کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

سانپ اور آدمی

سید اسد علی


موت زندگی کے گھر میں چھپا ایک سانپ ہے جسے وہ بس کبھی کبھار دیکھ سکتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جیسے وہ جب سرسراتا ہوا ایک بل سے دوسرے بل میں جا تا ہو۔

وہ دونوں برسوں سے ساتھ رہ کر بھی ایک دوسرے پر اعتبار کرنا نہیں سیکھ پاتے ۔ زندگی بڑے بڑے سپیروں کو بلاتی ہے ، ڈنڈوں سے اس کا سر کچلنے کی کوشش کرتی ہے ،اپنے گھر میں جا بجا زہر ملے دودھ کے پیالے رکھتی ہے ۔

پر ایک حقیقت جو زندگی سمجھ نہیں پاتی کہ وہ سانپ تو جانے کے لئے آیا ہی نہیں ۔ سانپ کا بھی اس گھر پر اتنا ہی حق ہے جتنا حق زندگی کا ہے ۔ ایک مقررہ ساعت تک وہ یہاں سرسراتا رہے گا۔ زندگی بس کبھی کبھار گویا اس کی پرچھائی ہی دیکھ پائے گی۔ اور یونہی چلے گا ا س ایک دن سے پہلے ۔

زندگی کو موت سا دوست کہاں مل سکتا ہے ؟اس ایک دن سے پہلے زندگی اور موت کی دوستی بہت ممکن ہے ۔ جب آپ اسے گھر سے باہر دھکیل نہیں سکتے تو کیوں نہ اس سے باتیں کر کر اپنی تنہائی دور کر لو؟جب کبھی ایک دوسرے کو دیکھو تو بس مسکرا دو۔ حقیقت بس یہی ہے کہ موت کا بھی اس گھر پر اتنا ہی حق ہے جتنا کہ زندگی کا ہے ۔ ہم جتنی جلدی یہ سمجھ لیں تو بہتر ہے ۔ اخروٹوں بھری درخت کی کھوہ اور برف ہوتی ہوئی گلہری موت سے میری fascinationکبھی کم نہیں ہوئی یہاں تک کہ میں نے موت کو دیکھ لیا۔ اور موت بھی ایسی نہیں جو انجانے میں ہمارے جسموں پہ آ وارد ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جیسے Pompieکی بستی پر آن پڑی تھی۔ ایسی سرعت سے کہ بستر پر لیٹے شخص کو پہلو بدلنے کی بھی مہلت نہ مل سکی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ موت جو اتنی مہربان ہوتی ہے کہ چشمِ زدن میں روح کے گرد آکاس بیل سی لپٹی حسرتوں ، آزمائیشوں اور آلائشوں کو اکھاڑ پھینکتی ہے اور ہم بے وزن ہو کر ہائیڈروجن بھرے غباروں کی طرح اوپر اٹھنے لگتے ہیں ۔

نہیں مجھے ایسی موت کی کہانی نہیں لکھنی۔ یہ موت تو بڑی سیدھی سادھی ہے ۔ اس کے دامن میں کوئی ہیر پھیر نہیں ۔ اسے ہر شخص سمجھ سکتا ہے ۔ مگر موت ایک اور بھی ہوتی ہے ۔ وہ موت آپ جس کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ سنتے ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جیسے گھنی رات میں کوئی پکھیرو بڑی تیزی سے آپ کے گرد اڑتا چلا جائے ۔ آپ جانتے ہو کہ وہ قریب۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بہت قریب ہے ۔ مگر کیا کریں کہ یہ آنکھیں گہرے اندھیروں میں دیکھ نہیں پاتیں ۔ آپ بس سمٹ جاتے ہو اور ایک خوف میں لپٹے ہوئے چلتے ہو۔ اور یہ سب اتنی دیر تک ہوتا ہے کہ آپ اس نٹ کھٹ کا اصل روپ دیکھ پاتے ہو۔ نٹ کھٹ جس کی انگلیاں پوری زندگی آپ کے بالوں میں کھیلنے کو مچلی تھیں ۔ اور موت کا یہ روپ بالکل بھی ویسا نہیں جیسا میں کبھی سنا کرتا تھا۔

  میں جب چھوٹا تھا تو مجھے بتایا گیا کہ اچھے لوگوں کی روح قبض کرنے کے لئے نورانی فرشتے آسمان سے اترتے ہیں اور بری روحوں کے لئے کالے اور خوفناک ہرکارے آتے ہیں جو آگ کے ہنٹر برساتے ہوئے روحوں کو دھکیل کر دوزخ میں پھینک دیتے ہیں ۔ البتہ میں ان سے کبھی خوفزدہ نہیں ہوا تھا۔ پھر خوف کیوں ہوتا جب میں سمجھتا تھا کہ جب میں صحیح رستے کو اتنی اچھی طرح سے جانتا ہوں تو پھر بھٹکنے کا کیا سوال۔ میں یقیناً ایک نیک انسان کی زندگی گذاروں گا اور فرشتے میرا استقبال کریں گے ۔ یہاں مجھے کبھی کبھار حیرت ہوتی کہ آخر کیوں یہ بڑے لوگ سیدھے رستے پر نہیں چل سکتے ۔ کتنا آسان لگتا تھا اس وقت سب کچھ۔

