کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ

خواجہ اشرف


یہ اتوار کی ایک خوبصورت صبح تھی۔ ہائی ٹیک کیفے لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہُوا تھا۔ یہ لوگ مختلف زمانوں ، علاقوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھتے تھے۔ اُن کے لباسوں سے اُن کے زمانوں ، علاقوں اور ثقافتوں کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا۔ لیکن اُن سب میں ایک چیز مشترک تھی۔ وہ چیز چائے کے وہ کپ تھے جو اُنہوں نے اپنے ہاتھوں میں اُٹھا رکھے تھے۔ وہ سب گفتگو میں مصروف تھے۔ اُن کے چہروں سے بے پایاں خوشی کا احساس ہو رہا تھا۔

 بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ مختلف زمانوں ، علاقوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے اتنے عظیم لوگ ایک وقت میں ایک جگہ اکٹھے ہوں۔

چند لمحوں کے لئے میں نے سوچا میں نشے میں ہوں۔ ورنہ میں ایک وقت میں کنفیوشس، مہاتما بدھ، کرشنا، موسیٰ، یسوع مسیح، ہومر، اُمرا القیس، گوئٹے ، کارل مارکس اور گاندھی کو ایک کیفے میں بیٹھے کیسے دیکھ سکتا ہوں۔

 وہاں ماضی کی اور بے شمار عظیم شخصیات موجود تھیں لیکن میں اُن سے آشنا نہیں تھا۔ جنہیں میں نے پہچانا تھا اُن کی تصویریں میں نے مختلف میگزینوں دیکھ رکھی تھیں۔

وہاں وہ عظیم شخصیات بھی تھیں جن کا نام لکھنے سے کچھ لوگوں کے منہ کے ذائقے میں ترشی آ سکتی ہے۔ چنانچہ میں عمداً اُن کا نام لکھنے سے گریز کر رہا ہوں۔

میں نے کوشش کی کہ میں کیفے میں بیٹھے ہر عظیم آدمی سے ہاتھ ملاؤں لیکن اُن سے دور رہوں جن سے ہاتھ ملانا کسی طور خطرے سے خالی نہیں۔

سب سے پہلے میں نے کفیوشس سے ہاتھ ملایا۔ اُس نے ہاتھ میں پکڑا چائے کا کپ ایک میز پر رکھ دیا اور دیر تک میرا ہاتھ تھامے رکھا۔ کنفیوشش کا میرا ہاتھ تھامنا میرے لئے میری زندگی کا سب سے اہم واقعہ تھا۔ جیسے ہی اُس نے میرا ہاتھ تھاما مجھے لگا چینیوں کی ہزاروں سال کی دانش روشنی کی شکل میں میرے وجود سے گزر رہی ہے۔ میری آنکھوں کے سامنے چینی ریستورانوں میں بانٹی جانے والی فارچون کوکیز میں سے نکلنے والی پرچیوں پر لکھے پیغامات کی پٹی چلنے لگی۔ اُس پٹی پر وہ سب خوش کن باتیں لکھی تھیں جو عموماً کھانے کے بعد مہمانوں کو پیش کی جانے والی کوکیز میں سے برآمد ہوتی ہیں۔ جب تک کنفیوشس نے میرا ہاتھ تھامے رکھا میری آنکھوں کے سامنے چینی تہذیب کے عظیم واقعات کی فلم چلتی رہی۔ ایک کے بعد ایک عظیم چینی دانشور، فنکار، دست کار میرے سامنے اپنے فن کے نمونے پیش کرتے رہے۔ میں حیرت کی تصویر بنا ان کے فن پاروں کو دیکھ کر اُن کے حسن سے لطف اندوز ہوتا رہا۔

تھوڑی دیر بعد کنفیوشس نے مسکراتے ہوئے میرا ہاتھ چھوڑ دیا۔ میں عقیدت بھرے جذبات کے ساتھ آگے بڑھ گیا۔

جیسے ہی میں آگے بڑھا میں نے دیکھا کرشنا اپنی گوپیوں کے ساتھ خوش وقتی میں مصروف تھا۔ لگتا تھا کہ وہ مہابھارت یدھ سے ابھی ابھی لوٹا تھا۔ اُس کے ہاتھ سے اُس کی روایتی مُرلی غائب تھی۔ اُس نے بھی اپنے ایک ہاتھ میں ہائی ٹیک کیفے کا چائے کا کپ پکڑ رکھا تھا اور دوسرا ہاتھ دھیرے دھیرے ایک گوپی کی ننگی پیٹھ کے ابھار پر پھیر رہا تھا۔ جبکہ دوسری گوپیاں اُسے مالش کر رہی تھیں۔

 کرشنا کے قریب ہائی ٹیک کیفے کی دیوار میں ایک کھڑکی تھی جس میں دور بیل گاڑیوں کی ایک قطار آہستہ آہستہ چلتی وقت اور فاصلے کی دھُند میں غائب ہو تی دکھائی دے رہی تھی۔

اگر میں فانی انسان اس مسحور کن حالت میں ہوتا تو کبھی کسی اور طرف توجہ نہ دیتا۔ لیکن کرشنا نے مجھے دیکھا تو چائے کا کپ ایک گوپی کو پکڑا کر میرا ہاتھ تھام لیا اور دوسرا ہاتھ مسلسل گوپی کی ننگی پیٹھ کے ابھاروں پر پھیرتا رہا۔

