کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

موت کا پیغام

اشتیاق احمد


عمارت میں سات آدمی موجود تھے ان ساتوں کے چہروں پر موت کا خوف طاری تھا یوں لگتا تھا جیسے موت کے خوف نے ان کا سارا خون نچوڑ لیا ہو رنگ بالکل سفید نظر آہے تھے۔ آنکھوں میں ویرانیاں ہی ویرانیاں تھیں۔ بولتے بھی تو یوں لگتا جیسے دور کسی اندھے کنویں سے ان کی آواز آ رہی ہو۔

عمارت میں کوئی چیز گر پڑتی تو انہیں یوں لگتا جیسے کوئی خنجر ان کی طرف کھینچ مارا گیا ہو وہ بھڑک اٹھتے ان کی چیخیں نکل جاتیں عمارت کا نام تھا خان ولا۔ عمارت کے مالک کا نام خان بدیع خان تھا وہ ان سات میں سے ایک تھا عمارت میں کوئی بچہ یا عورت نہیں تھی یہ عمارت انہوں نے آپس میں جمع ہو کر کھانے پینے دوستی کی یادیں تازہ کرنے کے لیے چن رکھی تھی۔وہ ہر سال دسمبر کی چھے تاریخ کو یہاں جمع ہوتے تھے پورا ایک ہفتہ یہاں گزارتے تھے خوب کھاتے تھے پیتے تھے گپیں ہانکتے تھے کھیلتے تھے کودتے تھے۔

یہ عمارت صرف ایک عمارت نہیں تھی پوری ایک تفریح گاہ تھی اس کے ارد گرد لمبی چوڑی سبزہ گاہ تھی اس سبزہ گاہ میں دنیا بھر سے لا کر پودے لگائے گئے تھے سیکڑوں قسم کے پھول اپنی بہار دکھاتے تھے۔ موسم کوئی بھی و پھول ضرور کھلا کرتے تھے۔ دسمبر میں بھی یہاں موسم بہار نظر آتا تھا۔

ہر سال ساتوں دوست چھے دسمبر کی شام تک یہاں پہنچ جاتے تھے وہ بہت گرم جوشی سے ایک دوسرے سے ملتے اپنے گھر بار کی خیریت بال بچوں کی خبریں ایک دوسرے کو سناتے اور سات دن اس طرح گزر جاتے کہ ان کا پتا بھی نہ چلتا کب گزر گئے سات دن بعد جب وہ رخصت ہوتے تو اگلے سال کی چھے تاریخ کو ملنے کا وعدہ کر کے

لیکن اس بار ان کے چہروں پر کوئی خوشی نہیں تھی آج ابھی چھے تاریخ تھی کل سے ان کے پروگرام شروع ہونے والے تھے لیکن ان حالات میں کیا خاک پروگرام ہوتے اس وقت بھی وہ عمارت کے ہال میں بچھی گول میز کے گرد بیٹھے چائے پی رہے تھے عمارت کے تین ملازم غلاموں کی طرح ساکت کھڑے تھے۔ وہ اس انتظار میں تھے کہ کب چائے ختم ہو اور وہ برتن اٹھا کر ہال سے باہر نکل جائیں۔

تھوڑی دیر پہلے جب خان بدیع خان نے آ کر عمارت کا تالا اپنے ملازموں کے ذریعے کھلوایا تھا تو سامنے ہی دیوار پر انہیں ایک پوسٹر لگا نظر آیا تھا پوسٹر ہاتھ سے لکھا گیا تھا اور وہ بھی سرخ روشنائی سے وہ اس پوسٹر کی تحریر پڑھ کر چونک اٹھے۔ ان کے قدم رک گئے وہ اندر کی طرف بڑھ نہ سکے ملازمین کو بھی وہ اپنی شہری رہائش گاہ سے ساتھ لائے تھے تالا اپنی آنکھوں کے سامنے کھلوایا تھا اس لیے اس پوسٹر کے بارے میں ملازمین سے تو پوچھ بھی نہیں سکتے تھے۔

