کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

پاگل

خواجہ اشرف


گاؤں میں سب کا ماننا تھا کہ فقیرا پاگل ہے۔ لیکن فقیرا جانتا تھا کہ وہ پاگل نہیں صرف وقت سے پہلے اس دنیا میں چلا آیا ہے۔ لوگ اس کی باتیں سمجھنے سے قاصر ہیں اس لیے وہ اس کو پاگل جانتے ہیں۔

فقیرے کا اصل نام فقیر حسین تھا۔ وہ ایک بہت غریب خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ کئی برس قبل جب اس نے میٹرک کیا تو اس کے والد نے گاؤں کے چوہدری صاحب سے کہہ کر اسے محکمہ انہار میں کلرک بھرتی کرا دیا۔ وہ کلرک بھرتی ہو کر بہت خوش تھا۔ ملازمت سے اسے سو ڈیڑھ سو روپے ماہانہ تنخواہ مل جاتی تھی جسے لا کر وہ ماں کی ہتھیلی پر رکھ دیتا۔ ماں پہلے روپوں کو آنکھوں سے لگاتی پھر فقیرے کو خرچ کے لیے دس روپے دے کر باقی اپنے دوپٹے کے پلو میں باندھ لیتی۔

فقیرے کے پاگل ہونے کی باتیں سب سے پہلے اس کے محکمہ میں اس وقت شروع ہوئیں جب اس نے دفتر میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ رشوت کے پیسوں میں سے اپنا حصہ وصول کرنے سے انکار کر دیا۔

ہوا یوں کہ مہینے کے اختتام پر جب اوور سیر صاحب نے مختلف زمین داروں کی طرف سے ملنے والے رشوت کے روپوں میں سے فقیرے کا حصہ اسے دینے کی کوشش کی تو اس نے یہ کہہ کر اس نے حصہ وصول کرنے سے انکار کر دیا کہ اسے کام کی تنخواہ ملتی ہے اور وہ تنخواہ کے علاوہ کوئی اور پیسے قبول نہیں کرے گا۔

شروع شروع میں اوور سیر صاحب کا خیال تھا کہ وہ محکمے میں نیا آنے کی وجہ سے رشوت لینے سے انکاری ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ باقی ملازموں کی طرح وہ بھی ان چیزوں کا عادی ہو جائے گا اور اپنا حصہ وصول کر لیا کرے گا۔ لیکن جب کئی ماہ گزرنے کے باوجود اس نے رشوت کے پیسوں میں حصہ دار بننے سے انکار کیا تو اوور سیر صاحب نے اس کے پاگل ہونے کا فتویٰ جاری کر دیا۔

فقیرے نے اوور سیر صاحب کی بات کا برا منائے بغیر محکمہ انہار میں اپنا کام جاری رکھا۔ وقت کے ساتھ اس نے رشوت میں سے اپنا حصہ نہ لینے کے علاوہ اپنے دفتر کے ساتھیوں کو زمین داروں سے رشوت وصول کرنے پر برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ وہ انہیں اس بات پر کوستا کہ انہیں اپنا کام کرنے کی سرکار سے تنخواہ ملتی ہے اس لیے انہیں زمین داروں سے رشوت وصول نہیں کرنی چاہیے۔ شروع شروع میں اس کے ساتھی اس کے اعتراضات کو کہی اور ان کہی سمجھ کر باتوں میں اڑا دیتے لیکن جب ان پر اس کی تنقید حد سے بڑھنے لگی تو انہوں نے اوور سیر کے ساتھ مل کر اس کے خلاف رشوت لینے کا کیس بنایا اور اسے ملازمت سے فارغ کرا دیا۔

جس دن اسے رشوت خوری کے الزام میں ملازمت سے نکالا گیا وہ گھر پہنچتے ہی ماں کے سامنے سسکیاں بھر کر رونا شروع ہو گیا۔ ماں نے اسے بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر روتے دیکھا تو پہلے اسے تسلی دی اور پھر رونے کی وجہ پوچھی۔ اس نے ماں کو بتایا کہ اس کے دفتر کے ساتھیوں نے رشوت کے مال میں حصہ دار نہ بننے کی وجہ سے اس پر رشوت خوری کا الزام لگا کر اسے ملازمت سے فارغ کرا دیا ہے۔

فقیرے کے باپ نے اس کی ملازمت چھوٹنے کی خبر سنی تو بھاگے چوہدری صاحب کے پاس پہنچے تاکہ انہیں کہہ کر اسے ملازمت پر بحال کرائیں۔

چوہدری صاحب کے کہنے پر محکمہ انہار کے افسر نے فقیرے کی ملازمت بحال کر دی لیکن ساتھ ہی یہ تاکید کی کہ آئندہ اگر وہ رشوت نہ لینا چاہے تو نہ لے لیکن دوسروں سے اس بارے میں کوئی پنگا نہ لے ورنہ وہ دوبارہ اس کی کوئی مد د نہیں کر سکیں گے۔

بحالی کا پروانہ پکڑے فقیرا دفتر واپس پہنچا تو اوور سیر صاحب نے اس کو کام کرنے کی اجازت دے دی لیکن ساتھ ہی وارننگ دی کہ وہ اپنے کام سے کام رکھے اور کسی کے ساتھ رشوت کے بارے میں بحث مباحثے میں نہ اُلجھے۔

