کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

Causalities of Love

سید اسد علی


ریستوران کے جگمگاتے فلور کے پیچھے ایک عام سا کچن ہے ۔ ایک عام سا کچن جس میں معمولی سے لوگ پھرتے ہیں ۔ لوگ جنہوں نے ویٹروں کی طرح خود کو مصنوعی کلف لگی وردیوں میں جکڑ نہیں رکھا۔ لوگ جو مشینوں سے انہماک اور تندہی سے کام کئے جا رہے ہیں ۔ وہ نظریں جمائے کام میں مصروف ہیں اور ان کے گرد تیزی سے چلتے ہوئے ویٹروں ،دیگچیوں سے اٹھتے دھوئیں اور متنوع خوشبوؤں نے چھوٹے چھوٹے حصار بنا رکھے ہیں ۔ وہ عام لوگ سارا دن ان پیچیدہ حصاروں کے بیچ تیرتے ہیں ۔

ایسے میں کچن کا پچھلا دروازہ کھلتا ہے ۔ باہر اندھیرے اور تازہ ہوا کے حصار دروازے تک بڑھ آئے ہیں ۔ وہ بڑی میکانیت سے ایک نوجوان کو وصول کرتے ہیں اور سرسراتی خاموشی سے اس کے ساتھ چلنے لگتے ہیں ۔ ایسے میں شاید ہوا کا کوئی جھونکا چلا اور سنسان سڑک پر بکھرے زرد پتے اور جوس کے خالی ڈبے بھی نوجوان کے ساتھ دوڑنے لگتے ہیں ۔ جیسے وہ کوئی چھوٹے بچے ہوں جنہیں اپنے ساتھ چلنے والے بڑے کی رفتار تک پہنچنے کے لئے بھاگنا پڑے ۔

اس منظر میں کچھ تھا۔ کچھ ایسا کہ سڑک کے کنارے جوس کے خالی ڈبوں کے بیچ سرسراتا چوہا ٹھٹھک کر رہ گیا۔ وہ بڑی حیرت سے اس نوجوان کو دیکھ رہا تھا جو اپنے ساتھ ایک پورے لینڈ  اسکیپ کو اٹھائے لے جا رہا تھا۔ پتہ نہیں چوہے نے کیا سوچا۔ شاید یہی کہ اگر واقعی لینڈ  اسکیپ اس نوجوان کے ساتھ چلا گیا تو وہ ایک چٹیل، بے رنگ، بیاباں میں کیا کرے گا۔

سو وہ خاموشی سے نوجوان کے پیچھے ہو لیا۔ ایسے میں وہ نوجوان رکا۔ اسے عجیب سی بے چینی محسوس ہو رہی تھی۔ بے چینی جیسے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جیسے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پتہ نہیں وہ کیا تھا پر کوئی بات تھی ضرور۔ اس نے بڑی توجہ سے ہر سمت دیکھا مگر گہری اندھیری رات میں اپنے قدموں میں دبکے چوہے کو نہیں دیکھ پایا اور اس بے چینی کو خود کے گرد مضبوطی سے لپٹا کر وہ پھر اپنے رستے پر چل پڑا۔

وہ اب ایک مصروف سڑک کے فٹ پاتھ پر چلا جا رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک بڑا لفافہ دبا تھا جس میں غالباً ہوٹل سے بچا کچھا کھانا تھا۔ اور وہ بڑی تیزی سے قدم اٹھا رہا تھا۔ بہت ممکن ہے کہ وہ اس عجیب بے چینی سے بھاگ رہا ہو پر گمان یہی ہے کہ اسے کھانا ٹھنڈا ہونے سے پہلے گھر پہنچنے کی خواہش تھی۔ نجانے وہ کون تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ جس تک پہنچنے کی خواہش اسے ایسی غیر انسانی رفتار سے چلائے جا رہی تھی۔ ایسے میں وہ گاہے گاہے پیچھے دیکھتا رہا۔ اسے احساس تھا کہ کوئی ہے جو اس کے ساتھ ساتھ چلا آ رہا ہے ۔ ہاں احساس تو بہت گہرا تھا وہ بس اسے دیکھ نہیں سکتا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور بھلا احساس کو دیکھ بھی کون سکتا ہے ؟

