کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

شال

عوض سعید


’’یار کیسے  آدمی کو ہم نے  کھو دیا، اب ایسی ٹھکی ٹھکائی طرح دار گالیاں  ہمیں  کون دے  گا ؟‘‘

دوسرے  ساتھی نے  جو اس کے  برابر ہی کھڑا تھا، کندھوں  پر جھولتی ہوئی شال کو جسم پر لپیٹتے  ہوئے  کہا۔

’ ’ یہ شال دس ہزار گالیاں  دینے  کے  بعد اس نے  مجھے  تحفتاً دی تھی، جب تک یہ شال میرے  جسم سے  چمٹی رہے  گی وہ مجھے  یاد آتا رہے  گا۔‘‘

’’ عجیب بات ہے  اس نے  مجھے  گالیاں  دی، حالاں  کہ تمھاری طرح وہ بھی میرا یار تھا۔۔۔‘‘

’ ’ یہی تو ٹریجڈی ہے  تمھاری۔۔۔‘‘

ویران قبرستان کی دم گھٹا دینے  والی فضا سے  نکل کر وہ اب ریستوران میں  بیٹھے  ہوئے  چائے  کی چسکیاں  لیتے  ہوئے  اپنا غم غلط کر رہے  تھے ، کیونکہ باہر جا کر اپنا غم غلط کرنے  کے  لیے  ان کے  پاس پیسے  نہیں  تھے۔ ان کی سیٹ کے  برابر ہی ایک ادھیڑ عمر کا آدمی بظاہر چپ چاپ بیٹھا تھا لیکن اس کی توجہ کا مرکز مرنے  والے  کے  وہ تینوں  ساتھی تھے  جو چائے  کی پیالیوں  میں  اپنے  چہروں  کو پڑ ھ رہے  تھے۔

’ ’ تمھیں  یاد ہے  اسی ٹیبل پر میری اس کی شدید لڑائی ہوئی تھی، کتنی گالیاں  دی تھیں  اس نے  مجھے ، یہاں تک کہ ا س کے  دونوں  ہاتھ میرے  گلے  پر۔۔۔‘‘

’’ یار یہ وقت نہیں  ہے  ان باتوں  کو دہرانے  کا وہ تو اب ہم میں  نہیں  رہا، ایک دن ہم بھی نہیں  رہیں  گے۔‘‘

’’ نہیں  یار ! اسے  سب کچھ کہنے  دو، گلے  میں  پھنسی ہوئی باتیں  اگر وہ نہیں  اگلے  گا تو مر جائے  گا، کم از کم اسے  کچھ اور دن زندہ رہنے  دو، ہم تو سمندر میں  پھینکی ہوئی وہ بادبانی کشتیاں  ہیں  جو ہوا کے  اشارے  پر چلتی ہیں ، ہمارا کوئی ملاح نہیں  ہے۔ اسے  کہنے  دو یار، اس کا گلا نہ گھونٹو۔‘‘

مگر وہ کچھ کہنے  کے  بجائے  پھوٹ پھوٹ کر رونے  لگا۔ روتے  ہوئے  وہ کچھ عجیب سا لگا رہا تھا۔

’’ بھانڈ سالا۔۔۔‘‘

’’ سن رہے  ہو، بوڑھے  نے  ابھی ابھی کیا کہا۔۔۔‘‘

’’ میں  نے  سن لیا ہے  اگر وہ آج ہماری محفل میں  ہوتا تو اس کا گلا گھونٹ دیا ہوتا یا اس کی پیٹھ تھپتھپا کر کہتا۔ جیو مرے  لعل۔۔۔‘‘

مگر وہ ابھی تک رو رہا تھا۔ بوڑھے  کی جگہ اب خالی ہو چکی تھی،اس کی جگہ ایک کالا بھجنگ گھنگھریالے  بال والا نیگرو بیٹھا کافی پی رہا تھا۔ ٹیبل پر رکھی ہوئی دودھیا چینی کی پلیٹ پر کاغذ کا ایک پرزہ رکھا ہوا تھا جس پرPaid کی مہر ثبت تھی۔

’’ یہ بل ہم نے  توPay   نہیں  کیا۔۔۔‘‘

’’ کیا تم نے  بلPay   کیا۔۔۔ ؟‘‘

’’ نہیں۔۔۔‘‘

’’ اس پر توPaid لکھا ہوا ہے۔‘‘

’’ کبھی کبھی ادھار مانگی ہوئی زندگی کے  چہرے  پر کوئی منچلاPaid لکھ دے  تو ہمیں  شرمسار نہیں  ہونا چاہیے۔ ندامت کا بار اٹھانے  کے  لیے  ساری زندگی پڑ ی ہے  مگر پھر بھی یہ جاننا ضروری ہے  کہ بل کس نے  ادا کیا ہے  ؟‘‘

