کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

وہ آدمی

عوض سعید


میں  جب آفس سے  لوٹ کر گھر پہنچا تو میری بیوی نے  بڑے  ناگوار لہجے  میں  کہا۔ ’’ وہ اب تک تین دفعہ گھر کے  چکر کاٹ چکا ہے  اور پھر دوبارہ آنے  کی دھمکی دے  گیا ہے ، مجھے  حیرت ہے  کہ ایسا اوباش آدمی بھی تمھارا دوست ہو سکتا ہے۔‘‘

’’ کیا تم نے  اس کا نام پوچھا تھا ؟ ‘‘ میں  نے  جز بز ہو کر کہا۔

’’ نام تو میں  نے  نہیں  پوچھا دراصل میں  اس کے  چہرے  کو دیکھ کر ہی ڈر گئی، اس کی پیشانی پر زخم کا ایک گہرا نشان ہے ، سر لمبوترا اور ناک بھی بھدی اور چپٹی، صورت سے  قاتل لگتا ہے ، ایک دم غنڈہ۔‘‘

میں  سوچنے  لگا، اس حلیے  والا کون ہو سکتا ہے  ؟ میری تشویش بڑھتی جا رہی تھی، اب سوائے  اس کے  کوئی چارہ نہیں  تھا کہ اس کا انتظار کیا جائے ، میرا سارا دھیان اسی کی طرف تھا، کون ہو گا وہ ؟ پیشانی پر زخم کا گہرا نشان ! اس کا مطلب یہی ہے  کہ وہ شروع ہی سے  لڑاکا ہو گا، جھگڑالو، کمینہ۔۔۔!

میں  اسی سوچ میں  تھا کہ معاً کسی نے  کال بیل پر انگلی رکھی، آواز کے  ساتھ ہی میں  گھر سے  نکل پڑ ا، باہر دور تک کوئی نہ تھا تاہم میں  کافی دیر باہر ہی کھڑا رہا۔ میں  غصے  میں  ڈوبا ہوا واپس آ کر ابھی بستر پر لیٹا ہی تھا کہ پھر کال بیل کی آواز میرے  کانوں  میں زہر گھولنے  لگی، میں  تھوڑی دیر یوں  ہی پڑ ا رہا لیکن کال بیل کی آواز وقفے  وقفے  سے  آتی رہی،ایسا لگتا تھا جیسے  کال بل پر انگلی جمائے  رکھنے  والا آدمی مجھ سے  ملے  بغیر نہیں  جائے  گا، ظاہر ہے  وہ وہی ہو گا جس کا مجھے  انتظار ہے۔ میں  نے  احتیاطاً کھڑکی میں  جھانک کر دیکھا، اس کا چہرہ مجھے  نظر نہیں  آ رہا تھا، تھوڑی دیر کی تگ و دو کے  بعد میں  نے  اسے  دیکھ ہی لیا، وہ میرے  دوست کا بڑا لڑکا تھا، وہ مردود نہیں  تھا جس کا مجھے  شدید انتظار تھا، میں  نے  بچے  کو اندر بلایا، میری بیوی دروازے  کے  قریب ہماری باتیں  سننے  کے  لیے  کان لگائے  کھڑی تھی۔ ظفر کا بڑا لڑکا مجھے  بلانے  آیا ہے۔ ‘‘ مگر اس نے  شاید میری بات سنی نہیں ، بدستور دروازے  ہی میں  کھڑی رہی۔

’’ کہو کیا مجھے  ابھی چلنا ہو گا، ظفر تو ٹھیک ہے  نا ؟

’’ با با کل رات سے  پریشان ہیں ، ایک خراب صورت والا آدمی تین بار ہمارے  گھر آیا تھا۔ ‘‘ لڑکے  نے  دھیمے  لہجے  میں  کہا۔

’’ تین بار۔۔۔ ؟‘‘

’’ ہاں  تین بار۔۔۔ صبح۔۔۔ دوپہر اور شام، وہ اب اسی کے  انتظار میں  بیٹھے  ہیں۔

’’ کیا اس کے  چہرے  پر زخم کا گہرا نشان تھا۔‘‘

’’ ہاں۔‘‘

’’ اور کیا چہرہ چپٹا سا تھا۔‘‘

’’ شاید ایسا ہی۔۔۔! ‘‘

’’ شاید سے  تمھاری کیا مراد ہے ، کیا تم نے  اسے  نہیں  دیکھا۔۔۔ ؟‘‘

’’ دیکھا ضرور ہے  لیکن چہرہ پوری طرح ذہن میں  نہیں  ہے ،لیکن کوئی تین بار مسلسل گھر آئے  اور چوتھی بار بھی آنے  کے  بارے  میں  کہہ جائے  تو اس میں  گھبرانے  کی کیا بات ہے۔۔۔ ؟‘‘

