کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

ایک سے چار

عارف نقوی


اسّی برس کے بوڑھے نے نا بالغ لڑکی سے شادی کر لی۔

منشی تلا رام نے نیا دیس کی ایک خبر سناتے ہوئے کہا۔

بوڑھے کے دانت ہل رہے تھے اور تین جوان بیٹے موجو د تھے۔ دوشیزہ چندے آفتاب چندے ماہتاب تھی۔ شادی کے تیسرے روز بوڑھے کے جوان بیٹے کو بھگا لے گئی۔۔

سیٹھ جی کی دونوں ایڑیاں اچھل کر فرش پر آ گئیں اور موٹی موٹی پنڈلیاں ہلنے لگیں۔  وہ ایک آرام کرسی پر دراز تھے۔ دھوتی اور شلوکے کے درمیان ناف کا حصّہ صاف نظر آ رہا تھا۔ میز پر اخبارات کا ڈھیر لگا ہُوا تھا۔ بغل کے کمرہ میں سیٹھ جی کی چہیتی دختر شیلا سنگھار کر رہی تھی اور گنگنا رہی تھی۔

منشی تلا رام اپنے جسم کا سارا بوجھ پنجوں پر ڈالتے ہوئے اخبارات کی اہم خبریں سنا رہے تھے۔

روہتک کے ایک گاؤں میں عجیب و غریب بچّہ پیدا ہُوا ہے۔

کیا ہُوا ہے، منشی جی؟

شیلا نے ڈرائنگ روم میں داخل ہوتے ہوئے پوچھا۔

اوہ، ریلی ونڈرفُل really wonderful)) ڈیڈی پھر تو دیس کی باگ ڈ ور اسی کے ہاتھ میں ہونی چاہئے۔ چار سر ہیں تو چار دماغ بھی ہوں گے۔ ایک دماغ ہو گا اتّر دماغ، دوسرا دکھن، تیسرا پورب، چوتھا پچھم دماغ۔ اور ان سے وہ سارے دیش کو چاروں طرف نچائے گا۔۔اور ڈیڈی چار ہاتھوں سے چار قسم کے کام کرے گا۔ چار ٹانگوں سے چومکھی چال چلے گا اور چار زبانوں سے ایک ساتھ چار طرح کی تقریریں  کر سکے گا۔

شیلا اپنی ہنسی برداشت نہ کر سکی۔

میں تو کہتی ہوں ڈیڈی دیش کا کلیان (کلیانڑ) یہی بالک کرے گا۔ کیوں منشی جی ؟۔۔۔

منشی جی کا چہرہ پچک گیا۔ دانت باہر نکل آئے۔

ہاں بٹیا، اپنے چھیتر سے ٹکٹ بھی اسی کو ملنا چاہئے۔

انہوں نے ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا۔

سیٹھ جی کو ایسا لگا، جیسے کسی نے گالی دیدی ہو۔ غصّہ میں منہ پھاڑ کر رہ گئے۔ پیشانی پر ایک موٹی سی شِکن نمودار ہو گئی۔ شکن پہلے ایک ہوئی، پھر دو، پھر تین اور پھر چار شکنیں۔

منشی جی کے لئے یہ کوئی نئی بات نہ تھی۔ وہ سیٹھ مانک رام کے عادات و اطوار سے اچّھی طرح واقف ہیں۔  یہ شکنیں روز نمودار ہوتی ہیں۔  پہلے ایک، پھر دو، پھر تین اور پھر چار۔ اور پھر آپ ہی آپ ساری شکنیں غائب ہو جاتی ہیں۔  ان شکنوں کی تکمیل میں پورا آدھا گھنٹہ صرف ہوتا ہے، لیکن غائب ہونے میں صرف ایک لمحہ۔۔۔ان شکنوں ہی میں  کائنات کے راز پنہاں ہیں۔۔ ۔شکن اگر دولتمند کی ہو تو راز اور بھی زیادہ پراسرار اور اہم ہوتے ہیں۔

ویسے سرکار اس بار چناؤ میں ٹکٹ تو صرف آپ ہی کو ملنا چاہئے۔

منشی تلا رام نے بات پلٹ دی۔ اور سیٹھ مانک رام کے ماتھے کی ایک شکن کم ہو گئی۔ شیلا کے نقرئی قہقہوں کی آواز اب دوسرے کمرے سے آ رہی تھی۔

