کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

بھائی جی

ڈاکٹر نگہت نسیم


بھائی جی تو بڑے سارے انہیں دلار سے کہتے تھے۔ اور ہم سب جوان سے آٹھ برس پندرہ برس چھوٹے تھے ، نام سمجھ کر بلاتے تھے۔ ان کا اصل نام شاہ زیب تھا۔ بقول رانی کے وہ سن ڈیڑھ کی پیدائش رکھتے تھے اس لیے مغلئی خاندان سے متاثر ہو کر تایا جی نے ان کا نام شاہ زیب رکھا تھا۔تھے واقعی شہزادوں کی طرح آن بان والے اور  ویسے ہی فیاض بھی۔ ان کا دھیما پن اور مسکراتے وقت آنکھوں تک سے ہنس دینے والے بھائی جی ہم سب کو بے حد عزیز تھے۔ چونکہ وہ تمام کزنوں کی تعداد جو کہ ملا جُلا کر پچیس تک پہنچتی تھی۔ ان سب میں بڑے تھے۔ لہٰذا ہم سب کو انہیں بھائی جی کہنے کا آرڈر ملا تھا۔

          سو سب کہتے تھے۔ بڑوں نے بھی کہنا شروع کر دیا۔ جیسے بڑے ماموں جی ہم سب کے لیے بھی تایا جی تھے۔ اس لیے باقی سب کزنز انہیں تایا جی کہتے تھے اور حتیٰ کہ نانی جی بھی۔ اس لیے بھائی جی بس بھائی جی تھے۔ گھر سے لے کر محلے تک ا سکول سے کالج تک پھر یونیورسٹی میں بھی اس چیز سے قطعی دور کہ وہ ہمارے ماموں زاد تھے تو کسی کے تایا زاد اور کسی کے دوست یار۔۔۔ میرا شمار کزنوں میں سب سے چھوٹی پھوپھی کی دوسرے نمبر کی کزن میں آتا تھا۔ بھائی جی مجھ سے آ ٹھ سال بڑے تھے۔ جس گھر میں پلے بڑھے تھے وہ بڑے بڑے دالانوں اور باغوں والا گھر تھا۔ اور جہاں امی جی کی شادی ہوئی تھی وہ سرکاری گھروں والا ایک احاطہ بند کالونی تھی۔ سو۔۔۔ نانی جی کے گھر رہنا ہمارے لیے ایک Fantasy Worldکی حیثیت رکھتا تھا۔ چھٹیوں میں انتظار کیا جاتا۔ سارے اچھے کپڑے جوتے اس لیے سینت سینت کر رکھتے کہ وہاں جا کر پہنیں گے۔ اچھی اچھی باتیں بھی یاد سے لے کر حفظ کر لی جاتیں کہ سب خوش ہوں گے۔

          اچھی رپورٹ کارڈ تک سنبھالے جاتے کہ وہاں سب کو دکھائیں گے۔ آپا جو مجھ سے چار سال بڑی تھیں۔ نئے نئے کھانے پکانا سیکھتیں تاکہ وہاں سب کو مرعوب کر سکیں۔ میں چونکہ گھر میں بھی چھوٹی تھی اور بھائی جی سے بھی آٹھ سال چھوٹی تھی ،سارے کزنوں میں میرا شمار ایسے ہی ہوتا تھا جیسے ہو تو ٹھیک، نہ ہو تو تو بھی ٹھیک۔ ایسا انسان بھلا کیا اپنی جگہ متعین کرے جس کا ہونا متعین نہ تھا لیکن بڑے بڑے دلانوں اور باغوں سے گھرا ہوا گیارہ کمروں کا پرانا بھٹکا ہوا ویران گھر مجھے بہت اچھا لگتا تھا۔ بالکل ایسے ہی جیسے پرانا گھِسا ہو ا سوٹ جس کے چھوٹے ہو جانے کی سند سب دیتے ہیں لیکن کہیں سے خود کو لگتا نہیں ہے۔ اس لئے کہ دل نہیں کرتا حقیقت کا سامنا کرنے کو۔۔۔ بالکل ایسے ہی تا جی اور تین چاچاؤں کے لیے کہ گھر چھوٹا تو نہیں مگر نئے زمانے میں پرانا لگتا ہے اور چونکہ امیر تھے لہٰذا رہنا بھی عجیب لگتا تھا۔ مگر ان کا دل مانتا نہیں تھا۔ لہٰذا وہ پرانا گھر ، اپنا گھر، اپنے پسندیدہ پرانے کپڑوں کی طرح پہن اوڑھ رہے تھے اور پھر نانا جی کی یادیں بھی تو وہیں تھیں جو ہم سب کے لیے کسی خزانے سے کم نہ تھیں۔ امی جی بھی تو بیاہ کر رخصت ہوئی تھیں اس دہلیز سے۔ اس پرانے سے بڑے گھر کی ایک ایک اینٹ پزل کا پروگرام دیتی تھی۔ ہر شخص کی یاد ایک سنگ میل کی طرح ان اینٹوں پر لکھی گئی تھی۔ یہاں دادا جی ( ہمارے نانا جی ) بیٹھتے تھے۔۔۔