گو ا س زندگی میں سب اچھا نہیں تھا۔ مجھے پڑھائی سے جی چرانے کی عادت تھی،سکول میں کسی کے بستے سے پینسل وغیرہ چرا لینا میرے لئے عام سی بات تھی،میں جھوٹ بولتا تھا،ماں کے منع کرنے کے باوجود رات دیر تک بستر میں دبک کر ناول پڑھتا تھا،صحت مند چیزوں کی بجائے گندی فضول چیزیں کھاتا تھا۔ تو میں ہر وہ برائی کر گذرتا تھا جو اس عمر میں ممکن ہو سکتی ہے مگر پھر بھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر بھی پتہ نہیں کیوں مجھے لگتا تھا جیسے میں سیدھے راستے پر چل سکوں گا۔ جو بچہ باوجود کوشش کے اپنے کورس کی کتاب پر توجہ مرکوز نہ کر سکے وہ سمجھتا تھا کہ وہ آئین سٹائین سے آگے جا سکتا ہے ۔

پھر میں بڑا ہوتا گیا۔ زیادہ میچور ہو گیا۔ اب میں پہلے سے بہت بہتر تھا۔ نہ ہی جھوٹ بولتا تھا اور نہ ہی دیر تک جاگتا تھا۔ چوری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ قانون کی پاسداری میری زندگی کا حصہ تھی۔ میں اب پہلے سے بہت بہتر تھا پر مجھے اب اس ہنٹر والے اندھیرے ہرکارے سے خوف آتا تھا۔ پتہ نہیں کیوں مجھے لگنے لگتا تھا جیسے میں کبھی بھی اس نورانی فرشتوں کے ہجوم کو نہیں دیکھ سکوں گا۔ پتہ نہیں کیوں ؟بچپن کی کی ہوئیں چھوٹی چھوٹی چوریاں مجھے Hauntکرتی تھیں ۔ پھر وہ وقت بھی آیا جب میں ہر امید چھوڑ گیا۔ میرے ہر طرف تاریکی پھیل گئی اور یہ تاریکی اتنی گہری ہو گئی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اتنی گہری کہ ایسے میں نورانی فرشتہ بھی اگر آتا تو مجھے سیاہ ہرکارا ہی دکھائی دیتا۔ ا۔ اس کے محبت سے اٹھے ہاتھ میرے جسم پر سانپوں کی طرح رینگتے ۔

گو میں نے اس تاریکی کو ختم کرنے کے لئے ہر ممکن اقدام کیا۔ میں علم کی شمع ڈھونڈنے ہر نگر گیا۔ میں نے بہت سے لوگوں سے گفتگو کی۔ ہر گفتگو کے ساتھ میرے اردگرد اندھیرا بڑھتا رہا۔ ایسا لگا جیسے سب روشنی کے چور ہوں اور مجھ سے میری روشنی چھین رہے ہوں ۔ پر یہ احساس مجھے بہت بعد میں ہوا کہ روشنی تو بس میرے اندر تھی۔ میری طلب،میری جستجو،میری امید کی روشنی۔ وہ جیسے جیسے کم ہوتی گئی میرے اردگرد کی دنیا بھی دھندلاتی گئی۔

یہ احساس مجھے ہو گیا مگر اس وقت جب میں اپنے اندر امید پیدا کرنے کا طریقہ بھول گیا۔ میں جانتا تھا کہ اندھیرا امید سے ختم ہو گاپر امید کیسے پیدا کروں میں نہیں جانتا تھا۔ پھر ایک وقت آیا جب میں امید پیدا کرنے کا طریقہ جان گیاپر تب جسم جواب دے گیا۔ پرانے فلامنٹ کے ساتھ ہائی وولٹیج کرنٹ نہیں گذارا جا سکتا۔

تو یوں میں زندگی سے ایک قدم پیچھے بھاگتا رہا اور میں یہ قصہ سنا بھی اس لئے رہا ہوں کہ شاید تم کبھی زندگی کے ساتھ بھاگ سکو۔ تو اس زندگی میں میرے لئے سب سے مشکل چیز موت رہی اور میں نے اس حقیقت کو جانا تو صرف تب جب میں بسترِ مرگ پر تھا۔ بیماری نے مجھے اتنا کمزور کر دیا تھا کہ مجھے لگتا تھا جیسے اب میرا جانا کوئی دن کی بات ہے ۔ اور اتنی سست موت میں ہی آپ اس عجیب مہمان کی اصل حقیقت جان سکتے ہو۔

