کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

محرم یار پیارا

ڈاکٹر نگہت نسیم


اب ایک منٹ کی اوقات ہی کیا تھی۔ سوائے اس کے کہ وقت آگے بڑھانے کے لیے اسے آ گے ہونا پڑتا تھا اور ہمیں گننا پڑتا تھا۔ جبھی کچھ سیانوں نے اپنی گھڑیوں میں منٹوں والی سوئی رکھی ہی نہ تھی۔ اندازے کے وقت کا اپنا ہی مزہ ہوتا ہے۔ کم ہو تو مزہ۔۔۔ اور آگے ہو تو بھی فرق نہیں۔

          ویسے بھی مجھے تو وقت کی چالوں سے ایسی کوئی خاص دلچسپی بھی نہ تھی کہ مرتی رہوں گھڑی کی ٹک ٹک کے ساتھ۔

          اٹھتی بھی گھڑیوں کے بغیر اور سوتی بھی سوئیوں کے بغیر۔۔۔

          فجر ملے یا نہ ملے ، ہزاروں لوگو ں کی طرح بے پرواہ رہتی اور اکثر ہی دل کے اشاروں پر مور کی طرح اٹھلایا ہی کرتی، سو نماز پڑھی یا نہ پڑھی ، دل کو روگ نہیں لگایا تھا۔ تائی جی کی طرح جو ایک بھی نماز کے چھٹ جانے پر قلق سے دہری پھرا کرتیں۔ جن کا اوڑھنا بچھونا ہی جائے نماز تھا۔ صفائی ستھرائی، پاکی ناپا کی بس ان کی گفتگو کا شروع آخر یہی ہوتا۔ خاندان بھر میں سنکی، شکی ، پاگل ، خبطی سمجھی اور کہلائی جاتی تھیں جنہیں وہ مسکرا کر ایک اعزاز کی طرح سنبھال رکھتیں۔

          ’’ رب تک رستہ ہے آسان تھوڑی ہو گا۔۔۔‘‘

          پاگل پن اور جنون کے بغیر بھی منزلیں ملی ہیں کسی کو۔۔۔

          ان کے چہرے کانور اتنا گہرا ہو جاتا کہ ان کی جھکی ہوئی آنکھوں سے بھی نظر نہ ملتی تھی۔ اور پھر ہم تو عمر کے اس دور میں تھے جس میں پاگل پن اور جنون صرف عشق کے کھاتے میں رکھا جاتا ہے۔

          ’’ ارے تمہاری تائی امی دیوانی ہو گئی ہیں۔‘‘ ریشم آپا اپنی ماں کو ہمیشہ تمہاری تائی امی کہا کرتی تھیں۔

          ’’ آپا! وہ آپ کی امی جی بھی ہیں۔‘‘ میں انہیں ہمیشہ کی طرح آج بھی یاد دلا رہی تھی۔

          ’’ہاں نا وہی۔۔۔بس دیوانی ہو گئی ہیں۔ بھلا ہر وقت کوئی کیسے جنون کر سکتا ہے۔ ایک ہی بات کا جنون۔۔۔‘‘

          ریشم آپا کو بس بہانہ چاہیے تھا۔ وہی تھیں جنہیں سب سے زیادہ وضو سے گھبراہٹ ہوتی تھی۔ کبھی پانی ٹھنڈا ہوتا اور کبھی بہت گرم۔۔۔ کبھی نیل پالش کو کھرچتے وقت اپنے بالوں کو نوچنے کی دھمکی دیتی تھیں تو کبھی کپڑوں کی ناپاکی کا رونا۔۔۔ لیکن نماز کو وقت کے ساتھ ملانے پر ہمیشہ ہی خفا رہتی تھیں۔

          ’’ لو اور سنو۔۔۔اس نماز کا کیا فائدہ جو ماتھے پر بل ڈال دے اور دِل میں رب سے دوری۔۔۔‘‘ تائی اماں ریشم آپا کے بال نماز والے دوپٹے میں اڑستے ہوئے پیار سے کہے جاتیں اور سمجھاتیں لیکن ریشم آپا کا دِل ہمیشہ ریشم کے دھاگوں کی طرح اُلجھا ہی رہتا۔۔۔ ہر وقت خفگی کا جالا بنا رہتا۔۔۔

          لیکن۔۔۔

          ایک منٹ ہمیشہ کی طرح کم پڑتا۔

          سوئیوں کی گرفت سے آزاد ہو جاتا۔

          اور یوں ایک منٹ میں نماز قضا ہو جاتی۔

          ’’ ہائے ربا!‘‘ تائی امی کا کلیجہ ہول جاتا۔

          اوریوں ایک منٹ کی اہمیت ہمیشہ آس پاس یوں لڑکھتی رہتی جیسے بچہ اپنے من پسند گیند کو ادھر ادھر پھینک کر بھی اسی کے پیچھے لگا رہتا ہے۔       

          مجھے ریشم آپا بہت اچھی لگتی تھیں۔ بالکل ریشم جیسی ملائم اور سبک سی ریشم آپا۔ ہر رنگ میں ملائم تھیں۔۔۔ہر ادا چمکدار۔۔۔

          ان کے سنہرے رنگ میں عجب سی کشش تھی۔ آنکھیں غلافی تھیں اور سمندروں کے بیچ بیچ سونے کی پتلیاں ایسی گھومتی ، ڈولتیں جیسے چکور چاند کی طرف ڈولتا رہتا ہے۔