           یہاں ان کے دوست امیر محمد روز ان سے بیٹھک کرتے تھے۔۔۔

          اس جگہ نانی جی نے پہلی دفعہ تندور میں روٹی پکائی تھی اور ٹھیک اسی جگہ شوقیہ میری امی جی نے بھی روٹی لگانا سیکھا تھا۔‘‘

          تایا جی نے دسویں جماعت کے وقت یہاں پڑھائی کی تھی۔

          اور یوں یہ سلسلہ دراز ہوتے ہوتے بھائی جی پر رک جاتا۔ وہ چونکہ اس نسل کے سردار کی حیثیت رکھتے تھے۔لہٰذا وہ ایک کمرے سے پیدا ہو کر یونیورسٹی تک کی یادگاریں رکھتے تھے۔ یا خدا! ہم کبھی بھی ان یادگاروں سے برآمد نہیں ہو سکتے۔ لیکن ایک بات تھی، سب کچھ پرانا ہونے کی وجہ سے پیار بھی بہت پرانا ہو گیا تھا۔ جذبوں کی سچائیوں میں تپ تپ کر کندن ہو گیا تھا۔ جبھی تو ہر شخص سونے کی طرح قیمتی اور روپیلا لگتا تھا۔

          ہم تمام پھوپھی زاد کزنوں کو ماموں زاد کزن بہت اچھے لگتے تھے، شاید امیر بھی۔ بحر حال ہم سب ایمپریس تھے۔ بے سوچے سمجھے ہم سب Complexکمپلیکس کا شکار تھے۔ حالانکہ ان کی محبت اور چاہت میں کمی نہ تھی۔ بس کمی تھی تو اکٹھا نہ رہنے کی وہ سب چونکہ مل کر رہتے تھے۔ لہٰذا ہر دن میلہ سا لگتا۔ اور ہم سب علیحدہ علیحدہ گھروں میں رہتے تھے۔ سو ہم واپس وہاں سے آئے تو ہفتوں تنہائی تنہائی کھیلتے رہتے۔۔۔

          مل جل کر رہنے میں کتنا پیار ہے۔

          کتنا مزہ ہے۔۔۔

          یوں لگتا ہے دکھ بھی جیسے دم دبا کر بھا گ جاتے ہیں۔

          پیسے سے بھی امیری اور دلوں کی بھی امیری۔

          سکون، اطمینان اور خوشیوں سے بھائی جی رجّے پیٹ بھرے ہوئے تھے۔ لہٰذا ان کا سکون بھرا لہجہ دھیمی مسکراہٹ ،ان کے چہرے پر سرور کی طرح رہتا تھا۔ پھر اوپر سے پڑھے لکھے ، ان کو اور بھی منفرد بناتا تھا۔

          ’’بیلا تم نے کہاں تک پڑھ لیا ہے ؟‘‘بھائی جی نے اپنی کتاب پر نظر جمائے جمائے مجھ سے وہیں سے پوچھ ڈالا مگر خوشی کے مارے ہفتوں نیند نہ آئی کہ بھائی جی کو میرا نام یاد ہے۔ اور جب آپا کو بتایا تو وہ ہنس پڑیں۔

          میری خوشی پر۔۔۔ واقعی میں اتنی زیادہ خوش کن حیرانگی میں تھی کہ جواب دینا ہی بھول گئی۔

          ’’میں نے تم سے پوچھا ہے۔۔۔‘‘انہوں نے ازلی قیامت خیز مسکراہٹ کو ہدایتاً مجھے عطا کرتے ہوئے سوال دھرایا۔

