کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

لہو کے چراغ

عوض سعید


جب سامنے  کی ویران مسجد سے  بوڑھے  موذن کی تھر تھراتی ہوئی نحیف آواز دیواروں  سے  ٹکراتی تب برکت علی اپنے  تنگ و تاریک کمرے  سے  باہر نکل آتا،مسجد میں  نماز پڑھنے  کے  بعد وہ تنور کے  پاس آ بیٹھتا، کبھی کبھار جب بوڑھے  موذن کو سردی محسوس ہوتی تو وہ بھی تھوڑی دیر کے  لیے  تنور کے  قریب آ کر ہاتھ سینکنے  لگتا۔

برکت علی کا خیال تھا کہ موذن ہاتھ سینکنے  کے  بہانے  مفت روٹی کھانے  آتا ہے۔ پہلے  وہ اکڑوں  بیٹھ کر لگن کو صاف پانی سے  خوب مانجھتا پھر آٹے  کو لگن میں  بھگو کر خوب گوندھتا تاکہ آٹے  میں  چکناہٹ کے  ساتھ ساتھ نرمی و ملائمت پیدا ہو سکے، پھر وہ لگن سے  آٹے  کی معینہ مقدار (پیڑا ) لے  کر چھپا چھپ تنور کے  اندرونی حصے  میں  دے  مارتا، تنور کی ہلکی پھلکی خوبصورت روٹیاں  جب پک پکا کر باہر آتیں  تو روٹیوں  کے  انتظار میں  بیٹھے  ہوئے  لوگ چیخ اٹھتے۔

’’ برکت بھائی پہلے  مجھے ،اماں  دے  گا بھی یا نہیں۔ ‘‘ اور برکت علی کا ہاتھ بجلی کی طرح چلنے  لگتا۔ ایک روپے  میں  دو روٹی آدھا سالن ‘‘ کے  لیے  برکت علی تنور مشہور تھا، اس لیے  اطراف و اکناف کے  سارے  غریب لوگ صبح کا ناشتہ اس کے  ہاں  آ کر کرتے ، کھانے  پینے  کا یہ سلسلہ صبح پانچ بجے  سے  لے  کر دن کے  گیارہ بجے  تک چلتا رہتا، پھر برکت علی کا تنور سونا پڑ جاتا۔

برکت علی صرف ’’ ناشتے  ‘‘ کا بیوپاری تھا، دوپہر کے  وقت اس کا تنور کسی نابینا بھکاری کی جھولی کی طرح خالی دکھائی دیتا۔

ادھر اس نے  تھوڑے  سے  سرمائے  سے  یہ کاروبار شروع کیا تھا، تنور قائم کرنے  کی اجازت ہی میں  اسے  کئی دن لگ گئے  تھے۔

آج صبح ہی وہ ایک نوجوان سے  بری طرح جھگڑ رہا تھا، بات گالی گلوج سے  آگے  بڑھ کر ہا تھا پائی تک آ پہنچی تھی، اس کو لڑتا دیکھ کر کس بھکاری نے  موقع غنیمت جانا اور اس کے  تنور سے  دو روٹیاں  چرا لیں۔

ایک لڑکے  نے  برکت علی کو پکار کر خبردار کیا اور اُس کے  غصے  کا پارہ اچانک چڑھ گیا اس نے  ایک بیہودہ سی گالی نوجوان کو دی۔

’’ سالے  کمینے  جیب میں  ایک پائی نہیں  روٹی کھانے  چلا۔ ‘‘ بے  ایمان نے  پانچ روٹیاں  میری آنکھوں  میں  دھول جھونک کر ہضم کر لیں ، اب پیسے  مانگتا ہوں  تو کہتا ہے  ’’پھر کبھی دوں  گا۔ ‘‘ کیا سالے  میرا ہی ایک تنور رہ گیا تھا مفت کھانے  کے  لیے ،تھو ہے  تیری ذات پر۔ ‘‘ برکت علی نے  اس کے  منہ پر تھوکتے  ہوئے  کہا۔

