کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

ایک گھنٹہ

سید اسد علی


وہ ہر لحاظ سے ایک نارمل لڑکا تھا۔ ذہین،صحت مند،خوبصورت اور پر امید۔ لیکن وہ نارمل نہیں تھا۔ مگر اس سے پہلے کہ میں آپ کو اس لڑکے کی کہانی سناؤں میں اپنے پیشے کا ایک چھوٹا سا راز بتانا چاہتا ہوں ۔

حقیقی معنوں میں یہ لفظ نارمل ایک دھوکا ہی ہے ۔ نارمل کوئی نہیں ہوتا۔ دنیا میں ارب ہا لوگ گھومتے ہیں اور ہزاروں لوگوں کا احوال تاریخ کی کتابوں میں درج ہے پر یقین کریں کہ ان میں سے ایک شخص بھی نارمل نہیں تھا۔ یہ لفظ درحقیقت ایک فسانہ ہے جو ہم نے کم علمی کو چھپانے کے لئے گھڑ رکھا ہے ۔ آپ بھی سوچ رہے ہونگے کہ ایسی توجیہہ گھڑنے سے بھلا کوئی کیسے مطمئن ہو سکتا ہے ؟

آپ ایسا سوچ سکتے ہیں کیونکہ آپ ایک معالج نہیں ہیں ۔ اور یہاں معالج سے مراد میری طرح ماہرِ نفسیات ہونا ضروری نہیں ہے ۔ آپ کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتے ہو۔ ایلو پیتھک،ہومیو پیتھک،روحانی طریقہ علاج،حکمت تو آپ میری بات سمجھ سکتے ہو کہ ایک فرضی بیماری کس طرح مریضوں کو مطمئن کرنے کی طاقت رکھتی ہے ۔

یہ مریض جب آپ کے پاس آتے ہیں تو ان کی آنکھوں میں ایک امید ہوتی ہے ۔ ان کے کان منتظر ہوتے ہیں کہ ہم معائنے کے بعد انہیں کسی بیماری کا مژدہ سنا سکیں ۔ اگر یہاں آپ مریض کو جانچنے کے بعد کہتے ہو کہ نہیں میاں تم تو بھلے چنگے ہو تو یقین کیجئے کہ ان کے اندر بہت اداسی پھیل جائے گی۔ گرچہ بہت ممکن ہے کہ بظاہر وہ بہت خوشی کا اظہار بھی کریں مگر میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ وہ خوشی بڑی کھوکھلی ہوتی ہے ۔ وہ بس مروت کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں ۔ وہ ظاہرا خوشی دکھاتے ہیں مگر دل کے اندر ہماری نالائقی پر تین حرف بھیج رہے ہوتے ہیں ۔

اور وجہ یہی ہے کہ لوگ ڈاکٹروں کے پاس اس لئے نہیں جاتے کہ انہیں سجے سجائے دفاتر کو دیکھنے کی آرزو ہوتی ہے یا پھر وہ عمدہ سوٹ پہنے کسی پر وقار سے شخص سے ملنا چاہتے ہیں ۔ نہیں جناب! وہ لوگ اپنا قیمتی وقت نکال کر یہاں آئے ہیں ۔ انہوں نے بہت دیر تک ویٹنگ روم میں انتظار کیا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور یہ سب اس لئے کہ انہیں کوئی مسئلہ درپیش ہے ۔ کچھ ایسا جسے وہ سمجھ نہیں سکتے بس چند نشانیاں ان پر ظاہر ہوتی ہیں ۔ کسی کو سر کے پچھلے حصے میں درد ہے ،کسی کے بازو سن ہوئے جاتے ہیں ،کوئی پیٹ میں کنکھجورے رینگتے محسوس کرتا ہے ۔ وہ سب بہت گھبرائے ہوئے ہوتے ہیں کیونکہ ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا ہوتا۔ تو وہ سمجھتے نہیں ہیں مگر یہ جو کچھ بھی ہے ان کا اپنا ہے ۔ وہ اپنے ان دیکھے دشمن کے ساتھ گویا ایک Peaceful co-existenceمیں رہ رہے ہوتے ہیں ۔ یہ تو وہ بھی جانتے ہیں کہ جو وہ محسوس کرتے ہیں ویسا ہے نہیں ۔ انہیں مکمل یقین ہے کہ ان کے پیٹ میں کوئی کنکھجورا نہیں ہے مگر کچھ ہے ۔ اور ایسے میں ایک توجیہہ کہ یہ سب کوئی بیماری ہے اور اسے دور کیا جا سکتا ہے خاصی طمانیت خیز چیز ہوتی ہے ۔ اب ایسے میں اگر ڈاکٹر انہیں بتائے کہ وہ بھلے چنگے ہیں انہیں کوئی بیماری نہیں ہے تو وہ اندر سے لرز جاتے ہیں ۔ ایک بہت بڑا سوال ان کی روح میں در آتا ہے ۔