ان کے پیچھے ملازم بھی رک گئے وہ بھی ان پڑھ تو نہیں تھے کہ پوسٹر کے الفاظ نہ پڑھ سکیں اس پر بھدے الفاظ میں یہ تحریر نظر آ رہی تھی

اس بار یہاں خون کی ہولی کھیلی جائے گی تم سات میں سے چھے کو قتل کر دیا جائے گا۔ خوب جان لو سات میں سے چھے کو۔

نیچے کسی کا نام نہیں تھا۔ سرخ الفاظ سے خون ٹپکتا محسوس ہو رہا تھا ان کے جسم میں سنسنی کی لہر دوڑ گئی۔

انہوں نے فوراً گھوم کر اپنے ملازمین کی طرف دیکھا۔

یہ۔۔ یہ کیا بدتمیزی ہے ؟

کک۔۔ کون سی بدتمیزی سر ؟ ایک نے کانپ کر کہا۔

یہ پوسٹر

 ہم تو آپ کے ساتھ آئے ہیں سر عمارت کی چابی سارا سال آپ کے سیف میں رہتی ہے سر ہمیں کیا معلوم یہ کس کی شرارت ہے۔۔ دوسرا بولا۔

شرارت۔۔ تم اس کو شرارت کہہ رہے ہو۔۔ وہ گرجے۔۔

اور کیا کہیں سر۔۔ یہ شرارت نہیں تو کیا ہے۔۔ آخر کسی کو کیا پڑی ہے کہ آپ میں سے چھے کو قتل کر دے۔۔

اسے پڑی ہے۔۔ تبھی لکھا ہے نا۔۔ ارے بھئی۔ وہ ساتویں کو بطور قاتل پھنسوانا چاہتا ہے۔۔ جب کہ وہ ہے کوئی اور۔

اوہ تینوں ملازموں نے ایک ساتھ کہا اب ان پر بھی سکتہ طاری تھا۔ خیر باقی دوست آ لیں۔۔ پھر مشورہ ہو گا۔۔

ایک ایک کر کے تمام دوست آ گئے ان سب نے یہ تحریر پڑھ لی نہ جانے کیوں کوئی بھی اس تحریر کو مذاق سمجھنے کے لیے تیار نہیں تھا۔۔ نہیں خان بدیع یہ مذاق نہیں ہو سکتا ان کے ایک دوست ڈابر شاہ نے کہا

بالکل آ ج سے پہلے یہاں ہم سے کبھی کسی نے کوئی مذاق کیا ہے دوسرے دوست شاکان جاہ نے کہا۔۔

مذاق ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا سوال تو یہ ہے کہ پوسٹر لگانے والا اندر کس طرح داخل ہوا؟آج یہاں آنے سے پہلے جب آپ نے تجوری میں سے چابی نکالی تو یہ اپنی جگہ پر تھی ؟ تیسرے دوست شوبی تارا نے کہا۔۔ بالکل اپنی جگہ پر تھی۔۔ اور تجوری کی چابی صرف اور صرف آپ کے پاس رہتی ہے ؟ چوتھے دوست طاؤس جان نے کہا۔۔ بالکل ویسے تو کسی ضرورت کے تحت گھر کے افراد کو بھی دے دی جاتی ہے اس چابی کی ویسے خاص حفاظت کی ضرورت بھی نہیں ہے اس عمارت میں کوئی ایسی قیمتی چیزیں تو ہوتی نہیں ہیں۔۔

ہو سکتا ہے۔۔ کسی نے عمارت پر قبضہ کرنے کے لیے یہ پوسٹر لگا دیا ہو۔ تاکہ ہم خوف زدہ ہو کر یہاں سے چلے جائیں پانچواں دوست جالوت شاہی بولا۔۔