موت ہمیشہ میرے لئے ایک معمہ رہی۔ وہ جیسے کوئی چھپکلی تھی جسے آپ دیکھتے ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنے آرام دہ بستر سے دیکھتے ہو۔ ہاں اس کی موجودگی آپ کے لئے پریشان کن ہے ۔ ہاں وہ آپ کو بے چین کر رہی ہے ۔ لیکن یہ worthنہیں ہے کہ آپ اپنا بستر چھوڑو۔ نہ صرف بستر بلکہ وہ اہم کام بھی جسے آپ اس وقت کر رہے ہو اور صرف اس لئے کہ آپ کو ایک چھپکلی کو بھگانے جیسا فضول کام سوجھا ہے ۔ آپ ایسا نہیں کرو گے کیونکہ آپ جانتے ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنے دل میں گہرائیوں میں اچھی طرح سے جانتے ہو کہ  حقیقتاً آپ اس سارے معاملے میں کچھ بہت زیادہ کر بھی نہیں سکتے ۔ آپ آوازوں کی مدد سے اسے خوفزدہ کر کر بھگا سکتے ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ چلی جائے گی مگر ایک نہ حل ہونے والا معمہ چھوڑ جائے گی۔

وہ کہاں گئی؟یہ ہے اہم سوال۔ This is the million dollar questionاس سے پہلے وہ آپ کے سامنے تھی۔ آپ اس کی ہر حرکت پر نظر رکھ سکتے تھے (اگر وہ کوئی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیونکہ عام طور پر چھپکلیاں دیوار پر گھنٹوں کے حساب سے ساکت رہ سکتی ہیں اور یوں لگتا ہے جیسے ان میں حرکت کی سکت تو درکنار خواہش تلک نہیں ہے ۔ آپ انہیں حرکت کرتا صرف اسی وقت دیکھ سکتے ہو جب کوئی چھوٹا کیڑا اس کے قریب آتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گو کہ میں شرط لگا سکتا ہوں کہ کیڑا اسے تب بھی حرکت کرتے ہوئے نہیں دیکھ پاتا ہو گا)۔ لیکن اب وہ کہیں ہے ۔ اس کمرے میں کہیں اور۔ شاید آپ کی الماری کے پیچھے ، بیڈ کے نیچے یا پھر بہت ممکن ہے کہ پردوں سے لٹک رہی ہو۔ وہ یہیں ہے ۔ آپ کم از کم اس بات پر تو یقین کر ہی سکتے ہو۔ وہی یقین جو آپ اس زندگی کی دوسری چیزوں پر کرتے ہو۔ شاید اس سے بھی زیادہ یقین جتنا خود آپ کو آپ کے موجود ہونے پر ہے ۔ یہ سب اس لئے کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے وہ دیوار پر تھی اور سادہ اصول یہی ہے کہ چیزیں بغیر وجہ کے یونہی غائب نہیں ہو جاتیں ۔ کائنات میں کوئی ایسا کوڑے دان نہیں ہے جہاں بھیجنے کے بعد آپ چیزوں کے وجود سے چھٹکارا پا سکو۔ نہیں جناب زندگی ایسی نہیں ہے ۔ what goes around comes around۔ مادہ کبھی فنا نہیں ہو سکتا۔

ایک وقت تھا جب میں موت کو ایسا کوڑے دان سمجھتا تھا۔ آپ تو سمجھتے ہی ہو کہ کوڑے دان کے بارے میں سب سے اچھی بات یہی ہوتی ہے کہ آپ اس میں اپنی ساری غیر ضروری چیزیں پھینک سکتے ہو اور پھر وہ چیزیں آپ کو کبھی نہیں ستاتیں ۔ یہ اہم نہیں ہے کہ چیزیں آخر کوڑے دان سے کہاں چلی جاتیں ہیں ۔ اس سوال کا جواب آپ کی زندگی سے relevantنہیں ہے ۔ شاید آپ کی پھینکی چیز کوئی جانور اٹھا کر لے جائے ۔ میں نے اکثر کوؤں ،بلیوں ،کتوں اور خانہ بدوشوں (برائے مہربانی یہاں آپ مجھ پر ناراض مت ہوئیے کہ میں نے کیوں ان قابلِ رحم انسانوں کو جانوروں کی صف میں لا کھڑا کیا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میرا مقصد انہیں کسی صف میں کھڑا کرنا تھا ہی نہیں ۔ میں تو بس ایک حقیقت بتا رہا تھا)کو کوڑے دانوں کے گرد منڈلاتے دیکھا ہے ۔ یہاں ان کی آنکھیں بڑے تجسس سے ان چیزوں کو ٹٹول رہی ہوتی ہیں جنہیں پتہ نہیں کتنا سوچ کر کسی نے باہر پھینک دیا ہوتا ہے ۔ پھر میونسپلٹی کا ٹرک آتا ہے اور اس سب کو ایک بڑے کوڑے دان میں لے جاتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ایک بڑی سی جگہ ہے جسے آپ نے شاید کبھی گاڑی پر گزرتے ہوئے دیکھا ہو گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن یہ وہ جگہ ہے جہاں تک ہم ان چیزوں کے بارے میں جان سکتے ہیں ۔ چیزیں یہاں سے کہاں جاتی ہیں ؟کیا کوئی globalکوڑے دان ہے جہاں سے ساری دنیا کا کوڑا اکھٹا کیا جاتا ہو؟ہمارے لئے اس سوال کا جواب اہم نہیں ہے ۔

