کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

مہاتما

ممتاز رفیق


اخاہ منظر صاحب،  آپ کہاں بھول پڑے ؟ میں نے بشاشت سے کہا۔اسے دیکھ کر میں نہال ہو گیا۔اس نے اپنے ناتواں جسم میں سکڑنے کی مزید گنجائش نکال لی تھی جیسے کسی بجوکا کو کپڑے پہنا دئیے گئے ہوں ۔

اس نے چشمے کے عقب سے آنکھیں چمچمائیں : سوچا آج آپ کے ساتھ سرسبز سہ پہر گزاری جائے۔

میں نے ذرا تعجب سے اس کی بات سنی: اس کاٹتی دھوپ میں ؟ٹھیک ہے جیسا آپ چاہیں ۔ وہ گفتگو میں ہمیشہ تکلف سے کام لینے کا عادی تھا لیکن دیگر معاملات میں بے دھڑک واقع ہوا تھا۔

وہ میری بات سن کے مسکرایا: ارے صاحب! ہریالی نہیں تو کیا ہوا، آپ کی باتوں میں وہ مہک ہے کہ شام مہران یاد آ جاتی ہے۔ویسے آپ جا کہاں رہے تھے؟

میں نے عام سے لہجے میں کہا: گونگی دیواروں سے اکتا کر بھاگ نکلا تھا،  سوچا کچھ وقت آوازوں کے ساتھ گزارا جائے۔

منظر نے غور سے مجھے دیکھا: ہوں ،  جب ہی کان میں آلہ سماعت آڑا رکھا ہے تاکہ خوب محظوظ ہو سکیں ۔اس نے گردن اٹھا کے ادھر اُدھر دیکھا: آپ پان وغیرہ نہیں لیں گے۔

میں سمجھ گیا وہ کیا چاہتا ہے۔کیا سگریٹ ختم ہو گئے؟میں نے آہستگی سے پوچھا۔

 اس کے چہرے پر کشادہ مسکراہٹ تھی: جی،  آپ یہی سمجھ ل

آپ نے کھانا تو تناول فرما لیا ناں ؟میں نے جل کر پوچھا۔

جی، فی الحال تو کھا آیا ہوں ، رات کو دیکھا جائے گا۔ ویسے خاتون نے شام کے لیے کیا بنایا ہے؟ اس کے لہجے کی سادگی دیدنی تھی۔ہم نے سگریٹ وغیرہ لیے اور ایک چائے خانے میں آ بیٹھے۔اس نے لڑکے کو طلب کر کے دو دودھ پتّی کا آرڈر دیتے ہوئے میری طرف دیکھ کے پوچھا: آپ بسکٹ کھائیں گے؟

 میں نے تعجب سے سوچا آج یہ مارواڑی دریا دلی پر کیسے اتر آیا: نہیں ، اس تکلف کی کیا ضرورت ہے بس چائے کافی ہے۔

وہ مسکرایا: کسی ہوا میں مت رہیئے گا،  میں مہمان ہی ہوں ، یہ تو بس یونہی مونہہ کا مزا بدلنے کے لیے میزبانی کا فریضہ سنبھال لیا تھا۔وہ بڑی چاہ سے چائے کی طرف متوجہ ہو چکا تھا۔

ہماری دوستی کئی دہائیوں پر محیط ہے لیکن یہ ڈور ایسی بندھی ہے کہ ہر سرد و گرم کو سہارتی چلی آ رہی ہے۔ اب ہماری ملاقاتوں میں وہ پہلا سا تواتر تو نہیں رہا لیکن پھر بھی گاہے گاہے مل لیتے ہیں اور چاہے دو ملاقاتوں کے بیچ کتنا ہی زمانہ بیت جائے ہم جب بھی ملتے ہیں ایسا ہی لگتا ہے جیسے ابھی کل ملاقات ہوئی تھی۔میرا یار بھی عجب باغ و بہار شخصیت کا مالک ہے۔ پریشانیوں کی یلغار کیسی ہی شدید کیوں نہ ہو،  اس نے آج تک چاکری کا ایک پل نہیں گزارا۔وہ آپ اپنا ملازم ہے۔

میں اسی سوچ میں گم تھا کہ اس نے ہنکارہ بھرا: کہاں الجھ گئے جناب؟

میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا :نہیں ،  کچھ نہیں ،  بس کچھ خیال آ گیا تھا۔

 وہ میری آنکھوں میں جھانک کے مسکرایا: ہوں ،  خیر یہ بتایئے کہ کیا چل رہا ہے؟

میں نے تفصیل سے اسے اپنی قلمی کار گزاریوں سے آگاہ کیا-

اچھا تو گویا خوب ڈٹ کے کام ہو رہا ہے لیکن یہ تو فرمائیں آپ ایک زمانے سے قلم گھسے جاتے ہیں اور آپ کی جیب مونہہ بسورے کسی دمڑی کے لمس کے انتظار میں مری جاتی ہے۔کوئی ایسا کام کیوں نہیں کرتے کہ چار پیسوں کا امکان پیدا ہو سکے؟

