کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

خواب کا دیا

ڈاکٹر نگہت نسیم


زندگی نہ تو دو رُخی تھی اور نہ ہی دوغلی۔ اس کو کچھ میں نے ہی ایسا سمجھ لیا تھا۔ حالانکہ سب کچھ میرے اندر تھا اور پھر ہونے والے سارے واقعات میرے باہر ہو رہے تھے۔ سمجھ دار انسان تو وہی ہوتے ہیں جو اندر باہر کے سارے پریشر میں ایڈجسٹ ہوتے جاتے ہیں شاید پڑھے لکھے لوگ اِسے ADAPTATIONکہیں مگر اس دنیا میں مجھ جیسی ہزاروں بے وقوف لڑکیاں ہوں گی جن کی سمجھ بُوجھ ایسے وقت میں انڈر پریشر ہو کر کُکر کی طرح سٹی بجانے لگتی ہے ، گویا اپنا آپ اُبلنے اور پھر پھٹ پڑنے کا الارم خود ہی بجا دے۔ غلطی کہاں تھی، آج ہی مجھے فیصلہ کرنا تھا۔ آج ایسی لڑکی کو اسپیشل بننا تھا یا پھر ADAPTATIONکے آخری ہُنر کی آزمائش تھی۔ آخر کچھ تو کرنا ہے ، بہلنے کے لیے ، سمجھنے کے لیے اور کئی غلطیوں کو کبھی نہ دہرانے کے لیے۔

          ’’ زندگی کو کبھی ۲۰گز اور ۱۲۰گز زمین کے اندر نہیں گھومنا چاہیے۔ بھلا یہ بھی کوئی زندگی ہے۔ ہر خواہش کا سفر انگریزی کا SUFFER بن جا تا ہے۔‘‘ نیلم کی بڑبڑاہٹ بجلی کے جانے سے مزید بڑھ جاتی تھی، حالانکہ وہ بے حد خوش اخلاق اور قناعت پسند لڑکی تھی۔ اُسے یوں ہی اُلجھنے کی عادت نہ تھی۔ جو کچھ بھی ہوتا، ٹیبل پر ہوتا۔ اور یوں دلوں میں کبھی گرہ نہ پڑتی تھی۔ یہ دانشمندی میں نے اُس سے سیکھی تھی۔ وہ میری بڑی بہن تھی۔ اور کبھی کبھی امی جی چپکے سے اُس میں اُتر آتی تھیں۔ تب میں اُس سے ڈر جایا کرتی تھی۔ میں کیا بابر بھی اطاعت میں سر جھُکا لیا کرتا تھا۔ ابا جی کی غیر ضروری حمایت بھی اُنہیں حاصل تھی۔ یہ بات مجھے بہت دیر بعد پتہ چلی کہ وہ اُن اسپیشل لڑکیوں میں سے ایک تھیں جن کی سمجھ عمر کی قید سے آزاد ہوتی ہے۔ بردباری اور تحمل اُن کے لیے خاص تحفہ ہوتا ہے۔ خفا ہونا اُنہوں نے سیکھا ہی نہ تھا۔ مزاج کی نرمی اور سلوک کا حسن اُن پر ختم تھا۔ میں ، پھر میرے بعد بابر تھا۔ ہم دونوں کی جان اُن میں بند تھی۔ اس سکون اور اطمینان کو کبھی زمین اور گھر کے ایک سو بیس گز پر ہونے کا غم نہ ہوا تھا۔ اگر کبھی ہوتا تو صرف بجلی کے عین گرمیوں میں دوپہر کے وقت چلے جانے سے پتہ نہیں بڑے بڑے لان نہ ہونے کا غم تھا یا پھر کیا وجہِ غم تھی اس وقت میری سمجھ اتنی ہی تھی۔

          میں نیلم سے صرف دو سال چھوٹی تھی۔ اس لیے غمگسار اور راز دار بھی تھی۔ کبھی کبھی اس تکون میں امی جی بھی شامل ہو جاتی تھیں۔ باتوں کی زنبیل ایسی کھلتی کہ پھر ابا جی کو خالص زنانہ گفتگو میں دخل اندازی کرنی پڑی۔ نیلم نے بی اے کے بعد ٹیلی کام جوائن کر لیا تھا۔ باقی ہم دونوں ا سکول کالج میں زیر تعلیم تھے۔

