کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

اجنبی

عوض سعید


کوئی زیادہ عرصہ نہیں  گزرا۔ میں  دریا گنج کے  بس اسٹاپ پر کھڑا اوکھلا جانے  والی بس کا انتظار کر رہا تھا، رات کے  ۹بج چکے  تھے ، بس آنے  میں ابھی کافی دیر تھی، میں  نے  ایک تازہ سگریٹ جلایا اور ایک لمبا کش لے  کر دائیں  بائیں  بے  مقصد نگاہیں  ڈالیں ، بس کے  انتظار میں  اور بھی لوگ کھڑے  تھے ، دو تین لڑکیاں ، چند بوڑھے  اور ایک نوجوان جس کا چہرہ بجری کی طرح کھردرا اور مٹیالا تھا، جس کے  سامنے  کے  دو بٹن ٹوٹے  ہوئے  تھے ،وہ اطمینان سے  الکٹرک کے  کھمبے  سے  لگا پتہ نہیں  کیا سوچ رہا تھا۔ دو لڑکیاں  جو میری طرح دیر سے  بس کے  انتظار میں  کھڑی تھیں  گھر جلد پہنچنے  کے  لیے  بے  چین دکھائی دے  رہی تھیں۔

’’سشیلا اگر ٹیکسی لی جائے  تو خواہ مخواہ آٹھ دس روپے  خرچ ہو جائیں  گے ، یہ ڈی  ٹی  ایس والے  بھی عجیب منحوس لوگ ہیں ، اتنی دیر میں  سروس ہوتی ہے  کہ جی کڑھنے  لگتا ہے۔‘‘

’’ جی ہاں  میں  خود کوئی ایک گھنٹے  سے  یہاں  کھڑا ہوں  لیکن بس آنے  کا نام ہی نہیں  لیتی۔ ‘‘ اس عجیب و غریب نوجوان نے  درمیان میں  دخل در معقول کرتے  ہوئے  کہا۔ لڑکیوں  نے  اس کا جواب نہیں  دیا اور اس سے  چند قدم دور جا کھڑی ہو گئیں۔

وہ خفت کے  مارے  کھسیانے  انداز میں  میرے  قریب آیا۔

پہلے  تو میں  جھجکا اس خیال سے  کہ کہیں  وہ اپنی اوٹ پٹانگ باتوں  سے  مجھے  بور نہ کرے ، میرا خدشہ صحیح نکلا، اس نے  قریب آ کر مجھ سے  پوچھا۔

’ ’ کیا آپ کو اوکھلا جانا ہے۔‘‘

’’ ہاں  ‘‘ میں  نے  بڑی بے  پرواہی سے  جواب دیا۔

’’ میں  بھی اوکھلا جا رہا ہوں۔‘‘

تم جہنم میں  کیوں  نہیں  جاتے ، میں  دل ہی دل میں  غصے  سے  پیچ و تاب کھاتے  ہوئے  کہا۔

’ ’ماچس تو ہو گی آپ کے  پاس‘‘

’ ’ ہاں  ہے۔‘‘

’’ تو پھر دیجیے۔‘‘

میں  نے  طوعاً و کرہاً ماچس کی ڈبیہ اس کے  ہاتھ میں  تھما دی۔

’’ سگریٹ پئیں  گے  آپ۔‘‘

’’ نہیں  ‘‘

اس نے  میری ماچس بغیر کسی تکلف کے  اپنے  پینٹ کی جیب میں  رکھ لی، میں  یہ سمجھ کر کہ وہ مجھے  ماچس دینا بھول گیا ہے  پانچ دس منٹ توقف کے  بعد اس سے  کہا۔

’’ ماچس نہیں  لوٹاؤ گے۔‘‘

’’ ماچس کیا خاک لوٹائیں  گے ، اس میں  آٹھ دس تیلیاں  ہی تو رہ گئی ہیں۔ ‘‘ اس نے  بڑی بے  تکلفی سے  کہا۔