اگر کوئی یہاں خفیہ طور پر سارا سال رہنے کے چکر میں ہے تب تو اسے اس قسم کی کوئی حرکت نہیں کرنی چاہیے۔۔ کیونکہ ہم تو صرف سات دن کے لیے یہاں آتے ہیں باقی سارا سال تو مالی یہاں رہتا ہے مالی سے وہ ساز باز کر سکتا تھا۔ اور سات دن کے لیے ادھر ادھر ہو سکتا تھا۔ نہیں بھئی ایسی کوئی بات نہیں ہو سکتی آپ مالی کو بلا کر معلوم تو کر لیں ویسے وہ خود کہاں رہتا ہے ؟ ان کے آخری دوست راج دیو نے کہا۔۔

پچھلی طرف اس کا کوارٹر ہے۔۔ یہ کہہ کر انہوں نے ایک ملازم سے کہا۔

تم جا کر مالی کو یہاں بلا لاؤ۔۔ وہ ضرور سویا پڑا ہے۔۔ ورنہ اس وقت یہاں ہوتا۔۔ ملازم گیا اور مالی کو لے آیا۔۔

ایک آدھ گھنٹا پہلے اس طرف کوئی آیا تو نہیں۔۔

تم نے اندر کسی کو داخل ہوتے دیکھا تو نہیں ؟ وہ بولے۔۔

بھلا کوئی اندر کس طرح داخل ہو سکتا تھا جناب۔۔ وہ بولا باہر سے تو تالا لگا ہوا تھا سارا سال میں خود اندر نہیں جا سکتا تو کوئی اور کس طرح جا سکتا ہے۔۔

ہوں۔۔ یہ دیکھو۔۔ کوئی اندر داخل ہوا تھا۔۔ وہ یہ پوسٹر لگا کر چلا گیا۔۔

مالی کی نظریں پوسٹر پر جم گئیں اور پھر ان میں خوف دوڑ گیا۔۔ وہ بری طرح کانپنے لگا۔۔

نن۔۔ نہیں۔نہیں صاحب مجھے کچھ معلوم نہیں۔۔

دیکھتے ہیں۔۔ یہ کیا چکر ہے ؟

اور اس وقت وہ میز کے گرد موجود تھے۔ آخر ہم اس کو کسی کا مذاق سمجھنے کے لیے تیار کیوں نہیں ہیں۔۔ ڈابر شاہ نے منہ بنایا۔ آپ خود بتائیں ڈابر شاہ۔ کیا آپ اس کو مذاق سمجھنے کے لیے تیار ہیں ؟ خان بدیع نے کہا۔

نن۔ نہیں۔ یہی  تو عجیب بات ہے میں خود بھی اس کو مذاق نہیں سمجھتا۔۔ یہ ہماری موت کا پیغام ہے۔

لیکن ہم میں سے چھے کی ساتواں تو محفوظ رہے گا۔گویا کوئی نامعلوم آدمی ہم میں سے چھے کو ہلاک کر کے چھے کے چھے قتل ساتویں کے سر لگانا چاہتا ہے۔۔

تاکہ کوئی اس کے بارے میں سوچ بھی نہ سکے۔ ہاں بالکل یہی بات ہے۔ شاکان جاہ نے کہا۔ آخر وہ کون ہے۔ کیوں ہمیں ہلاک کرنا چاہتا ہے ؟

ہم بھلا کیا بتا سکتے ہیں۔ شوبی تارا نے کہا۔

تو پھر اس کی بہترین ترکیب یہ ہے کہ ہم اس سال یہاں پروگرام کینسل کر دیتے ہیں۔ اپنے اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں۔ طاؤس جان نے تجویز پیش کی۔

اس سے کیا فائدہ ہو گا۔

قاتل اپنا کام نہیں کر سکے گا۔

کیوں۔ اگر اسے یہ کام ضرور ہی کرنا ہے تو وہ ہمارے گھروں میں ہم پر وار کرے گا اس سے بچنے کا یہ حل نہیں ہے۔ جالوت شاہی نے کہا۔۔

تب پھر۔ ہم کیا کریں ؟ راج دیو نے کہا۔

میرا خیال ہے۔ ہم سراغ رساں کو بلا لیتے ہیں۔ کسی پرائیویٹ سراغ رساں کو خان بدیع نے کہا۔