چوہا البتہ بہت مطمئن تھا۔ گو تیز چلنے سے اس کی سانسیں پھولی جاتی تھیں (آخر اس نے دو دن سے کچھ کھایا بھی تو نہیں تھا)۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پر اس طرح وہ کم از کم منظر سے پیچھے تو نہ رہ جائے گا۔ اب تو اس شہر میں بھی خوراک تلاش کرنا کارِ مشکل تھا وہ بھلا ایک چٹیل، بے رنگ، بیابان میں کیا کرتا؟

نوجوان نے پسماندہ سے محلے کے ایک دروازے پر دستک دی۔ دروازہ فوراً ہی کھل گیا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کوئی بس کواڑوں سے لگا کھڑا ہو۔ وہ ایک خوش شکل نوجوان لڑکی تھی جس کی کلائیوں میں کانچ کی چوڑیاں بھری تھیں ۔ جس کے ہاتھوں میں مٹتی ہوئی مہندی کے نقش تھے اور جس کے لباس پر بڑی نا تجربہ کاری سے گوٹا ٹانکا گیا تھا۔

وہ دونوں اندر چلے گئے اور دروازے کو بند کر دیا گیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کچھ اس مضبوطی سے کہ اب تاریک گلی میں اس گھر سے روشنی کی لکیر تلک نہ آتی تھی۔ چوہا کچھ دیر تو بڑی بے چینی سے دروازے سے ٹکراتا رہا۔ گو وہ اپنے اردگرد سارے منظر اسی طرح موجود دیکھ رہا تھا پھر بھی دل کو گویا دھڑکا سا لگا تھا۔ نجانے کب یہ ساری بساط سمیٹ دی جائے ۔ نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسے ایسے کسی انجام سے بہت پہلے نوجوان تک پہنچ جانا تھا۔ مگر جایا جائے تو کیسے ؟اس عام سے گھر میں ایک مضبوط آہنی دروازہ تھا۔ دروازہ جس کے نیچے کوئی درز بھی ایسی نہ تھی جہاں سے ہوا تلک بھی اندر داخل ہو سکتی۔

’’آخر اس چھوٹے سے گھر میں ایسا کیا چھپایا گیا ہے ؟چوہے کے ذہن میں کئی سوالات ابھر رہے تھے مگر اس نے ہمت نہیں ہاری اور تھوڑی ہی دیر میں اس نے وہ سوراخ ڈھونڈ لیا جس سے گھر کا گندہ پانی گلی کی نالی میں گر رہا تھا۔ وہ جھٹ سے نالی میں کود پڑا۔ نالی کا پانی اس وقت برفاب ہو رہا تھا مگر وہ کسی نہ کسی طرح تیرتا ہوا گھر میں داخل ہو گیا۔ نالی سے باہر نکلا تو وہ بری طرح کپکپا رہا تھا۔ وہ اب چاروں طرف بے چینی سے دیکھ رہا تھا۔ شاید اسے کسی ایسی جگہ کی تلاش تھی جہاں وہ خود کو کچھ گرم کر سکے ۔ اس نے دیکھا کہ وہ دونوں برآمدے میں بچھی چارپائی پر بیٹھے کھانا کھا رہے تھے ۔ کتنا عجیب تھا وہ شخص جو سارا دن خوشبو دار کھانوں کے بیچ رہ کر بھی ایک لقمہ تلک نہ نگلتا تھا محض اس لئے کہ وہ اس چارپائی پر بیٹھ کر یہ ٹھنڈا کھانا کھا سکے ۔ شاید اسی کو محبت کہتے ہوں گے ۔

چوہا سردی سے مسلسل کانپ رہا تھا۔ ایسے میں سامنے کمرے سے روشنی دکھائی دی تو وہ وہاں چلا گیا۔ سامنے ایک بستر سلیقے سے لگا ہوا تھا جس پر سفید بے داغ چادر بچھی تھی اور پائینتی کی جانب نئی شنیل کی رضائی رکھی تھی۔ چوہا چھلانگ لگا کر بستر پر چڑھ گیا اور رضائی میں اس امید پر گھس گیا کہ شاید اس سردی پر قابو پا سکے ۔

وہ دونوں کافی دیر تک بیٹھے باتیں کرتے اور پھر ایک دوسرے کی بانہیں تھامے کمرے میں داخل ہوئے ۔ ان کی آہٹ پر چوہا پہلے ہی بستر سے نکل کر کرسی کے نیچے جا بیٹھا تھا اور اپنی پر تجسس آنکھوں سے انہیں دیکھ رہا تھا۔ ایسے میں آدمی کی نظر بستر پر لگے کیچڑ کے داغوں پر پڑی جو چوہے کی وجہ سے لگے تھے تو اس کے چہرے پر بدمزگی پھیل گئی اور وہ اپنی بیوی پر برس پڑا۔

