کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

خواب بانٹنے والی

ممتاز رفیق


 یہ شاید چوبیسواں منٹ تھا جب میرا کاندھا تھپکتے ہوئے ایک مانوس سی آواز نے کہا : اے مسٹر! آپ اتنی دیر سے ان پینٹنگز کے سامنے جمے کیوں کھڑے ہیں ؟ میں اس دخل اندازی پر بد مزا ہو کر ناگواری سے پلٹا۔ وہ اسد تھا۔میرا ایک نوجوان بے تکلف مصور دوست، آخر آپ نے ان میں ایسا کیا دیکھ لیا؟

اسے مسکرا کر دیکھتے ہوئے میں نے جواباً کہا: یہی سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ ان تصاویر میں ایسا کیا ہے جس نے میرے پیروں کو زنجیر کر لیا ہے۔

وہ سنجیدگی سے بولا:میں اتنی دیر سے کھڑا آپ کے انہماک پر حیران ہو رہا ہوں ۔

میں نے سرسری لہجے میں جواب دیا : اچھا۔اس نے چھیڑنے کے انداز میں جملہ کسا :لیکن آپ تو مصوری کے بارے میں کوئی شدبد نہیں رکھتے۔میں نے سامنے لگی پینٹنگ پر نظریں جماتے ہوئے جواب دیا: ہاں ،  حقیقت تو یہی ہے مگرکسی فن پارے کو سراہنے کے لیے اس کے فنی خواص سے واقفیت کیا ضروری ہے۔ وہ دھیمے سے مسکرایا: آپ نے نمائش کی دیگر تمام تصاویر پر ان ہی کو اتنی اہمیت کیوں دی۔میں نے اس پر الجھی ہوئی نظر ڈالتے ہوئے خود کلامی کے انداز میں کہا: شاید اس لیے کہ یہ نہایت جاذب نظر ہیں ... یا شاید اس کمال کے کلر کمبی نیشن کے باعث یا پھر ممکن ہے ان تصاویر میں برتے گئے موضوع نے مجھے مسخر کر لیا ہو۔اس نے حیران سا ہو کر مجھے دیکھا: صاحب،  آپ تو اچھے بھلے آرٹ کریٹک ہیں ۔میں نے شرمندہ سا ہو کر جواب دیا: نہیں یار یہ تو بس یونہی ...۔اس نے میری بات قطع کرتے ہوئے ٹھنڈی سانس بھری : آہ !کاش اٍس وقت وہ یہاں ہوتی۔میں جھلا سا گیا: یار تم نے یہ کیا اوٹ پٹانگ باتیں شروع کر دیں کس کا ذکر کر رہے ہو ... کون ہوتی؟اس نے ملامت بھری نظروں سے مجھے دیکھا:بھائی! آپ اتنے گاودی کیوں ہیں ؟ارے جناب،  وہی آپ کی فیورٹ آرٹست،  ان تصاویر کی خالق۔ میں نے تعجب سے سوال کیا : کیا مطلب اس کی پینٹنگز یہاں لگی ہیں اور وہ خود غائب ہے؟۔اس نے قدم بڑھاتے ہوئے کہا :آئیں گیلری کا چکر لگا کر کہیں بیٹھتے ہیں ۔ میں خاموشی سے اس کے ساتھ ہولیا۔دروازے پر تاثرات کی کتاب پر نظر پڑی۔ میرا دوست کسی سے باتوں میں مشغول تھا۔میں لپک کر گیا اور اپنے تاثرات قلم بند کر دیئے۔میں نے لکھا:اس گروپ ایگزی بیشن میں یوں تو کئی پینٹنگز بہت اچھی ہیں لیکن میں خصوصیت سے ان پانچ تصاویر کو خراج تحسین پیش کرنا چاہوں گا جن میں معاشرے کی باطنی خباثت کوPortrayکرنے کی کام یاب کوشش کی گئی ہے۔اپنے دستخط اور رابطے کا نمبر درج کر کے میں دروازے کی طرف بڑھا تو میرا دوست شرارت بھری نظروں سے مجھے دیکھ رہا تھا۔اس نے پھبتی کسی: واہ صاحب، کیا بات ہے۔معاشرے کی باطنی خباثت...۔ میں نے اس کی کڑوی بات کو خاموشی سے نظرانداز کر دیا۔وہ پھر گویا ہوا: صاحب،  ان میں آپ کو معاشرہ کہاں نظر آ گیا؟ وہ تو انسانوں کی مسخ شکلیں ہیں ۔میں نے ملائمت سے پوچھا: تو کیا انسان معاشرے کا نمائندہ نہیں ہوتا؟اس نے چپ سادھ لی۔ہم ذرا دیر میں ایک اوپن ائیر ریسٹوراں میں جا پہنچے۔وہ خاموشی سے مجھ پر نظریں گاڑے ہونٹوں سے دھوئیں کے چھلّے بناتا رہا۔چائے کی چسکی لیتے ہوئے اس نے سنجیدگی سے کہا:آپ کو شاید میری باتیں ناگوار گزریں ، مگر کیا آپ کو اندازہ ہے کہ آپ نے اسے کتنا بڑا کمپلیمنٹ دے ڈالا ہے؟ میں نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے نرم مگر مضبوط لہجے میں کہا:وہ اس سے زیادہ کی مستحق تھی۔میرا جواب سن کر وہ چڑ سا گیا،  بھنا کے بولا:Yar! she is just in making. ابھی وہ بہت جونیئر ہے۔میں نے رسانیت سے جواب دیا: پھر تو وہ اس سے بڑھ کے ہمت افزائی کی حق دار تھی بلکہ میں تو سمجھتا ہوں ...۔میں نے جان بوجھ کر بات نامکمّل چھوڑ دی۔نہیں ،  نہیں بات مکمّل کریں ۔ آج میں آپ کے ایک بالکل نئے رخ سے متعارف ہو رہا ہوں ۔اس کے لہجے کی چبھن پر توجہ دیئے بغیر میں نے کہا:میرا خیال ہے وہ مصوری کے ایک بالکل نئے رجحان کو عام کرنے کے جتن کر رہی ہے۔