          اور کبھی سنہری کنچے لگتے جو ایسے دوڑتے بھاگتے جیسے کنچے کھیلتے کھیلتے ان کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ ان کی پلکیں اوپر نیچے گرتیں تو ایک دوسرے سے لڑاتی لیتی ہوئی لگتیں اور وہ ادائے بے نیازی سے اپنے خوبصورت بھری بھری گول کلائیوں والے ہاتھ کی پشت سے آنکھوں کو مل دیتیں جیسے کسی بچے کو لڑائی سے روکا جاتا ہے کہ ’’خبردار جواب شرارت کی ہو۔‘‘

          ان کے خوبصورت متناسب جسم پر جب دوپٹہ شانوں سے ڈھلکتا تو کلیجہ تائی امی کا دھڑک جاتا اور پھر وہ صلواتیں پڑتیں کہ میں بھی گھبرا کر اپنا دوپٹہ شانوں پر پھیلا لیتی۔

          ریشم آپا کی پسند بھی لا جواب تھی۔ یوں توہر رنگ ان پر سجتا تھا لیکن میرون رنگ میں دولہن سی ہو جاتی تھیں اور پھر ان کی آنکھوں کی لڑائی جنگ میں بدل جاتی۔۔۔

          وہ یونیورسٹی میں ایم اے کر رہی تھیں لٹریچر میں۔۔۔ بقول تائی امی کے ریشم کوتو نہ اردو آتی ہے اور نہ ادب سے دور کا بھی واسطہ۔ خدا جانے ، کالج یونیورسٹی میں ایڈمیشن کے لیے ماں باپ سے کیوں نہیں پوچھا جاتا۔

          ایک تو تائی امی کو بس بیر ہے ریشم آپا سے۔۔۔۔

          وقت بے وقت ڈانٹ پھٹکار جس کو وہ کندھے اُچکا کر ایسے سنتیں جیسے تائی امی کسی اور سے کہہ رہی ہوں۔

          ’’ وقت دیکھ لڑکی، کیا ہوا ہے ؟

          ایک ایک منٹ کا حساب دینا ہو گا۔ یہ جو فرشتے ہیں نا دائیں بائیں جو جھٹکتی پھرتی ہو، وہی بتائیں گے منٹ منٹ کا حساب۔۔۔‘‘

          ہائے ربا میرے۔۔۔ یہ پھر ایک منٹ کہاں سے آ گیا جس کی اہمیت تھی اور نہ اوقات۔۔۔ بھلا ایک منٹ کسی کا کیا بگاڑ سکتا تھا۔

          لیکن ایسا ہو ا تھا۔۔۔ یہی ایک منٹ ، دنیا بدل دیتا ہے۔

          ایک منٹ تو کیا اس کے ہزارویں حصے میں بھی طاقت تھی کہ وہ سب کچھ بدل سکتا تھا۔ اس حصے میں کوئی زندہ اور کوئی مردہ ، کوئی خوش تو کوئی افسردہ۔۔۔

          کوئی آیا کوئی گیا۔۔۔

          کوئی شیطان بنا تو کوئی انسان۔۔۔

          منٹ کی ساری سوئیاں میرے آس پاس بجنے لگتیں۔

          گھنٹوں کی طرح۔۔۔

          پائل کی طرح۔۔۔۔

          تو کہیں اڑنے لگتی تتلیوں کی طرح۔۔۔۔

          میں کہاں سے کہاں پہنچ گئی تھی۔  

          ’’سن مانو! تجھ سے ایک بات کہنی تھی۔ ‘‘

          ’’ مجھ سے ؟‘‘

          میں نے چونک کر ریشم آپا کو دیکھا اور خوشی سے بھر گئی۔ واہ جی واہ ! دم میں مو ج در موج سرور اترنے لگا۔

          ’’جی آپا ‘‘ میں ہمہ تن گوش تھی۔

          ’’ مانو!پتہ ہے کیا۔۔۔‘‘ ریشم آپا نے بات ادھوری چھوڑ دی۔

          ’’ اب بھلا مجھے کیا پتہ۔‘‘ میں نے انہیں دیکھتے ہوئے کہا۔

          ان کی آنکھوں میں نشہ ہلکورنے لینے لگا۔ ان کی دراز پلکوں کی لڑائی بھی بند ہو گئی تھی اور دھیرے دھیرے غلافی آنکھوں پر جھک گئی تھیں جیسے سستا رہی ہوں ، آرام کرنا چاہتی ہو ں یا پھر ہار مان لی ہو۔۔۔

          ’’مانو‘‘ تجھے پتہ ہے ، میری کلاس میں ایک جادو گر آ یا ہے۔‘‘

          ’’جادو گر۔۔۔؟‘‘

          میں نے سہم کر آپا کو دیکھا لیکن وہ اتنی پر سکون تھیں کہ میں حیران رہ گئی۔

          یہ جادو تھا یا سَحر یا پھر مجھے ہی ایسا لگا تھا جیسے ریشم آپا ہم سے بچھڑ رہی ہیں۔۔۔ وہ میرے ساتھ تھیں۔ میرے ہاتھ کو انہوں نے اپنے نرم ملائم ہاتھوں میں لے رکھا تھا اور ان کی زبان بھی مجھ سے مخاطب تھی لیکن ان کی روح میرے ساتھ نہیں تھی۔ ان کا ذہن وہاں نہیں تھا۔ ان کی آنکھیں کسی ایسے مرکز کے گرد چکر کاٹ رہی تھیں جیسے چکور چاند کے گرد۔۔۔ریشم آپا کی نشے کے بوجھ سے مدھ بھری غلافی آنکھیں جو جھکیں تو اٹھی ہی نا!

