کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

بھاگتا ہوا خرگوش

سید اسد علی


ایک چھوٹا سا بچہ ہے ۔ ایک سمجھ میں آنے والی عام سی دنیا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سخت،پتھر جیسی دنیا۔ اور ایک بھاگتا ہوا خرگوش ہے ۔ خرگوش جو اس دنیا کا نہیں ہے ۔ جس کی حرکت ،جس کی پھرتی،جس کی بیگانگی آپ کو کسی اور ہی دنیا میں لئے جاتی ہے ۔ آپ جانتے ہو کہ آپ اس سا تیز نہیں بھاگ سکتے ،آپ کو خبر ہے کہ ایسے خرگوشوں کے پیچھے بھاگنے والوں کو راستہ کبھی نہیں ملا کرتا۔ آپ جانتے ہو کہ یہ جس دنیا کی طرف جاتا ہے اس کی نہ تو کوئی حقیقت ہے اور نہ ہی منطق۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آپ جانتے ہو مگر پھر بھی اپنے پیروں کو روک نہیں سکتے ۔ اپنی جستجو کو لگام نہیں دے سکتے ۔ آپ ایک خرگوش کے سامنے بے بس ہو جاتے ہو۔ اور یہ احساس آپ کو مارے دیتا ہے ۔

یہ احساس ہمیں زندگی بھر مارتا ہے ۔ ہم میں سے بہت کم ایسے ہوں گے جو اس خرگوش کے پیچھے واقعی بھاگ پاتے ہوں گے ۔ میں یہاں ان کی بات نہیں کروں گا کہ قصہ لمبا ہو جائے گا۔ وہ لوگ کئی مرتبہ بھاگتے ہوئے ایسی دنیاؤں میں جا نکلے جن کے خواب بھی بنی نوع انسان کو سزاوار نہیں مگر شاہراہِ زندگی کے کنارے تعفن زدہ گڑھے بھی انہی جیسوں کے جسموں سے بھرے ہیں ۔ ان کی بات رہنے دیں کہ بہت لمبی ہو جائے گی۔ ہم آج ان کی بات کرتے ہیں جو بھاگ نہیں پاتے اور اس خواہش کو اپنے اندر سے نکال بھی نہیں سکتے ۔ یہ لوگ زندہ رہ کر بھی جی نہیں پاتے اور موت آنے پر مر نہیں پاتے کہ موت تو زندگی کو آتی ہے ۔ میں نے نہیں سنا کہ کبھی موت ان جسموں پر اتری ہو جنہیں گدھ اور گیدڑ بھنبھوڑتے ہوں ۔ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے جیسے یہ گدھ قبیل کے جاندار بڑے بزدل ہوں ۔ یہ موت سے اتنا ڈرتے ہوں کہ ان جسموں کے قریب بھی نہ پھٹکتے ہوں جہاں انہیں موت کا سامنا کرنے کا شائبہ بھی ہو۔

سوال یہ نہیں ہے کہ وہ خرگوش یہاں کیوں ہے ؟وہ تو ’’اُس‘‘ کی مرضی۔ اُس نے تو ڈھکے چھپے بغیر ہی بول ڈالا ہے کہ یہ دنیا ہے ہی دھوکہ اور فریب۔ سوال یہ نہیں ہے کہ اس کی خواہش ہی کیوں پیدا ہوتی ہے کہ خواہش کا بیج تو بہت پہلے لگایا جا چکا تھا۔ ہمارے بیج سے بہت پہلے ۔ تو خواہش کی بات رہنے دیں ۔ خواہش تو ہے او ر رہے گی۔ مگر سوال یہ ہے کہ ہم اس شدید خواہش کے باوجود جا کیوں نہیں پاتے ؟یہ ہے اصل سوال۔ یہ ہے اصل وجہ ہمارے ناخوشی کی۔ یہ ہے وہ درد جو ہمیں بے قرار رکھتا ہے ۔ ہم کہتے ہیں کہ ہم بڑے سائنسی لوگ ہیں ۔ منطق کی زبان سمجھتے ہیں ۔ تاریخ سے سبق سیکھتے ہیں ۔ میں یہاں بڑی بات نہیں کرتا۔ میں اپنی بات کرتا ہوں ۔ میں ایک عام انسان ہوں ۔ مجھے عام انسان کی طرح ہی اس سوال کا جواب تلاش کرنا ہے ۔

