کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی

سید اسد علی


اس عورت کی کہانی لکھنا آسان نہیں ہے جو سورج مکھی نہیں تھی۔ یا شاید کہانی صرف اسی عورت کی لکھی جا سکتی ہے جو سور ج مکھی نہ ہو۔ باقی عورتیں تو کہانیوں میں بس ویسے ہی در آتی ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بلا ضرورت صرف گلمیر کو بڑھانے کے لئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جیسے ہندوستان میں ایکشن فلموں کی ہیروئینز ہوتی ہیں ۔ کہانی میں ان کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔ وہ تو بس وہاں ہوتی ہیں ہیرو کو دلاسہ دینے کے لئے ، ہیرو کو غصہ دلانے کے لئے ، ہیرو کو محنت پر مجبور کرنے کے لئے ، ہیرو کو انتقام پر اکسانے کے لئے ، ہیرو کے گرد اچھل اچھل کر گانا گانے کے لئے ۔

مگر عورت صرف سورج مکھی نہیں ہوتی۔ یہ ایک ایسی ہی عورت کی کہانی ہے ۔ جو مچھیروں کی بستی میں رہتی تھی۔ جس کے دو بیٹے اور ایک چوڑے شانوں والا کم گو سا شوہر تھا۔ جو ایک کانوں سے بنی جھونپڑی میں رہتی تھی۔ یہ سب سچ تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ انہی سب چیزوں کے بیچ تھی مگر وہ ان چیزوں سے defineنہیں کی جا سکتی تھی۔ اسے ان چیزوں کی مدد سے سمجھا نہیں جا سکتا تھا۔ اگر اسے جاننا ہو تو ہمیں اس کے قریب ہونا پڑے گا۔ اور کسی کے قریب ہونا ہمیشہ riskyہوتا ہے ۔ مجھے کہنے دیں کہ ہم سب اپنے اندر ایک ایسا black holeچھپائے پھرتے ہیں ۔ ہربلیک ہول کی طرح اس کا بھی ایک event horizonہوتا ہے ۔ اس ایک نکتہ سے آگے اگر کوئی وجود چلا جائے تو پھر واپس نہیں آ سکتا۔ ۔ ۔ ۔ کبھی نہیں آ سکتا۔ لیکن کبھی کبھار آپ کو یہ خطرہ مول لینا پڑتا ہے کیونکہ کچھ عورتیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں آپ بس سمجھے بنا رہ نہیں سکتے ۔

تو وہ مچھیروں کی بستی میں رہتی تھی اور اپنے شوہر اور بچوں سے محبت کرتی تھی۔ وہ ایک سلیقہ مند عورت تھی۔ وہ ہمیشہ اپنے شوہر سے پہلے اٹھ بیٹھتی۔ چائے کو پانی گرم کرتی۔ اسی دوران اس کا شوہر اپنا جال اٹھا لیتا اور اس کے الجھے ہوئے گچھے کھولنے کی کوشش کرتا۔ وہ بڑے بیٹے کو اٹھا کر اس کا منہ ہاتھ دہلاتی، اس کے گھنگریالے بالوں میں کنگھی کرتی جس پر اس کی چیخ نکل جاتی ’’اتنے اندھیرے میں کون دیکھے گا اس کے بالوں کو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایسے ہی جانے دے ۔ ‘‘اس کا باپ اس کی طرف داری کرتا۔ مگر وہ کسی کی نہیں سنتی اور بال بنا کر رہتی۔ وہ دونوں اس کے پاس بیٹھ کر ناشتہ کرتے جبکہ چھوٹا بیٹا وہیں سویا رہتا۔ ناشتے کے بعد وہ دونوں باہر چلے جاتے ۔ ان کے جانے کے بعد اس کے کام شروع ہوتے ۔ وہ جانوروں کے لئے چارہ تیار کرتی، ان کا باڑا صاف کرتی، چھوٹے بیٹے کو اٹھاتی اسے کھانا کھلاتی،کپڑے دھوتی کھانا پکاتی اور ایسے ہی کاموں میں اس کا سارا دن گذر جاتا یہاں تک کہ دوپہر کو اس کا شوہر اور بیٹا بھی آ جاتے ۔ وہ لوگ سہ پہر کو سوتے ۔ شام کو دریا کنارے بیٹھ کر باتیں کرتے اور یوں ان کے دن گذر رہے تھے ۔