          ان کا جادو گر سَحر کر گیا تھا۔

          میں ان کو پور پور بھکاریوں کی طرح پکار رہی تھی۔ اپنے سوال کو دھرا رہی تھی۔ ان کا گرم اور نم ہاتھ میری ہتھیلی میں جذب ہو رہا تھا۔

          آپا نیم دراز سی اپنے لمبے بالوں سے دھیرے دھیرے کھیل رہی تھیں۔ کبھی بالوں  کو کھولتیں اور کبھی باندھ دیتیں ، ان کا دوپٹہ شانوں سے ڈھلک کر دائیں طرف پڑا ہنس رہا تھا۔۔۔ میں نے سہم کر آپا کو تھام لیا۔

          ’’ آپا وہ جادو گر کون ہے ؟ کون ہے وہ آپا؟؟َ‘‘ میں نے انہیں کندھوں سے ہلایا۔

          ریشم آپا نے مجھے یوں دیکھا جیسے واقعی پلٹ کر دیکھا ہو جاتے جاتے۔۔۔ اور اپنا ڈھلکا ہوا سفید ڈوپٹہ اٹھا کر نیوی بلیو قمیص پر یوں رکھ دیا جیسے اب اس کا کام ختم ہوا۔

          وہ خود بھی تو گہرے نیلے رنگ میں پانیوں کی ہی طرح سبک سبک بہہ رہی تھیں یا بادلوں کی طرح اڑ رہی تھیں۔

          ’’ آپا! بتائیں نا ، کون ہے وہ جادوگر؟‘‘

          انہوں نے یکبارگی حیرانی سے مجھ دیکھا اور پھر ہنس پڑیں جیسے گہرے بادلوں کی اوٹ سے سورج کھکھلا رہا ہو۔

          ’’ مانو اس کا نام ساحر ہے۔‘‘ انہوں نے کھلکھلاتے ہوئے بتایا۔

          ’’ ساحر۔۔۔ تو بہ آپا ، یہ کوئی نام ہوا۔ آخر عمر، عامر، وجاہت، احمر ، عمیر کیوں نہیں ؟‘‘

          ’’ اس لیے کہ وہ سب سے الگ ہے۔‘‘ انہوں نے میرے ماتھے پر پڑے ہوئے بالوں کو ہٹایا۔

ٍ       عمر میں میرا ان کا چار سال کا فرق تھا لیکن مجھ میں ان میں ہزاروں برس کا فاصلہ تھا۔ کبھی ایسا لگتا جیسے وہ کوہ قاف کی پری ہوں خوب صورت سی۔۔۔ ہر کام ایک پل میں نمٹانے والی۔۔۔ کبھی شہزادی سی۔۔۔ آن بان والی۔۔۔ ہر شخص درباری لگتا ان کے حضور۔۔۔ اور ان کی بے نیازی، ان کے منصب دلبری کو اور بھی جاندار کر دیتی۔       

          ’’ مانو ، سن رہی ہونا۔‘‘

          ’’جی آپا!‘‘ میں بھی درباری ہی لگ رہی تھی خود کو ، جس کا کام صرف سننا ہو تا ہے۔

          ’’ مانو! ساحر جب بولتا ہے ، لگتا ہے جیسے دن رات ٹھہر گئے ہوں۔۔۔ اور کیا بولتا ہے مانو، ایسے لگتا ہے جیسے یہ سب پہلی دفعہ ہی کسی نے کہا ہو جیسے سارا کا سارا سچ ہو۔۔۔ کہیں کوئی غلطی نہیں۔۔۔‘‘

          اور میں نے چپکے سے سوچا کہ ایسا تو صرف ابا جی ہی کہتے ہیں۔ ہر بات سچ اور کھری کھری۔۔۔ اور پھر مجھے تو اختلاف کرنا ہی تھا۔ سو نام پر کر بیٹھی ، اب ساحر بھی کوئی نام ہوا۔

          ’’ تم بھی نا۔۔۔ یہ کیا نام گنوائے تم نے ، ہے کوئی ایسا نام جو ساحر جیسا اچھا اور مکمل ہو۔‘‘

          ’’آپا تم پاگل ہو گئی ہو۔‘‘

          اور وہ میری بات پر ہنستی چلی گئی۔

          دل ہی دل میں ، میں نے انہیں خوب ہی صلواتیں سنائیں لیکن بظاہر عزت کی پوٹلی سنبھالے اپنے اور ان کے درمیان اپنے چھوٹے بڑائی کے فاصلوں کو سمیٹتی رہ گئی۔ آخر پورے چار سال بڑی تھی۔ ہمارے گھر میں تو چار دن بڑے کو بھی وہی عزت حاصل تھی جو چار سال بڑے کی تھی۔ اتنے بڑے سے گھر میں جس کو دیکھ کر پرانی حویلی کا گمان زیادہ ہو تا تھا،

بی بی جی کے زمانے میں ہی تا یا جی اور ابا جی اس گھر میں اکٹھے رہا کرتے تھے۔ بچپن ، جوانی شادیاں اور سب کے بچے اسی گھر میں ہوئے تھے۔

          بی بی جی کے جانے کے بعد تائی امی اپنی ذمہ داریوں کے ساتھ ان کی کمی بھی پوری کرتی رہتیں اس لیے کبھی کبھی اب ہم سب کو بی بی جی کی یاد کم آنے لگی تھی۔

          عجیب اتفاق تھا۔ تایا جی کے ہاں بچوں میں فرہاد بھائی اور ریشم آپا تھیں اور میں امی ، اباجی کی واحد اولاد سب کی مانو۔۔۔ مجھے بھی اب اپنا اصلی نام یا د نہ رہتا تھا۔ جو صرف سرکاری کاغذوں میں لکھا رہ گیا تھا۔

