر جمی تھیں ۔ وہ نظریں مجھ سے تقاضا کر رہی تھیں کہ میں کچھ کہوں کہ میں یہاں کیوں ہوں ؟تو مجھے کچھ کہنا ہی تھا اور میں نے کہہ ڈالا

’’مجھے آپ کی بیٹی سے محبت ہے ۔ ‘‘

میں نے یہ کیوں کہا؟ میں تو اسے جانتا بھی نہیں تھا۔ پھر میں اپنے اس چھوٹے سے جملے سے اس شخص کو کتنی تکلیف دینے والا تھا،اس پرسکون سے گھر میں کتنے طوفان اٹھانے والا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں سب جانتا تھا مگر وہ آنکھیں جو میرے واپسی کے راستے پر لگی تھیں ۔ اس شخص کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ اب وہ واقعی خوفزدہ تھا۔ اتنا خوفزدہ کہ وہ غصے میں آ گیا۔ مجھے لگا جیسے ڈر کے مارے کہیں وہ مجھ پر حملہ ہی نہ کر دے مگر پھر اس نے خود کو سنبھال لیا۔ اس نے مجھے اندر آنے کا اشارہ کیا۔ ڈرائینگ روم میں ہلکی آواز میں ٹی وی چل رہا تھا۔ ایک بوڑھی عورت جو غالباً اس کی ماں تھی کرسی پر بیٹھی تھی۔ دو چھوٹے لڑکے صوفے پر لیٹے ٹی وی دیکھ رہے تھے اور ایک عورت ہاتھ میں چائے کی ٹرے پکڑے کھڑی تھی۔ آدمی نے مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور دونوں لڑکوں کو کمرے سے نکل جانے کا کہا۔ اس نے ٹی وی بند کر دیا اور پوچھا

’’تم کیا چاہتے ہو؟‘‘

میرے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔ معلوم نہیں میں نے محبت کی بات کی بھی کیوں تھی؟شاید میرے پاس محبت سے لایعنی کیوں استعارہ تھا بھی نہیں ۔ میرا خیال تھا کہ اس کے بعد مجھ سے کوئی سوال نہیں پوچھا جائے گا۔ پتہ نہیں میں نے تب کیا سوچا تھا؟میرے محبت محبت پکارنے کے بعد بھی مجھ سے اگلا سوال پوچھا جا رہا تھا۔ کیسا غار تھا جو ’’کھل جا سم سم‘‘ سے کھلتا نہیں تھا۔ میں اسے کیا بتاتا؟یہی کہ میں بس ایک لمحے کے لئے محسوس کرنا چاہتا تھا کہ میں بھی انسان ہوں (کیا میرا اتنا حق بھی نہیں تھا؟)۔ اور میں وہ لمحہ گذار بھی چکا تھا۔ وہ بس اگر مجھے یہی کہ دیتا کہ ’’ٹھیک ہے جناب اب آپ جا سکتے ہیں ‘‘تو گفتگو کے اعتبار سے انتہائی مہمل ہونے کے باوجود میں سر جھکا کر اسے سلام کرتا اور وہاں سے رخصت ہو جاتا۔ یقین کریں کہ میں وہاں تھا تو صرف اس لئے کہ مجھے لگ رہا تھا جیسے اب واپسی کا کوئی دروازہ میرے لئے کھلا نہیں ہے ۔

’’یہ آپ بہتر ہو گا کہ اپنی بیٹی سے ہی پوچھ لیں ‘‘میں نے اس کا سوال اسی کو لوٹا دیا۔ آخر مجھے کوئی جواب تو دینا ہی تھا۔

کرسی پر بیٹھی بوڑھی دادی کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے ۔ وہ جانتی تھی کہ اس کے بیٹے کی عمر بھر کی متاع ضائع ہو گئی۔ ماں نے چائے کی ٹرے ایک میز پر رکھ دی کہ مبادا اسے ہاتھ سے گرا ہی نہ بیٹھے ۔

’’وہ شیشے کی دیواروں میں جڑی ہے ۔ ہم اسے دیکھ سکتے ہیں مگر ہماری کوئی صد ا اس تک نہیں پہنچ سکتی۔ ہم ہر ممکن کوشش کر بیٹھے ہیں ۔ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ تم ہی کچھ اس بوڑھے انسان کی عزت کا خیال کرو اور یہاں سے چلے جاؤ۔ اس کا خیال چھوڑ دو۔ ‘‘اس نے لجاجت سے کہا۔

مجھے وہاں سے بھاگنے کا اس سے اچھا موقع نہیں مل سکتا تھا لیکن میں وہیں بیٹھا رہا۔ مجھے اب کھیلنے میں مزا آ رہا تھا۔

’’میں کہاں جا سکتا ہوں ؟‘‘

’’کہیں بھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہیں بھی چلے جاؤ۔ وہ بچی ہے ۔ نہیں جانتی کہ وہ آگ سے کھیل رہی ہے ۔ ‘‘

میرے چہرے پر ایک نخوت بھری فاتحانہ مسکراہٹ ابھر آئی۔ عورت نے دونوں ہاتھ جوڑ کر میری طرف دیکھا۔ وہ کچھ بولی نہیں مگر اس کے انداز میں کچھ ایسا تھا کہ میں بہت خوفزدہ ہو گیا۔ جیسے کھیلتے کھیلتے کوئی بچہ گھر میں آگ لگا دے یا شارٹ سرکٹ کر بیٹھے ۔ ’’میں اس سے بات کرنا چاہوں گا۔ ‘‘

