کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

یہ کہانی نہیں ہے

ممتاز رفیق


میں ہمیشہ سے مزاجاً ایک جدا آدمی تھا۔ایسے لوگ کنبے میں مشکل سے کھب پاتے ہیں ۔باپ نے بیٹے کو بے جوڑ دیکھا تو جائیداد میں سے اس کا حصہ دے کر جیسے ناتا ہی توڑ لیا۔اُس کے لیے جو ہجوم میں تنہائی کا حلیف رہنے کا عادی ہو۔اسے تو اس واقعے سے اپنے ڈھنگ سے زندگی کرنے کی چھوٹ مل گئی۔ مالی آسودگی تو معمولی نین نقش   کو سنوار دیتی ہے میں تو ایک وجیہہ انسان تھا۔ ترکے میں حاصل ہونے والے گھر میں کتابوں سے بڑھ کےوقیع کوئی چیز نہ تھی۔علم کے جویا کے لیے کوئی اور چیز اہم بھی کب ہوتی ہے۔ میں کتابوں ، اپنی تخلیقی مصروفیات اور ادب اور آرٹ کی تقریبات میں مگن رہا کرتا۔ اب وہ دن کہاں ،  جب میں ہر شام کسی ادبی تقریب یا تصاویر کی نمائش میں موجود اپنے وجود کو ایک معنویت دینے میں مشغول رہا کرتا تھا۔ میں تو یوں ہی سا الگ تھلگ رہنے والا آدمی ہوں ، کوئی ساتھی سنگتی نظر میں چڑھا نہیں جس سے تعلق کی ڈور باندھی جا سکتی یا شاید یہ کہنا زیادہ درست ہو گا کہ کتابوں نے میرا ناس مار دیا۔اب ایسا کہاں سے آئے جو میری سطح پر آ  کر  مجھے ہم کلامی سے سرفراز کرے اور میں ہوں کہ اپنی جگہ سے ایک سیڑھی اترنے کو آمادہ نہیں ۔ نتیجہ؟ ہرسُو بکھری ہوئی یہ تنہائی ہے۔ ایک لا ابالی اور بے پروا آدمی جو ہر دم مست الست رہا کرتا ہے۔میرے پاس بھی ایک داستان ہے میری دیوانہ وار وابستگی کا قصہ،  جو میری زندگی کا جواز بھی تھا اور خوشی کا ایک بہانہ بھی۔میری چاہت،  جس کی توقع سے سوا پذیرائی کی گئی۔وہ عجب حیران کن حد تک تیز گام عورت تھی جیسے شعلے کی لپک اور پھر اس کی معاملہ فہمی،  وہ میرے خفیف سے اشارے کو پوری معنویت کے ساتھ سمجھنے کی اہلیت رکھنے کے علاوہ میرے جذبات سے پوری جزئیات کے ساتھ واقف تھی اور یقیناً میرے حوالے سے ایک خاص انداز سے سوچتی تھی۔ اس کی والہانہ پذیرائی نے میرے رات دن تلپٹ کر کے رکھ دیئے تھے لیکن یہ جلتی بجھتی آگ کا ماجرا تھا، مگر یہ سب بہت بعد کی باتیں ہیں ...لیکن پھر ہوا کیا؟۔ میں مرد پر عورت کی ذہنی برتری کا ہمیشہ سے قائل رہا ہوں شایداس طرح بات الجھ رہی ہے،  بیان میں آنے کے بعد ممکن ہے آپ سمجھ لیں کہ میرے راستے کی دیوار کیا تھی۔شاید اس کی دیوانگی حد سے سوا تھی جسے میں سہار نہ سکا ...یا جانے کیا تھا۔ اس ان کہی کو سو معنی پہنائے جا سکتے ہیں ۔

