کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

میوٹیشن

ڈاکٹر بلند اقبال


                    کوئی کچھ بھی کہے مگر سچ تو یہی تھا کہ اس میں علی بخش کا کچھ بھی قصور نہیں تھا وہ تو اور مردوں کی طرح اپنے باپ کے Yکر وموسوم اور ماں کے Xکروموسوم سے مل کر ہی بنا تھا۔ خلیوں کی تقسیم بھی درست تھی اور نیوکلیس کے ملاپ بھی۔ جینز(Genes) کی    ترتیب بھی سہی تھی اور الیلز(Alleles)کی ساخت بھی۔ بس کوئی آوارہ کوانزائیم(Co-Enzyme )تھا جو عین وقت پرمیٹا بولزم (Metabolism)میں حصہ نہ لے سکا اور بنا آواز کے اپنے ارتقاء سے ہی خارج ( Delete) ہو گیا اور علی بخش کے سیکس ہارمونز کے  رسپٹرز (Receptors )کی شکل بدل گیا۔ اس قیامت کا نہ تو علی بخش کو ہی پتہ چلا اور نہ ہی اُس کے باپ مولوی کریم بخش کو۔

                     پھر محلے میں علی بخش کی پیدائش پر خوب ہی لڈو بٹے ، کان میں اذان ہوئی اور پھر رسمِ مُسلمانی۔ مولوی کریم بخش نے دونوں ہاتھ جوڑ کر خداوندِ کریم سے رحمتوں کی گڑگڑا کر بھیک مانگی اور پوری عاجزی سے اپنے پیارے بیٹے کو دین کی بھلائی اور خلقِ   کرٍ  تر خدائی کی خدمت کے لیے وقف کرنے کی ٹھانی۔ دن مہینوں میں اور مہینے سالوں میں بدلے۔ مولوی کریم بخش نے بیٹے کی تربیت میں کوئی بھی کسر نہ چھوڑی۔ پاکیزہ مذہبی ماحول اور اعلیٰ مشرقی تربیت کے اثرات علی بخش کے جملہ کردار میں جھلکتے تھے۔ کردار کے اثرات چہرے مہرے پر بھی جیسے چاند سورج بن کر چمکتے تھے۔ ابھی وہ گیارہ سال ہی کے تھے کہ قرآن پاک حفظ کر لیا اور پھر تبلیغ الٰہی کہ اصرارو رموز سے واقفیت کی غرض سے کبھی باپ کے ساتھ اور کبھی اُن کے رفقاء کار  کے دامن کو تھام کر دور دراز کے شہروں اور گاؤوں کے چکر لگانے لگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ارد گرد کے ماحول اور تر بیت نے کچھ ایسا رنگ جمایا کہ تحریر و تقریر میں بلاغت آتی چلی گئی۔ا لفاظ بے تکان لبوں سے نکلتے اور اثرات اس قدر جذباتی شدت اور مذہبی حدت سے بھرے ہوتے کہ سُننے والوں پر رقت سا طاری ہو جاتا ، دیکھتے ہی دیکھتے اُن کے دل تصور وحدانیت سے ملول ہو جاتے ، آنکھیں عشقِ رسول سے نم ہو جاتیں اور سر رکوع میں خم ہو جاتے۔ جب جب رفقاء کرام نجی محفلوں میں کم عمر بیٹے کی امامت و بلاغت کا تذکرہ مولوی کریم بخش سے کرتے تو اُن کی پیشانی خداوندِ پاک کی بارگاہ میں شکرانے کے لیے سجدہ ریز ہو جاتی اور گڑ گڑا کر اُس کی رحمتوں پر شکر گزار ہو جا تی۔ ۔ یوں دیکھتے ہی دیکھتے علی بخش کا بچپن جوانی کی دہلیز کو چھونے لگا اور پھر ایک رات اُن کے   قدو کاٹھ نے جوانی کی جو بھرپور انگڑائی لی تو جیسے ادھ موئی کلیوں میں ٹوٹ کر بہار سیا گئی۔ ۔ا گلی صبح علی بخش حیران نگاہوں سے اپنے بدلتے بدن کے زاویوں کو مسوس دل سے تک رہے تھے۔ ۔ فجر کی اذان میں اُن کی آواز میں وہ کرب تھا کہ کچھ لمحوں کے لیے تو نمازی خداوند کریم سے خود اپنی آوازوں کے لیے بھی کچھ ایسے ہی لطف و کرم کی فریاد کرنے لگے۔