اس کی بات سن کے میں ہولے سے مسکرایا : آپ نے بالکل درست کہا مگر چلیے آپ نے تو لاکھوں بنا لیے ناں ،  ویسے میرے پاس ان سب چھیدوں کا شمار ہے جو آپ کی جیبوں میں سے ہر دم آپ کا مونہہ چڑاتے رہتے ہیں ۔

اس نے ترنت بات پلٹ دی:اچھا یہ کہیئے آج کل آپ کے ادبی اکھاڑوں کا کیا حال ہے؟

ادب میں تو ان دنوں بس ایک آدمی کا ہی طوطی بول رہا ہے۔میں نے رسانیت سے اس کی بات کا جواب دیا۔

اچھا،  بھلا وہ کون ذات شریف ہیں ۔اس نے اشتیاق سے پوچھا۔

وہی ہمارے مہاتما اور کون؟۔ اس کے چہرے پر سے ایک رنگ سا آ کر گزر گیا۔

مہاتما،  کون مہاتما اور یہ بھی بھلا کوئی نام ہوا۔اس نے یوں کہا جیسے واقعی ان سے واقف نہ ہو۔

صاحب یہ بھی آپ نے خوب کہی، گویا آپ اس قدر معروف شخصیت سے بے خبر ہیں ۔نہیں جناب میں یہ نہیں مان سکتا۔یہ کیسے ممکن ہے کہ جس کی گونج یہاں سے وہاں تک ہو، اس شخص سے اس کے اپنے گھر کا ایک فرد نا واقف ہو۔اور یہ ان کا نام نہیں عرفیت ہے اپنا نام تو شاید اب وہ خود بھلا چکے ہیں ۔وہ جگت مہاتما ہیں ۔

وہ مکاری سے مسکرایا: ہاں ، سنا تو ہے آج کل ہر چھوٹی بڑی مجلس میں ایک صاحب شہ نشین پر متمکن نظر آتے ہیں ۔ ذرا بھاری سا ڈیل ڈول،  چکنا چپڑا بیضوی سا چہرہ اور بڑی بڑی آنکھیں جن کے رنگ صورت حال کی مطابقت سے بدلنے میں کمال رکھتے ہیں اور باریک ہونٹ جن پر ایک من موہنی چمک اٹھتی ہے جب انہیں اپنی کوئی واقف کار خاتون نظر آ جائے مگر یہی ہونٹ آگ بھی برسا سکتے ہیں اور گندم کے نوخیز دانے کی سی کھلتی ہوئی گندمی رنگت اور کاندھے کسی تھکے ہوئے دہقان کی طرح گرے گرے اور کمر پر جیسے ایک گٹھڑی سی بندھی ہو۔ یقیناً کبھی وہ خاصے قبول صورت رہے ہوں گے مگر اب اس عمر میں تو بس وہ آنکھیں متحرک رکھنے پرہی قدرت رکھتے ہیں اور گفتار کے غازی تو خیر وہ ہیں ہی،  مائیک پر آتے ہیں تو اپنے کلام دل پذیر میں جب وہ تازہ کتابوں سے ازبر کیے ہوئے حوالوں کی ہنر مندی سے پیوند کاری کرتے ہیں تو پنڈال میں بیٹھے ان کے اکثر بے خبر سامع واہ واہ کا ایک غل سا مچا دیتے ہیں ۔اس نے رک کر ڈبیہ سے سگریٹ نکالی اور داد طلب نظروں سے مجھے دیکھا۔میں نے اس کے حسب خواہ کہا: جناب،  آپ نے تو اچھی خاصی تصویر کشی کر ڈالی۔ جی،  یہی ہیں ہمارے مہاتما لیکن آپ یہ نہیں جانتے ہوں گے کہ ان کی ایک آنکھ پتھر کی ہے۔

وہ ذرا دکھ سے گویا ہوا: صرف ایک آنکھ؟میرا خیال تھا ان کی دونوں آنکھیں پتھر کی ہیں ۔پھر سنجیدہ ہو کر بولا: اور آپ نے وہ کیا کہا تھا طوطی بول رہا ہے؟ افسوس آپ طوطی اور طوطے کے فرق سے بھی نا بلد ہیں ۔صاحب وہ طوطی نہیں طوطا بولتا ہے۔ اچھا بتائیں کیا آپ نے کبھی کسی ادب پارے کے بارے میں ان کی ذاتی رائے سنی؟میں نے جھٹ سے جواب دیا: کیوں نہیں ابھی حال ہی میں ایک نوخیز شاعرہ کی کتاب پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس میں شاعری کے بڑے امکانات کا تذکرہ کیا تھا۔