’’ آپ بھی عجیب آدمی ہیں۔‘‘

’’ جی ہاں  آپ کا خیال بجا ہے۔‘‘

جب بس،اسٹاپ کے  قریب آ کر ایک دھچکے  کے  ساتھ رک گئی تو وہ تیزی سے  بس میں  سوار ہو گیا، میں  جب اندر داخل ہوا تو اس کی بغل والی سیٹ خالی تھی۔

میں  یوں  ہی کھڑا رہا تو کنڈکٹر نے  کہا۔

’’ آپ  وہاں بیٹھ جائیے  بابو صاحب فٹافٹ۔‘‘

’’ ہے  کوئی بگیر ٹکٹ، بگیر ٹکٹ۔ ‘‘ پنجابی کنڈکٹر نے  ہانک لگائی۔‘‘

لاجپت نگر مارکیٹ پر ایک ادھیڑ عمر کے  آدمی نے  سیٹ خالی کر دی اور میں  فوراً اس جگہ بیٹھ گیا۔ اوکھلا موڑ پر ہم دونوں  ساتھ ساتھ اترے۔

رات بے  حد تاریک تھی، اوکھلا کا بیہودہ سا راستہ جہاں  آئے  دن چوری کی وارداتیں  ہوتی ہیں  یوں  لگ رہا تھا جیسے  جاتے  جاتے  کسی لٹیرے  نے  اس کے  سینے  پر تاریکی کا ایک بھیانک سا غلاف چڑھا دیا ہو، اوکھلا سے  مجھے  جامعہ نگر تک پیدل جانا تھا، میں  آگے  آگے  چل رہا تھا اور وہ میرے  پیچھے  پیچھے ، اس کے  پیروں  کی دھما دھم سے  مجھے  حد درجہ خوف محسوس ہو رہا تھا۔

’’ ذرا سنیے  تو ایک سگریٹ تو پلائیے۔‘‘

اس نے  بڑے  بے  ڈھنگے  انداز میں  مجھ سے  سگریٹ طلب کی جسے  میں  نے  ایک انجانے  خوف کے  تحت اسے  دے  دیا، اندھیرے  میں  اس کی آنکھیں  کسی گہرے  کنویں  میں  چھپے  ہوئے  مینڈک کی طرح چمک رہی تھیں۔

’’ آپ گھبرائیے  نہیں ، میں  آپ کی جیب نہیں  کاٹوں  گا، جیب تو آپ جیسے  سفید پوش حضرات کاٹا کرتے  ہیں۔‘‘

’’ میرا جی چاہا اسے  اس گستاخی کا مزہ چکھاؤں ،لیکن دل ناتواں  نے  اس کے  آگے  ہتھیار ڈال دیے۔ غالباً آپ کو معلوم نہیں  میں  آپ کا پڑوسی ہوں ، کوئی دو ماہ سے  نیچے  کا کمرہ کرایہ پر لے  رکھا ہے ، مکان کے  بالائی حصے  پر آپ رہتے  ہیں  جہاں  آپ کو ہر طرح کا آرام ہے ، میں  چاہتا ہوں  کہ جلد سے  جلد کوئی اچھا سا مکان کرائے  پر لے  لوں ، میں  پڑھا لکھا ہوں ،ساتھ ساتھ موسیقی بھی اچھی طرح جانتا ہوں ،بمبئی میں  میں  نے  دو تین فلموں  کے  پلے  بیک بھی دئیے  ہیں ، میں  یہ بھی جانتا ہوں  کہ آپ ایک پرائیویٹ انسٹی ٹیوٹ کے  معمولی ٹیوٹر ہیں  جس کی تنخواہ صرف ڈھائی سو روپے  ہے  اور آپ یہاں  تنہا مجردانہ زندگی گزار رہے  ہیں ، میں  بڑی تمنائیں  لے  کر بمبئی سے  دلی آیا تھا لیکن دلی نے  بھی مجھے  کچھ نہیں  دیا۔‘‘

میرے  تعلق سے  اس نے  ابھی ابھی جو دو ٹوک باتیں  کہی تھیں  اس میں  کہیں  بھی جھوٹ کا شائبہ نہ تھا، دلی میں  میری نوکری غیر یقینی حالت میں  گزر رہی تھی، میں  ڈھائی سو روپے  تنخواہ پاتے  ہوئے  بھی ایسا محسوس کر رہا تھا جیسے  میں  جنم جنم کا بیروزگار ہوں۔ میں  اس کی ساری باتیں  چپ چاپ سنتا رہا۔ میں  نے  ایک طویل جماہی لی تو اس نے  اپنے  کمرے  میں  داخل ہوتے  ہوئے  کہا۔

