کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘

عارف نقوی


’’ٹور، ٹور (گول، گول)، جرمنی، جرمنی۔۔۔‘‘

وہ زور سے چلایا اور پھر اس طرح سے اچھلنے لگا جیسے اسے قارون کا خزانہ مل گیا ہو۔ سامنے لگے ہوئے ایک

بڑے سے اسکرین پر فٹ بال میچ آ رہا تھا۔ جیتی ہوئی جرمن ٹیم کے کھلاڑی خوشی سے اچھل رہے تھے، گلے مل رہے تھے، ایک دوسرے پر کود رہے تھے اور ہاری ہوئی ترکی کی ٹیم کے کھلاڑیوں کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ اسکرین کے سامنے پانچ لاکھ مرد عورتوں،  بوڑھے بچوں کا سمندر جوار بھاٹا میں بدل گیا تھا۔ لوگ پاگلوں کی طرح خوشی سے اچھل رہے اور ناچ گا رہے تھے، ایک دوسرے کو گود میں لے کر ہوا میں اچھال رہے تھے۔ان کے بازوؤں،  گالوں  اور ماتھوں پر جرمنی کے قومی جھنڈے بنے ہوئے تھے، گلے میں کالے، لال اور سنہرے رنگ کے نقلی پھولوں کے ہار لٹکے تھے، قومی رنگ کی ٹی شرٹس پہنے، کنٹوپ لگائے اور جھنڈوں کو پینٹ کے اوپر لنگیوں کی طرح کسے،  باجے تاشے لئے،  سیٹیاں بجاتے، گانے گاتے اور نعرے لگاتے ہوئے جشن منا رہے تھے اور آسمان آتش بازیوں سے جگمگا اٹھا تھا، لگتا تھا  سارے ستارے پارہ پارہ ہو کر زمین پر آرہے ہیں۔

’’ٹور،  ٹور، گول گول، ڈائچلانڈ، ڈائچلانڈ (جرمنی جرمنی) کے کورس نے آسمان کو سر پر اٹھا لیا تھا۔ ہر طرف کالی، لال، سنہری پٹّی والے جھنڈے اور تیزی سے لہرانے لگے جیسے کسی جنگل میں طوفان آنے پر پیڑوں  کی شاخیں جھومتی ہیں۔  کہیں کہیں پر ستارے بنے ہوئے ترکی کے سرخ جھنڈے بھی نظر آرہے تھے، لیکن ایسا لگتا تھا جیسے اداسی میں ڈوب گئے ہیں۔ انھوں نے لہرانا کم کر دیا تھا۔

پیٹر نے خوشی سے ماریا کو اپنی گود میں لیا اور پھر اپنے چوڑے شانوں پر بٹھا کر دوڑنے کی کوشش کی مگر جمع غفیر میں  ٹس سے مس ہونے کی جگہ نہ ملی۔ اس نے ماریا کو اتار کر اس کے ساتھ ناچنا شروع کر دیا۔