اس نے ٹھٹھا لگایا: شاعرہ اور وہ بھی نوخیز،  ارے صاحب،  وہ تو کسی ادھیڑ عمر خاتون تک کی شان میں زمین آسمان کے قلابے ملا سکتے ہیں ۔ اچھا جانے دیں یہ فرمائیں سنا ہے انہیں شاعری سے بھی شغف ہے۔

میں بولا: بھائی صاحب،  ان کی شاعری کی کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں اور ایک تو ابھی حال ہی میں مارکیٹ میں آئی ہے۔

اس نے اثبات میں سر ہلایا : تو آپ کی نظر سے تو یہ کتابیں گزریں ہوں گی؟ چلئے اپنے محبوب کا کوئی معرکۃ الآرا شعر ہی سنا دیجے... پھر رک کر بولا: نہیں ایسا شعر ہما شما کے نصیب میں کہاں ،  ایسا کریں ان کا کوئی اچھا شعر سنا دیں ۔میں بغلیں جھانکنے لگا۔

نفی میں گردن ہلا کر بولا:شعر میرے ذہن سے اتر جاتے ہیں ۔

وہ زہریلے انداز میں مسکرا کر بولا: آپ اپنی شاعری کے بارے میں بھی یہی شکایت کرتے رہے ہیں ۔اصل میں شعر میں کچھ ہو تو وہ یاد رہ جاتا ہے ورنہ...

میں نے چٹخ کے کہا: اب آپ زیادتی فرما رہے ہیں ۔ یوں بھی یہ کیا گھٹیا پن ہے کہ ہم اتنی دیر سے ایک شریف آدمی کے بخیئے ادھیڑے چلے جا رہے ہیں ۔ چلیے جناب ٹہل ہو جائے، ایک جگہ بیٹھے رہنے سے جی اوب چلا ہے۔ہم نے ہوٹل کا بل چکایا اور وہاں سے اٹھ گئے۔ شام کے اتر آنے کے ساتھ ہی موسم خوش

گوار ہو گیا تھا۔ہم آپس میں بک کرتے ہوئے دور تک نکل آئے،  منظر کے پاس دل چسپ قصوں کہانیوں کی کیا کمی،  وہ متواتر کسی خاتون کے اوصاف پر زبان تیز کیے ہوئے تھا۔ راستے میں ایک میڈیکل اسٹور پر نظر پڑی، میں نے سوچا لگے ہاتھوں دوائیں ہی لے لوں ۔ہم نکل ہی رہے تھے کہ میری نگاہ کٹکھنے پر پڑی بے ساختہ میرے منہ سے نکلا: لیجئے،  یک نہ شد دو شد۔منظر نے ادھر اُدھر گردن گھمائی: کون ہے؟

میں نے جواب دیا: کٹکھنا۔میری نظریں اسی پر گڑی ہوئی تھیں ، اس نے ہمیں دیکھ لیا تھا۔