’’سارے دن میں تم ایک صاف چادر نہیں بچھا سکتی؟‘‘

لڑکی کوئی جواب دینے کی بجائے اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے بستر کی طرف دیکھنے لگی۔ اس کے ذہن میں بہت سے سوالات تھے لیکن نئی دلہنیں وہ سب کچھ نہیں کہہ سکتیں جو ان کی سوچ میں آتا ہے ۔ وہ ایک نئے آدمی کی دنیا میں رہنے کے لئے آتی ہیں اور کسی ننھے بچے کی طرح انہیں دل کی بات کہنے میں تھوڑی دیر لگتی ہے ۔ کسی نومولود کی طرح وہ اپنے اردگرد کو دیکھتی ہیں ۔ نئے الفاظ، نئی اصطلاحات سیکھتی ہیں اور پھر ایک دن وہ بولنے لگتی ہیں اور اتنا بولتی ہیں کہ سب خاموش ہو جاتے ہیں ۔ لیکن ابھی وہ دن نہیں آیا تھا اور وہ بت بنی کھڑی تھی۔ آدمی اس خاموشی پر اور بھی جھنجھلا گیا۔

’’سارا دن مصروف رہتا ہوں ۔ کتوں کی طرح کام کرتا ہوں اور یہاں کسی کو اتنا خیال بھی نہیں کہ صاف چادر ہی بچھا دے ۔ ‘‘

لڑکی کے ہونٹ کپکپائے پر وہ کچھ کہ نہ سکی۔ ہاں اس بے بسی پر اس کی آنکھوں میں آنسو ضرور تیرنے لگے ۔ چوہا حیرت سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ آخر وہ بتا کیوں نہیں دیتی کہ اس نے بستر کو بڑے سلیقے سے لگایا تھا۔ وہ چادر تو اتنی صاف تھی جیسے آسمان سے گرنے والی برف ہوتی ہے ۔ دن میں کتنی بار اس نے بچھائی ہوئی چادر کو کھینچ کھینچ کر سیدھا کیا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پر لڑکی نے کچھ نہیں کہا اور آدمی کا غصہ تھا کہ بڑھتا چلا جا رہا تھا۔ ایسے میں چوہا کرسی کے نیچے سے نکل آیا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ سب بہت خطرناک ہے مگر خوبصورت لڑکی کے آنسو وہ طوفان ہوتے ہیں جن میں آپ کی ساری محفوظ پناہ گاہیں بہہ جاتی ہیں ۔ شاید باہر نکل کروہ اس آدمی کو دکھا دینا چاہتا تھا کہ یہ سب اسی کی وجہ سے ہوا۔ پتہ نہیں کیوں اسے لگتا تھا کہ ایک گیلے چوہے کو دیکھ کر وہ آدمی سب کچھ سمجھ جائے گا۔ وہ جان جائے گا کہ قصور لڑکی کا نہیں اس بیوقوف intruderکا ہے ۔ وہ سمجھ جائے گا اور فوراً اس روتی ہوئی لڑکی کو اپنی بانہوں میں سمٹا لے گا۔

پر ایسا نہیں ہوا۔ آدمی نے اسے نہیں دیکھا۔ وہ دیکھتا بھی کیسے ؟اس کے اندر تو بے پناہ غصہ تھا۔ یہ یقیناً کوئی بڑی بات نہیں تھی پر شاید اسے لگا کہ لڑکی اسے محبت ہی نہیں کرتی اگر کرتی ہوتی تو وہ اس کا اتنا تو خیال رکھتی کہ بستر پر صاف چادر ہی بچھا دیتی۔ آدمی نے بستر پر ڈالی چادر نوچ پھینکی اور الماری سے نکال کر صاف چادر بستر پر ڈالنے لگا۔ اس دوران لڑکی اپنی جگہ بت سی بنی کھڑی سسکیاں لیتی رہی۔ چادر ڈالنے کے بعد آدمی کے چہرے پر بے پناہ تھکاوٹ اتر آئی۔ وہ جو سارا دن بھاگے بھاگے کام کرتا تھا پتہ نہیں کیوں ایک چادر کے بوجھ سے ہانپ رہا تھا۔