میری زندگی بڑی سیدھی ہے ۔ میں نے کسی کو اس خرگوش کے پیچھے بھاگتے نہیں دیکھا۔ سچ کہتا ہوں ۔ میں نے بہت بھرپور زندگی نہیں گذاری مگر میرے پاس میرے تجربات کا حصہ بہرحال ہے ۔ میرے سکول کے دور سے لے کر آج تک جب میں چھتیس برس کا ہو چکا ہوں ،میں بہرحال بہت لوگوں سے ملا ہوں ۔ لوگ میرا ہمیشہ سے اہم موضوع بھی رہے ہیں اس لئے میں شاید عام لوگوں سے کچھ زیادہ ہی مشتاق انداز میں لوگوں کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتا ہوں ۔ اور میں پورے اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ میں نے کوئی شخص نہیں دیکھا جو اس خرگوش کے پیچھے بھاگ کر دنیا چھوڑ گیا ہو۔ ہاں لوگ ہیں ۔ ان کے سوالات بھی ہیں ۔ ان کی آرزوئیں بعض اوقات تو اتنی زندہ ہو جاتی ہیں کہ میں انہیں ان کے سروں پر منڈلاتے دیکھتا ہوں ۔ کچھ اس طرح کہ آرزو کے سیاہ لبادے سے ان کے نظریں الجھ الجھ جاتی ہیں اور زندگی ان کے لئے جیسے دھندلانے لگتی ہے ۔ لیکن وہ سب لوگ بہت اداس ،بہت دکھی،بہت ناکام ہو کر بھی اس زندگی سے اوپر نہیں اٹھ سکتے ۔ اور یہ عام زندگی ہمارے کائنات بنتی جاتی ہے ۔ ’’اور تم کبھی کائنات کی حدوں سے باہر نہیں نکل سکو گے ۔ ‘‘یہ جملہ کائنات کی حدوں کے بارے میں صحیح ہو نہ ہو مگر دھوکے کی اس زندگی کے بارے میں بالکل ٹھیک ہے ۔

اور سچ پوچھیے تو مجھے کوئی اعتراض بھی نہیں کہ لوگ کیا کرتے ہیں اور کیا سمجھتے ہیں ۔ اگر مجھے ایک اعتراف کر لینے دیں تو میں کہوں گا کہ میرے نزدیک ان دوسروں کی بہت اہمیت نہیں ہے ۔ یہ لوگ میں جن کے آگے بچھا جاتا ہوں ۔ یہ لوگ جن کی ناراضی،جن کی محبت ، جن کی محنت میری زندگی کا تانا بانا ہیں ان کی حیثیت بھی میرے لئے کچھ زیادہ نہیں ہے ۔ گرچہ میں شاید یہاں خود کو بہت بہتر طور پر سمجھا نہ سکوں مگر میں کوشش کرتا ہوں کہ آپ ان کی زندگی کو میری نظر سے دیکھ سکیں ۔ یہی شاید یہی میرے مسئلے کا حل بھی ہے ۔ میں بہت دیر اندھیروں میں رہ چکا ہوں اور اب مجھے جس روشنی کی تلاش ہے اس کا آغاز اسی بات سے ہو گا کہ مجھے سچ بولنا ہو گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنے آپ سے سچ۔ اگر میں آج بھی اپنے آپ سے سچ نہیں بول سکا تو پھر میں کبھی نہیں بول پاؤں گا۔

تو میں بتاؤں گا کہ یہ دوسرے لوگ میر ے لئے کیا ہیں ؟میں نے ابھی کہا کہ میرے نزدیک ان کی بہت اہمیت نہیں ہے تو جھوٹ کہا۔ نہیں یہ غیر اہم نہیں ہیں ۔ میں انہیں اہم سمجھتا ہوں ۔ بہت اہم۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ کوئی ویڈیو گیم کھیل رہے ہو اور بہت مشکل مرحلہ ہے اور آپ کے پاس ایک نہیں کئی زندگیاں ہیں ۔ گیم میں تو اکثر ایسا ہوتا ہے جب آپ کے پاس ایک نہیں کئی زندگیاں ہوتی ہیں ۔ اب آپ ایک راستے پر چلتے ہو اور بھوت آ کر آپ کو مار دیتا ہے ۔ آپ نئی زندگی شروع کرتے ہو۔ سب کچھ پہلے جیسا ہو جاتا ہے مگر ایک چیز اب کبھی نہیں ہو گی۔ آپ اب مختلف راستے پر چلو گے ۔ وہی غلطی دوبارہ نہیں کرو گے ۔ یہی ہے حقیقت ان دوسروں کی ہماری زندگیوں میں ۔ یہ لوگ ہمیں ہر لمحہ یہ بتا رہے ہوتے ہیں کہ کیونکر ہم ایک بہتر زندگی گذار سکتے ہیں یا کیونکر فلاح پا سکتے ہیں ۔ یہ دوسرے ہماری وہ زندگیاں ہیں جو خدا نے ہمیں دے رکھی ہیں بس ہم انہیں استعمال نہیں کر پاتے ۔ ایک ہی زندگی کے بل پر کھیل جیتنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

