کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

چوراہے والا بھکاری

انجینئر محمد فرقان سنبھلی


گفتگو یہ کہ خدا ہے سب کچھ

اور عمل یہ کہ خدا کچھ بھی نہیں

                                                                             (دوا کر راہیؔ)

 

          ’’لالہ جی میں بے روزگار ہوں اور چار دنوں سے بھوکا بھی ہوں۔ مجھے کچھ کام دے دو۔‘‘ پتلے دبلے سے درمیانے قد کے شخص نے لالہ ہری رام کی دوکان پر پہنچ کر عرضداشت گزاری۔ یہ صولت علی تھے جو کہ کام کی تلاش میں در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے تھے۔

’’کیا کام کر سکتے ہو۔‘‘ لالہ نے پوچھا

’’جی کچھ بھی کر لوں گا۔آپ بس مجھے کام پر رکھ لو۔ میرا بیٹا بھی دو دنوں سے بھوکا ہے۔‘‘

’’لیکن تم بھوکے کیوں ہو۔‘‘

’’مجھے کوئی کام نہیں دیتا۔‘‘ دبلے پتلے صولت علی نے مایوسی سے گردن جھکا لی۔

’’معاف کرنا بھائی میرا بھی کاروبار مندا چل رہا ہے۔اس لیے میں …‘‘ لالہ نے شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔

’’لالہ ہم باپ بیٹے پر رحم کرو…کچھ کام دے دو تاکہ ہم بھی دو جون کی روٹی کما سکیں۔ ‘‘

’’لیکن بھیا میرے پا س کوئی کام نہیں ہے۔‘‘ کہتے ہوئے لالہ ہری رام دوکان کے اندر چلے گئے۔مایوس صولت علی نے اپنے دس سال کے مریل سے بچے کی انگلی پکڑی اور دونوں باہر سڑک پر آ گئے۔

تیز چمک دار دھوپ نے دونوں کو تھوڑی دیر میں ہی جھلسا دیا۔چلتے چلتے دونوں کے گلے پیاس کی شدت سے سوکھنے لگے تھے۔ وہ نامعلوم منزل کی طرف گامزن تھے۔ بھوک نے دونوں کو اور زیادہ بے حال کر دیا تھا۔ چلتے چلتے وہ ایک ایسی جگہ پر پہنچ گئے جہاں پیڑوں کاسایہ بھی تھا اور ہینڈ پمپ بھی۔ دونوں نے بھر پیٹ پانی پی لیا۔

’’کیا ہوا ناظم بیٹے۔‘‘ صولت علی نے ناظم سے پوچھا جو کہ اپنے پیٹ اور سینے پر ہاتھ پھیر رہا تھا۔ بھوکے پیٹ زیادہ پانی پی لینے سے اسے سینے میں کچھ تکلیف محسوس ہو رہی تھی۔ صولت علی کو بھی کچھ ایسا ہی احساس ہو رہا تھا۔

’’چلو کچھ دیر پیڑ کی چھاؤں میں آرام کرتے ہیں۔‘‘ صولت علی نے ناظم کو اپنے ساتھ لٹا لیا۔

ابھی ناظم کو سوئے کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ وہ اچانک ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا جیسے اس نے کوئی ڈراؤنا خواب دیکھا ہو۔

’ابا…اٹھو ابّا…‘‘ ناظم نے باپ کو آوازیں دیں لیکن صولت علی نہیں جاگے۔

’’ابّا اٹھو…مجھے ڈر لگ رہا ہے ‘‘ ناظم رونے لگا۔ لیکن صولت علی پھر بھی نہیں اٹھے۔خالی پیٹ پر زیادہ پانی پینے سے صولت علی کی طبیعت بھی ایسی بگڑی تھی کہ پھر وہ کبھی نہ کھلنے والی نیند سو گئے تھے۔چھوٹا سا ناظم صولت علی کے سینے پر سر ٹکائے زار و قطار رو رہا تھا۔ روتے روتے کب اس کی آنکھ لگ گئی اسے احساس ہی نہ ہوا۔

اپنے ہاتھ پر کسی چیز کے ٹکرانے سے ناظم کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے دیکھا کہ اس کا باپ ابھی بھی گہری نیند میں سویا ہوا تھا۔ اور اس کے اوپر ایک دو پانچ اور دس دس کے بہت سارے سکے اور نوٹ پڑے ہوئے تھے۔ناظم نے باپ کو دیکھا اور پھر اسے آوازیں دے کر ا ٹھانے لگا۔