توہ وہ بستر پر گر گیا اور ایسے میں اس کی نظر کرسی کے سامنے کھڑے ننھے سے چوہے پر پڑی۔ غیر اضطراری طور پر اس کا ہاتھ فوراً اپنے جوتے کی طرف گیا پر پھر اس نے اسے واپس کھینچ لیا اور کروٹ بدل کر لیٹ گیا۔ شاید وہ اتنا تھک گیا تھا کہ اسے جوتا کھینچ کر مارنا بھی مشکل لگ رہا تھا۔ یا شاید وہ اس مہربانی سے کسی پرانی غلطی کی تلافی کرنا چاہ رہا تھا۔ کبھی کبھی ہم کتنے irrationalہو جاتے ہیں ۔ ہم ایک روتی لڑکی کے آنسو نہیں صاف کر پاتے اور کسی چوہے کو خود کی طرف ٹکٹکی باندھے دیکھتا چھوڑ دیتے ہیں ۔ لڑکی بھی تھوڑی دیر میں بستر پر لیٹ گئی پر اس کی سسکیاں رات گئے تک کمرے میں گونجتی رہیں ۔ اسی سسکیوں کے بیچ بھلا کون سو سکتا ہے لیکن اس آدمی نے رات بھر کروٹ تلک نہ لی۔

چوہا البتہ کمرے میں گھومتا رہا۔ اسے خوراک کے کسی ٹکڑے کی تلاش تھی لیکن کمرے میں ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ باہر برآمدے سے بچے ہوئے کھانے کی خوشبو اسے پاگل کر رہی تھی لیکن بیچ میں لکڑی کا مضبوط دروازہ حائل تھا۔ اسے آج کی رات بھوکے پیٹ ہی کاٹنی تھی۔ اسے بھوک سے لڑنے کی عادت بہت پرانی تھی پر اس نے خود کا اتنا اکیلا کبھی نہیں محسوس کیا تھا۔ اس کا اپنا جسم اس کے خلا ف ہوتا جا رہا تھا۔ اس کی آنکھیں مضبوط دروازے سے پرے خوراک دیکھتی تھیں ، اس کی ناک سات گھروں سے اٹھنے والی کھانوں کی خوشبو سونگھ رہی تھی، اس کے تخیل میں کھانوں سے بھرے خوان سجے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور ایسے میں وہ بڑی حیرانگی سے اپنے جسم کی طرف دیکھنے لگا جیسے کہتا ہو کہ

’’you too Brutus‘‘

ناامیدی سے بھرا وہ چوہا کمرے کے کونے میں جا بیٹھا جبکہ اس کا جسم اسی سرعت اور انہماک سے کمرے میں گھومتا رہا۔ اپنی تیز ناک سے خوراک ڈھونڈتا رہا۔ صبح کے قریب وہ جسم بھی چوہے کے قریب آ کر پڑ گیا جیسے وہ لڑکی رات کو بستر پر لیٹی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کچھ ایسے کہ دونوں کے بیچ کوئی فاصلہ نہیں تھا اور کچھ یوں کے دونوں کے بیچ پوری دنیا کا فاصلہ تھا۔

