کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

کنوارا

عوض سعید


ایک رات اس نے  دیکھا۔ کمرے  میں  ماں  اور باپ چپ چاپ بیٹھے  تھے۔

’’ پھر کیا سوچا تم نے ‘‘ یہ باپ کی آواز تھی۔

’’ یہ تم کیوں  نہیں  سمجھتیں  کہ اپنا جمیل بد شکل ہے  اور چاہتا ہے  کہ کوئی خوبصورت لڑکی اس کا ہاتھ تھام لے۔‘‘

’’ بھلا ایسا کہیں  ہوا ہے۔‘‘

’’ آپ ٹھیک کہتے  ہیں۔‘‘

’’ خوبصورتی کی تلاش میں  بڑی سبکی اٹھائی ہم نے ، انسان کا چہرہ ہی سب کچھ نہیں۔

’’ مگر وہ ان باتوں  کو سمجھتا ہی نہیں۔‘‘

وہ یہ سب کچھ سن کر باہر چلا گیا، وہ بڑے  بازار کی لمبی سڑک پر یوں  ہی بے  خبر چلتا رہا،اچانک اسے  احساس ہوا کسی نے  اسے  آواز دی ہے ، وہ رک گیا۔

اس کے  سامنے  ایک نوجوان لڑکی کھڑی تھی، کالی کلوٹی لیکن چہرے  پر ملائمت کچھ ایسی تھی کہ وہ ایک لمحے  کے  لیے  اسے  ٹکر ٹکر دیکھنے  لگا۔

’’ سر ! میں  نے  ایک ایپلی کیشن دی تھی ٹائپسٹ کی پوسٹ کے  لیے ، آپ کی طرف سے  ابھی تک کوئی جواب نہیں  ملا،میں  نے  ٹائپ کا ہائر ایگزام( Exam) پاس کیا ہے ، گریجویٹ بھی ہوں۔‘‘

’’ یہ سب باتیں  تو ایپلی کیشن میں  درج ہوں  گی، میں  دیکھ لوں  گا۔‘‘

’’ انٹرویو کب ہو گا سر ؟‘‘

’’ آنے  والے  شنیوار کو، تمھارے  نام کال آ جائے  گا۔‘‘

’’ کیا میں  کچھ امید رکھ سکتی ہوں  سر۔ ‘‘ اس نے  ڈرتے  ڈرتے  کہا۔

’’ امید ہی پر دنیا قائم ہے۔‘‘

’’ اور جب کوشش کے  باوجود بھی کچھ نہ ملے۔۔۔‘‘

’’ تو اسے  ڈوب مرنا چاہیے۔ ‘‘ جمیل کی زبان سے  بے  ساختہ یہ جملہ نکل گیا۔

وہ پھٹی پھٹی آنکھوں  سے  جمیل کو دیکھنے  لگی، اس کی آنکھیں  ایک انجانے  خوف سے  ڈبڈبا گئیں۔

ابھی سے  اداس ہونے  کی ضرورت نہیں ، شنیوار تو ابھی بہت دور ہے۔ ‘‘ جمیل نے  اس طرح کہا جیسے  وہ اسے  دلا سا دینا چاہتا ہو۔

جب انٹرویو کا دن آیا تو لڑکیوں  کے  ہجوم میں  وہ بھی کھڑی تھی، اس نے  ساری لڑکیوں  پر ایک نگاہ ڈالی، اسے  چہرے  مہرے  کے  لحاظ سے  یہی سب سے  اچھی لڑکی لگی،کہنے  کو تو گورے  چٹے  رنگ کی کئی لڑکیاں  قیمتی لباس میں  ملبوس اپنی قسمت آزمانے  یہاں  آ دھمکی تھیں۔ اس نے  ایک لمحے  کے  لیے  سوچا۔ یہ انٹرویو ہے ، اسے  چہروں  سے  زیادہ صلاحیت کی جانچ پڑ تال کرنی ہو گی، اس کے  ساتھ بورڈ کے  اور ممبر بھی تو ہیں ، وہ اگر ان سے  اس لڑکی کے  بارے  میں  سفارش کر دے  تو وہ سلیکٹ ہو سکتی ہے ، مگر یہ سب کچھ کیوں  ؟ اس لڑکی سے  بھلا اس کا کیا رشتہ،وہ کون ہوتی ہے۔ وہ خیالات کے  ہجوم میں  کھو گیا اور آخری لمحے  تک وہ اسی تذبذب کا شکار رہا۔

انٹرویو کب ختم ہوا اسے  کچھ یاد نہ رہا، بورڈ کے  دوسرے  ممبران نے  امیدواروں  کے  ناموں  کے  آگے  جو نمبرات درج کیے  تھے  ان میں  سب زیادہ نمبر اسی لڑکی کے  تھے ، اس کا نام صبا تھا، یہ نام اسے  بڑا پیارا لگا۔

