کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

گیندے کے پھول

عوض سعید


ممکن ہے  آپ نے  اس منحنی قسم کے  خوبصورت نوجوان کو نہ دیکھا ہو لیکن میں  نے  ہر روز شام اسے  مارکیٹ کے  نکڑ پر کچھ دیر ٹھہر کر ایک ننھی منی لڑکی کے  ہاں  سے  گیندے  کے  پھول خریدتے  ضرور دیکھا ہے۔

مارکیٹ کے  برابر ہی میری کتابوں  کی دکان تھی جہاں  وہ کبھی کبھار نئی کتابوں  کی تلاش میں  آ نکلتا تھا اور جب میں  نفی میں  جواب دیتا تو وہ بجھ سا جاتا۔

اکثر وہ مجھے  چھ اور سات بجے  شام کے  درمیان نظر آتا، لڑکی اس کے  انتظار میں  کھڑی ہوتی اور وہ اس کے  خوبصورت گالوں  کو محبت سے  تھپتھپاتا، کوٹ کی جیب سے  پیسے  نکال کر اس کی ننھی منی ہتھیلی پر رکھ دیتا اور پھولوں  کے  گجرے  اس سے  لیتا۔ اور بہت سی لڑکیاں  اور لڑکے  چنبیلی اور موتیا کے  گجرے  لیے  کھڑے  ہوتے  لیکن اس کے  قدم کسی کے  پاس نہ رکتے ، وہ بڑی بے  نیازی سے  ان لڑکیوں  کے  سامنے  سے  بھی گزر جاتا تھا جن کی جوانیاں  اب پک چکی تھیں۔ لیکن مارکیٹ کے  قریب آتے  ہی اس کے  قدم غیر شعوری طور پر اس لڑکی کی جانب مڑ جاتے  جہاں  نکڑ پر وہ گیندے  کے  پھول لیے  کھڑی ہوتی۔ پتہ نہیں  اسے  گیندے  کے  پھولوں  سے  اتنا انس کیوں  تھا، حالانکہ گلاب اور موتیا کے  آگے  گیندے  کی کوئی حقیقت ہی نہ تھی، پھر نہ خوشبو اور نہ مہکار۔

کبھی کبھار جب لڑکی کے  پھول بالکل ہی نہ بکتے  تو وہ زیرِ لب مسکراتا ہوا سارے  پھول اس سے  خرید لے  جاتا اور لڑکی فرطِ مسرت سے  گرتی پڑ تی فضا میں  جیسے  اڑسی جاتی اور وہ دھیرے  دھیرے  آگے  نکل جاتا۔ ایسے  میں  وہ بڑا خوبصورت لگتا، اس کے  لبوں  کے  باریک خطوط قدرے  کھل جاتے  اور مسکراہٹ کی ایک خوبصورت سی لکیر سارے  چہرے  پر پھیل جاتی۔

میں  دکان پر بیٹھا بیٹھا اجنبی کے  بارے  میں  سوچنے  لگا۔

اس کے  کردار کے  تار پود کچھ اتنے  بکھرے  ہوئے  تھے  کہ مجھے  انھیں  سمیٹ کر یکجا کرتے  ہوئے  بڑی دقت محسوس ہو رہی تھی۔ اگر لڑکی جوان ہوتی اور وہ اس سے  پھول کے  گجرے  خریدتا تو میں  بآسانی بھانپ جاتا کہ وہ کیا چاہتا ہے۔ یہاں  ایسی کوئی بات نہ تھی، لڑکی عمر میں  چھوٹی تھی، کوئی آٹھ دس برس کی ہو گی، رنگ قدرے  سانولا ہی سا تھا لیکن آنکھیں  بڑی خوبصورت اور نشیلی تھیں۔

وہ روز کسی خوبصورت کہانی کے  شہزادے  کی طرح دھیرے  دھیرے  بانکپن سے  چلتا ہوا پھولوں  والی شہزادی کے  قریب آ کر رک جاتا، اسے  محبت بھری نگاہوں  سے  گھورتا اور ہولے  ہولے  اس کے  گالوں  کو محبت سے  تھپتھپاتا۔