’’تو میں بالکل ٹھیک ہوں ۔ ڈاکٹر یہی کہتا ہے ۔ پر اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ میں تکلیف میں نہیں ہوں ۔ اس کا تو صرف یہ مطلب ہے کہ میرے مرض کا علاج اس کے پاس نہیں ہے ۔ ‘‘  تکلیف ایک حقیقت ہے اور اب بدلا صرف یہ ہے کہ اسے علاج کے لئے کوئی اور در کھٹکھٹانا پڑے گا۔ مختلف مہاتریوں اور عطایوں کے ہتھے چڑھنا پڑے گا۔ کتنا اچھا ہوتا کہ کوئی بیماری نکل آتی اور چند دنوں کی کڑوی کسیلی دواؤں کے بعد وہ صحت یاب ہو جاتا۔

ایسے لوگوں کی امید نہ ٹوٹے اسی لئے معالجین نے چند اہم اصطلاحات وضع کر لیں ۔ انہوں نے فرضی بیماریوں اور بے ضرر دواؤں سے علاج کا ایک ingeniousطریقہ نکالا ہے ۔ اب آپ کو کوئی بھی ڈاکٹر یہ کہتا نہ ملے گا کہ آپ کو کوئی بیماری نہیں ہے ۔ نہیں جناب یہ جملہ اب متروکات میں شامل ہے ۔ آپ کسی بھی معالج کے پاس چلے جائیں تو وہ تھوڑی ہی دیر میں آپ کے مرض کی تشخیص کر ڈالے گا۔ یا پھر ٹیسٹ پر ٹیسٹ تجویز کرتا رہے گا تاکہ امید کا دامن نہ چھوٹے ۔

لیکن درحقیقت یہ ایک دھوکہ ہے ۔ حقیقت یہی کہ ہم سب بہت مختلف ہیں ۔ ایک اندھا شخص بھی اتنا ہی مکمل ہے جتنے ہم سب آنکھوں والے ۔ ہم بیمار ہیں تو صرفrelative termمیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک بیمار معاشرے میں اپنی فعالیت کے لحاظ سے ۔ وگرنہ ایک صحت مند معاشرہ تو وہی ہوتا ہے جو ہر ایک سے ان کی اہلیت کے مطابق حاصل کر سکے ۔

پر ہم یوٹوپیا میں نہیں رہتے ۔ یہاں حساب مختلف ہے ۔ یہاں سب کو ایک ہی سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ ایسے میں نارمل انسان جیسا فکشن سامنے لایا جا تا ہے اور سب کو ضروری کانٹ چھانٹ یا مناسب اضافوں کے ساتھ اس میں ڈھالنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔

بات بہت دور نکل گئی۔ مجھے تو اس لڑکے کی کہانی سنانی ہے جسے میرے سامنے لایا گیا تھا اور مجھے تو اس میں کوئی کمی نظر نہیں آتی تھی۔ وہ تیرہ چودہ سال کا ایک صحت مند لڑکا تھا جو سلیقے سے بنائے ہوئے بالوں اور فیشن ایبل کپڑوں میں خاصا سلجھا ہوا نظر آ رہا تھا۔ بس اس کی آنکھوں میں ایک گونہ لاتعلقی تھی۔ پریہ اتنی عجیب بات نہیں تھی کیونکہ نفسیاتی معالج کے پاس لائے گئے مریض تھوڑے defensiveتو وہ ہوتے ہی ہیں ۔ انہیں لگتا ہے کہ شاید ہم کسی جادوئی طریقے سے ان کے ذہن میں جھانک کر ایسی چیزیں نکال لائیں گے جنہیں وہ نجانے کب سے چھپائے بیٹھے ہیں ۔ میں مانتا ہوں کہ یہ ایسا جھوٹ بھی نہیں ہے ۔ پر ہم کوئی حقیقی طاقت نہیں رکھتے ۔ ہمارے طریقہ بہت سادہ ہے ۔ ہم نے اپنے مریضوں کو خوفزدہ کرنے کے کچھ طریقے سیکھ رکھے ہیں ۔ ہم بس bluffکرتے ہیں ،انہیں ڈراتے ہیں کہ ہم ابھی ان کے راز تک پہنچ جائیں گے (راز جو اتنا مقدس ہوتا ہے کہ وہ خود بھی اسے نہیں جانتے ۔ راز جو لاشعور کی پاتال گہرائیوں میں چھپا رہتا ہے )۔ وہ بیچارے سہم جاتے ہیں اور اپنے اندر اس متاعِ عزیز کو مضبوطی سے بھینچ لینے کی ناقابلِ برداشت urgeمحسوس کرتے ہیں ۔ وہ اس جستجو میں اسے ذہن کے نہاں خانوں سے نکال کر شعور میں لے آتے ہیں ۔ جیسے کوئی بس میں بیٹھ کر بار بار جیب تھپتھپا کر یقین کرتا رہے کہ بٹوہ موجود ہے یا نہیں ۔ اسے خبر ہو یا نہ ہو پر بس میں موجود ہر شخص بٹوے میں چھپی کسی بڑی رقم کی موجودگی محسوس کر لیتا ہے ۔ ایسے میں تو تائب ہونے والے جیب کترے کو بھی بار بار خود سے لڑنا پڑتا ہے کہ وہ کیونکر ایسا سنہرا موقع ہاتھ سے جانے دے ۔ اگر وہ جیب کاٹتا ہے تو خود سے کیا وعدہ توڑتا ہے اور اگر نہیں کاٹتا تو اپنی ہی نظروں میں بیوقوف ٹھہرتا ہے ۔ پھر وہ نہیں تو کوئی اور تو یہ جیب کاٹ ہی لے گا۔ ایسے بہت سے سوالات بس میں چکراتے رہتے ہیں ۔

