کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

سوئے فردوس زمیں

عارف نقوی


توسی بڑے پَیڑے ہو!‘‘

اس کی آنکھوں سے کئی آنسو نکل کر گالوں پر پھیل گئے۔ آواز بھرّا گئی۔اس کا جی چاہا ہیرا کا گریبان پھاڑ کر اس کا سینا

اپنی دونوں مٹھیوں سے کوٹ دے۔

’’تو سی بڑے پیڑے ہو۔ ظالم ہو۔‘‘

ہیرا ہنس دیا:

’’ اری پگلی میں تجھے چھوڑ کر تھوڑے ہی جا رہا ہوں۔  جرمنی میں جب مجھے کام مل جائے گا تو تجھے بھی اپنے ساتھ لے جاؤں گا۔

اور رانی بنا کر رکھوں گا۔ دیکھ مرلی دھن کے بیٹے کو۔۔۔رجوندر۔۔بڑا سا ریستوراں کھول رکھا ہے اس نے جرمنی میں۔

لاکھوں کماتا ہے۔ کروڑپتی بن گیا ہے۔ کہتے ہیں ’مرسیڈیس ‘ کار میں بیٹھ کر گھومتا ہے۔ شاندار بنگلہ میں رہتا ہے۔ اری کشمیر سے

اخروٹ کا فرنیچر لے کر گیا ہے۔دیکھا نہیں پچھلے سال جب یہاں آیا تھا تو سارا گاؤں ٹوٹ پڑا تھا اسے دیکھنے کو۔ بادشاہوں کی

طرح استقبال کیا تھا اس کا۔جدھر جاتا تھا لڑکیاں گھروں سے باہر نکل پڑتی تھیں۔ ‘‘

ہیرا نے سرجیت کو سمجھانے کی بہت کوشش کی مگر اس کے آنسو نہ تھمے۔

’’بھاڑ میں جائے۔۔۔‘‘ اس کے منہ سے دبی سی آواز نکلی۔ آنسوؤں نے اس کے کاجل کو پھیلا دیا تھا۔

وہ ہیرا کے عشق میں پاگل ہو رہی تھی۔ ہیرا ہی اس کی آرزوؤں،  اس کی کامناؤں،  اس کے خیالات کا محور تھا، اس کی زندگی کا جز تھا۔

اس کی خوشیوں کا مرکز۔وہ ہیرا کے بغیر اب زندگی کا تصور کر ہی نہیں سکتی تھی۔ ہیرا بھی اسے بہت چاہتا تھا۔ سرجیت کے بغیر اسے ایک پل چین نہیں پڑتا تھا۔ دوست احباب سے ملنا بھی اس نے کم کر دیا تھا۔ دونوں بچپن سے ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے اور اب چھپ چھپ کر جوار کے کھیتوں میں یا آم کے باغوں میں ملتے تھے۔ دونوں کے والدین نے بھی رضامندی دیدی تھی اور ان کی منگنی کر دی تھی۔ منگنی کے روز زوردار دعوت ہوئی تھی، سارے گاؤں نے جمع ہو کر بھانگڑا کا رقص کیا تھا اور طرح طرح کے شربتوں کے ساتھ ٹھرّے کا دور چلا تھا۔ اور اب وہ اس دن کا انتظار کر رہے تھے جب ہیرا کا رزلٹ آ جائے گا اور وہ دونوں ہمیشہ کے لئے ازدواجی رشتہ میں جڑ جائیں گے۔اسی خوشی میں وہ دن رات سپنے دیکھتی رہتی تھی اور خود کو گاؤں کی سب سے خوش قسمت دوشیزہ سمجھتی تھی۔

۔۲۔

آج بھی وہ بن سنور کر، ستو اور لڈّو لیکر،  چوکڑیاں بھرتی ہوئی آموں کے باغ میں ہیرا سے ملنے آئی تھی۔ چودھویں رات کا چاند اپنی آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ اور اس کی روشنی اس کے گالوں کی سرخی کو اور اجاگر کر رہی تھی۔ ستارے نیلگوں آسمان پر جگمگا رہے تھے اور دور کوئی پرندہ اپنے ساتھی کو خوش کرنے کے لئے گا رہا تھا۔ پتوں سے اٹھکھیلاں کرتی ہوئی ہوا کی سرسراہٹ کے راگ نے ماحول کو پر کیف بنا دیا تھا۔ وہ چاہتی تھی کہ ہیرا کی مضبوط بانہوں مین خود کو سمو دے، آنکھیں بند کر لے اور رنگین خوابوں میں ڈوب جائے۔لیکن اب ہیرا نے اس کے سارے ارمانوں کو چکنا چور کر دیا تھا۔ اس کی ہنسی اور الفاظ نشتر بن کر سرجیت کے خوابوں کو چیر رہے تھے، کویل کی تانیں،  بلبل کے گیت اور پپیہے کی ُپی کہاں ‘ سانپ کی پھنکاریں بن کر اس کے کانوں کو ڈس رہے تھے۔