          مانو، میرا نام فرہاد بھائی نے رکھا تھا۔ بقول ان کے ، میں نے سب سے پہلے انہیں ہی دیکھا تھا اور اس وقت میری آنکھوں میں بلی کی آنکھوں والا تجسس اور چمک تھی اور مسکراہٹ لبوں سے ہوتی ہوئی پورے چہرے تک تھی تو انہیں اس سے اچھا نام ملا ہی نہیں اور امی جی سے کہا، کہ یہ ہماری مانو بلی ہے۔ ہماری اور صرف ہماری مانو۔۔۔، اس دن سے لے کر آ ج تک میں صرف مانو تھی سب کی۔۔۔حالانکہ آنکھوں میں چالاکی اور تجسس بھی نہ رہا تھا۔ ہاں ایک شرارت سی رہتی تھی وہاں۔۔۔ یا شاید اپنے اس طرح اہم ہونے کا نشہ تھا۔ جو بھی تھا اس نے مجھے مانو ہی رہنے دیا۔ لیکن ریشم آپا کے سامنے سب کچھ پھیکا تھا۔ میں ان جیسی شاید ہزار بار Recycleہو کر بھی آتی تو نہ بن پاتی۔

          آ پا بس ریشم تھیں۔۔۔ ہر ادا سے۔۔۔ ہر رنگ سے۔۔۔ ہر زاویے سے۔۔۔

          وہ ساحر کے اثر میں تھیں یا ساحرہ کے اثر میں خود ساحر آ چکا تھا۔۔۔ جو بھی تھا، مجھے حیران کر رہا تھا۔ ان کے سب سے بڑے راز کی راز دار صرف میں تھی۔

          ان کے کھوئے کھوئے دن رات کی تفصیل میرے پاس تھی۔

          ایک ایک منٹ پر کتنا کچھ بدل جاتا ہے اور بدل رہا تھا۔

          ریشم آپا ریشم کی طرح ہاتھوں سے پھسل رہی تھیں۔ ان کی مدھ بھری آنکھیں اُٹھنا بھول گئی تھیں۔

          ’’ مانو ! آج وہ نہیں آیا تھا۔ ‘‘

          ’’ کون آپا؟‘‘میں انجان بن گئی۔

          ’’کون سے کیا مطلب ؟‘‘ انہوں نے ایسے حیران ہو کر دیکھا جیسے کوئی جرم کر لیا ہو میں نے ’’ مانو!‘‘ انہوں نے تنبیہاً پکارا،ایسے جیسے سرزنش کر رہی ہوں۔’’ ساحر اور کون۔‘‘

          ’’ اوہ۔‘‘میں نے پھر انجان بننا چاہا۔‘‘ کیوں خیر تھی نا آپا؟‘‘

          ’’ ہاں !‘‘ ریشم آپا پردے اٹھا کر کھڑکی سے باہر آسمان کو دیکھ رہی تھیں۔ ’’ ہاں شاید خیر ہی ہے۔ ‘‘ انہوں نے سوچتے ہوئے کہا۔

          ’’ یہ کیا بات ہوئی آپا !‘‘ میں نے اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے ان کا زمین پر ڈھلکا ہوا دوپٹہ انہیں یاد کراتے ہوئے تھما دیا۔

          ’’ ساحر نے کہا تھا کہ وہ مجھ سے یونیورسٹی سے باہر اکیلے میں ملنا چاہتا ہے۔ ‘‘

          ’’پھر؟پھر آپا؟‘‘ میرا سانس اوپر کا اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔ ’’ پھر؟‘‘ میں نے انہیں تڑپ کر کندھوں سے ہلایا۔

          ’’ پتہ نہیں کیوں مانو، میں انکار نہیں کر سکی۔ میں اسے انکار نہیں کر سکتی۔‘‘ ان کی آنکھیں ابھی بھی اڑتے بادلوں کی طرح انہی کے تعاقب میں تھیں۔

          ’’ آپا!‘‘ میں نے انہیں اپنی طرف موڑ لیا۔

          ان کی غلافی آنکھیں جھک گئی تھیں ، پلکیں بدمست سی کناروں سے لگی ہو ئی تھیں۔ سنہری چمکتی رنگت پر کشمکش کی کیفیت تھی۔

          آپا میرے گلے سے لگی ہوئی تھیں۔ ان کا وجود بارشوں کے بوجھ سے جھکے اس پتے کی طرح لگ رہا تھا جو کبھی خوشی سے جھومتا ہوا محسوس ہوتا ہے تو کبھی سہم کر کانپتا ہوا۔

          پتہ نہیں کیوں مجھے اس کشمکش سے ہمیشہ ہی گھبراہٹ ہوئی تھی۔ یہ کیفیت اس وقت کا سندیسہ ہوتا تھا جب آپ کا دل نہیں چاہتا کہ یہ کام ہو اور آپ کو کرنا پڑ جائے۔۔۔ کبھی مصلحتاً تو کبھی کا دل رکھنے کے لیے۔۔۔لیکن اس کشمکش میں ایک ہار ہی ہوتی ہے اپنی اور جیت ہمیشہ دوسرے کی۔۔۔

          ’’آپا!پھر ؟‘‘ میں بھی اسی کشمکش کا حصہ ہو رہی تھی۔

          ’’ پھر کچھ نہیں مانو، پھر کیا۔۔۔ تم کیا سمجھیں ؟‘‘

           آ پا کی آنکھیں سیدھی تیر کی طرح میرے دل کے آر پار ہو رہی تھیں۔ ان کی آنکھوں میں شکوہ سا تیرنے لگا تھا۔ شاید ساحر کی بے وجہ ضد کا یا میرے شک کا۔۔۔ شکوہ تو شکوہ ہی تھا۔

          اب میں بھی بھلا کیا کرتی۔ تائی امی کا ایک منٹ کا فلسفہ ایک پل میں مجھے سمجھ آ گیا تھا۔ سو میرے سر پر بھی سوار ہو گیا اور ایک منٹ کو تو یہی لگا جیسے ریشم آپا سے کوئی بہت ہی بڑی غلطی ہو گئی ہو۔