تو ہمارے مریض بھی اپنی پوشیدہ حقیقتوں کو ایسی جگہ لے آتے ہیں جہاں وہ نگاہوں سے اوجھل نہیں رہ سکتیں ۔ تو ہماری کامیابی اسی خوف میں مضمر ہے جو ہم ان میں پیدا کرتے ہیں ۔

یہ سب سطحی باتیں ہیں کہ نفسیاتی معالج اپنے مریض کا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اعتماد کیسا؟ وہ جانتے ہیں کہ آپ ان کے دوست نہیں ہو۔ بے غرض نہیں ہو۔ آپ کو ان کے خوابوں اور آرزوؤں سے کوئی مطلب نہیں ہے ۔ وہ آگاہ ہیں کہ آپ ان کی سب سے قیمتی متاع کے پیچھے ہو۔ وہ اتنے بیوقوف نہیں ہیں کہ آپ پر اعتماد کر سکیں ۔ وہ بھی ایک کھیل کھیل رہے ہیں ۔ جیسے آپ ان کا اعتماد جیتنے کے لئے خود کو بڑا ہمدرد،بڑا محبت کرنے والا ظاہر کرتے ہو بعینہ ویسے ہی وہ اتنے خلوص کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ جیسے واقعی آپ پر یقین کر بیٹھے ہوں ۔ it's a game of intense flirtationاور جیتتا وہی ہے جسے اپنے اعصاب پر زیادہ کنٹرول ہوتا ہے ۔

تو یہ اس کی آنکھوں کی لاتعلقی نہیں تھی بلکہ وہ چہرہ تھا جو کسی مضبوط قلعے کی طرح ہر طرف سے  unapproachableتھا۔  اور پھر وہ واقعہ جو اس کی ماں نے سنایا تھا وہ بھی عام تجربے میں آنے والا نہیں تھا۔ وہ واقعہ بظاہر ایک چھوٹا سا بے ضرر incidentنظر آتا تھا مگر اس کی پڑھی لکھی ماں اس میں مضمر خطرات بھانپ گئی تھی۔ اسی لئے انہوں نے فوراً چند ماہرینِ نفسیات سے رجوع کیا پر apparentlyانہیں کوئی کامیابی نہ ہو سکی۔ میں نے جانتا کہ کس نے اس کی ماں کو میرے بارے میں بتایا مگر تب میں نیا نیا اس شہر میں اپنا کام شروع کر رہا تھا اور ایسے میں کوئی ناکامی affordکرنا میرے لئے ممکن نہیں تھا۔ ہمارے کام میں تو بس reputationہی سب کچھ ہوتی ہے ۔

ماں کے خیال میں وہ ایک غیر معمولی ذہانت اور صلاحیتوں کا بچہ تھا لیکن وہ اس کے لئے بہت پریشان تھی۔ اتنی پریشان تو میں نے لوگوں کو آپریشن تھیٹر کے باہر بھی نہیں دیکھا تھا۔

’’میرے husbandتو کہتے ہیں کہ یہ چھوٹی بات ہے ۔ بچے ایسا کر ہی سکتے ہیں ۔ پر مجھے پتہ ہے کہ یہ بہت اہم ہے ۔ ایسا ایک واقعہ ہماری پوری زندگی کا رخ بدلنے کی اہلیت رکھتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میرا بیٹا ایک winnerہے ۔ He is always been a winner۔ لیکن آپ جانتے ہیں کیا ہوا؟وہ ریس میں دوسری پوزیشن پر آیا  اصل کرنے اا وقت تھا۔ ت ہے ۔ ‘‘

مجھے لگا کہ بیٹے کی فکر چھوڑ کر مجھے ماں کا علاج کرنا چاہیے ۔ اتنی سی بات پر اتنا ہنگامہ؟اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا وہ پھر بول پڑی۔

’’نہیں نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ڈاکٹر صاحب اتنی جلدی کوئی رائے قائم نہیں کیجئے ۔ میں بیوقوف نہیں ہوں ۔ یہ دوسری پوزیشن کی بات نہیں بلکہ اس کا وہ اقدام ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ جیت رہا تھا۔ بڑے آرام سے جیت رہا تھا اور پھر آخری دس سیکنڈ میں جیسے اس نے بھاگنا چھوڑ دیا ہو۔ کچھ تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ڈاکٹر صاحب اس کے ذہن میں کچھ تھا جس نے اسے ایسا کرنے پر مجبور کیا۔ مجھے شکست کی پروا نہیں پر مجھے اس کی سوچ سے خوف آ رہا ہے ۔ وہ زندگی سے کیسے لڑے گا؟‘‘

’’Aren't you a little harsh on your child?۔ ایسا بھی تو ہو سکتا ہے کہ وہ تھک گیا ہو؟‘‘

