کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

Being Asad Ali

سید اسد علی


میرے دوست نے مجھ سے ایک معصوم سوال پوچھا۔ کیا تم بتا پاؤ گے کہ اسد علی ہونا کیسا ہے ؟ اور میں اس سوال کا جواب کھوجنے نکلا تو مجھے لگا جیسے میں کبھی اس سوال کا جواب ڈھونڈ نہیں پاؤں گا۔ پر میں غلط تھا۔ ہر سوال کا جواب ہوتا ہے صرف ہم اسے دیکھ نہیں پاتے ۔ جواب مقدس پہاڑ کی طرح ہوتے ہیں ۔ ہم میں سے ہر ایک اپنے اندر یہ خواہش پاتا ہے کہ اسے مقدس پہاڑ پر پہنچنا چاہیے اور شاید گھر کے دروازے سے باہر تو سبھی نکلتے ہیں ۔ کوئی چند قدم چلتے بھی ہوں گے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پر یہ راستہ عجیب سا راستہ ہے ۔ کبھی پہاڑ سامنے نظر ا ٓتا ہے پر آپ عمر بھر چلنے پر بھی پہنچ نہیں پاتے اور کبھی عمر بھر چلتے ہو اور پہاڑ کی جھلک بھی نہیں دیکھ پاتے ۔ ایک چیز جو میں زندگی سے سمجھا ہوں وہ یہ ہے کہ نہ پہاڑ اہم ہے اور نہ راستہ۔ نہ مشکلیں اٹھانا اہم ہیں اور نہ مشکلوں سے بچ جانا۔ اہم ہے تو بس ایک بات کہ چاہے خوشی کی برسات ہو یا پھر چاہے غم کے صحرا کی تپتی ہوا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہمیں اپنے اندر کے ایک چراغ کو روشن رکھنا ہے ۔ بس یہ چھوٹا سا کام ہے ہمارا۔ وہ چراغ جس کی روشنی کا لوگ مذاق اڑائیں گے جب ہم اسے بھری دوپہر میں اپنے ہاتھ میں لے کر نکلیں گے ۔ لوگ ہنسیں گے کہ کیوں بھلا ہم ایک ایسے چراغ کو ہوا سے بچانے کی کوشش میں ہلکان ہو رہے ہیں جس کی روشنی بھی سورج کی بے پناہ روشنی کی بدولت دیکھنا مشکل ہے ۔ جب تپتی دوپہروں میں لوگ سائے کی ایک جھلک اور ٹھنڈے پانی کے ایک قطرے کو ترسیں گے تو کون ہو گا جو اس گرم چراغ کو تھامنے پر(جس کی حدت میرے ہاتھوں کو پگھلائے دیتی ہے ) مجھے مطعون نہیں کرے گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے ان سے کوئی گلا نہیں ہے کہ وہ معصوم لوگ ہیں نہیں جانتے کہ اس راستے پر جس پر وہ بھاگے جاتے ہیں اور میں اس چراغ کی وجہ سے آہستہ آہستہ رینگتا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس راستے پر ایک موڑ ایسا بھی آتا ہے جس کے بعد گھپ اندھیرا ہے ۔ اتنا اندھیرا کہ چراغ کے بنا ایک قدم نہیں اٹھایا جا سکتا۔ وہ نہیں جانتے اور شاید میں بھی نہیں جانتا مگر میں یہ چراغ اٹھائے چلتا ہوں ۔ اور آ ج کے اس سفر کی یہ پہلی منزل ہے ۔  میری ہتھیلی پر رکھا ہوا چراغ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

پہلی منزل۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہتھیلی پر رکھا چراغ

 