گو اس زندگی میں بہت گلیمر تو نہیں تھا مگر ایک عجیب سا توازن ضرور تھا۔ وہ ایک چھوٹے سے گھر میں رہتے تھے ۔ کوئی فرق نہیں پڑتا تھااگر وہ کوئی کام نہ بھی کرتی مگر وہ پھر بھی روز کے کام روز ہی کیا کرتی تھی۔ اسے لگتا تھا جیسے ایک چیز کو بھی چھوڑ دیا تو جیسے کوئی بہت اہم چیز رہ جائے گی۔ جیسے پوری زندگی کا مقصد فوت ہو جائے گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن اس سب کے باوجود اس کے دل میں ایک کسک سی تھی۔ وہ جب شام کو دریاکنارے بیٹھ کرشہر کی روشنیاں دیکھتی تو اس کے دل میں ایک ہوک سی اٹھتی۔ اس نے بچپن میں ایک دفعہ شہر کے بچے دیکھے تھے جو ایک کشتی میں بیٹھے دریا کی سیر کر رہے تھے ۔ وہ تب کنار ے پر کھڑی ایک چھڑی سے چھوٹی مچھلیوں کو پکڑنے کی کوشش کر رہی تھی۔ مچھلیاں جو چھڑی کو دیکھتے ہی ادھر ادھر ہو جاتی تھیں ۔ ایسے میں سکول کے یونیفارم میں ایک صاف ستھری بچی نے اس کی طرف دیکھا اور اپنے دوستوں کی توجہ اس کی طرف دلائی

’’وہ دیکھو ایک گندی بچی پانی سے کھیل رہی ہے ۔ ‘‘

’’اس کے بال تو دیکھو ایسے لگتا ہے جیسے جھاڑیاں اگی ہوں ۔ ‘‘ایک دوسری بچی بولی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور پھر آوازیں ابھرتی رہیں ۔ ریشماں کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ وہیں کنارے پر ہلکورے مارتے پانی میں گم ہو جائے ۔ انہی مچھلیوں کی طرح مٹی میں دبک کر بیٹھ جائے ۔ بچے بولتے رہے پراس نے سر نہیں اٹھایا اور اسی توجہ سے چھڑی کو پانی میں مارتی رہی۔ آوازیں بڑھنے لگیں ۔ آوازیں قریب آتی گئیں یہاں تک کہ اس نے سنا کہ کوئی کہہ رہا تھا ’’شاید بچی گونگی ہے تبھی تو ہماری آوازی سن نہیں پا رہی ہے ۔ ‘‘

’’اوہ گونگی بچی‘‘ کسی سمجھدار بچی نے آواز لگائی۔ ایک دفعہ تواس کے دل میں آئی کہ وہ ان بچوں کے سامنے گونگی ہی بن جائے ۔ ہاں یہی ان کے لئے ایک بہتر جواب ہو سکتا تھا۔ وہ یہی ظاہر کرے گی کہ اس نے کچھ سنا ہی نہیں اور اپنے کام میں مصروف رہے گی۔ پر ہم شیشے کے بنے ہوتے ہیں ۔ اس کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔

’’گونگی نہیں یہ میسنی ہے ۔ سب سن رہی ہے ‘‘۔ ایک اور آواز آئی۔ اور سب بچے کورس کی صورت اسے آوازیں دینے لگے

’’میسنی لڑکی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میسنی گونگی لڑکی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گونگی لڑکی‘‘ اور پھر آوازیں کہیں گم ہو گئیں پر اس میں سر اوپر اٹھانے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ وہ وہیں کھڑی رہی یہاں تک کہ شام کو اس کی ماں اسے آ کر لے گئی۔ اس دن اس کے دل میں بہت سارے سوالات تھے مگر وہ جانتی تھی کہ اس بستی میں اسے ان کے جوابات کبھی نہیں ملیں گے ۔ کوئی نہیں دے گا۔ یہ بستی شہر سے جتنی قریب نظر آتی تھی اتنی ہی دور تھی۔ یہاں سے بہت کم لوگ تھے جو شہر جاتے تھے اور وہ بھی محض مچھلی بیچنے اور ضرورت کی چیزیں خریدنے جاتے تھے اور یہاں کی کوئی عورت تو کبھی شہر گئی ہی نہ تھی۔ وہ پوچھتی تو کس سے ۔ خاموشی سے اپنے کونے میں لیٹ کر جھونپڑی کی چھت کو دیکھتی رہی جس میں ایک چھوٹا سا سوراخ تھا جس سے آسمان کا ایک ستارا نظر آتا تھا۔