اور سرکار! گنگا میں باڑھ آ گئی۔ کانپور ڈوب رہا ہے۔

سیٹھ جی گھبرا کر کھڑے ہو گئے۔

پیلی بھیت میں گومتی نے خطرہ کا نشان پار کر لیا۔ منشی تلا رام نے اگلی سرخی پڑھتے ہوئے کہا۔

سیٹھ جی ٹہلنے لگے۔ چہرہ پر زردی چھا گئی تھی۔ وہ سوچ رہے تھے:

اب ان کے دروازہ پر چندہ مانگنے والوں کا تانتا بندھ جائے گا۔ خون پسینے کی کمائی لٹنے لگے گی۔ ایک سے ایک مسٹنڈا آئے گا اور کہے گا:

چندہ دے دو۔۔ ۔ عورتوں بچّوں کے نام پر چندہ دے دو۔

ہونہہ، چندہ، چندہ، چندہ۔۔۔ دولت جیسے صرف بانٹنے کے لئے جمع کی  جاتی ہے۔

سیٹھ جی کی ڈیوڑھی سے روز فقیروں کو بھیک دی جاتی ہے۔

لیکن انہیں چندہ مانگنے والوں سے چڑھ ہے۔ بھکاری ایک نئے پیسےکے بدلے دعائیں دیتے ہیں۔  مگر چندہ مانگنے والے صرف باتیں  بناتے ہیں اور رقمیں لے جاتے ہیں۔  اس وقت بھی سیٹھ جی کو یہی فکر تھی۔ انہیں ایسا لگ رہا تھا، جیسے چاروں طرف سے چندہ خور ٹوٹ پڑے ہوں۔

منشی جی کہہ رہے تھے:

حضور،  یہی سمے ہے ! پیلی بھیت میں باڑھ آئی ہے،  تو کل اپنے نگر میں بھی آئے گی۔

یہی تو رانا ہے تلا رام! اپنے نگر کے لوگ پیڑِت ہوں گے تو آ کر ہماری جان کھائیں گے۔

نہیں سرکار۔۔۔ منشی جی نے سمجھانا شروع کیا۔ اس سمے آپ نے چندہ دے دیا تو ووٹ سدا کے لئے پکّے سمجھئے۔ جتنی رقم آپ چناؤ پر خرچ کرنے والے ہیں،  اس کا کچھ حصّہ چندے میں  دے دیجئے گا۔۔۔اور بس پھر دیکھئے گا۔۔۔

سیٹھ جی کا ذہن واقعی کام کرنے لگا۔ وہ سوچ رہے تھے:

سیلاب آئے گا،  تو بیماری پھیلے گی۔ اور بیماری پھیلے گی تو ان کے کارخانے کی بنی ہوئی دوائیں مہنگی ہو جائیں گی۔۔۔ قیمتیں پہلے دوگنی ہوں گی، پھر تگنی اور پھر چوگنی اور دس گنی ہو جائیں گی۔ انسان مرتے رہیں گے۔  تجوریاں بھرتی رہیں گی۔

سیٹھ مانک رام کو ایسا محسوس ہوا جیسے وہ اچانک دنیا کے سب سے بڑے انسان بن گئے ہوں۔  ان کے چاروں طرف سونے چاندی کا انبار لگ گیا ہو۔ ہر طرف دولت کی بارش ہونے لگی ہو اور انسانی لاشوں پر ناچتی ہوئی سرمائے کی قلو پطرہ کے حسن سے آنکھیں چکا چوند ہو گئی ہوں۔

لیکن خیالات کا یہ سلسلہ زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔ رمولا شیلا کو لینے آئی تھی۔ دونوں ایک دوسرے کی گردن میں بانہیں ڈالے ہنستی ہوئی کالج جا رہی تھیں۔  سیٹھ جی کہہ رہے تھے:

منشی جی شیلا میرا جیون ہے۔ یہ دولت میں اسی کے لئے تو جمع کر رہا ہوں۔

اور منشی تلا رام نے اپنی تیز آنکھوں میں چمک پیدا کرتے ہوئے تعریف شروع کر دی تھی:

لکشمی کا روپ ہے ہماری شیلا بٹیا۔ کتنا خوش قسمت ہو گا وہ جس کے گھر یہ دیوی بن کر جائے گی۔

عام طور سے کسی لڑکی کے باپ کو خوش کرنے کے لئے یہی نسخہ سب سے کارگر سمجھا جاتا ہے۔ لیکن سیٹھ جی خوش نہ ہوئے۔ ان کے ماتھے کی تیوریاں پھر اجاگر ہو گئیں۔

شیلا کی ماں کو مرے ہوئے تیرہ برس ہو چکے تھے۔ تب سے سیٹھ جی نے ہی اسے پالا تھا۔ اس کی خاطر انہوں نے دوسری شادی نہیں کی۔ اس کی ذرا سی تکلیف پر کتنی ہی راتیں آنکھوں میں کاٹ دیں۔۔ ۔ وہ شیلا کے پتا ہی نہیں،  اس کی ماں بھی تھے۔ پھر وہ شیلا سے جدائی کا تصور کیسے کر سکتے تھے۔ شیلا جس کے لئے ان کی ساری محبّت وقف ہے۔شیلا جو ان کی لاڈلی بیٹی ہے۔ شیلا جو حسین ہے۔ خوبصورت ہے۔ جس نے زندگی کی صرف سترہ بہاریں دیکھی ہیں۔  جو اپنے کالج کی ایک ہو نہار طالبہ ہے اور جس کی جدائی کا تصور سیٹھ جی کے لئے ناقابلِ برداشت ہے۔

اور پھر واقعی گومتی نے اپنے غیض و غضب کا مظاہرہ کیا۔

شہر اور اس کے چاروں طرف تباہی اور بربادی کا راج قائم ہو گیا۔

سرسبز و شاداب کھیت بہہ گئے۔ فلک بوس تاریخی عمارتیں ڈھا گئیں۔

ہزاروں مکانات ادنی تنکوں کی طرح انسانی خون کی پیاسی مو جوں  کے رحم و کرم پر تیرنے لگے۔ علم و تدریس کے مرکز تباہ ہو گئے۔

صدیوں پرانی تہذیب غلاظت میں ڈوب گئی۔ تمد ن مٹ گیا۔

صاف و شفّاف جسموں پر غلاظت کی تہیں جم گئیں۔  ان کا گداز ختم ہو گیا۔

اور پھر لوگ سکون سے سانس لینے بھی نہ پائے تھے،  کہ ایک اور آفت نازل ہو گئی۔ بیماریاں پھوٹ نکلیں۔  ہیضے نے سارے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ہسپتال کم پڑ گئے۔لاشیں  سڑنے لگیں۔  خوبصورت شاہراہیں اور گلی کوچے، شاعر جن کی قصیدہ خوانی کرتے تھے، تعفن سے بس گئے۔ نہ لاشوں کی گاڑیاں،  نہ کفن کا کپڑا، نہ دفنانے کو گورکن۔ صرف موت تھی جو ہر طرف منڈلا رہی تھی۔

دوائیں آج بھی سیٹھ جی کے کارخانے میں تیار ہوتیں،  لیکن مارکیٹ میں آنے کے بجائے خفیہ گوداموں میں پہونچ جاتیں۔  اور پھر جب مارکیٹ میں آتیں تو ان کی قیمتیں کئی گنا زیادہ ہوتیں۔  البتّہ سیٹھ جی کو اس بات کا رنج تھا، کہ سیٹھ چوکھرمَل، سیٹھ للو داس، لالہ کلو رام اور شیخ نبی اللہ ان سے زیادہ منافع کما رہے تھے ا ور باہر سے آئی ہوئی ساری دوائیں پہلے ہی ان کے خفیہ گو داموں میں پہونچ رہی تھیں۔  تاہم سیٹھ جی کا اپنا منافع بھی کم نہ تھا۔