لڑکی ہاتھ میں  گیندے  کے  گجرے  لیے  اسے  چپ چاپ معصومانہ نگاہوں  سے  ٹکر ٹکر دیکھتی، پھر وہ اپنی جیب سے  پیسے  نکال کر اس کی ننھی منی ہتھیلی میں  تھما دیتا اور وہ خوشی سے  اٹھلاتی ہوئی بھاگ کھڑی ہوتی۔

اس کے  ساتھ والی لڑکیاں  جو عمر میں  اس سے  بڑی تھیں  دل ہی دل میں  جل اٹھتیں  اور وہ لڑکی کو فضا کی دھندلاہٹوں  میں  غائب ہونے  تک گھورا کرتا۔

اس کے  ہاتھ میں  گیندے  کے  پھول ہوتے  جنھیں  وہ سونگھتا ہوا آگے  نکل جاتا، وہ ہمیشہ تنہا گھوما کرتا، میں  نے  اسے  کبھی دوسروں  کے  ساتھ گھومتے  نہیں  دیکھا، جیسے  اسے  اس دنیا میں  کسی سے  تعلق ہی نہ ہو۔

ایک صبح میں  دکان کھول کر کتابوں  پر اٹی گرد کو صاف کر رہا تھا کہ وہ آ دھمکا، میں  نے  ہمہ تن اشتیاق بن کر مودبانہ انداز میں  سے  پوچھا:

’’ کیا چاہیے  آپ کو۔‘‘

’’ چاہیے  تو بہت کچھ، پہلے  یہ بتائیے  کہ کچھ نئی کتابیں  آپ نے  منگوائی بھی ہیں  ؟‘‘

اس کی گفتگو سے  طنز کا ہلکا سا عکس صاف جھلک رہا تھا، جیسے  وہ کہہ رہا ہو:

آپ نے  دکان تو کھول رکھی ہے  لیکن کتابیں  منگوانے  کا شعور نہیں۔‘‘

’’ چند نئی کتابیں  آئی ہیں۔ ‘‘ میں  نے  دبی زبان سے  کہا اور اس کے  سامنے  تازہ کتابوں  کی فہرست رکھ دی۔

’’ہونہہ ‘‘ اس نے  عجیب طرح سے  منہ بناتے  ہوئے  کہا۔

’’ کون پڑھتا ہے  ان کتابوں  کو ؟‘‘

مجھے  اس کے  اس جملے  سے  بڑی ذہنی کوفت ہوئی، مجھے  یوں  لگا جیسے  وہ میری دکان کے  دوسرے  گاہکوں  کی بھی تذلیل کر رہا ہے۔

’ ’ ان کتابوں  کو پڑھنے  والے  بھی انسان ہیں۔ ‘‘ میں  نے  دبی آواز میں  کہا۔

’’ میں  ان انسانوں  میں  سے  نہیں  ہوں۔ ‘‘ یہ کہہ وہ چپکے  سے  دکان سے  اتر پڑ ا، پھر چند قدم جانے  کے  بعد وہ یکایک پلٹا، جیب سے  قلم نکالا اور کہا:

’’ کاغذ رکھتے  ہیں  آپ‘‘

مجھے  پھر ایک بار محسوس ہوا جیسے  وہ میری توہین کر رہا ہے۔

’’ جی ‘‘ میں  نے  سرپور پیپر ملز کا پیڈ اس کے  آگے  رکھتے  ہوئے  کہا۔

اس نے  اپنی پسند کی کتابوں  کے  نام اس پر لکھ دئیے۔

اس کے  چلے  جانے  کے  بعد میں  نے  غور کیا، واقعی اس کی برہمی بجا تھی، کتنی بار اس نے  نئی کتابوں  کی فرمائش کی اور نفی میں  سر ہلانے  کے  سوا کوئی جواب بھی نہیں دیا تھا میں  نے۔۔۔ لیکن وہ اپنی پسند کی کتابیں  اور دکانوں  سے  بھی خرید سکتا ہے۔ پھر ایسی کتابیں  کون دکان میں  لا کر رکھے  جن کی عوام میں  مانگ ہی نہ ہو، ہر شخص اس کی طرح ثقہ مذاق کا مالک تھوڑا ہی ہوتا ہے۔

