کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

خود کشی!

عارف نقوی


شاکر نے خود کشی کا مصمم ارادہ کر لیا تھا۔ وہ شہر سے کچھ دور لکھنؤ سے کانپور جانے والی ریل کی پٹری پر چلا جا رہا تھا۔

آس پاس سے کئی ٹرینیں گزر چکی تھیں۔  کُو،  چھِک چھِک کی آوازیں گونج رہی تھیں۔  بچپن میں یہ آوازیں اسے بہت پسند تھیں۔

وہ اپنے ساتھی لڑکوں کے ساتھ ٹولیاں بنا کر کُو چھک چھک کرتا ہوا ایک لائن سے دوڑا کرتا تھا۔ کبھی دھڑم دھڑم کی آوازیں ایسے نکالتا جیسے ریل پیل پر سے گزر رہی ہے، کبھی اتنی تیزی سے چھِک چھِک کرتا جیسے گاڑی ہوا سے باتیں کر رہی ہے اور پھر اتنی لمبی چھیک چھیک چھاک چھاک کرتا جیسے پلیٹ فارم قریب آ رہا ہے۔ اور پھر اپنے ساتھی لڑکوں کے ساتھ مل کر پان بیڑی سگریٹ اور چائے گرم کی آوازیں نکالنے لگتا۔نوجوانی کی منزل میں داخل ہونے کے بعد بھی اسے ریل کے سفر میں خاص لطف آتا تھا۔ خصوصاً جب وہ ’شتابدی‘ سے سفر کرتا تھا، جو دلی اور لکھنؤ کے درمیان بہت ہی تیز اور صاف ستھری ٹرین مانی جاتی ہے اور جس میں اخبار اور منرل پانی سے لیکر ناشتہ اور کھانا تک فراہم کیا جاتا ہے اور لاؤڈ اسپیکر پر لکھنؤ کی تاریخ اور تہذیب کے

گن گائے جاتے ہیں۔۔ ۔لیکن آج وہ اسی’ شتابدی‘ کے سامنے لیٹ جائے گا۔کٹ جائے گا۔

کو چھک چھک اور دھڑ دھڑ کرتی ہوئی ایک اور ٹرین دوسری پٹری پر سے گزر گئی۔ سرمئی بادلوں نے سورج کو اپنے آنچل میں چھپا لیا۔ ہو ا کے جھونکے جسم کو سہلا رہے تھے۔ دور تک ریل کی پٹریوں کا سلسلہ پھیلا ہوا تھا۔ درختوں کی قطاریں اور ان کے عقب میں کھیتوں کی جھولتی ہوئی بالیاں اور اکا دُکا جانور نظر آرہے تھے۔ انسانوں کا کہیں نام و نشان بھی نہیں تھا۔

وہ آج اپنی زندگی کو ختم کر دینا چاہتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ شتابدی ٹرین سہہ پہر کو ٹھیک تین بجے چار باغ اسٹیشن سے چلے گی اور پھر تھوڑی دیر میں اس پٹری پر سے گزرے گی اور وہ اس پٹری پر لیٹ جائے گا تا کہ ٹرین کے پہیے اس کے جسم کو کاٹتے ہوئے، چھکِ چھکِ کرتے گزر جائیں اور ان پٹریوں اور ان کے بیچ میں پڑے کنکڑوں کو لہو لہان کر دیں اور دوسرے دن اخبارات میں شائع ہو کہ ایک عاشق نے اپنی وفا شعاری کا ثبوت دیا ہے اور اس کی محبت کی داستان لا فانی ہو جائے۔