قیمتیں پہلے دوگنی ہوئیں،  پھر تگنی اور پھر چوگنی۔ اور پھر چیزوں میں ملاوٹ ہونے لگی۔ لیکن اتنا ہی کافی نہ تھا۔  اس لئے اصلی دواؤں کی جگہ نقلی دواؤں نے لے لی۔ انسانیت مرتی رہی صرف سیٹھ چوکھر مل، سیٹھ للو داس، لالہ کلو رام،  شیخ نبی اللہ اور سیٹھ مانک رام کی تجوریاں بھرتی رہیں۔  اور انگریزی، ہندی اور اردو کے تمام اخبارات میں جلی حروف میں شائع ہوا:

مشہور سماج سیوک سیٹھ مانک رام نے انسانیت کو بچانے کے لئے ایک اور دوا سازی کا کارخانہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

زندگی میں پہلی بار اس نے غم کو اتنے قریب سے دیکھا تھا۔

ہوش سنبھالنے کے بعد سے پہلی بار شیلا کی خوبصورت آنکھوں سے نکل کر آنسوؤں نے اتنی بے رحمی سے اس کے آتشی رخساروں کو چوما تھا۔ اس کی سب سے پیاری سہیلی رمولا کا باپ بسترِ مرگ پر پڑا ہوا  تھا۔ رمولا کی ہچکیوں اور اس کی ماں کے گریوں سے گھر میں کہرام مچا ہوا تھا۔

تھوڑی دیر قبل شیلا بہت خوش تھی۔ سیٹھ جی نے اس کے کہنے سے کالج ریلیف فنڈ میں تین ہزار کا چیک دیا تھا۔ آج کالج میں اس کی دھوم مچنے والی تھی۔ پرنسپل بھرے جلسے میں اس کی اور اس کے پِتا جی کی تعریف کرنے والی تھیں۔  سہیلیاں اسے مبارکباد دینے والی تھیں۔

اسی خوشی میں اس نے طرح طرح کے پروگرام بنائے تھے۔ اس نے سوچا تھا رمولا کے گھر جائے گی۔ اسے تین ہزار کا یہ چیک دکھائے ٍ گی۔ پھر وہ دونوں کالج میں پہونچ کر سب کو حیرت میں ڈال دیں گی۔

لیکن رمولا کے گھر پہونچ کر وہ یہ سب کچھ نہ کر سکی۔ رمولا کے پتا جی بسترِ مرگ پر پڑے ہوئے تھے۔ رات انہیں قے دست شروع ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے موت ہیضے کی شکل میں منڈلانے لگی۔

رمولا شیلا کے سینے سے لگی ہوئی بچّوں کی طرح بلک رہی تھی اور شیلا کی اپنی آنکھوں سے بھی آنسو جاری تھے۔

رمولا اس کی سب سے پیاری سہیلی تھی۔ دونوں نے اکٹھے ہائی اسکول کیا تھا اور اب ایف اے کی تیاری کر رہی تھیں۔

ڈاکٹر کبیر کے چہرہ پر مایوسی کی زردی اور مریض کے جسم پر موت کی سیاہی چھاتی چلی گئی۔ دوائیں،  انجکشن، رمولا کی فریاد، اس کی ماں کے نالے سب بیکار ہو گئے۔ یتیمی کا سایہ رمولا کے سر پر چھا چکا تھا۔ شیلا کا دم گھٹا جا رہا تھا۔ لاش کی ڈراؤنی آنکھیں اسے گھور رہی تھیں۔ اس رات وہ کافی دیر سے گھر واپس آئی اور سیٹھ جی کے سینے سے لپٹ کر دیر تک روتی رہی۔

دوسری صبح سیٹھ مانک رام کہہ رہے تھے:

ڈاکٹر میری ساری دولت لے لو، مگر میری بچّی کو بچا لو۔ اسے بچا لو ڈاکٹر، بھگوان کے لئے۔سیٹھ جی کے بنوائے ہوئے تمام مندروں میں شیلا کی صحت کے لئے دعائیں مانگی جا رہی تھیں۔  بھکاریوں میں کھانا تقسیم کیا جا رہا تھا۔ چار نامور ڈاکٹر شیلا کی مسہری کے گرد جمع تھے۔ میز پر دواؤں اور انجکشنوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا۔ تھوڑی دیر قبل شہر کے سب سے بڑے طبیب ڈاکٹر شرما نے کہا تھا، کہ معمولی ہیضے کا حملہ ہے۔  جلد ٹھیک ہو جائے گی۔ لیکن شیلا کی قے دست میں اضافہ ہوتا گیا۔