جب میں اپنے آپ کو ڈھونڈنے نکلتا ہوں تو پہلی چیز جو میں محسوس کرتا ہوں و ہ ہتھیلی پر رکھا ایک چراغ ہے ۔ ایک شئے جو بہت نازک ہے ۔ جس کی حفاظت میں گویا میری پوری زندگی گذرتی چلی جا رہی ہے ۔ ایک چیز جو دنیا کے اس راستے پر چلنے سے مجھے روکتی بھی ہے ۔ ایک چیز میں جس کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا کہ اس کا مقصد کیا ہے ۔ میں اس چیز کی وجہ سے دنیا کی تضحیک کا نشانہ بھی بنتا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پر میرے اندر ایک یقین ہے ۔ ایک شکر گذاری ہے کہ اگر میرے تخلیق کرنے والے نے میرے ہاتھ پر یہ شئے رکھی ہے تو یقیناً اس کا کچھ مقصد ضرور ہو گا۔ میں نے ابھی اوپر ذکر کیا تھا اس اندھیرے کا جس میں سفر صرف اس چراغ کو ہاتھ میں لئے ہی ہو سکتا ہے ۔ وہ محض میرے ذہن کی اختراع تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سچ بتاؤں تو مجھے اس بات کا یقین نہیں ہے کہ ایسا ہو گا۔ مجھے یقین نہیں ہے کہ اس راستے پر ایک ایسا مقام ضرور ہی آئے گا جہاں یہ چراغ مجھے کامیاب ہونے میں مدد دے گا۔ نہیں مجھے اس بات کا یقین نہیں ہے ۔ یہ تو جیسے ایک تسلی ہے جو جیسے میں اپنی بیٹیوں کو دیتا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہ اگر تم یہ سبزی کھا لو گی تو تم میں K-2پر جانے کی طاقت آ جائے گی۔ یہ بات بس ایک تسلی ہے اور کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔

ہو سکتا ہے کہ یہ چراغ بس ایک امتحان ہو۔ وہ جو واقعہ ہے نہ کہ ایک پہلوان کو بادشاہ نے جان کے Threatکے ساتھ حکم دیا کہ ہر شام تمہیں اس برتن میں دریا سے پانی لے کر آنا ہے کچھ اس طرح کہ ایک قطرہ بھی گر نہ پائے ۔ بادشاہ کو اس پانی سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ پانی لانے سے پہلوان کو کچھ بھی نہیں ملنے والا تھا۔ اور ہم بعد میں دیکھتے ہیں کہ اس سے اس کی صحت خرابہ ہی ہوئی مگر یہ ایک کام تھا جو اسے کرنا ہی تھی۔

میں نہیں جانتا کہ یہ چراغ میرے پاس کیوں ہے ۔ جانتا ہوں تو بس اتنا کہ یہ چراغ میرے پاس ہے ۔ اسے اس ہستی نے میرے ہاتھ پر رکھا ہے جس نے دنیا کی کوئی چیز عبث نہیں بنائی۔ اب یہ چراغ مجھے کسی منزل پر لے کر جاتا ہے یا پھر گمنامی کی اتھاہ گہرائیوں میں گرا دیتا ہے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک غلام کو یہ سزاوار نہیں کہ وہ مالک کے دیے کام پر سوال کر سکے ؟

یہ پہلی منزل ہے مگر اس سے اگلی منزل زیادہ کٹھن ہے ۔ میں اس کے لئے ایک دوسری مثال کو استعمال کروں گا

 

دوسری منزل۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دیو کے گھر میں قید شہزادی

 

شہزادی کو دیو نے ایک بہت بڑے محل میں قید کر دیا۔ محل جس کی چھت آسمان کو چھوتی تھی اور جس کی دیواریں ایسے پتھروں سے بنی تھیں جنہیں توپ کے گولے بھی شاید توڑ نہ پاتے اور دروازے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس گھر سے نکلنے کا صرف ایک دروازہ تھا جو سیسہ پگھلا کر بنایا گیا تھا اور وہ اتنا مضبوط تھا کہ ہاتھیوں کا لشکر بھی اسے توڑ نہ پاتا۔ شہزادی کو دروازے کے باہر سے بڑے بڑے دیو پہرے داروں کی صدائیں بھی سنائی دیتی ہیں جو وقفے وقفے سے ہولناک آوازیں بھی نکالتے ہیں جو شہزادی کے دل کو دہلائے دیتے ہیں ۔ شہزادی محل میں بے حد تنگ ہے ۔ وہ جانتی ہے کہ رات کو ہر صورت وہ ہولناک دیو واپس آئے گا اور پھر اس کے پاس کوئی چارہ نہیں رہے گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پر رات سے پہلے وہ کیا کر سکتی ہے ؟ وہ پورا دن تنگ رہتی ہے ۔ ہر وہ دعا کرتی ہے جو اسے یاد ہے مگر کچھ نہیں ہوتا اور پھر شام سے پہلے وہ گویا خودکشی کے ارادے سے دروازے تک پہنچتی ہے ۔ دروازہ کھولنے کی کوشش کرتی ہے تو اسے عجیب حیرت ہوتی ہے ۔ دروازہ تو کبھی بند تھا ہی نہیں ۔ باہر کوئی پہرے دار بھی نہیں تھے بس ایک ٹیپ ریکاڈر رکھا تھا جو ہولناک آوازیں سنا رہا تھا۔ وہ دیکھتی ہے کہ محل کے باہر ایک اڑنے والا گھوڑا بھی کھڑا اس کی طرف دیکھتا ہے جو ایک لمحے میں اسے اس محل اور دیو سے بہت دور لے جائے گا۔