منظر نے تعجب سے پوچھا: کٹکھنا! یہ کون ذات شریف ہیں اور بھلا یہ بھی کوئی نام ہے؟

میں نے کہا :ابھی خود ہی دیکھ لیجئے گا۔وہ والہانہ انداز میں ہماری طرف بڑھا چلا آ رہا تھا- قریب آ کر گرم جوشی سے بولا : یار ابھی کچھ اور مانگ لیتا تو وہ مل جاتا افسوس تم سے ملنے کی آرزو کر لی۔مجھ سے معانقے کے بعد اس کی نظر منظر پر پڑی: مجھے نصر کہتے ہیں ۔آپ کی تعریف؟منظر نے ذرا ڈر کر اس کے بڑھے ہوئے ہاتھ پر نظر کی پھر مرے دل سے مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھایا: منظر ... میں نے بات بیچ سے اچک لی:یار یہ معروف ڈرامہ نگار ہیں تم نے ٹی وی پر ان کے ڈرامے دیکھیں ہوں گے۔نصر نے بے تابی سے ایک بار پھر مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا: ارے انھیں کون نہیں جانتا۔ابھی کل پرسوں ہی کی بات ہے کہ ان کا ڈرامہ چل رہا تھا۔بچّے ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوئے جاتے تھے اور میں ان کی ناسمجھی پر قہقہے لگا رہا تھا۔اس نے بڑھ کے منظر سے گلے ملنا چاہا۔ منظر نے پیچھے کو ہٹتے ہوئے آنکھیں سکوڑ کر اسے دیکھا: صاحب! ہم سے ہاتھ بھر کی دوری پر رہیں ۔سنا ہے آپ کاٹ کھاتے ہیں ۔نصر نے ملامت بھری نظروں سے مجھے دیکھا۔میں نے فورا بات سنبھالی: ارے منظر صاحب یہ تو ان کی عرفیت ہے جیسے ابھی ہم مہاتما پر بات کر رہے تھے۔نصر چمک کر بولا: مہاتما،  اماں تم کس چڑی مار پر وقت ضائع کر رہے تھے۔وہ جو توپ سے چڑیاں شکار کرتا ہے۔منظر بھلا کیوں چوکتے:اور توپ بھی وہ جو از کار رفتہ ہو چکی ہے۔اب اس کی آنکھوں کی پرانی چمک لوٹ آئی تھی۔وہ ذرا سنجیدہ ہو کر گویا ہوا: میں سوچتا ہوں اس تماشاہ گاہ میں جسے ہم آپ دنیا کہتے ہیں ،  لوگ کتنی سہولت سے اپنے کردار بدل کر تماشائی سے تماشا بن جاتے ہیں ۔ اب اپنے مہاتما کو ہی لیجئے انہوں نے خود کو کیسا مذاق بنا لیا ہے۔نصر کی آنکھیں بھی جگ مگ کر رہی تھی، وہ سمجھ گیا تھا کہ آج چٹ پٹی بات ہو گی۔ میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اس موضوع کو کیسے موقوف کروں ۔ یہ دونوں اتنی آسانی سے جان چھوڑنے والے نہیں تھے۔ اچانک منظر کو یاد آیا کہ ہم نے بہت دیر سے چائے نہیں پی ہے۔اس نے نصر کے کاندھے پر بندوق رکھ کے داغ دی: جناب،  نصر صاحب کو چائے تو پلوائے۔نصر اس کی طرف دیکھ کر ملائمت سے مسکرایا: چائے،  واہ کیا خوب صورت بات آپ نے کی، اس بہانے آپ دونوں بھی پی لیجئے گا۔ ہم دوبارہ ہوٹل میں آبیٹھے۔منظر نے چائے کی چسکی کے بعد سگریٹ کا گہرا کش لے کر دھوئیں کے چھلے بناتے ہوئے کہا:صاحب،  وہ شخص تحسین کا مستحق ہے جس نے آپ کے مہاتما پر یہ بلیغ پبھتی کسی، ظالم نے ایک لفظ میں گویا پوری شخصیت کو لپیٹ کے رکھ دیا۔میں نے کھوکھلے لہجے میں کہا: آپ ٹھہرے عیب جو،  اس عرفیت میں بھی آپ نے ایک نئی معنویت ڈھونڈ نکالی۔وہ اس عرفیت کے مستحق ہیں ۔نصر نے کڑوے انداز میں کہا: یار تم بھی جانے کیا اوائی تباہی کہے جاتے ہو۔اس نے کیا تیر مار لیا کہ وہ اس اعزاز کا حق دار کہلائے۔منظر نے بات کا سرا تھامتے ہوئے ٹکڑا لگایا: نہیں ،  انہوں نے درست کہا،  ان کے طوطے نے یہاں تک پہنچنے کے لیے بڑے پاپڑ پیلے ہیں ۔ ایک زمانہ تھا کہ وہ جہاں پنڈال لگا دیکھتے وہاں جا گھستے اور تقریب کی نوعیت چاہے کچھ ہو اپنی دانش ورانہ موشگافیوں کا سلسلہ شروع کر دیتے۔اہل خانہ سمجھتے سوٹٖڈبوٹڈ آدمی ہے ٹھیک ہی کہہ رہا ہو گا اور اگر قسمت سے وہ کوئی ادبی بیٹھک ہوتی تو جانئیے موصوف کی لاٹری نکل آتی۔آخر یہ آئے دن کی محنت رنگ لائی اور انہیں سنجیدہ تقریبات میں مدعو کیا جانے لگا اور پھر چل سوچل۔پھر اچانک مجھ سے مخاطب ہو کے بولا : آپ یہ فرمائیے شاعری تو خیر وہ کرتے ہیں لیکن انہوں نے نثر کے نام پر بھی کچھ لکھا۔میرے بجائے نصر نے تلخی چھلکاتی آواز میں کہا: کیوں نہیں ، شنید ہے کہ ان کے گھر پر ان کے مقالوں کے ڈھیر لگے ہیں ۔میں نے فورا ہانک لگائی: جی،  اور ذرا انہیں شائع ہو لینے دیجئے پھر دیکھیئے ان کی کیسی نوبت بجتی ہے۔نصر کاہے کو چپکا رہتا: نفیری تو خیر اب بھی بج رہی ہے وہ نوبت بھی دیکھ لیں گے۔منظر نے سنجیدگی سے سوال اٹھایا: مگر صاحب اگر وہ ایسے معرکے کی چیز ہے تو اسے دیمک کیوں کھا رہی ہے کوئی پبلشر اسے اچک کیوں نہیں لیتا۔وہ تو ایسی چیزوں کی بو سونگھتے پھرتے ہیں ۔نصرنے بہت تپاک سے کہا: خدا آپ کو خوش رکھے کیسی خدا لگتی بات کہی ہے اور اب تو ان کی مستقل بیٹھک ہی ایک پبلشنگ ہاؤس میں ہے،  مہین خاں یہ معرکۃ الآرا مقالے کیوں نہیں چھاپ دیتے؟منظر سگریٹ کی راکھ جھاڑتے ہوئے بولے: مہین خاں کاہے کو یہ کوڑا کرکٹ چھاپنے لگے، وہ ایک کائیاں انسان ہیں ۔اگر انہوں نے مہاتما کو وہاں بٹھا لیا ہے تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ وہ ان کے دوست ہیں ،  صاحب یہ دو طرفہ مفادات کا معاملہ ہے۔ایک معروف شخصیت کی موجودگی سے اس نازک، متین اور ذہین ادھیڑ عمر کو چھوتا ہوئے تاجر کا دفتر اعتماد حاصل کر لیتا ہے اور ہمارے علامہ،  کہ وہ بہرطور ادب کی ایک نام ور شخصیت ہیں وہاں اس لیے گھات لگائے بیٹھے رہتے ہیں کہ کوئی نصیبوں جلی وہاں کتاب چھپوانے آئے اور ان کے دل کی کلی کھلے۔میرے لیے یہ سب ناقابل برداشت ہوتا جا رہا تھا۔میں برہمی سے بولا:بس جناب بہت ہو چکی اب حد ادب، آپ بلا جواز ایک اعلی مرتبت شخصیت کے بارے میں جو مونہہ میں آ رہا ہے کہے چلے جاتے ہیں ۔ وہ ملک کے معتبر ترین علمی اداروں میں اہم حیثیت میں خدمات سر انجام دیتے رہے ہیں ۔نصر نے ترکی بہ ترکی جواب دیا: اماں کیسا حد ادب،  اگر ایک آدمی خود اپنے چہرے پر کالک پوتنے پر تلا ہوا ہے تو کیا ہم اس کا مرثیہ بھی نہ پڑھیں ۔ آپ کو یاد نہیں ہے وہ واقعہ جب ہم مہین خاں پبلشنگ ہاؤس میں خاں صاحب سے ملاقات کے لیے گئے تو موصوف بھی وہاں موجود تھے،  انہوں نے ہمیں دیکھ کر کیسی بے زاری کا اظہار کیا تھا۔میں حیران ہو کر سوچ ہی رہا تھا کہ انہیں ہماری آمد اتنی شاق کیوں گزری کہ جلد ہی اس کا سبب سامنے آ گیا۔ایک ادھیڑ عمر چلبلی اور ایک نوخیز لڑکی خوشبوئیں برساتی دفتر میں داخل ہوئیں ۔ مہاتما انہیں دیکھ کر مجنونانہ انداز میں اٹھے: ارے واہ آپ،  کب آنا ہوا؟خاتون نے ایک ادا سے ناک سکیڑتے ہوئے ان سے بغل گیر ہو کر کہا: بس کتاب شائع کروانی تھی اسی لیے آئی ہوں ، خوش نصیبی کہ آپ یہاں موجود ہیں ۔ موصوف والدہ سے فارغ ہو کر نو خیز کی طرف متوجہ ہوئے۔ خاتون نے فرمایا : میری بیٹی، پہلی بار پاکستان آئی ہے۔