پیٹر کئی ہفتوں سے فٹ بال کی یوروپین چیمپین شپ کے میچ دیکھتا رہا تھا۔ شروع میں اسے اپنی قومی ٹیم سے بہت مایوسی ہوئی تھی۔ بعض جرمن کھلاڑیوں کے لئے اس کے منہ سے موٹی موٹی گالیاں تک نکل گئی تھیں۔  وہ اپنے گروپ میں پہلا میچ پولینڈ سے جیت گئی تھی۔ جب جرمن ٹیم کے کھلاڑی ’پوڈوسکی‘ نے جو خود پہلے پولش تھا، اپنی ہم وطن ٹیم کے خلاف جرمنی کی طرف سے دو گول کئے تھے تو اس کا سینہ اپنی ٹیم کے لئے فخر سے پھول گیا تھا۔ا ور اسے یقین ہو گیا تھا کہ اس کی ٹیم ضرور یوروپین چیمپین بنے گی۔ مگر دوسرے میچ میں اس کی ٹیم ’کروایشیا‘ جیسی نا تجربہ کار ٹیم سے بری طرح ہار گئی تھی اور اس کی زبان پر اپنی ٹیم کے لئے ’شائسے‘ اور ’آرش لوخ‘ جیسی موٹی موٹی گالیاں آ گئی تھیں۔  پھر جب وہ آسٹریا جیسی کمزور ٹیم سے برابر کھیل کر اگلے راؤنڈ میں آ گئی تھی تو اس کی جان میں جان آئی تھی۔ مگر جب جرمن ٹیم نے پرتگال کی ٹیم کو جو اپنے گروپ میں سب سے کامیاب رہی تھی دو کے مقابلے میں تین گول بنا کر ہرا دیا، تو اسے یقین ہو گیا تھا کہ جرمنی نے اپنی طاقت کو پھر سے حاصل کر لیا ہے اور اب اسے کوئی ہرا نہیں پائے گا۔ اس کا سینہ خوشی سے پھول گیا تھا۔ اسے اپنی قومی عظمت پر فخر ہو رہا تھا اور اس کی کار پر اب ایک کی جگہ چار قومی جھنڈیاں نصب تھیں۔  اور فلیٹ کی بالکونی پر ایک بڑا سا قومی پرچم لہرا رہا تھا۔ اس کا جی چاہتا تھا کہ کسی طرح سے اڑ کر آسٹریا کی راجدھانی ویانا یا سوئٹزرلینڈ کے شہر باسل میں پہنچ جائے، جہاں اگلے میچ ہونے والے تھے اور اپنی آنکھوں سے اپنے کھلاڑیوں ’بالاخ‘،پوڈوسکی‘،شوائن برگر‘ اور کلوزے  لیہمان اور فلپ لام کے کارنامے دیکھے۔

لیکن اس کی ماں سخت بیمار تھی۔ اور کسی وقت بھی سانس بند ہو سکتی تھی۔ باپ کا سایہ اسے بچپن سے ہی نصیب نہیں ہوا تھا۔ وہ اس کی پیدائش سے پہلے ہی اس کی ماں کو چھوڑ کر چلا گیا تھا اور پھر مڑ کر کبھی خبر نہیں لی تھی۔ اس کی ماں نے اسے دن رات محنت کر کے اکیلے پالا پوسا تھا اور اپنی لاتعداد خواہشیں قربان کر کے اسے اس قابل بنایا تھا کہ اب وہ پڑھ لکھ کر ایک بڑی جرمن فرم سی مینس میں انجینئر کی حیثیت سے ملازم تھا۔اور اچھی تنخواہ پا رہا تھا۔ وہ اپنی زندگی پر بہت خوش تھا۔ آج کے زمانے میں جبکہ جرمنی بے روزگاری بڑھ گئی ہے۔ کئی ملین لوگ بے روزگار ہیں یا کم اجرتوں پر کام کر رہے ہیں،  اور ضروریات کی چیزوں کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں،  سیمینس جیسی عالمی شہرت کی فرم میں کام ملنا آسان نہیں ہے۔وہ خوش قسمت تھا کہ اس کے لئے چین و سکون کے دروازے کھل گئے تھے۔ اس کی گرل فرینڈ بھی نہایت خوبصورت اور ہونہار تھی اور ایک جمنازیم میں انٹر میڈیٹ کا کورس کر رہی تھی اور پڑھائی پوری کرنے کے بعد پیٹر ہی کی فرم میں ملازمت کے خواب دیکھ رہی تھی۔