ہماری چھوٹی سی زندگی ہے ۔ بڑی fragileسی زندگی۔ یہ زندگی اتنی نازک ہے کہ ہماری ایک غلطی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بس ایک چھوٹی سی غلطی جیسے کہ ٹیرس پر بے دھیانی سے اتنا آگے جھک جانا کہ اپنا بیلنس قائم رکھنا ممکن نہ ہو ، یا پھر سڑک پار کرتے ہوئے کسی آتی بس کو دیکھ نہ پانا ہمیں ہمیشہ کے لئے زندگی سے محروم کر سکتے ہیں ۔ ساٹھ سال کی زندگی ہمیشہ ایک لمحے کی غلطی یا بے دھیانی کی محتاج رہتی ہے ۔ ایسے میں ہمیں بہت محتاط رہنا پڑتا ہے ۔ ہم جب یہ جان لیتے ہیں کہ ہم ایک hostileدنیا میں رہتے ہیں تو ہم خود ہی اپنے آپ کو ڈھال لیتے ہیں ۔ اس غلطی سے بچنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں اور ایسے میں ہمارا سب سے بڑا ہتھیار ہوتا ہے دوسروں کے تجربے سے سیکھنا۔ ہم جب غنڈے بدمعاشوں کو گلی کی نکڑ میں مرتے دیکھتے ہیں تو جان جاتے ہیں کہ یہ راستہ ہمارے لئے نہیں ہو سکتا۔ ہم زندگی میں محفوظ راستے ڈھونڈ لیتے ہیں ۔ ایک ہی راستے پر چلتے ہوئے آفس جاتے ہیں اور اگر کبھی کسی وجہ سے راستہ بلاک ہو اور ہمیں کسی انجانی سڑک سے جانا پڑے تو ہمارا جی گھبرانے لگتا ہے ۔ جب تک کہ ہم اپنی پرانی سڑک پر نہیں آ جاتے ہم پریشان رہتے ہیں ۔

تو ہماری زندگی بڑی organizedہوتی ہے ۔ ہمارا بچہ ایک دن سکول سے دیر سے آئے تو ہم گھبرا جاتے ہیں ۔ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے ہماری سانسیں تھوڑی بے قابو ہوں تو ہم ڈاکٹروں کے پاس بھاگے جاتے ہیں ۔ دفتر میں کوئی نیا صاحب آ جائے تو جی پریشان ہو جاتا ہے ۔ اور یوں ایک محفوظ راستے پر چلتے ہوئے ہم خود کو کسی متوقع حادثے سے بچا پاتے ہیں ۔ خیر ان حادثات کی بھی ایک اپنی زندگی ہوتی ہے ۔ یہ کس طرح اپنے شکاروں کو ڈھونڈ لیتے ہیں یہ بالکل ہی دوسری کہانی ہے مگر وہ پھر کبھی سہی۔

 تو یہ محفوظ راستہ ہمیں ایک دوسری طرح کی آزادی سے روشناس کرواتا ہے ۔ ایک تو آزادی وہ ہے جس کا تصور بچپن سے ہمارے ذہنوں میں انڈیلا جاتا ہے ۔ ایک مادر پدر آزادی۔ مگر ایسی آزادی ایک خواب ہے جو کسی زندگی کو سزاوار نہیں ۔ آزادی درحقیقت ایک خواب ہی ہے جس پر صرف ناسمجھ اور کم عمر لوگ ہی خوش ہو سکتے ہیں ۔ یہاں جو جتنا جانتا ہے وہ اتنا ہی غلام بنتا جاتا ہے ۔