          ’’ مجھے اپنے ادارے میں سب سے پیاری بات پتا ہے ، کیا لگتی ہے ؟‘‘ نیلم کی آنکھوں میں نیلگوں پانی ہر وقت تیرا کرتا تھا۔

          ’’کیا؟؟‘‘ میں نے اشتیاق سے پوچھا۔

          ’’ ہزاروں میلوں کی جدائی ایک منٹ میں ختم۔ جس طرح ایک مریض کے لیے ڈاکٹر اُس کا پورا جہان ہوتا ہے۔ اس طرح ہمارا یونٹ بھی ایک جہان ہے ، دور دور رہنے والوں کے لیے۔ ‘‘

          ’’ گویا شہزادی نیلم! تم دِلوں ، جذبوں ، خوابوں اور خیالوں کی ڈاکٹر ہو۔‘‘ میں نے استری کے لیے کپڑے اُٹھاتے ہوئے کہا۔

          ’’ ویسے جانِ عزیز اگر تم غور کرو تو ہر انسان دوسرے انسان کے لیے ایک ڈاکٹر اور مسیحا ہوتا ہے۔ ‘‘

          ’’ ہوتا نہیں نیلم ، ہو سکتا ہے۔ ‘‘ میں نے تنبیہ کی تو وہ ہنس پڑی۔

          ’’ کبھی کبھی تم بہت پتے کی بات کر جاتی ہو۔ واقعی اگر ہم سب ایک دوسرے کو ایسے ہی منٹ منٹ پر سلوک کی خوشیاں بانٹنا شروع کر دیں تو دنیا والے کس پر جھگڑا کریں گے۔؟ کس بات پر اقوام متحدہ بحث کرے گی؟؟‘‘

          ’’ تم دونوں امن کی فاختائیں دنیا میں بے روز گاری پھیلا کر رہیں گی، اللہ رحم کرے۔‘‘ بابر پڑھتے پڑھتے تھک کر ہم میں آ ملا تھا۔ پھر وہی سیاست ، کتابیں ، شاعری اور پھر آخر میں وہی اس کا سوال۔ ’’دوپہر میں کیا پکار رہی ہو۔ ‘‘

          ’’بابر! تمہیں کھانے کے علاوہ کیا شوق ہے ؟‘‘ میں چیخ پڑتی۔

          ’’پینے کا۔ ‘‘ وہ مسخرے پن پر اُتر آتا۔’’ بس اس کی تفصیلات اور جزئیات میں جانے کی ضرورت نہیں ہے تم دونوں کو۔‘‘

          ’’ اچھا تم بتاؤ بابر! آ ج کیا کھانے کو دِل کر رہا ہے ؟‘‘ نیلم ہنس پڑتی اور انتہائی صلح پسندی سے بابر کے گلے میں بانہیں ڈال کر پوچھتی۔

          ’’کچھ بھی باجی ! بس زمرد کا دماغ نہیں ہونا چاہیے۔ ‘‘

          ’’بس بس!! کھانا آ ج امی جی پکار رہی ہیں کسی کو بحث نہیں کرنی تم اپنے کمرے میں جا کر پڑھو۔ اور تم زمرد!جلدی سے کپڑے استری کر کے نیچے کچن میں آ جاؤ۔ میں جا رہی ہوں ، امی جی کی مدد کرنے۔ ابا جی بھی آئے ہوں گے۔ ‘‘

          ’’ اچھا۔‘‘ بابر اپنے کمرے میں جا چکا تھا۔

          امی جی کو نیلم کی شادی کا خبط سوار ہو چلا تھا۔ بابر،جو گھر کے تمام ناموں کے حساب سے شاہی خاندان جیسا رعب داب والا تھا ، کسی بادشاہ کے شہزادے سے کم سوچ نہ رکھتا تھا۔ وہ شادی اتنی دھوم دھام سے کراتا کہ ہم سب غرارے شرارے سنبھالتے رہ جاتے۔

          ’’زمرد تمہیں پتہ ہے۔۔۔ امی کیا کہہ رہی تھیں ؟‘‘ نیلم نے چائے کا کپ ہلکے سے مُنہ سے لگاتے ہوئے کہا۔

