کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے

سید اسد علی


سچ ہمارے لئے ایک چیستاں رہا تو صرف اس لئے کہ ہم نے اسے ہمیشہ ایک objectکے طور پر لیا ہے ۔ ہم نے اس کی پرستش کی ہے ،اس کی خاطر سولی پر چڑھے ہیں ،اس کے نام پر لاکھوں کو تاراج کیا ہے ،اس کی حسرت میں زندگیوں کو رائگاں کیا ہے ۔ سچ ایک نہ سمجھ میں آنے والی پراسرار دھن بجاتا pied piperرہا اور ہم آنکھیں بند کئے چوہوں کی طرح اس کے پیچھے پیچھے چلتے اپنے مسکن سے بہت دور آ گئے ۔ پر سچ اس لئے تو نہیں ہوتا۔

سچ تو کوئی objectکبھی تھا ہی نہیں ۔ سچ تو ہمارے اندر کی روشنی تھی جسے مالک نے دنیا دیکھنے کے واسطے ہمیں دیا تھا۔ آخر وہ اتنے بڑے اندھیرے میں ہمیں بغیر تیاری کے کیسے پھینک دیتا۔ تو سچ ہم ہیں مگر دنیا میں کہیں کوئی آفاقی سچ نہیں ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایسا سچ جو کسی اوڑھنی کی طرح ساری نوعِ انسانی کے جسم کو ڈھانپنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ ایسا سچ کہیں نہیں ہے ۔ یہاں میرا سچ ہے ، تیرا سچ ہے ، اس کا سچ ہے مگر کوئی ہمارا سچ نہیں ہے ۔ ہم غلطی کرتے ہیں تو بس اتنی کہ اپنے سچ کی گٹھڑی دوسروں کے سر لادنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنی طاقت، اپنے ایمان اور اپنے جذبے کے بل بوتے پر اور یہیں سے ساری خرابی جنم لیتی ہے ۔

بہت اندھیری رات ہے ۔ اتنی اندھیری کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا۔ اور ایسے میں ہم سیاہ کار اپنی اپنی کنجِ عافیت سے نکلتے ہیں (یا ہمیں باہر دھکیل دیا جاتا ہے )۔ اب ایک نہ سمجھ میں آنے والی،نہ دکھائی دینے والی دنیا ہمارے سامنے ہے ۔ ہمیں بھٹکتے ، گرتے پڑتے لوگوں کی کراہیں سنائی دیتی ہیں ،بڑے بڑے کانٹے اور پتھر ہمارے پیروں کا امتحان لیتے ہیں ، بھیڑیوں کی دیوانہ وار Howlingہمیں وہلائے دیتی ہے اور ایسے میں موت کے خوف سے لرزتے ہم سہمے ہوئے لوگ اس ذاتِ کریم کو پکارتے ہیں

 "Eli, Eli, lama sabachthani? (My God, my God, why hast thou forsaken me?)"

اندھیرے میں اتنی دعائیں گونجتی ہیں کہ وہ مجسم ہو جاتی ہیں اور ترحم انگیز نظروں سے اپنے لوگوں کو دیکھتی ہیں ۔ پھر ایک ابدی مسکراہٹ کے جلو میں صدا گونجتی ہے

’’ہم کسی روح پر اس کی استطاعت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتے ‘‘

خدا کی ذات سب جاننے والی اور ہر شئے پر حاوی ہے ۔ وہ جو طوفانِ نوح سے پہلے کشتی تیار کرنے کا حکم دیتا ہے ،وہ ذات جس کے علم کے سمندر کی اِ ک بوند خضر کو ملتی ہے تو وہ اس بچے کو مار ڈالتا ہے جس نے جوان ہو کر ماں باپ کو تکلیف پہنچانی تھی۔ وہ ذات بھلا کیسے ہمیں اندھیروں میں بھٹکنے کو چھوڑ سکتی ہے ۔ تو وہ خود اپنی مسند چھوڑ کر ہمارے دل میں اتر آتا ہے اور ہمارا دل روشن ہو جاتا ہے ۔

"Allah is the Light of the heavens and the earth. The Parable of His

Light is as if there were a Niche and within it a Lamp: the Lamp

enclosed in Glass: the glass as it were a brilliant star: Lit from a

blessed Tree, an Olive, neither of the east nor of the west, whose oil

is well-nigh luminous, though fire scarce touched it: Light upon Light!