ایک وقت تھا جب موت بھی میرے لئے ایسی ہی ایک چیز تھی۔ ایک جگہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک موبائل کوڑے دان جو ہمارے زندگیوں میں آتا ہے اور وہ چیزیں لے جاتا ہے جو ہمارے لئے ضروری نہیں رہ جاتیں ۔ اور اس کا کوئی تعلق عمر سے نہیں ہے ۔ میں نے وہ لوگ دیکھے ہیں جو ساٹھ سال کی عمر میں بھی کام کئے جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حقیقی طور پر اہم اور ضروری کام اور لوگ ایسے بھی ہیں جو تیس سال کی عمر میں ہی سب کچھ کر ڈالتے ہیں ۔ سچ یہ ہے کہ زندگی میں ایک ایسا مقام آتا ہے جس کے بعد سارا سفر پستی کا رہ جاتا ہے ۔ تو ایسے میں موت ایک مشاق باز کی مانند کسی اونچی جگہ سے ہمیں دیکھے جاتی ہے اور ان پستی کے مسافروں کو بڑی صفائی سے ساتھ لے جاتی ہے ۔

لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ میں نے اس mysteriousمخلوق،اس اکیلے بھیڑئیے کے کام کے بارے میں کچھ اور چیزیں جان گیا۔ جی ہاں ، کبھی کبھار اس کے کاموں کے پیچھے بڑی صحیح منطق ہوتی ہے لیکن کئی بار میں نے اسے ایسے محسوس کیا جیسے کوئی غصیلا بھینسا قتمجھ پر ناراض مت ہو ہے جو اپنے رستے میں آنے والی ہر شئے کو سینگوں سے اٹھا کر دور پھینک ڈالتا ہے ۔ کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کون اس کے رستے میں آ جاتا ہے ۔ لوگ ہمیشہ یہ دنیا چھوڑتے رہتے ہیں جب کہ ان کے پاس نہ ختم کئے گئے کام ہوتے ہیں ۔ موت کی آنکھوں میں میں نے کسی کے لئے کوئی رحم نہیں دیکھا۔ آپ اس کی movesکو جان تلک نہیں سکتے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شاید آپ جان سکتے ہو مگر صرف macroلیول پر۔ انفرادی سطح پر شماریاتی حقیقتیں اپنی ساری forecasting abilitiesکھو بیٹھتی ہیں ۔ موت کا کوئی patternنہیں ہے ، کوئی پسند و نا  پسند نہیں ہے ۔ ۔ ۔ ۔ تو کوئی کچھ بھی نہیں کہہ سکتا۔

تو مجھے لگا کہ جیسے یہ سب کسی کوڑے دان سے متعلق ہے ہی نہیں ۔ موت شاید معاشرے کی کوئی مفید خدمت سرانجام دے ہی نہیں رہی۔ یہ کہانی تو ایک شکاری اور اس کے شکاروں کی ہے ۔ ایک شکاری جو ہمیشہ اپنے شکار کے طریقے کو بہتر کرتا رہتا ہے ۔ جو ہر وقت مصروف رہتا ہے کہ نئے سے نئے جال بن سکے ، booby trapsبنا سکے ،ہتھیاروں کو تیل لگا سکے اور اپنے شکار کی ہر حرکت پر نظر رکھ سکے ۔ موت ایک perfectionistہے جو اپنے عمل کی ہر جزئیات پر نگاہ رکھے ہوئے ہے ۔ کوئی بھی اس کے پنجوں سے ہمیشہ کے لئے بچ نہیں سکتا کیونکہ اس کے پاس کوئی ایک اکیلا رستہ تو ہے نہیں جس سے یہ اپنے شکاروں کو قابو کر سکے ۔ پھر محدود عمر کا آخری check pointتو ہے ہی۔ اگر وہ کسی کو نہیں پکڑ سکتا تو دوسرے کے لئے ایک خاص وقت کے بعد ویسے ہی کھیل ختم ہو جاتا ہے ۔

پتہ نہیں کبھی کبھی مجھے لگتا ہے جیسے موت ایک نہیں ہے ۔ موت دو ہیں ۔ جب موت کی پیدائش کا وقت آیا تو وقت کی کوکھ سے دو وجود نکلے ۔ دونوں جڑواں ہو کر بھی ایک دوسرے سے بہت مختلف تھے ۔ ایک کے اندر بہت سکون تھا جیسے کوئی ٹھنڈا گلیشئر ہو اور دوسرا پگھلتا ہوا لاوا۔ حق کی جانب سے جب ذمہ داری دینے کا وقت آیا تو سکون والے کو ذمہ داری دی گئی۔ دوسرا جان تو گیا کہ وہ اس قابل نہیں ہے مگر تھا وہ لاڈلا تو اس نے ایک رعایت اپنے لئے بھی مانگ لی۔