          ’’ مانو ! ‘‘انہوں نے مجھے ہلکے سے چھو ا۔

          ’’ آپا میں ڈر گئی تھی۔ میں ڈر گئی تھی آپا !‘‘ میں ان سے لپٹ گئی۔

          انہوں نے مجھے آہستہ سے مجھے علیحدہ کیا اور خود تخت پر شہزادیوں کی طرح بیٹھ گئی۔ وہی ریشمی سی ریشم آپا تھی۔ نیم دراز سی گاؤ تکیہ سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔

          اپنے بالوں سے کھیلتی ہوئی۔۔۔

          وہی مدھ بھری جھکی جھکی غلامی آنکھیں۔۔۔

          اور وہی لڑتی جھگڑتی پلکیں۔۔۔

          ڈوبتے سورج جیسی سنہری پتلیاں تھر تھراتی تو لگتا جیسے کائنات کی سانس رک رک کر چل رہی ہو۔۔۔

          خوب صورت مسکراتے ہوئے یاقوتی ہونٹ ایسے جیسے اب بولے کہ تب بولے۔۔۔

          اور ان کا سرو قامت انہیں سب سے ممتاز کرتا تھا اور اس سے بھی زیادہ ان کا لہجہ ، ان کی باتیں ایسے لگتی جیسے سحر ہو جائے۔۔۔ ہوش اڑ جائیں جیسے نہ سوال آئے اور نہ جواب سوجھیں۔

          جو بھی ہوتا تھا، اتنا اچانک ہوتا کہ ان کے آس پاس کے لوگ صم ہو جاتے ، گھبرا جاتے۔۔۔ شاید اسی لیے تائی امی ایک سانس اپنے لیے لیتی تو دوسرا ریشم آ پا کے لیے رکھ دیتی اور ریشم آپا کا دل جب ایک منٹ میں 72دفعہ کی بجائے 144 بار دھڑکتا تو ان کی سانسیں ہر جگہ سنائی دیتی تھیں۔

          ’’ آپا !میں ڈر گئی تھی، شاید اسی لیے۔‘‘ سانسوں کی تیزی کا ادراک بڑا جان لیوا تھا۔

          ’’ کیوں مانو؟ کیوں بھلا ڈر گئی تھی؟‘‘ آپا نے اپنا سر میری گود میں رکھ دیا۔

          میرے ہاتھ بے اختیار ان کے خوب صورت چمکیلے سونے کی تاروں جیسے بالوں میں الجھ گئے اور پھر پتہ نہیں کیوں میرے کئی آنسو سونے کی تاروں سے لپٹ گئے لیکن ایسے کہ آپا کو خبر بھی نہ ہو سکی۔

          ایک وہ وقت تھا جب وہ میرے کہے ان کہے لہجوں کی پہچان رکھتی تھی۔ آ ج کیسے ہاتھ چھڑائے الگ کھڑی تھی۔

          ریشم آپا مجھ سے بچھڑ رہی تھی۔ آہستہ آہستہ ، دھیرے دھیرے میرا غم مجھے نڈھال ہی تو کر دیتا جو آپا مجھے پکار نہ لیتی۔

          ’’ مانو !،  میں نہیں جانتی مجھے کیا ہو رہا ہے۔ بس اتنا جانتی ہوں مجھے پیار نے سجا دیا ہے۔اندر سے بھی اور باہر سے بھی۔ میرے ساحر نے مجھے سجا دیا ہے مانو، مجھے خوب صورت کر دیا ہے۔ جھرنوں جیسا سبک، بادلوں جیسا بنا دیا ہے اور میں اڑتی رہتی ہوں۔ اور پر بہت ہی اوپر۔۔۔

          ریشم آپا آنکھیں موندے اپنے ساحر کے ساتھ زمین سے آسمان تک خبر لے آئی تھی اور میں زمین پر کھڑی صرف انہیں جاتا اور کبھی  اڑتا دیکھ رہی تھی۔ میرے ہاتھ ان کی ریشمی بالوں سے ابھی بھی باتیں کر رہے تھے لیکن ان کا نم ہاتھ میرے ہاتھوں سے نکل رہا تھا۔

          میں نے مضبوطی سے ان ہاتھوں کو پکڑ لیا۔

          ’’ آپا ، میں ڈر گئی تھی۔ ‘‘ میں ان کے ہاتھوں پر سر کھے رو رہی تھی ، کہرہ رہی تھی۔ہر آنسو میں لوٹنے کی فریاد تھی۔ وہ کہہ رہی تھی۔

          ’’ ڈر اور شک میں فرق ہوتا ہے مانو۔ ڈر لگے تو کسی کا ساتھ ہو جاتا ہے اور شک ہو تو ساتھ چھوٹ جاتا ہے۔ فرق ہوتا ہے مانو ڈر اور شک میں۔‘‘

          ’’ جی آپا!‘‘میں اب ان کے گلے سے لگی ہوئی تھی۔ ان سے انہی کی شکایت کر رہی تھی اور وہ ابھی تک ٹوٹے ریکارڈ کی طرح ایک ہی بات دھرا رہی تھی۔

          ’’ مانو فرق ہوتا ہے نا، ڈر لگنے میں ، شک کرنے میں۔‘‘

          پھر ریشم آپا کبھی یونیورسٹی سے واپس گھر آتے ہوئے ساحر سے ملتی آتی۔ خاص طور پر اس دن جب وہ نہیں آتا تھا اور اگر کبھی کہیں بھی ملاقات نہ ہوتی تو آپا کا جینا مرنے جیسا لگتا تھا۔ اداس، ملول سی، چپ چاپ سی ، زرد سی ، ڈھلتی شاموں کی ویران اور سنولائی سی لگتی اور اگر ان کی غلافی آنکھیں شب بھر جاگتی تو اور بھی انگارہ ہو جاتیں اور ایسے میں رو پڑتی تو کہیں کچھ دکھائی نہ دیتا۔