میری بات سن کر وہ گنگ سا ہو گیا پھر کچھ توقف کے بعد کہنے لگا: آپ نے پوچھا تھا کہ وہ نمائش میں موجود کیوں نہیں ہے؟ بھئی وہ پاگل پن کی حد تک بے نیاز واقع ہوئی ہے۔میں نے مسکرا کہ چوٹ کی: ہر بڑے کام کے لیے ایک مخصوص دیوانگی ضروری ہوتی ہے۔لیکن کیا وہ سرے سے آتی ہی نہیں ؟اس نے سگریٹ سلگاتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا:آتی ہے لیکن بس جوگی کا سا پھیرا،  اچانک دن کے کسی بھی پہر آ دھمکتی ہے اور ایک کونے میں کھڑی ہو کر اپنی پینٹنگز پر سرسری نظر ڈال کر گزرنے والوں کو دیکھ کر مسکرائے جاتی ہے۔میں نے بے یقینی سے پوچھا: مسکرائے جاتی ہے، کیوں ؟۔ اس نے کاندھے اچکائے:ہاں ،  ایک دن میں نے ا س مسکراہٹ سے اکتا کر اُس سے اس کا مطلب پوچھ ہی لیا۔میرے سوال پر اس نے حیرت سے مجھے دیکھا پھر نفی میں گردن ہلاتے ہوئے رونکھی آواز میں بولی: مسکراہٹ... یہ تو ناقدری اور نا اہلی کا ماتم ہے،  جسے میں ہونٹوں کے کونوں کی اوٹ میں دابے رکھتی ہوں ۔ابھی میں اس جواب پر غور ہی کر رہا تھا کہ اس نے کہا: آپ دیکھ لیجئے گا میں اپنی شناخت حاصل کر لوں گی۔دنیا میں آنکھ والوں کی کمی سہی لیکن اب ایسا بھی نہیں کہ بینائی بالکل ہی اٹھا لی گئی ہو،  آخر مجھے دریافت کر ہی لیا جائے گا۔میں اس کی خوش فہمیوں پر حیران سا کھڑا تھا کہ وہ تاثرات کی کتاب کی طرف لپکی اور حسب معمول چند صفحات پر طائرانہ نظر ڈال کر یہ جا وہ جا۔مجھے اس کی ان حرکتوں پر بہت کوفت ہوتی ہے۔میں نے بغور اس کی بات سنی: اچھا،  goodاگر کسی کو اپنے فن پر اس قدر اعتماد ہو تو اسے آگے بڑھنے سے کون روک سکتا ہے؟میری اس بات پر وہ بھڑک اٹھا: آپ بھی کمال کرتے ہیں ، ابھی اس نے سیکھا ہی کیا ہے؟ ابھی تو اس نے جنم لیا ہے، اسے تو ڈھنگ سے اسٹروک لگانے تک نہیں آتے،  پہلے وہ اس میں تو مہارت حاصل کر لے۔میں نے سنجیدگی سے کہا : یہ تو میں نہیں جانتا، لیکن مجھے یہ ضرور معلوم ہے کہ یقین اور جنون راستے کی ہر رکاوٹ تہس نہس کرڈالتے ہیں ۔ تم دیکھ لینا ایک دن وہ بڑی مصورہ بن جائے گی۔اس نے خفگی سے کہا: آپ نے اس کی محض پانچ پینٹنگز دیکھیں ہیں اور اس کے بارے میں اتنے بڑے دعوے کر رہے ہیں ۔میں مسکرایا: اب تم بہت ناسمجھی کی باتیں کر رہے ہو۔میں مانتا ہوں کہ وہ جونیئر ہو گی لیکن تم نے سنا نہیں پوت کے پاؤں پالنے میں نظر آ جاتے ہیں ۔اس نے کچھ سوچتے ہوئے سر سہلایا: ہاں ،  ایک بات ضرور ہے اس نے اپنی لائن پر بہت محنت کی ہے۔وہ کہتی ہے مصور کو لکیر سے ہمیشہ جڑے رہنا چاہیے اور مجھے آپ کی باتوں سے اختلاف سہی لیکن اسے کام یاب ہوتے دیکھ کر مجھے خوشی بھی سب سے زیادہ ہو گی لیکن...۔میں نے اسے چھیڑا: لیکن وہ تمہارے مخصوص معیار جمال پر پوری نہیں اترتی۔ کیوں ہے نا یہی بات؟وہ میری بات سن کر ہکا  بکا رہ گیا: کیا مطلب،  آپ نے یہ نتیجہ کیسے اخذ کر لیا؟ میں نے ذرا اونچی آواز میں کہا: کیوں کہ میں تمہاری رگ رگ سے واقف ہوں ۔وہ خفت سے مسکرایا: آپ بہت ظالم ہیں ۔ہاں ،  یہ سچ ہے وہ معمولی نقش و نگار کی ایک روکھی پھیکی لڑکی ہے۔مگر ہمارا موضوع تو اس کا فن تھا۔میں زور سے ہنس پڑا: میاں اگر یہ پینٹنگز کسی پری پیکر نے بنائی ہوتیں تو تم ان کی تعریفوں میں زمین آسمان کے قلابے ملا رہے ہوتے۔وہ فراغ دلی سے مسکرایا: میں جان بوجھ کے آپ سے حجت کر رہا تھا۔لیکن جناب اتنی جلد اتنا بڑا کمپلی منٹ اسے برباد بھی کر سکتا ہے۔میں نے سوچا وہ ٹھیک کہہ رہا ہے: ہاں ،  یہ درست ہے مگر میں نے یہ بات پوری ذمہ داری سے کہی ہے۔اس نے بے بسی سے ایک ٹھنڈی سانس بھری: کتنی عجیب اتفاق ہے،  اس کا دعوا ہے کہ وہ باطن کو پینٹ کرتی ہے اور آج آپ نے بھی بالکل یہی نتیجہ اخذ کیا۔اس کے لہجے کی صداقت عیاں تھی: ایسا اس لیے ہے کہ تم بھی ان ہی ناقدروں میں شامل ہو جنہوں نے اس کے کام کی کبھی کوشش ہی نہیں کی۔اس نے جیسے میری بات سنی ہی نہیں : آج ان تصاویر میں آپ کو منہمک دیکھ کر مجھے اس کی کتنی ہی باتیں یاد آئیں ۔ اس نے رک کر پانی کے چند گھونٹ پیئے پھر گلہ کھنکار کر بولا:آپ کے دیوانے پن پر تو خیر مجھے کبھی کوئی شک ہی نہیں مگر ہماری فن کارہ بھی آپ سے کچھ کم نہیں ، میں کسی دن آپ کو اس سے ملواؤں گا۔