شاکر لکھنؤ کے ایک نواب سید آغا جانی کا بیٹا تھا۔ جن کے والد کے گھر کے دروازہ پر،  کہا جاتا ہے، کہ کبھی ہاتھی بندھتا تھا۔ ۱۸۵۷ء کے انقلاب میں وہ انگریزوں کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہو گئے تھے۔ اور ان کی ساری جائداد انگریزوں نے ضبط کر کے کسی دوسرے کو دیدی تھی۔ بس ایک حویلی کے کھنڈر ان کے خاندان کے رہنے کے لئے بچے تھے، جنمیں اب نواب آغا جانی اپنی بیگم اور بیٹے کے ساتھ رہتے تھے۔ نواب صاحب پرانے رکھ رکھاؤ کے انسان تھے۔ خاندانی عزت و شرافت پر فخر تھا۔ مگر کوئی قاعدہ کا کارو بار کرنے کی صلاحیت اور تجربہ نہیں تھا۔ مالی تنگیوں کا شکار رہتے تھے۔ مگر تنگ دستی کا اظہار کسی سے نہیں کرتے تھے۔ اہلیہ پر پردہ کی سخت پابندی تھی۔ ان کی نو اولادیں ہوئیں تھیں مگر شاکر کے علاوہ سب بچپن میں ہی اللہ کو پیاری ہو گئیں۔  لوگوں کا خیال تھا کہ ان کے گھر میں جنات بسے ہوئے ہیں،  جو بچّوں کو اٹھا لے جاتے ہیں۔  بعض لوگوں نے تو کئی کالی کالی بلیاں بھی آنگن میں گھومتی ہوئی دیکھی تھیں یا میاؤں میاؤں کی آوازیں سنی تھیں اور نواب صاحب کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اس حویلی کو ان کی حفاظت میں چھوڑ کر کہیں اور چلے جائیں۔

نواب صاحب کی اولادوں میں بس شاکر ہی صحتمند پیدا ہوا تھا اور وہ بھی منتوں و دعا تعویذوں کا کرم تھا، اس لئے اس کے گال پر ہمیشہ ایک کالا تِل ہوتا اور گلے میں گنڈا اور بازوؤں پر تعویذ بندھے رہتے۔اور اس بات کا خیال رکھا جاتا کہ وہ زیادہ محنت نہ کرنے پائے اور زیادہ پڑھائی سے بھی اس کی صحت پر برا اثر نہ پڑے۔ محلے ٹولے کے لڑکوں کے ساتھ کرکٹ اور فٹ بال کھیلنے سے بھی اسے منع کیا جاتا۔ بس لُوڈو،  کیرم اور تاش وغیرہ کھیلوں کی اجازت تھی۔ حالانکہ شاکر کو جب بھی موقع ملتا محلے کے لڑکوں کے ساتھ دھما چوکڑی کے لئے پہنچ جایا کرتا اور لٹو نچاتا،  کنچے کھیلتا اور پتنگوں کی ڈوریں لوٹتا۔

شاکر کو لاڈ پیار سے نزاکت کے ساتھ پالنے کے باوجود ایک انگریزی اسکول میں داخل کیا گیا اور دو پرائیویٹ ٹیچر رکھے گئے۔ ایک انگریزی پڑھانے کے لئے عیسائی ٹیچر اور ایک مولوی صاحب قران شریف پڑھانے کے لئے۔ مگر دونوں پر پابندی تھی کہ شاکر کے ساتھ ڈانٹ ڈپٹ اور مار پیٹ نہ کریں۔  اسکول میں بھی اگر کوئی ٹیچر پیٹ دیتا تو نواب صاحب جا کر ہیڈ ماسٹر سے شکایت کرتے۔نتیجہ یہ ہوا کہ کہ شاکر کلاس میں بار بار فیل ہوا اور انٹر میں تب پہنچا جب اس کے بعض ہم عمر ساتھی بی اے اور ایم اے پاس کر چکے تھے۔

زیادہ تعلیم نہ حاصل کر سکنے کے باوجود محلّے میں شاکر کی عزت تھی۔ وہ نواب صاحب کا بیٹا تھا،  جو ایماندار، متقی اور پرہیزگار سمجھے جاتے تھے۔ بڑی سی حویلی میں رہتا تھا۔ دیکھنے میں خوبرو اور صحتمند تھا۔ اس لئے محلہ کی لڑکیاں اکثر کنکھیوں سے اسے دیکھا کرتی تھیں۔  خوش مزاج اور ملنسار تھا اور دوسروں کا احترام کرتا تھا اس لئے پڑوسی بھی شفقت اور محبت سے پیش آتے تھے۔ خصوصاً لالہ بنواری لال تو اس پر بہت ہی مہربان تھے۔