وہ ایک غیر معمولی عورت ہے۔ اُس نے تمام عمر اپنے انتخاب کی شرط پر سرخ جوڑا زیب تن کرنے سے اعتراض کیا۔ وہ ہمیشہ سے اپنے فیصلے خود کرنے کی عادی رہی ہے اور اس چلن کو اس کی اعلی تعلیم اور بڑے عہدے نے اور بڑھاوا دیا۔جب اس سے میری ملاقات ہوئی وہ ایک ملٹی نیشنل ادارے میں کنٹری ہیڈ کے عہدے پر فائز تھی۔ اس منفعت بخش ملازمت نے معاشی لحاظ سے اسے خاصا مستحکم کر دیا تھا۔ اپنی ملازمت کی سنگین مصروفیات کے باوجود وہ ہمیشہ فنون لطیفہ سے جڑی رہی اور اس کی یہی سرگرمی میرے اور اس کے تعلق کی بنیاد ٹھہری۔ میں اکثر اسے ادبی محافل میں گفتگو کرتے سماعت کیا کرتا اور دل ہی دل میں اس کے شخصی توازن، متانت، نفاست،  وقار اور گہرے مطالعے کو سراہا کرتا جو دوران کلام اس کی باتوں سے چھلکتا تھا۔ پھر میرے علم میں آیا کہ اس کی کہانیوں کی کتاب شائع ہو چکی ہے۔کہانیوں کے کردار اور موضوعات مجھے بہت الگ سے لگے غیر روایتی اور انوکھے، ان کہانیوں کی بنت اور لکھت بھی منفرد تھی۔ کہانیاں قاری کو اپنے اندر جذب کر لینے کا وصف رکھتی تھیں ، لیکن بعض مواقع پر مجھے اس کے تجربے کی کم مائیگی کا احساس ہوا۔ اس کے خیال کی گیرائی اور جملوں کی بے ساختگی نے بہت لطف دیا۔ یہ دیکھ کر بہت اچھا لگا کہ وہ عورت جو زندگی میں خود کو (ہم )کہنے کی عادی ہے۔جب کہانی لکھتی ہے تو کہانی کے کردار میں ڈھل کراُس کی زبان میں بات کرتی ہے۔ میں کئی ماہ سے اسے دیکھ رہا تھا اور آدمی کو جاننے کے لیے توایسی دوچار ملاقاتیں بھی بہت ہوتی ہیں ۔سُو میں کہہ سکتا ہوں کہ میں اس سے واقف ہوں حالانکہ اسے تو خبر تک نہیں تھی کہ وہ کسی کے ملاحظے میں ہے۔شاید یہ ممکن بھی نہیں تھا، ہر شام ایک ہجوم میں گھرا انسان کس کس پر نظر رکھ سکتا ہے لیکن مجھے مغالطہ سا تھا کہ وہ مجھے دیکھا کرتی ہے،  مگر اسے دیکھنا کہنا نا مناسب ہو گا۔ہاں ،  وہ ایک اچٹتی نظر ہوتی جو لحظے بھرکو مجھ پر ٹک کر گزر جایا کرتی۔میں اتفاقات کا سرے سے قائل نہیں ہوں ۔اُس دن کی ملاقات کو بھی میں اتفاق نہیں سمجھتا۔ سُو ہوا یوں کہ مجھے مصوری کی نمائش میں مدعو کیا گیا۔یہ دعوت مجھے میرے نوجوان مصور دوست الطاف نے دی تھی۔

میں پہنچ گیا اور اس کی ایک پینٹنگ دیکھنے میں محو تھا کہ عقب سے ایک مانوس سی آ واز سنائی دی: ہاؤ بیوٹی فل۔ میں نے پہلو بدل کر دیکھا یہ وہی تھی: کیوں جناب امپریشن ازم کا کیا کمال شاہ کار ہے۔ اس کی بے تکلفی پر میں حیران سا رہ گیا۔اثبات میں سر ہلاتے ہوئے میں نے پینٹنگ کی کلر اسکیم،  ڈیٹیلز اور پینٹر کے اسٹروکس کی مہارت اور موضوع کی ندرت پر اچھا خاصا لیکچر دے ڈالا۔

وہ بہت سنجیدگی سے میری بات سنتی رہی پھر مسکرا کر کہا: واہ صاحب آپ تو خاصے جان کار ہیں ہمیں آپ کی گفتگو کے ڈھنگ نے بہت مزا دیا۔ آپ یقیناً آرٹ کریٹک نہیں ہیں ۔