’’ایسا ہو سکتا تھا پر ایسی صورت میں میں یہاں آپ کے پاس نہ بیٹھی ہوتی۔ وہ میرا بیٹا ہے ۔ میں اسے اچھی طرح جانتی ہوں ۔ بات کوئی اور ہے ۔ ایتھلیٹ تھکتے نہیں ہیں ۔ وہ تو finish lineکے بعد بھی بھاگے چلے جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن وہ جان بوجھ کر رک گیا۔ ڈاکٹر صاحب یقین کریں کہ کوئی بہت بڑی بات ہے ۔ میں تو ڈر رہی ہوں ۔ ‘‘

مجھے اس کی بات پر بالکل بھی یقین نہیں تھا یہاں تک کہ میں نے اس لڑکے کو دیکھ لیا۔ اسے دیکھ کر مجھے ایک عجیب سا احساس ہوا۔ جیسے کوئی ناقابلِ تسخیر قلعہ ہو۔ آپ اس کے اردگرد گھومتے ہو کہ کوئی کمزور دیوار،کوئی رخنہ ڈھونڈ سکو پر ہر طرف سیسہ پلائی دیواریں ہیں ۔ دیواریں جن میں نہ نظر آنے والی آنکھیں آپ پر ہنستی ہیں ۔ اس کے اندر بھی کچھ ایسا ہی تھا۔

مجھے اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا۔ کوئی میرے اندر کہہ رہا تھا کہ تم یہ نہیں کر سکو گے ۔ پر میں اپنا خوف کسی پر ظاہر نہیں کر سکتا تھا۔ جیسے دل کے درد میں مبتلا شخص کو لوگ اٹھا کر کسی عطائی کے پاس لے جائیں اور اس کے ہاتھ پاؤں پھول جائیں ۔ اس نے بڑی محنت سے چند دواؤں کا استعمال سیکھ کر معاشرے میں اپنی ایک safe heavenبنا رکھی تھی اور اب اگر کچھ ہو گیا تو سب برباد ہو جائے گا۔ میری ناکامی بھی اس شہر میں میرا کاروبار متاثر کر سکتی تھی۔

یہاں میں بتاتا چلوں کہ میں اس شہر میں نیا ضرور تھا مگر I was no spring chicken۔ میں بہت سے مریضوں کا علاج کر چکا تھا۔ ان میں ایسی لڑکیاں تھیں جنہیں میرے پاس لایا گیا تو ان کے ہاتھ پاؤں عجب انداز سے مڑے تھے اور ان کے حلق سے جناتی آوازیں نکلتی تھیں لیکن میرے لئے وہ just another day on jobتھا۔ پر یہاں کچھ مختلف تھا۔ جیسے کوئی شکاری اپنے سامنے بھاگتا ہوا شیر دیکھے تو اس کے جسم میں سنسنی بڑھ جاتی ہے ۔ اسی split secondکی سنسنی کے لئے تو لوگ شکار کھیلتے ہیں ۔ وہ جانتے ہیں کہ درندہ لاکھ خونخوار سہی مگر گولی سے تیز نہیں بھاگ سکتا۔ تو وہ مطمئن ہوتے ہیں ۔ پر اگر گھنے جنگل میں چلتے ہوئے کوئی بہت قریب سے درندے کی آواز سنے پر اپنے اردگرد بے پناہ جھاڑیوں اور درختوں کی بدولت کچھ دیکھ نہ پائے تو خوف لازم ہو جاتا ہے ۔ اب کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔ مقابلہ اب گولی کی رفتار اور درندے کی دوڑ کا نہیں آپ کا ہے اور انسان اتنا طاقتور، اتنا پھرتیلا کہاں ہوتا ہے ؟

وہ اب میرے سامنے بیٹھا تھا۔ مجھے اب اس سے کچھ کہنا تھا۔ مجھ سے پہلے اس سے یقیناً بہت کچھ پوچھا گیا ہو گا۔ میں اسے دیکھ کر بتا سکتا تھا کہ اس نے یقیناً بہت تحمل اور سکون سے سوالوں کا جوا ب دیا ہو گا۔ اس کے جواب لاکھ منطقی سہی مگر وہ بناوٹی تھے ۔ وہ دل کو مطمئن نہیں کر سکتے تھے ۔ ایسے میں میں اس سے کیا پوچھتا؟ میں unconventionalانداز میں فوراً ہی مدعا پر آ گیا۔

’’تم اس دن رک کیوں گئے تھے ؟‘‘

میں نے دیکھا کہ وہ تھوڑا سا کسمسایا۔ اسے یقیناً مجھ سے ایسے سوال کی توقع نہیں تھی۔ پر پھر فوراً ہی اس نے خود پر قابو پا لیا۔

’’اتنی بھاری فیس اور اتنی بڑی ڈگریوں کو دیکھ کر میں تو سمجھا تھا کہ آپ کچھ اور پوچھو گے ۔ یہ سوال تو میں بار بار سن چکا ہوں ۔ Frankly speaking I was hoping something better‘‘

’’اور تم یقیناً مایوس نہیں ہوئے ہو گے جب دوسرے لوگوں نے تمہاری توقع کے مطابق سوال پوچھے ہوں گے ۔ laddering, projecting techniquesاستعمال کی ہوں گی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم نے اپنے حصے کا مزا کر لیا۔ اب آج کی بات کریں تو اہم یہ نہیں ہے کہ میں کیا سوال کرتا ہوں ۔ اہم یہ ہے کہ میں اپنا مطلوبہ جواب حاصل کر سکتا ہوں یا نہیں ؟اور جواب تو میں لے ہی لوں گا۔ I am far too experienced to be cheated by a kid like you‘‘۔