          ’’ کیا یہی ناں کے فلاں فلاں لوگ تمہیں دیکھنے آنا چاہتے ہیں۔ فلاں کا لڑکا تم سے تعلیم میں کم ہے۔ فلاں ٹھیک ہے مگر ہاں کرنے میں کئی رشتے دار اختلاف رائے کے بعد بچھڑ سکتے ہیں اور۔۔۔‘‘

          ’’ اور یہ کہ ایسا کچھ نہیں کہا۔ ‘‘ نیلم ہنس پڑی۔

          ’’تو امی جی سے کیا توقع کروں ؟‘‘

          ’’ پوچھ رہی تھیں کہ تمہارے ابا جی نے کہلوایا ہے کہ اگر تمہاری کوئی پسند ہے تو بتاؤ۔ ہم تمہیں کبھی ہرٹ نہیں کر سکتے۔!‘‘

          ’’ او ہ نو! امپاسبل۔۔۔‘‘میں حیران ہو گئی تھی اس لیے کہ میں ابا جی سے اس روشن خیالی کی توقع نہیں کر رہی تھی۔ میں سوچ رہی تھی کہ وہ ایسے ہی ہیں ، جیسے تایا جی تھے یا پھر بڑی پھو پھو نے جیسا اپنی لڑکیوں کے ساتھ کیا۔

          ’’ ہاں تم سچ کہتی ہو۔‘‘ نیلم نے تائید کی۔ ’’میں بھی یہ بات سن کر بہت حیران ہوئی تھی۔‘‘

ٍ       ’’ پھر تم نے کیا کہا؟‘‘ میرا شوق بڑھ رہا تھا۔

          ’’ کچھ بھی نہیں اور کہوں بھی کیا؟ زمرد! تمہیں نہیں لگتا، لڑکی اللہ نے عجیب ہی مخلوق بنا دی ہے۔ سہمی سہمی ،وہمی سی۔ہر لڑکی ایک خواب کا دیا ہوتی ہے۔ وہ کبھی نہیں چاہتی کہ ٹوٹ جائے یا اسے کوئی توڑ دے۔ نہ ہی بجھنا چاہتی ہے اور نہ ہی کسی کو بجھاتے ہوئے دیکھ سکتی ہے۔ بیچ درمیان کی یہ راہیں ہم لڑکیاں کیوں چُن لیتی ہیں ؟ نہ کھل کر ہاں کہہ سکتی ہیں ، نہ نہیں۔ ‘‘

          ’’ نیلم! تمہاری کوئی چوائس ہے ؟‘‘ میں نے ڈائریکٹ پوچھ ڈالا۔

          ’’ ابھی تک تو نہیں۔‘‘

          ’’ بتانے سے ڈرتی ہو یا اعتبار نہیں ہے ؟ ‘‘

          ’’ نہیں ، مجھے اپنے آ پ سے اقرار کرنے کی ہمت نہیں ہے۔ میں خود سے آنکھیں ملا کر بات نہیں کر سکتی۔۔۔ امی کے سوال کے بعد کئی چہرے آ کھڑے ہوئے ہیں میرے سامنے۔ اُن میں سے ہر ایک مجھے ناگزیر لگا پھر جب میں نے سوچا کہ کیوں ناگزیر ہے تو خود کو مطمئن نہیں کر سکی۔ زمرد! پلیز زمرد، میں اپنی فیلنگز صحیح طور پر واضح نہیں کر سکوں گی۔‘‘ نیلم کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔

          میں نے اُس کے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھ لیے۔

          ’’سچ یہ ہے کہ ہمیں چہروں اور ڈگریوں کی نہیں ، سمجھ اور آگہی کی رفاقت چاہیے ہو تی ہے۔ سمجھ اور شعور سے بنائے ہوئے گھر کبھی نہیں گِرتے ، انہیں مفلسی کی دیمک بھی نہیں لگتی۔ میں ٹھیک کہہ رہی ہوں ناں؟‘‘

          ’’ ہاں سو فیصد۔۔۔!! تو۔۔۔‘‘

          ’’تو زمرد ،میر ے پا س کوئی گارنٹی نہیں ہے اور نہ کسی نے دی ہے ، اُس سچ کی جسے چہروں اور ڈگریوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ‘‘