          آ ج بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ اور وہ چپ سی تھیں۔

          ’’ ارے یہ کیا ، تم رو رہی ہو؟‘‘ تائی امی ریشم آپا کے کمرے میں جانے کس کام آ ئی تھیں۔ انہیں یوں دیکھا تو ٹھٹک گئیں۔ کیا ہو رہا ہے یہاں۔۔۔ اور لڑکی ، تم نے کیا حال بنا رکھا ہے ؟‘‘ تائی امی نے جو ریشم آپا کو یوں بے سدھ دیکھا تو بے چین ہو گئیں۔’’ کیا ہوا میری بچی کو ؟‘‘ وہ تڑپ کر ان کے قریب ہی بیٹھ گئیں۔

           تائی امی جو ایک ایک منٹ کا حساب یاد کرایا کرتی تھی، ابھی ابھی سب کچھ بھول گئی تھی۔ گھبرا کر انہوں نے ریشم آپا کا دوپٹہ ان کے شانوں پر پھیلا دیا اور ان کا سر اپنے کندھوں سے لگا لیا۔

          ’’ میری بچی میری ریشم جیسی بچی ، کیا ہوا؟ طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟‘‘        

          ریشم آپا نے کچھ نہ کہا بس مسکرا دی۔ ایک نڈھال اور تھکی تھکی ہنسی امی کے لیے کافی تھی۔ شاید ان کا خیال تھا کہ ان کی بیٹی ان سے کچھ نہیں چھپا سکتی یا شاید انہیں اپنے جاننے پر مکمل اعتبار تھا۔

          تائی امی کچھ نہ سمجھی تھیں۔ انہیں خبر ہی نہ ہو سکی کہ ان کی ریشم سحر ذ دہ ہو گئی ہے۔ تائی امی ہمیں سر شام کبھی سر کھولنے نہیں دیتی تھیں۔ مجال تھی جو ہم میں سے کوئی ننگے سر پیڑ کے نیچے کھڑے ہو سکے۔ جب بھی ایسا دیکھتیں کھڑے کھڑے اتنی دہائی مچاتیں اور جنوں بھوتوں کے ہزار قصے جواب ہمیں از بر یاد ہو چکے تھے ہر بار نئے تاثر کے ساتھ سناتی تھیں اور اب توہم سب کو اتنے یاد ہو چکے تھے کہ جہاں کہیں بھی گھنے پیڑ دیکھتے وہیں ہاتھ دوپٹہ کی طرف چلا جاتا۔ بالکل ایسے ہی جیسے اذان سنتے وقت لاشعوری طور پر دوپٹے کی تلاش شروع ہو جاتی ہے۔

          ’’ تم لو گ نہیں سدھر و گی۔ ‘‘ ان کی آواز یہیں کہیں سے آ ئی تھی۔ ’’ ایک منٹ نہیں لگتا کچھ بھی ہونے میں۔ ‘‘

          ’’ ہاں تائی امی ! واقعی ایک ہی منٹ لگا ہے سب کچھ ہونے میں۔۔۔ ساحر نہ تو گھنا پیڑ تھا اور نہ ہی کوئی جن بھوت۔۔۔ لیکن تھا ساحر، جادو کر گیا تھا، سر سے پیر تک سحرزدہ کر دیا تھا ایسے کہ ریشم ریشم کی طرح الجھ رہی تھی۔ ٹوٹ رہی تھی یا شاید پھسل رہی تھی۔۔۔

          ساحلی ریت کی طرح بے سمت ، بے نشان ، بے نام منزلوں تک کا سفر کر رہی تھی۔۔۔ ساحلوں کی ہوا جیسی بے قرار سی ریشم آپا۔۔۔ ساحلی ریت کی طرح اڑ رہی تھی۔

          ’’ اچھا چلو تم دونوں باہر کمرے سے نکلو میں کچھ بنا لاتی ہوں تم لوگوں کے لیے۔‘‘ تائی امی نے اٹھتے ہوئے کہا۔

          ’’ نہیں مجھے بھوک نہیں۔ ‘‘ ریشم آپا کی آواز میں نقاہت تھی۔

          ’’ ارے واہ، یہ کیسے ہو گا۔ تم نے صبح سے کچھ نہیں کھایا میری بچی ، دیکھو تو مانو اپنی آپا کو ، کیسی کمزور ہو گئی ہے۔ رنگ دیکھو تو کیسا کمہلا رہا ہے۔ کیا ہو گیا ہے ریشم تجھے ؟‘‘

          انہوں نے اپنے ممتا بھرے ہونٹ آپا کی یخ پیشانی پر رکھ دیئے۔ آپا نے تڑپ کر آنکھیں کھول دیں۔

          ’’ کیا ہوا میری بچی کو؟‘‘ تائی امی کی نظریں آپا کی آنکھوں سے مل رہی تھی۔ انہوں نے کچھ پا لیا تھا یا پہچان لیا تھا۔

          ایک منٹ میں ، ایک سکینڈ ، ایک پل میں یا پھر پل کے کسی ہزارویں حصے میں انہیں کچھ خطرے کی گھنٹیاں سنائی دینے لگی تھیں۔

          ’’ ریشم میری طرف دیکھو۔ ‘‘ تائی امی کی آواز میں حکم تھا۔ میں نے سہم کر آپا کو ان سے چھین لیا اور گھسیٹ کر اپنے ساتھ لگا لیا۔

          ’’آپ بھی بس تائی امی ، ہر وقت ڈانٹتی رہتی ہیں۔ آپا کی طبیعت کل سے خراب ہے اور آپ تو جانتی ہیں یونیورسٹی کی پڑھائی کتنی سخت ہوتی ہے۔ ‘‘

