کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے

خواجہ اشرف


نگاہ خانم کا معمول تھا کہ وہ روزانہ اپنے گھر سے نکل کر پیدل چل کر کالج جاتی۔ اور کالج میں روز مرہ کے معمولات سرانجام دینے کے بعد گھر واپس آ جاتی۔

اسے کالج آتے جاتے کئی سال ہو گئے تھے لیکن اس نے کبھی راہ میں کوئی غیر معمولی چیز نہیں دیکھی تھی۔ کبھی کبھی نگاہ خانم کا جی چاہتا کہ روز مرہ کی یکسانیت ٹوٹے اور کبھی کوئی ایسا واقع رونما ہو جس سے اسے کچھ مختلف محسوس ہو۔

لیکن گھر سے کالج کے راستے پرچھائی یکسانیت نگاہ خانم کی زندگی کا حصہ بنتی چلی جا رہی تھی۔

چاہنے کے باوجود نگاہ خانم کی زندگی میں کوئی ایسا واقع رونما نہیں ہو رہا تھا جس سے اسے اپنی زندگی میں تبدیلی کا احساس ہوتا۔

وہ محسوس کرتی ان دنوں شہر کے لڑکے بھی کچھ ضرورت سے زیادہ شریف ہو گئے ہیں۔ کسی زمانے میں آتی جاتی لڑکیوں پر لائن مارنا، جملے کسنا، اور ہلکی پھلکی چھیڑ چھاڑ کرنا زندگی کا معمول تھا۔ لڑکے اور لڑکیاں دونوں اس چھیڑ چھاڑ سے لطف اندوز ہوتے۔ اگر کبھی بات آگے بڑھ جاتی تو ارد گرد کا معاشرہ فوراً اپنا کر دار ادا کر کے چیزوں کو دوبارہ ڈھرے پر ڈال دیتا اور بات آئی گئی ہو جاتی۔

لیکن زندگی میں ایسی یکسانیت بالکل نہیں تھی۔ ایسی لا تعلقی کہ لڑکے لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ بند کر دیں نگاہ خانم کے لیے اس کا تصور بھی محال تھا۔

اس نے یکسانیت سے اکتا کر کالج آنے جانے کے مختلف راستے ڈھونڈھے تا کہ روزانہ نئے راستے سے کالج آئے جائے اور اگر اور کچھ نہیں تو کم از کم کچھ نئے چہروں کے عکس اپنے ذہن پر منقش کرے۔

لیکن کچھ ہی دنوں میں نئے راستے بھی پرانے ہو جاتے اور نئے دکھنے والے چہروں کی جاذبیت بھی تقریباً ختم ہو جاتی۔

نئے راستوں کی تلاش میں ایک دن نگاہ خانم کی زندگی میں ایسا واقعہ رونما ہوا کہ وہ اپنے روایتی راستے کی طرف لوٹنے پر مجبور ہو گئی۔ اب وہ دوبارہ پرانے راستے سے کالج آنے جانے لگی لیکن اب جس چیز کو اس کی نگاہیں ڈھونڈھتی تھیں وہ کہیں نہیں دکھتی تھی۔

ہوا یوں کہ ایک دن وہ ایک نئے راستے سے کالج جا رہی تھی کہ اچانک اسے اپنی طرف ایک نوجوان بڑھتا ہوا دکھائی دیا۔

نگاہ خانم جیسے جیسے کالج کی طرف بڑھتی جا رہی تھی وہ نوجوان اس کا پیچھا کر رہا تھا۔ وہ تیزی سے چلتی تو اس کے تعاقب میں نوجوان کے قدم بھی تیزی سے اٹھنے لگتے۔ وہ آہستہ روی اختیار کرتی تو نوجوان کی رفتار میں بھی آہستگی آ جاتی۔

وہ نوجوان مسلسل نگاہ خانم کے پیچھے چل رہا تھا لیکن اس کی رفتار کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کر کے اس کے اور اپنے درمیان فاصلہ برقرار رکھے ہوئے تھا۔ نہ فاصلے میں کمی آنے دیتا اور نہ فاصلہ بڑھنے دیتا۔

نگاہ خانم جانتی تھی کہ وہ اس کا تعاقب کر رہا ہے لیکن وہ یہ جاننے سے قاصر تھی کہ نوجوان کی رفتار اس کی رفتار کی کمی و بیشی کے ساتھ کیوں کم و بیش ہو رہی تھی۔

نگاہ خانم نے جتنی بار اپنی رفتار سست کی اس کے پیچھے ایک ہی مقصد تھا کہ وہ نوجوان اس تک پہنچے اور جو بھی کہنا چاہتا ہے کہے۔ وہ چاہتی تھی کہ وہ نوجوان اس سے بات کرے۔ اس پر کوئی جملہ کسے۔ یا کوئی ایسی حرکت کرے جس سے اس کی زندگی کی یکسانیت ٹوٹے۔ لیکن نگاہ خانم کی بار بار کی کوشش کے باوجود نوجوان نے نہ اس کا تعاقب ترک کیا نہ اس سے اپنے فاصلے میں کمی یا بیشی پیدا ہونے دی۔