مجمع میں  سے  ایک نوجوان نے  جس کے  چہرے  پر نرمی اور ملائمت تھی، بڑے  ہی اطمینان سے  کہا : ’’ ٹھہرو بھائی اس کے  منہ پر نہ تھوکو یہ صورت سے  بڑا دکھی معلوم ہوتا ہے ، جانے  کتنی آفت اور مجبوریوں  کے  بعد اس نے  یہ حرکت کی ہو گی، وہ وقت قریب قریب آ رہا ہے  بھائی جب کسی نوجوان کو بغیر پیسے  دیے  کھانا نہ پڑ ے  گا اور اس کی یوں  رسوائی نہ ہو سکے  گی۔‘‘

’’آخر کتنے  کا کھایا ہے  اس نے  ؟‘‘نوجوان نے  برکت علی کے  روبرو آ کر کہا۔

’’ دو روپے  کا بابو صاحب۔‘‘

اب برکت کی آواز میں  نرمی آ گئی، اس نے  دو روپے  برکت علی کے  ہاتھ میں  تھما دئیے  اور چلا گیا۔

کالونی کے  سارے  لوگ نوجوان کو پھٹی پھٹی نگاہوں  سے  دیکھتے  رہے  جو آہستہ آہستہ چلتا ہوا عقبی گلی میں  مڑ گیا تھا۔

ایک بوڑھا جس کا چہرہ جھریوں  سے  بھرا ہوا تھا ہنستا ہوا کہہ رہا تھا۔

’’ پگلا کہیں  کا،دو روپے  سے  کیا ہو گا، اسے  تو بہت سارے  روپے  چاہئیں ، وہ پھر کسی تنور پر روٹی کھا کر چپکے  سے  چلتا بنے  گا۔‘‘

سب لوگ خاموش تھے  اور ایک دوسرے  کو آنکھوں  ہی آنکھوں  میں  دیکھ رہے  تھے  جیسے  کہہ رہے  ہوں  سب کچھ ٹھیک ہے ، بوڑھا بھی، بھکاری نوجوان بھی جس نے  ابھی ابھی سب کے  سامنے  سبکی اٹھائی تھی اور برکت علی بھی۔

برکت علی کے  تنور پر یہ پہلا واقعہ تھا، بظاہر معمولی سا واقعہ اس کے  لیے  چنداں  اہمیت کا حامل نہ تھا لیکن اس واقعے  نے  اس کے  دل میں  ایک کسک پیدا کر دی تھی اور وہ سوچنے  لگا، آدمی مجبوری میں  کیا اس قدر بھی نیچا ہو سکتا ہے۔ اس کے  ذہن کے  چور دروازے  پر اس دبلے  پتلے  نوجوان نے  آ کر چپکے  سے  دستک دی جس نے  جلد جلد پانچ روٹیاں  کھا کر خاموشی اختیار کر لی تھی اور پھر وہ سانولا سلونا ریشم کے  تاروں  جیسے  بڑے  بالوں  والا نوجوان جس نے  نرمی کے  ساتھ اسے  دو روپے  دیتے  ہوئے  کہا تھا۔

’’ گھبراؤ نہیں  بھائی وقت قریب آ رہا ہے  جب کوئی بغیر پیسے  دئیے  مفت کھا کر چلتا نہ بنے  گا۔‘‘

اس کا دماغ گرامو فون ریکارڈ کی طرح گھومتا رہا اور اس کے  کانوں  میں  بڑے  ریشمی بالوں  والے  نوجوان کی آواز شعلہ بن کر لپکتی رہی۔

کوئی ایک مہینے  کے  بعد صبح ہی صبح تنور کے  قریب بیٹھتے  ہوئے  ایک نوجوان نے  ملائمت سے  پر لہجے  میں  کہا:

’’ دو روٹیاں  دینا بھائی۔‘‘

برکت علی روٹیاں  جوڑنے  میں  مشغول تھا، دو نوجوان کھا کر اٹھتے  ہوئے  سستی دور کر رہے  تھے۔