          ’’جی میں فرسٹ ائیر میں۔ ‘‘میں بوکھلا گئی۔

          ’’کون سے سجکیٹ ہیں ؟ ‘‘انہوں نے قریب آنے کے لئے میری سمت قدم بڑھا دیئے۔ مجھے یوں لگا جیسے چاند آسمان سے زمین کی طرف آ رہا ہو۔

          ’’جی وہ۔۔۔‘‘میں بٹر بٹر انہیں دیکھ رہی تھی اپنی طرف آ تے ہوئے۔

          ’’دیکھو بیلا۔ اگر تم نے عام لڑکیوں کی طرح آرٹس اس لیے رکھی ہے کہ تم نے صرف وقت گزارنا ہے کتا ب کے ساتھ یا صرف اس لیے کہ لڑکیوں کو پڑھائی کیا کرنی ہے کون سی نوکری کرنی ہے۔ کیا تیر مار لیں گی تو مجھے اچھا نہیں لگے گا۔۔۔‘‘ وہ شاید مجھے سمجھا رہے تھے۔

          ’’دیکھو دیکھو۔۔۔ تمہارے ہاتھ کی لکیریں بتا رہی ہیں کہ تم پائلٹ بنو گی۔‘‘ انہوں نے جھٹ میرا بھیگا ہوا سر د ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔

          یہ کیا ہو رہا تھا؟ ؟شاید جادو۔۔۔سحر۔۔۔

          ’’بھائی جی!! میں اور پائلٹ۔۔۔‘‘ میں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔

          کچھ تو مجھے ہو رہا تھا۔۔۔ جیسے پہلی دفعہ دِل کو دھڑکنا آ رہا تھا۔

          شرم کو سرخ پوش ہونا آ رہا تھا۔

          پسینے کو قطرے کی طرح پیشانی پر چمکنا آ رہا تھا۔

          یہ سب کچھ اور بہت کچھ پہلی دفعہ سب کو آ رہا تھا۔

          مگر۔

          بھائی جی کو کچھ نہیں آ رہا تھا پہلی دفعہ۔ انہیں سب کچھ پہلے سے آتا تھا۔۔۔ نہیں انہیں تو سرے سے ایسا کچھ نہ آتا تھا۔

          ’’ارے ارے مجھے اپنا ہاتھ دو۔۔۔ ‘‘انہوں نے پھر پیچھے کی طرف بندھے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ ایسے کہ ان کا خوبصورت پیاری مسکراتی آنکھوں والا چہرہ میرے اتنے قریب آ گیا تھا کہ اس کے بعد میں دن رات جلنے لگی ہوں۔

          مہکنے لگی ہوں۔۔۔

          خواب دیکھنے لگی ہوں۔

          ’’ارے بیلا تم بے حد اسپیشل لڑکی ہو۔۔۔بے حد Sensitive(حساس) ‘‘ اور اس ایک لمحے کو تو مجھے پتہ ہی نہ تھا کہ کوئی مجھے یوں Discoverکر ے گا۔ اور مجھے یہ بھی کہاں پتہ تھا کہ ’’ حساس‘‘ ہونا کیا ہوتا ہے۔

          سُنو بیلا! Don't waste Your talent( خود کو ضائع نہ کرنا)

          ’’جی۔۔۔‘‘ میں حیران تھی۔

          ’’Really I mean it۔۔۔۔ ( میں سچ کہ رہا ہوں )‘‘ بھائی جی میرے سرکو سہلاتے ہوئے کتا ب اٹھا کر اپنے کمرے کی طرف چلے گئے۔۔۔ میں تنہا رہ گئی تھی۔ مجھے یوں لگا جیسے میں تنہا ہونے سے ڈر گئی تھی۔۔۔میں اس خواب کو ریزہ ریزہ نہ دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔

          ’’بھائی جی کہاں ہیں۔۔۔‘‘ کہیں سے آواز آئی۔

          ’’انہیں پڑھنے کے علاوہ کام کیا ہے۔ ‘‘کوئی اور ہاں میں ہاں میں ملاتا۔ ’’ لگتا ہے ساری ریسرچ انہوں نے ہی کرنی ہے۔‘‘ کوئی جل کر کہتا۔ لیکن بھائی جی بھی تو بڑے اسپیشل تھے۔ بالکل بھی Spoil Kid( بگڑی اولاد) نہ تھے۔