’’ بیرا۔‘‘

’’ بیرے  کو بلانے  کی ضرورت نہیں  ہے۔‘‘

وہ تینوں  معاً ہوٹل سے  اٹھ کر باہر آ گئے ، ان تینوں  میں  سے  کسی نے  کہا : ’’ کیا ایسا نہیں  ہو سکتا کہ ہم میں  سے  کوئی کہیں  سے  پچاس روپے  ادھار لائے ، اگر آج نہیں  پی جائے  تو سمجھ لو مر گئے۔‘‘

’’ پچاس روپے۔۔۔ ؟ اتنی بڑی رقم اس وقت بھلا کون دے  گا ؟ سراج کو میٹرو میں  دیکھ لیں  گے  ورنہ شراب کی جگہ اپنا خون ہی پی لیں  گے۔ سراج نے  تو کئی دنوں  سے  صورت ہی نہیں  دکھائی ہے ، ایسا لگتا ہے  کہ اس کی موت سے  کہیں  زیادہ ہمارے  ذہن پر شراب کی دھن سوار ہے۔ قصہ دراصل یہ ہے  کہ اندرونی طور پر ہم سب موت کے  بد صورت پرندے  سے  خائف ہیں ، نہ جانے  کب وہ پر پھیلائے  اپنی نوکیلی چونچ ہمارے  جسم میں  داخل کر دے۔‘‘

وہ اب خاموش چل رہے  تھے ، کچھ گھبرائے  گھبرائے  سے ، یہ خاموشی بے  معنی نہیں  تھی، اس خاموشی میں  کئی معنیٰ پنہاں  تھے۔

سڑک کے  کنارے  کھڑی ہوئی اونچی اونچی عمارتوں  کے  سامنے  سے  گزرتے  ہوئے  وہ

’’ لو میٹرو آ گیا۔۔۔‘‘

’’ اتنی جلد۔۔۔ ‘‘ بہ یک وقت دونوں  ساتھیوں  نے  حیرانی سے  کہا۔

انھیں  یقین نہیں  آ رہا تھا کہ وہ اب میٹرو کے  سینے  پر کھڑے  ہیں ، لان میں  بچھی ہوئی کرسیوں  پر چند نوجوان بیٹھے  گلاسوں  میں  شراب انڈیل رہے  تھے ، جو پی چکے  تھے  وہ خلا میں  بکھری ہوئی یادوں  کو یکجا کرنے  کی سعی لا حاصل میں  گرفتار تھے ، بعض لوگ اس انتظار میں  تھے  کہ ویٹر آئے  اور کاک اڑے۔

جب بھانت بھانت کے  عجیب و غریب چہرے  ہر طرف پھیلے  ہوئے  ہوں  اور روشنی مدھم ہو تو بسا اوقات اپنی شناخت بھی مشکل ہو جاتی ہے۔ اب اس ہجوم میں  سراج کو پانا ایسا ہی تھا جیسے  کوئی آسمان کی پنہائیوں  میں  اڑتے  ہوئے  پرندے  کو ا چک کر پکڑ لے۔

خوشی اور حقارت کے  ملے  جلے  جذبات کے  ساتھ پلیٹوں  میں  رکھے  ہوئے  کاغذ کے  پرزوں  پر ٹپ کی شکل میں  رکھے  ہوئے  پیسوں  کے  تھوک کو بیرے  چاٹ رہے  تھے  مگر ابھی تک وہ پیاسے  تھے۔

کیبن کے  دروازے  بند تھے ، صرف لوگوں  کے  پاؤں  میں  دھنسے  ہوئے  جوتے  نظر آ رہے  تھے   یا ڈھیلے  ڈھالے  پتلونوں  میں  چھپی ہوئی دبلی پتلی موٹی بھدی ٹانگیں۔

’’ اب صرف ایک ہی کیبن باقی رہا گیا ہے  اگر وہ وہاں  بھی نہ ملے  تو۔۔۔‘‘

’’ کوئی دوسرا بار۔۔۔‘‘

’’ تیسرا۔۔۔‘‘

’’ چوتھا۔۔۔!!‘‘

’’ ارے  مرے  پاؤں  تلے  کوئی چیز دب کر رہ گئی ہے۔ ‘‘ پہلے  ساتھی نے  گھبرا کر کہا۔