پیٹر کی ماں برلن کے ایک اسپتال ’چیریٹی‘ میں بھرتی تھی۔ اس کے دماغ میں ٹیومر تھا اور سوائے آپریشن کے کوئی دوسرا راستہ نہیں رہ گیا تھا۔ ابتداء میں وہ آپریشن کے لئے اپنی رضامندی دینے پر تیار نہیں تھا۔ مگر جب ڈاکٹروں نے یقین دلا یا کہ اس کو بچانے کے لئے اور کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے، تو اس نے مجبوراً کاغذات پر دستخط کر دئے تھے۔ وہ دن بھر اسپتال میں بیٹھ کر آپریشن کے نتیجے کا انتظار کرتا رہا۔ مگر تیسرے پہر کو جب اسے بتایا گیا کہ ’ آپریشن میں وقت لگے گا،  شاید رات کو یا اگلے دن کیا جائے۔  اسے وہاں بیٹھ کر انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ کسی کو اس مریضہ کے پاس جانے کی اجازت نہیں ہے ‘، تو وہ مایوس ہو کر اپنی منگیتر کے گھر چلا گیا تھا اور پھر وہاں سے وہ دونوں مقامی ٹرین سے شہر کے مرکز میں قائم تاریخی دروازے ’برانڈن بُرگر گیٹ‘ کی طرف چل دئے تھے، جہاں رنگ برنگی جھنڈیوں اور غباروں سے سجی ہوئی ایک بہت ہی چوڑی اور لمبی سڑک پر بڑے بڑے دیو قامت اسکرینوں کے سامنے لاکھوں لوگ فٹ بال کی یوروپین چیمپین شپ کا سیمی فائنل میچ دیکھنے کے لئے جمع تھے،  جو جرمنی اور تُرکی کے بیچ ہو رہا تھا۔ اور کیونکہ برلن میں تقریباً دو لاکھ ترک بھی رہتے ہیں،  اس لئے یہ میچ دونوں کے بیچ اور بھی سنسنی خیز ہو گیا تھا۔ پھر بھی دونوں قومیتوں کے لوگ ایک ہی جگہ پر جمع ہو کر کھیل کا مزہ لے رہے تھے اور اپنی اپنی ٹیموں کے لئے نعرے لگا رہے تھے۔ جیوں جیوں کھلاڑیوں کے دوڑنے اور گیند کے اچھلنے کی رفتار بڑھتی جا رہی تھی پیٹر کے دل کی دھڑکن میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ جب جرمنی کے خلاف پہلا گول ترکی کے کھلاڑی اُگارؔنے کیا تو پیٹر نے اپنا سر پیٹ لیا۔ ’شائسے‘، ’آرش لوخ‘۔۔۔نہ جانے کتنے گندے الفاظ اس کی زبان سے نکل گئے۔ سامنے لہراتے ہوئے بہت سے ہلال جھنڈے دیکھ کر اس کا دل بیٹھ گیا۔ اچانک ایسا لگا جیسے پانچ لاکھ کی بھیڑ کو سانپ سونگھ گیا ہے۔ مگر پھر چند منٹ کے بعد وہ اچھل پڑا۔  اس نے اپنی منگیتر کو بازوؤں میں بھینچ کر اس کے ہونٹوں کو چوم لیا۔ جرمنی کے شوائن اسٹائگر نے گول کر کے حساب برابر کر دیا تھا۔ اور لوگ پاگلوں کی طرح شور مچانے اور جھومنے لگے تھے۔ اور پھر ایسا لگا جیسے آسمان پھٹ پڑے گا جرمن کھلاڑی کلوزے نے۷۹ویں منٹ پر ایک گول کر کے اپنی ٹیم کو آگے کر دیا تھا۔

’’ دیکھا،  میں نے کہا تھا ہم جیتیں گے۔  وی آر گریٹ۔۔۔‘‘ اس نے اپنی منگیتر کو خوشی سے جھنجھوڑ دیا۔ مگر جلد ہی وہ آسمان سے زمین پر آ گیا۔ سات منٹ بعد ترکی کے سمیع نے ایک گول کر کے اپنی ٹیم کو ہارنے سے بچا لیا تھا اور اب پلہ پھر برابر تھا۔

’’ ہائے اب کیا ہو گا۔ ‘‘ ماریہ کی زبان سے بے ساختہ نکلا۔ ’’ او گاڈ مدد کر۔۔۔‘‘

’’ شائسے،  ہمارے ڈیفنس کو پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے۔  ترکی کے کھلاڑی اچھا کھیل رہے ہیں۔  دیکھو کمبخت صابری نے پھر ڈاش دے دیا، یہ بہت خطرناک پاس ہے۔ اب مشکل ہے وقت ختم ہو رہا ہے،  آخری منٹ بچا ہے۔‘‘