’’ جائیے  سو جائیے۔ غالباً آپ کو نیند آ رہی ہے۔‘‘

میں  نے  اوپر جا کر کمرے  کی لائٹ جلائی اور کپڑے  تبدیل کر کے  پلنگ پر جا گرا، میں  ابھی لائٹ آف کر کے  بستر پر آنکھیں  بند کیے  پڑ ا تھا کہ وہ پھر  آ دھمکا۔

’’ کیا سو گئے  ہو۔ ‘‘ میں  نے  اس کا کوئی جواب نہیں  دیا۔

میں  تمھاری جیب سے  ایک سگریٹ لے  رہا ہوں ، تمھاری جیب میں غالباً کچھ روپے  بھی ہیں ، میں  انھیں  جوں  کا توں  چھوڑ رہا ہوں ، اگر تم جاگ رہے  ہو تو میرے  جانے  کے  بعد پیسے  گن لینا۔‘‘

میں سہما سہما چپ چاپ پڑ ا اس کی اس بیہودہ جسارت پر غور کرتا رہا۔۔۔ دوسرے  دن صبح میں  نے  دیکھا دو خوبصورت لڑکیاں  اس کے  کمرے  میں  بے  تکلف انداز میں  بیٹھی اس سے  باتیں  کر رہی تھیں ، آج اس نے  ململ کا مہین کرتا لٹھے  کا پاجامہ پہن رکھا تھا، شیو بھی بنا لی تھی، جس سے  اس کے  چہرے  کی کھردراہٹ دور ہو گئی تھی۔

جب میں  سیڑھیاں  پھلانگتا ہوا اس کے  کمرے  کے  نیچے  آیا تو اس نے  مجھے  پکارا۔

بابو صاحب موسیقی سے  تو آپ کو شوق ہو گا ہی، یہ میری نئی شاگرد ہیں  ملکہ اور ممتاز، بڑا رسیلا گلا پایا ہے  ان دونوں  نے ، یہ غزل کی اپسرا ہے  اور یہ گیتوں  کی رانی۔

موٹی موٹی آنکھوں  والی دوشیزہ نے  جس کے  چہرے  پر حیا کی سرخی کا دور دور تک پتہ نہیں  تھا میری آنکھوں  میں  آنکھیں  ڈال کر کہا۔

غزل سنیے  گا یا گیت، غزل سننی ہو تو مجھ سے  سنیے  اور گیت اس سے۔‘‘

اس نے  عجیب انداز سے  اپنی سہیلی کی طرف مخاطب ہو کر کہا۔

اس سے  تو آپ گجل سن لیجیے ، اس نے  بجھے  ہوئے  لہجے  میں  کہا جس میں  غصہ کم نفرت زیادہ تھی، اس کی زبان سے  میں  نے  اندازہ لگایا کہ وہ لڑکی پنجابی تھی۔

میرے  پڑوسی نے  ہارمونیم اپنے  قریب گھسیٹا اور بڑے  ماہرانہ انداز میں  اس کی پتلی پتلی لانبی لانبی انگلیاں  ہارمونیم کی پتیوں  پر دوڑنے  لگیں ، پھر غزل شروع ہوئی۔

جس جس رنگ میں  ہوتا ہے  جہاں  ہوتا ہے 

اہلِ دل کے  لیے  سرمایۂ جاں  ہوتا ہے 

گانے  کے  دوران میں  نے  دیکھا گیتوں  کی رانی بری صورت بنائے ، ناک بھوں  سکیڑے  اسے  دیکھتی رہی، میں  نے  تھوڑی دیر ہی کے  مطالعے  سے  اندازہ لگا لیا کہ یہ ایک دوسرے  سے  بے  طرح جلتی ہیں ، غزل کی اپسرا کی آواز کچھ پھٹی پھٹی سی تھی، شاید اس لیے  جگر کی خاصی اچھی غزل بھی طبعیت میں  ترنگ پیدا نہ کر سکی، لیکن میں  نے  تکلفاً بڑی داد دی جس سے  اس کا خوبصورت چہرہ دمک اٹھا۔