میں نے تعجب سے پوچھا: آ پ نے یہ نتیجہ کیسے اخذ کیا؟۔

اس نے ہلکا سا قہقہہ لگایا: آپ نے پوری گفتگو میں کسی ماسٹر پینٹر کا حوالہ نہیں دیا۔ خالص اپنے خیالات بیان کیے اور جیسے تخلیقی انداز میں بات کی وہ ان غریبوں کے نصیب میں کہاں ۔ ان کا تو ایک بنا بنایا سانچا ہے اور بس۔ پھر ذرا ٹھہر کر بولی: آپ شاید رائیٹر ہیں ۔

اس سے قبل کہ میں کچھ کہتا۔ میرا آرٹسٹ دوست لپکتا ہوا آیا اور مجھے ایک مسکراہٹ پر ٹرخاتا ہوا اس سے لہلہاتے انداز میں مخاطب ہوا: میڈم! یہ میری بڑی خوش نصیبی ہے کہ آ پ میر ی دعوت پر ایگزی بیشن میں تشریف لائیں ۔

اس نے نفی میں سر ہلا کر میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:آپ کی اصل خوش نصیبی یہ ہے کہ یہاں مصوری کے ایسے پارکھ موجود ہیں ۔

میرے دوست نے تعجب سے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا: شہزاد صاحب؟ پھر مجھ سے مخاطب ہوا : آپ میڈم سے واقف ہیں ؟ یہ ملک کی سب سے اہم آرٹ کریٹک ہیں ۔

میں یہ سن کر سناٹے میں آ گیا لیکن خود کو سنبھالتے ہوئے بولا: میں انہیں کہانی کار کی حیثیت سے جانتا ہوں ۔پھر اُس سے مخاطب ہو کر بولا:میں واقف نہیں تھا ورنہ ...

اُس نے خوش دلی سے قہقہہ لگایا: جناب آپ نے بہت قیمتی باتیں کیں ۔ ہم کریٹک تو بس حوالے اور رٹا ہوا سبق دھراتے ہیں ۔

میرا دوست لجاجت سے بولا: میڈم! آپ کی اپنی الگ انفرادیت ہے۔

الطاف کا جملہ نظرانداز کر کے اس نے مجھے اپنا کارڈ تھماتے ہوئے پینٹر کو مخاطب کیا: الطاف! آپ اپنے مہمانوں کو دیکھیں ،  ہم شہزاد صاحب کے ساتھ آپ کے فن پاروں سے لطف اندوز ہوتے ہیں ۔الطاف آنکھوں میں حیرت سرمہ کیے وہاں سے ٹل گیا۔وہ مجھ سے مخاطب ہوئی: تعجب ہے ایک تخلیقی انسان بھی اتنا غبی ہو سکتا ہے۔

میں نے کھلکھلا کر کہا: یہ بہت سخت جملہ ہے جناب اور حقیقت یہ نہیں ہے۔ الطاف، خاصا روشن ذہن ہے۔وہ تو کہیے شخصیت کے سحر نے اس کی مت ماردی۔

لیکن اتنے باصلاحیت پینٹر میں یہ کم زوری بھلی نہیں لگتی، اسے تو اپنے فن پر پورا بھروسہ ہونا چاہیئے۔ میں اُس میں ایک بڑے آرٹسٹ کی جھلک دیکھ رہی ہوں ۔ایک بڑے فنکار کو ہر جادو کا توڑ معلوم ہونا چاہیئے۔ہوں ...

درست کہا، اگر اس وقت وہ یہاں ہوتا تو کیسا شاد ہوتا لیکن یہ بھی تو ایک کجی ہی ہے ناں ۔ ایک تخلیقی آدمی کے لیے تعریف سے زیادہ مہلک چیز اور کیا ہو سکتی ہے؟۔

یہ تو آپ نے عجب کہا۔ہمارے ہاں فن کار کو ملتا ہی کیا ہے کہ اب اسے تعریف سے بھی محروم کر دیا جائے ...