توسی بڑے پَیڑے ہو!‘

سرجیت نے ایک بار پھر کہا اور اس کے بازوؤں سے نکل کر دوڑتی ہوئی نظروں سے اوجھل ہو گئی۔

دوسرے دن ہیرا کے گھر میں کہرام مچا ہوا تھا۔ ہری سنگھ غصّہ میں بھرا،  چوکھٹ پر بیٹھا کھانس رہا تھا اور غرّا رہا تھا۔ ماں رجنی کور ایک کونے میں بیٹھی آنسو بہا رہی تھی۔ سارے گھر پر اداسی کا ماحول طاری تھا۔ ہیرا نے انہیں بتایا تھا کہ وہ جرمنی جانا چاہتا ہے اور اسے چھ لاکھ روپیوں کی ضرورت ہے۔ ہیرا کا باپ کبھی اپنے بیلوں کو دیکھتا، کبھی اپنے آنگن کے درختوں کو اور پھر غراہٹ کو تیز کر دیتا۔اور ماں  بار بار بکسا کھول کر اپنے زیوروں کو دیکھتی اور بند کر دیتی۔ اس کے آنسوؤں کی دھار تیز ہو جاتی۔ چھ لاکھ روپئے، اس کے شوہر کی ساری زندگی کا اثاثہ اور بیٹے کی جدائی۔ اسے ایسا لگتا تھا جیسے سینہ پھٹ جائے گا۔

’’ بابا، میں پائی، پائی چکا دوں گا۔ جرمنی میں بہت کماؤں گا۔ تمہیں اور ماں کو بھی اپنے پاس بلا لوں گا۔ وہاں ایک مزدور کو بھی مہینے میں دو ہزار ایورو ملتے ہیں،  سوا لاکھ روپئے۔ تم بھی چین سے رہو گے۔‘‘

’’ چپ رہ، حرام زادے۔ اسی دن کے لئے پیدا کیا تھا تجھے تیری ماں نے۔‘‘

ہری سنگھ غصّہ میں کانپ رہا تھا۔ اس کی آنکھیں سرخ ہو گئی تھیں۔  غراہٹ تیز ہو گئی تھی۔ ہیرا نے کچھ نہ کہا، سر جھکائے ایک کونے میں کھڑا رہا۔ دور کہیں کوئی کوّا پیڑ کی ڈال پر بیٹھا کائیں کائین کرتا رہا۔

کچھ دنوں کے بعد وہ امرتسر کے ایک ڈھابے میں بیٹھا مرغ کی ٹانگ نوچ رہا تھا۔اس کے سامنے ایک سن دراز آدمی بغیر ڈاڑھی مونچھوں کے پگڑی باندھے، موٹا سا ہرا چشمہ لگائے بیٹھا بیر کے گھونٹ حلق سے نیچے اتار رہا تھا۔ ہیرا کے فوٹو اس کے ہاتھ میں  دبے تھے۔  آس پاس کی میزوں کے سامنے بیٹھے بہت سے لوگ ان دونوں سے بے نیاز مرغوں کی ٹانگیں نوچنے میں مصروف تھے۔

دیوار کے ایک کونے میں ٹنگے ریڈیو سے گانے کی آواز گونج رہی تھی۔

۔۳۔

’’ بڑی مشکل سے ملتا ہے پاسپورٹ۔ ایک لاکھ تو افسر کو دینا پڑتے ہیں۔  جدّا یا دوبئی کا سفر نہیں ہے۔ جرمنی کا معاملہ ہے۔  ایک لاکھ پاسپورٹ بننے کے لئے افسروں کو دینا ہوں گے۔ دو لاکھ ٹریولنگ ایجنٹ کو۔ ویزا بھی بنوانا ہے۔  اور بھی کئی جگہ دینا ہوں گے۔ چھ لاکھ سے کم میں نہیں بنے گا کام، ٹکٹ بھی سستا نہیں ہے۔ میں نے تم سے پہلے ہی کہا تھا،

چھ لاکھ سے کم میں نہیں ہو گا۔‘‘ آدمی کا لہجہ روکھا تھا اور اس کے چشمے کے پیچھے سے تیز نظریں ہیرا کے چہرہ پر گڑی ہوئی تھیں۔