’’ لینا بھائی۔‘‘

برکت علی نے  رکابی میں  دو روٹیاں  اور کٹورے  میں  دال کا پانی ڈالتے  ہوئے  کہا۔

نوجوان آہستہ آہستہ کھانے  لگا۔

چوڑی پیشانی، ملیح رنگ، بڑے  بڑے  ریشم کے  تاروں  جیسے  بال۔ اُس نے  محسوس کیا یہ وہی نوجوان ہے  جس نے  پچھلے  دنوں  دو روپے  دیتے  ہوئے  کہا تھا:

’’ اس کے  منہ پر نہ تھوکنا بھائی، یہ صورت سے  بڑا دکھی معلوم ہوتا ہے۔‘‘

برکت علی نے  غور سے  اس کی طرف دیکھا، اس کا دل بے  اختیار چاہا کہ اس سے  چھیڑ کر کچھ باتیں  کرے ، وہ بات کرنے  کے  لیے  مناسب الفاظ ڈھونڈ ہی رہا تھا کہ سامنے  والی گلی کے  مکان سے  یکایک شور و غوغا بلند ہوا۔

جمعدار ممدو کے  مکان کے  بوسیدہ دروازے  پر ڈنڈے  مارتا ہوا چیخ رہا تھا۔ ’’ ابے  چھنال کے  بیٹے  ممدو باہر نکل سالے ، کل تو نے  میاں  مشک کی مسجد سے  جا نماز چرائی ہے۔‘‘

تلاش میں  واقعی ممدو کے  گھر سے  جا نماز نکلی۔

محلے  کے  سارے  لوگ حیران تھے  اور ممدو کو طرح طرح کی گالیاں  دے  رہے  تھے ، بوڑھی عورتیں  ناک پر انگلی رکھ کر کہہ رہی تھیں  :

’ ’ کیا زمانہ آ گیا ہے ، موئے  کو کوئی اور چیز نہ ملی تھی چوری کرنے  کے  لیے۔‘‘

’’ خدا کے  گھر میں  چوری، نعوذ باللہ ‘‘ ایک بوڑھے  نے  داڑھی پہ تین بار ہاتھ پھیرتے  ہوئے  کہا۔

جب علاقے  کا جمعدار ممدو کو برکت علی کے  تنور کے  سامنے  سے  کھینچ کر لے  گیا تو وہ اٹھ کھڑا ہوا۔

’’ اس نے  مسجد سے  جانماز چرائی ہے  اس لیے  تھانے  لے  جا رہا ہوں ، وہاں  بیٹا جی کو چھٹی کا دودھ یاد آئے  گا۔ ‘‘ جمعدار نے  اکڑتے  ہوئے  کہا۔

محلے  کے  شریر بچے  ممدو کو چڑاتے  ہوئے  بیک آواز جانماز چور پکار رہے  تھے  اور جمعدار چیختا ہوا کہہ رہا تھا۔ ’’ اے  بن مائی کے  سپوتو بھاگو یہاں  سے  ورنہ ایک ایک کی ہڈی پسلی الگ کر کے  رکھ دوں  گا۔‘‘

جمعدار کی دھمکی کے  ساتھ بچے  ادھر ادھر منتشر ہو گئے۔

’’ اب بتاؤ بابو صاحب ممدو کے  بارے  میں  آپ کا کیا خیال ہے  ؟‘‘

برکت علی نے  سنہری تاروں  جیسے  بالوں  والے  نوجوان سے  پوچھا جو کھانا ختم کر کے  پیسے  ادا کر رہا تھا، نوجوان نے  اپنے  مخصوص ملائمت سے  پر لہجے  میں  کہا۔

’’ بات کوئی اہم نہیں ، سردی کا موسم ہے  ممدو کو سردی لگی ہو گی، ا س لیے  اس نے  مسجد سے  جانماز چرا لی،تم تنور کے  قریب بیٹھ کر بھی جب سردی محسوس کرتے  ہو تو بے  چارہ ممدو جس کے  پاس ایک پھٹی ہوئی بنیان ہے  کیونکر سردی محسوس نہ کرتا۔‘‘