’’مجھے بھی بس اتنا ہی چاہیے ۔ بس اتنا سا آسمان ہی چاہیے جس سے بس ایک ستارا نظر آ سکے ۔ میں شہرکے بارے میں جاننا چاہتی ہوں ‘‘

وہ شہر کے بارے میں تو نہ جان سکی لیکن اس نے چند ایک فیصلے ضرور کر ڈالے ۔ اس نے خود کو اتنا تبدیل تو ضرور کر لیا کہ اب کوئی اس کا مذاق نہیں اڑا سکے گا۔ وہ ہر وقت اپنے بال بنائے رکھتی، ہر وقت کسی کام میں مصروف رہتی۔ سال گزرتے گئے ۔ اس نے کئی مرتبہ اپنے بابا سے شہر جانے کی فرمائش بھی کی مگر وہ ہنس کر ٹال گئے ۔ وہ اسے بہت پیار کرتے تھے مگر پھر بھی شہر نہ لے جا سکے ۔

پھر ایک دن مراد احمدسے اس کا بیاہ ہو گیا۔ وہ ایک خوبصورت نوجوان تھا۔ ریشماں نے بھی سوچا کہ شاید اب اسے موقع مل سکے کہ وہ کسی طرح شہر جا سکے اور دیکھ سکے کہ لوگ کس طرح زندگی گذار رہے ہیں مگر مراد احمد تو اس کے باپ سے بھی کمزور نکلا۔ وہ ہمیشہ موضوع بدل دیتا۔ اب اس کے دو بیٹے ہو چکے تھے پر اب بھی اگر کوئی اس سے اس کی سب سے بڑی خواہش پوچھتا تو وہ شہر کی سیر ہی بتاتی۔

اس نے اپنی خواہش سے سمجھوتہ کر لیا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور آپ ایسا کر سکتے ہو۔ آپ اپنی خواہش سے سمجھوتہ کر سکتے ہو مگر یاد رکھو کہ خواہش کبھی آپ سے سمجھوتہ نہیں کرتی۔ خواہش وہ ضدی بچی ہے جو اپنی بات منوا کر رہتی ہے ۔ جو رونے سے شروع کرتی ہے اور ماں باپ کے نہ ماننے پر چلانے لگتی ہے ، گھر کی چیزیں توڑنے لگتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں ٹوٹنے والی چیزیں اس کے جسم میں رکھے وہ بڑے بڑے pillarsتھے جن پر اس کا جسم کھڑا تھا۔ وہ بچی ایک ایک کر کر pillarsگرا رہی تھی اور اسے ڈر تھا کہ وہ کہیں اندر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنے ہی اندر گر کر ٹوٹ نہ جائے ۔ اس کی یہ ٹوٹ پھوٹ کوئی نہیں دیکھ پا رہا تھا یا کوئی اسے دیکھنے کی کوشش نہیں کر رہا تھا۔

