کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

ریت اور چشمہ

عوض سعید


وہ کمرے  سے  نکل کر جب ڈرائنگ روم میں  داخل ہوا تو اس نے  دیکھا کہ ایک اونچے  قد کا سانولا سلونا اجنبی کرسی میں  دھنسا ہوا بڑی بے  نیازی سے  سگریٹ کے  مرغولے  فضا میں  بکھیر رہا تھا۔ پہلے  وہ قدرے  جھجکا، اچانک اسے  یوں  لگا جیسے  وہ غلطی سے  دوسرے  مکان میں  داخل ہو گیا ہو۔

’’ معاف کیجیے  گا۔‘‘

اجنبی نے  اس کے  چہرے  پر آئی حیرانی کو پڑھتے  ہوئے  کہا۔

’’ مجھے  انجم آفتاب کہتے  ہیں ، میں  آپ کے  برابر والے  مکان میں  رہتا ہوں ، بیگم نے  کہا تھا کہ میں  ذرا آپ کے  ہاں  ہو آؤں ، وہ بھی تھوڑی دیر ہی میں  غالباً آپ لوگوں  سے  ملنے  آئے  گی۔‘‘

اس کے  ہونٹوں  پر پھیکی مسکراہٹ رینگنے  لگی اور وہ بغیر کچھ سوچے  سمجھے  کہہ اٹھا : ’’ ضرور انھیں  تشریف لانے  کو کہیے  گا۔‘‘

اس نے  جیب سے  گولڈ فلیک کا پیکٹ نکالا، ایک سگریٹ خود سلگایا اور ایک اس کی طرف بڑھاتے  ہوئے  کہا۔

’’ کیا آپ سگریٹ کا شوخ رکھتے  ہیں  ؟‘‘

’’ کبھی کبھار پی لیتا ہوں ، ویسے  آپ کا اصرار ہو تو پی لوں  گا۔‘‘

’’ سگریٹ پینا اچھی عادت تو نہیں  جس کے  لیے  میں  آپ سے  اصرار کروں۔‘‘

اس کے  سگریٹ پینے  کا موڈ بھی اس جملے  کے  بعد کافور ہو کر رہ گیا، تھوڑی دیر باتیں  ہوتی رہیں ، اسی دوران وہ اچانک اٹھ کر کھڑا ہوا جیسے  اسے  کوئی ضروری کام یاد آ گیا ہو۔

’’ اچھا اب مجھے  اجازت دیجیے ، بیگم میرا انتظار کر رہی ہو گی۔‘‘

یہ کہہ کر وہ چلا گیا، جب وہ چلا گیا تو اس نے  سکون کا سانس لیا۔

تھوڑی دیر بعد اماں  بی کے  کمرے  سے  باتوں  کی آواز آ رہی تھی۔

’’ بیٹا تجھ سے  مل کر بڑی خوشی ہوئی ہے ، مجھے  تو لگتا ہے  جیسے  میری زہرہ پاکستان سے  آ گئی ہے ، وہی صورت، وہی آنکھیں ،وہی قد، تم میں  اس میں  ذرا برابر بھی فرق نہیں ، مقتدر سے  ملو گی بیٹا، بڑا پیارا لڑکا ہے  لیکن ہے  ذرا شرمیلا، عورتوں  سے  دور بھاگتا ہے ، اب یہی دیکھو نا اپنی بھانجی سے  آنکھیں  ملا کر باتیں  کرتے  ہوئے  بھی لڑکیوں  کی طرح شرما جاتا ہے۔

کمرے  میں  اچانک ہنسی کی جھانجھنیں  بج اٹھیں ، اور وہ شرم سے  پانی پانی ہو کر رہ گیا۔

’ ’ ماں  بھی عجیب ہے ، بھلا اس قسم کی باتیں  نئے  پڑوسی سے  کرنی چاہئیں۔‘‘

’’ امی مقتدر کس کلاس میں  پڑھتے  ہیں۔‘‘

’’ ابھی ابھی تو اس نے  بی۔ اے  کیا ہے۔‘‘

’’ مقتدر بیٹا۔۔۔ مقتدر۔۔۔ ‘‘ ماں  کی آواز گونجی۔

وہ جی آیا کہتا ہوا انجم آفتاب کی بیگم کو دیکھا اور اس کا دل دھک سا ہو کر رہ گیا۔ وہی بوٹا سا قد، وہی کھلتا ہوا رنگ، وہی نڈھال سی خوبصورت آنکھیں  اتنی مشابہت کہ آدمی حیران رہ جائے،اسے  یوں  لگا جیسے  وہ پھر ایک بار اپنی زہرہ سے  مل رہا ہو۔ اس نے  لرزتے  ہوئے  ہاتھوں  سے  آداب کیا، سلام کا جواب دیتے  ہوئے  اس نے  اسے  آنکھوں  ہی آنکھوں  میں  بغور دیکھا، پتہ نہیں  کیوں ، پھر وہ چلا آیا اور وہ بھی تھوڑی دیر بیٹھنے  کے  بعد اپنے  گھر چلی گئی۔