چوہے کی آنکھ کھلی تو دن کافی چڑھ چکا تھا۔ وہ روشندان سے کمرے میں جھانکتی دھوپ صاف دیکھ سکتا تھا۔ کمرے میں اس کے اور دھوپ کے سوا کوئی نہیں تھا۔ بستر بے ترتیب پڑا تھا اور کمرے کا دروازہ بند تھا۔ اس نے روشنی میں ایک مرتبہ پھر کوئی درز ڈھونڈنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکا۔ بھوک اب اسے تکلیف نہیں دے رہی تھی،بے چین نہیں کر رہی تھی بلکہ دلنشین لوریاں سنا رہی تھی۔ جسم میں نیند ہچکولے لے رہی تھی۔ سب چیزوں سے حقیقت کی سختی غائب ہوتی جا رہی تھی۔ سب کچھ صحیح ہو گیا تھا۔ اسے بس اپنے کونے میں لیٹ جانا تھا۔ لیکن اسے لگتا تھا کہ اگر ایسا ہوا تو وہ پھر کبھی نہ اٹھ پائے گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نہیں وہ سو نہیں سکتا تھا۔ اسے ابھی زندہ رہنا تھا۔ اس نے اپنے آپ کو غیر ضروری طور پر مصروف رکھنے کی کوششیں شروع کر دیں ۔ وہ دروازے کے قریب پہنچ گیا اور کچھ سننے کو کان لگا دیے ۔ وہ وہاں بڑی دیر تک کھڑا رہا مگر گلی میں گذرتے پھیری والے اور شاید محلے دار بچوں کے رونے کے سوا کوئی آواز سنائی نہ دی۔ وہ لڑکی یقیناً گھر میں نہیں تھی۔ اگر ہوتی تو ادھر ادھر چلتے ہوئے اس کے قدموں کی آہٹ اور چوڑیوں کی کھنک ہی سنائی دیتی رہتی۔ پر کیا خبر کہ وہ جوتے اتار کر آہستگی سے قدم رکھے چلتی ہو اور کام کرنے کو اس نے چوڑیاں اتار کر طاق پر رکھ دی ہوں ۔ پھر یہ بھی تو ممکن تھا کہ وہ تھوڑی دیر کو صحن میں بچھی چارپائی پر لیٹی ہو اور اسے نیند آ گئی ہو۔ وہ رات کو سوئی بھی کہاں تھی اور ایسی نرم دھوپ میں بیدار رہنا بھلا کہاں ممکن ہے ۔ وہ سوچتا رہا اور بے چینی سے کمرے میں ٹہلتا رہا۔

’’ابھی تھوڑی دیر میں جب دھوپ جوان ہو گی تو وہ لڑکی اٹھ بیٹھے گی۔ چپل گھسیٹنے کی آواز کے ساتھ چوڑیوں کی کھنکھناہٹ سنائی دے گی اور میں اس کے دروازہ کھولتے ہی جھٹ سے باہر بھاگ جاؤں گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ویسے مجھے اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ وہ تو مجھے دیکھتے ہی چیخیں مارتی بھاگ کر بستر پر چڑھ جائے گی اور بہت ممکن ہے کہ شام تک بستر ہی سے نہ اترے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہاں البتہ اس آدمی سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے ۔ مانا کہ کل رات اس نے مجھے چھوڑ دیا تھاپر دوبارہ ایسی امید لگانا بہت پاگل پن ہو گا۔ ‘‘

وہ سوچتا رہا اور ٹہلتا رہا۔ صرف اسی طرح وہ خود کو اس لوریاں دیتی نیند سے بچا سکتا تھا۔ پر اس طرح ٹہلنے سے بھوک اور شدت سے چمک اٹھی تھی اور سہ پہر تک تو اسے تھک کر دروازے کے قریب بیٹھ جانا پڑا۔ اب اس کے تصور میں چارپائی پر کوئی لڑکی نہیں تھی۔

’’شاید کسی ہمسائی کے ساتھ بازار گئی ہو گی۔ بہرحال شام سے پہلے تو وہ گھر آ ہی جائے گی۔ ‘‘اس نے خود کو تسلیاں دیں ۔ لوریوں کی آوازیں بلند ہونے لگیں ۔ اس شور سے بچنے کے لئے اس نے بڑی توجہ سے کمرے میں طاق پر رکھی تصویر کو دیکھنا شروع کر دیا۔ وہ اُن کی شادی کی تصویر تھی۔ وہ اس تصویر کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھتا رہا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس وقت تک جب تک سورج روشندان کی پہنچ سے بہت نیچے ہو گیا اور اندھیرا کمرے میں در و دیوار پر رینگنے لگا۔

شام بھی گذر گئی۔ وہ یقیناً کسی بازار میں نہیں گئی تھی۔ ہو نہ ہو وہ اپنے میکے چلی گئی ہو گی۔ اپنے شوہر کی بد اعتمادی پر وہ اتنی بد دل ہوئی کہ میکے چلی گئی جہاں وہ اپنی ماں کے گلے لگ کے وہ ساری کہانی کہہ رہی ہو گی جس کا ایک لفظ بھی وہ کل بول دیتی تو سب کچھ ٹھیک ہو جاتا۔ بہرحال وہ نوجوان تو ابھی گھر آ ہی جائے گا۔ اسے بس ذرا ہوشیار رہنے کی ضرورت تھی۔ چوہے کو بہت پھرتی سے نکلنا ہو گا۔ اس کا دل تھوڑا مطمئن ہو گیا گو دل میں کہیں یہ اندیشہ اب تک تھا کہ شاید وہ اب نقاہت کے مارے بھاگ بھی پائے گا یا نہیں ۔