ایک مکھی کو لیجئے ۔ وہ اپنی تخلیق کے عمل کو نہیں جانتی لیکن بڑے اعتماد سے جئے جاتی ہے ۔ ایک مکھی اپنے ملک اپنی قومیت کو نہیں جانتی مگر پھر بھی اسے سرحدوں کو عبور کرنے کے لئے کسی پاسپورٹ کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ایک مکھی ہم سے زیادہ آزاد ہے کیونکہ وہ بہت سوچتی نہیں ہے ۔ ہم اتنے ہی قید ہوتے چلے جاتے ہیں جتنا زیادہ ہم اس قید کے بارے میں سوچتے ہیں ۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ قید صرف ہمارے ذہن میں ہے ؟

ایسا ہے نہیں ۔ ایک مکھی کی بھی حدود ہیں ۔ وہ بھی گلا سڑا گوشت تو کھا لیتی ہے لیکن سبز پتے نہیں کھا سکتی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایسا کیوں ہے ؟وہی پتے جو لاکھوں دوسرے جانداروں کی غذا ہیں وہ ایک مکھی کو زندہ نہیں رکھ پاتے ۔ تو وہ مکھی تب تک تو آزاد ہے جب تک وہ انہی چیزوں کو کھاتی رہے جو اس کے کھانے کے لئے بنی ہیں ۔ وہ تب تک تو آزاد ہے جب تو وہ اپنے predatorsسے بچنے کے لئے ضروری حفاظتی تدابیر اختیار کرتی رہے (تدابیر جو شاید پرانی مکھیوں نے تجربے سے سیکھیں اور سینہ بہ سینہ اس تک پہنچا دیں یا پھر اس نے خود سیکھ لیں ۔ ہم اس بحث میں نہیں جاتے )مگر یہ حقیقت ہے کہ وہ اپنی محدود آزادی کو صرف اسی صورت میں استعمال کر پاتی ہے اگر وہ اپنی قید کو سمجھ سکے ۔

تو آزاد کوئی نہیں ہے سوائے اس کے جو اپنی قید کی حدود جانتا ہو۔ وہ شخص جو اپنی دنیا کو جانتا ہو صرف وہی آزاد ہے ۔ ایک مچھلی اس وقت تک سمندر میں گھومنے میں آزاد ہے جب تک کہ وہ ساحل کو نہ چھو لے ۔ آزادی کے اس خواب سے ایک تصور جنم لیتا ہے ۔ آزادی سے نہیں کیونکہ آزادی تو کہیں نہیں ہے ۔ ۔ ایک ایسے وجود کا تصور جو ہر شئے سے آزاد ہے ۔ جب ہمارا ذہن بڑے آرام سے اسے سوچ سکتا ہے ۔ تو پھر کیوں وہ ہو نہیں سکتا؟یہ وہ سوال ہے جس نے بہت دیر ہم انسانوں کو تڑپایا ہے ۔ آج جو بحث ہم سنتے ہیں کہ مذہب یا سائنس میں سے کون اس سوال کا جواب دے پائے گا تو مجھے کہنے دیں کہ مجھے دونوں ہی سے کوئی بہت امیدیں نہیں ہیں ۔

سائنس نے اپنی حدود کو جان لیا ہے اور وہ ان حدود کے اندر خود کو مکمل آزاد سمجھنے لگی ہے ۔ جیسے ایک بیل جسے رہٹ میں جوت دیا ہو وہ اس وقت تک خود کو آزاد سمجھتا ہے جب تک کہ وہ دائرے میں گھومتے رہنا پسند کرے ۔ لیکن اگر وہ دائرے کو توڑنا چاہے تو ایک زنجیر اسے محسوس ہو گی اور اگر وہ محض رکنا ہی چاہے تو ایک چمڑے کا کوڑا سکی کمر کو ادھیڑ دے گا۔ وہ شاید اپنی آنکھوں پر بندھے خولوں کی وجہ سے دیکھ تو نہ پائے مگر وہ جان جائے گا کہ وہ رک نہیں سکتا۔ وہ دائرے میں گھومنے کے سوا کہیں نہیں جا سکتا۔ تو سائنس وہ بیل ہے جو دائرے میں گھومتے ہوئے بھی خود کو آزاد سمجھتا ہے ۔