Allah doth guide whom He will to His Light: Allah doth set forth

Parables for men: and Allah doth know all things."

(24:35)

 

ہمارے اندر سے پھوٹتی یہ روشنی ہمارے اردگرد کی دنیا کو ہمارے لئے کم ہولناک بنا دیتی ہے ۔ درندے ا ب بھی دھاڑتے ہیں ، نہ نظر آنے والے خون آشام پرندوں کی پھڑپھڑاہٹیں ہم اب بھی سنتے ہیں لیکن ہمارے اردگرد جو یہ روشنی کا ہالہ بن جاتا ہے یہ ہمیں پرسکون کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ ہم بھی کتنے عجیب ہیں ۔ ہم اپنے دل میں اچھی طرح جانتے ہیں کہ لاکھوں نوری سالوں تک ہمارے چھ جہات میں اندھیرا بکھرا ہے مگر ہم مطمئن ہیں کہ ہمارے اندر کی روشنی سے یہ چند مربع گز کی زمین تو منور ہے ۔ ہم اس پر خداوند تعالی کے شکر گذار ہوتے ہیں اور وہ ذاتِ بابرکت ہمارے اس شکر پر مسکراتی ہے اور فخر سے ملائکہ کی طرف دیکھتی ہے ۔ دیکھو یہ میرے شکر گذار بندے اس حالت میں بھی میرا شکربجا لا رہے ہیں ۔ میں ان کے لئے خوبصورت جنت کی تخلیق کروں گا جسے حوروں اور بہنے والے پاکیزہ دریاؤں سے بھر دوں گا۔ ایسی جنت جس میں کسی کے لئے نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ حزن سے دوچار ہو گا۔

تو ہم اپنی محدود روشنی ، اپنے محدود سچ سے دنیا کو دیکھتے ہیں اور یہی محدود سچ ہماری دنیا ہے ۔ ایک طرح سے دیکھیں تو یہی محدود سچ ’’ہم‘‘ہیں اور ’’ہمارا خدا‘‘ہے ۔ ہر انسان کے لئے ایک سچ ہے اور وہی سچ اس کی کائنات ہے اور ہم اس کائنات سے اوپر نہیں اٹھ سکتے ۔

’’اگر تم میں طاقت ہے تو پھر کائنات کی حدوں سے باہر نکل جاؤ مگر تم ایسا نہیں کر پاؤ گے ۔ ‘‘

تو حقیقت یہی ہے کہ ہم اپنے سچ سے اوپر نہیں اٹھ سکتے ۔ جیسے کہ خدا نے کچھ لوگوں کو جنت کے لئے بنایا اور کچھ لوگوں کو جہنم کے لئے ۔ ہر ایک کے لئے ان کا اپنا سچ ہے ۔ ہم شیطان کو جنتی بننے پر مجبور نہیں کر سکتے (جب خدا نے نہیں کیا تو ہماری کیا بساط ہے ؟)۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پر کس نے کہا کہ اسے جنتی بنانا مقصود بھی ہے ۔ جنت ودوزخ مدعا و منتہا نہیں ہیں ۔ اور خدا چاہتا تو وہ سبھی کو ہدایت دے دیتا اور جنت میں لے جاتا مگر یہ اس کا طریقہ نہیں ہے ۔ اصل امتحان جنت ودوزخ سے ماورا ہے ، خیر وشر سے پرے ہے ۔ مخلوق کا اصل امتحان عرفانِ ذات ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خود کو پہچاننا ہے ، پھر اس پہچان کو ماننا ہے ، پھر مان کر عمل کرنا ہے اور پھر عمل کے نتائج کو برداشت کرتے ہوئے شکر کرنا ہے ۔ عرفانِ ذات کی تکمیل انہیں چار مدارج کے ذریعے سے ہوتی ہے ۔ یہی مخلوق کے کرنے کے کام ہیں ۔ باقی سب کاموں کا ذمہ خالقِ تقدیر نے اٹھا رکھا ہے اور ان کی تکمیل ویسے بھی ہماری دسترس سے باہر ہے ۔