ہاں مگر عبدل نے اس کی یہ خواہش بھانپ لی۔ عبدل جیسے لوگ تو جیسے ایسے ہی موقع کے انتظار میں ہوتے ہیں ۔ وہ جیسے کوئی گدھ تھا جو صحرا میں چلتے شخص کو دیکھ کر اس کے ساتھ اڑنے لگا تھا۔ یہ سوچ کر کہ ابھی وہ شخص گرے گا اور جب وہ گرے گا تو اس کے دانت اس کے جسم میں پیوست ہونے کو بالکل تیار ہوں گے ۔ میں نہیں مانتا کہ گدھ صحراؤں میں ،بیابانوں میں رہتے ہیں ۔ ایسی جگہوں پرتو وہ بھوکے مارے جائیں ۔ نہیں جناب۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ گدھ آبادیوں کے آخری سرے پر رہتے ہیں اور جب ہم انہیں بے نیازی سے کسی خشک ہوتے ہوئے درخت کی ٹہنی پر بیٹھے دیکھتے ہیں تو کبھی سوچ بھی نہیں پاتے کہ وہ ہماری ہر حرکت پرنظر رکھے ہوئے ہیں ۔ جیسے ہی ہمارے قدم ان صحراؤں ، ان ویرانوں کی طرف اٹھتے ہیں ان کے خون میں ایک گرمی کی لہر دوڑ جاتی ہے اور پھر وہ آہستہ آہستہ، بہت محتاط انداز میں ہمارا تعاقب کرنے لگتے ہیں ۔ وہ کبھی اپنے شکار کو panicمیں مبتلا نہیں کرتے (مبادا وہ واپس ہی نہ مڑ جائے )اور بڑی شائیستگی سے اس کا پیچھا کرتے ہیں ۔ تو ہم انہیں کبھی دیکھ نہیں پاتے یہاں تک کہ دنوں کے سفر کے بعد ہم بھٹک جاتے ہیں اور پیاس سے ہمارے ہونٹوں پر پپڑی جمنے لگتی ہے اور آنکھوں کے سامنے سراب ناچنے لگتے ہیں اور ایسے میں ہم پہلی بار انہیں اپنے سر پر منڈلاتے دیکھتے ہیں ۔ ہاں مگر اب بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے ۔ وہ چاہتے تو اب بھی ہماری آنکھوں سے اوجھل رہ سکتے تھے مگروہ سامنے آتے ہیں تاکہ ہم اب panicہو جائیں اور اپنے جسم میں چھپی بچی کھچی طاقت کو استعمال کر ڈالیں ۔

تو ہم انہیں پہلی بار دیکھ پاتے ہیں اس وقت جب ہماری آنکھیں ٹھیک طرح سے دیکھنے کے قابل نہیں رہتیں ۔ وگرنہ تو وہ شہر سے ہی ہمارے ساتھ چلے تھے ۔ اگر شہر سے نکلتے ہوئے ہم تھوڑی دیر کو اپنی خواب آور آنکھوں کو بند کر سکتے تو ہم بڑی آسانی سے انہیں دیکھ سکتے تھے ۔ پر ہم ایسا نہیں کرتے ۔ ہم انہیں نہیں دیکھ پاتے ، دیکھتے بھی ہیں تو سمجھ نہیں پاتے اور چند بیوقوف پرندے جان کر آگے چلتے رہتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کاش کہ مسافر یہ جان سکتے کہ گدھ ہرمسافر کے ساتھ سفر نہیں کرتے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ جانتے ہیں ۔ ہمارے چہروں پر لکھی موت کو پڑھ سکتے ہیں ۔ جیسے تمہیں اللہ نے زندگی دیکھنے کی طاقت دی ہے اور تم چیزوں کو دیکھ کر جان لیتے ہو کہ کیسے زمین کی کوکھ میں پھینکا گندم کا دانہ تمہیں خوراک دے سکتا ہے ، کیسے چیڑھ کے سینکڑوں فٹ اونچے پیڑ پر لگی کون کے اندر طاقت بخشنے والے چلغوزے رکھے ہیں ۔ جیسے تم زندگی کو جان لیتے ہو ایسے ہی ان میں موت کو دیکھنے کی طاقت رکھ دی گئی ہے ۔ کہتے ہیں کہ موت زندگی بھر ہمارے ساتھ ساتھ چلتی ہے ۔ اس بچے کی طرح بھاگ بھاگ کر جو میلے میں جاتے ہوئے باپ کے ساتھ قدم ملانے کی کوشش کرتا ہے اور اپنے چھوٹے قدموں کی وجہ سے پہنچ نہیں پاتا۔ بس چند قدم پیچھے چلتا رہتا ہے ۔ پر جب میلہ آ جاتا ہے تو وہ بے اختیاری میں باپ سے بھی تھوڑا آگے نکل جاتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو موت بھی اس آخری لمحہ میں بے خودی کے عالم میں ہم سے کچھ آگے نکل جاتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ گدھ اسے دیکھنے کی طاقت رکھتے ہیں ۔