شہزادی کو اب احساس ہوتا ہے کہ اس نے اپنی زندگی کا یہ اتنا اہم دن بس ایسے ہی برباد کر دیا۔ اسے شاید بہت پہلے اس دروازے پر پہنچ جانا چاہیے تھا۔

تو دوسری منزل یہ احساس ہے کہ کہ کیا خبر ہتھیلی پر رکھا یہ چراغ ہی میرا واحد امتحان ہو؟ وہ رب العزت جب اپنے بندوں کے لئے امتحان بنا رہا تھا تو اس کی نظر ایک بہت کمزور سے انسان پر پڑی اور اس کی رحمت نے اس انسان کے جسم میں چھپی بیچارگی پر مہربانی کی اور حکم دیا کہ اس انسان کا امتحان آسان کر دو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اتنا آسان جیسے بس اس کی ہتھیلی پر ایک چراغ رکھ دو اور اگر اس میں اتنا شعور ہوا کہ وہ چراغ کو چھوڑ کر بھاگتا ہوا منزل کی طرف جائے تو بس ایک جست اسے ہمارے پاس لے آئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم نے اسے عقل اور شعور اور وجدان کی صورت بہت طاقتور ہتھیار دے دئے ہیں ۔ وہ یقیناً کامیاب ہو جائے گا۔ آخر کتنا مشکل ہو سکتا ہے جلتی دوپہر میں ایک چراغ کو ہاتھ سے رکھ دینا؟

مجھے یاد ہے بچپن میں کرکٹ کھیلتے ہوئے کبھی کبھار جب میں چاہتا کہ میرا چھوٹا بھائی بھی کچھ سکور بنا لے تو میں اسے بہت ہی آسان گیند ڈالتا اور وہ جو مشکل گیندیں پھر بھی کھیل لیتا تھا اس آسان گیند پر آؤٹ ہو جاتا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ گیند گرچہ بہت آسان ہوتی تھی پر جیسے کرکٹ کی کتابوں میں اس کا ذکر نہیں ہوتا تھا۔ کہیں میرے ساتھ بھی کچھ ایسا تو نہیں ہو رہا۔ کسی نے مجھ پر بہت رحم کرتے ہوئے میرا امتحان بہت آسان کر دیا اور میں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں اس چراغ سے چمٹے ہوئے چلتا ہوں ۔ میں دروازہ کھولنے کی optionپر سوچتا ہیں نہیں ہوں ۔

ایک بوجھ اٹھانے والا ایک بھاری بوجھ اٹھائے منزل کی طرف بھاگتا ہے مگر کیا اسے خود سے یہ سوال کرنے کا حق نہیں ہے کہ وہ بوجھ اور وہ منزل۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان دونوں کی legitimacyکیا ہے ؟  یہ سوال اٹھانا میرا اختیار ہے یا نہیں میں نہیں جان پاتا اور تیسری منزل پر پہنچ جاتا ہوں

 

تیسری منزل۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گیم تھیوری

 