لالہ بنواری لال ایک بڑے مہاجن تھے اور اس کے پڑوس میں رہتے تھے۔ وہ سود پر قرضے دیا کرتے تھے۔

نواب صاحب کی بیگم کے بہت سے جواہرات گرویں رکھ کر اپنے قبضے میں کر چکے تھے اور اب حویلی کو گرویں رکھ کراس پر قبضہ کرنے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ اس لئے شاکر سے بہت محبت سے پیش آتے تھے۔ کبھی کبھی اپنی بیٹھک میں بلا کر دیر تک اس سے ہمدردی جتاتے اور خاندانی حالات پوچھا کرتے۔  ان کی بیٹی روپا اکثر مسکراتی اور اٹھلاتی ہوئی اس کے قریب سے گزرتی اور وہ اپنے سینے میں ایک میٹھا سا درد محسوس کیا کرتا۔

۔۳۔شاکر اب نوجوانی کی منزل سے گزر رہا تھا۔ روپا بھی اب سیانی ہو گئی تھی۔ عنفوانِ شباب کی علامتیں اور خد و خال ابھرنے لگے تھے۔ اسکرٹ کی جگہ اب وہ ساری پہننے لگی تھی۔  اس کی شربتی آنکھوں کی کشش، گالوں کی سرخی، سینے کے مدو جزر، سڈول مرمریں جسم کا جادو اور آواز کا ترنم شاکر کو مسحور کر رہے تھے۔

کبھی کبھی وہ اپنی کیاری میں سے کوئی پھول توڑ کر چپکے سے روپا کو پکڑا دیتا اور وہ اسے لے کر ہنستی ہوئی گھر کے اندر چلی جاتی یا ہولی اور دیوالی پر جب وہ لالہ جی کو بدھائی دینے کے لئے جاتا تو وہ آس پاس دیکھ کر برفی یا قلاقند کا کوئی ٹکڑا چپکے سے اس کے منہ میں ٹھونس دیتی اور ہنستی ہوئی بھاگ جاتی۔

آخر ایک دن جب وہ لالہ جی کو دیوالی کی بدھائی دینے کے لئے گیا تو وہ گھر پر نہیں تھے۔ دروازہ روپا نے ہی کھولا اور برفی کا ایک ٹکڑا لا کر اس کے منہ میں ڈال دیا۔ پھر جیسے ہی وہ دروازہ بند کرنے لگی شاکر نے اس کا ہاتھ پکڑ کر ایک گلاب کا پھول اسے تھما دیا اور بولا :

’’ رُوپا، تم مجھے بہت اچھی لگتی ہو۔‘‘

’’ دھت!‘‘ اتنا کہہ کر روپا نے دروازہ بند کر لیا اور گھر کے اندر چلی گئی۔

پھر اس نے کبھی لالہ جی کے گھر کا رخ نہ کیا۔ نا ہی روپا اس کے گھر کے قریب سے گزری۔ شاکر کے والد نے

گرویں پر حویلی کو دے کر لالہ سے جو قرضہ لیا تھا اس کا سود بھی اب بہت بڑھ گیا تھا اور حویلی میں اداسی چھائی رہتی تھی۔

پھر بھی نواب صاحب نے بیٹے کو کسی طرح سے انٹرمیڈیٹ کروا کر اسے یونی ورسٹی میں بھرتی کروا دیا۔ شاکر نے ہسٹری کے شعبے میں داخلہ لیا کیونکہ روپا بھی اب یو نی ورسٹی میں یہی مضمون پڑھ رہی تھی۔اس کے حسن اور کشش میں اور اضافہ ہو گیا تھا بچپن کے الھڑ پن کی جگہ جوانی کی شوخیاں انگڑائیاں لے رہی تھیں۔

پرانی یادیں تازہ ہوئیں،  پھر دوستی بڑھی اور پھر وہ محبت میں تبدیل ہو گئی اور پھر چھپ چھپ کر ملاقاتیں ہونے لگیں۔

’’روپا میں تمھارے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔‘‘ شاکر نے اس سے کہا۔