تو ریشماں کو کچھ کہنے کی ضرورت نہیں پڑی اور عبدل نے جان لیا۔ گدھ نے پروں کے بیچ سے ایک لمبی گردن نکال کر دیکھا اور اپنے مسکن سے اڑکر آسمان پرماورائی formationمیں اڑنے لگا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جیسے celebrateکر رہا ہو۔ عبدل کسی نہ کسی بہانے سے ریشماں کو ملنے لگا۔ وہ اتنا بیوقوف نہیں تھا کہ اپنے شکار کو بوکھلا ڈالتا اس لئے بڑے بے ضرر سے انداز میں ملتا رہا۔ جیسے ایک مرتبہ جب ریشماں ارسلان کے ساتھ دریا کی طرف جا رہی تھی تو وہ سامنے سے آ گیا اور ارسلان کو پیار کرنے لگا۔ اس نے جیب سے پلاسٹک کی ایک موٹر گاڑی نکال کرارسلان کو دی

’’میں شہر سے لایا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کھیلو گے اس سے ؟‘‘

ارسلان نے استفہامیہ نظروں سے اپنی ماں کی طرف دیکھا

’’کیوں یہ کیوں کھیلے ایسی چیز سے جو اس ملنے ہی نہیں والی؟‘‘اس کے لہجے میں قطعیت تھی۔

’’کیوں نہیں مل سکتی؟کون کہتا ہے نہیں مل سکتی؟میں خود کئی بار موٹر پر بیٹھ چکا ہوں ۔ یہ تو ہمارے گاؤں کے لوگ یہاں سے نکلتے ہیں نہیں وگرنہ شہر کوئی آسیب نہیں ہے ۔ ‘‘عبدل بولا

’’ہاں جیسے میں تیر ی بات پر یقین کر لوں گی۔ بھلا پھر تو واپس کیوں آ جاتا ہے ؟‘‘ریشماں نے سوال کیا۔

’’وہ تو اور بات ہے ۔ میں کسی اور وجہ سے واپس آتا ہوں ورنہ شہر میں رہنا چاہوں تو ہمیشہ رہ لوں ۔ ‘‘

’’اور وہ اور بات کیا ہے ؟‘‘

’’کیوں تو پوچھ کے کیا کرے گی؟‘‘

’’یہاں کوئی ہیرے جواہرات تو دھرے نہیں تو جن کی تلاش میں آتا ہے ۔ مجھے تو لگتا ہے کہ تو جھوٹ بولتا ہے ۔ دوسرے کنارے پر جا کر تیری بھی ٹانگیں کانپنے لگ جاتی ہوں گی۔ ‘‘

’’وہ تو میں جو بھی کہ لوں تجھے یقین نہیں آئے گا۔ سچ کیا ہے اگر جاننا ہے تو چل میرے ساتھ۔ دوسرے کنارے پر اترتے ہیں تو دیکھے گی کہ میری چال ہی بدل جائے گی۔ میری اصل جگہ وہیں ہے یہاں تو بس میں کسی اور وجہ سے آتا ہوں ۔ ‘‘ اس نے آنکھ کا کونا دبایا۔

’’ایسے نہ کیا کر لفنگا نظر آتا ہے ۔ ‘‘ریشماں نے چڑ کر کہا۔

’’اس کا مطلب کہ اس کے بغیر میں لفنگا نظر نہیں آتا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اوہ پھر تو موجیں ہی ہو گئیں ۔ ‘‘وہ مسکرایا اور پھر سے آنکھ ماری۔