میری تلاش میں اگلا پڑاؤ ایک اور سوال پر آتا ہے ۔ کسے خبر کہ امتحان اس چراغ کے اٹھائے رکھنے اور زمین پر پھینک دینے سے زیادہ مشکل ہو؟ کیا خبر کہ گیم تھیوری کی طرح میرے سامنے calculated challengesاور predictable responsesکا لامتناہی جال بچھا ہو۔ میں جسے اپنا فیصلہ سمجھتا ہوں وہ میرا فیصلہ ہی نہ ہو۔ میں شام تک انتظار کرتا ہوں اور پھر شاید مجھے ٹیپ ریکاڈر سے گونجنے والی آوازوں کے بیچ ایک connectionسمجھ میں آ جاتا ہے ۔ مجھے لگتا ہے کہ جیسے دال میں کچھ کالا ہے اور میں دروازے پر جا کر قسمت آزمائی کا فیصلہ کر لیتا ہوں ۔ پر کیا خبر کہ آوازوں کے بیچ یہ ایک predictable connectionجان بوجھ کر رکھا گیا ہو تاکہ شام کے قریب میں اسے پا لوں اور دروازہ کھول کر میں اس گھوڑے پر بیٹھ کر اڑ جاؤں ۔ اس angleسے دیکھیں تو میرا گزارا وہ پورا دن او ر شام کو میرا وہ heroic escapeسب ہی اپنے اصل معانی کھو بیٹھتے ہیں ۔ یہ کھیل لکھنے والے کو ایک خاص وقت پر مجھے اڑتے ہوئے گھوڑے پر بٹھا کر ایک خاص آسمان پر اڑانا تھا۔ تو کھیل لکھنے والوں نے سوچا کہ ایسے تو کھیل اپنا سب چارم کھو بیٹھے گا۔ ٹھیک ہے مقصد یہی ہے نہ کہ گھوڑے پر بیٹھے یہ شخص شام کو اس مقام سے گذرے تو کیوں نہ ہم اس مقصد کے گرد ایسی کہانی بن دیں کہ دلچسپی بھی قائم رہے ، بھرم بھی قائم رہے ، کہانی بھی چلتی رہے اور مقصد بھی حاصل ہو جائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اگر میں اب اپنی زندگی کو اس مختلف زاویے سے دیکھنے کی کوشش کروں تو ہر شئے کا مطلب بدل جاتا ہے ۔ میں اللہ کے راستے پر نکلنے کے لئے اپنی طرف سے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر گھر واپس آتا ہوں ۔ سوچتا ہوں کہ اب دل میں کوئی آرزو باقی نہیں رہی۔ میں نے اپنے بوجھ اتار دیے ہیں اور اب یقیناً وہ gravitational pullمجھے اپنی طرف کھینچ لے گی میں اصل میں جس سے belongکرتا ہوں اور ایسے میں ایک ایک لڑکی سامنے آتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک لڑکی جس کے پیچھے عجیب دنیاؤں کی آوازیں آتی ہیں اور جو محبت کا دعوی کرتی ہے اور۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ Just like thatمیں اپنا راستہ بدل لیتا ہوں ۔ اس لڑکی کو لے کر ایک نئی دنیا، ایک نیا مایا تخلیق کرنے لگ جاتا ہوں ۔ پھر ایک دن کوئی اور آتا ہے اور میں کہیں اور چل پڑتا ہوں ۔

میں ایک دن سوچ رہا تھا کہ اگر مجھے ایک نئی زندگی دی جائے اور یہی حالات ملیں تو میں کیا مختلف کرتا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کون سا راستہ ہے جو میں اس زندگی سے بہت مختلف چنتا؟ اور میں جو بظاہر خود کو کبھی اس زندگی میں خوش نہیں پا سکا تو یقیناً alternate lifeکی صورت میں میری سوچ نے مجھے ایک مرتبہ پھر چننے کا موقع ضرور دیا تھا۔ پر مجھے حیرت ہوئی کہ شاید دوبارہ انہی حالات میں میں یہی فیصلہ کرنے پر مجبور ہوتا۔ میں ، میرا genetic code، میری روح، میرے حالات۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ سب مل کر میرا یک خاص ریسپانس بناتے ہیں اور شاید دوبارہ بھی میں ایسا ہی کرتا۔ اپنی اس قسمت سے بھاگنے کا واحد حل جو مجھے نظر آتا ہے وہ یہی ہے کہ میں غیر منطقی جواب دینے کی صلاحیت اپنے اندر اگر پیدا کر سکتا تو شاید میں اس گیم تھیوری سے باہر نکل پاتا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پر غیر منطقی جواب آسان نہیں ہوتا۔ جب راہ پر چلتی خوبصورت چھوٹی سی لڑکی آپ کی طرف دیکھ کر مسکراتی ہے تو جواب میں اسے گھور دینا یا چھڑی دکھا کر خوفزدہ کرنا کتنا مشکل کام ہے ؟میں کیا یہ کبھی کر پاؤں گا؟ یہ میں اس کھیل سے کبھی نکل پاؤں گا جو کون جانے کس لئے کھیلا جا رہا ہے اور کیا خبر اس matrixسے نکلنے کا واحد راستہ یہی غیر منطقی چالیں ہوں ؟