’’ میں بھی تمھیں بہت چاہتی ہوں۔  مگر شاکر میرے پتا جی ہم دونوں کا ساتھ گوارہ نہیں کریں گے۔ وہ خود کشی کر لیں گے۔ میں بھی انھیں بہت چاہتی ہوں۔  بچپن میں جب میری ماتا جی کی مرتیو ہو گئی تو اس کے بعد سے انھوں نے مجھے ماں کی طرح پالا ہے۔‘‘ روپا نے اداس لہجے میں کہا۔ ’’ مگر میں تمھیں بھی نہیں چھوڑ سکتی۔ میں پاگل ہو جاؤں گی۔ تم میرا جیون ہو۔‘‘

’’ تم بھی میری زندگی ہو۔ ‘‘ شاکر نے یقین دلایا۔ ’’ میں بھی لالہ جی کی بہت عزت کرتا ہوں۔  انھیں کیسے منہ

دکھاؤں گا۔ سمجھ میں نہیں آتا کیا کروں۔ ‘‘

پھر ایک دن روپا نے بتایا : ’’ پتا جی میرے لئے لڑکا ڈھونڈھ رہے ہیں،  کیا کروں شاکر؟‘‘

’’ تو چلو،  میں چلتا ہوں ان کے پاس۔  میں بھی تو لڑکا ہی ہوں۔ ‘‘

’’ مذاق نہ کرو شاکر۔ میں سچ کہہ رہی ہوں۔  وہ میرا رشتہ اپنی برادری میں کریں گے۔ اور پھر تمھارا تو مذہب ہی دوسرا ہے‘‘

’’ پریم کا کوئی مذہب نہیں ہوتا روپا۔ پریمیوں کا دھرم پریم ہوتا ہے۔‘‘

’’ مگر دنیا اس سب کو نہیں مانتی۔ ہمارا سماج بہت کنزرویٹو ہے۔ مگر میں تمھارے بنا نہیں رہ سکتی۔ ‘‘

روپا کی آنکھوں سے بے تحاشہ آنسو جاری تھے۔

’’ میری نظروں میں بس اچھا انسان ہونا ضروری ہے۔ اچھے برے تو سب دھرموں میں ہوتے ہیں۔  دھرتی جب دھان اگاتی ہے تو یہ نہیں کہتی کہ یہ کسی ایک خاص دھرم کے لوگوں کے لئے ہے۔ بھونرا جب پھول پر نچھاور ہوتا ہے تو وہ یہ نہیں سوچتا کہ اس پودے کو کس دھرم کے مالی نے لگایا ہے۔ بلبل کے گیت، کوئل کی کوک اور پپیہے کی پی کہاں اور بلبل کے نغمے کسی ایک دھرم کے لئے نہیں ہوتے۔ کوئی دھرم یہ نہیں کہتا کہ پیاسے کو پانی پلانے سے پہلے اس کا نام اور دھرم پوچھ لو۔ انسان کو جب تڑپتا ہوا دل دیا گیا ہے تو یہ نہیں کہا گیا ہے کہ وہ حسن کے لئے نہ تڑپے۔‘‘

’’ فلاسفی نہ بگھارو،  شاکر، میں سنجیدہ ہوں۔  یہاں جان کا سوال ہے۔‘‘

’’ تو پھر کیا کروں روپا؟‘‘

’’ میں کچھ نہیں جانتی۔ ‘‘ روپا اپنے آنسو پونچھ کر چلی گئی۔

شاکر دیر تک خلاء میں گھورتا رہا جیسے پوچھ رہا ہو:

’’کیا کسی دوسرے مذہب کی لڑکی یا لڑکے سے پریم کرنا سچ مچ جرم ہے؟ کیا ہمارے دھرم واقعی اتنے بے رحم ہیں ؟

پھر اللہ تعلی نے دل کیوں دیا ہے؟ دل میں محبت کیوں پیدا کی ہے؟ کیا دو مختلف دھرموں کے ماننے والوں کے سنگم سے انسانیت کا بھلا نہیں ؟ کیا پیار رنگ و نسل، مذہب و ملت، ذات پات، برادری تک محدود ہونا چاہئے؟ اور اگر ایسا ہی ہے تو اس کی حد کیا ہو گی؟ دوسرے مذہب میں نہ کرو۔ دوسری ذات میں نہ کرو۔دوسرے قبیلے اور دوسرے پیشے کے لوگوں میں نہ کرو۔ آخر یہ اختلافات ختم کیوں نہیں ہوتے؟‘‘