عورت نے بے بسی سے اپنے شوہر کی طرف دیکھا اور اسے خاموش پا کر مجھے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔ وہ مجھے لڑکی کے کمرے تک لے گئی۔

’’وہ اندر ہی ہے ۔ ‘‘یہ کہ کر وہ واپس چلی گئی۔ میں اندر داخل ہوا اور وہ سامنے دیوار سے لگی کھڑی تھی اور خوفزدہ نظروں سے مجھے دیکھتی تھی۔ مجھے لگا کہ میں جس تیزی سے چیونٹی سے انسان میں ڈھلا تھا اسی تیزی سے انسان سے کسی عفریت میں ڈھلتا جا رہا ہوں ۔

اس سے پہلے کہ میں اس نئی جون سے واپس نہ آ پاؤں مجھے چلے جانا چاہیے ۔

’’تم کون ہو؟یہاں کیوں آئے ہو؟‘‘اس نے پوچھا

’’میں نے تمہارے باپ سے کہا کہ مجھے تم سے محبت ہے اور انہوں نے یقین کر لیا۔ وہ چاہتے ہیں کہ میں ان کی عزت کی خاطر تمہارا خیال چھوڑ دوں اور تمہیں بھی سمجھاؤں ۔ اسی لئے تمہاری ماں خود مجھے یہاں چھوڑ کر گئی ہیں ۔ ‘‘

اس کی آنکھوں میں عجیب وحشت اتر آئی

’’تم نے ایسا کیوں کہا؟میں تو تمہیں جانتی بھی نہیں ۔ ‘‘

’’کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تم مجھے نہیں جانتی۔ میں بھی تمہیں نہیں جانتا مگر میں یہاں اس کمرے میں تمہیں صرف ایک بات بتانے کے لئے آیا ہوں کہ وہ جسے تم جانتی ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو تم سے محبت کا دعوی کرتا ہے اسے صرف یہاں آ کر ایک اقرار کرنا تھا۔ ا یک اقرار جس سے بچنے کے لئے وہ تمہیں روز نئی کہانیاں سناتا ہے ۔ جو شخص تمہارے دروازے پر آ کر بس یہ نہیں کہہ سکتا کہ اسے تم سے محبت ہے کیا وہ اس قابل ہے کہ تم اس کے لئے اپنا گھر، اپنی زندگی یو ں چھوڑ دو؟‘‘

’’تمہیں یہ سب کیسے پتہ ہے ؟‘‘اس نے پوچھا

’’جیسے تم نے میرے اندر چھپی چیونٹی کو دیکھ لیا تھا۔ بیوقوف لڑکی ! ہم سب شیشے سے بنے ہیں ۔ ایک دوسرے کے سامنے برہنہ۔ پھر بھی ہم کتنے التزام سے خود کو مہنگے مہنگے ملبوسات میں چھپائے پھرتے ہیں ۔ اور برہنہ جسم ایسے ملبوسات کے بعد اور بھی برہنہ ہو جاتے ہیں ۔ ‘‘

’’پر وہ کہتا ہے کہ وہ مجھ سے محبت کرتا ہے ‘‘۔

’’وہ تو میں نے بھی کہ دیا اور تمہارے گھر والوں کے سامنے کہ دیا۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے ۔ اس سے کہو اپنی محبت کو آزمائش میں نہیں ڈالتے ۔ لڑکیوں کو سنسان بالکونیوں میں انتظار کروا کر گرم بستروں میں سونے والے محبت کا مطلب نہیں جانتے ۔ ‘‘

یخ بستہ لڑکی پگھلنے لگی۔ میں ایک لمحہ بھی اور وہاں ٹھہرتا تو وہ ایک نئی شکل میں بدل جاتی۔ میرے محبت کے سانچے میں ڈھل جاتی۔ پر پھر میں بھی شاید ہمیشہ کے لئے ایک عفریت ہی رہ جاتا۔ ایک چیونٹی لاکھ بے حقیقت سہی پر وہ ایک عفریت سے تو بہتر ہے ۔

میں باہر نکل آیا۔ نیچے ڈرائینگ روم میں وہ تینوں میری طرف بڑی پر امید نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔ میں نے انہیں تسلی بھری نظروں سے دیکھا ، محبت بھری آواز میں خدا حافظ کہا اور گھر سے نکل آیا۔

میں تقریباً بھاگتا ہوا بس سٹاپ کی طر ف جا رہا تھا۔ وقت بہت کم تھا۔ مجھے لگتا تھا کہ اگر ذرا بھی دیر ہو گئی تو شاید میں کبھی بھی وہ چیونٹی نہیں بن پاؤں گا جو میں تھا۔ انسان کی جون میرے جسم پر بالکل بھی نہیں جچ رہی تھی۔ تو مجھے بھاگنا ہے اور دیر ہونے سے بہت پہلے گھر پہنچ جانا ہے ۔ اتنی پہلے کہ اونگھتی ہوئی بیوی اس کے سوا کچھ اور نہ کہہ سکے

 ’’آج تھوڑی دیر ہو گئی آپ کو؟‘‘

اور اس سوال کا جواب تو میں کئی بار دے چکا تھا

’’بس آج دفتر میں تھوڑا کام زیادہ تھا۔ ‘‘

٭٭٭