          بڑی ذمہ داری سے بی فارمیسی کے بعد ریسرچ میں چلے گئے تھے۔ انہیں (Discovery)(دریافت) کا خبط تھا۔ چاہے انسان ہو یا انسانی خلیے انہیں صرف معلوم کرنا تھا۔ کیا میں ان کو بھی اپنے جیسی لگی جبھی تو مجھے کہہ رہے تھے

          ’’Do something Special۔۔۔‘‘

          ’’میں اسپیشل ہوں۔۔۔‘‘

          ’’نہیں بھائی جی آپ اسپیشل ہیں۔ جبھی تو ایسا کہہ رہے ہیں بھلا کون کہتا ہے اس جل ککڑی دنیا میں کہ تم بہت اسپیشل ہو۔۔۔‘‘

          میں مرعوب تو پہلے ہی سے تھی مگر اب جو کچھ لگ رہا تھا بہت الگ تھا۔

          کچھ ایسا الگ تھا کہ میں کسی کو بھی راز دار نہ بنا سکی۔۔۔

          میں سب کے ساتھ رہتی مگر ہوتی کہیں اور تھی۔۔۔

          بھائی جی کیا سامنے آئے ، میرا دل چاہتا کہ کوئی اور وہاں نہ ہو اور وہ صرف مجھے Discoverکریں۔۔۔ حالانکہ میں کسی سے بھی جیلس نہ تھی۔ مگر میں تنہائی چاہنے لگی تھی۔ میں واقعی سحر میں آ گئی تھی۔

          بھائی جی کے سحر میں۔۔۔

          اور یہ ایسا سحر تھا کہ دن رات ختم ہو رہے تھے مگر سحر کی کوئی رات تھی اور نہ کوئی دن۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا بھی نہیں کہ میرے سجکیٹ کیا ہیں مگر مجھے دھُن ہو گئی کہ میں سائنس لوں گی۔ میں جو پڑھائی کو’’ وقت گزارہ‘‘ سمجھتی تھی ایک دم بدل گئی تھی۔

          ہماری زندگی کی ایک حیثیت ہے ، ایک مقام ہے۔ اس کا تعین اور یقین ہم نے کرنا ہے۔ میں بے اہم زندگی گزار رہی تھی مگر باقی ایسے نہیں گزارنا چاہتی تھی۔ میں کچھ اہم اور الگ کرنا چاہتی تھی۔

          امی جی حیرانگی سے دیکھ رہی تھی۔

          ابوجی فخر سے مجھے تک رہے تھے۔

          آپا کو اچھا لگ رہا تھا۔۔۔

          جب بھائی جی کو پتہ چلا تو وہ بے حد خوش ہوئے۔ انہوں نے مجھ سے کہا۔

          ’’ہمیں اس کی پراہ نہیں کرنی چاہیے کہ ہم انسانی سمندر میں قطرے کی حیثیت رکھتے ہیں اس کے باوجود ہم سب تبدیلی لا سکتے ہیں۔ ‘‘

          ’’کیسے۔۔۔؟‘‘نانی جی مسکرا رہی تھیں۔۔

          ایسے جیسے آ پ اچھی ہیں۔ آ پ نے ہماری پرورش کی۔ اپنے انداز اور رکھ رکھاؤ سے۔ اسی طرح سے ہم سب کو اس High Techدنیا سے کندھے سے کندھا ملا کر جینا ہے۔

          اس مقابلے باز دنیا کو جیتنا ہے۔۔۔

          ہمارا بہت سخت مقابلہ ہے زندگی سے۔ ہمیں اگر اچھی با وقار نسلیں بنانی ہیں تو ہمیں ان کے قابل بننا پڑے گا۔۔۔ سیریس ہو کر پڑھنا پڑے گا۔۔۔‘‘ ان کے طویل لیکچر سے کئی لوگوں کو غر ض نہ تھی۔ مگر میرا قلبی لگاؤ ان کی باتوں کو اقوالِ زریں سے کم حیثیت نہ دیتا تھا۔ سو میں سوچ لیا تھا کہ مجھے کیا کرنا چاہیے۔

          میں کچھ بنوں گی مختلف سی ،بالکل بھائی جی کی طرح۔ اور پھر میں نے یہ بھی سوچ لیا  کہ بھائی جی سے پوچھوں گی کہ اگر میں پائلٹ نہ بنوں تو براتو نہیں مانیں گے۔