جب گانے  کی محفل ختم ہوئی تو میرے  پڑوسی نے  اسٹو پر چائے  بنائی اور زبردستی میرے  ہاتھ میں  چائے  کا پیالہ تھما دیا۔

’’ کیا مجھے  چائے  نہیں  دو گے۔ ‘‘ غزل کی اپسرا نے  قدرے  بے  صبری سے  کہا۔ ’’ اری تو کیا چائے  پیتی ہے  تجھے  تو اولٹین ملنی چاہیے۔ ‘‘ اس نے  مخصوص انداز میں  مسکراتے  ہوئے  کہا۔

ابھی تو یہ مجھ سے  غزل سیکھ رہی ہے ،پھر آئندہ دیکھنا اگر یہ لتا کا بیڑہ غرق نے  کر دے  تو میرا نام گوہر نہیں ، اس نے  مجھ سے  مخاطب ہوتے  ہوئے  کہا۔

’’ اور مجھے  آج معلوم ہوا کہ اس کا نام گوہر ہے۔ ‘‘ میں  اس سے  رخصت ہو کر رادھے  پنواڑی کی دوکان پر آیا، اس نے  مجھے  دیکھتے  ہی ایک گلوری بنا دی اور باتوں  میں  مشغول ہو گیا۔

’’ یہ جو آپ کا پڑوسی ہے  نا گوہر بڑا شریف آدمی ہے ، میرے  پاس اس کا کھاتا ہے ، کیا مجال کہ کبھی پہلی سے  دوسری ہو جائے۔‘‘

ابھی وہ باتیں  ہی کر رہا تھا کہ بس آ گئی اور میں  انسٹی ٹیوٹ چلا آیا، انسٹی ٹیوٹ کے  کمپاؤنڈ میں  داخل ہوتے  ہوئے  میں نے  سوچا۔ آج مجھے  اس کے  گھر گانا نہیں  سننا چاہیے  تھا، ٹیوٹر ہونے  کے  ناطے  میری سماجی حیثیت بلند ہے ، میں نے  خواہ مخواہ اسے  لفٹ دی، اب وہ یقیناً سر چڑھ جائے  گا۔

ایک دن وہ صبح ہی صبح میرے  کمرے  میں  داخل ہوا، میں  نے  اسے  دیکھ کر خفگی اور بے  مہری سے  کہا۔

’’ کس لیے  آئے  ہو ؟‘‘

’’ گرامو فون کمپنی والوں  نے  مجھے  انٹرویو کے  لیے  بلایا ہے ، وہاں  ایک موسیقار کی جگہ خالی ہے ، مجھے  آپ کا سوٹ چاہیے ، آپ تو جانتے  ہی ہیں  کہ آج کے  دور میں  خوبصورت ڈریسنگ سے  بہت کچھ کام نکل جاتے  ہیں۔‘‘

تو تم سمجھتے  ہو میرے  ہاں  اچھے  کپڑوں  کا انبار ہے  جو میں  ایرے  غیروں  نتھو  خیرے  میں  تقسیم کرتا پھروں۔‘‘

’’ یہ تو میں  بھی جانتا ہوں  کہ آپ کے  ہاں  صرف ایک ہی سوٹ ہے  جسے  آپ بار بار پہنا کرتے  ہیں ، آج مجھے  وہ سوٹ چاہیے ، شام کو لوٹا دوں  گا۔‘‘

’’ تمھیں  دوسروں  سے  کپڑے  مانگتے  ہوئے  شرم نہیں  آتی، تمھیں  ہرگز اپنی کوئی چیز نہیں  دوں  گا، تمھارا انٹرویو جائے  بھاڑ میں۔‘‘

میں  نے  غصے  سے  گرجتے  ہوئے  کہا تاکہ وہ شرم سے  پانی پانی ہو کر لوٹ جائے  لیکن وہ ڈھیٹ بنا کھڑا رہا، اس کے  لبوں  پر عجیب سی مسکراہٹ پھیل گئی، اس کی مسکراہٹ میں  بے  شرمی سے  کہیں  زیادہ ڈھیٹ پن تھا۔