’’پراجی۔۔۔‘‘ ہیرا کے گلے سے آواز نہیں نکلی۔ اس وقت تو میرے پاس بس یہی ہے‘‘ اس نے ایک لفافہ سامنے کرتے ہوئے کہا۔ ’’ایک لاکھ۔ باقی میں جلدی دیدوں گا۔ وعدہ کرتا ہوں۔ ‘‘

’’ پریشان مت ہو۔ پاسپورٹ اور ویزا بننے میں کچھ مہینے لگیں گے۔ تب تک بندوبست کر لینا۔‘‘ آدمی کا لہجہ نرم پڑ گیا۔

’’لو، بیر پیو یوروپ جا رہے ہو،  وہاں لسی نہیں ملے گی۔ بئیر اور شراب سے اشنان کرو گے۔ بھاگوان ہو۔ ٹھاٹھ کرو گے۔ ‘‘

پھر اس نے خود ہی ویٹر کو بلا کر بل ادا کیا اور ہیرا کو وہاں چھوڑ کر ڈھابے سے باہر نکل گیا۔

ہیرا نے اس آدمی کو پہلی بار ایک سال قبل گاؤں میں دیکھا تھا،  جب اس کو پرانا ساتھی رجوندر سنگھ جرمنی سے وہاں آیا تھا

اور دور دور سے لوگ اس کو ’ست سریکال‘ کہنے کے لئے آتے تھے۔ اسوقت یہ آدمی بھی اکثر  رجوندر سے ملنے کے لئے آتا تھا اور گاؤں کے

نوجوانوں میں بیٹھ کر طرح طرح کے البم دکھاتا اور جرمنی کے قصّے سناتا تھا۔ اور پھر ایک دن اس نے ہیرا کو جرمنی جا کر قسمت آزمائی کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ مگر وہ شخص کون تھا؟ کہاں رہتا تھا؟ یہ پوچھنے کی ہیرا کو کبھی ہمت نہیں پڑی تھی۔ وہ صرف اتنا جانتا تھا کہ یہ بوٹا سنگھ ہے،  رجوندر کا دوست ہے اور کسی ٹریولنگ فرم سے تعلق رکھتا ہے۔ اس وقت بھی اسے ایک لاکھ روپیوں کا لفافہ پکڑاتے ہوئے ہیرا کو رسید مانگنے کی ہمت نہیں پڑی۔  اس کے پاس اس کا پتہ اور فون نمبر بھی نہیں تھا۔ مگر ہیرا کو یقین تھا کہ وہ اسے دھوکا نہیں دے گا۔

اس کے دل میں ہلچل مچ گئی تھی۔ جرمنی کی تصویریں نظروں کے سامنے گھوم رہی تھیں۔  ایسا لگتا تھا جیسے مرسیڈیس اور فوکس واگنیں  اس کے چاروں طرف دوڑ رہی ہیں۔

 

کچھ دنوں میں ہیرا کی ماں کا بکسا زیورات سے خالی ہو گیا۔بیلوں کی جوڑیاں غائب ہو گئیں۔  اس کے باپ کا گھر گرھویں  پر رکھ دیا گیا۔ سرجیت اب بھی آموں کے باغ میں اس سے ملنے آتی،  مگر اس کی شوخی اور چنچل پن ختم ہو گئے تھے، آنکھیں سوجھی سوجھی سی رہتی تھیں۔ اب نہ ستاروں کی جگمگاہٹ سے اسے دلچسپی تھی نہ چاندنی کے نور سے۔ اس کے من کی تاریکی بڑھتی جا رہی تھی۔

پھر ایک دن ہیرا نئی دلّی کی ایک پاش کالونی میں ایک خوبصورت ریستوراں میں بیٹھا کافی پی رہا تھا۔ بوٹا سنگھ اس کے قریب بیٹھا تھا۔ سامنے ایک ناٹے قد کا اجنبی بیٹھا ہوا سگریٹ کے مرغولے ہوا میں اچھال رہا تھا۔ ہیرا سنگھ نے زندگی میں

پہلی بار کافی پی تھی۔ اس کی کڑواہٹ سے اس کا جی متلا رہا تھا۔ مگر وہ خوش تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک لفافہ تھا جس میں اس کا پاسپورٹ اور ہوائی جہاز کا ٹکٹ تھا۔ ایک دوسرا لفافہ اجنبی کے ہاتھ میں دبا تھا جس میں تین لاکھ کے نوٹ تھے۔دونوں کی نظریں اپنے اپنے لفافوں پر جمی تھیں۔  دونوں کی آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی۔ ہیرا کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی تھی، تجسس بڑھ گیا تھا، وہ بہت کچھ پوچھنا چاہتا تھا۔ مگر اس سے پہلے کہ وہ اپنے سوالات مرتب کر سکے، اجنبی اپنی جگہ سے اٹھا، اس کے کندھے کو تھپتھپایا، ہاتھ پکڑ کر ہلایا اور ریستوراں سے باہر نکل گیا۔