اور ایک مذہب ہے جو سوچتا ہے کہ اگر وہ اس دائرے کو توڑ نہیں سکتا تو یقیناً اسے اسی کام کے لئے بنایا گیا ہو گا۔ وہ یقیناً کوئی اہم کام کر رہا ہو گا۔ اور ایسے میں اسے اپنے ہی captiveسے محبت ہو جاتی ہے ۔ وہ اس کے مارے گئے کوڑوں پر لذت محسوس کرتا ہے ۔ وہ اپنے استطاعت سے زیادہ سرعت سے چلنے کی کوشش کرتا ہے ۔ یہ محبت کی باتیں ہیں ۔ اور یہ دوسرا روپ ہے ۔

میرے نزدیک یہ سوال اہم نہیں ہے ۔ میرے نزدیک آزادی اہم نہیں ہے ۔ کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم کس راستے جاتے ہیں کیونکہ ہر راستے پر ہمیں ایک ہی سوال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہر راستے کے اختتام پر ایک ہی خد ا بیٹھا ملے گا۔ سوالات کی زبان بدل جاتی ہے ۔ اگر آپ چین میں ہو تو چینی زبان میں پرچہ حل کرتے ہو، اگر ایران میں ہو تو فارسی میں ، سپین میں ہسپانوی اور امریکہ میں انگریزی میں ۔ سوالات کی formمختلف ہے ۔ جیسے ایک کسان سے پوچھے جانے والے سوالات کے تشبیہات اور استعارے اس کے ماحول سے اٹھائے جائیں گے تاکہ وہ سوال کو صحیح طرح سے سمجھ سکے جبکہ ایک ماہر فلکیات سے پوچھے جانے والے سوالات میں کائنات کی وسعتوں اور بلیک ہولز جیسے الفاظ لئے جائیں گے ۔ سوالات کی relevanceکی بات آئے گی۔ آپ ایک غریب سے دولت خرچ کرنے کا حساب نہیں لے پائیں گے اور امیر شخص بھوک کی حقیقت کو کبھی نہ سمجھ پائے گا۔ اور ایسے ہی سوالات بدلتے نظر آتے ہیں مگر ان سوالات کی اصل ایک ہے ۔ ایک ہی خدا ہمارا حساب کرے گا تو حساب کا criterionبھی ایک ہی ہو گا۔ وہ بس ہمیں لگتا مختلف ہے ۔

میری بات کو وہ لوگ زیادہ آسانی سے سمجھ سکیں گے جنہوں نے سفر کیا ہو یا زندگی کو ایک سے زیادہ جہتوں سے دیکھا ہو۔ شاید اسی لئے سفر کو علم حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ قرار دیا گیا ہے ۔ وہ لوگ میری بات سے اتفاق کریں گے کہ آ پ کی زندگی خواہ کتنی بھی بدل کیوں نہ جائے بنیادی سوالات نہیں بدلتے ۔ آپ اندرون سندھ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتے ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گاؤں جس میں سڑک دیکھے ہوئے آپ کو مہینے گذر جاتے ہیں ۔ جہاں اتنے پیسوں میں لوگ پورا سال گذار سکتے ہیں جن میں شہر میں ہمارا ایک دن گزارنا مشکل ہوتا ہے ۔ مگر محبت، نفرت،حسد،کینہ،مروت یہ سب الفاظ وہاں بھی ویسی ہی قدر رکھتے ہیں جیسی کہ شہروں میں ۔

یہ بنیادی سوالات ہیں کیا؟چلیں دیکھ لیتے ہیں ۔ گرچہ مجھے کہنے دیں کہ انہیں دیکھنا آسان نہیں ہے ۔ انہیں بڑے التزام سے ہماری زندگیوں میں کمیو فلاج کیا گیا ہے ۔ اس خوبصورتی سے کہ یہ ہماری روزمرہ زندگی کا ایک حصہ ہی نظر آتے ہیں ۔ لیکن جاننے والوں کی آنکھوں سے یہ کبھی پوشیدہ نہیں ہوئے ۔ کہتے ہیں کہ پیرِ کامل کی ایک نظر سے آپ کے گرد ایستادہ ساری کائنات دھڑام سے نیچے آ گرتی ہے ۔ سچ بس اتنا ہے کہ حقیقت ان کے سامنے کھلی ہوتی ہے اور وہ جب اس کا پرتو ہمیں دکھاتے ہیں تو ہماری کائنات بدل جاتی ہے ۔ ہمیں سمجھنا ہو گا کہ زندگی ہے کیا اور اس کا بنیادی سوال کیا ہے ؟اور آخر اس امتحان کی essenceکیا ہے ؟