انٹرویو میں  آئی ہوئی بہت سی لڑکیاں  جا چکی تھیں  چند ایک ابھی تک اپنی قسمت کا فیصلہ سننے  کے  لیے  بیتاب کھڑی تھیں ، ان میں  ایک صبا بھی تھی۔

جمیل نے  چپراسی کے  ذریعے  جب اسے  اپنے  روم میں  بلوایا تو وہ بید کی طرح کانپ رہی تھی۔

’’ تم سلیکٹ ہو چکی ہو، چا ہو تو کل ہی جوائن کر سکتی ہو۔‘‘

وہ ایک دم سناٹے  میں  آ گئی، اسے  یقین نہیں آ رہا تھا، کہیں  وہ خواب تو نہیں  دیکھ رہی ہے ،خواب کی کوئی تعبیر نہیں۔

’’ کیا میں  سچ مچ سلیکٹ ہو چکی ہوں  سر۔ ‘‘ اس نے  کپکپاتے  ہونٹوں  سے  کہا۔

’’ ہاں  تم نے  سارے  امیدواروں  کو پیچھے  دھکیل دیا۔‘‘

’’ سر، میں  آپ کے  اس احسان کو شاید زندگی بھر بھلا نہ سکوں۔‘‘

’’ یہ میرا احسان نہیں  ہے ، میں  نے  تمھارے  لیے  کچھ نہیں  کیا۔‘‘

’’ یہ آپ کی شرافت ہے  سر، ورنہ مجھ جیسی لڑکی۔۔۔ ؟‘‘

’’ ہاں  ٹھیک ہے  کل ڈیوٹی جوائن کر لینا۔‘‘

اس نے  جاتے  جاتے  پھر ایک بار شکریہ ادا کیا، اس کی شکر گزار آنکھیں  جانے  کتنی دیر تک اس کا تعاقب کرتی رہیں۔

جب فون کی گھنٹی بجی تو وہ چونکا، یہ اس کا یار سلیم تھا۔

’’اتنے  برس کہاں رہے۔‘‘

بمبئی میں  اور کہاں۔ تفصیلی گفتگو گھر ہی پر ہو گی، میں  تمھاری بھابی کے  ساتھ ٹھیک ۷بجے  شام پہنچ رہا ہوں۔‘‘

’’ اچھا تو تم نے  شادی بھی کر لی۔‘‘

’’ ہاں  بے  وقوفی ضرور ہو گئی ہے ، اس لیے  اسے  اپنے  ساتھ بمبئی لے  جا رہا ہوں ، تمھارا وہی نکڑ والا گھر ہے  نا۔۔۔‘‘

’ ’ ہاں  ہاں  وہی۔۔۔ ضرور آنا خدا حافظ۔‘‘

وہ پھر ایک بار سوچ کی گہرائیوں  میں  ڈوب گیا، سلیم ا س کا ہم عمر تھا اور صورت شکل کا بھی یوں  ہی سا۔

صورت شکل۔۔۔ آخر یہ سب کچھ کیا ہے ، آدمی کی شخصیت ہی حسن کو جنم دیتی ہے  خوبصورتی بذاتِ خود کوئی چیز نہیں۔

ایسا سوچتے  ہوئے  پتہ نہیں  کیوں  صبا کا سراپا اس کی آنکھوں  کے  گرد کیوں  گھومنے  لگا۔

’’ کیا میں  سچ مچ سلیکٹ ہو چکی ہوں  سر۔ ‘‘ کہتے  ہوئے  وہ کتنی خوبصورت اور سبک لگ رہی تھی، وہ ابھی سے  آنے  والے  کل کا انتظار کرنے  لگا، جب وہ آفس کی زینت بنے  گی،وہ اسے  سلیقے  سے  اپنا لے  گا۔ اور پھر۔۔۔

آج ا س کا دل کام میں نہیں  لگ رہا تھا، وہ کسی خاص ضرورت کے  تحت ہی ماں  سے  کچھ کہہ لیا کرتا تھا، اپنے  ابا سے  کچھ کہنے  کی اسے  ہمت ہی نہ ہوتی تھی تاہم اس کے  ابا کو پتہ چل گیا تھا کہ آج گھر میں  کوئی مہمان آ رہا ہے۔

شام کے  ۷بج چکے  تھے ،جمیل بے  چینی سے  گھر میں  ٹہل رہا تھا، کوئی ساڑھے  سات بجے  آٹو کی گڑگڑاہٹ اسے  سنائے  دی، شاید سلیم آ چکا ہے  وہ دروازے  کے  قریب پہنچا لیکن آٹو اس کے  پڑوسی کے  گھر کے  قریب کھڑا تھا۔