’’ کچھ کھاؤ گے؟‘‘ بوٹا سنگھ نے کھا نے کا آرڈر دیتے ہوئے ہیرا سے پوچھا۔ ’’صاحب تم سے بہت خوش ہے۔ تمکو لائک کرتا ہے۔ باقی رقم جب تم جرمنی پہنچ جاؤ گے تو تمھارا باپ یہاں ادا کر دے گا۔‘‘ پھر وہ سفر کے بارے میں ضروری ہدایات دینے لگا۔

’’ تم پہلے روس جاؤ گے،  وہاں سے پولینڈ، پھر جرمنی اور پھر جرمنی میں۔۔ ۔‘‘

چند دنوں کے بعد ہیرا اپنے گاؤں،  اپنے جوار کے کھیتوں اور آموں کے باغوں،  اپنے ٹوٹے ہوئے باپ، بلکتی ہوئی ماں  اور تڑپتی ہوئی محبوبہ کو چھوڑ کر ’سوئے فردوسِ زمیںروانہ ہو گیا۔

زندگی میں پہلی بار اسے برف باری کا تجربہ ہوا تھا۔ گاؤں میں اکثر اس نے اولہ باری کا لطف اٹھایا تھا کبھی کبھی آسمان سے گرتے ہوئے موٹے موٹے اولے سمیٹے تھے۔ جاڑوں میں پودوں پر جمے ہوئے پالے کی اپنے باپ سے شکایتیں سنیں تھیں۔  پتّوں پر شبنم کے رقیق موتی دیکھے تھے۔ مگر ایسی برف باری کا تصور بھی کبھی نہیں کیا تھا۔لگتا تھا آسمان سے کروڑوں ٹن افشاں انڈیلی جا رہی ہے۔ پیڑوں پر روئی کے گالے جمے تھے۔ سارا جنگل برّاق میدان میں تبدیل ہو گیا تھا۔برف جوتوں اور دستانوں میں  گھس کر پگھل گئی تھی اور نشتر کی طرح انھیں چیر رہی تھی۔ہونٹ جمے جا رہے تھے اور منہ کھولنے میں دقت ہو رہی تھی۔ اس میں اتنی قوت نہیں رہی تھی کہ اپنے منہ پر سے برف ٹھیک سے جھاڑ سکے۔ اس کے قافلے میں سات آدمی تھے۔ وہ خود، اس کے گاؤں کا ایک دوسرا نوجوان اجے سنگھ، جسکے بارے میں اسے دلّی کے انٹرنیشنل ہوائی ادّے پر پہنچنے کے بعد معلوم ہوا تھا کہ وہ بھی جرمنی جا رہا ہے۔ اچکن اور ٹوپی میں ملبوس، گلے میں چاندی کا تعویض ڈالے اور بانہہ پر ہرا امام ضامن باندھے،باقر علی، جو بریلی میں کسی اسکول کا ٹیچر تھا اور ہوائی جہاز میں ہیرا سنگھ کی بغل میں بیٹھے سارا وقت تسبیح پڑھتے بدبداتا رہا تھا اور اب اس کا دوست بن گیا تھا۔ تین نوجوان اور تھے۔ جن میں سے ایک کوئی مدراسی اور دو پنجابی لگتے تھے، حالانکہ ان کے سروں پر پگڑیاں نہیں تھیں مگر ہاتھوں کے کڑے ان کی شناخت کر رہے تھے۔ان تینوں کو اس نے ہوائی جہاز میں دیکھا تھا مگر انھیں کوئی اہمیت نہیں دی تھی۔  ان سب کی رہنمائی سر سے پیر تک اونی کپڑوں سے ڈھکا ایک گورا چٹا، ہٹا کٹا پولش نوجوان کر رہا تھا اور ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں ہدایتیں دے رہا تھا۔

اس پولش نوجوان کو اس نے پہلی بار وارسا کے ہوائی اڈّے سے باہر نکلنے کے بعد دیکھا تھا، جب اس نے خود بڑھ کر تپاک سے ہیرا اور اس کے ساتھیوں کا خیرمقدم کیا تھا اور بتایا تھا کہ اب وہی ان کا میرِ کارواں ہے۔ان سب کے پاسپورٹ اس نے اپنے پاس رکھ لئے تھے اور اب یہ چھ ہندوستانی اس کی قیادت میں کئی دنوں سے پولینڈ کے برفیلے جنگلوں میں بھٹک رہے تھے۔