’’مجھے وقت سے پہلے مارنے کا اختیار دے دو۔ ‘‘

’’وقت سے پہلے کون مار سکتا ہے ؟ ‘‘تبسم ہوا

’’موت پیدا کرنے والا وقت جیسے نوخیز کی طرازیوں کا غلام نہیں ہو سکتا۔ ‘‘

’’جاؤ تمہیں مہلت دی؟‘‘ایک الوہی مسکراہٹ کے جلو میں ایک نئے موت بانٹنے والے نے جنم لیا۔

میں اس کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا پر مجھے لگتا ہے کہ وہ نیچرل موت کو کبھی پسند نہیں کرتا ہو گا۔ وہ یقیناً چاہتا ہو گا کہ لوگوں کو اس وقت سے بہت پہلے پکڑ سکے ۔ تو وہ مختلف طریقے استعمال کرتا ہے ۔ کبھی سونامی آتے ہیں اور ایک ہی لمحے میں لاکھوں لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور کبھی وہ ایک موٹر سایکل سوار کے دل میں پنپنے والی بیکار خواہش بن جاتا ہے کہ کیوں نہ اس موٹرسائیکل کو ایک پہیے پر دوڑایا جائے ۔ وہ ہر گھڑی آپ کو پھانسنے کی کوشش کرتا ہے اور ایسے بازی گر سے بچ نکلنا اپنے آپ میں ایک معجزہ ہے ۔ تو مجھے کہنے دیں کہ بوڑھی عمر تک پہنچ جانا ایک بہت بڑی achievementہے ۔ میں تو سمجھتا ہو ں کہ اسے ہی انسانیت کا سب سے اہم مقصد قرار دے دینا چاہیے ۔ جیسے کہ آپ کسی بچے سے پوچھتے ہو کہ وہ بڑا ہو کر کیا بننا چاہتا ہے تو اسے بلا جھجک کہ ڈالنا چاہیے کہ وہ بوڑھا ہونا چاہتا ہے اور باقی کی سب چیزیں بیچ میں ہی آ جائیں گی۔

پہلی چیز یہی ہے کہ surviveکیا جائے ۔ وقت حاصل کیا جائے ۔ لیکن ہم انسانوں کو تو idealsسے جنون کی حد تک لگاؤ ہے اور نہ جانتے ہوئے شاید ہم ہمیشہ حقیقت کی طاقت کو جھٹلاتے چلے آئے ہیں ۔ ہمارے لئے زیادہ اہم ہے کہ ہم ایک بھرپور وقت گذاریں نہ کہ صرف وقت گذاریں ۔ اہم یہ ہے کہ کسی مقصد کے لئے زندگی گذاری جائے نہ کہ صرف زندہ رہا جائے ۔ میں نہیں جانتا کہ ان تصورات نے وہ سب کچھ حاصل کرنے میں ہماری کتنی مدد کی ہے جو اس ا نسانیت نے اب تک حاصل کیا ہے ۔ کیونکہ میرے لئے over-achievementبھی اتنی ہی patheticہے جتنی کہ under-achievement۔ جیسے کہ ایک امیر آدمی اپنے کمائے گئے پہلے ملین کے ساتھ کیا کیا نہیں کر پائے گا۔ اور اب سوچیں کہ جب وہ پہلی بار billionaireبنے گا تو کیا کرے گا۔ نو سو ننانوے ملین سے بلین ہونا اگر چہ مقدار میں اتنی ہی رقم ہے جتنی پہلی ملین کے وقت تھی لیکن اب ایک بھی ایسی چیز نہیں ہو گی جو اسے یہ ملین لا کر دے سکے ۔ شاید واحد چیز یہی ہو گی کہ اس کا نام امراء کی اس فہرست میں آ جائے گا جو بلین اپنے پاس رکھتے ہیں ۔ مگر کیا یہ کافی ہے ؟وہ پیسے کماتا ہی کیوں ہے اگر پیسہ اس کی ضروریات اب پوری کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا؟وقت کے ساتھ کہیں رستے کی بھول بھلیوں کے بیچ اس نے راستے کو ہی منزل سمجھ لیا اور پھر اس خود ساختہ منزل سے اتنا جنون کی حد تک منسلک ہوا کہ اس کی پوری زندگی ہی اپنا مطلب کھو بیٹھی۔ تو یہ مقاصد اچھی چیز ہوتے ہیں ا س وقت تک جب تک یہ آپ کو زندہ رہنے میں مدد دیں اور آپ کی آنے والی نسلیں پھل پھول سکیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن زندگی سے بعید مقاصد کے لئے چیزیں کئے جانا مہمل سی بات ہے ۔ آرٹ محض آرٹ کے لئے ایک منافقانہ دلیل ہے ۔ ہر چیز زندگی کے لئے ہے اور یہی اصل کہانی ہے ۔