نہیں ،  میں نے یہ نہیں کہا۔ میں یہ کہہ رہا ہوں کہ تعریف تو ایک کسوٹی ہوتی ہے۔اگر تعریف کرنے والے میں کھرا کھوٹا جانچنے کی صلاحیت نہ ہو تو تعریف قبول نہیں کرنی چاہیئے ورنہ وہ کیلے کے چھلکے کی طرح قدم اکھاڑنے میں دیر نہیں لگاتی۔

اس نے اثبات میں سر ہلا یا:جی اس بات سے ہم متفق ہیں بلکہ سمجھتے ہیں کہ آپ نے ایک اہم نکتہ بیان کیا۔پھر بولی: آئیں پینتنگز دیکھتے ہیں ۔ الطاف نے واقعی زبردست کام کیا تھا۔وہ مختلف تصاویر پر میرے تبصروں اور ان کی تفہیم سے بہت متاثر نظر آ رہی تھی:آپ واقعی کمال کی نظر رکھتے ہیں اور کتنے مختلف اینگل سے پینٹنگ کو کھوجتے ہیں ۔ اس نے تحسین سے لبریز لہجے میں کہاپھر بولی:شہزاد صاحب ملاقات جاری رہنی چاہیئے اور ہاں آپ کا کنٹریکٹ نمبر؟۔ اب ہم گیلری میں بچھے صوفے پر آ بیٹھے تھے جہاں میز پر چائے وغیرہ کا بھی اہتمام تھا۔ وہاں کتنے ہی لوگوں نے اسے ہلو ہائے کہا لیکن اس کی متانت نے انہیں ہم سے دور ہی رکھا۔اس نے اچانک الطاف کی بنائی ہوئی نیوڈز پر بات شروع کر دی۔وہ ان پینٹنگز کے دائروں اور قوس کے علاوہ دیگر تفصیلات کی تحسین کرتی رہی پھر بولی : یہ آسان نہیں کہ پینٹر نیوڈ تخلیق کرتے ہوئے خود پر گرفت رکھے اور اپنی پوری توجہ اور مشاقی اپنے فن پارے کے لیے مختص کر دے۔اس کے بعد میں نے ادب پر مصوری کی مختلف تحاریک کے اثرات کا ذکر چھیڑ دیا۔وہ جس روانی سے بات کر رہی تھی اس سے مجھے اندازہ ہوا کہ وہ فن مصوری کا گہرا شعور رکھتی ہے۔ میں یہ سوچ کر بھی خوش تھا کہ اب ایک ہمہ صفت،  با خبر عورت میرے دوستوں میں شامل ہو چکی ہے۔الطاف اسے اس بے تکلفی سے گفتگو کرتے دیکھ کر عجب ہونق ہو رہا تھا۔ مجھے اس کی حیرانی کا سبب معلوم تھا۔وہ واقعی بہت لیے دیے رہنے والی بردبار عورت تھی۔مجھے خیال آیا یہ مجھ پر اتنی مہربان کیوں ہے؟۔

چائے کاسپ لے کر میں نے سوال کیا:آپ نے پینٹر بننے کے بجائے کریٹک بننے کو کیوں ترجیح دی؟

وہ خواب ناک لہجے میں بڑبڑائی:پینٹر؟ جی پینٹر تو ہم رہ چکے ہیں لیکن کوئی مکمل پینٹنگ نہیں بنا سکے بالکل اپنی کہانیوں کی طرح۔اس نے مسکرا کر بات ختم کی پھر اچانک بولی:ہماری کہانیوں کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟

میں نے ذرا سے توقف کے بعد سنجیدہ آواز میں کہا: وہ کہانیاں ، ایک میچور تخلیق کار کے فن پارے ہیں ۔ میں ان پر اس رواروی سے بات نہیں کرنا چاہتا۔پھر اس کی جگ مگ آنکھوں میں آنکھیں گاڑ کر بولا: آپ کہانی بننے کا ہنر خوب جانتی ہیں ۔ مجھے ان کہانیوں کے موضوعات کا انوکھا پن بہت بھایا اور آپ جس طرح اچانک،  کسی منطقی انجام کے بغیر کہانی ختم کر دیتی ہیں ۔ اس سے مجھے لگا جیسے آپ مغربی کہانی کاروں سے خاصی متاثر ہیں لیکن آپ کے کرداروں کے رویے میں جو تیکھا پن ہے اس نے مجھے افریقا کے کلاسکی ادیبوں کے انداز تحریر کی یاد دلائی۔