اسے  وہ منحوس شام آج بھی یاد ہے ، جب اس نے  اسے  الوداع کہا تھا اور جب وہ آخری بار گلے  لگاتے  ہوئے  رخصت ہو رہا تھا تو ضبط کے  باوجود اس کی آنکھوں  سے  جھر جھر آنسو بہہ رہے  تھے۔

وہ کہہ رہی تھی۔۔۔ باؤلا کہیں  کا،ایسے  رو رہا ہے  جیسے  میں  ہمیشہ ہمیشہ کے  لیے  تجھ سے  جدا ہو رہی ہوں۔

زہرہ سے  اسے  بڑی محبت تھی، ظاہر ہے  ایک بھائی کو اپنی بہن سے  محبت ہی ہوتی ہے ، اماں  بی کی تو وہ زندگی ہی تھی،مگر وہ ماں  سے  خفا ہو کر چلی گئی تھی، وہاں  اس کا شوہر تھا، زندگی تھی ! پتہ نہیں  اماں  بی اسے  اپنے  شوہر کے  پاس بھیجنا کیوں  پسند نہیں  کرتی تھیں ، شاید حد سے  بڑھی ہوئی محبت کا جنون ہو۔

وہ پچھلی یادوں  کے  زخموں  کو کرید رہا تھا کہ دفعتہً کسی نے  مکان پر دستک دی۔ اس نے  کھڑکی سے  باہر جھانک کر دیکھا، ایک لمبے  لمبے  بالوں  والا خوبصورت نوجوان ہاتھ میں  چھوٹا سا چرمی بیگ تھامے  پاؤں  تھرکاتا ہوا کھڑا تھا۔

’’ انجم صاحب ہیں۔‘‘

’’ انجم صاحب سامنے  کے  مکان میں  رہتے  ہیں۔‘‘

اس نے  شکریہ ادا کیا اور سامنے  جا کر دستک دی۔

کھڑکی کھلی اور شیشے  میں  سے  دو خوبصورت آنکھیں  چمکنے  لگیں ، ہونٹ ہلے  اور مہین سی پیاری آواز آئی، آئندہ ماہ کسی طرح روپے  بھجوا دوں  گی، آپ فکر نہ کریں۔

آنے  والے  نوجوان کے  چہرے  پر خفگی کا دور دور تک نشان نہ تھا، وہ جی اچھا کہتا ہوا چلا گیا اور اسے  یوں  لگا جیسے  بیگم مقروض ہے ، پتہ نہیں  اسے  کن مجبوریوں  نے  قرض لینے  پر مجبور کیا تھا۔

تھوڑی دیر بعد اماں  بی نے  ڈرائنگ روم میں  آ کر اس سے  کہا۔

بیگم آئی ہوئی ہے  اور تجھ سے  ملنا چاہتی ہے۔

اچانک اس کا ہاتھ میز پر رکھے  ہوئے  کنگھے  کی طرف گیا اور دوسرے  ہی لمحہ وہ شیشے  کے  سامنے  کھڑا اپنے  بے  ترتیب بالوں  کو سنوار رہا تھا۔

کسی سے  دو چار باتیں  کرنے  کے  لیے  بال سنوارنے  کی کیا ضرورت ہے  ؟

آئینے  میں  سے  اس کے  اندر کے  انسان نے  دھیمے  انداز میں  کہا، یکبارگی اسے  ایسا لگا جیسے  وہ اپنے  آپ کو فریب دے  رہا ہو۔

وہ چپکے  سے  آ کر اماں  بی کے  قریب بیٹھ گیا، اس نے  بیگم کو سلام کے  لیے  ہاتھ اٹھایا ہی تھا کہ اس نے  خود پہل کر دی۔

’’ بڑا شرمیلا ہے ، آداب و سلام سے  تک شرماتا ہے ، بڑے  لاڈ و پیار میں  پلا ہے  نا اس لیے۔۔۔ گفتگو کی تان ٹوٹی تو انھیں  بیگم کو چائے  پلانے  کا خیال آیا اور وہ جھٹ اٹھ کر باورچی خانے  کی طرف چلی گئیں۔

پانچ منٹ تک یوں  ہی خاموشی طاری رہی، اس نے  جب قدرے  اپنے  سر کو اٹھایا تو وہ اس کے  چہرے  کو بغور دیکھ رہی تھی۔

’’ کیا آپ نے  چپ کا روزہ رکھا ہے  ایسی بھی کیا بے  خبری کہ سامنے  بیٹھا ہوا انسان بھی نظر نہ آئے۔‘‘