ڈاکٹر بڑھتے گئے۔ ایک سے دو، دو سے تین اور تین سے چار ہو گئے۔

موت قریب آتی گئی۔ سیٹھ جی کی زندگی تاریک ہوتی گئی۔ ان کی پیاری شیلا ہمیشہ کے لئے بچھڑ رہی تھی۔ ان کی نگاہوں کی روشنی گل ہو رہی تھی۔ شیلا جو ان کی زندگی کا حاصل تھی۔ جس کے لئے انہوں نے کائنات کی ساری خوشیاں سمیٹی تھیں۔  جو ان کی ساری دولت کی اکیلی وارث تھی۔

بھگوان کے لئے میری بچی کو بچا لو ڈاکٹر! بچا لو ! میں اس کے بغیر زندہ نہ رہ سکوں گا۔ میری ساری دولت لے لو،  مگر اسے بچا لو۔۔ ۔۔

سیٹھ جی نے ڈاکٹر شرما کو پاگلوں کی طرح جھنجھوڑ دیا۔

ڈاکٹر شرما کے ہاتھ سے شیشی گرتے گرتے بچی۔ انہوں نے اپنی ویران آنکھوں سے شیلا کے بے جان جسم کو دیکھا۔ ڈاکٹر مبین نے آہستہ سے کان میں کچھ کہا۔ ڈاکٹر شرما نے دوا کی شیشی پر نظر ڈالی اور اسے دیر تک گھورتے رہے۔ چاروں ڈاکٹروں نے ایک دوسرے کو معنی خیز نظروں نے دیکھا۔۔۔ اور ڈاکٹر شرما نے شیشی سیٹھ جی کی طرف بڑھا دی۔

یہ نقلی ہیں سیٹھ جی۔ ہم مجبور ہیں۔

ڈاکٹر نریندر نے مریضہ کی نبض چھوڑ دی۔ ڈاکٹر مبین نے آلہ سینے پر سے ہٹا لیا۔ ڈاکٹر سنتوک نے چہرہ کو چادر سے ڈھانپ دیا۔۔۔چاروں ڈاکٹر سر جھکائے واپس چلے گئے۔

سیٹھ مانک رام پر سکتہ کا عالم طاری تھا۔ سامنے میز پر دواؤں اور انجکشنوں کا انبار لگا ہوا تھا۔۔۔ ۔ انجکشن جو نقلی تھے۔۔  ۔دوائیں جن میں ملاوٹ تھی۔۔۔ جن سے سیٹھ جی نے لاکھوں روپئے کمائے تھے۔

کمرہ میں موت کا سکوت تھا۔ جس میں کبھی کبھی نوکروں کی گھٹی گھٹی سسکیاں بلند ہو جاتیں اور ماحول کو اور زیادہ اداس بنا جاتیں۔

شیلا کو مرے ہوئے چھ ماہ گزر چکے ہیں۔  سیٹھ جی کی زندگی کی ساری خوشیاں ختم ہو گئی ہیں۔  اکثر سوتے میں شیلا ان کے سرہانے  آ کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ سیٹھ جی اسے سینے سے لگانے کے لئے جھپٹتے ہیں،  مگر آنکھ کھل جاتی ہے اور تکیہ آنسوؤں سے تر ہوتا ہے۔

ان چھ مہینوں میں سیٹھ جی نے اپنی پیاری کے نام پر تین عالیشان مندر تعمیر کروائے ہیں۔۔ ۔ اور چوتھا مندر زیرِ تعمیر ہے۔ لیکن آج بھی ان کی دواؤں میں ملاوٹ ہوتی ہے۔ ۔۔۔ آج بھی ان کے کارخانے میں نقلی انجکشن تیار ہوتے ہیں۔۔ ۔ ہاں ایک فرق ضرور ہے۔ پہلے وہ صرف سیٹھ مانک رام تھے۔ اب مانک رام ایم پی ہیں اور وزارتِ صحت کے خواب دیکھ رہے ہیں۔

٭٭٭