اس نے توجہ سے میری بات سن کر ایک گہرا ہنکارہ بھرا پھر سنجیدگی سے گویا ہوئی: جناب آپ اب تک کہاں تھے؟پھر خود کلامی کے انداز میں دھیمے لہجے میں کہا: نہیں ،  ہم نے غلط کہا آپ تو موجود تھے لیکن بس ہماری نظر ہی چوکتی رہی۔پھر بے تکلفی سے بولی: یہ آپ اتنے الگ تھلگ کیوں رہتے ہیں ۔ہم نے آپ کے ساتھ کبھی کسی کو نہیں دیکھا۔

میں ذرا حیرت سے مسکرایا: ارے آپ تو بہت تیز نظر ہیں ،  اجنبیوں کو بھی گہرے مشاہدے میں رکھتی ہیں ۔

اس نے قہقہہ لگایا : اجنبی! نہیں آپ اجنبی تو کبھی بھی نہیں تھے اور میں سب کو نظر کی سان پر نہیں رکھتی مگر آپ تو ایک الگ آدمی ہیں ۔ اپنے آپ میں گم لیکن ہر جانب سے باخبر اور متجسس۔اس نے بات مکمل کر کے مجھے گہری نظروں سے دیکھا۔

میں نے ہلکی سی تالی بجائی اور ہنستے ہوئے بولا:تعجب ہے آپ اچٹتی نظر سے بھی اتنی گہرائی تک دیکھ لیتی ہیں ۔ آپ نے مجھے پاتال سے نکال کر سر عام لا کھڑا کیا ہے... مجھے زعم تھا کہ یہ فن بس میں ہی جانتا ہوں ۔ ہاں ، آپ نے سچ کہا میں ایسا ہی ہوں ۔

وہ شرارت سے مسکائی : میں جانتی ہوں کہ اگر انسان کو ہم زاد میسر نہ آئے تو وہ اپنی تنہائی کو ترجیح دیتا ہے۔ پھر عجیب لہجے میں بڑبڑائی : دیکھیں آج ہم نے ایک دوسرے کی تنہائی لوٹ لی۔پھر گھڑی پر نظر ڈالتے ہوئے بناوٹی خفگی سے بولی: صاحب !آپ کوئی اسم جانتے ہیں ؟ وہاں میرا گھر ٹھنڈار پڑا ہو گا اور آ پ نے مجھے یہاں پتھر کیے بٹھا رکھا ہے۔میں مسکرا کر اٹھتے ہوئے بولا: یہ خود کلامی بھی عجب چیز ہے وقت کا احساس ہی جاتا رہتا ہے۔

وہ چلتے چلتے ٹھٹک کر بولی:بھئی واہ، یہ تو آپ نے عجب ہشت پہلو بات کہی۔واقعی ایک عالم مدہوشی میں یہ بہت سا وقت گزر گیا۔پھر نخرے سے کہا: اب اس لطف کو کرکرا مت کر دیجے گا۔ ہم میں انتظار کا یارا ذرا کم کم ہے اور جس سے ملاقات کی للک بھی ہو تو جانیے ...اس نے بات ادھوری چھوڑ دی۔ہم نے مہمانوں کی کتاب پر دست خط کیے الطاف کو الوداع کہا اور باہر نکل آئے۔اسے کار کا دروازہ کھولتے دیکھ کر میں نے مضبوط لہجے میں کہا:ہم جلد دوبارہ ملیں گے۔اس نے کار اسٹارٹ کر کے پوچھا : اب آپ کا پروگرام کیا ہے؟