’’ بات دراصل یہ ہے  کہ میں  ذرا کم آمیز ہوں ، اس لیے  دیر میں  کھلتا ہوں۔‘‘

’’ تو حضور آپ کھلتے  بھی ہیں ، اس نے  مجھے  بڑی جرات کے  ساتھ چھیڑتے  ہوائے  کہا۔‘‘

’’ جی ‘‘ اس کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا اور وہ بے  ساختہ ہنس پڑ ی اور لمبے  لمبے  سیاہ بالوں  کی دو خوب صورت لٹیں  اس کے  شانوں  پر آ کر کانپنے  لگیں  اور وہ شرم و حیا کے  بوجھ تلے  دب سا گیا۔

دو منٹ پھر سناٹا طاری رہا۔

’’ آفتاب صاحب سے  پہلی ملاقات کے  بعد پھر دوبارہ ملاقات ہی نہ ہو سکی۔‘‘

’’ آپ نے  ان کے  ساتھ سرد مہری برتی ہو گی تب ہی تو وہ آپ سے  بغیر ملے  لکھنو چلے  گئے۔

کیا آپ سمجھتی ہیں  کہ میں  اتنا غیر مہذب ہوں ، اس پر وہ بجائے  کچھ کہتی ایک بے  ساختہ قہقہہ اس کے  حلق سے  ابل پڑ ا اور اسے  یوں  لگا جیسے  کسی نے  پیانو کی پتیوں  پر تیزی سے  ہاتھ پھیر دیا ہو۔

اسی دوران اماں  بی چائے  کی کشتی ہاتھ میں  تھامے  آ دھمکیں  اور بات آگے  نہ بڑھ سکی۔ ارے  تم دونوں  اب تک چپ چاپ بیٹھے  ہو، بیٹا یہ ہماری مہمان ہے  کچھ تو اچھی باتوں  سے  دل بہلایا ہوتا۔‘‘

’’ ماں  اچھی باتیں  تو رہیں  ایک طرف آپ ان کی زبان کے  تالے  تو کھول دیجیے۔‘‘

’’ ماں  مجھے  محسوس ہو رہا ہے  یا تو وہاں  زہرہ بدل گئی ہے  یا میں  خود یہاں  بدل گیا ہوں۔‘‘

’’ کیا زہرہ کا خط آیا ہے  بیٹا۔ ‘‘ اماں  بی کی آواز اچانک بھرا گئی۔

وہ کچھ جواب دیے  بغیر وہاں  سے  اٹھ آیا اور ڈرائینگ روم میں  آ کر کرسی پر دھڑام سے  گر گیا۔ آج اس کا جی چاہ رہا تھا کہ وہ جی بھر کر روئے ، لیکن آنسو پلکوں  کے  کنارے  پر ہی آ کر ٹھہر گئے  تھے ، اس نے  آنکھیں  بند کر لیں ، یکبارگی اسے  احساس ہوا جیسے  کوئی اس کے  سرہانے  کھڑا ہو، لیکن یہ اس کا واہمہ تھا، اس دن کے  بعد بیگم پھر کبھی اس کے  گھر نہیں  آئی۔

ایک اداس شام کو دریا گنج کے  چورا ہے  پر اچانک آفتاب سے  اس کی  مڈبھیڑ ہو گئی، بکھرے  بکھرے  پریشان سے  بال، شیروانی کے  بٹن کھلے  ہوئے ، بیک نظر دیکھنے  سے  اندازہ ہوتا تھا کہ کسی سے  جھگڑا کر آیا ہے ، آفتاب نے  اسے  دیکھتے  ہی کہا۔

’’ بتاؤ بیگم کہاں  ہے  ؟‘‘

اس کی آواز غصہ اور نفرت سے  بھری ہوئی تھی۔

’’ نہیں  بتاؤ گے ، میں  تمھیں  جیل بھجوا دوں  گا، تم ہی نے  اسے  اغوا کیا ہے  میں اس بچی کو کتنا چاہتا تھا، بھائی مرحوم کی وہ ایک نشانی ہی تو تھی۔‘‘

اس کا دل دھک سا ہو کر رہ گیا، کیا بیگم آفتاب کی بیوی نہیں  تھی، کیا وہ غیر شادی شدہ تھی، وہ سوچ کی گہرائیوں  میں  ڈوب گیا۔

آفتاب چلّاتا رہا لیکن اس نے  اس کی ایک بات کا بھی جواب نہیں  دیا، وہ آخری بار غصے  سے  چیختا ہوا اسے  عدالت کی دھمکی دے  کر تیز تیز قدم بڑھاتا ہوا کہیں  چلا گیا۔

وہ گھر میں  داخل ہوا تو ماں  نے  خوشی سے  اسے  ایک خط دیتے  ہوئے  کہا۔

’’ زہرہ اس ہفتے  یہاں  آ رہی ہے  بیٹا۔‘‘

’’ زہرہ اب یہاں  نہیں  آئے  گی ماں ، وہ تو بہت دور چلی گئی ہے! ‘‘

٭٭٭