 

چوتھی منزل۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سرابِ سفر

 

سراب دو طرح کے ہوتے ہیں ۔ ایک منزل کے سراب جو مسافر کو آگے چلاتے ہیں اور دوسرے سفر کے سراب جو اسے کہیں بھی جانے سے روک دیتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دونوں میں بہت فرق ہوتا ہے ۔ منزل کے سراب بے رحم سہی مگر یہ مسافر کو اس کی برداشت سے زیادہ سفر پر مجبور کرتے ہیں اور سفر کے سراب مسافر کی نیند کو اور گہرا کرتے ہیں ۔ وہ کسی نخلستان میں پیڑ کے نیچے سو رہا ہوتا ہے اور خواب دیکھ رہا ہوتا ہے مشکلات کے ، صحراؤں میں بھٹکنے کے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایسے مسافر کہیں نہیں پہنچتے ۔ مجھے لگتا ہے جیسے میں نے بھی بہت عرصہ سفر کے سراب دیکھے ہیں ۔ جیسے میں کوئی بہت سفر پسند روح رکھنے والا شخص تھا اور مجھے روکنے کے لئے سرابِ سفر کا سہارا لیا گیا۔ ایک عجیب سی بے چینی میری روح میں ڈال کر مجھے مطمئن کرنے کی کوشش کی گئی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور میں نہیں سمجھ سکا کہ وہ بے چینی اور ہوتی ہے جو راستے کی مشکلات سے جنم لیتی ہے ۔ وہ تھکاوٹ اور ہوتی ہے جو پورا دن چلنے پر جسم میں اترتی ہے ۔ تھکا تو میں بھی بہت مگر میری تھکاوٹ اس شخص کی تھی جو سارا دن ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر فلم دیکھ کر اٹھتا ہے ۔ میرے اندر بڑے بڑے خوابوں کو اتنی تیزی سے گھمایا گیا کہ میرا پورا وجود گھوم کر رہ گیا۔ آج عمر کے اس حصے میں میں اتنا تھک چکا ہوں جتنا کوئی بھی بے پناہ سفر کرنے والا شخص تھک سکتا ہے مگر یہ تھکاوٹ سفر کی نہیں سرابِ سفر کی ہے ۔

میرے اندر کا یہ سفر جو ایک بے مقصد کام کئے جانے سے شروع ہوا تھا۔ پھر مجھے لگا جیسے میں کچھ کرنے کی بجائے اصل میں کچھ کرنے سے رک رہا ہوں ۔ اگلا پڑاؤ یہ بتا رہا تھا کہ کچھ کروں یا نہ کروں یہ سب گویا کسی پہلے سے predictableکھیل کا حصہ ہے اور اس سے آگے بڑھا تو لگا کہ میں تو گویا اس کھیل میں بھی شریک نہیں تھا بلکہ میں تو جیسے اس کھیل میں شرکت کے خواب دیکھ رہا تھا۔

 

پانچویں منزل۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خیالوں کا جنگل

 

آج ایک عجیب بات ہوئی۔ مجھے لگا جیسے ایسا پہلے بھی کئی بار ہوا ہو گا مگر عام طور پر میرے اردگرد خیالوں کا ایسا جنگل ہوتا ہے کہ کسی چھوٹی موٹی کونپل کو کھلتے دیکھ لینا ممکن نہیں ہوتا۔ اور میں جیسے ہر شام ایک لمبی سیر پر نکلتا ہوں ۔ اپنے اس جنگل پر نظریں دوڑائے جاتا ہوں اور جیسے کبھی کوئی خوبصورت عنابی پھول دیکھ کر اسے توڑ لیتا ہوں اور اسے اپنے ساتھ گھر لے جاتا ہوں ۔ وہ پھول گویا میری دریافت، میری تخلیق تھا کہ وہ میرے خیالوں کے جنگل سے پھوٹا تھا۔ میں اس کا خوبصورت bouquetبناتا ہوں اور پھر برسوں تک اسے دیکھ کر محظوظ ہوتا ہوں ۔ ہاں ایک بات کبھی کبھار مجھے حیران کر دیتی تھی کہ وہ خوبصورت uniqueپھول جو میرے بہت پرائیوٹ خیالوں کے جنگل میں کھلا تھا۔ میں نے بڑی راز داری سے جس کو ایک خوبصورت bouquetمیں ڈھالا تھا وہ کیوں ان دوسرے گلدستوں جیسا دکھتا ہے جیسے بازار میں عام ملتے ہیں ۔ اور آج مجھے اس کا جواب مل گیا۔