’’اٹھو …ابّا…اٹھو…‘‘ دیکھو ہمارے کھانے کے لیے اللہ نے بہت سے نوٹ دے دیئے ہیں …اٹھو‘‘ ناظم ابا کو آواز لگا کر تھک گیا تھا لیکن جب صولت علی نہ اٹھے تو وہ دھاڑیں مار کر رونے لگا۔

’’بیچارا…کتنا پیارا بچہ ہے۔‘‘ ایک خاتون نے ناظم کی معصومیت کو سراہا اور اس کی طرف پچاس کا نوٹ بڑھایا۔ ناظم نے خاتون کی طرف دیکھا۔

’’رکھ لو بیٹا…سنو تمہارا باپ اب مر چکا ہے  اور اس کے دفن کا فرض تم پر ہے۔اٹھو اور اسے دفن کرو۔‘‘ خاتون نے ناظم کو سمجھانے کی کوشش کی۔ لیکن وہ نہیں سمجھ پا رہا تھا کہ آج ابّا اٹھ کیوں نہیں رہے۔‘‘ اس کے ابّا اتنی سی دیر میں ہی کیسے مر سکتے ہیں۔‘‘ ناظم نے دل میں سوچا۔’’یہ عورت جھوٹ بولتی ہے۔‘‘ اس نے پھر ابّا کو آواز  لگائی لیکن جب صولت علی نہیں اٹھے تو ناظم کا دماغ سن ہو گیا۔ وہ نہیں سمجھ پایا کہ اب وہ کیا کرے۔

ناظم نے ابّا کو دیکھا جن کے چہرے پر اب سکون نظر  آ رہا تھا۔ پھر اس نے ان پر پڑے سکوں اور نوٹوں کو دیکھا۔اس نے جلدی سے تمام سکے اور نوٹ اٹھا لیے۔

’’کیا وہ ان روپیوں سے باپ کو دفن کرے۔‘‘ ناظم نے دل ہی دل میں سوال کیا۔

’’لیکن پھر وہ پیٹ کی آگ کیسے مٹائے گا۔‘‘ ناظم کے اندر سے آواز آئی۔

’’اگر اس کی بھوک نہ مٹی تو وہ بھی جلد ابّا کے پاس چلا جائے گا۔‘‘  ناظم نے آخرکار طے کیاکہ وہ پہلے ابّا کو دفن نہیں کرے گا۔

روپئے لے کر ناظم سیدھے بازار گیا اور اس نے ہوٹل پر پہلی بار کھانا مانگا۔

’’اللہ کے نام پر کھانا کھلا دو بابو جی …میں کئی دنوں سے بھوکا ہوں۔‘‘

’’چل دور ہٹ بھکاری …یہاں خیرات میں کھانا نہیں ملتا۔ ‘‘  ہوٹل مالک نے ڈانٹا۔

ناظم کو پہلی بار احساس ہوا کہ وہ بے روزگار باپ کے بیٹے سے اچانک بھکاری بن چکا ہے۔ لیکن اس کے منھ تو خون لگ چکا تھا اس لیے اب اسے ’’بھکاری ‘‘  لفظ پر کوئی اعتراض نہیں ہوا۔اس نے پھر مطالبہ کیا۔وہ تب تک مطالبہ کرتا رہا جب تک کہ ہوٹل مالک نے تنگ آ کر اسے کھانا فراہم نہ کر دیا۔ کھانے کا پتّل ملنے پر ناظم دھیرے سے مسکرایا۔

کھانے سے فارغ ہو کر اس نے بھیک میں ملے روپیوں سے ایک ٹھیلہ خریدا۔ اور اسے لے کر باپ کی لاش کے پاس پہنچا۔ اس نے ایک دوسرے بھکاری کی مدد سے باپ کو ٹھیلے پر لٹا دیا۔ ناظم ٹھیلے کو کھینچتے ہوئے شہر کے سب سے زیادہ بھیڑ بھاڑ والے چوراہے پر پہنچا۔ فٹ پاتھ پر اس نے ٹھیلے کو کھڑا کیا اور دھیرے دھیرے آنسو بہاتے ہوئے اس نے آتے جاتے لوگوں سے مانگنا شروع کیا۔

’’میرا باپ مر گیا…اس کے کفن دفن کے لیے کچھ دیتے جاؤ بابوجی ‘‘

’’میں کئی دن سے بھوکا ہوں بابوجی…میرا باپ مر گیا۔‘‘

ناظم کی محنت شام ہوتے ہوتے رنگ لے آئی تھی۔ ا س نے کافی روپئے جمع کر لیے تھے۔

’’تو کیا اب اسے اپنے باپ کا کفن دفن کر دینا چاہیے۔ ‘‘ ناظم کو اچانک خیال آیا تو اس کا دل بھر آیا۔ اسے خیال آیا کہ اس کے باپ نے اس کی بھوک کے لیے کس طرح در در کی ٹھوکریں کھائی تھیں۔ اور اس نے کیا کیا اسی باپ کی لاش پر سوداگری کرنے لگا۔

