کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

کوہِ ندا

عوض سعید


غالباً دو جسموں  کی خواہش نے  اُسے  جنم دے  تھا، تب ہی تو وہ ایک ایسا پتھر تھا جسے  کسی بھی دیوار میں  فٹ نہیں  کیا گیا۔ وہ ملبے  میں  پڑ ی ہوئی ٹیڑھی میڑھی اینٹوں  کو اپنے  ہاتھ میں لے  کر بڑی دیر تک سونگھتا رہا، اچانک اُس کے  کانوں  نے  ایک کریہہ آواز سنی۔

’’ ابے  مردود کیا اپنے  ساتھ اینٹ اور پتھر بھی لے  جائے  گا۔‘‘

لیکن آج تک اُس نے  کبھی یہ نہیں  سوچا تھا کہ اسے  یہاں  سے  کیا لے  جانا چاہیے۔

وہ بغیر کسی ردّ عمل کے  آگے  بڑھ گیا، وہ اپنے  گھر سے  کب بھاگا تھا، اس کا دراصل گھر تھا بھی یا نہیں  اسے  کچھ یاد نہیں  تھا، اُسے  یہ بھی یاد نہیں  تھا کہ اس کا باپ کون ہے  اور اس کی ماں  کون ؟

اگر وہ کسی کا بیٹا ہے  تو وہ پھر باپ کیوں  نہیں  ہو سکتا۔ سوچ کے  اس زینے  پر پہنچ کر وہ چپ ہو گیا۔ سامنے  ایک مریل کتے  کو گزرتے  ہوئے  اس نے  دیکھا،اس نے  جب پیار سے  سیٹی بجائی تو وہ دم ہلاتا ہوا اس کے  پاؤں  کے  قریب آ کر کھڑا ہو گیا، اسے  لگا جیسے  وہی اس کا بیٹا ہو لیکن وہ تو دھوبی کا کتا تھا، گھر کا نہ گھاٹ کا۔ اور اسے  غالباً ایسے  ہی کتے  کی تلاش تھی۔ قبل اس کے  کہ وہ آگے  بڑھ کر اسے  چومتا میونسپلٹی کے  جوانوں  نے  دیکھتے  ہی دیکھتے  اس کے  گلے  میں  پھندا لگا دیا اور وہ دھیرے  دھیرے  قدم ناپتا بازار کے  ہنگاموں  میں  کھو گیا۔ سڑک پر چلنے  والے  ہر دوسرے  آدمی کو رک کر اس نے  پوچھا۔ بابا جی، ایسی بھی کیا جلدی۔ ماں  جی کہاں جا رہی ہیں  آپ۔ بہن جی۔ لیکن کسی نے  اس کی طرف توجہ نہیں  دی۔

ان کے  ہونٹ سلے  ہوئے  تھے ، لیکن منجمد آنکھوں  کے  گونگے  اشاروں  سے  ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ زمین پر اس لیے  نہیں  پھینکے  گئے  کہ مسئلوں  میں  الجھیں ، وہ مایوس ہو کر اس بک اسٹال پر آ کر کھڑا ہو گیا جہاں  لو گ کافی تعداد میں  کھڑے  اخبار پڑ ھ رہے  تھے۔ ا ن میں  کثیر تعداد ان نوجوانوں  کی تھی جو بڑی شتابی سے  صرف اخبار کی سرخیاں  پڑ ھ رہے  تھے  جیسے  وہ شب و روز کی زندہ تصویر دیکھ رہے  ہوں۔

سرخیاں 

اخبار کی پڑ ھ لو

آج

اتنا ہی کافی ہے 

کون متن کا زہر پیے  گا

کس کو اتنی فرصت ہے 

یہ تو روز کا رونا ٹھہرا

اس نے  سوچا کتاب اور اخبار کی پیشانیوں  پر وہی کچھ لکھا ہو گا جو ان چہروں  پر پہلے  ہی سے  ثبت ہے۔ پھر یہ لوگ اخبار کیوں  پڑ ھ رہے  ہیں۔۔۔ ؟ کیا وہ بھی ان ہی میں  سے  ایک ہے ؟اس خیال کے  آتے  ہی وہ اپنے  چہرے  کو ہاتھوں  سے  نوچنے  لگا، اسے  ایسا کرتے  ہوئے  کسی قسم کی لذت محسوس نہیں  ہوئی اس لیے  کہ اب وہ خود لذتی کی لذت آشنائی سے  کوسوں  دور تھا۔