’’ کچھ بھی تو نہیں ، فرش ہے  جس پر ہم چل رہے  ہیں۔‘‘

’’ وہ دیکھو کیبن کے  نچلے  حصے  سے  اس کی شال دکھائی دے  رہی ہے ، سلیٹی رنگ والی شال۔‘‘

’’ کیا کہہ رہے  ہو سلیٹی شال تو میرے  جسم سے  چمٹی ہوئی ہے ، کیا تم لوگ اندھے  ہو گئے  ہو۔‘‘

وہ کچھ جواب دئیے  بغیر اسے  تنہا چھوڑ ۔۔کر آگے  بڑھ گئے ، چند لمحوں  کی خاموشی کے  بعد ایک نے  دوسرے  سے  پوچھا۔

’’ وہ جو ابھی ہمارے  ساتھ تھا وہ کہاں گیا ؟‘‘

’’ کون تھا ساتھ ہمارے۔۔۔ ؟‘‘

’’ دیکھو کیبن کے  نچلے  حصے  میں  اس کی شال بدستور ڈول رہی ہے ، پتہ نہیں  مجھے  کیوں  ڈر لگ رہا ہے۔‘‘

’’ کم و بیش میں  بھی۔‘‘

ایک انجانے  ڈر میں  لپٹے  ہوئے  وہ کسی طرح کیبن میں  داخل ہو گئے۔

’’ کچھ پیو گے  ؟‘‘۔۔۔ جب پینا ہی نہ ٹھیرا تو جھک مارنے  کے  لیے  بار آئے  ہو ؟ ‘‘ جواب نہ ملنے  پر وہ غرایا۔

لیکن وہ چپ تھے ، بالکل گم سم۔

’’ حرام زادو ! آج اچانک گونگے  کیوں ہو گئے  ہو ؟ کچھ تو بولو، مجھے  تو تمھیں  وہ حادثہ سنانا ہے  جو اتنا عجیب اور انوکھا ہے  کہ میں  اس تعلق سے  سوچتے  ہوئے  تقریباً ریزہ ریزہ ہو چکا ہوں۔ میں  اس شکست و ریخت میں  بھی اپنی ذات کے  چند پرزے  بچا لایا ہوں ، یہ پرزے  بھی میرے  نہیں  رہے۔ کل میں  اخبار پڑ ھ رہا تھا، اچانک ایک خبر پر میری نظریں  جم کر رہ گئیں ،ایک نامعلوم نوجوان سلیٹی رنگ کی گرم اونی شال میں  لپٹا ہوا سڑک عبور کر رہا تھا، اچانک اس نے  سینے  میں  سخت تکلیف کی شکایت کی اور طبی امداد ملنے  سے  پہلے  ہی مرگیا۔ نعش مردہ خانے  میں  شناخت کے  لیے  رکھی گئی ہے۔ میں  کل سے  اب تک مارا مارا پھر رہا ہوں  تاکہ خود اپنی نعش کی شناخت کر سکوں ، میں  اپنے  وجود کی کرچیوں  کو جمع کرتے  کرتے  اب لہو لہان ہو چکا ہوں۔‘‘

حرام زادو ! کیا یہاں  میری نعش کو چبانے  آئے  ہو، میں  تمھیں  ابھی۔۔۔ ‘ یہ کہہ کر وہ دیوانگی کے  عالم میں  اپنے  ساتھی پر جھپٹ پڑ ا۔

اب وہ اپنی پوری قوت کے  ساتھ اس کا گلا دبا رہا تھا۔

’’مجھے  چھوڑ۔۔۔ دو۔۔۔ مجھے  چھوڑ دو۔۔۔ ‘ آواز آہستہ آہستہ ڈوبتی گئی۔

مگر وہ بدستور اس کا گلا دباتا رہا، یہاں  تک کہ وہ فرش پر ڈھیر ہو کر رہ گیا، اب اس کے  حلق سے  عجیب و غریب آواز نکل رہی تھی، ایسا لگتا تھا جیسے  وہ چند منٹ کا مہمان ہو۔

وہ تھوڑی دیر ٹکر ٹکر مرنے  والے  کو دیکھتا رہا، پھر اچانک پلٹ کر اس نے  اپنے  ساتھی سے  پوچھا۔ ’’ یار میری شال کہاں  گم ہو گئی! ‘‘

٭٭٭