’’چل ! راستہ چھوڑ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لفنگا لفنگا ہی رہتا ہے جو مرضی کر لے ۔ ‘‘ریشماں ارسلان کو لئے آگے بڑھ گئی۔ وہ راستہ چھوڑ کر پیچھے ہٹ گیا۔ ہاں مگر گذرتے ہوئے اس نے وہ گاڑی ارسلان کے ہاتھ میں تھما دی۔ ارسلان نے اپنی کسی حرکت سے ظاہر نہیں ہونے دیاکہ گاڑی اسے مل چکی ہے ۔ وہ کچھ کہتا تو اس کی ماں فوراً اسے واپس کرنے کو کہہ سکتی تھی۔ وہ چپکے سے چلتا رہا اور جب اس کی ماں دریاکنارے ریت پر جا بیٹھی تو ارسلان نے گاڑی نکال کرریت پرکھیلنا شروع کر دیا۔ کھیل کھیل میں اسے پتہ نہیں چلا کہ کب ریشماں اس کے قریب آ کر اسے دیکھ رہی تھی۔ ارسلان نے بیچارگی سے کہا

’’ماں مجھے گاڑی سے کھیلنا ہے ‘‘

یہ بڑی چھوٹی سی بات تھی مگر یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہی ہوتی ہیں جو ہم سے بڑے بڑے فیصلے کروا دیتی ہیں ۔ اس وقت تو ارسلان خوش تھا مگر بعد میں اسے ہمیشہ یہ لگا کہ اس کی ماں کو اس پار دھکیلنے میں سب سے بڑا ہاتھ اسی کا تھا۔

عبدل ریشماں کا راستہ روکتا رہا۔ اس جیسے لوگ اتنی آسانی سے پیچھا نہیں چھوڑتے اور پھر ایک دن جب ارسلان دریا کنارے کنڈی ڈالے مچھلی پکڑنے کی کوشش کر رہا تھا اس نے دیکھا کہ اس کی ماں عبدل کی کشتی میں شہر کی طرف جا رہی تھی۔ اس نے چہرہ دوپٹے میں چھپا رکھا تھا مگر ارسلان سمجھ گیا کہ وہ ریشماں ہی تھی۔ عبدل کے چہرے پراس دن ایک فاتحانہ مسکراہٹ تھی۔

ریشماں خاموشی سے اس کشتی میں بیٹھی تھی۔ عبدل بھی کچھ نہیں بولا۔ وہ آج ضرورت سے زیادہ behaveکر رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ مچھلی جال میں آ گئی ہے اب ذرا سی جلد بازی سے وہ باہر نکل جائے گی۔ اس لئے وہ خاموشی سے کشتی کو چلاتا ہوا کنارے سے دور لے گیا۔ ایسے میں ریشماں کی نظر دور کنارے پرکنڈی ڈالے ارسلان پرپڑی اور وقت جیسے رک سا گیا۔ وہ کہنا چاہتی تھی کہ واپس چلو پر جانتی تھی کہ اس کے کہنے پر بھی اب کشتی واپس نہیں جا سکے گی۔ اس کے سامنے اب دو راستے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شہر یا دریا کی گود۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور یہ فیصلہ اتنا آسان نہیں تھا اس لئے وہ خاموش بیٹھی رہی۔ ارسلان سے پرے سرکنڈوں میں غل مچاتے سوروں کے ریوڑ کو دیکھتی رہی اور کشتی دریا کے دوسرے کنارے اتر آئی۔

اس نے شہر دیکھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دیکھ کر بھی نہیں دیکھا۔ کتنی عجیب بات ہے کہ ایک چیز کے لئے آپ اتنی بڑی قربانی دیتے ہو، خود کو اتنے بڑے خطرے میں ڈالتے ہو اور وہ چیز سامنے آتی ہے تو جیسے کسی چیز کا کوئی مطلب نہیں رہتا۔ عبدل ایک اچھے گائیڈ کی طرح اسے شہر کے گلی کوچے دکھا رہا تھا۔ چیزوں کے بارے میں تفصیل بتا رہا تھا۔ وہ جیسا بھی تھا کم ازکم شہر کے بارے میں جانتا ضرور تھا۔ اس نے اسے کچھ چیزیں بھی کھلائیں ۔ ۔ ۔ ۔ چیزیں جن کے کے لئے شاید ابھی اس کے منہ میں tastebudsبھی developeنہیں ہوئے تھے ۔ پر میں آپ کو بتا دوں کہ اس نے شہر میں کچھ بھی نہیں دیکھا۔ وہ اس کنارے پر اتری تو اس نے ایک چھوٹا بچہ دیکھا جو چھوٹا سا ٹرے اٹھائے شہر کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اس کے سر پر ٹوپی تھی اور وہ لوگوں کے پاس جا جا کرانہیں شاید کچھ خریدنے کو کہہ رہا تھا۔ نجانے کیوں اسے لگا جیسے ارسلان یکدم اپنی عمر سے کئی سال بڑا ہو گیا ہو اور یہاں شہر میں ٹوپی سر پر ڈالے کچھ بیچتا ہو۔ بہت ممکن ہے کہ کسی دوراہے پر وہ اس کی نگاہوں سے اوجھل بھی ہو گیا ہو آخر وہ کوئی اس کی طرح شہر گھومنے کو تو نہیں نکلا تھا لیکن ریشماں تمام راستہ اسے دیکھتی رہی۔ تمام شہر ایک چھوٹے سے بچے کی پشت پیچھے چھپ گیا اور جب عبدل نے شام سے ذرا پہلے کشتی میں بیٹھتے ہوئے اس سے پوچھاکہ تمہیں شہر کیسا لگا تو وہ بے اختیار کہنے لگی