’’لعنت ہے تجھ پر ناظم‘‘  اس کے دل نے دھتکارا۔

’’نہیں اب میں اپنے باپ کی لاش کی اور بے حرمتی نہیں کروں گا۔اب اس کو پہلے دفن کروں گا تب گھر واپس جاؤں گا۔‘‘ ناظم نے فیصلہ لیا اور اٹھ کھڑا ہوا۔

’’لیکن پھر کل میں کہاں سے کھانا لاؤں گا۔ ‘‘ یہ سوچتے ہی ناظم کے پاؤں رک گئے۔

٭

ناظم نے کئی دن گزرنے کے باوجود باپ کو دفن نہیں کیا تھا۔ وہ اسے ٹھیلے پر رکھ کر شہر کے کئی دوسرے چوراہوں پر کھڑا ہو کر بھیک مانگتا رہا تھا۔ پچھلے دو روز سے وہ علوی چوراہے پر ہی جما ہوا تھا یہاں اسے اچھی بھیک ملی تھی۔ اب لاش بھی خراب ہو چکی تھی اس لیے مجبوراً وہ اسے لے کر قبرستان گیا اور آخری رسوم ادا کر کے بھاری دل کے ساتھ واپس علوی چوراہے پر آ بیٹھا۔ وہ آج بہت زیادہ غمگین تھا۔ اسے باپ کی موت کا صدمہ تو تھا ہی ساتھ ہی کمائی کا ذریعہ ختم ہو جانے کا خوف بھی تھا۔ غم اور خوف کی ملی جلی کیفیت کے درمیان ناظم فٹ پاتھ پر چادر بچھا کر سو گیا۔ اپنا گھر تو جیسے وہ بھول ہی چکا تھا۔

’’ٹن…ٹن‘‘ کی آواز پر ناظم نے آنکھیں کھول دیں۔دن کافی چڑھ آیا تھا اور سورج ٹھیک اس کے ماتھے پر چمک رہا تھا۔ اس نے جیسے تیسے آنکھیں کھولیں تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اس کی چادر پر کافی سکے پڑے ہوئے تھے۔ سکے دیکھ کر اس کی آنکھیں چمک اٹھیں …

’’اللہ کے نام پر دے دے بابا‘‘ ناظم نے لوگوں کو ادھر سے گزرتا دیکھ کر آوازیں لگانی شروع کر دیں۔ بھیک کے مطالبے کی آوازیں لگانے میں اب وہ ایکسپرٹ ہو چکا تھا۔ اس پر سکّے برسنے لگے تھے اور اب اس کا یہی کام پیشہ بن چکا تھا۔

’’اے تم تینوں کیا کرتے ہو۔‘‘ ناظم نے تین بچوں کو سڑک کے کنارے روتے دیکھا تو وہ ان سے پوچھنے لگا۔‘‘

’’ہمارا باپ مر گیا اور ماں چھوڑ کر بھاگ گئی۔ ‘‘ کہہ کر بچے رونے لگے۔

’’بھوکے ہو‘‘ ناظم نے بے دم سے ہو رہے بچوں سے پوچھا تو انھوں نے ہاں میں گردن ہلائی۔ ناظم نے تینوں کو اپنے پاس سے بھر پیٹ کھانا کھلایا۔

’’اب تم کیا کرو گے۔‘‘ ناظم نے بچوں سے پوچھا۔

جواب میں تینوں بچے خلا میں گھورنے لگے۔

’’سنو تم اگر میری طرح بھیک مانگو تو کافی روپئے کما سکتے ہو۔‘‘

’’لیکن کیسے‘‘ سب سے بڑے بچے نے کہا۔

’’وہ تم مجھ پر چھوڑ دو۔‘‘

ناظم نے تینوں بچوں کو تین الگ الگ چوراہوں پر بٹھا دیا۔ان جگہوں پر وہ پہلے باپ کی لاش رکھ کر کافی روپئے اکٹھا کر چکا تھا۔