اس کی essenceخواہش سے نجات نہیں ہے جیسا کہ بدھا نے کہا تھا۔ کہ خواہش سے نجات تو ممکن ہی نہیں ہے ۔ ایک ناممکن چیز زندگی کا مقصد نہیں ہو سکتی۔ بدھا کا راستہ صحیح تھا۔ وہ جس لگن سے منزل کی طرف جاتا تھا وہ اپنے آپ میں ایک معجزہ تھا مگر منزلیں محنت سے نہیں فضلِ الہی سے ملا کرتی ہیں ۔ اسی لئے نبوت کوئی ایسی شئے نہیں جس کے اوپر کوئی استحقاق جتا سکے ۔ کوئی محنت آپ کو اس منصب پر پہنچا نہیں سکتی۔ تو محنت کرنا انسان کا کام ہے اور rewardخدا کا کام ہے ۔ اس کی نشانیاں ہر طرف بکھری پڑی ہیں اور انہی سے وہ بہت سوں کو بھٹکا دیتا ہے اور بہت سوں کو سیدھا راستہ دکھاتا ہے ۔ بدھا کی مثال اس مسافر کی ہے جس نے کسی شہر کے خواب میں برسوں سفر کیا ہو۔ ایک مسافر جس کے پاس خلوص،ہمت اور استقامت سب کچھ ہو مگر جو شہر کو جانتا نہ ہو۔ اور پھر وہ برسوں کے بعد شہر کی فصیلوں تک جا پہنچے تو اسے اپنے سامنے پتھر کی فلک شگاف دیوار دکھائی دے ۔ وہ اسے توڑ نہ پائے تو یہی سمجھ لے کہ میرا شہر آ پہنچا ہے ۔ فصیلوں سے باہر بھی شہر کے آثار ہو سکتے ہیں ۔ چند دکانیں جو آنے والے مسافروں کی سیوا کو کھلی ہوں ، چند دفاتر وغیرہ۔ وہ اسے ہی شہر سمجھ کر بیٹھ جائے اور سامانِ سفر کھول لے ۔ بدھا بہت دور تک پہنچا پر حقیقت کو نہیں پہنچ سکا۔

ایک دوسرے جوگی کا قصہ ہے ۔ اور جوگی صرف وہ تو نہیں ہوتا جو لنگی پہنے ویرانوں میں بیٹھا ہو۔ اصل جوگی نفیس کوٹ پتلون اور بڑی بڑی کاروں میں ہمارے آس پاس گھومتے ہیں مگر ہم انہیں پہچان ہی نہیں پاتے ۔ شاید وہ اسی لئے ایسے گھومتے ہیں کہ ہم انہیں پہچان نہ پائیں ۔ اگر کوئی اپنے اوپر بڑے بڑے اشتہار لگائے پھرتا نظر آئے کہ میں بہت بڑا دانشور ہوں تو آپ اس کے بارے میں کیا سوچو گے ؟ ایسے ہی جب میں بھبھوت رمائے جوگی دیکھتا ہوں تو مجھے ایک uneasyسا احساس ہوتا ہے ۔ جب کہ اصل جوگی ہمارے اردگرد ہوتے ہیں ۔ وہ جو خالق کی اصل منشا جاننے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں ۔ وہ جو اسے پہچاننا چاہتے ہیں وہ بھلا اداس اور گم کردہ راہ اور گندے کیونکر ہو سکتے ہیں ۔ یہ لوگ تو ہمارے اردگرد ہوتے ہیں اور ہمیں کام کرتے نظر آتے ہیں کہ خالق کو اس کی کائنات کے ساتھ ہی پہچانا جا سکتا ہے ۔ اور یہ لوگ ہمیں کائنات کے اندر ایسے ہی پیوست نظر آئیں گے کہ انہیں علیٰحدہ نہیں کیا جا سکے گا۔