میں مانتا ہوں کہ ہو سکتا ہے کہ یہاں میں بہت قائل کر دینے والی بات نہیں کر پا رہا ہوں ۔ ہو سکتا ہے کہ لوگ میری اس دلیل سے اتفاق نہ کریں کہ زندگی کا اصل مقصد بوڑھا ہونا ہے ۔ میں ابھی سے دیکھ سکتا ہوں کہ میرے قارئین کی آنکھوں میں بے اعتمادی ہے اور ان کے سر بڑی بے چینی سے ’’ نہیں ‘‘ کے لئے ہل رہے ہیں ۔ وہ کہہ رہے ہیں ’’ا س آدمی نے ساری زندگی دلیل کی تلوار گھمائی ہے اور اب یہ اپنی ہی دلیل کا قیدی بن چکا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو تلوار سے جیتا ہے وہ تلوار سے مرے گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہر دلیل اصل میں ایک trapہوتی ہے اور یہ شخص جو ساری زندگی یہ جال بناتا رہا اور انہیں مکمل کرنے کے لئے جاتا رہا اب ایسی دلیل تخلیق کر چکا ہے جس سے یہ خود ہی نہیں نکل پائے گا۔ ‘‘شاید کچھ لوگ ایک منٹ کے لئے خاموشی اختیار کریں اور ہیٹ اتار کر مجھ پر افسوس کریں اور یاد کریں کہ کیسے ایک شخص شہیدِ دلیل ہو گیا۔ انسانی ذہن ہمیشہ زندگی سے بالا وضاحتیں ڈھونڈتا رہتا ہے اور ایسے میں وہ سمجھ ہی نہیں پاتا اس اصل انسان کو جو کہ وہ ہے ۔

میں اس سوچ کی عزت کرتا ہوں کہ اس لکھنے کے علاوہ میں ایک انسان بھی تو ہوں اور اس پہلو سے دیکھیں تو میں بھی ان جیسا ہوں ۔ میں نے بھی ہمیشہ زندگی سے بالا مقاصد اپنے سامنے رکھے اور انہیں حاصل کرنے کے لئے بھاگ دوڑ کرتا رہا۔ شاید میں ان لوگوں سے کچھ زیادہ ہی کوشش کرتا ہوں گا۔ لیکن پھر بھی اپنے تمام تر خلوص کے باوجود میں پہنچا تو یہیں کہ زندگی کا اصل مقصد بوڑھا ہونا ہے ۔ اور یہ کوئی حادثہ نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ایسی چیز ہے جسے میں بس یقین کرنے لگا ہوں کیونکہ مجھ میں اصل تلاش کا حوصلہ نہیں رہا۔ نہیں جناب یہ تو وہ دلیل ہے میں جسے بہت دیر سے سوچتا آ رہا ہوں پر میں کبھی اس کو سمجھ نہیں پاتا تھا۔ لیکن اگر لگن سچی ہو تو جیسے ٹکڑے خودبخود ایک صورت میں ڈھلتے جاتے ہیں ۔ تو اب میں سمجھ رہا ہوں کہ میں کیا بول رہا ہوں ۔ یہ یقیناً آخری دلیل نہیں ہے لیکن اس دنیا میں آخری دلیل کہاں دیکھی ہے آپ نے ؟اس دنیا میں صرف approximationsہی وجود رکھتی ہیں ۔ کون آج تک perfect sphereڈھونڈ سکا ہے ؟پرفیکٹ محبت،پرفیکٹ انسان،پرفیکٹ موسم،پرفیکٹ جگہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس دنیا میں کچھ بھی پرفیکٹ نہیں ہے تو پھر ہماری دلیلیں بھلا کیونکر پرفیکٹ ہو سکیں گی۔

پر شاید میں غلط ہوں ۔ ہماری دلیلوں کو پرفیکٹ ہونا ہی چاہیے کیونکہ دلیل کا تعلق اس دنیا سے ہے ہی نہیں ۔ وہ تو ایک اور دنیا سے اپنی inspirationلیتی ہیں ۔ ایک دنیا جہاں سب کچھ ہی پرفیکٹ ہے ۔ یا پھر کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم نے انہیں بنایا ہی ایسا ہے کہ ایک پراسراریت سی ہمیشہ ان پر منڈلاتی رہے ۔ ہمارے لئے وجود کا کوئی مطلب ہی نہیں ہے اگر ہم اسے کسی سمجھ میں آنے والے مقصد سے منسلک نہ کر سکیں ۔ لیکن میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ وجود بذاتِ خود ایک دلیل ہے جسے رد کیا ہی نہیں جا سکتا۔ وجود شاید وہ واحد دلیل ہے جسے اپنے سے بالا کسی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے ۔ I think therefore I'm۔ آخر اس چیز کو کیوں ثابت کیا جائے جسے خود قدرت نے ثابت کیا ہے ؟