پر یہ سادہ سی بات آسان نہیں ہے ۔ فرض کیجئے کہ آپ خود کو پہچاننے پر قادر ہو جاتے ہیں اور آپ ان میں سے ہو جنہیں جہنم کے لئے تخلیق کیا گیا ہے ۔ کیاآپ اپنی اس حقیقت کو مان پاؤ گے ؟ ہم سب جب اپنی کھوج میں نکلتے ہیں تو دراصل ہم اس کھوج کے ذریعے اپنے نفس کو دنیا کی سب سی اونچی مسند پر بٹھا دینا چاہتے ہیں ۔ اور بھول جاتے ہیں کہ ہم تو مخلوق ہیں اور خالق نے ہمیں اس لئے تو نہیں بنا یا کہ ہماری پوجا کی جائے ۔ ہماراایک مقصد ہے ۔ ۔ ۔ ۔ یقیناً ایک مقصد ہے اور وہ محترم بھی کہ ہمارے خالق کی عنایت ہے ۔ لیکن ہم سب کی تخلیق کا مقصد ایک تو نہیں ہے ۔ آپ اپنے کمرے پر نظر دوڑایئے ۔ آپ کو بہت سی چیزیں ملیں گی۔ کمرے میں رکھی ہر چیز ایک مفید مقصد کے لئے ہے مگر ہر چیز سونا تو نہیں ہو سکتی۔ اگردنیا کی ساری خوراک سونا بن جائیں تو کیا ہم پہلے سے زیادہ سکھی ہو جائیں گے ۔ جب ہم بھوک کی شدت سے دم توڑتے ہوں گے تو ہمیں گندم کے دانے کی قدر محسوس ہو گی۔

ہم کیا ہیں ؟ یہ جاننا شاید اتنا مشکل نہ ہو مگر یہ ماننا بہت مشکل ہے ۔ شیطان کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ عمر بھر کی ریاضت کے بعد اس نے ایک مقام حاصل کر لیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک ایسی رکاوٹ عبور کر لی جو اس کی نوع کے لئے خواب سے بھی بڑھ کر تھی۔ وہ خدا کے مقربین میں شامل ہو گیا۔ یہاں اگر وہ یہ سمجھتا تھا کہ اس نے منزل کو پا لیا تو وہ یکسر غلط تھا۔ عشق کی راہوں پر کوئی منزل نہیں ہوتی۔ صرف راستہ ہوتا ہے اور راستہ بھی ایسا جو ہر قدم دشوار ہوتا جاتا ہے ۔

اور اسے بھی ایک ایسے ہی امتحان میں لا پھینکا گیا۔ بنا سوچے سمجھے اطاعت کا حکم ہوا۔ وہ مانتا تو اپنی سرشت سے غداری کا مرتکب ہوتا اور نہ مانتا تو بغاوت کا۔ مولانا روم فرماتے ہیں کہ 

"When a master places a spade in the hand of a slave,

The slave knows his meaning without being told."

شیطان کے ہاتھ میں بیلچہ(عقل ،شعور، منطق، پرکھ، علم)تو مالک نے بہت پہلے تھما دیا تھا۔ وہ قعرِ مذلت کا باسی تھا۔ ایسے دیس میں رہتا تھا جہاں ہر سمت گناہ، سیاہ کاریوں اور برائیوں کے غلغلے تھے ۔ ایسے میں اس نے اپنے بیلچے کو استعمال کیا اور اپنے لئے ایسی راہ تخلیق کی جو اسے سیدھی خدا تک لے آئی۔ وہ ہزاروں برس تک عبادت کی جس بھٹی میں جل کر اس مقام تک آ پہنچا تھا وہ یکایک غیر متعلق ہو گئی۔ اس کا سارا پرانا مقام،اس کی ساری عبادت،ساری ریاضت اسے غیر اہم نظر آنے لگی کیونکہ وہ اب ان ملائکہ میں بود و باش رکھتا تھا جنہیں گناہ کا احساس بھی چھو کر نہیں گذرا تھا۔ جن کا ہر سانس بارگاہِ الہی کے لئے شکر سے بھر ا تھا۔ وہ ایسے میں کیا کرتا؟اس کے دل میں اگر کوئی سوال بھی اٹھتا تو اسے خوف محسوس ہوتا کہ کہیں وہ گناہ کا مرتکب تو نہیں ہو رہا۔ اور پھر اسے ایک امتحان میں ڈال دیا گیا۔ امتحان بھی ایسا کٹھن کہ وہ ملائکہ جو خدا کے ہر حکم کو بلا چون و چرا بجا لاتے تھے وہ بھی سوال کرنے پر مجبور ہو گئے