’’ بس تین منٹ ایکسٹرا ملیں گے۔ ‘‘ اناؤنسر نے اسکرین پر کہا۔

’’ ایکسٹرا ٹائم ہمارے کھلاڑیوں کے لئے خطرناک ہو سکتا ہے۔‘‘ ماریہ نے کہا۔

’’ ہاں مگر اگر پنالٹی شارٹس کی نوبت آ گئی تو ہم اس میں بہت اچھے ہیں۔ ‘‘ پیٹر نے ڈھارس بڑھائی۔ ’’ شاید بالک، شوائناسٹائگر، کلوزے اور پوڈوسکی کچھ کر سکیں۔  ‘‘

’’ بالک نے آسٹریہ کے خلاف بہت شاندار گول کیا تھا۔ پتہ نہیں آج اسے کیا ہو گیا ہے۔‘‘ ایک دوسرے نو جوان نے جو ان کے قریب کھڑا باتوں کو سن رہا تھا گفتگو میں دخل دیا۔

’’ کچھ ہو میچ تو اب ترکی والے لے گئے۔‘‘ ایک ترکی نوجوان نے جملہ کسا اور پھر کھلکھلا کر ہنس پڑا۔’’یار کوئی جیتے۔ اپنے تو دونوں میٹھے۔‘‘

’’گول، گول، جرمنی زندہ باد، جرمنی جرمنی۔‘‘ زبردست نعرے گونجے اور ترک نوجوان کی آواز ان میں دب کر رہ گئی۔

اور اس کے ساتھ ہی ایسا لگا جیسے زبردست زلزلہ آ گیا ہو، پہاڑ پھٹ رہے ہوں۔ آتش فشاں کے دہانے کھل گئے ہوں،  لاوے آسمان پر پھیل گئے ہوں اور ستارے ٹوٹ کر آسمان سے زمین کی طرف آ رہے ہوں۔  جرمنی کے فلپ لام نے خوبصورتی سے گیند کو گول میں ڈال کر اپنی ٹیم کو ۲ :۳کے اسکور سے فتحیاب کر دیا تھا۔

’’ دیکھا دیکھا،  میں نے کہا تھا،  وی آر گریٹ۔ ہمیں کوئی نہیں ہرا سکتا۔‘‘ پیٹر نے ماریہ کو فاتح کی طرح گود میں اٹھا لیا۔

لاکھوں جھنڈے اس کے ارد گرد لہرا رہے تھے۔ مرد عورتیں بوڑھے بچے خوشی سے جھوم رہے تھے ناچ رہے تھے،  گا رہے تھے اور طغیانی کی لہروں میں بدل گئے تھے۔ کچھ دیر بعد پیٹر اور ماریہ وہاں سے نکل کر دوستوں کے ساتھ ایک بڑے سے کھلے پَب میں چلے گئے اور اور کھیل پر رائے زنی کرتے اور بیئر کے گلاس ٹکراتے رہے۔ کبھی کسی کھلاڑی کے لئے موٹی سی گالی نکالتے، کبھی تعریف کرتے اور جام سے جام اور لب سے لب ملاتے اور گانے لگتے ’’ جرمنی از گریٹ، وی آر گریٹ۔‘‘

صبح تین بجے کے قریب پیٹر گھر پہنچا۔ ماریہ بھی اس کے ساتھ تھی۔

’’ میں بہت خوش ہوں ماریہ‘‘ اس نے نشے کی حالت میں کہا: ’’ ہم جیت گئے۔‘‘

’’ ہم فائنل میں بھی جیتیں گے۔‘‘ ماریہ نے بھی جھومتے ہوئے کہا۔

’’ ضرور جیتیں گے بھر کس نکال دیں گے۔ جرمنی از گریٹ۔ اس نے نشے کی حالت میں گنگناتے ہوئے کہا اور ماریہ کو بازوؤں  میں لے لیا۔ اس کے گھر کے پاس سے گاتے اور نعرے لگاتے ہوئے لوگوں کی آوازیں اور کاروں کے ہارن سنائی دیتے رہے۔ کھڑکی کے باہر آسمان پر آتش بازیاں چمکتی رہیں۔  مگر اب وہ اس سب سے بے نیاز خرّاٹے لے رہا تھا اور فٹ بال کے خواب دیکھ رہا تھا۔