’’شہر میرے ارسلان جیسا ہے بس اس نے ٹوپی پہن رکھی ہے ۔ ‘‘عبدل نے بیوقوفوں کے انداز میں سر ہلا دیا اور کشتی کو گاؤں کی طرف لے جانے لگا۔ اس کنارے پر پہنچ کر ریشماں کھوئے کھوئے انداز میں اٹھی اور اپنے گھر کی طرف چل پڑی۔ اس نے مڑ کر عبدل کی طرف دیکھا بھی نہیں ۔ گھر کی طرف چل پڑی۔

ارسلان وہ سارا دن دریا کنارے ہی بیٹھا رہا تھا۔ اس کی کنڈی زور زور سے ہلتی رہی لیکن اس نے اسے باہر نکالنے کی کوشش بھی نہیں کی۔ ریشماں کو واپس آتے دیکھ کر وہ بھی میسمرائیزڈ سے معمول کی طرح اس کے پیچھے چل رہا تھا۔ ڈوری اس کے ہاتھ میں تھی اور اس کے سرے پر ایک بڑی مچھلی ٹنگی تھی۔ مچھلی  اس کے ساتھ ساتھ گھسٹتی رہی۔ ۔ ۔ ۔ پتھروں سے ٹکراتی رہی،جھاڑیوں سے الجھتی رہی یہاں تک کہ وہ گھر پہنچ گیا۔

ریشماں گھر پہنچی تو وہاں پر کوئی نہیں تھا۔ اس نے دوپٹہ اتار کر کھونٹی سی لٹکایا اور پانی کا گلاس پینے لگی۔ پانی پی کر مڑی تو دیکھا کہ ارسلان دروازے پر کھڑا اسے دیکھ رہا ہے ۔ وہ کچھ بولا نہیں بس قریب آ کر اس نے اپنی ڈوری اسے تھما دی۔ ڈوری کے دوسرے سرے پر ایک بڑی مچھلی بندھی تھی۔ وہ اتنی بڑی تھی کہ اگر عام حالات میں ارسلان کو ملی ہوتی تو وہ اب تک چیخ چیخ کر پورے گاؤں کو اکٹھا کر چکا ہوتا مگر اب اس نے آہستگی سے ڈوری اپنی ماں کو تھما دی اور خود جا کر ایک کونے میں بیٹھ گیا۔ ریشماں نے ڈوری کو لپیٹ کر طاق میں رکھا اور مچھلی کو صاف کرنے لگا۔ دونوں نے کوئی بات نہیں کی یہاں تک کہ اس کا باپ بھی واپس آ گیا۔

اس رات بادل بہت زور سے گرج رہے تھے ۔ دریا کی پھنکاریں یہاں تک سنائی دی رہی تھیں ۔ ریشماں کو لگا کہ تقدیر جیسے اسے ایک موقع دے رہی ہے ۔ اسے بلا رہی ہے کہ آؤ تمہیں اپنے بازؤں میں چھپا لوں ۔ تم بہت دور نکل گئی ہو۔ اس سے پہلے کہ کوئی جانے ایک راستہ اب بھی کھلا ہے ۔ وہ راستہ جہاں سب عیب چھپا لیے جاتے ہیں ۔