          ’’ تو بتایا کیوں نہیں ؟‘‘ انہوں نے سرزنش کی۔

          ’’ جی۔۔۔وہ بس۔۔۔ !‘‘

          آپا اب بھی خاموش تھی۔ آنکھیں بند کیے اپنے جہاں میں گم تھی اور میں جھجک کر رہ گئی۔

          ’’ اور یہ ناس ماری پڑھائی۔۔۔ذکر نہ کرنا۔‘‘ اب وہ بولتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئیں اور جاتے جاتے پھر پلٹ آئی تھیں۔ ’’ پڑھائی کوئی بھی ہو میری بچی ، وہ ہمیشہ سخت ہی ہوتی ہے۔ ‘‘

          تائی امی کی آواز کی شکستگی نے مجھے اداس کر دیا اور ریشم آپا بھی میرے کندھے سے جڑی گم تھی۔ وہ یہاں تھی ہی نہیں۔

          ’’ آپا ، مجھے بہت ڈر لگتا ہے۔ ‘‘ میں نے ان کا ہاتھ اپنی آنکھوں سے لگا لیا۔

          ’’ بس شک نہیں کرنا مانو، ڈر کا ڈر نہیں لگتا اب۔ ساحر نے مجھے بہادر بنا دیا ہے۔ لڑنا ، جھگڑنا نہیں مانو، بہادر ہونا سکھایا ہے۔ جانتی ہونا، یہ فرق۔۔۔؟ اچھا ایسا کرتی ہوں ، میں تمہیں ساحر سے ملواتی ہوں۔ تم بھی دیکھنا کہ جب وہ جہاں جدھر دیکھتا ہے ، چیزیں سانس لینا بھول جاتی ہیں۔ اور جب وہ بولتا ہے تو ساری کائنات اپنے کام چھوڑ کر صرف اسے سنتی ہے۔ ‘‘

          ’’ آپا، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ صرف آ پ کو ایسا لگتا ہو۔ پر مجھے نہ لگے۔ آپا اگر مجھے نہ لگا ایسا تو۔۔۔‘‘ میں نے بات ادھوری ہی رہنے دی۔

          ریشم آپا نے پلٹ کر مجھے یوں دیکھا جیسے ان کو حیرت ہوئی ہو پھر دوسرے ہی پل بڑی خوب صورت سی ہنسی ان کے چہرے پر نور کی طرح برس گئی۔

          یہ کون دیکھتا ہے اسے دیکھنے کے بعد

          ’’ مانو! ادھوری باتیں ، رقابتوں کی طرح ہوتی ہیں۔ ہر وقت مکمل کرنے کی خواہش گھیرے رہتی ہے لیکن ادھوری باتوں کے انبار ایسے لگ جاتے ہیں جیسے اماں نے پچھلی سردیوں میں ابا جی کا پرانا سوئیٹر ادھیڑ دیا تھا اور اون کا کتنا ڈھیر سارا انبار لگ گیا تھا ان کے پاس۔۔۔ یاد ہے نا مانو؟ اماں کے پلنگ کے پاس اون کا انبار ، ایسے جیسے دل کے پاس ادھوری باتوں کا انبار۔‘‘

          ’’اور ہاں آپا ، یاد ہے تایا جی کیسے الجھ کر گر گئے تھے اس دن اون کے انبار میں۔‘‘

          ’’ ہاں ، ایسے جیسے انسان ادھوری باتوں سے الجھ جائے اور پھر گر جائے۔۔۔ اور چاہے کہ الجھا بھی رہے۔۔۔ خفا بھی رہے کہ ایسا کیوں ہوا۔۔۔

          جانتی ہو مانو کہ انسان کیوں الجھا رہتا ہے ؟ ایسے ڈر ہوتا ہے کہ کہیں گر نہ جائے۔ بکھر نہ جائے۔۔۔ اور کہیں اس کی سلامتی کا بھرم ٹوٹ نہ جائے۔‘‘

          ’’ آپا ‘‘ میں نے پھر انہیں آواز دی۔

          ’’ ارے مانو، تم پھر ڈر گئیں۔ ‘‘

          ’’ ہاں آپا، پھر۔۔۔ ؟‘‘ میں نے سہم کر ریشم آپا کو دیکھا۔

          ماں اپنی سلامتی کا بھرم لیے چلی گئیں کئی باتوں کو ادھورا چھوڑ کر۔۔۔ ریشم آپا ابھی بھی اسی دروازے کو تک رہی تھی جہاں سے کچھ دیر پہلے تائی امی گئی تھی اور میں کہہ رہی تھی۔

          ’’ میں نے خو د آپا کے بغیر دیکھا ہی نہیں ہے۔ آپا نہیں جانتی کہ آپ کے بغیر کیسا لگے گا۔جب آپ ایسی باتیں کرتی ہیں تو میں آپ کے بغیر رہنے کے ہنر سے اور بھی دور ہو جاتی ہوں۔ ‘‘

          ’’ پگلی۔۔۔‘‘ انہوں نے میرا ما تھا چوما ، بالوں کو وہاں سے ہٹایا اور مجھے اکیلا چھوڑ کر باہر چلی گئی۔          

          ان کی خوشبو ان کے بعد بھی ان کا ہی پتہ دے رہی تھی۔

٭........٭      

          کیا ہو رہا ہے ، کیا ہونے والا ہے۔، جب سب کو پتا چلے گا، تب کیا ہو گا۔۔۔ تایا جی، اباجی ، تائی امی ، امی جی اور فرہاد بھائی اوہ خدایا۔۔۔ جب انہیں پتہ چلے گا کہ مجھے سب کچھ پتہ تھا تو کیا ہو گا؟ کیا کہیں گے مجھے۔۔۔ اور آپا کا کیا ہو گا؟