تو یہ ایک جوگی کا قصہ ہے ۔ ایک جوگی اور شہرِ خواہش کا۔ اس جوگی نے خواہش کو مارنے کے لئے بڑے جتن کئے ۔ بڑی ریاضتیں کیں اور پھر اسے لگا کہ خواہشیں کم ہوتی جا رہی ہیں ۔ یہاں تک کہ سب خواہشیں ختم ہوئیں اور وہ اپنی جگہ سے اٹھا کہ کامیاب ہو گیا مگر اسے نجانے کیوں ابھی کامیابی کا احساس نہیں ہو رہا تھا۔ کچھ تھا جو اسے بتا رہا تھا کہ وہ ہار گیا۔ اس نے دل کو ٹٹولا تو وہاں اب چھوٹی چھوٹی خواہشات تو نہ تھیں مگر اب ایک اژدہے جیسے خواہش پھنکارتی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خواہشات کے مٹ جانے کی خواہش۔ یہ بھی تو ایک خواہش ہی تھی نہ۔ کیا چیز تھی جو اسے دوسروں سے مختلف بناتی تھی۔ نہیں سچائی کہیں اور تھی۔ ہم بھاگ نہیں سکتے ۔ بھاگ سکتے ہیں تو کہیں پہنچ نہیں سکتے ۔ اس خالقِ کائنات نے کوئی چیز بے مقصد نہیں بنائی۔ خواہش کا بیج اس لئے تو نہیں لگایا گیا کہ ہم اسے بن چاہے اپنڈکس کی طرح جسم سے نکال کر پھینک دیں ۔ یہ یقیناً ایک امتحان ہے اور بہت سخت امتحان ہے مگر امتحانوں سے بھاگا نہیں جاتا۔

تو ہمارے اس جوگی نے ایک شہر کا خواب دیکھا۔ شہر کبھی بھی انسانوں کے رہنے کے لئے نہیں بنائے گئے (تبھی تو انسان کبھی ان میں رہتے ہوئے وہ serenityنہیں محسوس کر سکتے جو وہ گاؤں یا دور دراز کے علاقوں میں محسوس کرتے ہیں )۔ شہر اصل میں ایک ایسا قلعہ تھا جہاں خواہشات کو لا بھرا گیا تھا۔ یہاں ہر خواہش پوری کی جاتی ہے اور پھر جیسے کوئی دریا پر رہتا ہے تو اس کی طبیعت پانی سے سیر ہو جاتی ہے شہر میں رہنے والے بھی آہستہ آہستہ خواہش سے سیر ہونا شروع ہو جاتے ہیں ۔ جب صحراؤں کا بھٹکا پہلی بار دریا کنارے پہنچتا ہے تو وہ پاگلوں کی طرح پانی پیتا ہے ۔ کئی مرتبہ پانی پی پی کر مر بھی سکتا ہے ۔ مگر وہ کچھ دن یہاں رہے گا تو سب سمجھ جائے گا۔ یہی اس جگہ کا دستور ہے ۔ یہی خواہش نگر کی داستان ہے ۔ یہاں خواہشات کی تکمیل یا پھر تکمیل کا خواب انڈیل دیا جاتا ہے اور لوگ خواہش سے بلند ہو کر زندگیاں گذارتے ہیں ۔ صرف چند ایک رشی منی نہیں بلکہ عام لوگ۔ یہ جوگی اور رشی منی لوگ اپنی اپنی تپسیا میں یہ بھول جاتے ہیں کہ زندگی صرف انہوں نے نہیں گذارنی ہوتی بلکہ سب نے گذارنی ہوتی ہے اور صحیح راستہ وہی ہو سکتا ہے جہاں سے سب اسی جگہ پہنچ سکیں جہاں پہنچنا ہے ۔ اور ایسا راستہ صرف خواہش نگر سے ہو کر ہی جاتا ہے ۔

انسانیت شعوری طور پر ابھی اتنی بالغ نہیں ہوئی جتنی لاشعوری طور پر ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم خواہش سے فرار کی بے پناہ آرزو کے باوجود اس راستے پر نہیں چلتے کہ وہ بقا نہیں فنا کا راستہ ہے ۔ ہاں وجدان اور شعور کے بیچ فاصلہ ہمیں دکھی رکھتا ہے ۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ یہ دکھ ،یہ بے چینی بڑے بڑے بزرگوں کو ملنے والے نروان سے بہرحال بہتر ہے ۔

٭٭٭