ایک دن دوپہر ہی سے  طوفانی بارش نے  یوں  زور پکڑا کہ قیامت ہی آ گئی، ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے  آسمان کے  سینے  کو کسی نے  برچھیوں  سے  چھید دیا ہو۔

جن دکانوں  کے  چہرے  بارش کی سمت تھے  وہ دکانیں  جلد جلد بند ہونے  لگیں۔ سب دکان داروں  نے  ایک ایک کر کے  اپنے  اپنے  کواڑ بھیڑ لیے۔ مارکیٹ کے  سامنے  پھولوں  کے  گجرے  فروخت کرنے  والی لڑکیاں  سائبان کے  نیچے  دبکی ہوئی ٹھٹھر رہی تھیں ، میں  نے  لڑکیوں  کے  اس گروہ میں  اس معصوم لڑکی کو بھی دیکھنے  کی کوشش کی، لیکن وہ کہیں  بھی دکھائی نہ دی۔ کچھ دیر بعد میں  نے  گھڑی دیکھی، چھ بج چکے  تھے  لیکن بارش کا زور ابھی کم نہ ہوا تھا۔

میں  نے  دکان کے  پٹ کو آہستہ سے  کھولا اور مارکیٹ کے  چورا ہے  پر دیکھا، میں  حیرت میں  ڈوب سا گیا، وہ منحنی قسم کا جوان پھولوں  والی لڑکی کے  انتظار میں  بارش میں  بھیگتا ہوا کھڑا تھا۔

ٹین شیڈ کے  نیچے  سے  ایک لڑکی چیختے  ہوئے  کہہ رہی تھی۔

’’ آپ بیکار بھیگ رہے  ہیں  بابو۔۔۔ وہ آج بارش کی وجہ سے  نہ آ سکے  گی۔‘‘

وہ چپ چاپ یوں  ہوں  ہی کھڑا رہا، جیسے  وہ اب گیندے  کے  پھولوں  کے  بغیر گھر نہ جا سکے  گا۔ تھوڑی دیر بعد وہ ننھی منی سی لڑکی ہاتھ میں  گیندے  کے  پھول لیے  بارش میں  لت پت دوڑتی ہوئی اس کی طرف آ رہی تھی۔

’ ’ مجھے  آج دیر ہو گئی بابو جی معاف کر دیجیے ، دیکھیے  بارش کتنی سخت ہو رہی ہے ، میں  آپ کے  لیے  گیندے  لائی ہوں۔

وہ اس سے  بے  طرح لپٹ گیا، ’’ کوئی بات نہیں ،کوئی بات نہیں ، مجھے  یقین تھا تم ضرور آؤ گی۔‘‘

اس نے  اس کے  ہاتھ سے  گیندے  کے  گجرے  لے  لیے ، ا س کی آنکھوں  میں  آنکھیں  ڈال کر گالوں  کو ہلکے  انداز میں  تھپتھپایا اور روز کی طرح آگے  بڑھ گیا۔

میں  سوچنے  لگا کیا محبت اتنی بے  محابا اور عظیم ہو سکتی ہے  کہ ایک خوبصورت نوجوان ایک چھوٹی سی غریب لڑکی کے  لیے  بارش میں بھیگتا ہوا اس طرح انتظار کر سکتا ہے  ؟کہیں  وہ کسی نفسیاتی مرض کا شکار تو نہیں۔

ایک دن میں  نے  اپنے  ایک دوست سے  اس واقعے  کا ذکر کیا، اس نے  بڑی دلچسپی کے  ساتھ میری ساری باتیں  سنیں ، اس کی زندگی میں  شاید یہ پہلا واقعہ تھا جو اپنے  دامن میں  ایک عجیب قسم کی گھمبیرتا لیے  ہوئے  تھا، اس نے  کافی دیر سوچنے  کے  بعد فیصلہ کن انداز میں  کہا:

’’ ایسے  آدمی عموماً کسی نہ کسی نفسیاتی بیماری میں  مبتلا ہوتے  ہیں  یا خبطی۔‘‘

مجھے  اپنے  دوست کی پہلی بات میں  کچھ وزن دکھائی دیا۔

پھر ایک شام میں  نے  دیکھا، پھولوں  والی شہزادی سڑک کے  کنارے  اداس کھڑی تھی اس کے  ہاتھ میں  گیندے  کے  پھولوں  کا آخری گجرا ہولے  ہولے  کانپ رہا تھا جیسے  وہ اسے  جلد سے  جلد اپنے  محسن کے  ہاتھ میں  تھما کر گھر جانے  کے  لیے  بے  چین ہو۔۔۔

رات کے  آٹھ بج چکے  تھے ، پھولوں  کے  گجرے  بیچنے  والی سب لڑکیاں  اپنے  اپنے  گھروں  کو جا چکی تھیں  اور وہ تنہا اپنے  محسن کے  انتظار میں  کھڑی تھی۔

میں  دکان کے  دونوں  پٹ بند کر کے  واپس آیا، تالا لگا کر ایک بار زور سے  کھینچا،جب پوری طرح اطمینان ہو گیا تو میں  نے  کندھے  پر یوں  ہی ڈالے  ہوئے  کوٹ کو سیدھا کر کے  پہن لیا۔ میں  ایک دو قدم آگے  ہی بڑھا تھا کہ مجھے  دور سے  اس نوجوان کی چیخ سنائی دی۔

’’ شہزادی ٹھہرو میں  آ رہا ہوں۔‘‘

تم نے  میرا تھوڑا سا بھی انتظار نہ کیا دیکھو مجھے  بخار ہے ، ورنہ مجھے  دیر نہ ہوتی۔

’’ تم نے  ایسا کیوں  کیا بولو شہزادی۔۔۔ بولو ؟‘‘

لڑکی کے  خالی ہاتھ بری طری کانپ رہے  تھے ، اس کا بھولا بھالا معصوم چہرہ کمھلا گیا تھا اور آنکھیں  خفت سے  جھک گئی تھیں ، جیسے  وہ چوری کرتے  ہوئے  پکڑی گئی ہو۔

وہ پھولوں  والی شہزادی کو ڈانٹ کر بڑا اداس دکھائی دے  رہا تھا۔

’’مجھے  معاف کر دو شہزادی، مجھے  معاف کر دو۔ میں نے  تمھارے  کومل دل کو توڑا ہے  لیکن کیا میرا تم پر کچھ بھی حق نہیں  ہے۔ ‘‘ مجھے  معاف کر دو۔ وہ رندھے  ہوئے  گلے  سے  معافی مانگ رہا تھا۔

ان دو چار ماہ میں  بہت کم ایسے  دن آئے  جو میں  نے  اس دونوں  کی طرف توجہ نہ دی ہو۔ میری آنکھوں  کے  سامنے  روز ہی زندگی کا یہ عجیب و غریب ڈراما ایک کسک لیے  آتا اور میری آنکھیں  پتہ نہیں  کیوں  نم ہو جاتیں۔ اس طرف چار پانچ برس میں  یوں  انقلاب آئے  کہ بازار کا نقشہ ہی بدل کر رہ گیا۔ دربار ریسٹورنٹ کی جگہ کسی ڈاکٹر نے  ڈسپنسری کھول لی، سامنے  والے  لمبی سڑک کا سارا کنکریٹ تار کول کی شکل میں  تبدیل ہو گیا، مارکیٹ کو ڈھا کر از سر نو خوبصورت انداز میں  تعمیر کیا گیا۔

پھولوں  والی شہزادی اب جوان ہو چکی تھی، اس کی آنکھوں  میں  ایک خاص قسم کی چمک پیدا ہو گئی تھی۔ وہ آج بھی پھولوں  کے  گجرے  لیے  اپنے  محسن کے  انتظار میں  کھڑی ہوتی اور وہ منحنی سا نوجوان ٹھیک وقت پر آ کر اس سے  پھول خرید لے  جاتا۔