          ’’ بس پھر اسے خدا کے حوالے کر دو!‘‘ میں ہنس پڑی۔

          ’’انسان ہمیشہ خدا کے حوالے ہوتا ہے۔ وہ جب چاہے جو کر دے۔ دیے جلاتا بھی ہے ، بجھاتا بھی ہے۔ ہاتھ ہمارے ہیں تو کیا ہوا ، ڈور تو اسی نے ہلانی ہے۔ ‘‘

          ’’ نیلم! کبھی کبھی تم اس قدر قنوطی ہو جاتی ہو کہ مجھے ڈر لگنے لگتا ہے۔ ‘‘

          ’’ پگلی !‘‘ اُس نے مجھے گلے لگا لیا اور مجھے یوں لگا، جیسے جلتے ہوئے دیے کی ہلکی ہلکی گرمی میں میَں بھی پگھل جاؤں گی۔

          ’’ ہاں ، تمہیں بتانا بھول گئی کہ اس ویک اینڈ پر ہم سب آفس کے لوگ مل کر ٹھٹھہ پکنک پر جا رہے ہیں۔ تمہارا کیا ارادہ ہے۔ چلو گئی زمرد؟‘‘

          ’’ نہیں بھئی، تم لوگ جاؤ ، میں کیا کروں گی۔ ویسے بھی تمہیں پتہ ہے ، امی بولتی رہتی  ہیں۔ بابر الگ ناک میں دم کر دیتا ہے۔ اچھا تم کپڑے کون سے پہن کر جاؤ گی؟‘‘ پھر ہم دونوں گھنٹوں کپڑوں اور جوتوں سے باہر نہ آ سکے۔ لڑکیاں جو ہوئیں ! سج سنور لینے کی باتیں یا پھر دوسروں کی برائیاں بقول بابر کے بس یہ دو کام صنفِ نازک کی ذمے داریاں تھیں۔

          ’’ اور تمہیں پال پوس کر اس قابل کس نے کیا کہ اتنے ذی شعور ہو سکو کہ ایسی باتیں کرو۔‘‘ امی جی تو اُس کے کان تک کھینچ ڈالتیں۔

          ’’ بھئی، میں تو لڑکیوں کی بات کر رہا تھا، اَمّیوں کی تھوڑی۔‘‘ وہ بڑی وضاحت اور سچائی سے کہتا اور ہم سب صلح کے طور پر ہنس پڑتے۔

          جس وقت نیلم پکنک پر جا رہی تھی۔ میں نے اسے یاد کرایا کہ وہ کسی کو تو اسپیشل نظر سے ضرور دیکھ کر آئے تاکہ میری فائل اوپر آئے۔

          ’’ کیا اب میں یہ بھی کروں گی؟‘‘ نیلم حیران رہ گئی۔

          ’’ اگر تم گھر میں بڑی بہن ہو تو کیا ہوا کسی بزرگ کے فیصلوں میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ اگر یونہی بڑی ہونے کا روگ لیے جیتی رہیں نا تو بچپن کے فوراً بعد اَدھیڑ عمری شروع ہو جاتی ہے اور پھر پلک جھپکتے بڑھاپا، کہو کیا منظور ہے۔ ‘‘ میں نے اُس کے آگے ہاتھ پھیلائے۔

          ’’ ابھی کچھ نہیں۔ صرف مجھے جانے دو۔‘‘ اُس نے اپنے خوبصورت ہاتھ میرے ہاتھ میں دیتے ہوئے بڑی عجلت سے کہا۔’’ اچھا امی کا خیال رکھنا۔‘‘

