کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

شیطان

خواجہ اشرف


پوری دنیا سے حج کے لئے آئے لوگ شیطان کو کنکریاں مار رہے تھے۔لوگوں کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ حج کے باقی سارے مراحل میں حاجیوں کا رویہ نہایت نرم تھا۔ لیکن جیسے ہی وہ شیطان کو مارنے کے لئے کنکریاں اکٹھا کرنا شروع ہوئے اُن میں ایک ان جانا جذبہ عود کر آیا۔ احرام کے باوجود ان کی نرم خوئی تند خوئی میں بدلنے لگی اور وہ کنکریاں جمع کر کے تیز تیز قدم اٹھاتے شیطان کی طرف بڑھنے لگے۔

اصغر نے بھی حج کے اس اہم فریضے کے لئے باقی حاجیوں کے ساتھ شیطان کی طرف روانہ ہوا تاکہ اُسے پتھریاں مارے۔ لیکن دوسرے حاجیوں کے برعکس شیطان کی طرف بڑھتے ہوئے اُس کے قدموں میں سست روی آنا شروع ہو گئ۔ یہاں تک کہ وہ سب حاجیوں سے پیچھے رہ گیا۔

اس نے ایک ایک کر کے مطلوبہ تعداد میں کنکریاں اکٹھی کیں اور آہستہ آہستہ شیطان کی طرف بڑھا۔ جب ہولے ہولے قدم اٹھاتا وہ پہلے شیطان کے پاس پہنچا تو تقریباً باقی سب حاجی اس اہم فریضے سے فارغ ہو کر کعبے کے طرف روانہ ہو چکے تھے۔

اس نے پہلے شیطان کو مارنے کے لئے کنکری اٹھائی تو شیطان نے مسکراتے ہوئے اسے خوش آمدید کہا اور پھر بولا:

"تم بھی۔۔۔"

شیطان کے استفسار پر اس کا پتھر مارنے والا ہاتھ ہوا میں مُعلق رہ گیا۔ وہ چاہنے کے باوجود پتھر شیطان کی طرف نہ پھینک سکا۔

"ہاں میں بھی۔۔۔۔"

اُس نے پتھر والا ہاتھ ہوا میں اٹھائے اُسے جواب دیا۔

"میں تمہیں اپنا دوست سمجھتا تھا۔ تم بھی دوسرے مسلمانوں کی طرح نکلے۔" شیطان نے مسکراتے ہوئے جملہ کسا۔

"ہاں۔ میں اُن سے الگ کیسے ہو سکتا ہوں۔ میں اُن میں پیدا ہوا تھا۔ اُنہی میں میری پرورش ہوئی۔ اُنہی کے ساتھ مجھے مرنا ہے۔ میں اُن سے الگ ہونے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔" اس نے تقریباً رونے والے لہجے میں اُسے جواب دیا۔

"میں نے کب کہا ہے کہ تم اُن سے الگ ہو جاؤ۔ کنکریاں تو تم نے پہلے ہی جمع کر لی ہیں۔ اور اُن کی خوب گنتی کی ہے تا کہ کوئی کمی نہ رہ جائے۔مارنے کے لئے تمہارا ہاتھ ابھی تک ہوا میں مُعلق ہے۔ نہ جانے تم نے اپنا ہاتھ روک کیوں لیا ہے ؟"

"بس ایک خیال سے میرا ہاتھ ہوا میں رُک گیا ہے۔" اُس نے شیطان کے طنز بھرے جملے کا جواب دیتے ہوئے کہا۔

"ہاں خیال۔۔۔خیال ہی اصل قوت ہے۔ خیال ہی وہ بیج ہے جس سے عمل کا پودا پھوٹتا ہے اور پھر بڑھتے بڑھتے تناور درخت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ خدا اور میں خیال ہی سے انسانوں کو کنٹرول کرتے ہیں۔ کسی کے خیال میں وہ گھس جاتا ہے کسی کے خیال میں میں۔ باقی سار ا کام انسان خود کرتے ہیں۔"

شیطان کی گفتگو سن کر اصغر کا کنکریاں مارنے والا ہوا میں معلق ہاتھ نیچے آ گیا۔ کنکری اُس کے ہاتھ سے گر گئی اُس کا جی چاہا وہ مسلسل شیطان سے گفتگو کرتا رہے۔

اُس نے شیطان سے مخاطب ہوتے ہوئے پوچھا کہ۔۔۔"لاکھوں لوگوں سے کنکریاں پڑنے کے بعد وہ کیسا محسوس کرتا ہے۔"

اُس کا سوال سن کر شیطان نے ایک فلک شگاف قہقہہ لگایا۔ پھر کہنے لگا: "وہ سمجھتے ہیں کہ وہ مجھے کنکریاں مارتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے اندر چھپے شیطان کو کنکریاں مارتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جتنے انسان پیدا کرتا ہے میں اتنے اپنے عکس پیدا کرتا ہوں۔ پھر ہر انسان کے اندر اپنا ایک عکس بٹھا دیتا ہوں۔ اس کے بعد کھیل شروع ہو جاتا ہے۔ ہر انسان کی زندگی بھر اپنے اندر بیٹھے میرے عکس سے جدو جہد چلتی رہتی ہے۔ وہ سمجھتا ہے وہ میرے خلاف جدوجہد کر رہا ہے حالانکہ وہ اپنی ذات کے اندر چھپے میرے عکس کے خلاف جدوجہد کر رہا ہوتا ہے۔"

