کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

آخری خواہش

انجینئر محمد فرقان سنبھلی


تمام عمر گزاری ہوس کے سائے میں

اَجَل کا وقت جو آیا تو ہم نے ہاتھ ملے

                                                                             (عامر عثمانی)

 

’’عمران …میرے بیٹے‘‘

’’ابّا…آپ پریشان نہ ہوں …ماہر طبیب آپ کا علاج کر رہے ہیں۔ آپ جلد صحت یاب ہو جائیں گے۔‘‘

رام نگر علاقہ کا بادشاہ ارکان بستر مرگ پر تھا۔ اس کا بیٹا عمران باپ کی بیماری کی اطلاع پر شکار سے ابھی واپس لوٹا تھا۔

’’نہیں عمران…مجھے انداز ہ ہو گیا ہے کہ اب میں نہیں بچوں گا۔‘‘

’’آپ جلد ٹھیک ہو جائیں گے ابّا‘‘ عمران کے آنسو بھی چھلک آئے۔

’’تم میری بات دھیان سے سنو…بیٹا میں نے اپنے دور حکمرانی میں کوئی بھی اچھا کام نہیں کیا۔شاید اللہ بھی میرے گناہوں کو معاف نہ کرے۔ پھر بھی میرے بیٹے میرے دل میں ایک آخری خواہش ہے۔‘‘

’’بولئے ابّا جان…آپ کی ہر خواہش پوری کی جائے گی۔‘‘ عمران نے تسلی دیتے ہوئے کہا۔

’’بیٹے میرے ظلم سے عاجز میری پرجا مجھے بہت برا جانتی ہے۔میں یہ بھی جانتا ہوں کہ میری پرجا تمھیں مجھ سے زیادہ اچھا سمجھتی ہے۔‘‘ بادشاہ نے کہا۔

’’جی…‘‘

’’میں چاہتا ہوں کہ تم میرے بعد بادشاہ بنو تو کچھ ایسے کام ضرور کرو کہ یہی پرجا مجھے تم سے اچھا کہنے لگے۔‘‘

’’میں وعدہ کرتا ہوں ابّا جان ‘‘ عمران نے بنا سوچے سمجھے وعدہ کر لیا۔

بادشاہ ارکان کی گردن ایک طرف کو ڈھلک گئی۔عمران باپ سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔

٭

باپ کی آخری رسومات ادا کرنے کے بعد عمران بادشاہ وقت مقر ر ہوا اور اس نے حکومت کی باگ ڈور سنبھال لی۔ اس نے رام نگر کی ترقی اور نظم و نسق میں بہتری کے لیے تمام تر توجہ مرکوز کر دی۔ اس نے باپ کے ذریعہ نافذ ان تمام قوانین کو بدل ڈالا جس کی وجہ سے پرجا پر ظلم ہو رہا تھا۔ اس سے پرجا عمران کو زیادہ چاہنے لگی تھی۔

بادشاہ عمران خوش تھا کہ اس کی پرجا کا اعتماد حکومت میں بحال ہو رہا تھا۔پرجا میں عمران کی تعریفیں ہو رہی ہیں یہ اطلاعات اسے محکمہ خفیہ سے مسلسل مل رہی تھیں لیکن اس کے لیے ایک تشویشناک بات تھی جو اسے اندر ہی اندر پریشان کر رہی تھی۔ لوگ اسے اچھا تو کہتے تھے لیکن اس کے باپ کو بہت برا جانتے تھے۔ اسے خود فکر لاحق تھی کہ کس طرح باپ کی آخری خواہش پوری کی جائے۔کہ اچانک ایک دن جب وہ حکومتی امور ختم کر کے محو خواب تھا تو اسے اس کے والد خواب میں نظر آئے۔ اس نے جب ان سے بات کر نی چاہی تو وہ واپس مڑ کر اس سے دور چلے گئے۔ عمران کو بڑا صدمہ ہوا۔

اگلے دن بھرے دربار میں بادشاہ عمران نے اپنے خواب کی تعبیر اپنے مشیروں سے پوچھی تو انھوں نے ایک رائے سے کہا کہ ’’بادشاہ حضور آپ سے کسی بات کو لے کر خفا ہیں۔‘‘ عمران کو فوراً یاد آیا۔

’’تم کچھ ایسے کام ضرور کرو گے جس کی وجہ سے پرجا مجھے تم سے زیادہ اچھا جانے۔‘‘ عمران نے والد کی آخری خواہش کا ذکر مشیروں سے کرتے ہوئے مشورہ طلب کیا کہ اسے ایسا کون سا کام کرنا چاہیے کہ لوگ والد کو مجھ سے اچھا کہیں۔