اب وہ واقعی میں حیران تھا۔ یہ سب اس کے لئے unexpectedتھا۔ اس کی ماں نے بتایا تھا کہ وہ ایک hyper intelligentلڑکا تھا۔ باتوں میں الجھا لیتا ہے ۔ اس لئے مجھے اسے شاک کرنے کے لئے کچھ مختلف کرنا پڑا۔ کچھ ایسے کہ وہ مجھے زیادہ سیریس لے ۔ مجھے ایک خطرناک شخص تصور کر کر اپنی متاع کی حفاظت کے لئے اس تک پہنچنے پر بیتاب ہو جائے ۔ تو مجھے پر اعتماد نظر آنا تھا اتنا کہ وہ سوچنے پر مجبور ہو جائے ۔

’’کہیں وہ جان تو نہیں چکا؟پر وہ کیسے جان سکتا ہے ؟ہپناٹزم، جادو،ٹیلی پیتھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ سب لفظ ہیں ۔ وہ کچھ نہیں جان پائے گا اگر میں بتانا نہ چاہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پریہ اتنا پر اعتماد کیوں ہے ؟

I will not give him the satisfaction of victory‘‘۔ اس کے ذہن میں بہت سی چیزیں چل رہی تھیں ۔ چیزیں جنہیں میں اس کے چہرے پر پڑھ سکتا تھا۔ لیکن وہ بہرحال ایک بہادر لڑکا تھا اس لئے ہمت نہیں ہارا اور بولا

’’چلیں دیکھ لیتے ہیں ۔ پوچھیے کیا پوچھنا ہے آپ کو؟‘‘

’’تم سوال سن چکے ہو۔ ‘‘

’’اس کا جواب بھی آپ سن چکے ہیں ۔ اور بتائیے اور کیا پوچھنا ہے ؟‘‘

’’تمہارے خیال میں کسی اور سوال کا کوئی فائدہ ہو گا؟‘‘

’’نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک گھنٹے کے سیشن کے بعد جو نتیجہ نکلتا ا بھی نکل آیا۔ چلتا ہوں ۔ ‘‘ وہ اپنی نشست سے اٹھ کھڑا ہوا۔

’’میں نے آپ کو جانے کے لئے نہیں کہا۔ اس کمرے سے باہر آپ کی ماما آپ کی منتظر ہیں ۔ میں انہیں جواب کے بغیر کیا منہ دکھاؤں گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا کریں ؟‘‘میں نے سوچنے کے انداز میں کہا۔

’’میں کیا کہہ سکتا ہوں ؟‘‘وہ اب لا پرواہ نظر آ رہا تھا۔

’’چلو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خود سے کچھ گھڑ لیتا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہا کہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہمم م۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہاں یہ ہو سکتا ہے ۔ سنو گے ؟‘‘

’’Whatever‘‘

’’زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ تم سنو اور ایک غیر جانبدار شخص کی طرح مجھے بتاؤ کہ اس کہانی میں جھول تو نہیں ہے ۔ اگر تم مطمئن ہو جاتے ہو تو پھر باقی لوگ بھی آسانی سے مان جائیں گے ۔ ‘‘

’’اس سب کا فائدہ؟‘‘

’’تاکہ میں اپنی فیس وصول کر سکوں اور کیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر آپ کی ماما سوشل سرکل میں میری جو تعریف کریں گی وہ الگ رہی۔ اور پھر نقصان تو تمہارا بھی کچھ نہیں ۔ روز روز کے ان چکروں سے نجات مل جائے گی۔ ‘‘

’’I don't understand you۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ I really don't۔ کچھ ہے جو مجھے بتا رہا ہے کہ مجھے یہاں سے بھاگ جانا چاہیے ۔ psychologistآپ جیسے نہیں ہوتے لیکن میں رکوں گا کیونکہ میں ڈرتا نہیں ہوں ۔ ‘‘

میں ہنس پڑا

’’میں رکوں گا کیونکہ میں ڈرتا نہیں ہوں ۔ کیا یہی وہ بات ہے جس کی وجہ سے تم رک گئے تھے ؟‘‘

’’میں سمجھا نہیں ؟‘‘

’’You are too good۔ تم ہمیشہ سے بہترین تھے ۔ جیتنا کبھی تمہارے لئے مشکل رہا ہی نہیں تھا۔ جیت میں جو rewardہوتا ہے تم اسے جانتے ہی نہیں تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہو کیسا آغاز ہے ۔ یہی سب کچھ سننا چاہتی ہیں نہ تمہاری ماما بھی؟‘‘