آج میں ایک نسبتاً غیر آباد گوشے میں بیٹھا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک ایسا صحرا جس میں میری خیالات کی کوئی گھاس تلک نہ تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لق دق صحرا ا ور پھر جیسے کسی نے بڑے چپکے سے ایک چھوٹی سی کونپل وہاں لگا دی۔ ایک آئیڈیا کی inception۔ میں اس حرکت کو شاید کبھی نوٹ بھی نہ کر پاتا اگر اردگرد کچھ اور خیالات ہوتے مگر وہ specialوقت تھا اور میں نے اسے دیکھ لیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ بھی شاید اپنی اس غلطی کو محسوس کر گیا اور شرمندہ بھی ہو گیا مگر میں نے آج جان لیا کہ میرا گھنا خیالوں کا جنگل بھی بس ایک بیک گراؤنڈ ہی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ اصل خیال جسے میں چن لیتا ہوں وہ کوئی اور ہی وہاں رکھ دیتا ہے۔

تو یہ ہمیں اس اگلی layerپر پہنچا دیتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب مجھے سمجھ آتی ہے کہ پچھلی منزل پر جنہیں میں سرابِ سفر سمجھا تھا وہ بھی میری choiceنہیں تھی۔ میں نے سفر پر جس سرابِ سفر کو ترجیح دی تھی وہ سرابِ سفر بھی میرا نہیں تھا۔ میرے خواب، میری خواہشات بھی میری نہیں ہیں ۔

 

چھٹی منزل۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ منطقی بوڑھا

 

وہ خیال میرا نہیں تھا مگر پھر میں نے دیکھا کہ کہیں سے ایک منطقی بوڑھا وہاں آ گیا۔ اس نے مجھے پر جوش دیکھا کہ گویا میں نے کوئی چور پکڑ لیا ہے تو ہلکی سی تھپکی دے کر بولا کہ ’’یہ اہم بات نہیں ہے ۔ اہم بات یہ ہے کہ ہمیں اس خیال کا کرنا کیا ہے ؟‘‘ اور وہ ٹھیک تھا۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ وہ خیال کسی نے وہاں plantکیا تھا یہ وہ خود کہیں سے آیا تھا (جیسے خود کہیں سے آنے کی کوئی حقیقت ہو)۔ ۔ ۔ ۔ اہم بات یہ ہے کہ ہم اس سب کو منطق کی ترازو پر پرکھیں اور دیکھیں کہ اس کا کرنا کیا ہے ۔ پھر اس نے منطق کی روشنی پھینکی اور میرے پاس اس سے agreeکرنے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا کہ مجھے اس آئیڈیا کو اپنانا ہی ہو گا۔ اس سارے منطقی آپریشن کے دوران میں وہیں تھا میں اس منطقی بوڑھے سے ہر نکتے پر مکمل اتفاق کر رہا  تھا اور جب ہم دونوں اس نتیجے پر پہنچے کہ ہمیں یہ آئیڈیا قبول ہے تو میں نے خوشدلی سے اسے قبول کر لوں مگر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اہم بات یہ نہیں ہے کہ ہم کس نتیجے پر پہنچے بلکہ اس سفر میں اہم بات یہ ہے کہ میں اس سب گفتگو کو ایک third personکی سی غیر جانبداری سے دیکھ رہا تھا۔ میرے خیالات، میری سوچ، میری منطق۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کچھ بھی تو میرا نہیں تھا

 

ساتویں منزل۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بلیک ہول

 