                       ظہر اور عصر کی نمازیں علی بخش نے گھر پر ہی ادا کیں۔ مولوی کریم بخش نے حیران نگاہوں سے بیٹے کو دیکھا تو باپ سے نظریں بچا کر اپنی زندگی کا پہلا جھوٹ کہا اور طبعیت کی ناسازی کا بہانہ کیا۔ آہستہ آہستہ محفلوں اور مذاکروں میں شرکت کم ہونے لگی اگر مجبوراً  آنا بھی پڑتا تو آخری قطار میں بیٹھ جاتے اور پھر جلد ہی نظریں بچا کر نکل جاتے۔ ۔ خود کو محض اپنے کمرے تک محدود کرنے لگے۔   اپنا زیادہ وقت قران شریف کی تلاوت میں گزارتے اور نہیں تو ایک انجانے خوف میں مبتلا رہتے اور چپ چاپ آسمان کو تکتے رہتے۔

                   پھر کچھ ہی دنوں میں سخت نہ چاہتے ہوئے بھی علی بخش کی چال نسوانی ہوتی چلی گئی اور جسم بے ادبی کی حد تک لباس سے نمایاں ہونے لگا۔ مولوی کریم بخش نے بیٹے کے جسم کے بدلتے ہوئے تیور دیکھے تو آنکھیں حیرانگی سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں اور شرم سے زمین میں گڑتی چلی گئیں۔ بہت دنوں تک گفتگو میں دوری برداشت نہ ہوئی اور بالآخر ایک روز بیٹے کے کمرے میں آئے اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ا خر بہت صبر و تحمل کے بعد ایک جملہ ادا کیا۔ ۔ ’’ وہ بڑا رب الجلیل ہے اُس کے ہر کام میں مصلحت چھپی ہوتی ہے ، مگر کیا تم نے حکیم و طبیب سے بھی کچھ دریافت کیا ؟علی بخش باپ کے سوال پر شرم کے مارے زمین میں گڑ گئے اور پھر اُن سے نظریں ملائے بغیر ہی زمین کو تکتے ہوئے کہنے لگے۔ ۔ ’’ جی ڈاکٹر ز کہتے ہیں پیدائش سے قبل ہی خلیوں کی تقسیم میں کچھ بگاڑ پیدا ہو گیا تھا ، کوئی چیز شائد میوٹیشن    (Mutation)ہوتی ہے ، اُسی کی وجہ سے۔ ۔ اور اب علاج ممکن نہیں ‘‘۔ یہ کہہ کر باپ کے پیروں سے لپٹ کر پھو ٹ پھوٹ کر رونے لگے اور سسک سسک کر کہنے لگے۔ ۔ ’’ ابا جی ! اب میں کیا کروں ؟ اب کیسے لوگوں سے نظریں ملاؤں؟ کیسے عبادت کے کیے گھر سے نکلوں ؟  مجھ سے سہہ نہیں جاتا ، خود کشی حرام نہ ہوتی تو کب کہ جان دے چکا ہوتا۔ ‘‘ باپ نے روتی سرخ خشمگیں آنکھوں سے بیٹے کو دیکھا اور آہستہ سے کہا۔ ۔ ۔ ’’ بیٹے اب شائد تمہارے لیے تبلیغ الٰہی اور امامتِ مسلمہ کے تمام در بند ہو گئے ہیں ، عوام الناس تمھاری بلاغت کو سنجیدگی سے نہیں لینگے۔ ۔ مگر ہاں۔ ۔ ایک دروازہ شائد ابھی بھی کھلا ہوا ہے۔ ۔ مراقبہ۔ ۔ کہتے ہیں کہ یہ سکون کا ذریعہ ہے۔ ‘‘یہ کہہ کر مولوی کریم بخش نے روتے ہوئے بیٹے کے کمرے کا دروازہ بند کیا اور آنسو پو چھتے ہوئے مسجد چلے گئے۔