"Behold, thy Lord said to the angels: "I will create a vicegerent on earth." They said: "Wilt Thou place therein one who will make mischief therein and shed blood?- whilst we do celebrate Thy praises and glorify Thy holy (name)?" He said: "I know what ye know not ."(2:30)

جن کے اعتراضات کو دور کرنے کے لئے خدا کو آدم کو ناموں کا علم دینا پڑا۔ ایسے میں شیطان کیا کرتا؟اس کی سرشت، اس کا علم، اس کی منطق، اس کا دل سب گواہی دے رہے تھے کہ یہ سجدہ اسے جائز نہیں ہے ۔ پر سجدہ نہ کرنے کا مطلب خدا کی حکم عدولی تھا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں شیطان کائنات میں اپنے مقام کو پہچان جاتا ہے ۔ وہ جو ہزاروں برس کی عبادت اور جستجو کے بعد بھی خود کو پہچان نہ سکا آج وہ خود کو پہچان لیتا ہے اور جان جاتا ہے کہ خدا نے کیوں اس کی تخلیق کی۔ اور بڑا دل چاہیے ہوتا ہے اس realizationکے لئے بھی۔ ہم میں سے کتنے ہیں جو اپنے اندر بیٹھے evilکو دیکھ لیتے ہیں ۔ ہم جانتے ہیں کہ ہم اسے اپنے اندر سے نکال نہیں سکتے کیونکہ وہ ہمارا حصہ ہے مگر ہم پھر بھی آنکھیں بند کر لیتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ تقدس کی کسی موٹی سی ردا سے خود کو ڈھانپ لیں تاکہ نہ تو کوئی اور نہ ہی ہم خود اپنے اندر کے شر کو دیکھ سکیں ۔

مگر شیطان ہم سے بہادر نکلا۔ اس نے خود کو جانا اور مان لیا۔ وہ مسکرایا اور اپنی ساری عمر کی متاع کو مٹی میں ملا کر حکم ِ خداوندی کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ ایک اور امتحان کی بھٹی میں جلنے کے لئے تیار ہو گیا۔ خدا نے اسے مردود کہا تو وہ بے عملوں کی طرح ڈھے نہیں گیا۔ اس نے خود کو پہچان کر نہ صرف مان لیا بلکہ اس مقصد کے لئے عمل پر بھی تیار ہو گیا اور بولا

 "He said: "Give me respite till the day they are raised up."

Allah said: "Be thou among those who have respite."

He said: "Because thou hast thrown me out of the way, lo! I will lie in wait for them on thy straight way:"

(7:14-16)

خداوند تعالی نے اسے مہلت دی اور یوں سارا کھیل شروع ہو گیا۔ مجھے یقین ہے کہ جب یہ ساری بساط لپیٹ دی جائے گی اور جنت و دوزخ کا فیصلہ ہو گا تو شیطان کو جہنم کے سب سے گہرے گڑھے میں ڈال دیا جائے گا اور اس کا عذاب سب سے سخت ہو گا۔ پر پتہ نہیں کیوں مجھے یہ بھی لگتا ہے کہ وہ پھر بھی خدا کا شکر بجا لائے گا کہ خدا نے اسے وہ کام کرنے کی توفیق عطا فرمائی جس کے لئے اس کی تخلیق کی گئی تھی۔