وہ چپ رہا۔

’’پرکیا تم ہار بھی سکتے ہو؟یہ تھا million dollar question۔ تم نے یقیناً پہلے بھی کوشش کی ہو گی پر کہیں آخری لمحے پر ایک خوف تم پر چھا گیا۔ تم کیسے سامنا کرو گے سب گھر والوں اور دوستوں کی تحقیر کا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن اس دفعہ تم کر گذرے ۔ اور جب سب سر پکڑے بیٹھے تھے تو تمہیں ایک بڑی جیت کا احساس ہوا۔ اتنی بڑی جیت۔ تم نے ایک ساتھ کتنے لوگوں کو ہرا دیا تھا۔ ان کو بھی جو ریس میں تھے بھی نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شہر کے بہترین ماہرینِ نفسیات،اپنی ذہین ماں ، اپنے دوست احباب سب کو ہرا دیا تھا۔ اتنی بڑی جیت تو تمہیں زندگی میں کبھی نہیں ملی ہو گی۔ ‘‘

’’بیکار بات ہے ۔ ‘‘اس کا چہرہ تاریک ہو گیا تھا۔

’’ٹھہرو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مکمل بات تو سن لو۔ میں اس کے بعد تمہاری چھ مہینے کی Therapyتجویز کر دوں گا۔ you already had your funاس لئے آئندہ ایسی حرکت کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔ مسئلہ حل ہو جائے گا۔ ‘‘

وہ اپنی کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا اور بولا

’’آپ بالکل بھی نہیں پہنچ سکے ہو۔ یہ مکمل خرافات ہے ۔ مجھے لوگوں کو چکرا کر بھلا کیا ملے گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ا ب میرے یہاں بیٹھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہونے والا اس لئے چلتا ہوں ۔ ‘‘

’’رکو تو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں نے کب کہا کہ یہ سچ ہے ۔ میں نے کب کہا کہ ایسا ہی ہوا ہو گا۔ وہ تو یقیناً کوئی بہت بڑا راز ہو گا۔ میں اس کی بات نہیں کر رہا کہ جو ہوا۔ میں تو بس اپنی کہانی کی بات کر رہا ہوں ۔ تمہیں کیا لگتا ہے کہ انہیں اس پر یقین آ جائے گا؟‘‘

’’اس کے چہرے پر بے یقینی تھی۔ وہ ایک خوفزدہ جانور کی طرح تھا جو ناکے میں آ چکا تھا۔ اسے اب بھی اپنی سبک رفتاری پر غرور تھا لیکن نہیں جانتا تھا کہ کس سمت بھاگے ۔ بظاہر ہر راستہ کھلا تھا مگر یقیناً کسی ایک سمت کوئی جال بچھا،ایک ناکا لگا تھا۔ وہی سمت جہاں ہانکا لگانے والے اسے بھگانا چاہتے تھے ۔ پر وہ سمت کونسی تھی وہ نہیں جانتا تھا۔

یا پھر شاید وہ جانتا تھا پر پھر بھی اسے اس سمت جانا تھا جہان ناکا لگا تھا۔ کوئی بھلا خود سے کیوں جال میں جان گرے گا؟یہ سوال آسان نہیں ہے ۔ اس کا جواب آسان نہیں ہے مگر ایسا ہوتا ہے ۔ جب ایک طاقتور جنگلی جانور کو ہانکا لگایا جاتا ہے تو وہ جانتا ہے کہ اب کیا ہو گا۔ وہ جانتا ہے کہ ایک خاموش سمت شکاریوں کا جتھہ گھات لگائے بیٹھا ہو گا۔ وہ جو برسوں سے خالی بوتلوں اور اڑتے پرندوں پر نشانے لگا لگا کر اس دن کا انتظار کرتے رہے ہیں ۔ وہ جن کے گھروں میں خواب بھری آنکھیں ان کی کامیابی کی منتظر ہیں ۔ excitementکی شدت سے جن کے مساموں سے پسینہ پھوٹ نکلا ہے جس کی خوشبو وہ یہاں اتنی دور محسوس کر سکتا ہے ۔ وہ اتنے لوگوں کو مایوس کیسے کر سکتا ہے ۔ وہ کیونکر کسی دوسری سمت چلا جائے جہاں پتلی پتلی ٹانگوں والے مدقوق مزدور ڈھول بجاتے ہوں گے ۔ درندے کو دیکھ کر جو خوف سے کانپنے لگیں گے اور ان کے پیچھے چلے آئے ان کے بچوں پر ان کی بہادری کا بھرم کھل جائے گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نہیں ایسی مضحکہ خیز صورتحال میں ایک درندہ کیونکر اپنی متانت قائم رکھ سکتا ہے ۔ تو وہ اسی سمت بھاگے گا جہاں اس کے شایانِ شان استقبال ہو۔ اور ایک درندے کے لئے اس سے بہتر استقبال کیا ہو گا کہ وہ درجنوں شکاریوں اور تیز رفتار گولیوں کے بیچ سے نکل کر بھاگ جائے ۔ یہ ایک worthy escapeہو گا اور اگر گولیوں نے اسے روک لیا تو ایک پر وقار موت ہو گی۔ یہی اس کی زندگی کی معراج ہے ۔ one has to fulfill his destiny۔

تو وہ یقیناً جانتا تھا مگر میرے بچھائے جال میں چلے آنے پر مجبور تھا۔ میں نے اسے اور الجھانے کی کوشش کی۔