تو میری دلیل صرف یہ ہے کہ ہمیں ان چیزوں کے پیچھے چھپے obscureمطلب ڈھونڈنے کی سعی نہیں کرنی چاہیے جو کہ یہ زندگی ہمارے سامنے لے کر آ رہی ہے ۔ ہمیں ان چیزوں کی عزت کرنا ہو گی جو وجود رکھتی ہیں ۔ ہر وجود کی عزت ہے چاہے وہ ہمیں پسند ہو یا نہیں ۔ کیونکہ یہاں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم کیا سوچتے ہیں ؟ہم ہیں ہی کیا؟ہم تو اس سارے puzzleایک چھوٹا سا حصہ ہیں ہم ایک حصے کی منطق بھلا کل پر کیسے لاگو کر سکتے ہیں ؟اب آپ کے پاس ایک جوکر کا puzzleہے جس میں سب سبز ٹکڑے ہیں اور ایسے میں آپ ایک سرخ ٹکڑا دیکھ کر کہتے ہو کہ یہ بھلا کہاں سے آ گیا۔ یہ تو اس گیم کا حصہ نہیں ہے ۔ آپ اسے evilکہ کر ڈبے سے باہر پھینک سکتے ہو۔ لیکن کیا وہ واقعی evilہے ؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک دن کوئی لڑکا اس کو معمے کو حل کرے گا اور گھنٹوں کی محنتِ شاقہ کے بعد جب وہ یہ معمہ حل کر لے گا تو پھر وہ اپنے آخری ٹکڑے کو ڈھونڈے گا۔ جوکر کی ناک جو سرخ رنگ کی تھی وہ ڈھونڈ نہیں پائے گا۔ وہ مختلف ٹکڑا بھی اس تصویر کا حصہ تھا۔ اس ٹکڑے کے بغیر اب اس سارے کھیل کا کوئی مطلب نہیں رہا۔ وہ بچہ اس سارے معمے کو ہی کوڑے دان میں پھینک دے گا۔

اتنی اہم ہوتی ہیں یہ سب چیزیں ۔ ایک ٹکڑا۔ ۔ ۔ ۔ ہر ایک ٹکڑا اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ دوسرے ٹکڑے ۔ وہ ہمیں کتنا بھی مختلف کیوں نہ نظر آئے مگر اگر وہ ہے تو ضرور اس کا کوئی مقصد بھی ہو گا۔

آپ ضرور سوچتے ہو گے کہ میں بھلا یہ کیونکر سوچتا  زہوں کہ محض وجود کسی کے مقصد کی دلیل بھی ہو سکتا ہے ۔ مجھے اس پر یقین ہے کیونکہ میں نے وہ ٹکڑا وہاں نہیں رکھا ہے ۔ کسی اور نے رکھا ہے ۔ کسی ایسے نے جس کے پاس مجھ سے کہیں زیادہ علم اور سمجھ ہے ۔ یہ وہی ہے جس نے مجھے اور چاند کو اور ستاروں کو ان کی جگہ پر لا رکھا ہے ۔ اور وہ کہتا ہے کہ اس نے کوئی بھی چیز بے مقصد پیدا نہیں کی ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ اس نے کچھ انسانوں کو جنت کے لئے پیدا کیا ہے اور کچھ کو جہنم کے لئے ۔ ہم ہر مرتبہ اس کا مقصد سمجھ نہیں سکتے پر کس نے کہا کہ ہم مقصد سمجھ سکنے پر قادر ہیں ۔ یہ تو وہ ہم سے expectبھی نہیں کرے گا۔ ہم خدا نہیں ہیں کہ اس کی سب سکیم سمجھ سکیں ۔ لیکن ہم ایک چیز جان سکتے ہیں ۔ ہم یہ یقین کر سکتے ہیں کہ جو بھی وہ کرتا ہے کسی مقصد سے کرتا ہو گا اور پھر ہم اس سے محبت کر سکتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کی تمام مخلوقات سے محبت۔ ہمیں کسی سے نفرت محض اس لئے نہیں ہونی چاہیے کہ وہ مختلف ہے یا ہم سے مختلف راستوں پر چل رہا ہے ۔ لیکن اب اس محبت کا اصل مطلب کیا ہے ؟کیا اس کا مطلب ہے کہ مجھے ایک قاتل کو نہیں مارنا چاہیے ؟مجھے ایک rapistکو سزا نہیں دینی چاہیے ؟میں یہ نہیں کہہ رہا۔ کوئی بھلا ایسی بات کہ بھی کیسے سکتا ہے ۔ جب میں کہتا ہو ں کہ آپ کو ہر شئے سے محبت کرنی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کو انصاف سے بھی محبت کرنا ہو گی اور موت سے اور مظلومیت سے اور ہر شئے سے جو خدا نے پیدا کی ہے ۔ تو جب ہمیں کسی کو قتل کرنا پڑے محض ایک سو روپے کو بچانے کے لئے تو ہمیں ایک لمحہ کو بھی سوچنا نہیں پڑے گا۔ اس لئے نہیں کہ انسانی جان کی قیمت سو روپے سے کم ہے بلکہ اس لئے کہ فتنہ قتل سے بھی بری بات ہے ۔ آپ کا اختیار خدا ہونے نہ ہونے پر نہیں ہے پر وہ کچھ کرنے پر ضرور ہے جو آپ بنائے گئے ہو۔ اگر اس نے آپ کو قتل کرنے کو ہی پیدا کیا ہے تو آپ کو قتل کرنا ہو گا اور اگر اس نے آپ کو بچانے کے لئے پیدا کیا ہے تو بچانا ہو گا۔ دونوں صورتوں میں تمام میسر طاقت استعمال کرنا آپ کے اختیار میں ہے ۔