’’اب تم لوگ یہاں بیٹھ کر بھیک مانگو۔اور ہاں شام کو میرے پاس لوٹ آنا۔‘‘

بچوں نے اثبات میں سر ہلایا۔

’’اللہ کے نام پر دے دو بابا‘‘ تینوں بچے پھٹا پھٹ کام پر لگ گئے۔

شام کو تینوں بچے ایک ساتھ ناظم کے پاس پہنچے۔

’’آؤ…بھائیو کتنی کمائی ہوئی۔‘‘

’’سو روپئے‘‘ تین نے جوڑ کر بتایا۔

’’ٹھیک ہے بیس روپئے مجھے دے دو۔‘‘ ناظم نے کہا تو بچے دو قدم پیچھے ہٹ گئے۔

’’کیوں …یہ تو ہماری کمائی ہے۔‘‘

’’لیکن ہوئی تو میری وجہ سے ہے نہ۔اس لیے اب تم مجھے میرا حصہ دو گے۔ ورنہ تم ان جگہوں پر نہیں بیٹھو گے۔‘‘ ناظم کی دھمکی سے بچے سہم گئے اور فوراً ناظم کے حوالے بیس روپئے کر دیئے۔

’’اور سنو تم سب میرے گھر پر ہی رہو گے۔ اگر تم جیسے کچھ اور بچے ملیں تو انھیں بھی میرے پاس لے آیا کرنا تاکہ میں انھیں بھی روزگار مہیا کرا سکوں۔‘‘ ناظم کو برسوں بعد اپنے گھر کی یاد آئی تھی۔

٭

ناظم نے اپنے ورکروں کی آج خاص میٹنگ بلائی تھی۔بھیک کے اس دھندے میں ناظم نے بہت نام کمایا تھا۔ وہ اب ساٹھ سال کاہو چکا تھا اور اب بھی علوی چوراہے پر بیٹھا بھیک مانگتا تھا۔ لیکن اب وہ خود بھیک مانگنے میں وقت ضائع نہیں کرتا تھا۔ بلکہ اپنے ورکروں کی نگرانی اس کے لیے زیادہ ضروری تھی جو کہ تعداد میں سیکڑوں ہو چکے تھے۔ اس کے ورکر اب بھی اسے بیس فیصدی حصہ آمدنی سے نکال کر روز دیتے تھے۔

میٹنگ شرو ع ہوتے ہی ناظم نے کہا ’’بھائیو اور میرے بچو …میں اب بوڑھا ہو چکا ہوں اور میری طبیعت بھی اب خراب رہتی ہے۔اس لیے میں چاہتا ہوں کہ آج اپنے جانشین کا اعلان کر دوں تا کہ تم اس کی رہنمائی میں کام کرتے رہو۔‘‘

’’گروجی جیسی آپ کی مرضی‘‘ سارے ورکروں نے ناظم کی بات پر لبیک کہا۔

ناظم نے فوراً ان تین بچوں میں سے سب سے بڑے ارشد کو اپنا جانشین مقر ر کیا جو کہ اس کے سب سے پہلے ورکر بنے تھے۔ اتفاق رائے سے ناظم کی بات کو سبھی نے تسلیم کر لیا۔

اور ایک دن اچانک ناظم چل بسا۔ اس کے جانشین ارشد نے تمام ورکروں کو جمع کیا اور ناظم کی تدفین کیسے ہو اس پر غور و خوض کیا جانے  لگا۔ کئی مشورے آئے۔

’’ہمارے گروجی بہت مشہور ہو چکے تھے اس لیے انھیں نہایت شان کے ساتھ قبرستان لے جانا چاہیے تا کہ وہ شان کے ساتھ اپنا آخری سفر طے کر سکیں۔‘‘ ایک ورکر نے تجویز رکھی۔کئی نے اس کی حمایت کی۔

’’لیکن اس کے لیے کافی روپیہ درکار ہو گا۔ ارشد نے کہا۔’’اتنے روپئے ہم کہاں سے لائیں گے۔‘‘

اس پر سب خاموش ہو گئے تب ارشد نے کہا ’’ہم ایسا کرتے ہیں کہ گروجی کی لاش کو ان کے پرانے ٹھیلے پر لے کر چلتے ہیں اور علوی چوراہے والی ان کی گدی پر ہم سب ان کے لیے بھیک مانگیں گے۔تاکہ کل انھیں شان کے ساتھ دفن کر سکیں۔ ‘‘

سب نے اس با ت کو پسند کیا۔ ناظم کو بھی اسی ٹھیلے پر لٹا دیا گیا جس پر اس نے کبھی اپنے باپ کی لاش کو رکھا تھا۔ علوی چوراہے پر ناظم کی لاش کئی دنوں تک ٹھیلے پر رکھی رہی کیونکہ ’’چوراہے والے بھکاری ‘‘  کے نام پر کافی سکے اور نوٹ روزانہ برس رہے تھے۔ سکّوں کی چمک نے ورکروں کے دل سے گروجی کی تدفین کا عمل غائب کر دیا تھا۔

٭٭٭