’’ کیا ظفر گھبرا رہا تھا۔۔۔ ؟‘‘

’’ہاں۔۔۔!‘‘

میں  دل ہی دل میں  خوش تھا کہ میری طرح دوسرا بھی پریشان ہو سکتا ہے۔

’’ کیا تمھیں  اس کا چہرہ دیکھ کر وحشت نہیں  ہوئی ؟‘‘

’’ ذرا بھی نہیں۔۔۔!‘‘

مگر مجھے  پہلے  یہ بتاؤ کہ اس کے  آنے  کی اطلاع ظفر کو تم نے  دی یا ممی نے  ؟‘‘

’’ میں  نے۔۔۔‘‘

ممی کو اس بات کا علم تھا کہ وہ تین بار گھر آ چکا ہے۔۔۔ ؟

’’ ہاں۔۔۔!‘‘

’’ کیا ممی کے  چہرے  سے  کوئی پریشانی، غصہ یا برہمی کا اظہار ہو رہا تھا۔۔۔ ؟‘‘

’’ وہ مطمئن تھیں  کہ کوئی غرض مند ہو گا جو اپنے  کسی کام کے  سلسلے  میں  آیا ہو گا۔‘‘

’’ تمھیں  کیسے  پتہ۔۔۔ ؟‘‘

’’ وہ مجھ سے  کہہ رہی تھیں ، تمھارے  ابا ذرا ذرا سی بات پر گھبرا جاتے  ہیں ، وہ آدمی ان سے  کیوں  ملنے  آیا تھا اسی بارے  میں  وہ گھنٹوں  سوچیں  گے ، اگر ہر کوئی ذرا سی بات کا مسئلہ بنا لے  تو جینا دوبھر ہو جائے۔‘‘

’’ممی کی کہی ہوئی یہ ساری باتیں  کس طرح یاد رہ گئیں۔۔۔ ؟‘‘

’’آج ہی تو کچھ اسی طرح کی باتیں  کہی تھیں  انھوں  نے۔‘‘

’’ کیا یہ سب باتیں  ظفر نے  بھی سنی تھیں۔۔۔ ؟‘‘

’’ کچھ پتہ نہیں۔۔۔‘‘

اور تھوڑی دیر بعد میں  ظفر کے  گھر کے  سامنے  کھڑا تھا۔

’’ اندر آ جاؤ یار۔۔۔ ‘‘ اس نے  گھبراہٹ بھرے  لہجے  میں  کہا۔

’’ کیا بات ہے  بہت پریشان لگ رہے  ہو۔۔۔ ؟‘‘

’’ ہاں  بات ہی کچھ ایسی ہے ، ایک بد ہیئت لوفر ٹائپ کا آدمی کوئی تین بار مجھ سے  ملنے  گھر آیا تھا، کم بخت نے  اپنا نام نہیں  بتایا اور چوتھی بار پھر آنے  کی دھمکی دے  گیا ہے ، میں  اسی کے  انتظار میں  ہوں ، احتیاطاً تمھیں  بلوا لیا ہے۔‘‘

’’ ارے  بھئی اس میں  پریشانی کی کیا بات ہے  ؟ ہو گا کوئی بے  چارہ، تم سے  کوئی کام نکلوانا چاہتا ہو گا۔‘‘

مگر وہ میری اس دلیل سے  مطمئن نظر نہیں  آ رہا تھا، وہ بدستور پریشان لگ رہا تھا، گو میں  بھی اسی کی طرح اندر ہی اندر پریشان تھا لیکن بظاہر اپنے  آپ کو مطمئن ظاہر کرتے  ہوئے  جب میں  نے  اس سے  جانے  کی اجازت چاہی تو اس نے  ہڑبڑا کر دوبارہ کہا۔ ’’ یار تھوڑی دیر ہی سہی رک جاؤ، پتہ نہیں  مجھے  کیوں  ڈر لگ رہا ہے۔‘‘