’’ گوہر نے  زندگی میں  بہت کم کسی سے  مانگا  ہے اور جب مانگتا ہے  تو اسے  لے  کر ہی رہتا ہے۔‘‘

یہ کہہ کر وہ چلا تو گیا لیکن مجھے  عجیب کیفیت میں  چھوڑ گیا، میری سمجھ میں  نہیں  آ رہا تھا کہ یہ آدمی ہے  یا پاجامہ۔۔۔ اس دو ٹکے  کے  آدمی کو کیا حق پہنچتا ہے  کہ وہ میری توہین کرے۔

رات دس بجے  جب میں لوٹا تو کمرے  میں  لٹکا ہوا ملگجے  رنگ کا بد صورت تالا سامنے  والی گلی کے  بلب کی روشنی میں  صاف دکھائی دے  رہا تھا، میں  سیڑھیاں  چڑھتا ہوا اپنے  کمرے  میں  داخل ہوا،مجھے  یہ جان کر سخت حیرت ہوئی۔۔۔ کمرے  سے  میرا سوٹ غائب تھا، میں  کوفت اور غصے  سے  کانپ گیا، پھر میں  سوچنے  لگا آخر یہ ذلیل آدمی اندر کیسے  داخل ہوا ہو گا، تالا تو جوں  کا توں  زنجیر سے  لٹکا ہوا تھا، کہیں  اس کے  ہاں  چابی تو نہیں  ہو گی۔ میں نے  دل ہی دل میں  تہیہ کر لیا کہ کل پولیس میں  اس کی خبر کر دوں  گا، میں  ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ وہ بڑے  فاتحانہ انداز میں  آہستہ سے  داخل ہوا، اس کے  ساتھ ناٹے  قد کا ایک اور شخص بھی تھا جس کا چہرہ چیچک کے  داغوں  سے  بھرا تھا،وہ بہ یک نظر مجھے  ایک خطرناک غنڈہ معلوم ہوا۔

جمن جس بابو کا صبح میں  نے  ذکر کیا تھا نا یہ وہی ہیں ، یہ سوٹ بھی ان ہی کا ہے  لیکن سالی نوکری اچھا سوٹ پہننے  پر بھی نہ مل سکی۔

اس نے  آخری جملہ بڑے  گمبھیر لہجے  میں  کہا۔

’’ بابو صاحب خفا نہ ہوئیے ، غصہ ختم کیجیے ، یہ سالا فالتو ہے ، ہر وقت کوئی لفڑا لگائے  رکھتا ہے ، آپ کو ناراض کر کے  اسے  یہ سوٹ نہیں پہننا چاہیے  تھا۔‘‘

پھر اس نے  میرا سوٹ بڑی احتیاط سے  ہینگر پر لٹکا دیا۔

’’غصہ تھوک دیجیے ،بابو صاحب غصہ تھوک دیجیے۔‘‘

بس جمن تو اب چپ بھی رہ، صبح یہی ہو گا نا کہ یہ بابو صاحب مجھے  پولیس میں  کھنچوائیں  گے  لیکن اس سالی دلی کی پولیس سے  ڈرتا کون ہے  جو سالا بمبئی میں  کئی بار ’’ تڑی پار ‘‘ ہو چکا ہو اس کے  لیے  یہ کوئی خوف کی بات ہے  ؟ پھر پولیس کے  پاس اس کا کیا ثبوت ہے  کہ میں  نے  تالا توڑ کر سوٹ چرایا تھا۔

میں  بت کی طرح چپ چاپ کھڑا اس کی باتیں  سنتا رہا، میری خاموشی سے  اسے  الجھن ہو رہی تھی، اس لیے  مجھ پر ناجائز خوف طاری کرنے  کی خاطر وہ اپنے  حدود سے  متجاوز ہو کر جو جی میں  آئے  بکا جا رہا تھا اور اس کا ٹھگنا سا ساتھی اسے  سمجھاتے  ہوئے  چپ کرانے  کی کوشش کر رہا تھا۔