تقریباً گیارہ بجے دن کو دونوں کی آنکھ کھلی۔ اس کا ایک دوست فون پر انھیں کامیابی کی مبارکباد دے رہا تھا۔ سورج کی تیز کرنیں کھڑکی سے چھن کر کمرہ میں آ رہی تھی اور گرمی اور گھٹن کا احساس ہو رہا تھا۔ باہر سڑک پر ابھی بھی بہت سے لوگ فتح کے گیت گا رہے تھے۔پیڑوں پر ہریالی چھائی ہوئی تھی۔ بالکونی پر گملوں میں سجے ہوئے پودوں کے رنگ برنگے خوشبو دار پھول مسکرا رہے تھے۔

ناشتہ کرتے ہوئے اس نے ٹی وی آن کیا تو اس میں بھی کل کے فٹ بال میچ پر تبصرے ہو رہے تھے اور فائنل میں جیت کی پیشین گوئیاں کی جا رہی تھیں۔  تھوڑی دیر کے بعد اس نے گراؤنڈ فلور پر جا کر اپنے لیٹر بکس سے تازہ اخبار ’مارگن پوسٹ‘ نکالا اور واپس آ کر بالکونی میں بیٹھ کر پڑھنے لگا۔ اخبار کی شاہ سرخی تھی : ’ جرمنی نے ترکی کو ہرا دیا۔‘ اس کا سینہ ایک بار پھر فخر سے پھول گیا، رگ و پے میں فتح مندی کی برق دوڑ گئی۔ ’وی آر گریٹ ‘ کے احساس نے اس کے جسم میں بے پناہ قوت بھر دی۔ لیکن دوسرے ہی لمحے اس کی نظر ایک اور خبر کی سرخی پر پڑی :

’ سیمینس اپنے ملازمین کی تعداد میں کمی کرے گی۔‘

اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔  لکھا تھا: ’’ سیمینس میں ملازمتوں کی کمی توقع سے بھی زیادہ ہو گی۔’IG Metalکے اندیشے کے مطابق عالمی پیمانے پر دس ہزار لوگ نوکریوں سے ہاتھ دھوئیں گے۔ قیاس ہے کہ بیس ہزار ملازمین تک اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ‘‘

پیٹر کا دل دھک سے ہو گیا’۔ سیمینس جیسی عالمی شہرت کی اتنی بڑی فرم ہزاروں ملازمین کو نوکریوں سے الگ کر دے گی۔ ان کو لا وارث کر دے گی۔ وہ بے روزگار ہو کر در بدر کی ٹھوکریں کھا ئیں گے۔ کہیں وہ بھی تو اس کا شکار نہیں ہو نے والا ہے؟‘

اچانک ماریہ نے اس کے خیالات کو توڑ دیا:

’’ پیٹر تمھاری ماں۔۔ ۔‘‘ اور وہ ہر چیز کو بھول گیا۔ جرمنی اور ترکی کے میچ کو، سیمینس کی کہانی کو، کھڑکی کے باہر جیت کے نعرے لگاتے ہوئے لوگوں کو اور کاروں کے شور کو۔

’’ یا اللہ میری ماں کی مدد کر۔ اس نے ایک وارڈ میں داخل ہوتے ہوئے دعا مانگی۔ اسپتال میں کام کرنے والے کئی لوگ اپنے سینے پر جرمن ٹیم کے بلّے لگائے ہوئے قریب سے گزر گئے۔ اس نے ایک کمرے میں جا کر نرس سے اپنی ماں کے بارے میں  دریافت کیا تو بولی: ’’ آپ ادھر،  ویزیٹرس کے رُوم میں بیٹھ جائیے، ڈاکٹر صاحب آپ کو خود بتائیں گے۔‘‘

’’ یا اللہ میری ماں کی مدد کر!‘‘ اس کے موٹے موٹے ہونٹ تیزی سے ہل رہے تھے۔ ماں کا چہرہ نظروں کے سامنے گھوم رہا تھا۔ ایک خوبصورت درمیانی قد کی عورت، سنہرے بال بڑی بڑی جھیل کی مانند پرکشش نیلی آنکھیں،  جو اب کچھ موٹی ہو گئی تھی چہرہ پر کچھ جھرّیاں نمایا ہو گئی تھیں مگر پھر بھی اس میں بلا کی کشش تھی۔نہایت ہی ملنسار اور ہمدرد تھی۔ پیٹر کے دوستوں کی خاص طور سے خاطر کرتی تھی اور ماریہ پر تو اپنی بیٹی کی طرح مہربان تھی۔