یہ ہے شیطان کا سچ۔ ہمارا سچ مگر کچھ اور ہے ۔ ہمارے لئے شیطان مردود اور لعین ہے ۔ وہ ہمیں راہ سے بھٹکانے پر تلا ہے ۔ ہمارا سچ کچھ اور ہے اور ہمیں وہ سچ ڈھونڈنا ہے ۔ ہمیں خدا کی تلاش ترک کر دینی چاہیے اور خود کو ڈھونڈنا چاہیے ۔ جب ہم خود کو ڈھونڈ لیں تو پھر ہمیں مان لینا ہے اور اس کے مطابق عمل کرنا ہے ۔ ایک قاتل کے لئے قتل کرنا منشائے خداوندی ہے تو ساتھ میں انصاف کے گھاٹ پر چڑھنا بھی خدا کی بڑائی ظاہر کرنے کا ذریع ہے ۔

میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ ہم سب اپنے اندر نظر آنے والی ساری برائیوں کے منہ کھول دیں ۔ نہیں یہ معرفتِ ذات نہیں ہے ۔ یاد رکھیں کہ ہزاروں برس کی ریاضت اور فرشتوں کا تقرب حاصل ہونے کے باوجود شیطان کو معرفت ِ ذات نہیں ملی تھی۔ تو آپ اگر کسی خوبصورت خاتون کو دیکھ کر اس سے ہم بستری کی خواہش اپنے دل میں پاتے ہو تو یہ آپ کی حقیقت نہیں ہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ امتحان صرف وقت آنے پر ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اختیار ملنے پر ہوتا ہے ۔ فرض کئی گئی چیزوں پر معرفت ِ ذات نہیں ملتی وگرنہ شاعروں سے بڑھ کر تیغ زن کوئی نہ ہوتا۔ وہ عاشق جو صحراؤں کی ریت کے برابر جواہرات دینے کے وعدے کرتے ہیں اپنی محبوبہ کو ایک کٹیا بھی دے نہیں پاتے ۔ تو امتحان وقت آنے پر ہوتا ہے اور وقت سب پر آتا ہے ۔ ہر ایک کے لئے امتحان ہے ۔ اس کی ہمت اور اس کی استطاعت کے برابر امتحان۔ ابراہیم کے لئے امتحان ان کے بیٹے کی قربانی تھی اور تمہارے لئے امتحان شاید ایک دن بیوی کو برا بھلا نہ کہنا ہو جب اس سے کھانا جل گیاہو۔

ہر ایک کا اپنا سچ ہے ۔ ہر ایک کا اپنا امتحان ہے ۔ زندگی کسی کے لئے آسان نہیں ہے ۔ خدا کسی کو دے کر آزماتا ہے اور کسی سے لے آزماتا ہے ۔ ہمارا امتحان کیا ہو گا یہ ہماری  choiceنہیں ہے ۔ ہمارا خالق کوئی اور ہے اور ہمارا کام تو بس اس کا شکر گذار بندہ بننا ہے اور شکر تو اسی صورت میں ممکن ہے اگر ہم خدا کی دی ہوئی صلاحیتوں کا بہترین استعمال کریں ۔