اور یہ راستہ ہمیشہ ہمارے سامنے کھلا رہتا ہے ۔ شروع شروع میں ہم اس پر ہنستے ہیں ۔ بچپن میں ہم سوچ بھی نہیں پاتے کہ لوگ خود کشی کیسے کر سکتے ہیں مگر پھر وقت ہمیں ایسے مقام پر لے آتا ہے جہاں ہم کم از کم سمجھنے لگتے ہیں ۔ ان لوگوں کے لئے ہمارے دل میں اگر ہمدردی نہیں تو کم از کم ایک احساس تو ضرور ہی پیدا ہو تا ہے لیکن پھر بھی ہمیں لگتا ہے جیسے یہ راستہ ہمارے لئے نہیں ہے ۔ اور پھر کچھ ہوتا ہے ۔ ہم کوئی حد پار کر جاتے ہیں اور واپس لوٹ آ نا چاہتے ہیں ۔ یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر راستہ واپس نہیں آ سکتا۔ ہم آگے جانے کی ہمت نہیں رکھتے اور واپس لوٹنا مقدر نہیں ہوتا۔ ایسے میں یہ راستہ ہمارا واحد دوست بن کر سامنے آتا ہے اور ہم اس کی طرف کھچے چلے جاتے ہیں ۔

پہلے کبھی رات میں اگر بجلی کڑکتی تھی تو ارسلان اپنی ماں کا بازو پکڑ کر اس کے قریب ہو جاتا تھا۔ آج وہ سو تو اسی کے ساتھ رہا تھا مگر اس نے حتیٰ الامکان خود کو اپنی ماں سے دور کر رکھا تھا۔ ایسے میں بجلی کڑکی تو ریشماں نے ارسلان کو تھام لیا کہ کہیں وہ ڈر نہ رہا ہو مگر وہ ویسے ہی لیٹا رہا۔ کچھ نہیں بولا اور یہ آخر ی تنکا تھا۔ ریشماں خاموشی سے بستر سے اٹھ کھڑی ہوئی اور دروازے سے باہر نکل گئی۔ وہ دریا کی طرف چلنے لگی۔ بارش نے ایک لمحے میں ہی اسے بھگو دیا مگر وہ رکی نہیں ۔ وہ دریا کے قریب پہنچی تو ایک لمحے کو تو خوفزدہ ہو گئی۔ یہ وہ دریا نہیں تھا جسے وہ بچپن سے جانتی تھی۔ ۔ ۔ ۔ دریا جو ان کی بستی کے کنارے بہتا تھا۔ یہاں تو ہر سمت پانی ہی پانی تھا۔ سمجھ نہیں آتی تھی کہ دریا کہاں سے شروع ہوتا ہے اور کہاں ختم۔ شہر کی تمام روشنیاں بھی بجھی تھیں ۔ کیا خبر وہ شہر ڈوب گیا ہو کیونکہ وہاں ہر طرف اندھیرے کا راج تھا۔ اگر شہر ڈوب جاتا ہے تو اس کے جر م کے سارے نشان بھی مٹ جاتے ہیں ۔ اس نے سوچا۔ پھر خو د کو ملامت کرنے لگی۔

’’میں شہر کے ڈوبنے کا سوچ بھی کیسے سکتی ہوں ۔ ‘‘اس کی آنکھوں کے سامنے ٹوپی پہنے ایک لڑکا گھومنے لگا۔ وہ اپنی جگہ رکی رہی اور پھر تقدیر اس کی مدد کو آ گئی۔ مہربان دریا نے کہا کہ اگر تم فیصلہ نہیں کر پا رہی تو چلو میں ہی تمہاری مدد کو آ جاتا ہوں ۔ اس کے قد سے لمبی پانی کی ایک باڑ آئی اور سردی جیسے اس کے ہر مسام سے جسم میں داخل ہو گئی۔ آخر ی سوچ جو اس کے دل میں ابھری وہ اس باڑ سے بھی بڑی تشکر کی ایک لہر تھی۔ وہ ڈوب رہی تھی، غوطے کھا رہی تھی اور شکر گذار تھی۔

٭٭٭