               لفظ ’’میوٹیشن ‘‘کسی چمگاڈر کی طرح علی بخش کے دماغ سے چپک گیا تھا۔ وہ جب جب آنکھیں بند کرتے اور مرا قبے میں جانے کی ٹھانتے تو بہت سی چمگادڑیں اُن کے خیالوں میں اُتر آتی اور پھر چاروں جانب سے اُنہیں گھیر لیتی۔ ۔ کبھی کبھی تو یہ یلغار اس قدر شدید ہو جاتی کہ وہ گھبرا کر آنکھیں کھول دیتے اور پھر گہرے گہرے سانس لیتے۔ ۔ اُنہیں لگتا جیسے سچ مچ کی چمگادڑیں اُن کے بدن پر چپک گئی ہیں اور اُن کی بوٹیاں نوچ رہی ہیں۔

               با لا خر آہستہ آہستہ مراقبے میں وقفہ بڑھنے لگا۔ چمگادڑیں تو اب بھی نظر آتی تھیں مگر اب اُن کی شکلیں بدلنے لگی تھیں۔ اب کبھی کبھی وہ جو مراقبے کی نیت سے آنکھیں بند کرتے تو کینسر اور پولیو کے آدھ مرے مریض اور بچے نظر آنے لگتے جو کیڑے مکوڑوں کی طرح زمین پر رینگتے ہوتے اور اُن کے جسموں پر کہیں کہیں چمگادڑیں چمپٹی ہوئی اُنہیں چاٹ رہی ہوتیں۔ کبھی کبھار جو آنکھیں بند ہوتیں تو اُنہیں سرسبز و شاداب میدانوں میں بنجر زمینیں نظر آنے لگتیں جن سے لپٹی ہوئی چمگادڑیں زمین کا رس چوس رہی ہوتیں۔ اور کبھی جو آنکھیں بند کرتے تو خیالوں میں طوفانوں کے جھکڑ اور زلزلوں سے ہلتی ہوئی زمین نظر آنے لگتی، جیسے بہت سی چمگادڑیں زمین میں دانت گاڑ کر اُسے ہلا رہی ہوتیں۔ ۔ اور جب بالکل ہی خالی الذہن ہو جاتے تو اچانک بہت سارے ہجڑے اُنہیں ایک ساتھ روتے اور بین کرتے دکھائی دیتے اور اُنہیں ایسا لگتا جیسے چمگادڑیں اُن کے بدن پر چپکی ہوئی اُن کا خون چوس رہی ہو۔ ۔ ۔ شائد ہی کوئی ایسا مراقبہ ہوتا جو اُن کو سکون بخشتا۔ ۔ ہر بار ہی اُن کی روح زخمی ہوتی ، ہر بار ہی اُنہیں دم گھٹتا ہوا محسوس ہوتا۔