          ’’ نکلتے نکلتے بھی نصیحت نہ بھولنا! جیسے میری تو کچھ لگتی نہیں ہیں۔‘‘

          ’’ خدا حافظ!!‘‘

          ’’ نیلم۔۔۔نیلم تمہارا کیا بنے گا! پتہ نہیں ، تم اندر سے ویسی ہو جیسے بظاہر ہو یا پھر دوغلی ، دو رُخی۔۔۔ دو دنیا میں رہنے والے لوگ تو خود اپنے لیے روگ بن جاتے ہیں۔ بظاہر بڑے مطمئن و مسرور مگر اندر سے کتنے تنہا اور اُداس ! شاید کہ ہر لڑکی یا پھر ہر سمجھدار لڑکی دو رُخی ہوتی ہے۔ دنیا کو خوش رکھنے کے لیے ، ارد گرد سارے رشتوں کو قائم رکھنے کے لیے اپنے قیام کی جنگ اپنے اندر لڑتی رہتی ہے۔ ہارتی بھی رہتی ہے اور کبھی جیت بھی جاتی ہے۔ علی الاعلان جنگ کا بگل کبھی نہیں بجا سکتی۔ اگر نیلم تم نے سمجھداری کی چادر اوڑھ کر قناعت اور رضا مندی سے ہاں کر دی تو کیا ہو گا،سب خوش خوش روز سو جایا کریں گے۔ بس تم نیلم ، صرف تم رات بھرکرو ٹیں بدلتی رہو گی۔ اپنے آپ کو بہلانے کے لیے ہر وقت بہانوں کی تلاش میں رہو گی۔ میں جانتی ہوں کہ تم نے کسی پر اعتبار کر لیا ہے۔ تم نے ساری عمر کے لیے اپنی ذات کا محور تلاش کر لیا ہے۔ تمہاری آنکھوں کا حسن کئی ہفتوں سے بڑھ گیا ہے۔ تمہارے کپڑوں میں ایک نیا روپ بھرنے لگا ہے۔ ایسے کہ تم تیار ہونے کے لیے ایکسٹرا پانچ منٹ لینے لگی ہو۔ بات کرتے کرتے بڑی گہرائیوں میں اُتر جاتی ہو۔میں جانتی ہوں ، تم ڈرتی ہو۔ بڑی ہونا! امی جان کی تربیت ہو۔ ہمارے لیے راہ عمل ہو!اباجی کا فخر ہو۔ کتنی بھاری ذمہ داریاں تمہارے نازک کندھوں پر ہیں۔ تم بڑی جو ہوئیں۔نیلم پلیز!! میری اچھی بہن! اپنے لیے ایک اچھا سا فیصلہ کر کے آنا۔ ہر وقت جنگ نہ کرنے کا اپنے آپ سے۔۔۔ میں تمہارا ساتھ دوں گی۔ ہم دونوں مل کر لڑکی کی بقا کی جنگ لڑیں گے۔ اوکے !،میں نے نیلم کی تصویر سے وعدہ لیا ور کچن میں چلی آئی۔

          ابھی اُسے گئے دو گھنٹے ہی ہوئے تھے کہ اطلاع آئی کہ اس کی وین ڈالر سے ٹکرا گئی  ہے اور اس میں صرف تین لوگ بچ سکے تھے مگر ان میں نیلم کا نام نہیں تھا۔

          نیلم ہم میں نہیں تھی۔

          کیوں نہیں تھی۔

          وہ دیے کی طرح بجھ گئی تھی یا اُس نے سارے گھر کو بُجھا دیا تھا۔

          وہ جو خوابوں کی باتیں کرتی تھی،اب خود خواب خیال ہو گئی تھی اُس کی پہلی برسی آئی اور گزر گئی۔ آ ج چوتھی برسی ہے۔ ہم میں سے کوئی بھی اُس کی غیر موجودگی کا عادی نہیں ہو سکا ہے۔ وہ بے حد غیر معمولی لڑکی تھی۔ اُس کا یوں چلے جانا حادثہ نہیں ،سانحہ تھا۔

          ’’ امی جی کا خیال رکھنا !!‘‘ اُس کا آخری جملہ تو میں کبھی بھول ہی نہیں سکتی۔ اُس کا دِل پیار کا ساگر تھا۔ اُس نے ڈائری میں لکھا تھا۔ اُس کی اِس امانت کی میں تنہا راز دار اور مالک تھی۔

          ’’ میں اپنے گھر کے اعتبار کو قائم رکھنے کے لئے کچھ بھی کر سکتی ہوں۔ یہ سچ ہے کہ ساجد مجھے بے حد پسند ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ وہ ہماری فیملی اور ہمارے خاندانی رکھ رکھاؤ سے تعلق نہیں رکھتا۔ ابا جی اس کے لئے کبھی راضی نہیں ہو سکتے۔ تو پھر میں ہاتھ پھیلا کر اپنی اَنا کو فقیر کیوں کروں۔محبت تو عزت و توقیر کا نام ہے۔ اِس کا بھرم قائم ہی رہے تو اچھا ہے۔ ‘‘