رات بارہ بجے گھر کا تالا کھلنے کی آواز آئی۔ تو اس کا اندازہ صحیح ہی تھا۔ لڑکی یقیناً میکے جا چکی تھی۔ بہرحال اب مصیبت ختم ہونے کو تھی لیکن وہ منتظر ہی رہا۔ اس رات کسی نے کمرے کا دروازہ نہیں کھولا۔ اسے شروع میں باہر سے کاغذ کھڑکھڑانے کی آواز سنائی دی جیسے کوئی کھانے کے لئے آ بیٹھا ہو۔ کھانے کی خوشبو کا ایک جھونکا بڑی شدت سے چوہے کی ناک سے آ ٹکرایا مگر پھر کوئی آواز سنائی نہیں دی۔ بڑی اداسی تھی۔ اسے یقین نہیں تھا پر لگتا تھا جیسے کسی نے سسکی بھری ہو اور جیسے اسے ٹھنڈے فرش پر گرم آنسوؤں سے اٹھنے والی ’’سی سی‘‘ سنائی دیتی ہو۔ پر یہ شاید اس کا وہم تھا۔ بھلا مرد کہاں روتے ہیں ۔ وہ جو تمام رات اپنی سسکتی بیوی کے سرہانے پڑا سوتا رہا وہ بھلا کیسے رو سکتا تھا۔

پر وہ بھلا کل بھی کہاں سویا تھا۔ وہ تو ہر لمحہ اپنی بیوی کی اشکبار آنکھوں کو بوسے دینا چاہ رہا تھا۔ وہ تو گھنٹوں تلک اپنی باتوں سے اس کا دل بہلانا چاہتا تھا۔ یہ تو پندرہ گھنٹوں کی شفٹ سے اٹھنے والی تھکن تھی جو سو رہی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تھکن جو بے پروا تھی کمرے میں بھری ہوئی سسکیوں سے ،ڈھٹائی سے نظریں گاڑے چوہے سے ۔ تھکن جس نے اس آدمی کی طاقتور جبلت کو یوں دبا رکھا تھا جیسے کسی تجربہ کار شاہسوار کی رانوں تلے کوئی گھوڑا۔ تھکن جو اُسے اس غیر انسانی راستے پر چلائے جاتی تھی جہاں دوسری زندگیاں محض سنگِ میل ہوتی ہیں ۔ اور سنگِ میل لاکھ مفید سہی پر کوئی ان کے پاس رکا نہیں کرتا۔

وہ عجیب رات تھی۔ بہت بار کوئی دروازے سے لوٹ جاتا رہا۔ تمام رات کوئی سرد برآمدے میں ٹہلتا رہا۔ سیگرٹیں پھونکتا رہا۔ چوہا اپنی ساری لاچارگی کے باوجود اس سے ہمدردی رکھتا تھا۔ وہ اسے بتا دینا چاہتا تھا کہ ایسے سرد موسم میں باہر پھرنے سے وہ بیمار پڑ جائے گا۔ اسے چاہیے کہ وہ کمرے میں گرم بستر میں آ گھسے اور سو جائے ۔ صبح کو وہ یقیناً بہت بہتر انداز میں سوچنے کے قابل ہو جائے گا۔ بالکل یہی نصیحت اس شخص کے جسم پر اترتی تھکن بھی کئے جا رہی تھی مگر وہ بڑی ڈھٹائی سے برآمدے میں ٹہلتا رہا۔ اس کے قدموں میں سیگرٹ کی راکھ اور جلے ہوئے سیگرٹوں کے ڈھیر لگتے رہے اور بھوکا چوہا بستر میں گھسا اپنے سرد جسم کو تھوڑی حرارت پہنچانے کی کوشش کرتا رہا۔