          پتہ نہیں مجھے کیا کرنا چاہیے۔۔۔ کیسے بتاؤں ، کیسے بتاؤں کہ ریشم آپا کیوں گھل رہی ہے۔ کیسے ہجر کی نذر ہو رہی ہیں۔۔۔

          خوشیوں اور محبتوں میں اتنے فاصلے تھے کہ میں سوچ کر ہی کانپ گئی۔

          ساحر کون تھا۔۔۔

          کہاں رہتا تھا۔۔۔

          کس کے ساتھ رہتا تھا۔۔۔

          اس کا حسب نسب، گھر بار کچھ بھی تو نہ پتا تھا۔ جو بھی سوچتی ، صرف قیاس ہی ہوتا، لیکن کب تک۔۔۔ آج آپا سے کہہ دو ں گی کہ مجھے ساحر سے ملنا ہے۔ ابھی اور اسی وقت۔۔۔

          میں اپنے کمرے سے نکل کر ان کے کمرے میں آ گئی۔ آپا اپنے کمرے میں نیم دراز کوئی کتاب پڑھ رہی تھی۔ ان کی نیم وا آنکھوں سے روشنی ایک لکیر کی طرح لفظوں پر پڑ رہی تھی۔ وہ اتنی منہمک تھی کہ انہیں میری آہٹ بھی چونکا نہ سکی۔

          ’’ آپا۔۔۔آپا ، مجھے ساحر سے ملنا ہے۔ ‘‘ میں ان کے پاس ہی بیٹھ گئی۔

          انہوں نے اچانک ایسے مجھے دیکھا جیسے وہاں میری آپا نہیں ، کوئی اور تھا۔ اتنی گہری اجنبیت اور اس سے بھی زیادہ جسارت پر حیرت۔۔۔

          ’’ ریشم آپا۔۔۔ !‘‘ میں نے ان کے ہاتھوں سے کتا ب لے کر بند کر دی۔

          ’’ آں ہاں۔‘‘ وہ ایسے چونکی جیسے کسی لمبے سفر سے واپس آئی ہوں۔ ’’ کیا کہا مانو تم نے ؟‘‘

          ’’آپا !‘‘ میں نے قدرے خفگی سے کہا۔’’کچھ نہیں۔‘‘ اور پھر یہ کہہ کر ناراضگی کا اظہار کر ہی دیا۔ ’’ واہ یہ کیا بات ہوئی۔ میری آپا کو یوں مجھ سے کوئی چرا لے اور میں شور بھی نہ کروں۔۔۔‘‘

          ’’ ارے ،ارے تو ہماری بلی ہم سے خفا ہے۔‘‘ انہوں نے مجھے لپٹا لیا۔’’ ہاں کیو ں نہیں مل لینا ساحر سے۔۔۔لیکن اس نے مجھے تم سے کبھی علیحدہ نہیں کیا مانو، میں نے خود کو تم سے ، سب سے علیحدہ کیا ہے۔ وہ بھی میں نے نہیں کیا۔ خودبخود ہو گیا۔ ہوتا چلا گیا سب کچھ۔ اب اس میں ساحر کا کیا قصور؟‘‘

          ’’ ہے آپا اس کا قصور۔‘‘ میں اب بھی خفا تھی۔ ’’ یاد ہے پہلے ہم اکھٹے گھومتے اور پھرتے تھے ، کھیلتے تھے ، کھاتے پیتے تھے ، شاپنگ پر جاتے تھے ، فلم دیکھتے تھے ، ٹی وی پر پروگرامز بھی انجوائے کرتے تھے۔ اکھٹے اکھٹے پڑھتے اور ملنے ملاتے بھی تھے اورتو اور اب تو اپنی باتیں کہے بھی عرصہ ہو گیا ہے اور پرسوں فرہاد بھائی بھی پوچھ رہے تھے کہ ریشم کو کیا ہو گیا ہے۔ بات ہی نہیں کرتی ہم سے۔‘‘

          ’’ پھر تم نے کیا کہا فرہاد کو۔‘‘ ریشم آپا مسکرا رہی تھی۔ ‘‘

          ’’ پھر کیا، کہہ دیا کہ مصروف ہیں یونیورسٹی کے ایک پراجیکٹ میں۔ ‘‘

          ’’ اچھا۔‘‘ وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی اور ہنستی چلی گئی۔ ہنستے ہنستے آنکھوں میں آنسو آ گئے۔  ایسے جیسے تیز ہوا سے کچھ لہریں ساحل سے بھی آگے آ جائیں تو سب کچھ گیلا کر دیتی ہیں۔ ایسے ہی آپا کی آنکھیں چھم چھم ساحلوں سے آگے برس رہی تھی۔

          ’’ آپا، بس بھی کریں۔ اب ایسی بات بھی نہیں کہی تھی۔‘‘ میں بھی مسکرا دی۔

          ’’ مجھے تمہارے پراجیکٹ بتانے پر ہنسی آئی تھی۔ پراجیکٹ۔۔۔ واہ جی، واہ۔‘‘ ریشم آپا کی ہنسی ایک بار پھر چاروں طرف بکھر رہی تھی۔

          ’’ آپا ، مجھے ساحر سے ملواؤ نا۔ ‘‘ میں نے پھر انہیں یاد کرایا۔

          ’’ اچھا ٹھیک ہے۔ پوچھوں گی اس سے۔‘‘ انہوں نے سادگی سے کہا۔

          ’’ کیا۔۔۔‘‘

          میں بس زمین آسمان ایک ہی کرنے والی تھی کہ آپا اور بھی حیران کر دیا۔

          ’’