          ’’مگر کیوں ؟‘‘ وہ مجھ سے پوچھ رہے تھے۔

          ’’اس لیے کہ مجھے اونچائی سے ڈر لگتا ہے۔‘‘ میں نے ڈرتے ڈرتے کہا کہ کہیں خفا نہ ہو جائیں۔ وہ قہقہہ مار کر ہنس پڑے۔

          ’’پگلی۔‘‘انہوں نے اتنے پیار سے مجھے گلے لگا لیا جیسے معصوم بچے کو ماں اپنے سینے میں تحفظ کے لیے چھپا لیتی ہے۔

          اتنی گرمی۔۔۔

          اتنا پیار۔۔۔

          اتنا تحفظ ، کتنا قرار، سب کچھ دھڑکن دھڑکن بن رہی تھی۔ ’’دیکھو تم یوں کرو بیلا کہ تم بھی ریسرچ آفیسر بن جاؤ۔ دیکھو بہت سارے ڈاکٹر ،انجینئر اکاؤنٹنٹ ہو گئے ہیں۔ ریسرچ فیلڈ خالی پڑی ہے تم آ جاؤ۔۔۔‘‘ انہوں نے کچھ اتنے مان سے کہا تھا کہ سر ہلانا پڑا۔

          ’’ آخر تم ہی کیوں ؟ ‘‘ رانی خالہ زاد ہونے کے ناطے مجھ سے ہم عمر ہونے کا فائدہ اٹھانا چاہ رہی تھی۔ مگر میں اس سے اپنی کوئی بات شیئر نہ کر سکی۔ میں اسے کیا سمجھاتی۔ بھائی جی جتنا مہربان ہو رہے تھے۔ میں اتنی ہی بے قرار۔۔۔ رو گی سی، روہانسی سی۔۔۔ اس رو پڑنے والے بچے کی طرح جسے کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ اسے بھوک لگی ہے کہ نیند آ رہی ہے۔۔۔ بس وہ روئے جا رہا تھا۔ مدد۔۔۔ مد دکی کان پھاڑتی ہوئی آواز۔۔۔ بالکل اُسی طرح میں ہو رہی تھی۔ مگر میری زبان ، کوئی سمجھ نہ پا رہا تھا۔ ’’ سو آخر تم ہی کیوں ‘‘ کا رانی کو کیا جواب دیتی۔

          ’’گڑبڑ تو نہیں کر رہی ہونا۔۔۔‘‘ وہ آنکھیں مٹکا کر راز داری سے پوچھ رہی تھی۔

          ’’پاگل ہو کیا۔۔۔بھائی جی کے لیے ایسا سو چوں گی۔۔۔‘‘ میں کہتے کہتے دودھ میں اُبال کی طرح آتے آتے رک گئی۔ مجھے پہلی دفعہ پتہ لگا کہ جھوٹ کہہ رہی ہوں۔۔۔ دلاسہ دے رہی ہوں خود کو۔۔۔

          چلو تم تو بھائی جی سمجھتی ہو مگر وہ ،بیلا ،بہت رومانٹیک ہو کر کہتے ہیں۔’’ کچھ بھی بولتے رہنے کا جنون ہے تم کو۔ ‘‘میں نے رانی کو دھکا دے دیا۔ مگر دل میں خوشی کے انگارے سے پھوٹ پڑے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ میں سمجھنے میں غلطی نہیں کر رہی۔ انہیں بھی مجھ سے اُنس  ہو گیا ہے۔

          جبھی تورانی کو بھی لگا کہ انہیں مجھ میں اور میرے کیرئیر میں غیر معمولی دلچسپی کیوں ہے۔

          ان کی باتیں۔۔۔

          ان کا چہرہ۔۔۔

          ان کے وجود کا لمس۔سب کچھ میرے اتنے قریب رہتا کہ مجھے احساس ہی نہ ہوتا کہ وہ میرے پاس نہیں ہیں اور اس بات کا اندازہ مجھے اس وقت ہوا جب کئی ہفتوں مصروفیات کی وجہ سے ہم نانی کے گھر نہ جا سکیں تو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سے واپسی پر بھائی جی ہمارے گھر آ گئے تھے۔ ’’بھئی پھو پھو کہاں ہیں آپ سب۔۔۔‘‘ بھائی جی کے ’’ آپ سب‘‘ پر مجھے یوں لگا جیسے انہوں نے صرف مجھے پوچھا ہو۔۔۔ شاید اس لیے کہ میں ہی ان کے سامنے تھی۔۔۔