میں نے خوش دلی سے اس کا شکریہ ادا کیا۔اب رات خاصی اتر آئی تھی کچھ دیر ادھر ادھر کی باتیں کر کے ہم نے اپنے گھروں کی راہ لی۔میں بہت رات گئے سونے کا عادی ہوں اور جب سے بیمار ہوا ہوں تب سے دفتر پہنچنے کی ہڑبونگ بھی جاتی رہی، اس لیے کافی دیر تک بسترپر پڑا اینڈتا رہتا ہوں اور دن چڑھے اٹھنے کا عادی ہوں ۔ تیسرے یا شاید چوتھے دن ابھی میں نے چائے کا دوسرا گھونٹ ہی حلق سے اتارا تھا کہ فون کی گھنٹی گنگنانے لگی۔میری بیوی نے لپک کے چونگا اٹھایا،  وہ واقف تھیں کہ مجھے ناشتے کے دوران اس قسم کی در اندازی نہایت گراں گزرتی ہے۔مختصر سی گفتگو کے بعد وہ میری طرف مڑیں :کوئی خاتون،  آپ سے بات کرنا چاہتی ہیں ۔میں نے خود کلامی کی: خاتون؟ کون ہو سکتی ہیں ۔کئی نام تیزی سے دوڑتی سلائڈ کی طرح نظروں کے سامنے سے گزرتے چلے گئے: ہلو،  کون؟ ایک نرم و ملائم لیکن واضح آواز سنائی دی:سر! میں آپ کے لیے اجنبی ہوں ،  لیکن مجھ پر آپ کا ایک قرض ہے اس کی ادائی چاہتی ہوں ۔وہ سانس لینے کے لیے رکی: قرض؟ میں کچھ سمجھا نہیں ... اس نے نرمی سے میری بات کاٹی: سر! میں آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں ۔میں نے حیران سا ہو کر کہا:مگر میں نے تو بہت عرصے سے ایسا کوئی کام نہیں کیا جس پر میں شکریہ کا مستحق ٹھہروں ۔وہ ہلکی آواز میں ہنسی لگا جیسے نقرئی گھنٹیاں بجی ہوں : سر! یہ بھی آپ کا بڑا پن ہے ابھی چند روز قبل ہی آپ نے مجھے شان دار کمپلی منٹ سے نوازا تھا۔میرے ذہن میں کوندا سا لپکا:اچھا تو یہ آپ ہیں ، بھئی آپ نے تو کمال کا کام کیا ہے،  آپ بجا طور پر تحسین کی مستحق تھیں ۔وہ ذرا دیر چپکی رہی جیسے کچھ سوچ رہی ہو پھر گویا ہوئی:نہیں سر،  کمال کہاں ،  ابھی تو میں سیکھنے کے مرحلے میں ہوں ، لیکن آپ نے تو حیران کر دیا۔پینٹنگ کی پاتال سے اس کا جوہر اٹھا لائے۔آپ آرٹ کریٹک ہیں ؟ اس نے ایک سانس میں بہت سی باتیں کہہ ڈالیں : آرٹ کریٹک! نہیں بھئی میں تو مصوری کی الف بے تک سے نا بلد ہوں اور رہا جوہر تو وہ تو ہر آنکھ والے کی دسترس میں ہوتا ہے۔وہ خاموشی سے میری بات سنتی رہی پھر ٹھنڈی سانس بھر کے بولی:آنکھ والے ہیں کہاں ؟یہ تو میری خوش نصیبی تھی کہ آپ نے میرے کام کو قابل توجہ سمجھا۔میں نے گلا کھنکارتے ہوئے کہا:اصل میں توجہ میں نے نہیں دی درحقیقت آپ کی تصاویر نے مجھے پکارا۔ مگر مجھے آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ آپ نے اپنے لیے اتنے مشکل موضوع کا انتخاب کیوں کیا؟اس نے ذرا دیر ٹھہر کر کہا:سر! میں کچھ الگ سا کام کرنا چاہتی تھی مجھے بنے بنائے سانچوں سے چڑ ہے۔میں اپنی کھینچی ہوئی لکیر پر یقین رکھتی ہوں ۔ میں نے ہنس کے کہا : اچھی بات ہے لیکن لمبی چھلانگ کے لیے بہت تیاری کی ضرورت پڑتی ہے۔اس نے فوراً جواب دیا:سر!یہ پینٹنگز اسی تیاری کا حصہ ہیں ۔پھر کچھ جھجکتے ہوئے پوچھا:سر!کیا میں آپ سے ملاقات کر سکتی ہوں ؟میں نے ہنستے ہوئے کہا:کس سے، مجھ سے یا سر سے؟وہ الجھ کر بولی: میں سمجھی نہیں ۔میں نے ترنت جواب دیا:دیکھو لڑکی،  میں سر وغیرہ ایسے تکلفات کا عادی نہیں ہوں ، دوستوں کی طرح بات کرنے میں سہولت رہتی ہے۔اُس نے جیسے سکھ کی سانس بھری:یہ تو آپ نے ایک بڑی مشکل آسان کر دی۔مجھے بھی یہ سب بھلا نہیں لگتا، لیکن آپ یہ فرمایئے ہم کب مل رہے ہیں ۔اس نے بے تکلفی سے اپنی بات مکمل کی: ملاقات؟ ہاں ہو سکتی ہے،  جب تم چاہو۔اس نے کچھ دیر سو چا پھر کہا: کیا آپ کا موبائل نمبر مل سکتا ہے؟میں نے نمبر دیا۔ اس نے کہا: آپ سے بہت سی باتیں کرنی ہیں ، آج بھی آپ سے بات کر کے بہت اچھا لگا۔میں جلد رابطہ کروں گی۔اب اجازت،  اللہ حافظ۔میں نے فون رکھ کے چائے کی وہ گرما گرم پیالی اٹھا لی جو میری مہربان بیگم وہاں لا کر رکھ چکی تھیں ۔انہوں نے پوچھا کون خاتون تھیں ؟میں نے چائے کا گھونٹ بھرا:ہے ایک کمال کی پینٹر۔ پھر انہیں اپنے ایگزبیشن جانے اور اسد سے ہونے والی بحث کا سارا قصہ سنا دیا۔ انہوں نے گلہ کیا:آپ ایسے مواقع پر ہمیشہ مجھے بھول جاتے ہیں ۔میں مسکرایا: ہمیشہ تو نہیں ہاں کبھی کبھار مجھ سے یہ بھول ہو جاتی ہے لیکن آئندہ یہ غلطی نہیں ہو گی۔میں چائے پیتے ہوئے سوچ رہا تھا خاصی سمجھ دار اور خوش کلام لڑکی ہے اور اپنے فن پر بھی اسے بلا کا اعتماد ہے،  اس سے ملاقات دل چسپ رہے گی۔میں اپنے روزمرہ میں مشغول ہو گیا۔ ان دنوں ہم بہت سے دوست سوچ رہے تھے کہ بہت سے رائٹر مل کر ایک ایسا ناول لکھیں جس کی پہلے سے طے شدہ کوئی تھیم نہ ہو۔ہر شخص اپنے اسٹائل میں پچھلا باب سن کر کہانی کو آگے بڑھائے۔یہ ایک تجربہ تھا ہم نے اس کی کامیابی یا ناکامی کے حوالے سے سوچا تک نہیں تھا۔چند باب لکھے بھی جا چکے تھے لیکن پھر بھیڑ بڑھنے لگی،  میں چاہتا تھا کہ صرف اچھے لکھنے والوں کو اس پروجیکٹ میں شامل کیا جائے،  مجھے مجبوراً اس معاملے سے الگ ہونا پڑا۔میں دوبارہ سب بھول بھال کے اپنی تحریروں اور ترجموں کی طرف پلٹ آیا۔میں اپنی مصروفیات میں مصورہ کو تقریباً فراموش کر چکا تھا کہ کئی دن بعد اچانک ایک دن میرے موبائل کی اسکرین پر اجنبی نمبر جگمگایا۔میں نے گومگو کی کیفیت میں ہلو کہا۔ دوسری طرف سے چہکار سنائی دی: آپ کیسے ہیں ؟مجھے لگا جیسے کانوں میں گھنٹیاں گنگنائی ہوں : میں تو ٹھیک ہوں لیکن تم کہاں لاپتہ ہو گئیں تھیں ؟ وہ بشاشت سے ہنسی:میں نے سوچاآپ یہ نا کہیں کہ لڑکی کو مونہہ کیا لگایا یہ تو جان کو آ گئی۔میں ہنسا: تم جانتی ہو بعض لوگ بہت سخت جان ہوتے ہیں ۔ پھر ذرا سنجیدگی اختیار کی : آئندہ ایسے فضول خیالات سے باز رہنا۔اس نے مختصر سا قہقہہ لگایا:اچھا یہ بتایئے آج شام کوئی خاص مصروفیت تو نہیں ؟میں سوچ رہی تھی آج ملاقات کر لی جائے۔میں نے لمحے بھر کو سوچا:ہاں ،  کوئی خاص کام نہیں ہے ملاقات ممکن ہے،  مگر کہاں اور کب؟ اس نے جھٹ سے جواب دیا : یہ فیصلہ تو آپ کریں گے، مگر ٹھہریں آپ کی رہائش کہاں ہے ؟وہیں کہیں قریب مل لیتے ہیں ۔میں خوش دلی سے بولا: گلستان جوہر میں رہتا ہوں ،  اچھا یہ بتاؤ فاریہ دیکھا ہے؟اس نے چٹکی بجائی: یہ تومسئلہ ہی حل ہو گیا،  فاریہ مجھے بھی سوٹ کرتا ہے لیکن آپ آئیں گے کیسے؟میں زور سے ہنس پڑا: دوڑتا ہوا،  ارے لڑکی، ٹیکسی سے اور کس طرح۔وہ فوراً بولی: کیوں ٹیکسی کی کیا ضرورت ہے،  میں آپ کو پک کر لوں گی۔مجھے یہ پیش کش بہت بھلی لگی: یہ تو اور اچھا ہو گا،  فاریہ پہنچتے تک ہم دوست بن جائیں گے۔ اس نے بناؤٹی افسردگی سے کہا: کیا یہ رسم ابھی باقی ہے،  میں تو سمجھی تھی ہم دوست بن چکے ہیں ۔میں نے بے تکلفی کا مظاہرہ کیا: ارے پگلی! مذاق کو بھی نہیں سمجھتیں ،  اچھا یہ بتاؤ تمہارے پاس گاڑی کون سی ہے، اس کا رنگ وغیرہ۔ اس نے کھی کھی کی:بلو آلٹو، لباس کا رنگ لائٹ پنک ویسے میں آپ کے اسکوائر کے گیٹ کے سامنے سڑک پر ہوں گی، ٹھیک ساڑھے سات بجے۔میں نے جواباً کہا: ڈن،  میں آ جاؤں گا مگر زیادہ انتظار مت کروانا۔وہ گنگنائی: ابھی وہ مرحلہ نہیں آیا۔ok then see you. bye byeاور فون کھٹ سے بند۔میں اس کے چلبلے پن پر مسکرایاپھر دھیرے سے اس کی بات دھرائی:ابھی وہ مرحلہ نہیں آیا،  لیکن کون جانے کبھی آ ہی جائے۔ مجھے اپنی اس آوارہ خیالی پر شرمندگی سی محسوس ہوئی۔ میں سوچ رہا تھا یہ لڑکیاں بھی اپنی بنت میں کسی پہیلی کی طرح پیچیدہ اور گنجلک ہوتی ہیں ،  ان کا انفرادی بھید جو کہیں ان کے اندرون میں پوشیدہ ہوتا ہے اسے پانے کے لیے ان کے باطن میں اترنا پڑ تا ہے اور یہ ایسا ہی ہے جیسے آپ اپنا آپ بھول بھلیوں کے سپرد کر دیں اور میں اس کے لیے کمر کس چکا تھا۔انسانوں کے باطن کا ایسا ہرسفر میرے لیے ہمیشہ تحیر خیز تجربہ ثابت ہوا ہے۔ میں ان ہی سوچوں میں غلطاں تھا کہ بیوی کی آواز سنائی دی :سمجھ میں نہیں آتا آج کیا پکاؤں ،  میں ہر روز کے اس سوال سے زچ آچکی ہوں ۔ میں نے خالی نظروں سے انہیں دیکھا: اپنی پسند کی کوئی بھی چیز پکالیں ۔وہ چونک کے بولیں :کیوں ،  اور آپ؟میں نے آہستہ سے کہا: مجھے مصورہ نے ڈنر پر مدعو کیا ہے۔وہ مسکرائیں : مصورہ! اچھا،  لیکن کیا یہ سب کچھ بہت تیزی سے نہیں ہو رہا؟۔ پھر ذرا ٹھہر کے بولیں : ٹھیک ہے پھر کیا پکانا،  میں تو کچھ بھی کھا لوں گی۔میں نے خاموشی سے کتاب اٹھا کر مطالعہ شروع کر دیا۔مقررہ وقت پر سیڑھیاں اترتے ہوئے میں سوچ رہا تھا۔میری بیوی بھی عجب عورت ہے۔وہ کہتی ہے کبوتر دن بھر جہاں چاہے اڑتا پھرے اس کی رات اپنی چھتری پر ہی گزرتی ہے۔میں نے کئی بار مذاق میں کہا بھی کہ کبھی اونچی اڑان کے شوق میں وہ راستہ بھی بھول سکتا ہے لیکن میری یہ بات وہ ہمیشہ ایک کان سے سن کر دوسرے سے اڑا دیتی ہیں ۔میری ذات پر ان کا یہ بے پایاں اعتماد میرے لیے ہمیشہ نہایت طمانیت کا باعث بنتا ہے۔میں اسکوائر کے دروازہ سے نکلا تو نیلی آلٹو سامنے ہی کھڑی تھی۔دو روشن سیاہ آنکھوں نے غور سے مجھے دیکھ کر ہاتھ ہلایا،  جانے کیسے وہ مجھے پہچان گئی تھی۔میرے قریب پہنچنے پر اس با وقار اور با اعتماد لڑکی نے اتر کر میرے لیے دروازہ کھولا۔اس کے ہونٹ باریک سی خیر مقدمی مسکراہٹ سے اور بھی بھلے لگ رہے تھے۔گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے اس نے متانت سے پوچھا:آپ کیسے ہیں ؟میں نے اس سانولی سلونی کا جائزہ لیتے ہوئے جواب دیا: میں اچھا ہوں ،  تم سناؤ؟وہ مسکرائی:اس وقت میں بہت خوش ہوں ،  مگر آپ کو میرا مذاق گراں تو نہیں گزرا؟وہ بڑے ٹھہراؤ کے ساتھ دھیمے انداز میں گفتگو کر رہی تھی: مذاق؟کیا مطلب؟ میں نے جان بوجھ کر بے خبری کا تاثر دیا:اللہ حافظ کہنے سے قبل کا میرا آخری جملہ۔ اس نے آنکھیں چمکائیں : اچھا وہ،  نہیں بھئی،  دوستوں میں تو یہ سب چلتا رہتا ہے پُر کشش آنکھوں والی لڑکی نے چھوٹے چھوٹے پھولوں والی ہلکے گلابی رنگ کی قمیض پہن رکھی تھی،  بالوں پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی تھی لیکن لگتا تھا چہرے پر کچھ محنت کی گئی ہے۔اس نے سرسری لہجے میں سوال کیا: اسد آپ کے دوست ہیں ۔ میں نے اثبات میں سر ہلایا: اسد،  وہی با صلاحیت پینٹر ناں !جو اس گیلری کا پارٹنر ہے جہاں وہ گروپ ایگزبیشن ہوئی تھی۔ ہاں ،  وہ مجھے بہت عزیز ہے۔اس نے تولتی ہوئی نظروں سے مجھے دیکھا:اچھا،  وہ بھی آپ سے بہت متاثر ہیں ،  اکثر آپ کا تذکرہ کرتے ہیں ،  انہوں نے مجھے آپ کے بارے میں بہت کچھ بتایا۔ پھر کچھ توقف کے بعد بولی:آپ دوستی کے لیے نوجوانوں کو ہی ترجیح کیوں دیتے ہیں ؟ میں نے سنجیدگی سے جواب دیا:تاکہ ان سے کچھ نیا سیکھ سکوں ، بھئی تم لوگوں کے تجربات بہت تازہ،  انوکھے اور دل چسپ ہوتے ہیں ۔اس نے ذرا تعجب سے مجھے دیکھا:پلیز! مجھے نوجوانوں میں شمار نہ کریں میں جوانی کے بھی کئی برس بتا چکی ہوں ۔ پھر سوال کیا: آپ پینٹر ہیں ؟میں مسکرایا: مجھے نہیں معلوم کہ لوگ اسے تسلیم کرتے ہیں یا نہیں ،  لیکن ہاں ،  میں خود کو ایک مصور ہی سمجھتا ہوں ۔بس فرق اتنا ہے کہ تم اپنی تخلیقات میں رنگ استعمال کرتی ہو اور میں الفاظ سے تصویر کشی کرتا ہوں ۔اس نے گنگنانے کے انداز میں کہا:very interestingاسد آپ کے کام کے بڑے قدردان ہیں ۔ سنا،  آپ کی کتاب بھی آ چکی ہے اور آپ کا بنیادی موضوع انسان ہے؟اس نے تیزی سے ایک ساتھ کئی باتیں کر ڈالیں ۔اس دوران وہ ان فون کالز کو بھی نمٹاتی رہی تھی جو تواتر سے اس کے موبائل کو مصروف رکھے ہوئے تھیں ۔میں نے ذرا ہلکے پھلکے لہجے میں کہا: فون کالز کے تانتے سے اندازہ ہوتا ہے کہ تمہارے دوستوں کا سرکل بہت وسیع ہے۔میری بات پر اس نے سوچتی ہوئی آواز میں کہا : دوست!وہ تو خیر گنے چنے ہیں ،  ہاں ایک بھیڑ ضرور ہے۔ اسے میری کم زوری کہہ لیں لیکن مجھ سے کسی کی دل آزاری نہیں ہوتی۔میں نے دیکھا جب وہ سوچتی ہے تو اس کی آنکھیں روشنی سے جگمگ جگمگ کرنے لگتی ہیں ۔مجھ سے رہا نہ گیا: سنو لڑکی،  تمہاری شخصیت میں بلا کا توازن ہے اور شاید تم چہرہ بدلنے پر بھی قدرت نہیں رکھتیں ۔ وہ کھل کھلا کے ہنسی: مجبوری ہے، کیا کروں برسوں سے اسی روکھے پھیکے چہرے سے کام چلا رہی ہوں ۔ ہم فاریہ پہنچ چکے تھے اس نے گاڑی پارک کی اور ہم اوپر ڈائنگ ہال میں جا بیٹھے وہاں زیادہ لوگ نہیں تھے،  ہم نے بھی ایک میز سنبھال لی۔