’’ دیکھو نا جمن نے  جائز طور پر کمانے  کی کتنی بار کوشش کی لیکن سالی یہ دنیا کچھ اتنی بے  رحم ہے  کہ مجھ جیسے  سخت جان کو بھی لوہے  کے  چنے  چبوانے  سے  باز نہیں  آئی، میں  نے  تنگ آ کر لڑکیوں  کی سپلائی شروع کی لیکن قسم ہے  پاک پروردگار کی، مجھے  یکایک ایسا محسوس ہوا جیسے  میں  اپنی بہنوں  کو سرِ بازار ننگا نچوا رہا ہوں ، میں نے  اب اس دھندے  کو لات ماردی ہے۔

آج اس کا سویا ہوا ضمیر اچانک جاگ اٹھا تھا، شاید اس لیے  اس کی زبان میں  شعلے  کی سی لپک آ گئی تھی، پتہ نہیں  اس کی باتوں کا مجھ پر کیوں  اثر نہیں  ہوا، اس کی کھردری، سپاٹ بے  کیف سی زندگی میں  آج دبے  پاؤں  جو انقلاب آیا تھا اس کے  چاپوں  کے  مدھم آواز کو اس کے  علاوہ کسی نے  نہیں  سنا تھا۔

’’ ابے  چڑی مار چپ بھی رہ،بڑا آیا شریف زادہ کہیں کا، کل کی کل میں  دیکھی جائے  گی، پہلے  بابو سے  معافی مانگ لے۔‘‘

مگر گوہر نے  اس کا کوئی جواب نہیں  دیا، وہ نشے  میں  دھت معلوم ہو رہا تھا۔

’’ میری بات تو نہیں  مانے  گا۔ ‘‘ اس نے  تتلاتے  ہوئے  کئی بار اس جملے  کو دہرایا پھر یہ کہہ کر لڑکھڑاتے  ہوئے  قدموں  سے  باہر نکل گیا۔

’’ اب جمن کی دوستی کا دروازہ تجھ پر بند۔‘‘

جمن نے  اس پر دوستی کا دروازہ بند کیا ہو یا نہ ہو لیکن میں  نے  اس کے  لیے  اپنے  دل کا دروازہ ضرور بند کر دیا تھا، ہاں  یہ ضرور تھا کہ میں  نے  اس کے  خلاف پولیس میں  رپورٹ نہیں لکھوائی تھی۔

دوسرے  دن صبح گھر کے  نیچے  ایک ہنگامہ بپا تھا، قسم قسم کی طرح دار گالیوں  کا تبادلہ کچھ اس زور و شور سے  ہو رہا تھا کہ میں یکایک بستر سے  اچھل پڑ ا، میں نے  دیکھا رات والا ٹھگنا شخص جمن اس کا گریبان پکڑے  ہوئے  تھا۔

’’ جھوٹ موٹ کا لالچ دے  کر مجھ سے  روپے  ہتھیا لیے ، نہ لڑکی دلوائی اور نہ گانا ہی سنوایا اور اب کہتا ہے  یہ دھندا میں  نے  چھوڑ دیا ہے۔‘‘

بہت سے  لوگ کھڑے  کھڑے  اس لڑائی کا تماشا دیکھ رہے  تھے ، ایک گورے  چٹے  نوجوان نے  جس کی آنکھوں  پر موٹے  شیشوں  کا چشمہ چڑھا تھا اپنے  ساتھ سے  کہا:

’’ چلو پیارے  یہ تو بڑے  لفنگے  معلوم ہوتے  ہیں۔‘‘

’’ ہاں  ہاں  چلو، کناٹ پییلس پر میرا انتظار کر رہی ہو گی،کتنی سویٹ لڑکی ہے  وہ بڑی مشکل سے  پھنسی ہے۔۔۔‘‘

میں  نے  کھڑے  کھڑے  سوچا اس گورے  چٹے  چشمے  والے  نوجوان اور اس لفنگے  گوہر میں  کیا فرق ہے  ؟ کچھ بھی تو نہیں ، میں  نے  ٹھگنے  جمن سے  جو اس سے  الجھ رہا تھا کہا:

’’ یوں  لڑنے  مرنے  سے  کیا فائدہ، اپنے  روپے  پھر کبھی لے  جانا۔‘‘

’’ اس کا روزگار تو بند ہو چکا ہے ، اب یہ سالا مجھے  کیا دے  گا۔‘‘

’’روزگار کسی کا بند نہیں  ہوتا جمن۔۔۔ ‘‘ میں  نے  سمجھانے  منانے  کے  انداز میں  کہا، میری زبان سے  اپنا نام سن کر اس کے  چہرے  پر خوشی کی ایک گہری چھاپ نمودار ہوئی اور وہ میری بات مان کر چپ چاپ واپس چلا گیا۔

جب سے  اس نے  یہ دھندا چھوڑ دیا تھا اس کی ذات میں  عجیب سی تبدیلی آ گئی تھی، پہلے  وہ مجھے  دق کیا کرتا تھا اب وہ دروازے  کی چوکھٹ پر پہروں  کچھ سوچتا رہتا ہے ، میں  روز صبح جاتے  وقت جس طرح اسے  بیٹھا دیکھتا ہوں  رات میں  میرے  لوٹنے  تک وہ اسی طرح بیٹھا دکھائی دیتا، اس کا چہرہ عجیب سا ہو کر رہ گیا تھا، اسے  دیکھنے  کے  بعد احساس ہوتا تھا جیسے  یہ آدمی نہیں  آدمی کا مذاق ہے۔ میں روز گھر آتے  ہی اپنے  کمرے  کی ایک ایک چیز کا جائزہ لیتا تھا کہیں  اس نے  چوری نہ کی ہو۔

ایک بے  روزگار شخص سے  اور وہ بھی ایک لفنگے  سے  اس طرح کا خدشہ بے  جا نہ تھا۔ ایک دن صبح جب میں  اسے  بے  حد اداس چہرہ بنائے  دروازے  کی چوکھٹ پر بیٹھا دیکھا تو مجھ سے  رہا نہ گیا۔

’’ کہیں نوکری ڈھونڈ کیوں  نہیں  لیتے ، اس طرح ہاتھ پر ہاتھ دھرے  بیٹھے  رہنے  سے  ملازمت تھوڑی ہی ملتی ہے۔ ‘‘ میں  بولا۔

اس نے  ایک لمبی سانس لی اور اپنے  کمرے  میں  جا کر دروازے  کا پٹ بھیڑ لیا پھر چند دن بعد یکایک وہ گھر سے  غائب ہو گیا۔ اس طرح دو ماہ بیت گئے ، ایک بار مکان کے  مالک نے  بھی اس کے  بارے  میں  مجھ سے  پوچھا اور جاتے  جاتے  ایک ٹھکی ٹھکائی ہوئی توانا سی گالی فضا میں  اچھال دی۔

پھر ایک رات میں  تھرڈ شو دیکھ کر لوٹ رہا تھا، میں نے  دیکھا اس کے  کمرے  میں  بدستور بلب جل رہا تھا اور دروازے  کے  دونوں  پٹ قدرے  کھلے  ہوئے  تھے ، میں  نے  اوپر جاتے  جاتے  کمرے  کی طرف دیکھا۔

گوہر کے  قریب ایک خوبصورت عورت بیٹھی اس سے  میٹھی میٹھی باتیں  کر رہی تھی اور وہ اس سے  محبت سے  لپٹا ہوا تھا۔

میں  دبے  پاؤں  اپنے  کمرے  میں  چلا گیا، میرا ذہن منتشر تھا، مجھے  کوفت تھی کہ جس دلدل سے  گوہر نے  اپنے  آپ کو نکالا تھا پھر وہ اسی دلدل میں  دھڑام سے  جا گرا تھا۔

صبح آٹھ بجے  کسی نے  دروازہ کھٹکھٹایا۔یہ گوہر تھا، اس کے  ساتھ رات والی حسین عورت تھی۔

ابھی میں  کچھ کہنے  ہی والا تھا کہ گوہر نے  خوشی سے  لبریز ہو کر کہا۔

’’ یہ میری بیوی ہے  بابو صاحب، مجھے  نوکری مل چکی ہے۔‘‘

٭٭٭