پھر بیٹی سے کہا: بیٹا، انکل سے ملو،  یہ بہت بڑے آدمی ہیں ۔لڑکی بے دھڑک آگے بڑھی۔ مہاتما نے اس کے سر پہ ہاتھ پھیرا جو حسب معمول پھسل گیا پھر اسے سینے سے لگا لیا۔ہم نے دیکھا کہ ان کی آنکھوں میں شیطان برہنہ رقصاں تھا۔میں ان کی صفائی میں تو خیر کیا کہتا ہاں یہ کہہ کر بات سنبھالنے کی کوشش کی:ارے بھئی بشری کم زوریاں کس میں نہیں ہوتیں ؟ ہم آپ کیا پاک پوتر ہیں ۔منظر نے جھٹ کہا: ان سے ہمارا کیا مقابلہ ہمیں شہر میں کون جانتا ہے اور وہ تو عالمی سطح پر معروف آدمی ہیں ۔یہ درست ہے کہ کم زوریاں سب میں ہوتی ہیں مگر وہ جس مرتبے کے آدمی ہے انہیں غیر معمولی احتیاط سے کام لینا چاہئے مگر جسے یہ جرثومہ لگ جائے اس میں سرطان کی سی سرعت سے پھیلتا ہے اور پوری شخصیت کو لپیٹ میں لے لیتا ہے آپ کے علامہ کی مثال ہمارے سامنے ہے۔نصر نے گراہ لگائی :اپنی ان بد اطواریوں سے وہی اکیلے نابود نہیں ہو رہے انہوں نے تمام شاعروں ادیبوں کے بارے میں یہ شکوک پیدا کر دیئے ہیں کہ یہ سب ہی ایسے ہوتے ہوں گے۔ میں سوچ رہا تھا انہوں نے اپنی شخصیت کے تمام رنگوں کو کس بے دردی سے ملیامیٹ کر لیا ہے۔ منظر نے بات بڑھانے کے لیے پوچھا: چلیے ان کا دن تو خیر پبلشنگ ہاؤس میں گزر جاتا ہے اور شام؟نصر ترنت بولا:شام کے اپنے رنگ ہیں اور ان رنگوں کو چوکھا کرنے والیوں کا بھی کوئی کال نہیں ۔ یہ شام ڈھلے مجلس فنون لطیفہ کے ہال میں پہنچ جاتے ہیں اور وہاں اپنی علمیت، آگہی اورمسکراہٹ سے تیار کئے ہوئے پھندے کا جی بھر کے استعمال کرتے ہیں ۔بے خبر خواتین اور لڑکیاں اس پھندے میں پھنس جاتی ہیں ،  جنہیں ان کی ہتھ پھیریاں ناگوار گزرتی ہیں وہ اس پہلی ملاقات کو ہی آخری جانتی ہیں ۔ ہاں لمس چور خواتین سے ان کی بہت دور تک نبھتی ہے۔ منظر حیران سا ہو کر بولا: کیا شہر بھر میں ایسا کوئی نہیں جا ان کج کامیوں پر انہیں روک ٹوک سکے؟نصر فورا بولا: کیوں نہیں موصوف کئی بار چانٹوں سے نوازے جا چکے ہیں ۔ایک بار ایک جدید اور بے دھڑک شاعرہ نے ایک مشاعرہ میں ان کی کسی نا مناسب بات پر انہیں بھرے مشاعرے میں زناٹے دار تھپڑ رسید کیا تھا اور دوسری بار جب وہ ایک مشاعرے کے بعد کسی شاعرہ کو رات گئے اس کے گھر چھوڑنے گئے تو راستے میں انہوں نے جانے کیا حرکت کی کہ گھر پہنچ کر لڑکی نے اپنے والد سے شکایت کر دی اور پھر اللہ دے اور بندہ لے مگر جناب مجال ہے کہ اس سب کے باوجود ان کے رویئے میں بال برابر فرق پڑا ہو۔منظر انھیں ان کی پاتال تک کھوجنے کے موڈ میں تھا: ارے صاحب کیا ان کا کوئی ٹھور ٹھکانہ نہیں ہے کہ یوں بے کار اپنے دن اور راتیں سیاہ کرتے پھرتے ہیں ؟ایسا لگتا تھا کہ جیسے نصر کو مہاتماسے اللہ واسطے کا بیر ہو: جی،  گھر دو دو ہیں ،  نہیں ... اب تو سمجھے بس ایک ہی ہے وہی گھر ہے اور وہی لائبریری...منظر نے بات اچکی: جناب یہ کیا بات ہوئی؟ دو گھر ہیں ،  اب سمجھئے ایک ہی ہے۔وہ دوسرا کیا ہواْ؟میں نے موضوع بدلنے کے لیے کہا: یہ سب اپنی جگہ مگر آپ حضرات اس سے تو انکار نہیں کر سکتے کہ ان کی آنکھوں اور چہرے پر جو سکون ہے وہ کسی کمال کے بے نیاز ہی کو نصیب ہو سکتا ہے۔منظر بھڑک اٹھا: سبحان اللہ،  آپ نے کس خوب صورتی سے بے حسی کو بے نیازی کی پوشاک سے آراستہ کرنے کی کوشش ناکام فرمائی ہے۔ پھروہ نصر سے مخاطب ہوا: ہاں صاحب آپ کیا فرما رہے تھے۔یہ دو گھروں کا کیا قصہ ہے؟نصر جیسے جواب دینے کو تیار بیٹھا تھا: جی اب تو بس ایک ہی گھر ہے پہلے جو گھر تھا اس کا الگ قصہ ہے۔اس گھر میں یہ رہتے کسی مہمان کی طرح تھے لیکن احکام مالکوں کی طرح دیتے تھے۔بیوی بے چاری بچوں کو پالنے کے لیے کالج میں پڑھاتی اور گھر لوٹ کر ان کے لاڈ نخرے اٹھاتی،  اس پر سوا یہ کہ اس پر سو طرح کی پابندیاں کھڑکی میں سے مت جھانکو،  تم نے اس سے بات کیوں کی، وہ کیوں آیا تھا تم کہاں گئی تھیں ۔ اب آپ انصاف کیجئے کہ ایسے سر پھرے اور شکی انسان سے کون نہیں اکتائے گا؟منظر نے بڑے گھمبیر انداز میں کہا: صاحب، آدمی سب کو اپنے آئینے میں دیکھتا ہے۔اپنی شکل بگڑی ہوئی ہے تو اچھی صورت زہر لگتی ہے۔نصر نے اپنی گفتگو کا سلسلہ وہیں سے جوڑا جہاں چھوڑا تھا:اس کے علاوہ گھر میں انہوں نے کتابوں کا اتنا ڈھیر اکٹھا کر لیا تھا کہ گھر والوں کے لیے سانس لینا دوبھر ہو چکا تھا۔مگر ان کی جانے بلا۔وہ اپنی معرکہ آرائیوں میں اس درجے مگن تھے کہ انہیں خیال ہی نہیں آتا تھا۔یوں بھی ان کہ لیے یہ گھر پڑھے ہوئے خط سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا تھا۔جب انہیں خود اپنی سانسیں گھر میں گھٹتی محسوس ہونے لگیں تب انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی کتابوں سمیت ایک الگ گھر میں منتقل ہو جائیں گے۔گھر سے ان کی اس لاتعلقی نے اہل خانہ کو بھی ان سے لاپروا کر دیا تھا۔جب مہاتما خود کو گھر میں اجنبی محسوس کرنے لگے تو آخر وہ دوسرے گھر میں منتقل ہو گئے۔منظر اس طویل گفتگو کو بڑی دل چسپی سے سن رہا تھا بولا: اچھا،  تو اس طرح تو انہوں نے بلا روک ٹوک گل چھڑے اڑانے کی آزادی بھی حاصل کر لی۔اور کتابیں بھی ان کا ایک ہتھیار ہی ہیں ۔ آخر خواتین بھی تو کتابوں کی تلاش میں وہاں آتی ہوں گی؟ سنا ہے ان کے پاس خاصی کم یاب کتب موجود ہیں ... کیوں نا ہوں جب کہ انہیں کتاب جھپٹنے میں بھی کمال حاصل ہے کہتے ہیں انہوں نے آج تک انہوں نے کسی سے کتاب لے کر لوٹائی نہیں ۔ نصر نے منہ سکوڑ کر کہا :ارے جناب و ہ شخص کتابوں کے سلسلے میں بے حد لیچڑ واقع ہوا ہے مجال ہے آپ اس کی کسی کتاب کو چھو بھی لیں ۔ حد تو یہ ہے کہ وہ اپنی کتاب کی فوٹو کاپی کروانے تک کی اجازت دینے کا روادار نہیں ہے۔اب میرے لیے ایک موقع تھا کہ میں مہاتما کے حق میں کچھ کہہ سکوں :آپ نے ٹھیک کہا یہ حقیقت ہے کہ انہیں اپنی کتابیں بہت عزیز ہیں ۔ انہوں نے اپنی زندگی کا چوتھائی حصہ یہ کتابیں اکٹھی کرنے کے لیے فٹ پاتھوں پر مٹر گشت کرتے ہوئے ٹھیلوں اور تھڑوں پر کارآمد کتابیں اکٹھی کرنے میں گزارا ہے۔بعض افراد گھر میں کتابیں ڈھیر کر کے آسودہ ہو جاتے ہیں لیکن مہاتما جب تک اپنی خریدی ہوئی کتاب کا ایک ایک لفظ چوس نہ لیں انہیں لگتا ہے کہ ان کی محنت اور رقم ضائع چلی گئی۔اب آپ فرمائیں اگر وہ ان کتابوں کی حفاظت نہ کریں تو کیا کریں ۔منظر نے چمک کر کہا : اب حفاظت کا مطلب یہ بھی نہ ہوا کہ آپ ان پر سانپ بن کر بیٹھ جائیں اور اگر یہ کتب انہیں اتنی ہی پیاری ہیں تو وہ خواتین کو یہ کتابیں اتنی فراغ دلی سے کیسے سونپ دیتے ہیں ؟ نصر کاہے کو خاموش رہتے: ارے جناب اُن کو بھلا کون سمجھا سکتا ہے۔ کئی بار ان کے کتب خانے میں آگ لگ چکی ہے مگر وہ کسی اشارے کو سمجھیں ناں ،  اور خواتین کو کتابوں کی بھی آپ نے اچھی کہی،  ان کو تو وہ اپنی زندگی دان کر چکے ہیں کتابیں کیا ہیں ۔ مگر حیرت ہے وہ اتنے پڑھے لکھے ہونے کے باوجود عورت کو اتنے محدود معنوں میں لیتے ہیں ۔منظر نے بات اچکی اور مجھ سے مخاطب ہوا:خیر یہ جانے دیجے۔آپ نے فرمایا وہ کتاب کا مطالعہ بھی کرتے ہیں تو صاحب علم تو انسان کو بے نیاز کر دیتا ہے اور آپ کے مہاتما تو اپنے معاملات میں بے حد چوکس آدمی ہیں ۔سوال یہ ہے کہ ان تک پہنچ کر ہر کلیہ الٹ کیوں جاتا ہے؟وہ جتنا علم حاصل کرتے جاتے ہیں اسی قدر اپنے مفادات کے سلسلے میں ان کی چوکسی مہمیز ہو ئی جاتی ہے۔نصر نے ایک نیا نکتہ پیش کر دیا: یہ تو طے ہو چکا کہ موصوف ایک بے حس آدمی ہیں اور یہ بھی یقینی ہے کہ ایسے انسان کا سفاک ہونا ایک فطری امر ہے۔وہ جس سے اکھڑ جائیں اسے ہر اکھاڑے میں چت کرنے کے جتن کرتے ہیں ۔منظر نے خود  کلامی کے انداز میں گراہ لگائی: ارے صاحب!یہ دنیا ہے،  یہاں ہر شخص نوٹنکی کھیل رہا ہے۔ غالب نے کہا تھا ناں : ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ۔ اگر کسی کی کھال موٹی ہو تو علم کو کیا دوش کہ وہ ان کا کچھ بنا بگاڑ نہیں سکا۔میں نے اپنی کوشش جاری رکھتے ہوئے کہا: آپ صاحبان جو چاہے کہتے رہیں ،  حقیقت یہ ہے کہ ان کے علم کا اعتراف بین الاقوامی سطح پر کیا جاتا ہے وہ کتنے ہی ممالک میں لیکچرز کے لیے ایک اسکالر کی حیثیت سے مدعو کیے جاتے رہے ہیں ۔جانے آپ دونوں نے ان کے خلاف کمر کیوں کس رکھی ہے ورنہ وہ اپنے قدردانوں کا ایک وسیع حلقہ رکھتے ہیں ۔منظر نے بات پھر پیچھے کی طرف لوٹائی اور نصر سے مخاطب ہوا: وہ آپ کیا کہہ رہے تھے ان کی بیگم کام کرتی تھیں ۔ کیوں کیا یہ گھر چلانے کے لیے کچھ نہیں دیتے تھے۔ پھر مجھ سے مخاطب ہوا: آپ کہہ رہے تھے وہ بڑے علمی اداروں میں اہم عہدوں پر کام کرتے رہے ہیں ۔نصر نے ہونٹ سکوڑے : جو آدمی کسی سے قرص لے کر لوٹانے کا عادی نہ ہو وہ بھلا گھر میں کیا خاک کچھ دے گا۔ارے جناب ان کے جو لچھن ہیں ان کے لیے تو لاکھوں بھی نا کافی ہیں ۔منظر نے بال سنوارتے ہوئے کہا: آپ نے درست فرمایا یہ زیادہ پرانی بات نہیں جب ابھی پندرہ سال قبل وہ ادب کے ایک نہایت سنجیدہ اور باخبر قاری خیال کئے جاتے تھے۔یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ عالمی سطح پر شروع ہونے والی کسی ادبی تحریک یا اہم کتاب سے لاعلم ہوں ۔ یہ وہ دور تھا جب ادب کو ایک سنجیدہ سرگرمی کے طور پر لیا جاتا تھا۔اور آپ کے مہاتما گلے گلے ادب پڑھنے، اس پر مکالمہ کرنے اور نئی کتابوں کے تجزیوں اور تبصروں میں ڈوبے رہتے تھے لیکن حیف وہی آدمی ایک مختصر سی مدت میں کیا سے کیا ہو گیا۔ ہم ان کے خلاف نہیں ہیں ہمیں دکھ یہ ہے کہ اس قحط الرجال میں ایک ہی آدمی رہ گیا تھا،  وہ بھی زن خیز ہو کر کسی کام کا نہیں رہا۔اس نے اپنی بات ختم کر کے گھڑی پر نظر ڈالی اور مجھ سے مخاطب ہوا: کیوں صاحب کیا ہمیں اسی قصے میں نمٹانے کا ارادہ ہے؟ کچھ کرم کیجئے آنتیں قل ہواللہ کا ورد شروع کر چکی ہیں ۔نصر نے اجازت چاہی اور ہم اپنے ٹھور ٹھکانے کی طرف روانہ ہو گئے۔