’’اور پھر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم ڈر کر بھاگنے والے تو نہیں ۔ میں نے تم سے ایک گھنٹہ ہی تو مانگا ہے تاکہ سب کو یقین ہو جائے کہ میں بڑی مشکل سے منزلِ مراد پہ پہنچا ہوں ۔ اور پھر خوف کیسا۔ میں کوئی wizardتو نہیں کہ ایک گھنٹے میں وہ سب کچھ جان سکوں جسے دوسرے ہفتوں میں نہیں سمجھ سکے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بس تھوڑی دیر رکو اور مجھے اپنی کہانی straightکر لینے دو۔ اور مطمئن رہو میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ اگر تم نہیں چاہو گے تو کوئی بھی تمہارا راز نہیں جان پائے گا۔ ‘‘

لڑکے نے تھوک نگلی۔ وہ ایک بچہ تھا۔ گو ڈر رہا تھا لیکن ضدی تھا۔ انا پرست تھا۔

’’تو کیا خیال ہے تمہارا اس کہانی کے بارے میں ؟‘‘میں نے کریدا۔

وہ پھر سے کرسی پر بیٹھ گیا۔ لبوں پر زبان پھیرنے کے بعد بولا۔

’’وہ تمہاری بات پر یقین نہیں کریں گے ۔ یہ محض ایک مفروضہ ہے اور تمہیں مفروضے بنانے کے پیسے نہیں ملتے ۔ لوگ پوچھیں گے کہ تم کیسے اس نتیجے پر پہنچے تو کیا جواب دو گے ؟‘‘

’’اچھا سوال ہے ۔ بہت اچھا ہوا جو میں نے تمہیں روک لیا۔ واقعی وہ پوچھ لیتے تو میں کیا جوا ب دیتا؟ کیا کہتا؟اگر میں یہ کہوں کہ میں نے اسے دیکھا اور جان لیا۔ آخر ایک انسان کتنا چھپا سکتا ہے ۔ ہماری زبان خاموش ہوتی ہے تو آنکھیں بولتی ہیں ۔ اور اس بچے کی طرح جسے بہت کم بولنے کا موقع ملتا ہے بلاوجہ بولتی چلی جاتی ہیں ۔ اس سے بھی بہت زیادہ کہ دیتی ہیں جتنا زبان کبھی کہہ سکتی تھی۔ جسم کے مساموں سے پھوٹتا پسینہ بولتا ہے ۔ ہمارے ہاتھوں کی لرزش بولتی ہے ۔ ہماری سانسیں ،ہمارے جسم کا درجہ حرارت،ہمارے دماغ کی برقی لہریں بولتی ہیں ۔ انسان کیا چھپا سکتا ہے ؟اب دیکھو نہ تم ایک چھوٹے سے لڑکے ہو مگر ان بوڑھے سائکولوجسٹس کو دیکھتے ہی سمجھ گئے تھے کہ وہ تم سے کیا چاہتے ہیں ۔ اگر تیرہ چودہ سال کا لڑکا یہ کر سکتا ہے تو پھر میں تو یہ بہت بہتر طریقے سے کر سکتا ہوں ۔

تو کہانی یہ ہو گی کہ میں تمہیں دیکھتے ہی جان گیا تھا کہ تم نے ایسا کیوں کیا اور پھر میں نے باتوں کے ایسے جال بچھائے کہ تم پھنستے ہی چلے گئے ۔ ایسے میں ہم کچھ مشکل techniquesکے نام بھی استعمال کر گذریں گے ۔ تو تم پھنستے چلے گئے اور اپنے راز کو بچانے کے لئے لاشعور سے شعور میں لائے اور پھر کسی اور contextمیں وہ جملہ ادا کر کے اپنی جان چھڑا لی۔ اتنی سی بات ہے ۔ اور میں وہاں تھا۔ جیسے وکٹ کیپر بس ہاتھ اٹھائے منتظر رہتا ہے ۔ غلطی ہمیشہ بیٹس مین کی ہوتی ہے اسے تو بس گیند collectکرنا ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ بات ہے ۔ کیا کہتے ہو لوگ buyکریں گے ۔ ‘‘

لڑکا چپ ہو گیا۔ بہت چپ۔ پھر اس کی آنکھوں کے کونے میں آنسو تیرنے لگے ۔

’’میں ان کا سامنا کیسے کروں گا۔ میں انہیں تکلیف نہیں دینا چاہتا۔ ‘‘

’’ I know‘‘

’’آپ غلط کہہ رہے ہو بالکل غلط۔ پر وہ لوگ آ پ کی بات پر یقین کر لیں گے اور مجھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘وہ روہانسا ہو کر خاموش ہو گیا۔

’’ارے ارے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ تو بس ایک تجویز تھی۔ اگر تمہیں پسند نہیں آئی تو ہم اسے بدل دیتے ہیں ۔ ہمارے پاس ابھی کافی دیر باقی ہے ۔ ‘‘

لڑکے نے مجھے بے یقینی سے دیکھا۔ میں بولتا رہا۔

’’یہ ریس سے ایک دن پہلے کی بات ہے جب تم نے اسے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا نام تھا اسکا؟‘‘