          ’’ بس پڑھائی۔۔۔امتحان۔۔۔‘‘ میں بس یہی بتا سکی کہ آپا اور امی جی آ گئیں اور میری حیثیت سب کی نظر میں بس’’ چھوٹی ‘‘ سی رہ گئی۔۔۔ سب پیار اور پچکار کرتے اس لیے کہ میں ان کے لیے گڑیا تھی اور اگر کوئی اہمیت دیتا اور کسی قابل سمجھتا تھا تو وہ تھے بھائی جی۔۔۔ شاید اس لیے میں ان کے قریب ہو گئی تھی۔ وہ میرے اندر کی لڑکی کی تسکین کر دیتے تھے۔ کبھی تعریف سے ، کبھی مشورے سے اور کبھی اُمید دِلا کر۔ اہمیت دے کر اور کبھی اہمیت جتا کر۔۔۔ وہ سر سے پیر تک میرے اندر کی لڑکی کو زندہ رکھنے اور زندہ کرنے کے معجزے سے واقف تھے۔ اور تحسین توہر ایک کے لیے تحفہ ہو تی ہے۔ مجھے اس تحفہ کا انتظار رہتا تھا۔ ان کا توقیری اور تحسین آمیز رویہ مجھے اہم اور مختلف بنا دیتا تھا اور منفرد بننے کے شوق میں اہم ہونے کے لیے اور High tech society) کو جیتنے کے لیے میں اڑتی گئی اڑتی گئی۔۔۔ میرے ساتھ صرف بھائی جی تھے  اس لیے پتہ ہی نہیں لگتا تھا کہ کون سا لمحہ ان کے بغیر گزر گیا۔۔۔ میں اکثر یہی سوچتی کہ کیا کوئی شخص ایسی بھی تاثیرِ مسیحائی رکھتا ہو گا جو کسی کو سر سے پیر تک بدل دے اور اس پر کھُلے بھی نہ۔۔۔ مجھے کبھی نہ پتہ چل سکا کہ وہ واقعی کیوں کرتے ہیں میرے ساتھ۔۔۔

          ہو سکتا ہے سب کے ساتھ ایسے ہی ہوں یا واقعی میں اسپیشل تھی۔۔۔ میں ہنس پڑتی۔ یا ہو سکتا ہے کہ میرا ہر بات کو مان لینا انہیں اہم بناتا ہو۔۔۔ صرف اسی تسکین اور تحفہ کے لیے میرے ساتھ بات کرتے ہوں۔

          ’’کہاں ہو محترمہ؟‘‘ انہوں نے میرے سامنے ہاتھ ہلایا۔ میں جو اپنے کمرے میں کتابیں ہاتھ میں لیے کھڑکی کے پار دیکھ رہی تھی۔ وہ تو امی اور آپا سے باتیں کر رہے تھے۔ اس لیے اندر آ گئی۔۔۔ مجھے خبر ہی نہ ہوئی کہ بھائی جی کب اندر آئے تھے۔۔۔

          ’’اور کیا کرتی رہتی ہو۔۔۔‘‘ وہ کرسی پر بیٹھ چکے تھے۔ ان کے ہاتھ میں چائے کا کپ تھا۔۔۔

          ’’کچھ بھی نہیں۔۔۔‘‘ اور کیا کہتی کہ خواب دیکھتی رہتی ہوں الٹے سیدھے۔۔۔

          ’’یہ کیا بات ہوئی۔۔۔‘‘ آگے وہ کچھ اور مجھے ناصحانہ باتیں سمجھاتے میں نے الٹا ان سے پوچھ لیا کہ آپ کیا کرتے ہیں ’’ کچھ اور ‘‘ کی مد میں۔

          ’’ہاں میں اچھی کتابیں پڑھتا ہوں۔ اچھی فلمیں دیکھتا ہوں۔۔۔

          اچھی جگہ سیر کے لیے جا تا ہوں۔۔۔ تمہیں پتہ ہے بیلا میں ہر روز رات کو ایک کام اپنے آپ کو خوش کرنے کے لیے ضرور کرتا ہوں۔ چاہے وہ کتنا بڑا ور چاہے وہ کتنا چھوٹا ہو۔۔۔ مجھے سکون دیتا ہے ، خوش کر دیتا ہے۔ مجھے یوں لگتا ہے جیسے میرے وجود کی کوئی اہمیت ہے۔۔۔ بالکل ایسے ہی رات کو میرے دل نے کہا کہ تم سب کو دیکھے دِن ہو گئے ہیں مجھے جانا چاہیے۔ سو خود کو خوش کرنے کے لیے یہاں آ گیا ہوں۔۔۔ کیا کہو گی تم مجھے Selfish؟ ‘‘ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا۔