اسے یاد آیا،  جب وہ بچہ تھا تو کتنی محبت سے کہانیاں اور لوریاں سنا کر ماں اسے سلاتی تھی۔اپنے ساتھ باغوں اور جھیلوں میں  لے جاتی تھی۔ روز صبح اپنے ہاتھوں سے کپڑے پہناتی اور کنڈرگارٹن لے جاتی تھی اور پھر شام کو اسے گھر لا کر ممتا کے سارے دروازے کھول دیتی تھی۔ اس کی ماں جو اس کی پرورش کے لئے ایک بڑے دفتر میں فرش کی صفائی کرتی تھی لیکن اسے کوئی تکلیف نہیں ہونے دیتی تھی۔اور اپنی تمام خواہشیں قربان کر کے اسے اس قابل بنا دیا تھا کہ اب وہ سیمینس جیسی بڑی فرم میں ایک انجینئر کی حیثیت سے کام کر رہا تھا اور اچھی تنخواہ کما رہا تھا۔

ڈاکٹر ابھی بھی اس کے پاس نہیں آیا تھا نا ہی اس نے اسے اپنے کمرے میں طلب کیا تھا۔ کچھ فاصلے پر بیٹھا ہوا ایک مریض اخبار میں گم تھا۔ فٹ بال میچ سے بھری شاہ سرخیاں دور سے نظر آ رہی تھیں۔  پیٹر نے منت بھری نظروں سے ڈاکٹر کے کمرہ کے دروازے کی طرف اور پھر اپنی سیٹ پر بیٹھی ہوئی نرس کی طرف دیکھا۔ مگر کسی نے اس کی طرف توجہ نہ دی۔

’’ اوہ گاڈ، میری ماں کی مدد کر۔۔۔‘‘ اس نے ایک بار پھر نظریں اٹھا کر چھت کی طرف دیکھا۔اسے یاد آیا۔

 

دسمبر کی ایک شام تھی۔  سڑکوں،  پارکوں اور پیڑوں پر برف جمی ہوئی تھی۔ ہر طرف کرسمس کا جشن منایا جا رہا تھا۔گھروں اور سڑکوں پر قمقموں کی قطاریں جگمگا رہی تھیں۔  لیکن اس کے گھر میں کرسمس کا کوئی پیڑ نہیں تھا۔

’’ ماں ہمارے وہاں کوئی ’ٹنین باؤم‘ (کرسمس پیڑ) نہیں ہے۔‘‘

’’ ہاں بیٹا۔۔ ۔‘‘ ماں نے اداس لہجہ میں جواب دیا۔

’’لے آؤ ماں۔  سب کے وہاں ’ ٹنین باؤم ‘ ہیں۔  کنڈر گارٹن میں،  رالف کے وہاں،  اُووے کے وہاں،

سب کے وہاں۔۔ ۔‘‘

’’ ان کے پاس دھن ہے بیٹے۔  ہمارے پاس نہیں ہے۔ ہم غریب ہیں۔ ‘‘

’’ ہم کیوں غریب ہیں ماں ؟ غریب کیا ہوتا ہے؟‘‘ پیٹر روہانسا ہو کر بولا۔

’’ بیٹے مجھے مہینے میں بہت کم تنخواہ ملتی ہے۔ ہم اس قابل نہیں ہیں کہ ٹنین باؤم خرید سکیں اور اس کو سجا سکیں۔  ہمارا فلیٹ بھی بہت چھوٹا ہے۔‘‘

’’ ہم کیوں اس قابل نہیں ہیں ماں ؟ ہم بھی اپنے گھر میں ٹنین باؤم لگائیں گے۔‘‘ وہ رونے لگا۔