میرے لیے اب یہاں کیا دھرا ہے۔ بس میں بھی چلا۔اس کے باریک ہونٹوں پر تبسم کی لکیر چمکی: اوکے سو لانگ اور وہ یہ جا وہ جا۔میں اس کے بعد بھی کافی دیر وہاں کھڑا سوچتا رہا کہ اچانک اتنی فراوانی سے نصیب ہو جانے والی اس مسرت کو سنبھال بھی سکوں گا ؟گھر پہنچ کر بھی ذہن کے پردے پر ایک رنگین فلم چلتی رہی پھر خیال آیا کہ میرے یہ احساسات کچھ زیادہ امیچور تو نہیں لیکن یہ سوچ کر کچھ تسلی ہوئی کہ یہ محض دوستی ہی تو ہے اور اگر کچھ اور بھی ہے تو میں کب تعلق کی بنیادکسی جھوٹ پر رکھ رہا ہوں ۔ یوں بھی یہ ڈور تو اسی نے باندھی ہے اب اگر میں گرہ لگانا چاہتا ہوں تو اس میں ایساناروا کیا ہے؟ اسی دنگل میں کافی رات بہہ گئی۔کروٹیں بدلتے جانے کب نیند نے بے دھیان کر دیا۔ ابھی ناشتے وغیرہ سے فارغ ہی ہوا تھا کہ موبائل ٹرٹرانے لگا۔ میں نے گھڑی پر نظر ڈالی ایک بجا تھا۔ موبائل پر اجنبی نمبر دیکھ کر میں نے کال ڈس کنکٹ کر دی۔ پھر خیال آیا کہ جانے کو ن ہو؟ شاید کسی اہم بات کے لیے کال کی گئی ہو یہی سوچ رہا تھا کہ موبائل دوبارہ بجنے لگا۔ ہیلو! کون؟

جناب آپ کی صبح ہو گئی کئی بار فون کر چکی ہوں ۔آواز میں دبی دبی سے خفگی تھی۔

اوہ! ساری میں دیر سے اٹھا... اس نے بات اچک کر شوخی سے پوچھا: اچھا،  تو آپ بھی رات گئے تک جاگتے رہے،  خوب۔جی یہ تو درست ہے لیکن اس خوب کو کیا معنی دیے جائیں ؟اور ہاں آپ آفس نہیں گئیں ؟وہ کھلکھلائی:ظاہر ہے انسان سائے سے بچھڑ جائے تو کہاں کی نیند ؟۔ رہا آفس تو بس یوں ہی چھٹیاں لے لی تھیں کسے معلوم تھا یہ اتنی بار آور ثابت ہوں گی۔وہ ایسی بے تکلفی سے کلام کر رہی تھی جیسے ہم برسوں کے آشنا ہوں : میں کچھ سمجھا نہیں ۔ میں نے سادہ سے لہجے میں کہا۔جی میں بھی الجھتی رہی کہ ٹرنکلائزر لینے کے باوجود نیند کو کیا ہوا؟ پھر آپ کا ایک فقرہ یاد آیا کہ یہ خود کلامی بھی عجیب چیز ہے وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوتا تب جا کر نیند کے بد راہ ہو نے کا بھید کھلا۔کروٹیں لیتے اور جاگتے خواب دیکھتے رات بیت گئی۔پھر بولی: کیا ہم سب باتیں فون ہی پر کر لیں گے؟ پھر عجب لگاوٹ سے کہا: اب آ جائیں ناں ۔میں نے وعدہ کیا کہ چینج کر کے پہنچتا ہوں ۔یا الہی! یہ سب کس تیزی سے ہو رہا ہے۔ ابھی کل ہی تو ہماری ملاقات ہوئی ہے اور وہ .. مجھے اس کی کیفیت دیکھ کر صحرا میں بھٹکے ہوئے اس پیاسے آدمی کی بے تابی یاد آئی جسے نخلستان میں اچانک میٹھے پانی کا چشمہ میسر آ گیا ہو۔میں مسکرایا اور باتھ روم میں جا گھسا۔دروازے پر پہلی دستک ہی نے کھل جا سم سم کا کام کیا۔اس کی موٹی موٹی آنکھوں میں رات کی جگار واضح تھی۔ چہرہ میک اپ سے عاری لیکن اس کی شادابی دیدنی تھی، اس نے لباس میں بھی کسی تکلف کا خیال نہیں رکھا تھا۔ یہ سب اس عورت کے اوریجنل ہونے کے اشارے تھے۔ اس نے مجھ پر نظر گزاری،  مسکرائی اور کہا: خاصے اسمارٹ لگ رہے ہیں ۔اس نوکیلے جملے کی چبھن کو سہتا ہوا میں صوفے پر بیٹھ کر بولا:جی! تہوار کے دن اپنا آپ سنوارنا ہماری پرانی رو