          ’’ نہیں آ پ بہت اچھے ہیں۔ ‘‘میں نے جانے کس جذب میں کہہ دیا۔ مگر انہوں اتنی حیرانگی سے مجھے دیکھا کہ میں اٹھ کھڑی ہوئی۔ مجھے یوں لگا جیسے انہوں نے کوئی نئی Discoveryکر لی ہو۔۔۔ میرے اندر کے راز کی Discovery۔۔۔ لیکن پیار تو ایک لہر کی طرح ہوتا ہے۔ اسے بہے جانا ہے۔ اسے سمندر کی کشش کھینچ لے گی۔ جہاں بھی ہو گی۔ میں کیا کرتی۔ میں لہر لہر ہو کر سمندر کی طرف کھنچ رہی تھی۔۔۔

          انہوں نے کچھ بھی نہیں کہا اور چلے گئے۔۔۔

          انہوں نے ’’ اور کیا کرتی رہتی ہو؟‘‘ کی تفصیل بھی نہ لی۔ اور نہ کوئی نئی امید کی فصل اگائی۔ وہ چلے گئے۔ رات خاموشی سے دن سے گلے لگنے کو بے قراری سے آگے بڑھ رہی تھی  اور بھائی جی کے وجود کی کمی بے قراری بن کر میرے اندر تاریکی کی طرح بڑھ رہی تھی۔

          ’’مجھے لگتا ہے بھائی جی کہیں سیریس ہو گئے ہیں۔‘‘ آپا کا انکشاف مجھے ہلا کر رکھ گیا۔ مجھے یوں لگا  جیسے کوئی میرے وجود کو مجھ سے الگ کر رہا ہو۔

           ’’ کیسے ؟ ‘‘ میں نے معصومیت کی ایکٹنگ کی۔ شاید اس امید پر کہ اب شاید آپا میرا نام بتا کر بم گرا دیں مجھ پر۔۔۔ لیکن ایسا تو آپا نہ بتا رہی تھیں۔

          ’’ اس لیے کہ بڑی ممانی ( جو بقیہ لوگوں کی تائی جی تھیں ) سے انہوں نے شادی کی درخواست پر غور و خوض کرنے کی ہامی بھر لی ہے۔۔۔‘‘

          ’’اوہ۔۔۔ ‘‘میں نے آہ بھری۔

          بھئی اتنے بڑے ہو گئے ہیں۔ آخر کب شادی کریں گے لیکن میرا دل چاہتا ہے کہ بھائی جی کی شادی بہت اچھی لڑکی سے ہو۔۔۔ تاکہ ہم سب ایسے ہی رہیں۔۔۔ واقعی بھائی جی صحیح کہتے تھے کہ ایک لڑکی دنیا کا واحد محور ہے جس کے گرد سب گھومتے ہیں۔ سو خاندان کے اس محور کو دنیا کی اس طاقت ور مخلوق کو بہت سمجھ دار، پڑھا لکھا اور Well Oriented ہونا چاہیے۔۔۔ سو ہمیں آپ کے لیے بھی ایسی ہی Well Oriented Girl. Well  Mannered,کی تلاش ہے۔ جو آپ کی ذہنی اونچائی کا ساتھ دے سکے اور ہم سب سے رشتے نباہ سکے۔۔۔ یہ کیسی چپ تھی جو سر د رات کی طرح مجھے سے لپٹے جا رہی تھی۔۔۔ سچ کی طرح مجھے پور پور کڑوا کر رہی تھی۔ مجھے تنہا کر رہی تھی۔

          مجھے چھوٹی گڑیا ہونے کی سزا دے رہی تھی۔حالانکہ میں اب فزکس میں ماسٹر کا سوچ رہی تھی تاکہ ریسرچ ورک میں جا سکوں۔۔۔