نوجوان کمرے میں نہیں آیا۔ اس نے کسی کی بات نہیں مانی۔ وہ بیمار بھی نہیں پڑا اور پھر جب روشنی کی پہلی بوند اس کے چہرے پر پڑی تو اس نے نظر اٹھا کر آسمان کو دیکھا اور پھر جلدی سے صحن میں لگے واش بیسن پر منہ دھونے لگا۔ وہ شاید کہیں باہر جا رہا تھا۔ چوہا اب ایک اور دن کی بھوک برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ اس نے آخری چارا استعمال کرنے کا فیصلہ کر لیا اور تیزی سے دروازے سے جا ٹکرایا۔ کیا صحن میں منہ دھوتا نوجوان اس آواز پر چونکا ہو گا؟چوہا پھر ٹکرایا اور ٹکراتا ہی چلا گیا۔ لیکن کوئی نہیں آیا۔ شاید وہ اتنی آواز ہی پیدا نہیں کر پا رہا تھا کہ جو کسی کو متوجہ کر سکتی۔ یا پھر شاید نوجوان نے دروازے کی طرف دیکھا ہو اور بس نظر انداز کر دیا ہو جیسے اس نے کل رات چوہے کو کر دیا تھا۔ پھر بیرونی دروازہ بند ہونے کی آواز سنائی دی اور گھر میں سناٹا چھا گیا۔ دروازے سے مسلسل ٹکرانے کی وجہ سے چوہے کے سر سے خون کی پتلی سی لکیر نکل رہی تھی۔ اس کا دل بیٹھا جا رہا تھا اور وہ وہیں دروازے کے قریب ٹھنڈی زمین پر لیٹ گیا۔ شاید اس میں اتنی ہمت نہ رہی تھی کہ وہ بستر تک پہنچ سکتا یا پھر کل کے واقعے کے بعد وہ صاف چادر کو اپنے خون کے دھبوں سے خراب نہیں کرنا چاہتا تھا۔

چوہا ٹھنڈے فرش پر لیٹ گیا اور لوریاں سنانے والے قریب آ گئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اتنے قریب کہ اب ان کے بھونڈے چہرے دیکھنا بھی ممکن ہو رہا تھا۔

وہ گھر سارا دن سنسان رہا اور چوہا دروازے کے قریب پڑا ٹھٹھرتا رہا۔ بہت دفعہ وہ گہری نیند میں چلا گیا۔ ایسے میں اس نے ایک خوشبوؤں بھرے ریستوران کو دیکھا،اس نے خود کو گہرے پانیوں میں تیرتا محسوس کیا،کئی بار اسے اپنے اردگرد چاکلیٹ کے ادھ کھائے ٹکڑے دکھائی دیے اور جب شام گئے کمرے کا دروازہ کھلا تو وہ حرکت کرنے کی ہر Temptationکھو چکا تھا۔ وہ بس ساکت جسم اور پتھرائی ہوئی آنکھوں سے دو ہیولوں کو کمرے میں داخل ہوتے دیکھتا رہا۔ ہیولے جنہوں نے اس پر نظر ڈالی جھٹ گتے کے ایک ٹکڑے پر ڈال کر کوڑے کے ڈبے میں پھینک دیا۔ کوڑے کے ڈبے میں کھانے کی بے شمار چیزیں تھیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چیزیں جو دن بھر اس کے سامنے آ آ کر ناچی تھیں اور جنہیں چھو لینے کی سعی میں وہ نڈھال ہوتا رہا تھا۔ آج وہ ان کے بیچ پڑا تھا پر کسی یوگی کی طرح وہ ان سے اٹھتی ہر خوشبو سے بے نیاز ہو چکا تھا۔

وہاں سے کچھ دور نوجوان نے لڑکی کو اپنی بانہوں میں جکڑ رکھا تھا اور سرگوشی کے انداز میں کہہ رہا تھا۔

’’اس ایک دن کی جدائی نے تمہیں اور بھی خوبصورت بنا دیا ہے ۔ کتنا خوبصورت ہے یہ رشتہ جو توڑنے پر بھی ٹوٹ نہیں سکتا۔ میں تو کہتا ہوں کہ ہمیں کبھی کبھار ایسی لڑائی کر ہی لینی چاہیے ۔ ‘‘

لڑکی کچھ نہیں بولی مگر آج اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی اور آنکھوں میں ایک اعتماد تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گہرا اعتماد جو ایک محبت ہی ہمیں دے سکتی ہے ۔ وہ دونوں ایک دوسرے سے لپٹے کھڑے تھے اور جیسے ساری کائنات ایک آفاقی دھن پر ناچ رہی تھی۔ ساری کائنات حرکت میں تھی اور بس کوڑے کے ڈبے میں ایک جسم ساکت پڑا تھا۔ ایک جسم۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کوئی ساحر جس کی ساری دنیا سمیٹ کر لے گیا تھا اور وہ اتنا حیران تھا کہ رو بھی نہیں سکتا تھا۔

٭٭٭