 

روپا کئی دن تک یونیورسٹی میں نہیں آئی۔ شاید بیمار تھی۔ شاکر کا دل پڑھائی میں نہیں لگتا تھا۔ اس نے کئی بار سوچا کہ روپا کے گھر جا کر خیریت معلوم کرے۔  مگر ہمت نہ پڑی۔

 

پھر ایک دن جب روپا یونی ورسٹی میں آئی تو بہت پریشان تھی:

’’ شاکر، پتا جی نے میرے لئے لڑکا دیکھ لیا ہے۔ وہ رشتہ طے کر رہے ہیں۔  دلی کا رہنے والا ہے۔ وہاں بزنس

کرتا ہے۔ میں آتم ہتیا کر لوں گی‘‘

’’ ایسا نہیں کہتے روپا!‘‘ شاکر نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔

’’ تو چلو ہم یہاں سے بھاگ نکلیں۔  میں بالغ ہوں شاکر!‘‘

’’ نہیں !‘‘ شاکر کے منہ سے ایک گھٹی سی چیخ نکل گئی۔ دونوں پیپل کے پیڑ کے نیچے بیٹھے دیر تک روتے رہے۔

سورج شرم سے بادلوں کی اوٹ میں چھپنے لگا۔ زرد پتے پیڑ سے گرتے رہے۔

 

روپا اور شاکر کسی کو بتائے بغیر کانپور چلے گئے۔ وہاں انھوں نے عدالت میں سِوِل میرج کی درخواست دینے کی کوشش کی۔مگر انھیں کسی وکیل کی ضرورت تھی اور وہ فوراً فراہم نہ تھا۔ دوسرے دن وہ عدالت میں جانے کے لئے ہوٹل سے نکل ہی رہے تھے کہ پولیس نے شاکر کو گرفتار کر لیا۔ اس پر روپا کے اغوا کا الزام تھا۔ اس نے قسمیں کھائیں کہ روپا اپنی مرضی سے آئی ہے۔ وہ بالغ ہے۔ روپا نے بھی تصدیق کی۔ مگر پولیس نے کوئی اعتبار نہیں کیا۔ شاکر کی ہر دلیل کا جواب پولیس کی لاٹھی اور گھونسے تھے اور لالہ جی کی دائر کی ہوئی رپورٹ تھی۔

 

آج کئی مہینوں کے بعد اسے جیل سے رہا کیا گیا تھا۔ روپا نے بیان دیا تھا کہ وہ اپنی مرضی سے اس کے ساتھ گئی تھی۔مگر اب اس کے ساتھ نہیں جائے گی۔ اپنے پتا جی کی مرضی پر چلے گی۔ اور اس کے پتا نے مقدمہ واپس لے لیا تھا۔

جیل میں اسے صرف اتنا بتایا گیا کہ لالہ جی نے مقدمہ واپس لے لیا ہے اس لئے اسے رہا کیا جا رہا ہے۔

شاید اس کی محبت جیت گئی ہے۔ اس نے سوچا۔ اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ وہ جیل کی سختیوں کو بھول

گیا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ فوراً اپنے باپ کے سامنے سر جھکا کر ان کو جو تکلیفیں ہوئی ہیں ان کے لئے معافی مانگ لے

اور ماں کے سینے سے چمٹ جائے۔لالہ جی کی ڈیوڑھی پر جا کر انھیں نمسکا ر کرے اور کہے کہ چھما کیجئے، مجھے پہلے آپ سے اجازت مانگنی چاہئے تھی۔ اور پھر روپا کو بازوؤں میں لے کر اتنا پیار کرے کہ اس کے دونوں گال سرخ ہو جائیں۔

لیکن جب شاکر اپنے باپ کی حویلی پر پہنچا تو پھاٹک پر تالا پڑا ہوا تھا۔ اس کے ماں باپ کہیں اور چلے گئے تھے۔اور