اس نوجوان کے ہاتھ میں ایک پیکج تھا جو وہ نگاہ خانم کو دینا چاہتا تھا لیکن اس کے خیال میں ابھی تک راستے میں کوئی ایسا مقام نہیں آیا تھا جہاں وہ اس پیکیج کو نگاہ خانم کے حوالے کرتا۔

وہ نہیں چاہتا تھا کہ کوئی اسے وہ پیکیج نگاہ خانم کو دیتے ہوئے دیکھے۔

اسے اس بات کا مکمل احساس تھا کہ پاکستان جیسے قدامت پسند معاشرے میں عورت کی آبرو کتنی نازک چیز سمجھی جاتی ہے۔ اور کس طرح اسے آئنے کی طرح ہر وقت صاف رہنا چاہیے۔ کیونکہ اس رجعت پسند معاشرے میں آئنے پر ذرا سا غبار پڑھنے سے عورت کی زندگی اس طرح دھندلا جاتی ہے کہ پھر اسے دنیا کی کوئی چیز صاف نہیں کر سکتی۔

لیکن نگاہ خانم کا اتنا تعاقب کرنے کے بعد بھی ابھی تک نوجوان کو کوئی ایسا موقع نہیں ملا تھا جب کوئی ارد گرد موجود نہ ہو یا اسے دیکھ نہ رہا ہو۔ وہ چاہتا تھا کہ آج وہ کسی طرح پیکیج نگاہ خانم کے حوالے کرے تا کہ وہ ہمیشہ کی طرح اسی راستے سے آیا جایا کرے جہاں سے وہ کئی سالوں سے آ جا رہی تھی۔

وہ نوجوان جانتا تھا کہ پہلے نگاہ خانم کالج میں پڑھنے جاتی تھی اور اب اسی کالج میں پڑھا رہی تھی اور اسی سلسلے میں اس کا روزانہ ادھر سے گزرنا معمول تھا۔

شروع شروع میں جب نگاہ خانم نے روزانہ کی یکسانیت سے تنگ آ کر راستہ تبدیل کرنے کی عادت اپنائی تھی اس نوجوان کا خیال تھا کہ شاید اس کی طبعیت ٹھیک نہیں اور اس نے کالج سے چھٹی کر لی ہے لیکن جب وہ کبھی کبھار پرانے راستے پر آ نکلتی اور پھر کئی دنوں تک غائب ہو جاتی تو نوجوان کو اس کے بارے میں فکر ہونے لگتی۔

نگاہ خانم کے روز روز کے راستوں کی ادل بدل سے نوجوان نے تہیہ کر لیا تھا کہ اب اگر وہ اسے کہیں نظر آئی تو وہ ضرور اس سے ملاقات کر کے اس سے دل کی بات کہے گا۔ اسے بتائے گا کہ وہ اس سے کتنی محبت کرتا ہے اور کتنے سالوں سے اس کو آتے جاتے دیکھتا رہتا ہے۔

وہ ایک مصور تھا۔ بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ روزانہ اس کے گھر کے سامنے سے گزرنے والی نگاہ خانم نے اسے مصور بنا دیا تھا تو بے جا نہیں ہو گا۔

وہ اپنے چھوٹے سے گھر میں اکیلا رہتا تھا۔ یہ گھر کئی سال پہلے اس کے ایک دور کے عزیز نے اس وقت اسے رہائش کے لیے دیا تھا جب اس کے والدین ایک ایکسڈینٹ میں فوت ہو گئے تھے۔ اور اب وہ اس دنیا میں تنہا تھا۔

گھر شہر کی مین روڈ پر واقع تھا۔ روڈ پر ہر وقت لوگوں کی آمد و رفت رہتی تھی۔ کبھی کبھار پولیس والے بھی گشت کرتے ادھر آ نکلتے۔

گھر ایک کمرے پر مشتمل تھا جس کی ایک کھڑکی باہر سڑک کی طرف کھلتی تھی۔

وہ ہمیشہ نگاہ خانم کے کالج جانے کے وقت کھڑکی میں کھڑے ہو جاتا اور پھر اسے اپنے گھر کے سامنے سے گزرتے ہوئے دیکھتا۔ وہ جب تک اسے دکھائی دیتی وہ وہیں کھڑا رہتا۔

جب وہ اس کی نگاہوں سے اوجھل ہو جاتی وہ پنسل اور کاغذ پکڑ کر اس کی تصویر بنانے لگتا۔

شروع