اب اس دبلے  پتلے  نوجوان میں  غیر شعوری طور پر ایک تبدیلی پیدا ہو گئی تھی، شام کو جب وہ شہزادی سے  گجرے  لیتے  ہوئے  اس کے  گالوں  کو محبت سے  تھپتھپاتا تو اس کے  ہاتھ کانپ کانپ جاتے  اور لڑکی کو یوں  محسوس ہوتا جیسے  وہ کسی تنور میں  جھونک دی گئی ہو۔ اس کے  کانوں  کی لویں  پھڑک اٹھتیں ، وہ آنکھوں  میں  آنکھیں  ڈالے  ڈوب جانے  کے  انداز میں  اسے  گھورتا، یہاں  تک کہ اس کی آنکھوں  سے  آنسوؤں  کے  چند قطرے  پلکوں  پر آ کر تھرا جاتے۔

وہ روز میری دکان کے  سامنے  سے  گیندے  کے  گجرے  لیے  آہستہ آہستہ گزرتا جیسے  اس کی زندگی کے  ڈرامے  کا کوئی ڈراپ سین ہی نہ ہو۔ پھر ایک منحوس دن ایسا بھی آیا کہ میں  شدید طور پر بیمار ہو گیا، پانچ چھے  ماہ تک دکان پر تالا پڑ ا رہا، اس لیے  میں  ان دو محبت کرنے  والی پاک ہستیوں  کے  بارے  میں  کچھ زیادہ جان نہ سکا۔ پھر جب میری صحت ٹھیک ہو گئی تو ڈاکٹر نے  مجھے  چلنے  پھرنے  کی اجازت دے  دی۔

میں  اپنی دکان کھولنے  کے  ارادے  سے  جب بازار سے  گزر رہا تھا تو بہت سے  دکان دار سر نکالے  ہمدردی میں  ڈوب کر میری خیریت دریافت کر رہے  تھے  اور میں  سوچ رہا تھا کہ کسی دن بھی تو یہ کم بخت مجھے  دیکھنے  ہسپتال نہیں آئے ،اب صحت ٹھیک ہو گئی تو خیریت دریافت کرنے  چلے  ہیں۔ میں  نے  دکان کھولتے  ہی پہلے  جھاڑو دی، ساری دکان گرد سے  اٹی ہوئی تھی،پھر دوپہر کی ڈاک آ گئی۔ پوسٹ مین نے  مجھے  تازہ کتابوں  کا بنڈل دیا۔ نئی کتابوں  کو پا کر مجھے  بڑی تسکین ہوئی کچھ ایسے  بھی کہ ان آئی ہوئی تازہ کتابوں  میں  اس نوجوان کی پسند کی دو کتابیں  بھی تھیں۔ دوسرے  دن شام کی چائے  پینے  کے  بعد میں  دکان پر بیٹھا اس نوجوان کے  بارے  میں  سوچ رہا تھا کہ یکایک میری نگاہ اس پر پڑ ی، وہ کھویا کھویا سا مریل ٹٹو کی طرح سڑک پر آہستہ آہستہ چل رہا تھا جیسے  کسی نے  اسے  زخمی کر دیا ہو۔ اسے  دیکھتے  ہی یکبارگی مجھے  اس کی من پسند کتابیں  یاد آ گئیں۔

’’ آپ کی کتابیں  آ گئی ہیں  صاحب، آپ کی کتابیں۔‘‘

’’ ہوں۔۔۔ ‘‘ وہ ایک لمحے  کے  لیے  لڑکھڑاتا ہوا رکا اور میرے  قریب آ کر دل دوز آواز میں  دھیرے  سے  کہا۔

’’ اب مجھے  کتابیں  نہیں  چاہئیں ، گیندے  کے  پھولوں  والی شہزادی چاہیے ، گیندے  کے  پھولوں  والی۔‘‘

اس کی آنکھوں  سے  بے  اختیار آنسو ڈھلک گئے ، میں  دل مسوس کر رہ گیا۔ مارکیٹ کے  نکڑ پر شہزادی کی جگہ اس کی ہم سن ایک چیچک رو لڑکی گیندے  کے  پھول ہاتھ میں  لیے  کھڑی تھی۔ مجھے  یوں  لگا جیسے  میری ساری کتابیں  ہوا میں  اڑ گئی ہوں۔۔۔!

٭٭٭