          ساجد نیلم کا کلاس فیلو بھی تھا اور ان دونوں نے اِکٹھے ٹیلی کام جوائن کیا تھا! اتفاق سے وہ پکنک پر نہیں گیا تھا لیکن یہ بھی سچ تھا کہ اس حادثے کے بعد وہ بھی اندر سے مر گیا تھا۔ بے حد ذہین اور انٹلیکچوئل سا ساجد بڑا گریس فل تھا لیکن مذہب کے جس گروہی خطے سے ہمارا تعلق تھا ، وہ اُس سے بہت دور رہتا تھا اور زبان اور خاندانی رسموں رواجوں سے بھی میل نہیں کھاتا تھا۔

          نیلم تم صحیح کہتی تھیں کہ پیار ایسا سچ ہو تا ہے جسے کسی توقع اور بہلاوے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ تو سمجھ اور آگہی کے رشتے ہمیشگی کی رفاقت میں بدل جاتے ہیں۔ جہاں سمجھوتوں کا گزر نہیں ہوتا پھر آگے کے صفحے پر لکھا تھا۔

          ’’ ساجد سے آج آفس میں بات ہوئی اور یوں یہ طے ہو گیا کہ ہم میں سے دونوں ہی بزدل ہیں۔ میں گھر کی بڑی ہوں اور وہ گھر کا بڑا ہے۔ ہمیں اپنا اپنا بھرم رکھنا ہے۔ ساری عمر اس بوجھ کو لیے پھرنا ہے۔ پتہ نہیں ، یہ قربانی رائیگاں جاتی ہے یا رنگ لاتی ہے۔ میں نہیں چاہتی کہ زمرد کے لئے کوئی مشکل ہو یا پھر ساجد کی تین چھوٹی بہنوں کے لئے یا پھر ہم لڑنا ہی نہیں چاہتے اور اس طرح ہم دونوں نے ساری عمر بہلنے کے لئے ہتھیار رکھ لیے ہیں۔ بس جو کچھ بھی ہے ، قرار آنے کے لیے کم ہے۔ ‘‘

کتنا مشکل کتنا کٹھن

جینے سے جینے کا ہُنر

          نیلم، میری اچھی نیلم، تم مجھ میں آ گئی ہو۔ تمہاری قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔ ہم لڑکیاں کس کس سے کہاں کہاں لڑیں۔ ہارنے میں بھی رُسوائیاں ہیں اور لڑنے میں بھی جگ ہنسائیاں۔ طبعاً ہم سب بزدل اور وہمی ہیں۔ ہم ہر لہراتی ہوئی چیز کو سانپ سمجھ کر ڈر جانے والی لڑکیاں دوغلی اور دو رُخی ہی رہیں گی۔ اندر باہر دنیا بسائے رہنا ضرورت کی طرح ذہنوں میں رہے گا۔ ہر لڑکی کے دِل میں کوئی نہ کوئی ساجد مختلف بھیس اور نام بدل کر رہتا رہے گا۔ چاہے وہ کسی کے ساتھ بھی عمر گزار دے۔

          ’’ زمرد بیٹی، نیلم کو گئے چوتھا سال آ چلا ہے۔ تمہارے ابا جی نے پچھوایا ہے کہ تمہاری پھوپھو اپنے چھوٹے بیٹے بلال کے لئے آئی تھیں لیکن تمہاری مرضی ہمیں چاہیے۔‘‘ امی جی نے محبت سے میرے کندھوں پر ہاتھ رکھ دیئے۔ پتہ نہیں ، کب نیلم مسکراتی ہوئی ہمارے درمیان آ کھڑی ہوئی۔

          ’’ جو آپ کی مرضی امی جی۔ ‘‘ میں اُن کے گلے سے لگے بلک بلک کر رو پڑی۔ پتہ نہیں نیلم تمہیں یاد کر کے یا پھر ایک دِیا اور بُجھ جانے پر لیکن تم تو یہی چاہتی تھیں نا نیلم! میں نے اس کی ڈائری کو نذرِ آتش کر دِیا۔ اب اس کی حفاظت مجھ سے نہ ہو سکتی تھی۔ اُس کے راز، اُس کی باتیں اور اُس کی خواہش ایک روگ کی طرح میرے اندر جل رہی تھیں ، دِیے کی طرح۔۔۔