تو معرفت ِ ذات اتنی آسان نہیں ہے ۔ اور معرفت ِ ذات کوئی ٹھیکہ بھی نہیں ہے ،کوئی لائسنس بھی نہیں ہے جو آپ کو برائیوں کا اختیار دے دیتا ہو۔ اختیار تو سارا اللہ کا ہے ۔ ہم مخلوق کے لئے تو بس حکم کی پاسداری فرض ہے اور حکم صرف معروف کا ہے ۔ کہیں یہ حکم نہیں ملتا کہ تم شیطان کے نام پر لوگوں کی جان لے لو۔ کوئی مذہب نہیں کہتا کہ تم لہو و لہب میں پڑ جاؤ۔ اطاعت صرف معروف میں ہے ۔ عمل صرف نیک ہی کرنا ہے ۔ ہاں نتیجہ کچھ بھی نکل سکتا ہے جسے شکر گذاری سے ماننا ہو گا۔ جان لیجئے کہ شیطان کے ان کار کا تعلق بھی علم ،منطق اور اچھائی کے پہلوؤں کے لئے ہی تھا۔ دنیا میں آج تک جو قتل و غارت،فسق و فجور ہوا ہے وہ اچھائی کے لئے ہی ہوا ہے ۔ یہ جو لوگ محبت کے نام پر گناہوں کی دلدل میں دبے چلے جاتے ہیں وہ ایسا برائی کے لئے نہیں کرتے ۔ یہ سب لوگ اپنا اختیار ایک بہتر نتیجے کے نام پر استعمال کرتے ہیں ۔ شیطان نے حکمِ الہی سے سرتابی کا فیصلہ تقربِ الہی کے لئے کیا تھا۔ تو ہر فیصلہ صرف اپنے اندر کے سچ کی روشنی میں کیا جاتا ہے ۔ یہ اندر کی روشنی وہ ہے جو کوئی ہمیں دے نہیں سکتا۔ یہی معرفت ِ ذات ہے ۔ بس یہی مخلوق پر خالق کا حق ہے کہ وہ فیصلہ اپنے اندر کی روشنی کے مطابق کریں ۔ اب اس کا نتیجہ کیا ہوتا ہے یہ دوسری کہانی ہے ۔ ہٹلر جیسے شخص کروڑوں لوگوں کی جان لے لیتے ہیں ۔ اسلام کو پھیلانے کے زعم میں لاکھوں لوگوں کو تہ تیغ کر دیا جاتا ہے ۔ کلیسا بیت المقدس کو آزاد کروانے کے لئے خون کی ہولی رچاتا ہے ۔ یہ سب فیصلے اپنے اندر کی روشنی، اپنے سچ کے دائرے میں رہتے ہوئے کئے جاتے ہیں ۔ اور جب جنگ ختم ہونے پر فاتح بادشاہ لاشوں کے قبرستان پر بیٹھ کردیکھتا ہے تو سوچ میں پڑ جاتا ہے ۔

’’کیا یہ میں ہی تھا جس نے چھوٹی سی زمین ،کسی اینٹ گارے کی عمارت کے لئے لاکھوں لوگوں کی جانیں لے لیں ۔ حاصل کیا ہوا؟میں نے ایسا کیوں کیا؟کیا میں evilہوں ؟پر میں نے تو سب کچھ سچائی کے لئے کیا تھا؟‘‘

وہ عمر بھر ان سوالوں کے پیچھے بھٹکے گا مگر جواب نہیں پا سکے گا۔ وہی بے چینی جو کرک شیترا کی رات ارجن پر اتری تھی جب وہ سوچتا تھا کہ میں کس مقصد کے لئے اپنے بھائیوں کا خون بہا رہا ہوں ۔ ایسے میں کرشنا اسے کہتا ہے کہ

’’اس پر دل گرفتہ نہ ہو۔ ایک سپاہی کا کام لڑنا ہے اور پھر خود کو نتائج سے بے پروا کرنا ہے ۔ ‘‘

نہیں سپاہی برا نہیں ہوتا۔ وہ اپنے سچ کے راستے پر چل رہا ہوتا ہے اور سچ کے راستے پر چلنے والا برا کیسے ہو سکتا ہے ۔ لیکن اگر نتیجہ برا نکلتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اگر آپ کا سچ آپ کو لے کر ایک ایسے نگر میں چلا جتا ہے جہاں آئینہ دیکھو تو آپ کو قاتل کا چہرہ نظر آتا ہے تو افسوس مت کرو اور شکر کرو اس ذات کا جس نے تمہیں پیدا کیا۔ اور خدا کا شکر تو وہ کیڑا بھی کرتا ہے جو پیٹ کے بل رینگتا ہے اور جس کا مقدر کسی ان دیکھے قدموں تلے کچلا جانا ہے ۔ یا پھر وہ بچھو بھی جسے صبح کے وقت اٹھنے والے برگزیدہ بندوں کو ڈسنا ہے ۔ بچھو گناہ گار نہیں ہے ۔ وہ خدا کا شکر گذار ہے کہ اسے پیدا کیا گیا اور اس کھیل میں کھلاڑی بنایا گیا۔ اگر ہمیں شر کے مہرے بنایا گیا ہے تو بھی شکر کرنا چاہیے کہ اسی خیر و شر کے تصادم سے ایک بڑا خیر جنم لیتا ہے ۔