میں  نے  اس کی التجا کی لاج رکھ لی اور وہیں  ٹھہر گیا، اب وہ میری موجودگی سے  قدرے  مطمئن نظر آ رہا تھا، اس نے  چائے  پلوانے  کے  بعد مجھے  رات کے  کھانے  پر روک لیا۔ دراصل وہ ایک طرح وقت کو طول دینا چاہتا تھا تاکہ وہ مردود میری موجودگی میں  آ جائے  لیکن دو گھنٹے  گزر جانے  کے  بعد بھی وہ نہیں آیا تو میں اپنے  گھر چلا آیا۔

میں  نے  ابھی دہلیز پر قدم رکھا ہی تھا کہ میری بیوی نے  وحشت زدہ لہجے  میں  کہا۔ ’’ کیا وہ راستے  میں  ملا نہیں ، وہ ابھی ابھی یہاں  سے  گیا ہے ، وہ کافی دیر باہر ہی انتظار کرتا رہا، مجھے  تو خوف محسوس ہو رہا ہے  کہ آئندہ کوئی ایسی ویسی بات نہ ہو جائے ،کوئی خاص بات ہو گی تب ہی تو وہ بار بار آ رہا ہے۔‘‘

’ ’ مگر وہ کمینہ گھر پر چٹھی بھی تو چھوڑ جا سکتا تھا، لیکن یہی حادثہ ظفر کے  ساتھ بھی کیوں  ہو رہا ہے  ؟ کہیں  ایسا تو نہیں  کہ وہ بیک وقت ہم دونوں  کو پریشان کرنا چاہتا ہو ؟ وہ یقیناً ظفر کے  گھر بھی گیا ہو گا، پتہ نہیں  اس بے  چارے  پر کیا بیت رہی ہو گی۔۔۔ ہو سکتا ہے  کہ اس نے  گھر میں  بیٹھ کر ’’ نہیں  ہیں  ‘‘ کہلوا دیا ہو۔ میں  اس شش و پنج میں  تھا کہ اس کا سدِ باب کس طرح ہو ؟ ایک صورت یہی تھی کہ اس کا مقابلہ کیا جائے ، اسے  اتنا مارا پیٹا جائے  کہ وہ لہولہان ہو جائے  لیکن اس نے  کیا ہی کیا تھا۔۔۔!

یہی سوچتے  سوچتے  جانے  کب میری نیند لگ گئی، صبح جب میں  بستر سے  اٹھا تو سارا بدن پھوڑے  کی مانند دکھ رہا تھا۔

’’ کیا یہ ممکن نہیں  کہ آج تم دفتر نہ جاؤ اور معلوم کرو کہ آخر وہ غنڈہ کون ہے  ؟‘‘

’’ بھئی آفس تو جانا ہی ہو گا، کوئی رخصت بھی تو نہیں  ہے۔ ‘‘ مگر وہ میرے  اس جواب سے  ناراض ہو گئی اور میں  آفس چلا آیا، ظفر کی سیٹ خالی دیکھ کر مجھے  اچنبھا ہوا کہ کہیں  ایسی ویسی بات نہ ہو گئی ہو، میں  ابھی کرسی پر بیٹھا میز پر بکھرے  ہوئے  کاغذات کو یکجا کر ہی رہا تھا کہ چپراسی نے  آ کر کہا۔

’’ بڑے  صاحب نے  آپ کو یاد کیا ہے۔۔۔‘‘

پھر بیل بجتے  ہی چپراسی دوڑا دوڑا صاحب کے  روم میں  داخل ہو گیا اور ساتھ ساتھ میں  بھی۔۔۔ کوئی آدمی بڑی صاحب کے  پاس بیٹھا باتیں  کر رہا تھا، اس کی پشت میری جانب تھی، اس لیے  میں  اس کا چہرہ دیکھ نہ سکا، جب وہ اٹھ کر جانے  لگا تو میرا سر چکرا کر رہ گیا، اس کی پیشانی پر زخم کا گہرا نشان تھا اور ناک بھدی اور چپٹی تھی۔

جب وہ چلا گیا تو میں  نے  چپراسی سے  پوچھا۔

’’ کون آدمی تھا وہ۔۔۔ ؟‘‘

ارے  وہ چپٹی ناک والا۔۔۔ !! کیا وہ آپ کے  پاس بھی آیا تھا۔۔۔ ؟ میں  نے  رندھے  ہوئے  لہجے  میں  کہا۔ ’’ ہاں۔‘‘

’’ اس میں  پریشانی کی کیا بات ہے ، آپ سرے  سے  انکار کر دیجیے ، صاحب نے  بھی ایسا ہی کیا ہے۔۔۔!!‘‘

٭٭٭