              آخر کار ایک رات تھک ہار کر مراقبے کا خیال چھوڑنے کا ارادہ کر لیا اور ایک آخری مراقبے کی نیت سے جائے نماز پر وضو کے بعد بیٹھے۔ پہلے قران شریف کی تلاوت کی اور پھر آنکھیں بند کر کے پوری یکسوئی سے اپنے رب الجلیل کو یاد کرنے لگے۔ اچانک آنکھوں سے آنسو رواں ہونے لگے اور روتے روتے سسکیاں بھرنے لگے۔ اور پھر خود کے جسمانی کرب کے بجائے ساری دنیا کے روحانی کرب کو یاد کرنے لگے۔ اچانک انہیں لگا کہ جیسے اُن کے جسم اور روح کا رشتہ کچھ لمحوں کے لیے ٹوٹ سا گیا ہو۔ اور پھر اُن کی روح جیسے کائنات کے چاروں اوٹ پھیلے ہوئے آسمانی رنگوں میں تحلیل ہونے لگی۔ کچھ ہی دیر میں اُن کی نظروں نے ایک عجیب ہی منظر دیکھا جیسے بہت سارے ستارے اور سیارے اُن کے گرد ناچ رہے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کے قریب آتے ، آپس میں ملتے اور دور ہو جاتے۔ نئے ستاروں کی تقسیم ہوتی چلی جاتی اور کہکشاں نت نئے خوشنما رنگوں سے سجتی چلی جاتی۔ پھر سیارے تقسیم ہونے لگتے اور اُن کے نیوکلیس آپس میں جڑ تے چلے جاتے اور پھر نئی ترتیب بنتی اور پھر روشنی کے جھماکے ہوتے اور نئی نئی ساخت کے سیارے بنتے چلے جاتے۔ اچانک علی بخش کو لگا جیسے کوئی آوارہ عنصر ( Element )اپنی تبدیلیوں میں حصہ نہ لے سکا اور بنا آواز کے اپنے ارتقائی عمل سے خارج ( Delete ) ہو گیا۔ علی بخش کو یوں لگا جیسے وہ سیارہ روشن ہوتے ہوتے اچانک تاریکی میں ڈوبتا چلا گیا اور پھر اُس تاریک سیارے سے سیاہی روشن کرنوں کی طرح پھوٹنے لگی اور اس شدت سے چاروں طرف پھیلی کہ لمحے بھر کے لیے علی بخش کو سوائے تاریکی کہ کچھ نہ نظر آیا اور پھر۔ ۔ کچھ چمگادڑوں کے پروںکے پھڑ پھڑا نے کی آوازیں گونجنے لگی۔ پسینے سے شرابور علی بخش نے ڈوبتے ہوئے دل کے ساتھ گھبرا کر آنکھیں کھول دی۔ ۔ ۔ دور چھت کے اک کونے میں ایک چمگادڑ اُلٹی لٹکی ہوئی اپنے پروں کو پھڑ پھڑا کر چپکنے کی کوشش کر رہی تھی۔

                  علی بخش نے اپنی بے چین دھڑکنوں پر قابو پایا اور آہستہ سے ا  ٹھنے کی کو شش کی مگر لڑ کھڑا کر دوبارہ جائے نماز پر بیٹھ گئے اور پھر سجدے میں گر گئے اور روتے ہوئے بڑبڑانے لگے۔ ۔ تو کیا۔ ۔ تو کیا رب الکریم یہ زمین بھی ؟ کائنات میں میوٹیشن کا نتیجہ ہی ہے ؟

جب غربت ولا چارگی، بھوک اور قتل و غارت گری انسانیت کا مقدر بن جائے اور دنیا معصوم لوگوں کے لیے محض قتل گاہ کا روپ دھار لے تو لہو ٹپکتے ہوئے آنسو خدا کے عکس میں بھی اپنی ہی جیسی ذات تراشنے لگتے ہیں۔ ۔ ۔ یقین کی آخری منزل جہاں انسان لاچار ہو کر اپنے پیدا کرنے والے سے احتجاج کرنے لگتا ہے۔ ۔ ۔ ۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

 

 

Mutation: The way in which genes change and produce permanent differences.

Gene:A part of the DNA in a cell which contains information in a special patternreceived by each animal or plant from its parents, and which controls itsphysical development, behaviour, etc

Allele: One member of a pair or series of genes that occupy a specific position  on a specific chromosome.   

DNA(Deoxyribonucleic acid):The chemical of cell holds the genetic code of life.