چلتے  چلتے  اُسے  سامنے  ایک ہوٹل دکھائی دیا، اس کا جی چاہا کیوں  نہ یہاں  چائے  پی لی جائے۔ چنانچہ وہ ہوٹل میں  داخل ہوا، بیرے  نے  چائے  کے  ساتھ اس کے  سامنے  اخبار بھی لا کر رکھ دیا۔

مجھے  اخبار نہیں  چاہیے ، اس نے  بیزار لہجے  میں  بیرے  سے  کہا۔

’’ اخبار پڑھنے  ہی کے  لیے  تو لوگ ہوٹل آتے  ہیں۔ ‘‘ بیرے  نے  اس طرح کہا جیسے  چائے  کے  ساتھ اخبار پڑھوانا بھی اس کے  فرائض میں  داخل ہو۔

’’ میں  اخبار نہیں  پڑھتا۔‘‘

بیرے  کی سمجھ میں  شاید یہ بات آ گئی، اس لیے  وہ دوسرے  گاہکوں  کی طرف متوجہ ہو گیا۔

چائے  پی کر جب وہ ہوٹل سے  باہر آیا تو سڑک پر لوگوں  کا کافی اژدحام تھا، آج سے  کوئی پندرہ بیس برس پہلے  جب وہ اس سڑک سے  گزرتا تھا تو اسے  بڑی ویرانی کا احساس ہوتا تھا، اب جگہ جگہ اسے  نئی عمارتیں  دکھائی دے  رہی تھیں ، وہ چھوٹی چھوٹی دکانیں  پتہ نہیں  کہاں  گم ہو گئی تھیں۔ ہو سکتا ہے  ان ہی چھوٹی چھوٹی دکانوں  نے  اب بڑی دکانوں  کا روپ دھار لیا ہو۔

ارے  بھئی یہاں  اتنے  ڈھیر سارے  لوگ کیوں  جمع ہو گئے  ہیں  ؟‘‘

اس نے  ہجوم میں  گھرے  ہوئے  ایک آدمی کے  کندھے  پر ہاتھ رکھتے  ہوئے  کہا۔ اماں  دیکھ نہیں  رہے  ہو یار، دو بچوں  میں  زور دار مکے  بازی ہو رہی ہے۔ میں  نے  بھی شرط لگا دی ہے  کہ گڈو ہی کامیاب ہو گا اور وہ کالا لونڈا پسپا ہو کر بھاگ کھڑا ہو گا، تمہارا کیا خیال ہے  ؟

مگر وہ اپنا خیال ظاہر کیے  بغیر آگے  بڑھ گیا،شہر کی لمبی چوڑی سڑکیں  دیر گئے  تک اس کا تعاقب کرتی رہیں۔

پھر اُس نے  ایک اور ہجوم کو دیکھا،اس ہجوم میں  بچے ، بوڑھے  اور جوان سب ہی شامل تھے۔ اس نے  سوچا کیا بات ہے  آج ہر جگہ ہجوم اور اژدحام کیوں  ہے  ؟اب وہ بھی اس ہجوم میں  شامل ہو گیا تھا۔

’’ پھر کیا ہو گیا بھائی ‘‘ اس نے  ایک نوجوان سے  پوچھا۔

’’ پتا نہیں ، سنا ہے  ایک نوجوان نے  کسی سے  ماچس طلب کی تو اس نے  کہا : ’’سگریٹ پینے  کا اتنا ہی شوق ہے  تو ماچس کیوں  نہیں  رکھتے  ؟‘‘

ماچس مانگنے  والے  نے  اس کے  سوال کا جواب دینے  کے  بجائے  اسے  گالی دے  دی اور تکرار کے  بعد ماچس نہ ملنے  پر اس آدمی نے  نوجوان کے  پیٹ میں  چاقو گھونپ دیا۔ خون دیکھ رہے  ہو کتنا کچھ بہہ گیا ہے ، شاید وہ ہسپتال میں  اب تک مر بھی گیا ہو، اگر اس نے  ماچس دے  دی ہوتی تو یوں  جان تو نہ جاتی۔‘‘

وہ اچانک ہجوم سے  نکل کر باہر آ گیا، ا س کا جی چاہا کہ یہ شہر بھی ہمیشہ کے  لیے  چھوڑ دے ، مگر وہ اس طرح کتنے  شہر چھوڑتا رہے  گا  ذرا سی بات کا بتنگڑ بنا کر یہ لوگ کیوں  فساد برپا کرتے  ہیں ؟  اس سوال کا جواب خود اس کے  پاس نہیں  تھا مگر سب لوگ ایسے  تھوڑے  ہی ہوتے  ہیں۔ یہ طمانیت اس کے  لیے  کافی تھی اور وہ اسی اطمینان کے  سہارے  جی رہا تھا۔