ٍشاید کچھ لوگ اسے پسند نہ کریں ۔ وہ سوچیں کہ میں لوگوں کو برائیوں پر اکسا رہا ہوں ۔ جیسے میں کوئی انارکسٹ ہوں اور انہیں تباہی کی طرف دھکیل رہا ہوں ۔ میں بالکل بھی ایسا نہیں ہوں ۔ لیکن اپنی فطرت کو honorکرنا ہی وہ واحد اچھی چیز ہے جو آپ کے ساتھ ہو سکتی ہے ۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ کرشنا نے ارجن کو یہی تو سمجھایا تھا کہ اسے لڑنا ہی ہو گا بس نتائج سے خود کو علیٰحدہ کرلینا کامیابی کی دلیل ہے ۔ تو ایسے ہی موت بھی یہاں ہے اور ہمیں اس سے اجنبیت نہیں محسوس ہونی چاہیے ۔

تو میں موت کی بات کر رہا تھا اور میں ساری زندگی اسے سمجھ نہ سکا مگر وہ آخری لمحہ جس نے مجھے سب سمجھا دیا۔

And the Stupor of death will bring truth (before his eye):

"This was the thing which thou wast trying to escape!"              

(50:19)

 

اس دن میری سانس اکھڑ رہی تھی اور ذہن جیسے گرم ہو رہا تھا۔ کمرے میں رکھی چیزیں کہیں پسِ پردہ چھپ رہی تھیں ۔ کوئی پردہ نہیں تھا مگر وہ پسِ پردہ چھپ رہی تھیں ۔ کمرے کی کھڑکی میں بنے گھونسلے میں بیٹھی چڑیاں کچھ سہم سی گئی تھیں ۔ ہوا ایک نہ سمجھ میں آنے والی آواز میں بولنے لگی۔ کوئی جا کر ڈاکٹر کو بلا لایا۔ ڈاکٹر نے بے مقصد میری نبض دیکھی اور پھر اس نے آہستہ سے کچھ کہا۔ میں ٹھیک سے تو سن نہیں پایا پر شاید وہ یہ کہہ رہا تھا کہ اب بس کوئی لمحے کی بات ہے ۔ کمرے میں دبی دبی سسکیاں گونجنے لگیں اور میں مشتاق نظروں سے ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ میں جانتا تھا کہ وہ ابھی آئیں گے ۔ پر وہ کون ہو گا۔ فرشتے یا سیاہ ہرکارے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ سوال اہم تھا۔

میری نظریں دروازے پر جمی تھیں مگر وہ سب دروازوں کے پابند کہاں تھے ؟کمرہ آہستہ آہستہ بھرنے لگا۔ ہوا کے نرم جھونکے ،پڑوسی کے گھرتلتے ہوئے پکوڑوں کی خوشبو،صحن میں رینگتے لال بیگ کے پاؤں کی سرسراہٹ،دیواروں سے سیپ سیپ کر آتی ہوئی انجانی روحیں جو حیرت سے مجھے تکتی تھیں ،پائینتی کے پاس باادب کھڑے دو فرشتے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کمرہ اپنی استطاعت سے زیادہ بھر چکا تھا۔ اس کوزے کی مانند جس میں مذید ایک قطرہ شراب ڈالنا بھی ممکن نہ رہا ہو۔

اور پھر دروازہ کھلا اور میرا ایک پرانا دوست کمرے میں داخل ہوا اور عجب دھکم پیل ہونے لگی۔ خوشبوئیں ، آوازیں ، مادی اجسام، روحیں سب مجھے چاروں طرف سے دبانے لگے ۔ میرا سانس گھٹنے لگا اور میں تنگ آ کر جسم سے باہر نکل آیا۔ کھڑکی کی ایک درز سے باہر نکلنے کا موقع ملا تو باہر بڑی وسیع کائنات میرے سامنے تھی۔ میں آگے بڑھنے لگا تو کسی کے رونے کی آواز سنائی دی۔ وہ آواز بہت جانی پہچانی تھی۔ غور کیا تو وہ میری بیوی کی آواز تھی۔ وہ سسکیاں لے رہی تھی اور لوگ اونچی اونچی آواز میں اناللہ وانا الیہ راجعون پڑھ رہے تھے ۔ میں مر چکا تھا اور یہ سب بالکل بھی ویسا نہیں تھا جیسا میں سوچتا تھا۔ کتنی انتظار تھا مجھے پر اس نئے سفر میں مجھے لینے کوئی بھی نہیں آیا تھا۔ نہ کوئی فرشتہ اور نہ کوئی کوڑے لہراتا عفریت۔ میں نے تو بس جیسے کوئی لالچی گلہری تھا جس نے اپنی کھوہ کو اخروٹوں سے اتنا بھر لیا تھا کو خود اس کے لئے کوئی جگہ باقی نہ رہی تھی اور وہ اب حیرت سے اپنی کھوہ کے باہر ٹھٹھرتی تھی اور سوچتی تھی کہ کیا غلط ہو گیا۔