پرائیویٹ سراغ رساں عام طور پر بلیک میل کرتے ہیں۔ میں تو یہ مشورہ نہیں دوں گا جالوت نے کہا۔

تب پھر۔ کسے بلائیں ؟

 انسپکٹر جمشید کو۔ طاؤس نے فوراً کہا۔

انسپکٹر جمشید۔ ان کے منہ سے ایک ساتھ نکلا پھر خان بدیع نے کہا۔

وہ بھلا یہاں کیوں آنے لگے۔ ایک سرکاری آفیسر ہیں۔تو ہم ان کے آفیسر سے بات کر لیتے ہیں اور ان سے درخواست کر لیتے ہیں آخر یہ چھے انسانوں کی زندگی اور موت کا معاملہ ہے شوبی تارا نے کہا۔

ٹھیک ہے تو پھر کریں رابطہ۔ میری تو کسی ایسے آفیسر سے واقفیت نہیں جو انسپکٹر جمشید پر زور ڈال سکتا ہو۔

وہ لوگ تو زور ڈالے بغیر بھی آ جائیں گے۔ وہ اور قسم کے لوگ ہیں طاؤس جان نے کہا

تو پھر تم ہی ان سے رابطہ کیوں نہیں کرتے۔ میں نے ان کے بارے میں بہت کچھ سن رکھا ہے انہیں آج تک دیکھا نہیں۔ طاؤس جان نے کہا۔ چلو آج دیکھ لیں گے کرو فون۔ طاؤس جان نے انکوائری سے ان کے نمبر معلوم کیے پھر گھر فون کیا۔ دفتر فون کیا۔ اور رسیور رکھ دیا۔ لو کر لو بات۔ وہ تو کسی مہم کے سلسلے میں شہر سے باہر گئے ہوئے ہیں۔

یہ ایک اور رہی اب کیا کیا جائے ؟

شہر چلتے ہیں کسی ہوٹل میں یہ سات دن گزار لیتے ہیں۔ خان بدیع نے کہا۔ ہوٹل میں کیا خاک مزا آئے گا۔

تمہیں مزے کی پڑی ہے۔ یہاں جان کے لالے پڑے ہیں۔ انہوں نے کہا۔ تب پھر۔ میں پولیس کمشنر صاحب سے بات کرتا ہوں۔ وہ کسی اور کو بھیج دیں گے۔ جالوت شاہی نے کہا۔

پولیس کمشنر سے تمہارے تعلقات ہیں ؟

وہ تو میرا لنگوٹیا ہے۔

تو کرو بھائی فون کچھ تو ہونا چاہیے۔

جالوت شاہی نے فون پر رابطے کی کوشش شروع کر دی اور آخر پندرہ منٹ بعد سلسلہ مل کسا

 ہیلو کمشنر صاحب جالوت بات کر رہا ہوں ہاں ہاں بالکل وہ دراصل بات یہ ہے کہ میں اس وقت خان بدیع کی عمارت میں موجود ہوں جس میں ہم ہر سال جمع ہوتے ہیں آپ کو تو یہ بات معلوم ہو گی میں نے آپ کو بتائی تھی نا۔ ٹھیک اس بار ہم یہاں پہنچے تو ہمارا استقبال ایک پوسٹر نے کیا۔۔ جی۔ جی ہاں۔ پوسٹر نے اب اس کے الفاظ بھی سن لیں۔

انہوں نے الفاظ دہرا دیے۔ پھر بات مکمل کی۔ اور آخر کمشنر کی بات سن کر رسیور رکھ دیا۔ پھر ان کی طرف مڑ ے۔

وہ ایک بہت ماہر سراغ رساں کو بھیج رہے ہیں۔

اسی وقت دوڑتے ہوئے قدموں کی آواز سنائی دی۔ وہ اس طرح اچھلے جیسے موت دوڑ کر ان کی طرف آ رہی ہو۔