بحالی کے چند ماہ تک فقیرا روزانہ سفید شلوار قمیض پہنے سائکل پر سوار اپنے دفتر جاتا، سارا دن اپنی ٹیبل پر بیٹھ کر کام کرتا، اور دفتر کا وقت ختم ہونے کے بعد دوبارہ سائکل پر سوار گھر واپس پہنچ جاتا۔ اس کے رویے میں تبدیلی سے اس کے ساتھی بظاہر مطمئن تھے لیکن انہیں اس کی دفتر میں موجودگی سے سخت وحشت ہوتی۔

اسے اپنے درمیان بیٹھے دیکھ کر انہیں محسوس ہوتا کہ کوئی وہاں بیٹھا نہ صرف ان کے ہر فعل کو دیکھ رہا ہے اور ان کی حرکتوں پر نظر رکھ رہا ہے بلکہ ان کے خلاف وہ کسی وقت انکوائری بھی شروع کروا سکتا ہے۔

پھر وہ یہ سوچ کر مطمئن ہو جاتے کہ چپراسی سے لے کر ایکسین تک سب رشوت میں سے اپنا حصہ وصول کرتے ہیں اس لیے انکوائری کون کرے گا؟

چنانچہ انہوں نے فقیرے کی واپسی کو مجبوری سمجھ کر قبول کر لیا۔ اور رفتہ رفتہ اس کی موجودگی سے بے نیاز ہو گئے۔

ایک دن انہیں اطلاع ملی کہ ان کے محکمے کے وزیر محکماتی دورے پر ان کے دفتر میں تشریف لا رہے ہیں۔

وزیر صاحب کے دورے کی اچانک اطلاع سے سارے ملازمین پریشان ہو گئے۔ ان کے دل وسوسوں اور خدشوں میں ڈوب گئے۔ انہوں نے اوور سیر صاحب سے مل کر خدشے کا اظہار کیا کہ فقیرا رشوت میں سے اپنا حصہ وصول نہیں کرتا، کہیں ایسا نہ ہو کہ جب وزیر صاحب تشریف لائیں وہ انہیں دفتر میں پائی جانے والی رشوت کے بارے میں باخبر نہ کر دے۔ انہوں نے اوور سیر صاحب سے درخواست کی کہ اگر ممکن ہو تو وہ اس دن اسے دفتر سے دور رکھیں۔ ملازمین کے خدشات کے پیش نظر اوور سیر صاحب نے فقیرے سے کہا وہ چاہتے ہیں کہ جس دن وزیر صاحب دورے پر آ رہے ہیں وہ دفتر سے چھٹی کر لے۔ اوورسیر صاحب کے کہنے پر فقیرے نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ اس دن چھٹی کرے گا اور کام پر نہیں آئے گا۔

کرنے کو اس نے اوور سیر صاحب سے وعدہ کر لیا کہ وہ وزیر موصوف کے دورے کے دن دفتر نہیں آئے گا لیکن پھر نہ جانے اسے کیا سوجھی کہ عین وزیر کے دورے کے دن اس نے ایک کتبہ بنایا جس پر موٹے موٹے حروف میں لکھا کہ محکمہ انہار میں رشوت ختم کی جائے۔ پھر حسب معمول صبح ناشتہ کیا، سفید شلوار قمیض پہنی اور سائکل پر سوار ہو کر دفتر جانے کی بجائے گاؤں کی طرف آنے والی سڑک کے کنارے جا کر کتبہ اٹھا کر کھڑا ہو گیا۔

دن چڑھے جب اس نے جھنڈے والی گاڑی ہائی وے سے اتر کر گاؤں جانے والی سڑک پر آتے دیکھی تو اس نے سڑک کے بیچوں بیچ کتبہ لہرانا شروع کر دیا۔ وزیر صاحب نے جب اپنے محکمے میں رشوت کے بارے میں کتبہ دیکھا تو ڈرائیور کو گاڑی روکنے کا حکم دیا۔ پھر انہوں نے فقیرے کو اپنے پاس بلایا اور پوچھا کہ وہ کیسے جانتا ہے کہ محکمہ انہار کے دفتر میں رشوت چلتی ہے۔ اس نے وزیر صاحب کو بتایا کہ وہ محکمے میں بطور کلرک کام کرتا ہے۔ محکمے میں ہر ماہ زمین داروں کی طرف سے ملنے والے رشوت کے پیسوں کی تقسیم ہوتی ہے۔ رشوت میں سے اس کے سوا نیچے سے لے کر اوپر تک سب اپنا حصہ وصول کرتے ہیں۔ اس نے وزیر صاحب کو بتایا کہ ایک بار اس نے انہیں رشوت لینے سے منع کیا تو انہوں نے اس کیے خلاف سازش کر کے اس کی ملازمت ختم کر دی۔

فقیرے کی گفتگو سن کر وزیر آبپاشی محکمہ انہار کے دفتر پہنچے تو سب سے پہلے انہوں نے اوور سیر صاحب سے پوچھا کہ فقیرے کو ملازمت سے نکالے جانے کے بعد بحال کس نے کیا تھا۔ اوور سیر نے وزیر کو بتایا کہ فقیرے کو ملازمت ایکسین صاحب نے دی تھی، پھر ملازمت سے نکالا بھی انہوں نے تھا اور بعد میں معافی تلافی کے بعد بحال بھی انہوں نے کیا تھا۔

وزیر کے دورے کی وجہ سے ایکسین صاحب بھی وہیں دفتر میں موجود تھے۔ اوور سیر کی بات سن کر وزیر نے دفتر