          ’’تمہارا کیا خیال ہے۔۔۔‘‘ آپا نے مجھے چونکا دیا۔

          ’’میرا خیال۔۔۔ کس بارے میں ؟ ‘‘

          ’’یہی۔۔۔ بھائی کی شادی کے بارے میں ؟ ‘‘انہوں نے کروٹ بدلتے ہوئے پوچھا۔

          ’’میں کیا کہہ سکتی ہوں۔۔۔ یہ خالصتاً ان کا ذاتی معاملہ ہے۔۔۔‘‘میں نے موضوع ہی بدل دِیا۔

          مجھے یاد آیا، بھائی جی ایک دن کہہ رہے تھے کہ، دنیا میں بہت سارے کام اس شادی اور محبت جیسے مسائل سے اہم ہیں۔ میں حیران ہوتا ہوں کہ لڑکیوں کو سوائے ان خوابوں کے کچھ سوجھتا ہی نہیں۔۔۔ تم سب ہالی وُڈ اور بولی وُڈ کے Fantasy Worldمیں رہتی ہو۔ اوئے پاگل لڑکیو! وہ تو مارکٹینگ کرتے ہیں پیسے بنانے کے لیے اور تم سب اپنی زندگی آئیڈیل بنانے کے چکر میں الجھ جاتی ہو۔  Lets Come in Reality World Girls.۔ اور واقعی حقیقت یہی تھی کہ ہم فینٹسی ورلڈ میں رہنے والی لڑکیاں تھیں اور شاید انہوں نے سمجھا کہ میں ذرا سی الگ ہوں ان سب سے کہ میں زیادہ تر چُپ رہتی تھی۔ سو انہوں نے سوچا کہ شاید میں خوابوں میں رہنے والے لوگوں سے مختلف ہوں اس لیے میں ان کی باتوں پر غور کروں گی ، مان لوں گی، انہیں بتا دونگی کہ خواب اور حقیقت کیا ہے۔۔۔ سو میرا بدلنا، میری سوچ۔۔۔ انہوں نے یہ سب کچھ جیت کی طرح قبول کر لیا صرف فاتح بن کر، جبھی تو کتنے مزے سے اپنی پسند کی لڑکی شاز، جو ا نہی کی طرح ریسرچ کر رہی تھی ،مختلف تھی۔انٹلیکچول (Intellectual) تھی۔ دونوں کے شوق ایک جیسے تھے۔ اس کے حق میں ووٹ دے دیا۔۔۔ حالانکہ پیار کے ، قرب کے خواب تو آپ نے اور شاز نے بھی دیکھے ہوں گے لیکن وہ ہماری طرح چھوٹی اور گڑیا ٹائپ تھوڑی تھی۔۔۔

          ’’ چلو یہ قومی مسئلہ بھی ختم ہوا۔‘‘رانی کہہ رہی تھی۔

          شاید مجھے حقیقت میں لانا چاہ رہی تھی۔

          کپڑے کیسے بنیں گے۔۔۔ یہ مسئلہ آپا کا تھا۔          

          کہاں سے سلیں گے۔۔۔ یہ بوکھلانا چھوٹی ممانی کا تھا۔

          کتنے دن پہلے ڈھولک رکھا جائے گا۔۔۔ نانی جی کی خوشی پرانی تھی۔

          یہ سب کیا ہو رہا تھا۔۔۔ لیکن سب کچھ نارمل ہو رہا تھا۔ میرے ساتھ یہی کچھ مختلف ہو رہا تھا ہمیشہ کی طرح۔۔۔ خواب میں نے دیکھے تھے لہٰذا سزا بھی یک طرفہ ہی ہونی چاہیے۔۔۔ اشتباہِ نظر میرا تھا سو بکھرنا بھی میرا ہی حاصل تھا۔ اور میرے اس راز کا ہم راز بھی تو کوئی نہ تھا۔۔۔ سو کہنا اور سننا بھی کیا تھا۔ بس اب۔۔۔

          میں اڑتے اڑتے تھک گئی تھی۔۔۔ چلتے چلتے گر رہی تھی۔۔۔

          میں واقعی الگ ہو گئی تھی سب سے۔۔۔ جیسے کونج ڈار سے۔۔۔

          جد ا جدا سی۔۔۔ یہ کیسی Discoveryتھی۔ جو ابھی ابھی ہو ئی تھی۔

          کسی نے بھی بھائی جی کا خواب نہ دیکھا تھا۔

          اِک میں ہی