شطرنج کی بساط پر دیکھو جس پر سفید اور سیاہ مہرے سجے ہیں ۔ ان میں کوئی برا نہیں ہے مگر سفید کے لئے سیاہ کو اور سیاہ کے لئے سفید کو مارنا نہ صرف جائز بلکہ لازم ہے ۔ خیر و شر ان سیاہ و سفید مہروں کی طرح ہیں جنہیں خالقِ کائنات نے اس بساط پر سجایا ہے ۔ مہرے کھیل سے اوپر نہیں اٹھ سکتے ۔ مہرے کھیل کی سمت نہیں بدل سکتے ۔ مہرے کھیل کے اصول نہیں بنا سکتے ۔ تو وہ سب کامیاب ہیں جو اس کھیل میں اپنی صلاحیت کے مطابق دلجمعی سے حصہ لیتے ہیں ۔ خواہ ایک کا نتیجہ جنت اور دوسری کا نتیجہ جہنم ہی کیوں نہ ہو۔ دونوں ہی خدا کے شکر گذار بندے بن سکتے ہیں ۔ دونوں ہی فلاح پائے ہوئے ہیں ۔

تو پھر بھٹکے ہوئے کون ہیں ؟وہ کون ہیں جو زمین میں فساد مچانے والے ہیں ؟انسانیت کے دشمن کون ہیں ؟یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے سچ کی روشنی میں دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتے ۔ اگر دیکھتے ہیں تو خود کو پہچاننے کی ہمت نہیں رکھتے ۔ اگر پہچان لیتے ہیں تو اس کے مطابق عمل نہیں کر پاتے ۔ اور جب انہیں عذاب دیا جاتا ہے تو ان کا دل ناشکر گذاری سے بھر جاتا ہے ۔ یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں ۔ یہ لوگ آخر ہیں کون؟

یہ وہ عالم ہیں جن کے اندر خدا نے علم کی پیاس لگائی اور وہ لہو و لہب اور دنیا کی رنگینیوں سے اسے بجھانے کی کوشش کرتے رہے ۔ اپنے اندر وہ جانتے تھے کہ انہیں کیا چاہیے مگر وہ راستہ مشکل تھا اور یہ لوگ اپنے سچ سے ڈرتے رہے ۔ وہ جنگجو جنہیں خدا نے لڑنے کے لئے بنایا اور وہ نیکی و برائی اور پورے سچ کی بحثوں میں خود کو ضائع کرتے رہے یہاں تک کہ وسطی ایشیا سے اٹھنے والے قبائل پوری متمدن دنیا کو تاراج کرتے چلے گئے ۔

یہ وہ لوگ ہیں جن کی آنکھیں نشے کے خمار سے اتنی بوجھل ہو گئیں کہ وہ اپنے آگے ڈولتا سچ تلک نہیں دیکھ پائے ۔ جن کی سوچیں ہوس، مذہب اور وطنیت کے بتوں نے دبا دیں ۔ وہ لوگ جنہوں نے کبھی اپنے لئے نہیں سوچا اور تقلید کو اپنا مذہب سمجھتے رہے ۔ اس تقلید میں جو atrocitiesانہوں نے کیں اس کا بدلہ جہنم کی آ گ کے سوا کچھ نہیں ’’اور جہنم کیا ہی برا ٹھکانہ ہے ‘‘۔

تو ہر بحث چھوڑ دو اور اپنے اندر کی روشنی ، اپنے فرقان پر بھروسہ کرو۔ جیسا کہ کرشنا مورتی نے کہا تھا کہ Truth is a pathless wayایسے ہی آپ خود اپنے لئے روشنی بنو اور اس راستے پر چلو جسے خدا نے تمہارے لئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خاص تمہارے لئے چن لیا ہے ۔

٭٭٭