’’ تو میں اپنی جان دے دوں تیرے کرسمس پیڑ کے لئے۔‘‘ ماں نے اس کے گال پر طمانچہ مارا اور پھر سینے سے چمٹا کر دیر تک روتی رہی۔ پھر اس نے کچھ نہ کہا،  کوئی ضد نہ کی۔ ماں کے سینے سے چمٹا رہا۔  ایک عجیب سے پیار کا لمس اسے مل رہا تھا۔ ماں پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔  اس کے سر کو سہلا رہی تھی۔ اس نے آنکھیں بند کر لیں تھیں اور رنگ برنگے قمقموں سے سجے کرسمس کے پیڑوں کے باغوں کی سیر کر رہا تھا۔

دوسرے دن اسے کنڈر گارٹن میں پہنچانے کے بعد ماں کام پر چلی گئی۔ اولیور نے بتایا کہ اس کے باپ نے ایک بہت بڑا،  خوبصورت ’ٹنین باؤم‘ لا کر ڈرائنگ روم میں لگایا ہے اور کرسمس کے دن اسے سجائے گا۔اوشی گا رہی تھی: ’ او ٹنین باؤم۔۔۔او ٹنین باؤم (اے کرسمس کے پیڑ تیرے پتّے کتنے خوبصورت ہیں )۔‘

ریڈیو پر کرسمس کے گانوں کی آوازیں گونج رہی تھیں۔ لیکن پیٹر کو اب ان میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔

’’ ہم غریب ہیں بیٹے۔ ہمارے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں۔ ‘‘

ماں کے الفاظ اس کے کانوں میں گونج رہے تھے۔ اور گال پر ماں کا طمانچہ اور پھر محبت سے سینے سے چمٹا کر پھوٹ پھوٹ کر رونا یاد آ رہا تھا۔

تیسرے پہر کو جب ماں پیٹر کو لینے کے لئے کنڈر گارٹن پہنچی تو اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی۔ پیٹر نے دوڑ کر اس کے گال کو چوما اور اس کی بانہوں میں سما گیا۔ پھر اس نے اپنا کوٹ پہنا۔ بیگ کو پیٹھ پر لادا او ر اچھلتا ہو ہنسی خوشی ماں کے ساتھ گھر کو چل دیا۔

فلیٹ میں داخل ہو تے ہی اس نے اپنے جوتے اتار کر ایک کونے میں رکھے، بیگ کو کوری ڈور میں ایک طرف ڈالا اور کوٹ کو ہینگر پر لٹکا دیا۔ پھر جیسے ہی وہ کمرہ میں داخل ہوا اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔  ایک چھوٹا سا ٹنین باؤم (کرسمس کا پیڑ ) کونے میں کھڑکی کے پاس کھڑا تھا۔

’’ یہ ہمارا ہے ماں ؟‘‘ فرط مسرت سے اس کی زبان سے نکلا۔

’’ ہاں بیٹا، یہ تیرا ہے۔‘‘ ماں نے فخر سے جواب دیا اور پھر اس کی آنکھوں سے بے تحاشہ آنسو نکلے اور گالوں پر پھیلنے لگے۔پیٹر کی کچھ سمجھ میں نہ آیا اور کیا کہے،  کیا پوچھے۔ ماں نے تو کہا تھا ہم غریب ہیں۔  ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں۔  ہمارا فلیٹ بہت چھوٹا ہے۔صرف ایک کمرے، کچن اور باتھ روم کا۔ اور اب یہ سب۔ اسے پوچھنے کی ہمت نہ ہوئی۔ اس نے ماں کے سینے سے لپٹ کر اس کے گالوں پر بہتے ہوئے آنسوؤں کو اپنے ننھے ہاتھوں سے پونچھنا شروع کر دیا۔

دوسرے دن اس نے اپنی ماں کے ساتھ مل کر کرسمس پیڑ کو سنہرے اور روپہلے شیشے کے گولوں اور رنگ برنگے ستاروں سے سجایا۔ اس کی شاخوں پر پر سیب لٹکائے، چاکلیٹ کی ٹکیاں ٹانگیں،  موم بتیاں نصب کیں اور سارے پیڑ کو ابرق سے دُلہن کی طرح سجا دیا۔ اس کے بعد تیسرے پہر کو دونوں نے ایک قریبی گرجا گھر میں جا کر ایک پادری کا واعظ سنا اور عیسی مسیح کی پیدائش کے بارے میں بچوں کا ایک ڈرامہ دیکھا اور پھر گھر لوٹ کر ’ ٹنین باؤم ‘ (کرسمس پیڑ) کو روشن کر دیا۔