اس پوری گفتگو کا حاصل اگر ہے تو بس اتنا کہ میں نے بالآخر خود کو محسوس کیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں مسافر نہیں ہوں ، میں سفر کی خواہش نہیں ہوں ، میں سفر کا خواب خیال بھی نہیں ہوں ، میں وہ منطق بھی نہیں ہوں جو اس سارے عمل کی نگہبان ہے گو ایک لیول پر دیکھوں تو یہ سب میری حقیقت نظر آتے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ میں ہوں ۔ میں نے اس منطقی بوڑھے کے تجزیئے کے دوران ایک واجبی سمجھ کے نوجوان کو سر ہلاتے دیکھا تھا۔ میں نے اس کی کسی خواہش کو محسوس نہیں کیا۔ میں نے بس اسے دیکھا تھا۔ وہ وہاں کھڑا تھا اور سر ہلاتا تھا اور وہ اس سارے کھیل کو نہ جانتے ہوئے بھی ہر لیول پر اسے کھیلنے کو تیار تھا۔ اس کے اندر اسے کھیلنے کی بہت excitementنہیں تھی پر وہ یہاں سے بھاگنا بھی نہیں چاہتا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ تو جیسے ایک سیاح تھا جو اس انجانے دیس میں چلا جاتا تھا۔ وہ یہاں کی ہر چیز کو گو سمجھتا تو نہیں ہے مگر سمجھنے کی ہر ممکن کوشش ضرور کرتا ہے ۔ وہ ہر جذبے کی حدت محسوس نہیں کر سکتا مگر کوشش ضرور کرتا ہے کہ ہر منزل کو اس منزل کے حوالے سے جان سکے ۔ ہاں مگر خود اس مسافر کے دل میں کیا ہے یہ میرے لئے بھی ایک معمہ ہی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک بلیک ہول۔ میں ابھی تک اس میں چھلانگ نہیں لگا سکا۔ میں اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔

 

آٹھویں منزل۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نوجوان شہنشاہ

 

ایک نوجوان شہزادہ تھا جسے بہت کم عمری میں ہی عنانِ اقتدار سنبھالنا پڑا۔ اس کے مشیر اور درباری سب کائیاں اور پرانے کھلاڑی تھے ۔ ظاہر ہے کہ امور سلطنت تو وہی چلا رہے تھے ۔ اگرچہ آخری حکم تو نوجوان شہنشاہ کا ہی چلتا تھا مگر اس کے ہر حکم کے پیچھے کوئی نہ کوئی درباری ہوتا۔ شہزادے کو بہلانے کے لئے کبھی نوجوان حسیناؤں کی مدد لی جاتی اور کبھی کوئی جادو کے تماشے دلوانے والے کو بلوا لیا جاتا۔ کبھی کوئی درباری اپنی چرب زبانی سے کام نکلواتا تو کبھی کوئی اپنی سحر انگیز شخصیت کے زور سے اور کبھی بوڑھا وزیر اعظم اپنی منطقی دلیلوں سے اسے قائل کر لیتا۔ گو ہر حکم شہنشاہ کے قلم یا زبان سے ہی نکلتا تھا کہ وہ اسی صورت معتبر ہو سکتا تھا مگر اس کے پیچھے ہمیشہ کوئی نہ کوئی اور ہوتا۔

شہنشاہ اگر کبھی سوچتا بھی کہ محل سے باہر نکل کر عوام پر ایک نظر ڈالے گا تو اس کا سیکیورٹی ایڈوائزر اسے سو دلیلیں دیتا کہ یہ سب ریاستی سلامتی کے کتنا خلاف ہو گا۔ اس کا لہجہ کبھی کبھار تو اتنا گستاخ بھی ہو جاتا کہ شہنشاہ کو اپنے شہنشاہ ہونے پر شک ہونے لگتا۔ وزیر خزانہ جب اسے عوام پر ایک نیا ٹیکس لگانے کا کہتا تو وہ اگر تھوڑی سی دیر کو رک کر سوچنا چاہتا تو اس صاف لفظوں میں بتا دیا جاتا کہ اس ٹیکس کے بغیر فوج کی تنخواہیں تلک ادا نہیں کی جا سکیں گی اور بغاوت پھوٹ پڑے گی۔

شہنشاہ کے لئے وہ جیسے ایک خوبصورت پنجرہ تھا جہاں اس کی آزادی صرف ان چیزوں کے لئے رہ گئی تھی جن کا امور سلطنت سے دور کا بھی تعلق نہیں تھا۔ وہ عیاشی کرنے کے لئے آزاد تھا۔ اس کے دربار میں قسم قسم کے کھانے ، ساز بجانے والے ، کنیزیں سب تھیں اور وہ اپنی عیاشی کی حد تک خود کو مادر پدر آزاد تصور کرتا تھا مگر امور سلطنت اسے سمجھایا جاتا تھا اور سچ پوچھیں تو وہ خود بھی یہی سمجھتا تھا کہ وہ اس ذمہ داری کا اہل نہیں ہے ۔