ان کی خاندانی حویلی اب لالہ بنواری لال کی ملکیت تھی۔لالہ جی کے گھر کے سامنے شہنائی کی سریلی آواز گونج رہی تھی۔ ان کا گھر رنگ برنگی جھنڈیوں اور قمقموں سے سجا ہوا تھا۔ مہمانوں کے قہقہے گونج رہے تھے۔گھر کے سامنے گلی میں دور تک لوگوں کی بھیڑ لگی ہوئی تھی۔

’’یہ کیسا جشن ہے؟‘‘ اس نے ایک لڑکے سے پوچھا۔

’’ لالہ جی کی بیٹی کا بیاہ ہے۔ منڈپ میں پھیرے لے رہی ہے۔ برات کل تیسرے پہر کو ’ شتابدی‘ سے دلی واپس جائے گی۔‘‘ اسے بتایا گیا۔

شاکر کچھ کہے بغیر آگے بڑھ گیا اور خیالات میں گم آوارہ گھومتا رہا۔ وہ رات اس نے ایک پارک کی بنچ پر گزاری۔

اور دوسرے دن ’چار باغ‘ ریلوے اسٹیشن پر بھٹکتا رہا۔

اس کی روپا اس سے چھین لی گئی تھی۔ والدین بچھڑ گئے تھے۔ خاندانی حویلی چھین لی گئی تھی۔ کئی مہینے جیل میں گزارنے کے بعد نام پر کالا دھبّہ لگ گیا تھا۔ اب نہ کسی نوکری کی امید تھی نہ عزت و وقعت کی۔ زندگی تاریک تھی۔

اب وہ جی کر کیا کرے گا۔ اس نے گھڑی دیکھی۔ شتابدی کے آنے کا وقت ہو رہا تھا۔ اب اسے اسی ریل کی پٹری پر لیٹ جانا چاہئے۔

دور سے ٹرین آتی ہوئی نظر آئی۔ یہ ضرور شتابدی ہے۔ اس نے سوچا۔ سیٹی کی آواز، چھِک چھِک، پتوں کی سرسراہٹ اور گھڑگھڑاہٹ۔ اس کے دل کی دھڑکنیں تیز ہوتی گئیں۔  ’’ روپا، روپا،  روپا۔‘‘ اس کی آواز جنونی ہونے لگی۔ وہ ریل کی

پٹری پر ساکت کھڑا روپا کو پکار رہا تھا۔ ٹرین قریب آتی جا رہی تھی۔

 

اچانک اس نے دیکھا ایک بکری کا بچہ بھاگتا ہوا ریل کی پٹریوں کے بیچ میں آ گیا ہے اور ’ میں،  میں ‘ کر رہا ہے۔

ٹرین قریب آتی جا رہی تھی۔ انجن اور بکری کے بچّہ میں فاصلہ زیادہ نہیں رہ گیا تھا۔ اس نے جست لگائی اور بکری کے بچّے کو گود میں لے کر دور تک لڑھکتا ہوا چلا گیا۔ شتابدی کو چھِک چھِک،  دھڑ دھڑ کرتی ہوئی آگے بڑھ گئی۔ اور پھر نظروں سے اوجھل ہو گئی۔

 

بکری کا بچّہ ابھی بھی اس کی گود میں دبا ہوا ’میں،  میں ‘ کر رہا تھا۔ شاکر کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔  ریل کی فولادی سیاہ پٹریاں چمک رہی تھیں۔  پیڑوں پر جیسے ہریالی چھا گئی تھی اور پتوں سے مدھر سرگم پھوٹ رہے تھے۔  سورج ابھی بھی بادلوں سے اٹکھیلیاں کر رہا تھا اور دور کھڑے کچھ کسان اسے حیرت سے دیکھ رہے تھے۔

شاکر نے بکری کے بچّے کے ماتھے پر ہاتھ پھیر کر پیار کیا اور اسے گود سے اتار کر زمین پر چھوڑ دیا، بغیر یہ سوچے کہ وہ کہاں سے آیا ہے؟ اس کا مالک کون ہے؟ کیا نام ہے؟

بکری کا بچّہ میں،  میں کرتا ایک کھیت میں غائب ہو گیا۔

٭٭٭