’’ لیکن مسجد سے  جانماز چرانا گناہِ عظیم ہے  صاحب۔ ‘‘ برکت علی نے  اپنے  جسم پر خدا کا پوری طرح رعب اور خوف طاری کرتے  ہوئے  کہا۔

’’ یہ گناہ اور ثواب دھوکے  کی حسین لڑیاں  ہیں  جنھیں  تم دیکھ نہ سکو گے۔ ‘‘ یہ کہہ کر وہ چپ ہو گیا۔ برکت علی سوچ میں  پڑ گیا، اس کا دل اب روٹیاں  ڈالنے  میں  نہیں بہل رہا تھا۔

برکت علی کا تنور روز صبح جتنا گرم رہتا اسی طرح اس کی جیبیں  بھی گرم رہتیں ، اس کا کاروبار خوب چل رہا تھا لیکن ایک دن اچانک کسی نے  اس کے  تنور پر گھڑوں  پانی ڈال دیا، اس کا چولھا اب پہلے  کی طرح گرم نہ تھا اس لیے  کہ اس کے  قریب ہی ناگپور کی ایک عورت نے  جس کا زبیدہ تھا کڑھائی چڑھا کر بھجیے  اور پاپڑ تلنے  شروع کر دئیے  تھے۔

پیارے  خد و خال والی زبیدہ جب اپنے  نازک ہاتھوں  سے  بیسن کے  بھجیے  گرم گرم تیل میں  چھوڑتی تو کڑھائی سے  ایک عجیب سی آواز آتی اور لوگ مزے  لے  لے  کر کھاتے۔

عورت جوان تھی اور مسکرانا جانتی تھی، پھر کیا تھا کالونی کے  سارے  لوگ اس پر لٹو ہو گئے ، کبھی کبھار چوری چھپے  ادھر ادھر دیکھ کر موذن بھی دو چار آنے   کے  بھجیے  خرید لے  جاتا۔ چند ہی دنوں  میں  زبیدہ نے  نیا چولھا بھی کھڑا کر لیا اور پراٹھے  ڈالنے  شروع کر دئیے ، اب برکت علی کے  تنور کے  سارے  گاہک ا س کی طرف آ گئے۔

زبیدہ کے  یہاں  آنے  سے  اس کے  بیوپار پر اوس پڑ گئی تھی، کبھی کبھار بھولے  بھٹکے  کوئی نیا گاہک اس کی طرف آ جاتا تو وہ تیزی سے  اس کے  ہاتھ میں  روٹی تھماتے  ہوئے  اخلاق سے  کہتا۔

’’ اور کیا چاہیے  بھائی صاحب۔‘‘

اور بھائی صاحب دو روٹی کھا کر آہستہ سے  کھسک جاتے۔

اس نے  سوچا اگر چند دن یہ حال رہا تو اپنا تنور بند کرنا پڑ ے  گا، پھر اس کا کیا حال ہو گا، اس فکر سے  اس کا دل بیٹھا جا رہا تھا، نہ جانے  کہاں  سے  آ دھمکی یہ سالی کمینی، دن میں  تلن اور رات میں  عصمت کا بیوپار، یہ بھی کوئی زندگی ہے ، اس سے  تو موت بہتر ہے ، وہ منہ ہی منہ میں  بڑبڑایا۔

آج سویرے  سے  لے  کر دس بجے  تک برکت علی نے  صرف پانچ روپے  کا بیوپار کیا تھا جن میں  سے  ایک دو تو صرف ادھار ہی کھا کر چلے  گئے  تھے ، وہ انھیں  ادھار اس لیے  بھی دے  رہا تھا کہ کہیں  گاہک بھٹک نہ جائیں۔

زبیدہ کی جوانی کڑھائی میں  پکنے  والے  تیل کی طرح گرم تھی، آگ کی روشنی میں  اس کا خوبصورت چہرہ ہیرے  کی طرح چمک اٹھتا اور لوگ بھجیے  خریدتے  وقت للچائی ہوئی نگاہیں  اس کی گدرائی بانہوں  پر ڈالتے ، اس کے  سینے  کے  افقی حصے  کو حریصانہ انداز میں  آنکھیں  پھاڑ پھاڑ کر دیکھتے  جن میں  ہاتھوں  کی حرکت سے  ایک دلکش ابھار سا پیدا ہوتا۔