شیطان کی گفتگو سن کر اصغر کے ہاتھ میں پکڑی دوسری کنکریاں بھی گر گئیں۔ اُس نے شیطان کو کنکریاں مارنے کا ارادہ ترک کر دیا۔

اُسے لگا شیطان اُس پر غالب آ گیا ہے۔ شیطان کو کنکریاں مارنے کا حج کا ایک اہم رکن پورا ہونے سے رہا جاتا ہے۔

اس احساس کے پیدا ہوتے ہی اُس نے احرام کی چادر سے اپنے دونوں کندھے ڈھانپتے ہوئے لاحول پڑھی اور نیچے گری ہوئی کنکریاں دوبارہ اٹھانے کے لئے اپنی کمر جھکائی لیکن وہ خواہش اور کوشش کے باوجود ایسا نہ کر سکا۔

اُس نے پھر لاحول پڑھی ، چاروں قُل پڑھے ، لیکن وہ پھر بھی کنکریاں نہ اٹھا سکا۔ شیطان کافی دیر تک اُس کی بے بسی پر محظوظ ہو رہا تھا۔ پھر اُس نے آگے بڑھ کر کنکریاں اٹھائیں اور اُسے تھما دیں۔

"لو دوست۔ میں جانتا ہوں تم کس کشمکش سے دوچار ہو۔ میں تمہارا پُرانا دوست ہوں۔ تمہاری اتنی مد د تو کر سکتا ہوں۔"

اُس نے ہاتھ بڑھا کر شیطان سے کنکریاں پکڑ لیں۔ اُس کا خیال تھا کہ اب وہ شیطان کو کنکریاں مار کر حج کا یہ اہم رکن پورا کر سکتا ہے۔ لیکن دوبارہ خواہش کے باوجود وہ ہاتھ اٹھا کر شیطان کی طرف کنکری نہ پھینک سکا۔

شیطان نے اُس کی حالت دیکھ کر پھر قہقہہ لگایا:

"دیکھو دوست ، جب تم نے کنکریاں خود اکٹھی کی تھیں تم مجھے کنکری نہیں مار سکے تھے۔ اب تو کنکریاں خود میں نے تمہیں تھمائی ہیں۔ اب ان کنکریوں میں اتنی استعداد نہیں رہ گئی کہ وہ مجھ تک پہنچیں۔ اب تم چاہو بھی تو میری طرف کنکری نہیں پھینک سکو گے اور اگر پھینکو گے تو وہ مجھ تک پہنچے گی نہیں۔ اب یہ تمہاری نہیں میری کنکریاں ہیں اور میری کنکریاں مجھے کیسے لگ سکتی ہیں ؟"

اصغر نے بے بسی سے شیطان کی طرف دیکھا۔ اُس نے گڑ گڑا کر خدا سے دعا کی کہ وہ شیطان کے خلاف اُس کی مد د کرے۔

لیکن خدا نے اُسی وقت اُسے تنہا چھوڑ دیا تھا جب شیطان کے ساتھ اُس کا مکالمہ شروع ہوا تھا۔ خدا کا رویہ دیکھ کر اُس کی سسکیاں اُس کے گلے اور آنسو اُس کی آنکھوں میں اٹک گئے۔ اُسے لگا وہ صلیب پر لٹکا یسوع مسیح ہے جسے خدا نے تنہا چھوڑ دیا ہے۔

لیکن یسوع مسیح نے تو اپنے اربوں کھربوں پیروکاروں کے گناہوں کا کفارہ ادا کرنا تھا۔ اُسے کس کے گناہوں کا کفارہ ادا کرنا تھا؟

اُس نے پھر روتے ہوئے خدا سے استدعا کی کہ وہ شیطان کے خلاف اُس کی مد د کرے۔ اُس کو طاقت عطا کرے کہ وہ اُس کی طرف کنکریاں پھینک سکے۔

آخر خدا کو اُس کی حالت پر ترس آیا۔ اُس نے ہمت کر کے ایک کنکری شیطان کی طرف پھینکی۔ جو شیطان سے دور جا گری۔ پھر اُس نے ایک اور کنکری شیطان کی طرف پھینکی لیکن وہ بھی شیطان سے دور جا کری۔ شیطان چند لمحوں تک اُسے جد و جہد کرتے دیکھتا رہا۔ پھر ہولے ہولے چلتا اُس کے قریب پہنچ کر بولا:

"لو میں تمہارے قریب آ گیا ہوں۔ تم چاہو تو مجھے کنکری مار کر اپنے مناسک حج پورے کر لو۔ لیکن میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں کہ اگر تمہاری کنکریاں مجھے لگ بھی گئیں تو تمہارا حج نہیں ہو سکے گا۔"

اصغر نے شیطان کی بات سنی تو متجسس ہو کر اُس سے پوچھا کہ۔۔۔ " وہ ایسا کیوں کہہ رہا ہے۔ وہ اتنی دور سے سفر کر کے حج کرنے پہنچا ہے۔ اُس نے شرعی احکامات<