میں کرشنا سے بہت سے سوال پوچھنا چاہتا تھا۔ لیکن اس خوبصورت ماحول میں میں ایسا نہ کر سکا۔ میں کرشنا کی خوش وقتی میں حائل نہیں ہونا چاہتا تھا۔ گوپیاں مسلسل کرشنا کو مالش کر رہی تھیں۔ مالش کرتے ہوئے وہ مسحور کن آواز میں کرشنا کے لئے محبت کے گیت گا رہی تھیں۔ سارے ماحول میں ایک انتہائی خوشگوار خوشبو پھیلی تھی۔

میں نے سوچا کوئی بے وقوف ہی ایسے زیبا ماحول میں دانشورانہ گفتگو کرنی پسند کرے گا۔ میں نے ایسے سوچا ہی تھا کہ کرشنا کے ہاتھ سے میرے ہاتھ میں ایک انرجی روشنی بن کر بہنے لگی۔ اُس روشنی میں سب کچھ غائب ہو گیا۔ نہ ہائی ٹیک کیفے رہا۔ نہ پھولوں کی مہک رہی۔ نہ گوپیاں رہیں۔ نہ اُن کے گیت رہے۔ نہ میں رہا اور نہ کرشنا۔ بس ایک انرجی تھی جو روشنی کی شکل میں وقت کے بے کنار، لا محدود دریا میں ایک نہ ختم ہونے والے سلسلے کی طرح بہتی چلی جا رہی تھی۔

میں نہیں جانتا میں کب تک اس بے صورتی کی حالت میں رہا۔ اگر میں چاہوں بھی تو میں اس صورت حال کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔ بس میں اتنا جانتا ہوں جب میں اس بے صورتی کی دنیا سے واپس صورتوں کی دنیا میں آیا کرشنا کے ایک ہاتھ میں ہائی ٹیک کیفے کا چائے کا کپ پکڑا تھا۔سارے ماحول میں پھولوں کی خوشبو پھیلی تھی۔ اُس کی گوپیاں اُسے مالش کر رہی تھیں۔ دوسرے ہاتھ سے اب بھی وہ ایک گوپی کی ننگی پیٹھ کے اُبھار سے کھیل رہا تھا۔

اُس کی گوپیوں میں سے ایک نے مسکراتے ہوئے مجھے سفید کنول کا ایک پھول تحفے میں دیا جسے تھامے میں کیفے میں آگے بڑھ گیا۔

کیفے کے فرش پر چلتے میں نے دنیا کے تمام عظیم ترین انسان دیکھے۔ وہ جو ماضی میں جنم لے چکے تھے اور وہ جنہیں ابھی مستقبل میں جنم لینا تھا۔ چونکہ ہائی ٹیک کیفے میں وقت ماضی، حال اور مستقبل میں منقسم نہیں تھا۔ صرف حال تھا اس لئے سبھی عظیم انسان وہاں موجود تھے۔ جنہیں ابھی مستقبل میں جنم لینا تھا وہ بھی وہاں اپنے متوقع عظیم کر دار کی پریکٹس کر رہے تھے۔

لیکن میں اُن میں سے کسی میں دلچسپی نہیں رکھتا تھا۔ مجھے صرف مہاتما بدھ سے ملاقات میں دلچسپی تھی۔ اتوار کے اس خوبصورت دن میری یہاں آنے کی وجہ بھی یہی تھی۔ میں چاہتا تھا کہ میں مہاتما بدھ کے ساتھ چائے کا ایک کپ پیوں۔ کیونکہ اس ہائی ٹیک کیفے میں سب سے اونچے مقام پر وہی براجمان تھا۔ باقی عظیم لوگوں کے برعکس مہاتما بدھ کے ارد گرد روشنیوں کے کئی ہالے پورے کیفے کو مسلسل منور کر رہے تھے۔

 اُس کے ارد گرد روشنیوں کے یہ ہالے دیکھ کر میں سوچ میں ڈوب گیا۔ آخر مہاتما بدھ میں ایسی کیا بات تھی اُسے یہ مرتبہ اور مقام کیونکر حاصل تھا۔ اُس کی عظمت دنیا بھرکے عظیم لوگوں سے زیادہ حقیقی تھی۔اِس عظمت کا کوئی آغاز یا انجام نہیں تھا۔ یہ عظمت وقت کی طرح لا محدود اور بے پایاں تھی۔ اُس نے بھی اپنے ہاتھ میں ہائی ٹیک کیفے کا ویسا ہی ایک کپ پکڑ رکھا تھا۔ ماضی حال اور مستقبل کے تمام عظیم انسان کوشاں تھے کہ اُنہیں اُس کے کپ کے مشروب سے پینے کے لئے چند قطرے مل جائیں۔ یہ ایک عجیب صورت حال تھی۔

 میں آہستہ آہستہ چلتا مہاتما بدھ کی طرف بڑھا۔ میں نے دیکھا اُس کے چہرے پر ایک عجیب اطمینان اور سکون تھا۔ ایک ایسا اطمینان جو صرف اُن انسانوں کے چہرے پر ہوتا ہے جو سب کچھ سننے ، سمجھنے اور جاننے کے بعد خود <