ادھر برکت علی گاہک نہ ہونے  سے  جماہیاں  لیا کرتا، اب وہ چند مخصوص گاہکوں  کے  سہارے  اپنی زندگی کو ہانکے  جا رہا تھا، آہستہ آہستہ دھیمے  دھیمے۔ کبھی کبھار کوئی نیا گاہک بھٹک کر اس کی طرف آ جاتا تو اسے  اچنبھا سا ہوتا، لیکن ایسا موقع بھی اس وقت پیدا ہوتا جب زبیدہ کے  ہاں  کی ساری چیزیں  بک چکی ہوتیں ، گویا اب برکت علی زبیدہ جیسی بے  حیا عورت کے  منہ سے  اگلا ہوا جھوٹا نوالہ کھا رہا تھا اور اسے  اس بات کا بے  حد دکھ تھا۔

آج وہ بے  حد اداس بیٹھا تھا، صبح سے  دو ہی روپے  کی بکری ہوئی تھی، آٹے  والے  کے  الگ دس روپے  قرض ہو گئے  تھے۔ ایک وقت وہ بھی تھا جب اس کے  ہاں  چالیس سے  اوپر بکری ہو جایا کرتی تھی لیکن آج وہ چپ چاپ بیٹھا مکھیاں مار رہا تھا۔ وہ ان ہی خیالات میں  کھویا ہوا تھا کہ کسی کے  قدموں  کی دبی سی چاپ نے  اسے  چونکا دیا،یہ سنہری بالوں  والا نوجوان تھا۔

’ ’ کہو اچھے  تو ہو۔‘‘

’’ ہاں  صاحب۔‘‘

برکت علی نے  اس امید پر کہ وہ یہاں  کھانے  آیا ہے  پلیٹ میں  دو روٹی اور کٹورے  میں  دال کا پانی انڈیل دیا، وہ کھانے  سے  کترا رہا تھا۔

’’ کھاؤ بابو صاحب۔ ‘‘ برکت علی نے  زور دیتے  ہوئے  کہا۔

’’ لیکن۔۔۔ لیکن ‘‘ وہ جیسے  کہنے  سے  شرما رہا تھا۔

’’ لیکن ویکن کیا اب کھا بھی لو بابو صاحب۔‘‘

اس نے  محبت سے  لبریز لہجے  میں  کہا۔

’’ لیکن تم جانتے  ہو میری جیب میں  اس وقت ایک پائی بھی نہیں  ہے ، کہیں  تم اس نوجوان کی طرح میرے  منہ پر بھی نہ تھوک دو، اس لیے  ڈرتا ہوں۔۔۔‘‘

’’ برکت علی بے  طرح ہنس پڑ ا، اس کے  بادام ایسے  بڑے  بڑے  دانت باہر نکل آئے  پھر وہ یکایک سنجیدگی کا مجسمہ بن گیا۔ برکت علی معمولی آدمی ہوا تو کیا اس کے  سینے  میں  بھی دل ہے ، ایک حساس دل جو بھلے  اور برے  آدمی کی تمیز رکھتا ہے۔ ‘‘ اس نے  گمبھیر آواز میں  کہا۔

سنہری بالوں  والا نوجوان آنکھوں  ہی آنکھوں  میں  برکت علی کا شکریہ ادا کرتا ہوا دور کہیں  چلا گیا۔

دوسرے  دن مہاجر کالونی میں  پوسٹ مین برکت علی سے  پوچھ رہا تھا۔

’’ کیا تم نیازی صاحب کو جانتے  ہو، ان کا منی آرڈر آیا ہے  اور یہ رسالہ بھی،پتہ غلط سا ہے۔‘‘

برکت علی کی نظر جب اس خوبصورت رسالے  کی تصویر پر پڑ ی تو اس کا منھ کھلا کا کھلا رہ گیا، بالکل تنور کے  منھ کی طرح!

٭٭٭