 

’’ ہیر مایر! ہیر پیٹر مایر۔۔۔‘‘ ایک ڈاکٹر نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھتے ہوئے مخاطب کیا۔

’’ ہمیں افسوس ہے۔ ہم آپ کی ماں کو نہیں بچا سکے۔ آپریشن کامیاب نہیں ہوا۔۔۔‘‘

پیٹر نے منہ کھولا،  مگر الفاظ زبان سے نہ نکل سکے۔آنسوؤں کی جھڑی جاری ہو گئی۔

اسے اپنے آپ سے نفرت محسوس ہو رہی تھی۔ ماں کی محبت اور قربانیوں کی بے شمار مثالیں یاد آ رہی تھیں۔  لیکن اب وہ ہمیشہ کے لئے بچھڑ چکی تھی۔ وہ فٹ بال کے نشے میں اندھا ہو کر آپریشن کے وقت بھی اسپتال میں موجود نہیں تھا۔

آس پاس بیٹھے ہوئے کچھ مریض اب اس کی طرف دیکھ رہے تھے ان میں سے کچھ کے سینوں پر قومی فٹ بال ٹیم کے نشان چسپاں  تھے۔ وارڈ کے باہر بنچوں پر بیٹھے کچھ مریض کل کے کھیل پر تبصرے کر رہے تھے۔ اور اسپتال کے باہر سڑک پر دوڑتی ہوئی بہت سی کاروں پر جرمنی کے قومی جھنڈے لہرا رہے تھے اور دیواروں پر لگے بڑے بڑے پوسٹروں پر فٹ بال کے کھلاڑی نظر آ رہے تھے۔

 

دن بھر اس نے اپنے رشتے داروں اور دوستوں کو اطلاع دینے اور ان سے مشورے لینے میں صرف کیا۔ تجہیز و تکفین کا بندوبست کرنا تھا، ایک دفنانے والے دفتر سے رجوع کرنا تھا، قبر کی زمین کو ریزرو کرنا تھا، سنگ مرمر کی پلیٹ اس پر لگوانی تھی۔ بہت سے لوگوں کو کارڈ بھیجنے تھے اور دفنانے کے بعد وہاں پر آئے ہوئے لوگوں کو قبرستان کے قریب ہی ایک ریستوراں میں لے جا کر ماں کے نام پر کھانا کھلانا اور شراب پلانی تھی۔ اور اس سب کے لئے بنک سے قرض لینا تھا۔

وہ کئی دن بھاگ دوڑ کرتا رہا۔ سوچتے سوچتے اس کا سر چکرانے لگتا تھا۔ آنکھوں میں آنسو آ جاتے تھے۔ دل کسی چیز میں نہیں لگتا تھا۔ نہ کھانا، نہ بئیر، نہ ریڈیو اور ٹی وی۔ اسے رہ رہ کر بس اپنی ماں یاد آتی تھی۔

لیکن آج پھر وہ اپنے سینے پر کالی لال، اور سنہری پٹّی والا بیج لگائے ’ برانڈن برگر‘ پھاٹک پر موجود ہے۔ ماریہ اس کے ساتھ ہے۔ اس کے گال لال کالے اور سنہری دھاریوں کے میکپ سے مزین ہیں،  گلے میں کاغذی پھولوں کا ترنگا ہار پڑا ہوا ہے۔

’ برانڈن برگر گیٹ‘ کے سامنے لاکھوں ہنستے گاتے، نعرے لگاتے جھومتے انسانوں کا سیلاب موجزن ہے، جو فٹ بال کی یوروپین چیمپین شپ کا فائنل میچ ایک بڑے سے اسکرین پر دیکھنے کے لئے جمع ہوئے ہیں،  جو جرمنی اور اسپین کی ٹیموں کے درمیان ہونے جا رہا ہے۔

سب کی زبان پر ایک ہی نعرہ ہے ’وی آر گریٹ‘۔ پیٹر اور ماریہ بھی اس نعرے میں شامل ہو گئے ہیں

٭٭٭