کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

بلی کا بچہ

راجندر سنگھ بیدی


 کچھ نہیں۔ کوئی کام نہیں تھا، ایسے ہی چھٹپٹا کے باہر نکل گیا تھا۔ سر حد پر لڑائی کے کارن سب کاروبار سُست ہو گئے تھے۔ زندگی میں جس ارتعاش کو ہم ڈھونڈا کرتے ہیں، وہ لڑنے کے لیے محاذ پہ چلا گیا تھا اور جو بچ رہا تھا،روزانہ اخباروں میں سمٹ آیا تھا۔ بار بار پڑھنے جانے کے باوجود آدھ پون گھنٹے میں ختم ہو جاتے تھے۔ … نوعمری میں ایسا ہوتا تھا۔ ایک مبہم سے احساس کے ساتھ باہر نکل جاتے تھے— آج کچھ ہونے والا ہے!… ہوتا ہواتا جب بھی کچھ نہ تھا، چنانچہ آج بھی کچھ نہ ہوا، سواے اس واقعے کے جس کے بارے میں آپ کو بعد میں بتاؤں گا… میرے ساتھ بے کاروں کی پوری کی پوری پلاٹون تھی، جیسے کوئی فوجی دستہ دشمن کی نقل و حرکت بھانپنے کے لیے نکل جاتا ہے، اسی طرح ہم بھی نکل جاتے تھے اور اس اسٹوڈیو سے اُس اسٹوڈیو تک گھومتے رہنے کے بعد شام کو برٹورنی پہنچ جاتے، جہاں تلے ہوئے نمکین کاجو کے ساتھ چائے یا کافی کی ایک آدھ پیالی پی لیتے اور پھر ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگتے—کون بل دینے کے لیے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالتا ہے؟ تھوڑی دیر کے بعد، اپنی جیب کی بجائے ہم ایک دوسرے کی جیب میں ہاتھ ڈالنے لگتے، جو ہوتے ہوتے گریبان تک پہنچ جاتے، آخر بل کون دیتا؟— میں! بے کاری کا احساس جس کی ہڈیوں تک میں بس گیا تھا—باپ رے! کوئی بے کاری سی بے کاری تھی؟ رات کو دیکھ کے دن یاد آیا اس پہ برٹوری کی ہیریٹ کو تھینک یو بھی مجھے ہی کہنا پڑتا— پھر کلیان، رشی اور ہمارا عیسائی دوست، جسے ہم ’’جیگوار‘‘ کہا کرتے تھے، شکار کے لیے نکل جاتے، جسے وہ سیر و سیاحت کہتے۔ یہ ماں کے مار کو پولوچین تھوڑے ہی جاتے؟ بس میرین ڈرائیو پہ پہنچ کر دو، دو سو گرام گنڈیریاں چوستے، کچھ چھلکے بولے وارڈ پہ پھینکتے اور کچھ سمندر میں اور لہروں کے ساتھ انھیں واپس آتے ہوئے دیکھتے۔ یعنی ان کی ہر چیز کچھ دُور جا کر واپس آتی ہوئی دکھائی دیتی۔ پھر وہسکی کی بھولی بسری یاد میں یہ لوگ گیلی اور نمکین مونگ پھلی کھاتے۔ آخر بدمزہ ہو کر نریمان پوائنٹ پہ سولہ مِلی میٹر کی پروپیگنڈا فلم دیکھنے لگتے ، جس کو حکومت کسی اندیشے میں مفت دکھاتی۔ پھر گھبرا کر گھر لوٹ آتے، جہاں ان کی بیویاں ان سے دن بھر کی کار گزاری لفظ بہ لفظ سننے پہ اصرار کرتیں اور ان کے جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ سمجھتیں۔ ایک حبس کے احساس کے ساتھ ان کا جی پھر باہر بھاگ جانے کو چاہنے لگتا۔ درحقیقت ہم سب کا گھر باہر ہو رہا تھا اور باہر گھر —جب شہر کی طرف جاتے تو یوں معلوم ہوتا جیسے گھر لوٹ رہے ہیں، اور گھر لوٹتے تو یوں لگتا جیسے باہر نکال دیے گئے۔ اس ’باہر‘ کی کھلی ہوا میں بیوی کے پھپھوندی لگ جاتی۔ ہاتھ لگاؤ تو ہاتھ پہ چلی آتی، جس سے گھبرا کر ہم اسے ’گھر‘ چلنے کا مشورہ دیتے لیکن وہ صاف جواب دے جاتی—گھر میں خرچ ہوتا ہے۔ ہم یہیں ’’باہر‘‘ اچھے ہیں۔ آج ہم پیرسین ڈیری جانے کے لیے نکلے تھے۔ اگر آپ بمبئی کے جغرافیے سے واقف نہ ہوں تو میں آپ کو بتادوں—پیرسین ڈیری ایک ریستوران ہے جو بمبئی کی میک موہن لائن پہ واقع ہے۔ یعنی شہر کی سرحد وہاں ختم ہو جاتی ہے اور سمندر شروع ہوتا ہے۔ ڈیری کا لفظ تھوڑا مغالطے میں ڈالتا ہے، کیونکہ وہاں گاے بھینس نہیں ہوتیں، صرف کچھ موٹی عورتیں ہوتی ہیں، جن کے اسکرٹ اور ساریاں سمندر سے آنے والی تیز ہوا، اُڑاتی رہتی ہے اور جنھیں سنبھالے ہوئے ان کا معنوی حُسن اور بڑھ جاتا ہے اور عشق کے مار کو پولو موہوم امیدیں لیے سامنے بیٹھ کر سیو سیو پیا کرتے ہیں،جو سیب کے رس سے بنتا ہے اور جس کے لیبل پہ صاف لکھا ہے—اس میں شراب نہیں ہے!… کولا سے گھبرا کر لوگ سیو سیو پیتے ہیں اور سیو سیو سے وحشت ہوتی ہے، تو کولا پہ لوٹ آتے ہیں، جیسے پڑھے لکھے لوگ پالیٹکس سے گھبرا جاتے ہیں تو سیکس پہ چلے آتے ہیں اور جب سیکس سے وحشت ہونے لگتی ہے تو پھر پالٹیکس پہ لوٹ آتے ہیں اور جب دونوں بے کار ہو جائیں، تو جیوک باکس میں ایک چوَنی ڈال کر اپنے مطلب کا ریکارڈ سننے لگتے ہیں۔ اپنا اپنا پیار کا سپنا —آخر باہر چل دیتے ہیں— کلیان کے پاس ایک پھٹیچرسی گاڑی تھی، جس کی بیٹری ایک ادھیڑ عمر کی عورت کی طرح بات بات پہ ناراض ہو جاتی تھی اور بعض وقت تو کوئی بات بھی نہ ہوتی تھی اور یہ ڈاؤن!… ایک عجیب طرح کی کلائی میکٹرک دور آیا تھا۔ اُس پہ حیض ویض سب ختم ہو چکا تھا۔ اور وہ بے حد چڑچڑی ہو رہی تھی۔ سب کے سامنے اسے سڑک پہ دھکیلتے ہوئے ہم عجیب سے لگتے تھے۔ اس وقت وہ سب کمینے جنھوں نے ہماری طرف دیکھ کر کبھی سر بھی نہ ہلایا تھا، فوراً پہچان جاتے اور آواز دیتے— ’’ہیلو شرماجی…‘‘ اور میں جواب میں ان سے وہی سلوک کرتا جو پھٹیچرگاڑی سے پہلے وہ مجھ سے کرتے۔ ایسی خالی نگاہوں سے ان کی طرف دیکھتا کہ انھیں واقعی میں کوئی اور دکھائی دینے لگتا۔ اور وہ اس قدر گھبرا جاتے کہ پھر مجھے بھی وہ کوئی اور دکھائی دینے لگتے۔ ہم ابھی دادر ونسٹ روڈ پر سے گزر رہے تھے، جب کہ مجھے یاد آیا پروڈیوسر ڈھولکیا نے سویرے ایک لڑکے کی معرفت مجھے بلوا بھیجا تھا۔ امید ایکا ایکی ، ہائیڈروجن بم کے ککرموتے کی طرح میرے حواس پہ چھا گئی۔ جذبات اور خیالات کا ایک دوسرے پہ سلسلہ وار عمل اور ردّ عمل ہونے لگا۔ جبھی میں نے زور سے آواز دی ’’روکو کلیانی، گاڑی روکو۔‘‘ کلیانی نے حیران ہو کر میری ہنکار کو سُنا۔ رشی ہانپتے ہوئے بولا’’تو سمجھتا ہے پہلے چل رہی ہے؟‘‘ داس نے سر ہلا دیا۔ وہ دم لینے کا کوئی بھی بہانہ چاہتا تھا، اس لیے پرے چل کر فٹ پاتھ پر بیٹھ گیا۔ اگلے ہی لمحے وہ مُردے کی طرح مطمئن نظر آ رہا تھا۔ میں نے اپنے لہجے میں اور منّت پیدا کی— ’’یار میں بھول ہی گیا… ڈھولکیا نے بلوایا ہے… شاید۔‘‘ ’’وہ سب ہنڈل مارتا ہے‘‘ کلیان نے سر کو جھٹکا دیتے ہوئے کہا— ’’ہم اس کی پکچر کا فوٹوگرافی کیا—ایک دم انگلش!…پھر کیا ہوا؟‘‘ میں نے کلیان کو تسلی دیتے ہوئے کہا ’’سالا اس کا اپنا فوکس خراب ہے۔‘‘ ڈھولکیا ایک آنکھ سے کانا تھا۔ آپ تو جانتے ہیں۔ بے کار لوگ جتنی جلدی ناراض ہوتے ہیں، اس سے جلدی خوش بھی ہو جاتے ہیں۔ ہنستے ہوئے اس نے گاڑی کا وہیل دادر روڈ کی طرف گھما دیا۔ کچھ دیر میں ہم اسٹوڈیو کے سامنے تھے۔ کلیان نے باقیوں کو روک لیا اور مجھے اندر جانے کے لیے کہا۔ خود بونٹ اٹھا کر وہ گاڑی میں یوں دھنس گیا کہ باہر صرف دو ٹانگیں دکھائی دینے لگیں۔ معلوم ہوتا تھا کوئی بچہّ اُلٹا پیدا ہو رہا ہے۔ میں چاہتا بھی نہ تھا، جیگوار، رشی ، داس اور کلیان میں سے کوئی میرے ساتھ اسٹوڈیو میں چلے۔ بعض وقت کسی کی ایسی بات بھی ماننا پڑ جاتی ہے جو آدمی ہر کسی کے سامنے نہیں مان سکتا۔ ادھر جب ہر کسی کی پکچر بیٹھ رہی تھی، ڈھولکیا صاحب کی چل نکلی، اور اس نے جوبلی منائی۔ اب اسے قابل لوگوں کی ضرورت تھی۔ میں قابل نہ سہی لیکن اوسط درجہ کا آرٹسٹ ضرور تھا… نہیں نہیں، مجھے میرے اسی انکسار نے مارا ہے، جو اس شو بزنس میں نہیں چلتا۔ خود اپنا ڈھول پیٹنا پڑتا ہے۔ آخر میرے مقابلے کا کریکٹر ایکٹر اور تھا کون؟ جرنلسٹ پاگل تو نہیں تھے جنھوں نے تصویر’’ مہا ملن‘‘ میں ایوارڈ مجھے دلوایا تھا۔ غالباً اسی بات سے مرعوب ہو کر ڈھولکیا نے مجھے بلوایا تھا۔ چونکہ وہ خود ڈھولکیا تھے، اس لیے ہر بات میں اپنا ڈھول پیٹنے کے ساتھ بیچ میں کہیں میرا بھی پیٹ ڈالا ہو گا۔ اسٹوڈیو میں پہنچا تو ڈھولکیا صاحب سامنے بیٹھے ہوئے مل گئے۔ وہ اس وقت ایک ایکسٹرا لڑکی کا اس کے سپلائر کے ساتھ جھگڑا چکا رہے تھے۔ مجھے آتا دیکھ کر لڑکی ایک طرف ہٹ کے کھڑی ہو گئی۔ ڈھولکیا صاحب ایسے ہی چوکنّے ہو گئے۔ ایک خواہ مخواہ کا تناؤ پیدا ہو گیا۔ ایک تیز سی نظر سے سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ آنکھوں ہی آنکھوں میں کسی پنچ شیل پہ دستخط ہو گئے اور کومل وہاں سے سٹک گئی۔ ڈھولکیا صاحب مجھ سے باتیں کرنے لگے۔ اور میں ان کی باتوں کے بین السطور، اپنا مطلب ڈھونڈنے لگا۔ بات اتنی بڑھ گئی کہ بین السطور تو سب دکھائی دینے لگا، سطور گم ہو گئیں۔ آخر پتا چلا ڈھولکیا صاحب نے مجھے کلّو کی وادی کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے لیے بلوایا ہے، جہاں وہ آؤٹ ڈور کے لیے جا رہے تھے۔ ’’کلّو کی وادی بہت خوب صورت ہے‘‘ میں نے کہا ’’کلّو‘‘ میں ناشپاتیاں ہوتی ہیں اور سیب ہوتے ہیں۔‘‘ ’’اور کیا ہوتا ہے؟‘‘ ڈھولکیا صاحب نے پوچھا۔ ’’اور…؟ میں نے کچھ سوتے ہوئے کہا ’’کلّو میں سیب اور ناشپاتیاں ہوتی ہیں۔‘‘ —میں دراصل بھول گیا تھا۔ اس لیے نہیں کہ کلّو گئے مجھے پندرہ بیس برس ہو گئے تھے، بلکہ اس لیے کہ اس وقت دماغ پہ زور دینے کی کوئی وجہ نظر نہ آتی تھی۔ مجھے ڈھولکیا صاحب سے کوئی دلچسپی نہ رہی تھی۔ روئے زمین کے کسی آدمی سے کوئی دلچسپی نہ رہی تھی۔ اس پہ بھی میں کہہ رہا تھا اور ’’کلو میں پتھریلی زمین ہوتی ہے، جس میں کہیں سے ہریالی پھوٹ نکلتی ہے۔‘‘ ڈھولکیا کو میری ہریالی سے دلچسپی نہ تھی۔ میں نے انھیں بتایا ’’وہاں لُگڑی —چاولوں کی شراب ہوتی ہے، جسے پی کر مرد اور عورتیں باہر —بازار میں نکل آتے ہیں۔‘‘ ’’پھر ؟… پھر کیا ہوتا ہے؟‘‘ ’’پھر مرد — عورت کے گلے میں بانہہ ڈال کر جھومنے لگتا ہے۔ ساتھ اس کے گلے میں پڑے ہوئے چنبیلی کے ہار جھومنے لگتے ہیں۔ اور وہ بڑے عاشقانہ انداز سے اس کی نشیلی آنکھوں میں اپنی نشیلی آنکھیں ڈالتا ہوا کہتا ہے— ’’تو میری جوئی—مطلب، بیوی۔‘‘ ’’مطلب —کسی عورت کے گلے میں بانہہ ڈال کر؟‘‘ ’’اجی نہیں‘‘ میں نے کہا ’’اپنی بیوی کے…‘‘ ’’او—‘‘اور ڈھولکیا صاحب کچھ مایوس سے نظر آنے لگے۔ عام فلمی کہانی نے ان کے مذاق کو چوپٹ کر دیا تھا اور وہ ناتمام غیرمنتج زندگی کے عادی نہ رہے تھے۔ میں نے کہا۔ ’’کلّو کی لڑکیاں بے حد خوب صورت ہوتی ہیں۔ ڈھولکیا صاحب… ایک سگریٹ ایک سیٹی ان کے لیے بہت ہوتے ہیں‘‘ اور پھر سوچتے ہوئے بولا ’’یہ جب کی بات ہے، اب تو شاید پورے کارٹن کی ضرورت پڑے یا دس کے نوٹ—‘‘ ڈھولکیا صاحب نے سر ہلا دیا۔ میں سمجھ گیا، فلم میں یا لو لاکھ روپیا بھی کچھ نہیں ہوتا اور یا پھر ایک کھوٹا پیسا بھی بہت بڑی دولت ہوتا ہے۔ ڈھولکیا چونکہ تین تصویریں بنارہے تھے، اس لیے خرچ، ان کی بچت ہو گیا تھا۔ بولے ’’ہم کلّو میں دسہرے کا سین لیں گے…وہاں کی سو لڑکیوں کے ساتھ … لوکل ٹیلنٹ!‘‘ اور پھر انھوں نے وہ آنکھ ماری جو پہلے ہی مری ہوئی تھی۔ تھوڑی دیر میں، میں اسٹوڈیو کے کمپاؤنڈ میں آ چکا تھا۔ اوپر دیکھا تو سر پہ آسمان ہی نہ تھا۔ کمپاؤنڈ میں ایک فوارہ تھا جس میں کبھی پانی نہ آیا تھا اور اس کے کارن اِرد گِرد کی باڑ خشک ہو چکی تھی اور ہریالی کے بغیر اسٹوڈیو کا پورا منظر ایک کھنڈر ہو چکا تھا۔ کچھ دُور جا کر میرے پیر جیسے اپنے آپ رُک گئے اور میں لوٹ آیا۔ ڈھولکیا صاحب کے پاس پہنچتے ہوئے میں نے کہا —   ’’وہ — آزادی سے پہلے کی بات تھی ڈھولکیا صاحب! کہیں کوئی کام دلوائیے۔ کوئی چار چھ سین کا رول۔‘‘ ’’میرے پاس کچھ نہیں ہے‘‘ ڈھولکیا بولے ’’بیسیوں بار تمھیں بتا چکا ہوں۔‘‘ ’’کچھ تو بچا ہو گا‘‘ میں نے یوں ہی امید کا دھوکا پیدا کرتے ہوئے کہا ’’کچھ میرے حصے، میری تقدیر کا۔ آپ تو اَن داتا ہیں۔ رائٹر سے کہہ کے ایک آدھ رول بڑھوا دیجیے۔‘‘ ڈھولکیا صاحب نے میری طرف یوں دیکھا جیسے کوئی بہت بُری چیز کی طرف دیکھتا ہے اور سر ہلا دیا۔ اب وہ مجھے دھندلے دھندلے سے نظر آ رہے تھے۔ جب بھی میں بولتا گیا ’’ہمارا کوئی رول نہیں؟…کہیں بھی—ہمارا کوئی رول نہیں؟‘‘ ڈھولکیا صاحب نے ایک غیریقینی انداز سے میری طرف دیکھا، اور پھر منھ پرے کر لیا۔ ان کا نچلا ہونٹ جو پان کی پیک سے سُرخ اور سیاہ ہو چکا تھا، لٹکا ہوا تھا اور وہ چھوٹے سے ترمورتی نظر آ رہے تھے۔ اس وقت تو وہ تیسرا چہرہ تھے، جس پہ قہر کے جذبات ہوتے ہیں۔ ایسے میں شیو، جس کی طرف دیکھتے ہیں وہ فنا و برباد ہو جاتا ہے… میں نے اِدھر اُدھر دیکھا، کوئی قریب نہ تھا۔ چنانچہ میں نے ان کے پیر پکڑ لیے اور بولا ’’آپ جو بھی کہیں گے میں کروں گا ڈھولکیا صاحب… میں سچ کہتا ہوں، میرے بیوی بچّے بھوکوں مر رہے ہیں—میں مر رہا ہوں۔‘‘ اس پہ ڈھولکیا صاحب ہنس دیے۔ ’’مر جاؤ‘‘ وہ بولے ’’دنیا میں سینکڑوں لوگ روز مرتے ہیں، ایک تم مر گئے تو کیا ہو گا۔‘‘ ’’میں مر گیا تو… ‘‘ میں نے اپنے آپ کو سوچتے ہوئے پایا…’’کچھ نہیں ہو گا۔‘‘ جب تک کومل واپس آ چکی تھی، اور ڈھولکیا صاحب اس کا جھگڑا چکانے کے لیے اندر چلے گئے۔ میں باہر چلا آیا اور سوچنے لگا، ترمورتی کا ایک چہرہ وہ بھی تو ہے جس میں شیو بھگوان ، پوری کائنات پہ مسکراتے ہیں۔ جب پودے کھِل اُٹھتے ہیں اور ان کے کاندھوں پہ چھوٹے چھوٹے، یوں ہی ہوائیں دامن میں دونوں جہان کی دولت لیے اٹکھیلیاں کرتی ہوئی چلتی ہیں۔ اور ان کے کاندھوں پہ چھوٹے چھوٹے بادلوں کی مٹکیاں ہوتی ہیں، جن میں صحت کی شراب ہوتی ہے، جسے راستے میں آنے والے ہر چھوٹے بڑے کو پلاتی ہوئی وہ گزرتی جاتی ہیں اور اس وقت… یہ کس کا کہنا ہے، میں مر جاؤں گا تو کیا ہو گا؟ … میں بتاتا ہوں کیا ہو گا۔ میری بیوی جو میری وجہ سے کسی کے سامنے سر نہیں جھُکاتی، پناہ کے لیے میرے بھائی کے پاس چلی جائے گی۔ اس کے گلے میں رسّی ہو گی اور منھ میں گھاس…اور میری چھوٹی بھابی اس سے وہ سلوک کرے گی جو کوئی کھاج ماری کُتیا سے کرتا ہے۔ میں خود اپنی بیوی سے بدسلوکی کرتا ہوں۔ بہت غصّہ آئے تو کچھ کھینچ مارتا ہوں— میں جانور ہوں، لیکن— میں اسے خود ماروں گا۔ کاٹ ڈالوں گا، مگر کسی دوسرے کو اس کی طرف آنکھ بھی نہ اُٹھانے دوں گا… اور میرے بچّے —ڈالی، چنوں… ان کو بدن سے لگاتا ہوں تو میرا اپنا شریر گدرا جاتا ہے… معلوم ہوتا ہے، وہ گوشت ہی گوشت ہے، ہڈی اس میں نام کو نہیں… وہ مر جائیں گے گوشت بھی نہیں رہے گا، ہڈی بھی نہیں رہے گی… نہیں میں مر جاؤں گا تو یہ سب میری آنکھوں کے سامنے تو نہ ہو گا۔ پندرہ بیس گز کے فاصلے میں آدمی کتنا سوچ سکتا ہے، آپ کو اس کا اندازہ نہیں۔ میں نے سب پُرانے درشن شاستر اور آج کل کے نئے فلسفے سوچ ڈالے تھے ۔ میں نے جیل کی دیواریں سوچ ڈالی تھیں، محلوں کے کنگرے سوچ ڈالے تھے۔ کسی نے گنگا میں ایک ڈبکی لگاتے ہوئے پوری زندگی جی ڈالی تھی، تو میں نے بھی اتنے عرصے میں ایک نہیں کئی زندگیاں جی لی تھیں۔ ایسی زندگیاں جن میں آدمی مرتا نہیں، صرف شکل بدل لیتا ہے… پھر یہ موت سے ڈر کیسا تھا؟ میری بیوی … بچّے… کسی دوسری شکل میں ان کی بھی شکل دوسری ہو گی!… نہیں، میں انھیں انہی شکلوں میں دیکھنا چاہتا ہوں۔ مادّۂ حیات اپنی اَن گنت جمع تفریق میں کتنا ہی اپنے آپ کو دُہرائے، کتنا ہی سر کو کیوں نہ پٹکے، ایسی پیاری شکلیں پھر نہ بنا سکے گا۔ نہ ایسی ہنسی دیکھنے میں آئے گی نہ ایسی خوشی اور نہ ایسا رونا…آخر رونا اور پھر رونے والے کو پچکارنے ، دِلاسا دینے میں بھی تو ایک مزا ہے… لیکن… کیا آدمی اتنا ہی کٹھور ہو گیا ہے؟— کہیں کوئی مر جائے، اسے پروا نہیں کیونکہ اس کا حلوہ مانڈا، اس کے بوٹی کباب، شراب اور عورت بنے ہیں۔ میرے دو بچّے ہیں۔ ڈالی بڑی لڑکی ہے تین سال کی اور چنوں سال سوا سال کا ہے—بیٹا… پنگورے میں پڑا، اونی سوئٹر میں پھنسا ہوا، وہ بالکل ایک بلّی کا بچّہ معلوم ہوتا ہے۔ میری بیوی اسے ڈالی سے زیادہ پیار کرتی ہے، اس لیے کہ وہ مقابل کی جنس کا ہے—نرجو میری نسل کو آگے چلائے گا۔ یہ ٹھیک ہے۔ مگر میری نسل—ایک بے کار، بے ہودہ آدمی کی نسل… چنوں کو پیار کرتی ہوئی وہ آدھی پاگل ہو جاتی ہے۔ اسے نہلا دھُلا کر لاتی ہے اور ایک نرم سے تولیے سے اس کا بدن پونچھتی ہے۔ وہ ہنستا روتا، مچلتا ہے اور میری بیوی اسے گدگدی کرتی ہے۔ ایسا کرنے میں اس کے اپنے گدگدی ہونے لگتی ہے۔ میں جو دیکھتا ہوں اس کی بھی گدگدی ہونے لگتی ہے۔ جیسے میری بیوی کی انگلیاں چنوں کے بدن پہ نہیں، میرے بدن پہ ناچ رہی ہیں۔ تھوڑی ہی دیر میں ہم کیڈل روڈ پہ جا رہے تھے۔ جو لوگ بمبئی کے جغرافیے سے واقف ہیں، جانتے ہیں دادر سے پیرسین ڈیری جانے کے لیے نکلیں، تو کیڈل روڈ راستے پہ نہیں پڑتی۔ ایسے لوگوں کو میں بتا دوں، اگر کسی مرد کا نام کلیان ہواور اس کی بیوی کا نام راجی… اور درشن نام کی کوئی لڑکی راستے میں آ پڑے، تو پھر کیڈل روڈ بھی پڑسکتی ہے۔ درشن کلیان کی ’وہ‘ تھی، اگرچہ کلیان بے کار تھا، پانچ بچّوں کا باپ تھا۔ اس کی گاڑی کھٹارہ تھی، اس پہ بھی درشن کلیان کے لیے— ’’یہ سب کچھ اور جنت بھی‘‘ کا رتبہ رکھتی تھی اور ہم کلیان کو ہمیشہ اس بے راہ روی پہ ڈانٹا کرتے تھے۔ لیکن اس دن مجھے پتا چلا—سب ٹھیک ہے… اگر وہ سب ٹھیک ہے تو یہ بھی ٹھیک ہے… کلیان ڈھولکیا کی طرح کا نہ تو ہول سیلر تھا اور نہ کسی کی مصیبت سے فائدہ اٹھانے والا … درشن تو ایسے ہی تھی، جیسے راہ جاتے کسی کے گھر میں لگے جھاڑ سے رات کی رانی کی خوشبو آ جائے… انسان کہاں تک اپنی ناک بند کر کے چل سکتا ہے؟… وہ یہ سب کرنا چاہتا ہے اور پھر بیٹھ کر رونا، پچھتانا بھی… اگر وہ روئے پچھتائے نہیں، تو ہمارے مندر، ہماری مسجدیں اور گرجے کہاں جائیں؟ کہاں جائیں اسکولوں کے ماسٹر اور قوموں کے راہنما؟… بڑی بڑی نصیحتیں، لمبے چوڑے بھاشن اور گنجلک فلسفے؟… لیکن ہم ابھی درشن کے فلیٹ پہ پہنچے ہی کہاں تھے۔ سامنے کسی حادثے کی وجہ سے ٹریفک رُک گئی تھی… جہاں سے ٹریفک رُکنا شروع ہوئی تھی۔ وہاں کچھ دو منزلہ بسیں کھڑی تھیں۔ آخری بس کے پیچھے کچھ کاریں ، وین اور ٹھیلے وغیرہ تھے جن میں سے لوگ لپک لپک کر موقع واردات پہ پہنچ رہے تھے۔ کچھ لوگ گاڑیوں میں بیٹھے پاں پاں ٹاں ٹاں کر رہے تھے اور کچھ لوگ اِدھر اُدھر ہو کر نکل جانا چاہتے تھے، لیکن ایک گٹھی ہوئی لائن میں پھنس چکے تھے۔اگر کوئی نکلتا بھی تو مخالف سمت سے آتی ہوئی گاڑیاں اسے جگہ نہ دیتیں۔ کیا ہوا؟ کون ماں کا لال تھا، جو آج بیچ سڑک کے پڑا تھا؟ آج کس کی پیاری کا انتظار صدیوں پہ پھیل گیا تھا؟… میرا دل ڈوبنے لگا۔ ہم تینوں چاروں، گاڑی سے نکل کر لپکے۔ ڈھولکیا کے الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے تھے۔ ایک تم مر گئے تو کیا ہو گا؟… کیا واقعی، کچھ نہ ہو گا؟ یہ جو چل بسا ہے اس کے مرنے پہ بھی کچھ نہ ہو گا؟ شاید انسان اتنا ہی سنگ دل ہو گیا ہے… جب ہی اس نے ایک دوسرے کو تہس نہس کرنے کے لیے اس قدر خوفناک ہتھیار ایجاد کر لیے ہیں۔ ایسی سنگ دِلی اور بے رحمی کے بغیر جن کا استعمال ہی ممکن نہ تھا… کیا اس بدقسمت کے لیے کوئی نہیں مرے گا؟… کوئی اپنا خون نہیں بہائے گا؟… انسان کے لیے کوئی امید نہیں… جب تک ہم موقع پہ پہنچ چکے تھے… لوگ ہنس رہے تھے —یہ کیسے لوگ تھے؟ پھر کچھ اور قہقہے پڑے اور کسی کے پیچھے کی طرف بھاگنے کی آواز آئی۔جیگوار ہم سب سے لمبا تھا۔ بھیڑ کے پیچھے کھڑے ہو کر اُس نے ایڑیاں اُٹھائیں اور سڑک پہ دیکھا۔ اُف! صورت کیسی مسخ ہو چکی ہو گی، بس کے ساتھ ٹکرانے سے چیتھڑے اُڑ چکے ہوں گے اور خون— جبھی جیگوار لوٹا تو وہ بھی ہنس رہا تھا۔ میں بھاگ کر بس کی لینڈنگ پہ جا کھڑا ہو، جہاں سے میں نے دیکھا— وہ نظارہ میں زندگی بھر نہ بھولوں گا، جس کے دیکھنے کے بعد لوگوں کی زبان پہ قہقہے تھے اور میرے گلے میں آنسو، جن کے بھنور میں ڈھولکیا اور اس کی قماش کے سب لوگ ڈوب گئے تھے اور جن سے انسان کی معصیت دھُل گئی تھی— ایک بِلّی کا بچّہ بائیں حصّہ پہ تقریباً سڑک کے بیچ بیٹھا ہوا تھا اور بس کے ڈرائیور کنڈکٹر اور دوسرے لوگ اسے ہٹانے، بھگانے کی کوشش کر رہے تھے۔ لیکن وہ اپنی جگہ پہ گل محمد ہو رہا تھا! وہ بے حد خوب صورت تھا — بِلّی کا بچّہ!… مشکل سے دو مہینے کا ہو گا۔ اس کا رنگ سفید تھا، جس پہ کہیں کہیں شربتی سے چھینٹے دکھائی دیتے تھے۔ آنکھوں پہ دو گہرے نارنجی سے داغ تھے جن میں سے اس کی پیلی، چمکتی ہوئی آنکھیں اور بھی پیلی چمکیلی دکھائی دے رہی تھیں۔ معلوم ہوتا تھا کوئی عورت کچھ بُنتی ہوئی ادھر سے نکلی ہے اور اُس کے پرس یا ٹوکری میں سے اُون کا گولا سڑک پہ گِر گیا ہے… ایک طرف اوٹو ایکسپریس تھی، قریباً بارہ فٹ اونچی اور دوسری طرف وہ تھا، بلّی کا بچّہ ! جو اپنے بے بضاعت وجود کے باعث مقابلے میں اور بھی بے بضاعت ہو گیا تھا۔ کنڈکٹر اسے بچانے ، سڑک پر سے ہٹانے کے لیے بڑھا تو وہ اسی پہ جھپٹ پڑا۔ اس بظاہر بے ضرر، اُون کے گولے میں نہ جانے کہاں سے تیز نوکیلے پنجے نکل آئے ہیں، جنھوں نے کنڈکٹر کے ہاتھ پہ خراشیں پیدا کر دیں اور ان میں سے خون کے باریک سے قطرے اُمڈنے لگے۔ اس پہ بھی کنڈکٹر خفا نہیں، اُلٹا ہنس رہا تھا۔ ’’ہے نا سالا‘‘ وہ کہہ رہا تھا ’’اسی کی جان بچانے کے لیے یہ سب کر رہے ہیں، اور یہی نہیں جانتا۔‘‘ ’’کتنا ناشکرا ہے‘‘ ایک عورت نے کہا۔ اور وہ بدستور کھڑا ابھی تک کنڈکٹر کو گھور رہا تھا اور غرّانے کی نقل اُتار رہا تھا۔ جیسے کوئی چیلنج دے رہا ہو — ’’بیٹا پھر تو آؤ!‘‘ اور جب کنڈکٹر نے ہمت نہ کی، تو وہ پھر تھوڑا پیچھے ہٹ کر وہیں بیٹھ گیا، اور گلاب کی پتّی سی زبان نکال کر اپنی پیٹھ چاٹنے لگا۔ ڈرائیور نے کچھ بیزاری کے لہجے میں کنڈکٹر سے کہا ’’کتنے لیٹ ہو گئے یار—‘‘ گویا اس خوبصورت حادثے میں بچارے کنڈکٹر کا قصور تھا۔ بس کے بازو میں ایک ٹھیلے والا تھا، جس کے ٹھیلے پہ تیزاب کی بڑی بڑی بوتلیں پڑی تھیں۔ گویا ایک طرح کا بارود تھا، جو ذرا سی ٹھوکر لگنے پر پھٹ سکتا ہے۔ وہ اپنی گھبراہٹ میں پسینہ پسینہ ہو رہا تھا۔ بلّی کے بچے کے پاس پہنچتے ہوئے ٹھیلے والے نے دو ہاتھ اس کی طرف جوڑ دیے اور بولا۔ ’’اب اُٹھ جا میرے باپ… بہت ہو گئی۔‘‘ اسے آگے بڑھتے دیکھ کر بلّی کا بچّہ پھر تننے لگا۔ بھیّا ذرا ڈر کر پیچھے ہٹا، تو بلّی کے بچّے نے ایک نہایت ہی لطیف مترنم سی آواز نکالی— ’’میں آؤں۔‘‘ اس پہ سب ہنس پڑے اور بس کا ڈرائیور بولا ’’ہاں حضور— آپ آئیے۔‘‘ جب تک کچھ اور ٹریفک پیچھے رُک گئی تھی اور ڈرائیور لوگ ہارن بجا رہے تھے۔ ایک مرسی ڈیز سے کوئی خوب رو نوجوان نکلا، اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا منظر پہ چلا آیا۔ پہلے تو وہ بلّی کے بچّے کی طرف دیکھ کر ٹھٹکا۔ پھر اس نے سب کو پیچھے دھکیل کر ایک ٹھڈے سے قصّہ ہی پاک کر دینا چاہا۔ جبھی لوگ لپکے۔ ’’ہے ہے، ہے ہے‘‘کی آواز بلند ہوئی اور وہ خوش پوش نوجوان اپنے جامہ کو عملی جامہ نہ پہنا سکا— ’’کیا بکواس ہے وہ بولا، گیارہ بجے میرا جہاز اُڑ جاتا ہے۔‘‘ لوگ اس کی طرف یوں دیکھ رہے تھے، جیسے اس کی روح بھی اُڑ جائے تو پروا نہیں۔ نوجوان نے غصّے سے ہاتھ اپنی پتلون میں ٹھونس لیے اور پسپا ہو گیا۔ پھر اپنی اعصاب زدگی میں آگے —— اور مجبور و مقہور لوٹ گیا، بکتا جھکتا ہوا ——‘‘ یہ اسی ملک میں ہو سکتا ہے… ایک بلّی کا بچّہ اتنے بڑے شہر کی ٹریفک روک سکتا ہے۔‘‘ ایک نے مسخری کی— ’’پولس کو بلوائیے صاحب۔‘‘ نوجوان نے زور سے پیر زمین پر مارا اور بولا ’’میں ابھی ٹیلی فون کرتا ہوں— فائر برگیڈ والوں کو۔‘‘ اور سب ایک آواز میں ہنس دیے۔ جب ہی مجمع میں سے آوازیں آئیں ’’گیا گیا‘‘۔ کسی کو خیال بھی نہ تھا، اس بات کا گمان بھی نہ تھا کہ اتنے بڑے مسئلے کا حل یوں ایک پل میں ہو جائے گا۔ بلّی کا بچّہ جیسے اپنے آپ کسی اندرونی ترغیب سے اُٹھا۔ بیچ میں سے کمر اوپر اُٹھائی، دُم تانی جس کے سرے پہ شربتی رنگ کا ایک بڑا سا گپھا تھا۔ پھر اگلے پنجے آگے رکھے، پچھلے پیچھے، اکڑا ،گلابی سا منھ کھول کر جمائی لی۔ ارد گرد کے پورے منظر کو کچھ تعلق اور کچھ بے تعلقی سے دیکھا اور ایک نہایت ہی سُست رفتار میں سڑک کے دائیں طرف چل دیا۔ ’’گیا نرسی بھگوان—‘‘ بس کے ڈرائیور نے کہا۔ ’’گیا… گیا…‘‘ سب نے تالی بجائی اور ہنستے ، کلکاریاں مارتے ہوئے اپنی اپنی گاڑی کی طرف لپکے۔ گاڑی کو راستے سے ہٹانے، ہَوا ہو جانے کے لیے۔ لیکن وہ —بلّی کا بچّہ ، بڑی تمکنت سے چلتا ہوا، اب دائیں طرف تقریباً سڑک کے بیچ پھر دھرنا مارکر بیٹھ گیا۔ اب مخالف سمت کی ٹریفک رُکنا شروع ہوئی۔ بائیں طرف سے نکل جانے کا کوئی راستہ نہ تھا۔ کوئی اس فضول سی زندگی کو روندتا ہوا نکلنا بھی چاہتا ،تو لوگ اسے روک دیتے اور وہ اپنے سامنے بے شمار زندگیوں کی ایک چٹّان سی کھڑی پاتا، جن کے ہونٹوں پہ کف بھی ہوتا اور ہنسی بھی۔ پھر وہی منظر دُہرایا جانے لگا۔ عجیب نادر شاہی تھی—بلّی کے بچّے کی، اور عجیب تخت طاؤس تھا اس کا۔ بیٹھنا ہی تھا تو کہیں اور بیٹھتا… اتنی جگہ تھی اس کے لیے ۔ شاید بلّی کے بچّے کا مطلب تھا، دھرتی کے اس حصّے پہ تمھارا حق ہے، تو میرا بھی ہے… —میں اس پہ کھیلوں گا اور وہ کھیلنے لگا۔ وہ تھوڑی سی جست بھرتا، اور کچھ خیالی چوہے پکڑ کر پھر وہیں آبیٹھتا، اور سب کی طرف دیکھتے ہوئے کہتا—تم تو دن رات اس پہ چلتے ہو۔ آج میں آبیٹھا ہوں تو آفت آ گئی۔ تم تو بڑی بڑی مشینوں کے ساتھ دندناتے پھرتے ہو۔ میں چلتا ہوں تو آواز بھی نہیں ہوتی۔ شور روکنے کے لیے پیروں میں گدّے باندھ رکھے ہیں اور یہ ناخن تو صرف بچاؤ کے لیے ہیں۔ ایک رول تمھارا ہے، ایک میرا! معاملہ مذاق کی حد سے بڑھا جا رہا تھا۔ جب ہی بھیڑ کے بیچ سے کسی بچّی کی آواز آئی۔ ’’میرا سومو۔‘‘… اب جھلاّنے والے لوگوں کی تعداد بڑھ رہی تھی۔ ہو سکتا تھا کوئی اتنا امیر ہو گیا ہو، کہ اسے عام آدمی کے خیالات، بلّی کے بچّے کے جذبات کی ذرا بھی پروا نہ ہو، اس لیے جیگوار نے لپک کر بلّی کے بچّے کو کمر سے اُٹھا لیا۔ بجلی کی پھرتی کے ساتھ بڑے بڑے ناخن کسی نہ دکھائی دینے والی سے لپکے اور اگلے ہی لمحے جیگوار کی قمیص میں گڑے ہوئے تھے۔ لیکن جیگوار نے آمدورفت کے لیے سڑک خالی کر دی تھی اور گاڑیاں چلنے لگی تھیں۔ اب جیگوار فٹ پاتھ پہ کھڑا بلّی کے بچّے کے سر پہ ہاتھ پھیر رہا تھا۔ تھوڑی دیر میں اس جانور کے پنجے جیسے اپنے آپ اندر چلے گئے۔ خرخر کی آواز سی اس کے پورے بدن میں سنسنانے لگی۔ جب کلیان نے اپنی کھٹارہ گاڑی کا اسٹارٹر گھمایا تو بلّی کا بچّہ سامنے اپنی گلاب کی پتّی سی زبان سے پشت کو صاف کر رہا تھا۔ جبھی ایک جھٹکے کے ساتھ بچّے نے سر اٹھایا۔ ایک جست لی اور نیچے آ رہا۔ اسے کوئی بو آ گئی تھی — مُنّی پڑوس کی ایک لڑکی مٹی کی ٹھلیا میں دودھ لے آئی تھی۔ جس میں مُنھ ڈال کر بلّی کا بچّہ پُسر پُسر دودھ پی رہا تھا۔ سچ! اگر پورے شہر کا ٹریفک رُک سکتا ہے تو … تو