وہ سڑک سے  گزرتا ہوا جب چورا ہے  پر آیا تو ا س کے  کانوں  میں  ایک آواز گونجی۔

’’یہ بچہ کس کا ہے  ؟ اس بچے  کا رونا مجھ سے  دیکھا نہیں جاتا۔ ‘‘ بوڑھا مسلسل کہہ جا رہا تھا، بچہ واقعی پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا اور لوگ بوڑھے  کی آواز سن کر بھی اپنی لا تعلقی کا اظہار کر رہے  تھے۔

’’ اب بچے  کو پولیس ٹاؤن لے  جانا ہی پڑ ے  گا۔ ‘‘ بوڑھے  نے  بڑی مایوسی سے  کہا۔ اس نے  سوچا اس کا باپ بھی اسے  اسی طرح سڑک پر پھینک کر آگے  بڑھ گیا ہو گا۔

ایک آدمی جب اپنے  بچے  کو سڑک پر پھینک کر غائب ہو جاتا ہے  تو دوسرا آدمی اسی بچے  کو پیار سے  اٹھا لیتا ہے۔ آدمی بھی عجیب شے  ہے ، شاید اسی لیے  اسے  آسمان کی بلندی سے  نیچے  پھینکا گیا،وہ یوں  ہی چلتا رہے۔

کوئی تو اس آواز دے  کر پکارے ، وہ کون ہے ، اس کا باپ کون تھا، اس کی ماں  اسے  جنم دے  کر اچانک کہاں  غائب ہو گئی،کیا شخصیت اور ذات کی پہچان کے  لیے  باپ کا نام ضروری ہے۔ اگر ضروری نہیں  تو اس قدر بے  چین اور افسردہ کیوں ہے  ؟ کیا وہ اندر سے  بالکل ٹوٹا ہوا ہے  ؟ ‘‘ وہ مسلسل چلتا رہا، چلتا رہا۔ اب بے  پناہ تھکن سے  اسے  راستے  سمجھ میں  نہیں  آ رہے  تھے ، شہر نے  اپنے  منہ پر خاموشی کی ایک دبیز چادر تان رکھی تھی۔ آدمی جب جاگتا ہے  تو شہر نیند کی وادیوں  میں  چلا جاتا ہے  اور جب شہر جاگتا ہے  تو آدمی سو جاتا ہے۔

اسے  یوں  لگا جیسے  وہ صدیوں  پرانی کہانی کا وہ مسافر ہے  جو شہر شہر، قریہ قریہ گھومتا ہوا ایک ایسے  شہر میں  داخل ہوا تھا جہاں  سب چیزیں  تو تھیں  سوائے  آدمی کے۔

پرانے  تاریخی قلعے  سے  لگا ہوا وہ مہیب پہاڑ اسے  اب صاف دکھائی دے  رہا تھا۔

سیاحوں  کے  گلے  میں  کیمرے  لٹکے  ہوئے  تھے ، لوگ حال سے  نکل کر ماضی کی درخشاں  تاریخ کا ورد کرتے  ہوئے  اپنے  آبا ء اجداد کے  کارناموں  کو سراہ رہے  تھے۔

یہاں  بھی کافی ہجوم تھا، لڑکیاں ، بچے ، بوڑھے ، نوجوان سب ہی تھے۔ اسے  گمان گزرا یہی وہ پہاڑ ہے  اور اسی پل صراط پر سے  اسے  گزرنا ہے۔ بس’’ کوہِ ندا‘‘ سے  بلاوہ آنے  کی دیر ہے۔ اب اپنے  شب و روز کا حساب چکاتے  تھک سا گیا تھا۔ آگے  سامان بڑھ کر وہ بھی اس ہجوم میں  شامل ہو گیا۔

پھر اچانک اس نے  ایک زور دار دھماکے  کی آواز سنی۔

’’کوہِ ندا۔۔۔ ‘‘ ا س نے  سرپٹ بھاگنا شروع کر دیا، لیکن تھوڑی دور جانے  کے  بعد وہ نڈھال ہو کر نیچے  گر پڑ ا۔ اب سیاحوں  کے  مو وی کیمرے  میں  وہ ہمیشہ ہمیشہ کے  لیے  بند ہو چکا تھا!

٭٭٭