’’کس کا؟‘‘اس نے حیرانگی سے پوچھا۔

’’وہی جو دوسرے نمبر پرا ٓیا تھا۔ ‘‘

’’کون؟ مسعود؟‘‘

’’ہاں ہاں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مسعود۔ تم نے مسعود کو گراؤنڈ میں بھاگتے دیکھا۔ وہ پاگلوں کی طرح بھاگ رہا تھا۔ اس کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا۔ اس کی شرٹ پسینے سے بھر چکی تھی پر وہ بھاگ رہا تھا۔ تم نے اسے ایک دوست سے باتیں کرتے بھی سنا جہاں وہ کہہ رہا تھا کہ کاش وہ زندگی میں ایک بار جیت سکے ۔ صرف ایک بار تاکہ اپنی ماں کی نظروں میں سرخرو ہو سکے ۔ وہ جانتا تھا کہ تمہارے ہوتے یہ ناممکن ہے پر اس نے کہا کہ معجزے بھی تو ہوتے ہیں ۔ اور اس سمے تم نے فیصلہ کر لیا کہ اس بار وہی جیتے گا۔ ایک بار۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بس ایک بار۔ ‘‘

وہ مزید الجھ گیا۔

’’اب کیا خیال ہے کہ کہانی چلے گی یا نہیں ؟‘‘

’’میری ماں مجھے سینے سے لگا لے گی۔ she has this thing for social work۔ پر ویسے سوچیں تو پلاٹ خاصا کمزور ہے ۔ پھر مسعود تو بالکل ہی بیوقوف سا لڑکا ہے ۔ ذرا بھی sensitiveنہیں ہے ۔ ‘‘وہ مسکرا کر بولا۔

’’پر یہ بات صرف تم جانتے ہو تمہاری ماں نہیں ۔ ‘‘

’’ہاں یہ تو ہے ۔ ‘‘

’’تو پھر فائنل کریں اور اس صورت میں تو تمہیں Therapyکی ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔ ‘‘میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔

’’نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ Thank you۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ Thank you for everything۔ ‘‘

’’Mention not‘‘

وہ کرسی سے اٹھا اور دروازے تک گیا تو میں نے آواز لگائی۔

’’کیا تم دوبارہ ریس میں حصہ لو گے ؟‘‘

’’ بہت جلد۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اس مرتبہ مسعود جتنا بھی گڑگڑا لے مگر میں اسے ہرا کر ہی دم لوں گا۔ ‘‘ہم دونوں نے قہقہ لگایا۔ وہ جانے کو مڑا مگر پھر رک گیا اور مجھ سے پوچھا۔

’’سر کیا آپ نے کبھی ریس میں حصہ لیا ہے ؟‘‘

’’نہیں ‘‘

’’پتہ ہے میں بھاگنا چاہتا ہوں ۔ صرف جیتنے کے لئے نہیں بھاگنے کے لئے ۔ جب آپ بھاگتے ہو نہ تو لگتا ہے جیسے آپ کے اردگرد کی ساری دنیا freezeہو گئی ہو۔ لوگوں کے چہرے جیسے ہوا میں اٹھ جاتے ہیں اور magnifyہو کر ٹھہر جاتے ہیں ۔ شاید وہاں بہت شور ہوتا ہو گا پر میں کچھ بھی سن نہیں پاتا۔ آوازیں جیسے پھولوں میں ڈھل جاتی ہیں جن کی خوشبوئیں تیز ہوا کی طرح آپ کو آگے دھکیلے جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ سب اتنا خوبصورت ہے کہ میں ہر روز دوڑنے پر تیا ر ہوں ۔

پر جیسے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جیسے کبھی کسی خوبصورت باغ سے گذرتے ہوئے آپ لالچی ہو جاتے ہو۔ وہاں ٹھہرنے کو جی کرتا ہے تاکہ وہاں کی خوشبو، ان رنگوں کو اپنے اندر سمیٹ سکو۔ میں بھی لالچی ہو گیا تھا۔

I was lost in the beauty۔ مجھے لگا جیسے یہ خوبصورتی اصل ہے اور وہ finish lineایک دھوکہI was taken aback by the very thoughtلیکن یہ بس ایک لمحے کو تھا۔ بس ایک لمحہ۔ ‘‘

’’میں جانتا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پر شاید ایک چیز تم نہیں جانتے ۔ تم نہیں جانتے کیونکہ ابھی تمہیں دنیا کو دیکھنا ہے ۔ ابھی تجربے کی بھٹی سے گذرنا ہے ۔ یہ لمحہ جسے تم بے ضرر جان رہے ہو بڑی عجیب چیز ہوتا ہے ۔ زندگی کے سفر میں ایک لمحہ کوئی چیز نہیں ہوتا پر میں نے ایسے لوگ دیکھے ہیں جنہوں نے اپنی ساری زندگی ایک لمحے میں بسر کر دی۔ یہ لمحوں کے قیدی بلبلوں میں بل کھاتے ریت کے ذرے کی طرح ہوتے ہیں جن کی ساری حرکت بے ثمر ہوتی ہے ۔ یہ باقی عمر زندہ لاشوں کی طرح گھسیٹے جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ But I know you are too smart to be deceived by those moments‘‘

وہ مسکرایا اور محبت بھرے انداز میں میری طرف دیکھتا ہوا باہر چلا گیا۔

٭٭٭