سلطنت کے امور مگر ایک dynamicشئے ہیں انہیں پرانے dogmasاور established proceduresکے ذریعے نہیں چلایا جا سکتا۔ اور ایسا ہی ہوتا ہے جب امور سلطنت مشیروں کے ہاتھ میں دے دیے جائیں ۔ تب ہر ایک مشیر اپنے چھوٹے سے دائرے کے لئے اصول وضع کرتا ہے اور یہ بھول جاتا ہے کہ یہ قوانین عوام پر کتنا بوجھ ڈال دیتے ہیں ۔ مملکت میں بادشاہ کا عہدہ ceremonialنہیں ہوتا بلکہ وہ اس بات کو ensureکرتا ہے کہ سب دماغوں کے اوپر ایک انسانی دل کی حکومت بہرحال رہے گی۔ اگر سب کچھ دماغ اور منطق پر چھوڑ دیا جائے تو بہت جلد ہم مشینوں میں ڈھل جائیں گے ۔ تو ایک بادشاہ کا institutionبھی اسی لئے بنایا گیا۔ یہی چیز تھی جو وہ شہنشاہ بھول رہا تھا۔

ایک دن البتہ اسے ایک عجیب احساس ہوا۔ وہ احساس ایک چھوٹی سی دلیل تھی۔ اگر حکومت بادشاہ کے بغیر چلائی جا سکتی تو کبھی بھی بادشاہ کا عہدہ نہ ہوتا اور اگر میں اس عہدے کے قابل نہ ہوتا تو مجھے کبھی اس مقام پر نہ رکھا جاتا۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ خدا سے غلطی ہو گئی اور ہم اب اپنے inactionسے اس غلطی کی اصلاح کرنے پر قدرت رکھتے ہیں ۔ مجھے شہنشاہ بنایا گیا ہے اور میں ایک شہنشاہ کی طرح کام کروں گا۔ اگر میں غلطی کروں گا تو زمانے کی طاقتیں مجھے روندتی ہوئی نکل جائیں گی اور میں تاریخ کی کتابوں میں دھول بن کر رہ جاؤں گا اور اگر اس اللہ کا انتخاب صحیح ہوا(جو کہ ہمیشہ صحیح ہوتا ہے ) تو پھر وقت کو ایک اور جلال الدین اکبر مل جائے گا۔

اس کے بعد کی کہانی ہمیں سننے کی ضرورت نہیں ۔ یہ جگہ ہمیں اپنے تخیل کی چھلانگوں کے لئے خالی رکھنی چاہیے مگر آپ جان سکتے ہیں کہ اس کے بعد کیا ہو ا گا۔ مشیروں اور عقلِ کل وزیروں پر کیا گذری ہو گی۔

کل اپنی چھوٹی سی تلاش کے اختتام پر میں نے اس شہنشاہ جیسا ایک نوجوان لڑکا دیکھا تھا جس نے خیال پیوند کرتے کسی سائے کو دیکھ تو لیا تھا مگر منطقی بوڑھے کی دلیلوں کے آگے خاموش رہ گیا۔ یہی اس کی غلطی تھی۔ اسے اپنے فیصلے عقل ،منطق، جذبات، فوائد کے لئے نہیں لینے تھے جیسا کہ اس کے تمام مشیر چاہ رہے تھے بلکہ اسے ان سب چیزوں کو دیکھنا تھا اور اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر اللہ سے دعا کرنی تھی کہ وہ اسے صحیح فیصلہ کرنے کی توفیق دے اور اللہ توفیق دلوں میں ڈالتا ہے ۔ تو اسے فیصلے دل سے کرنے تھے اور اگر ایسا ہوتا تو سب کچھ ٹھیک ہو جاتا۔ اسے mystery of the mysteries .........Willکی بات سننا تھی۔

ہاں البتہ یہ کیسے کیا جائے ؟ یہ ایک مختلف بحث ہے اور میں اسے کسی اگلے موقع کے لئے بچا رکھتا ہوں

٭٭٭