آدھی رات کو جب سیاروں کی آوازیں تیز ہو گئیں،  تو وہ ایک بوسیدہ ویران مکان کے سامنے پہنچے، جس کے چاروں طرف موٹے موٹے تاروں کی باڑ تنی تھی اور باہری گیٹ کا ایک حصّہ برف سے ڈھک گیا تھا۔پولش نوجوان نے جیب سے چابیوں کا گچھا  نکالا، گیٹ کھولا، پھر دالان میں جا کر گھر کا دروازہ کھولا اور سب کو اندر چلنے کی دعوت دی۔ پھر وہ انھیں ایک چھوٹے سے کمرے میں لے گیا،  جہاں ایک بوسیدہ سوفہ سیٹ اور کئی گدّے پڑے تھے۔

’’آج تم لوگ یہیں آرام کرو گے۔ کل بہت چلنا ہے۔‘‘

پھر اس نے الماری سے برانڈی کی ایک بوتل نکالی: لو گلا گرم کر لو!‘‘ پھر وہ دوسرے کمرہ سے ایک موٹی سی جو کی ڈبل روٹی اور کچھ سینڈوچ لیکر آیا اور سامنے رکھ دئے: ’’ دیکھو شور مت کرنا۔ گھر سے باہر مت نکلنا۔ اوپر والی بتّی مت جلانا۔ ورنہ اگر پولیس کو پتہ چل گیا تو مصیبت آج ائے گی۔ پکڑے جاؤ گے۔ یہیں خاموش پڑے رہو۔ میں بغل کے کمرے میں ہوں۔ ‘‘کسی میں کچھ پوچھنے یا کہنے کی ہمت نہ ہوئی۔  کمرہ کی بتّی بجھا دی گئی۔ جو جہاں تھا وہیں لیٹ گیا۔

کئی خوبصورت لڑکیاں ہیرا کو اپنی مرمریں بانہوں میں لئے رقص کر رہی تھیں۔  ان کی بڑی بڑی نیلگوں آنکھوں میں سمندر کے تلاطم مچل رہے تھے۔ سینے کے مدّ و جزر میں ارمانوں کی ہلچل تھی۔طرح طرح کے ڈیزائنوں کے سنہری بال اس کے سر کو اپنی آغوش میں لئے اس کے گالوں کو سہلا رہے تھے۔ ہال میں پاپ سنگیت اور قہقہے گونج رہے تھے۔ رنگ برنگے قمقمے آنکھ مچولی کھیل رہے تھے۔جسم سے جسم ٹکرا رہے تھے۔ پھر اس کے سامنے طرح طرح کے کھانے سجا دئے گئے۔ہندوستانی، جرمن، ہنگیرین، روسی، امریکی،اطالوی، مرغ، مچھی، کیکڑے، طرح طرح کے گوشت اور سبزیاں،  پھل، پڈنگیں،  کیک اور آئس کریمیں،  رنگ برنگی شرابیں۔  گلاس کھنکھنانے لگے، ہونٹ ٹکرانے لگے۔ گلاسوں کا ترنم سنگیت میں جذب ہو گیا۔ پھر وہ ایک خوبصورت سنہری مرسیڈیس کار میں بیٹھا جرمنی کے ایک بڑے شہر میں گھوم رہا تھا۔ اس کی بغل میں ایک کمسن خوبصورت دوشیزہ بیٹھی تھی۔ جھوم جھوم کر اس کے گلے میں بانہیں ڈالنے کی کوششیں کر رہی تھی۔ پچھلی سیٹ پر بیٹھی کچھ لڑکیاں آپس میں چہلیں کر رہی تھیں اور وہ لال اور پیلی بتیوں کو نظرانداز کرتا ہوا گاڑی کو بھگا رہا تھا۔ اچانک بغل میں بیٹھی ہوئی لڑکی نے اسے قریب گھسیٹ کر اس کے ہونٹ پر اپنے سرخ جلتے ہوئے ہونٹ ثبت کر دئے۔ کار لیمپ پوسٹ سے ٹکرا گئی۔ ایک ٹریفک کانسٹبل اس کی طرف جھپٹا، پھر وہ  سرجیت کے پیکر میں تبدیل ہو گیا۔

’’ اگر کسی گوری کو لائے، تو کھال کھینچ لوں گی اس کی۔۔۔‘‘

ہیرا نے گھبرا کر آنکھیں کھول د