اس نے اچانک کہا: میں آپ کی کتاب پڑھنا چاہتی ہوں ۔اسد کہہ رہے تھے آپ آدمی کے باطن میں اتر جاتے ہیں ۔میں رسانیت سے مسکرا کے بولا: کتاب تو ڈھونڈنی پڑے گی، جہاں تک انسان میں اترنے کی بات ہے تو ہاں کوشش کرتا ہوں مگر یہ بہت مشکل بات ہے یار،  کون آپ کے لیے اپنے دروازے وا کرتا ہے۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا : لیکن سنا ہے آپ اس فن میں کمال رکھتے ہیں ۔ میں نے نفی میں سر ہلایا: نہیں جناب مجھے ایسا کوئی دعوا نہیں ، ہاں اب تک اپنی کوششوں میں کام یاب رہا ہوں ۔مجھے چھوڑو،  اپنے بارے میں کچھ بتاؤ۔اس نے ٹھنڈی سانس لے کر کہا: میں ایک عام سی بے وقوف لڑکی ہوں ۔ تعلیم مکمل کی اور برش سنبھال لیا، پہلے پہل یہ مشغلہ تھا اور اب یہی روزگار ہے،  مجھے جنون کی حد تک اپنے کام سے عشق ہے۔میں غور سے اس کی گفتگو سن رہا تھا اچانک اس نے کہا:اور ہاں مجھے اپنی شخصیت کے معمولی پن کا پورا ادراک ہے۔آپ نے جس توازن کا تذکرہ کیا،  وہ میں نے بڑی محنت سے اپنی ذات میں پیدا کیا ہے۔میں واقف ہوں کہ اگر آپ دوسروں پر آسان ہو جائیں تو بھیڑئیے آپ کو بھنبھوڑنے میں ذرا تساہل سے کام نہیں لیتے۔اس کے لہجے میں ایک خاص قسم کا کھرا پن تھا،  ورنہ عام طور پر میں ایک بے نیاز لڑکی ہوں ،  میرے نفع نقصان کے پیمانے مختلف ہیں ۔رسک لینا پسند کرتی ہوں ،  لیکن مجھے آسانی سے دھوکا نہیں دیا جا سکتا۔شاید یہ بڑا دعوا ہے لیکن اگر آپ آنکھیں کھلی رکھیں تو یہ ممکن ہے۔ اس نے گلاس بھرکے پانی پیا، ویٹر کھانا سرو کر رہا تھا۔میں آنکھیں بند کر کے کشادگی سے مسکرایا،  اس نے ڈش میری طرف بڑھاتے ہوئے تیزی سے سوال کیا: آپ کی اس مسکراہٹ کا کیا مطلب لیا جائے؟ میں نے نوالہ توڑتے ہوئے کہا : اسد نے شاید تمہیں یہ نہیں بتایا کہ میں ایسا نظر ضرور آتا ہوں لیکن غبی ہرگز نہیں ہوں ۔اس نے چمک کر پوچھا: مطلب؟ میں نے ایسا تاثر کب دیا؟ میں نے غور سے اسے دیکھا: تم اتنی احمق نہیں ہو جتنا خود کو ظاہر کر تی ہو،  اگر یہ انکسارہے تو لائق تحسین ہے اور اگر ایسا نہیں تو پھر تم مجھے بے وقوف سمجھ رہی ہو۔اس نے ذرا چڑ کر کہا: آپ اتنی الجھی ہوئی باتیں کیوں کرتے ہیں ؟میں خاموشی سے نوالہ چباتا رہا پھر پانی پیا۔اس نے جھلا کے کہا: آپ کچھ کہتے کیوں نہیں ۔ میں مسکرایا: کیا یہ ہماری آخری ملاقات ہے؟ اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں : نہیں ،  لیکن آپ نے یہ سوال کیوں کیا؟میں نے جواب میں الٹا اس سے پوچھ لیا: تم خواب دیکھتی ہو؟ اس نے کچھ نہ سمجھنے والے انداز میں کہا: نہیں ،  میں خواب نہیں دیکھتی،  مگر اس سے میرے سوال کا کیا تعلق؟ میں نے سالن لیتے ہوئے کہا:کیا واقعی تم میری رائے جاننے میں دل چسپی رکھتی ہو؟ تمہیں اسد نے بتایا نہیں میں کتنا کڑوا آدمی ہوں ۔ اس نے فوراً جواب دیا: مجھے لگتا ہے آپ میری باتوں سے اتفاق نہیں رکھتے۔اس ذہین لڑکی نے آدھی بات سے پورا مدعا جان لیا تھا: ہاں ،  کیوں کہ تم نے اپنے حوالے سے جو کچھ کہا اس میں کافی تضادات موجود ہیں ۔تم کہتی ہو کہ تم ایک عام سی لڑکی ہو اور کام کچھ الگ سا کرنا چاہتی ہو۔ تمہارا کہنا ہے کہ تم بے وقوف ہو اسی کے ساتھ کہتی ہو کہ مجھے کوئی دھوکا نہیں دے سکتا۔چلو ٹھیک ہے مان لیتے ہیں کہ اپنی شخصیت میں یہ توازن تم نے خود پیدا کیا ہے،  تو کیا یہ کسی عام انسان کے بس کی بات ہے؟ رہی تمہاری شخصیت کے معمولی پن کی بات تو وہ لوگ جو بڑے کام کا ارادہ باندھ لیں ان کے لیے ظاہری دل کشی وغیرہ بے معنی باتیں ہو جاتی ہیں ،  مجھے تعجب ہے تم نے اس کا خصوصیت سے تذکرہ کیا۔ ا س سے بٖڑی بات یہ کہ تمہارا کہنا ہے کہ تم خواب نہیں دیکھتیں ، اگر یہ سچ ہے تو پھر تم لوگوں میں بانٹنے کے لیے یہ خواب کہاں سے لاتی ہو؟اس نے چمکتی ہوئی آواز میں اعتراض کیا: آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ میں لوگوں میں خواب بانٹتی ہوں ؟میں نے کولڈ ڈنک کا سپ لے کر اطمینان سے کہا: ابھی تم نے ایک بھیڑ کا تذکرہ کیا تھا، یہ کون لوگ ہیں ؟ اور انہیں کس چیز نے تم سے باندھ رکھا ہے؟میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ان میں سے ہر ایک کے پاس ایک خواب ہے جو دانستہ یا نا دانستہ تم نے انہیں تھمایا ہے۔اس نے بوتل رکھتے ہوئے نفی میں سر ہلایا: مجھے آپ سے اتفاق نہیں ہے لیکن آپ بہت خطرناک آدمی ہیں ۔ میں تلخی سے ہنسا:تمہیں برا لگا ناں ،  میں اسی لیے بات کو طرح دے رہا تھا لیکن تم ضد پر اتر آئیں ۔میں سچ بولنے کی کوشش کرتا ہوں جو میرے ذہن میں ہوتا ہے وہی زبان پر لے آتا ہوں اورلوگ روٹھ جاتے ہیں میں اپنی اس عادت کے باعث کتنے ہی دوستوں سے محروم ہو چکا ہوں ،  چلو آج ایک اور سہی۔وہ کچھ آزردہ سی ہو کر گویا ہوئی: ارے،  آپ سے کس نے کہہ دیا کہ مجھے آپ کی باتیں بری لگیں ،  میں نے تو آپ کی تردید تک نہیں کی محض عدم اتفاق کا اظہار کیا،  ممکن ہے اگلی بار میں آپ سے متفق ہو جاؤں ۔بھئی کچھ وقت تو دیجئے ناں ۔میں نے میز کی سطح پر انگلیاں سے تھپتھپائیں ۔، وہ بولی : لگتا ہے آپ کو میری باتوں سے مایوسی ہوئی۔ میں نے سادا لہجے میں کہا : نہیں ،  لیکن یہ ہمارا اجتماعی رویہ ہے کہ ہم دوسروں کے بارے میں کہے اور لکھے ہوئے سچ کو خوش دلی سے قبول کر لیتے ہیں لیکن اگر کوئی ہماری سچائی زیر بحث لے آئے تو بکھر جاتے ہیں ۔اس نے رسانیت سے میری بات کی تردید کی: میرے ساتھ یہ معاملہ نہیں ہے،  اس کی وجہ کچھ اور ہے،  ٹھیک ہے میں ڈراما کرتی ہوں دراصل میں خود کو ڈھکا چھپا رکھنا چاہتی ہوں ۔ ویسے یہ حقیقت ہے کہ میں خواب واقعی نہیں دیکھتی۔مجھے لگا وہ اس موضوع پر مزید بات نہیں کرنا چاہتی: اچھا یہ بتاؤ abstract artکے بارے میں تم کیا کہتی ہو؟ اس نے ذرا سوچا پھر نارمل انداز میں بولی:Abstract paintکرنے کے لیے تو بڑا وژن اور مہارت درکار ہوتی ہے اگر کوئی ایسا باکمال ہو بھی تو پوچھتا کون ہے،  یہاں تو ابھیRealistic artکو سمجھنے اور سراہنے والے بہت کم ہیں ۔میں نے ہلکے پھلکے انداز میں پوچھا:تو پھر تم کس کے لیے مصوری کا نیا رجحان متعارف کرانے کی تک و دو میں ہو؟ اس کے چہرے پر رنگ سے بکھر گئے: بھئی آپ تو کمال کے آدمی ہیں ۔آرٹ کریٹکس میرا پورا کام دیکھنے کے باوجود یہ سمجھنے سے قاصر رہے اور آپ... میں نے بات قطع کی :ارے یار میر ے قصیدے جانے دو۔مجھے میرے سوال کا جواب دو۔وہ جھٹ سے بولی:فن کسی سرحد کا پابند تو نہیں ہوتا، ذرا ڈھنگ کا کچھ کام کر لوں تو اس کے قدردان بھی مل جائیں گے، اب تو دنیا بہت سکڑ گئی ہے۔ آپ کو معلوم ہے میری وہ پینٹنگز جو آپ نے پسند کی تھیں انہیں ایک غیرملکی نے خرید لیا۔ دیکھئے اصل ماجرا تو میری اپنی آسودگی کا ہے۔میں نے مسکراکے چوٹ کی:اب تم دیکھ لو تم خود اپنی باتوں سے میری تلخ نوائی کی تصدیق کر رہی ہو۔وہ خوش دلی سے مسکرائی: میں نے کب کہا کہ آپ کی بات درست نہیں ۔ اصل میں مجھے دوستوں کی توقعات سے خوف آتا ہے،  میں سوچتی ہو اگر میں وہ سب نہ کرسکی جس کی انہیں مجھ سے توقع ہے تو وہ کتنے مایوس ہوں گے۔پھر ذرا ناراضی سے بولی : اور آپ نے دوستی کے خاتمے کا اعلان کیوں کیا؟ میں ہنسا:تو تمہیں اس کی پروا ہے۔ اصل میں اب تک دوسرے اس قسم کے اعلانات کرتے رہے ہیں ، اس بار میں نے سوچا کہ میں خود یہ کر گزروں ۔اس نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مجھے دیکھا۔ مجھے لگا جیسے ایک مقناطیسی لہر نے مجھے اپنے حصار میں لے لیا ہو۔وہ دھیمے سے بولی : آئندہ ایسی بات مت کیجئے گا،  مشکل سے تو آنکھ والا میسر آیا ہے اور آپ اسے بھی مجھ سے چھین لینا چاہتے ہیں ۔ اس کے لہجے میں عجب لگاوٹ تھی۔ہوٹل کے بل وغیرہ سے نمٹ کے ہم گاڑی میں آ بیٹھے۔ اس نے گاڑی اسٹارٹ کی تو میں نے اسے چھیڑا:کہو! ایک کڑوے آدمی کے ساتھ شام کیسی گزری؟وہ ہنسی پھر کہا : بہت مدّت بعد کسی کے ساتھ وقت گزار کر خوشی کا احساس ہوا اور کڑواہٹ تو اس میں تو کچھ ایساذائقہ تھا کہ بار بار چکھنے کو جی چاہے۔ میں نے پوچھا: کیا خیال ہے چائے ہو جائے۔ اس نے بڑی مسرت سے کہا: اوہ! یس، مگر کہاں ؟میں بولا:بس سیدھی چلتی رہو آگے پٹھان ہوٹل ہے۔مجھے گھر پر اتارتے ہوئے اس نے کہا: اب میں اکثر فون پر آپ کو پریشان کرتی رہوں گی۔