وہ ڈرائنگ روم میں  آ کر ایک پرانے  رسالے  کی ورق گردانی کرنے  لگا۔

رات کے  دس بج گئے  مگر سلیم نہیں  آیا، اسے  کوفت ہونے  لگی، اس کا بوڑھا باپ خراٹے  لیتا ہوا کب کا سوچکا تھا، ماں  ملازمہ سے  ادھر ادھر کی باتیں  کر رہی تھی، اس نے  کام والی کو آواز دی، وہ دوڑی دوڑی اس کے  پاس آئی۔

’’ میرا کھانا یہاں لگا دو، اب شاید وہ لوگ نہیں  آئیں  گے۔‘‘

وہ کھانا کھا کر باہر نکل گیا، ۱۱بجے  جب وہ گھر لوٹا گھر کے  آنگن کی لائٹ جل رہی تھی، ماں  کے  کمرے  میں  اندھیرا ڈول رہا تھا، وہ سمجھ گیا کہ ماں  بھی سو چکی ہے۔ اس نے  بیل بجائی، ماں  نے  مندی مندی آنکھوں  سے  دروازہ کھولا اور وہ چپکے  سے  اپنے  روم میں  جا کر سو گیا۔

دوسرے  دن آفس پہنچ کر اس نے  فائلوں  کی ورق گردانی شروع کر دی، یکبارگی اس کی نگاہ صبا کی جوائننگ رپورٹ پر آ کر رک گئی، پھر تین چار دن یوں  ہی گزر گئے ، ایک دن ڈکٹیشن دیتے  ہوئے  اس نے  صبا کے  چہرے  کا اس طرح جائزہ لیا جیسے  وہ کوئی خاص بات اس سے  کہنا چاہتا ہو۔

اس نے  ایک لمحہ رک کر کہا : ’’ کبھی کبھی تنہائی مجھے  سانپ کی طرح ڈستی ہے،اگر تم چا ہو تو میری تنہائی بانٹ سکتی ہو، میری مراد شادی سے  ہے۔۔۔ ‘‘ یہ کہہ کر وہ پسینہ پسینہ ہو گیا۔ صبا کا چہرہ رد عمل سے  خالی تھا، اس نے  جمیل کے  چہرے  پر ایک نگاہ ڈالی اور رکتے  رکتے  کہا۔

’’ سر، میں  تو آپ کی احسان مند ہوں  لیکن میں۔۔۔ ‘‘ اس کی آواز جیسے  حلق میں  پھنس گئی۔ ’’ میرا رشتہ۔۔۔ میں  تو کسی اور کی۔۔۔ ‘‘ اس سے  آگے  وہ کچھ کہہ نہ سکی اور اٹھ کر باہر آ گئی۔

جمیل کے  چہرے  پر ہوائیاں  سی اڑنے  لگیں ، وہ خجالت میں  ڈوبا کرسی پر ہی ڈھیر سا ہو کر رہ گیا۔

شام جب وہ گھر پہنچا تو سلیم نے  آگے  بڑھ کر اس کا اس انداز میں  استقبال کیا جیسے  وہی صاحب خانہ ہو۔

’’ اُس دن کیوں  نہیں آئے۔ ‘‘ جمیل کے  لہجے  میں  شکایت تھی۔

’’ آج تو آ چکا ہوں  مری جان، مگر یہ خوبصورت چہرہ آج قبر کا کتبہ کیوں  بنا ہوا ہے  خیر تو ہے۔‘‘

کچھ نہیں ، بس یوں  سمجھ لو، چہرہ ہی کچھ ایسا ہے ، اس نے  بجھے  بجھے  انداز میں  کہا۔

’’ ماں  نے  مجھ سے  سب کچھ کہہ دیا ہے ، ا س نے  چائے  کی پیالی ہاتھ میں  تھامتے  ہوئے  کہا اور ٹرے  اس کے  آگے  بڑھا دی۔

’’ سنو، میری ایک کزن ہے ، مجھے  تمھاری ہاں  مل جائے  تو بات پکی سمجھو مگر ایک بار ضرور اسے  دیکھ لو۔

’’ حال کی چوکھٹ پر قدم رکھنے  سے  پہلے  مستقبل کی طرف دیکھ لینا بھی ایک سچائی ہے۔

مگر میں  مستقبل کی سیڑھی پر قدم رکھنے  سے  پہلے  حال کے  کڑوے  سچ کو بھلا دینا چاہتا ہوں ، میں  سمجھتا ہوں  تم میری بات کی تہہ تک پہنچ چکے  ہو گے ، اب مجھے  لڑکی دیکھنی نہیں  ہے۔ ‘‘ یہ کہہ کر وہ چپ چاپ اپنے  کمرے  میں  چلا گیا۔

٭٭٭