’’بادشاہ سلامت …آپ زیادہ سے زیادہ غرباء کی مدد کریں ‘‘ ایک مشیر بولا۔

’’بادشاہ حضور۔آپ دین کی تبلیغ میں زیادہ رقم خرچ کریں۔‘‘ دوسرا مشیر بولا۔

’’بادشاہ حضور آپ پرجا کی ترقی کے لیے نئی اسکیموں کا اعلان کریں۔‘‘ تیسرا بولا۔

غرض مختلف نوعیت کے مشورے جمع ہو گئے۔ عمران کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کون سے مشورہ کو عمل میں لائے۔ اس نے تمام مشوروں پر فوری طور پر عمل درآمد کا حکم نافذ کر دیا۔

٭

بادشاہ عمران ایک دن اپنے علاقہ میں گھومنے نکلا۔ وہ ایک جھونپڑی نما مکان کے سامنے سے گزر رہا تھا کہ اندر سے آ رہی زنانی آوازوں نے اس کے کان کھڑے کر دیئے۔

’’اللہ ہمارے بادشاہ کو لمبی عمر دے۔ اس نے ہمارے لیے کتنے فلاحی کام کیے ہیں۔‘‘ ایک عورت کہہ رہی تھی۔

’’ہاں بہن…لیکن ا س کا باپ بڑا ظالم تھا۔‘‘ دوسری عورت کی آواز سن کر بادشاہ عمران بڑا دکھی ہوا۔’’اس کا مطلب میرے و الد کی آخری خواہش اب بھی ادھوری ہے۔‘‘ اس نے دل میں سوچا۔

بادشاہ عمران بھاری کشمکش میں مبتلا ہو گیا۔اس نے جب جب نئے منصوبے نافذ کیے ان سے پرجا کی ترقی ہوئی اور اسکی حکومت پر پرجا کا اعتماد مزید پختہ ہوا۔ پرجا اس کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتی تھی۔ لیکن جب ا س کے باپ کا ذکر آتا تو یہی کہا جاتا کہ ’’بادشاہ عمران کا باپ بڑا ظالم تھا۔ اور یہ بادشاہ اس سے اچھا ہے۔‘‘

عمران نے اپنے علاقہ میں منادی کرا دی کہ جو کوئی شخص اسے باپ کی آخری خواہش کا حل بتائے گا اسے وہ ڈھیر سارا مال عطیہ کرے گا۔ اس کے راج میں بڑے بڑے عالم فاضل موجود تھے۔ مختلف حل بادشاہ عمران کی خدمت میں پیش کیے گئے لیکن کوئی خاص فرق حالات میں نہیں آیا۔

’’مجھے اپنے بادشاہ کے پاس لے چلو میں اس کے مسئلے کا حل بتا سکتا ہوں۔‘‘  ایک جادوگر نے بادشاہ کے پہریداروں سے درخواست کی۔ وہ جادوگر کو بادشاہ کے حضور لے گئے۔

’’کیا حل ہے میری پریشانی کا تمہارے پاس‘‘ بادشاہ نے دریافت کیا۔

جادوگر نے بادشاہ کے کان میں سرگوشی کی۔بادشاہ کاچہرہ حیرت اور غصے سے لال ہو گیا۔

’’کیا بکتے  ہو…یہ کیسے ہو سکتا ہے۔‘‘

’’ا س کے علاوہ تمہارے پاس کوئی چارہ نہیں۔‘‘ کہہ کر جادوگر غائب ہو گیا۔‘‘

بادشاہ نے جادوگر کی بات پر ٹھنڈے دل و دماغ سے غور کیا تو اسے لگا کہ یہی اس کی پریشانی کا واحد حل ہے۔

اگلے ہی دن بادشاہ نے بھرے دربار میں پرجا کے حق میں چلائی جا رہی تمام فلاحی اسکیمیں ختم کر دیں۔ان کی دولت اور دوشیزاؤں کو قرق کر لیا۔ کسانوں پر لگان وصولی سختی سے کرنے کے احکام جاری کر دیئے۔ چور ڈکیتوں کو کھلی چھوٹ دے دی۔حد یہ ہوئی کہ اس نے پرجا پر ظلم کی انتہا کر دی۔

ایک دن بادشاہ اپنے علاقہ کے دورہ پر نکلا۔ وہ اسی جھونپڑی کے پاس سے گزرا اور خواتین کی آوازوں پر رک گیا۔

’’اف ہمارا یہ بادشاہ کتنا ظالم ہے اس نے پرجا کے تمام حقوق صلب کر لیے ہیں اور ٹیکس وصولی کے لیے اس کے ملازم کس قدر مظالم کرتے ہیں۔‘‘ پہلی خاتون نے کہا۔

’’ہاں بہن …اس ظالم سے تو اس کا باپ ہی اچھا تھا۔‘‘ دوسری عورت نے کہا۔

٭٭٭