پھر کچھ جھجک کے پوچھا: آپ کی مسز کو تو اعتراض نہیں ہو گا؟میں نے رک کر کہا : کیوں بھئی اس میں اعتراض کی کیا بات ہے بلکہ کبھی تم گھر آؤ۔وہ بہت مہربان خاتون ہیں تمہیں ان سے مل کر خوشی ہو گی۔وہ مسکرائی :ضرور،  ویسے وہ بہت خوش نصیب ہیں ۔میرے ذہن میں اس کے مکالمے جیسے دائروں میں ڈول رہے تھے، میں نے سوچا۔ وہ ایک حساس فن کارہ ہے بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ اس کی نیند خوابوں سے محروم رہتی ہو۔خواب تو اُس کی آنکھوں سے چھلکے پڑتے ہیں لیکن شاید کسی حد تک وہ سچ ہی کہتی ہے،  ممکن ہے اب تک اس نے وہ خواب دیکھا ہی نہ ہو جسے دیکھنے کی وہ تمنائی ہے اور وہ خواب،  جو اس کی حسین آنکھوں میں در آتے ہوں گے انہیں وہ خواب کا درجہ دینے پر آمادہ ہی نہیں ۔ان میں سے کچھ خواب وہ خود پینٹ کر لیتی ہے اور باقی ان لوگوں میں تقسیم کر دیتی ہے جو ان کے امیدوار ہوتے ہیں ۔ ہر آدمی اپنے رویے میں کتنا منفرد ہوتا ہے۔ جب میں گھر پہنچا تو میری خاتون خانہ حسب معمول میرے انتظار میں سوکھ رہی تھیں ۔ میں لباس وغیرہ تبدیل کر چکا تو وہ میرے لیے چائے لے آئیں ۔ یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ وہ ملاقات کا احوال الف سے ے تک سننا چاہتی ہیں ۔میں نے پوری تفصیل کے ساتھ انہیں سب کچھ سنا ڈالا۔ انہوں نے برملا کہا:اچھی لڑکی ہے اور آپ کی قدر کرتی ہے، مجھے اس سے مل کر خوشی ہو گی۔اب رات خاصی ہو چکی تھی ہم نے بستر سنبھالا اور خود کو نیند کے حوالے کر دیا۔اب ہم آئے دن فون پر بات کرتے۔وہ ایک روشن خیال لڑکی تھی میں اس سے ہر موضوع پر سہولت سے بات کرتا۔وقت کے ساتھ میرے لیے اس کی کشش اور پسندیدگی میں اضافہ ہو رہا تھا۔ہم دوست تھے لیکن شاید اب دوستی کا لفظ اس تعلق کی مناسب ترجمانی کے لیے نا کافی تھا۔اصل میں ہوتا یہ ہے کہ کبھی کبھی ہم کسی سے اس سطح پر تعلق استوار کر لیتے ہیں جہاں صنف کی اہمیت نہیں رہ جاتی بلکہ یہاں تک کہ جیسے دو نفوس آپس میں حلول کر گئے ہوں ۔ ہمارے درمیان کچھ ہے جسے میں پوری معنویت کے ساتھ بیان کرنے سے قاصر ہوں ۔ لیکن یقیناً،  یہ جو کچھ بھی ہے اور چاہے اسے کوئی بھی نام دیا جائے وہ کچھ مختلف سا ہے۔ اس کی پینٹنگز میں جو چیز مجھے حیران کرتی ہے وہ موضوع کا تنوع اور رنگوں کے امتزاج کے علاوہ برش کا ماہرانہ استعمال ہے، کم لکیروں میں پوری بات کہہ دینا بڑی مہارت اور ریاضت چاہتا ہے اور وہ اس پر پوری قدرت رکھتی ہے۔ دھان پان سی یہ نمکین لڑکی اپنے اندر کوئی طلسم رکھتی ہے۔ اسے دور سے دیکھئے تو اس میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے کہ آپ ششدر رہ جائیں ۔ دراصل وہ چنگھاڑتے ہوئی دل کشی کی مالک نہیں ،  اس کی مثال تو اس نظم ایسی ہے جو اپنا حسن اور معنویت دھیرے دھیرے آپ پر منکشف کرتی ہے۔ آپ جیسے جیسے اس سے فاصلہ کم کرتے جاتے ہیں اس کے وصف آپ پر کھلتے جاتے ہیں اور اگر آپ حسن پرکھنے اور سراہنے والی آنکھ سے نوازے گئے ہیں تو آپ یہ دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں کہ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اس کی جاذبیت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ آ پ اپنی یہ کیفیت اس سے پوشیدہ نہیں رکھ سکتے کیوں کہ اس کی آنکھیں پرکشش ہی نہیں بے حد چوکس بھی ہیں ۔ اُس کے لیے کسی کو اس کیفیت میں دیکھنا کوئی بڑے اچنبھے کی بات نہیں ،  کیونکہ ایسے نظارے تو وہ آئے دن دیکھنے کی عادی ہے۔اس کے باریک سے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ کھلتی ہے اور وہ بے نیازی سے آگے بڑھ جاتی ہے۔یہ کسی عام سی لڑکی کا نہیں بلکہ ایک منفرد اور باصلاحیت انسان کا رد عمل ہے جو واقف ہے کہ کس جوتے کو کس پیر میں جگہ دینی چاہیے اور کسے نظر انداز کر کے بے نیازی سے آگے بڑھ جانا چاہیے۔ ایک پینٹر کی حیثیت سے کراچی سے دھلی بلکہ اس سے بھی دور دور تک اس کی دھوم ہے۔ہر ہو ش مندفن کار کی طرح وہ بھی رنگ کاری کے ہوکے میں مبتلا نہیں لیکن جب وہ پینٹ کرتی ہے تو اس کی تخلیق شہر کے چائے خ