کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

پھانس

قاسم خورشید


میں گہری نیند میں تھا۔ اچانک جگ گیا۔ شاید کوئی آہٹ تھی یا پھر کسی کی آواز۔ سنا کچھ بھی نہیں تھا۔ بس قیاس کے اندھے کنویں میں بھٹک رہا تھا۔ ممکن ہے اندھیرے میں ڈوبی ہوئی آنکھوں پر کسی تیز روشنی کا حملہ ہوا ہو۔ روشنی ہی شب خون مارنا چاہتی ہو۔ مگر کچھ تو ہوا تھا۔ یوں ہی دن بھر کا تھکا ہوا کوئی شخص جاگ نہیں سکتا تھا۔ بلکہ دل کی دھڑکنیں بھی بہت تیز ہو گئی تھیں۔ انھیں سنبھال پانا بھی مشکل تھا۔ یہ بھی گمان ہوا کہ اچانک پھر کسی نے بے وقت دل پر دستک تو نہیں دی تھی۔ حالانکہ اُسے روز سونے سے پہلے یاد کرتا ہوں۔ پتہ نہیں کب سے یہ سلسلہ قائم ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ شاید کل کی ہی بات ہے۔

’اوہ! نو۔۔۔ وھاٹ آر یو  ڈوئنگ‘ ؟

’نتھنگ! اچھا بتاؤ کیا ہوا‘؟

’تم اپنے دل سے پوچھو۔۔۔‘

’دل سے ہی پوچھ رہا ہوں۔۔۔‘

’یو آر ناٹی‘

’سو تو ہوں۔۔۔‘

’اچھا اب چھوڑو بھی۔۔۔‘

’کیوں ‘

’دیر ہو رہی ہے۔ آئی ایم سُولیٹ‘

’کمال ہے محض دو سال کی ملاقات ہے ابھی، اور ان دو برسوں میں تم نے مجھے صرف ۲۸۱گھنٹے ۱۷منٹ اور ہاں باون سکینڈ دیئے ہیں ‘۔

’اوہ۔۔۔ نو۔۔۔ تم اتنے کلکولیٹو ہو؟ میں نے تو کبھی ایسا سوچا بھی نہیں۔ یعنی تم ہر لمحے کا حساب رکھتے ہو‘۔

’حساب نہیں، ان لمحوں میں اپنا احتساب کرتا ہوں کہ آخر میں ہوں کہاں ؟ تم نے میرے لیے کیا فیصلہ کیا ہے‘؟

’فیصلہ کیا۔۔۔؟ وہ سب کچھ تو ہو ہی چکا ہے جو رشتے کو یقین میں بدلنے کے لیے ضروری تھا۔۔۔‘۔

’تو پھر ہمیں کسی اور شئے کی تلاش کیوں رہتی ہے‘؟

’کس شئے کی‘؟

’کہہ نہیں سکتا۔۔۔‘

’ٹھیک ہے۔ سوچ لو آج ساری رات یہی کام کرنا۔ مجھے جانا ہے، پاپا اِز اَ لُون۔ وہ بہت جلد گھبرا جاتے ہیں۔ تم نہیں سمجھو گے‘۔

’او کے۔۔۔ جاؤ۔۔۔ مگر ہاں کل میں شہر سے باہر جا رہا ہوں ہفتے بھر کے لیے۔ ضروری میٹنگ ہے۔ فون پر شام میں ہی باتیں ہوں گی۔۔۔‘۔

’اوکے۔۔۔ ٹیک کیئر۔۔۔ وِش یو اے ہیپّی جرنی۔۔۔ بائی۔۔۔‘۔

وہ چلی گئی۔ میں بھی سفر کی تیاری کرنے لگا۔ امی جانتی تھیں کہ بیٹے کو ہفتے بھر کے لیے باہر جانا ہے شاید اسی لیے اپنی سطح پر انھوں نے ساری تیاریاں کر دی تھیں۔ مگر ہمیشہ کی طرح یہی کہا کہ اب مجھ سے یہ سب نہیں ہونے والا۔ اکیلی ہوں۔ تمھارے علاوہ کوئی سہارا نہیں ہے۔ گھر میں بہو آنی چاہیے۔ جو تجھے پسند ہو وہی آئے۔ میری طرف سے کوئی بندش نہیں ہے۔ میں مسکرا کر ٹال دیا کرتا۔ مگر سفر کے دوران اس مسئلے پر ضرور سوچتا۔ امی ٹھیک ہی کہتی ہیں۔ شادی تو کرنی ہی ہے تو پھر مزید دیر کیوں کی جائے؟

مسکان کو وہ اچھی طرح جانتی ہیں۔ انھیں پسند بھی ہے۔ وہ اسے بہو بنا کر گھر میں لانا بھی چاہیں گی۔ چلو اس سفر میں یہ طے کر ہی لیا جائے۔ مسکان سے پوچھ ہی لیتا ہوں کہ وہ شادی کے لیے تیار ہے یا نہیں۔

کافی لمبی دوری طے کرنے کے بعد شہر پہنچا۔ میٹنگ کی تیاریوں میں مصروف ہو گیا۔ پاور پرزنٹیشن تھا۔ اپنے لیپ ٹاپ پر سب سے پہلے مسکان سے ملاقات کی اس کی جیتی جاگتی ایک بھرپور تصویر سے۔ زیر لب مسکرایا۔ لیپ ٹاپ (laptop) پر فیدر ٹچ سے ہی مسکان غائب ہوئی پھر پاور پرزنٹیشن کے مواد پر نظر ثانی کرنے لگا۔ انگلیاں بھی عجیب تھیں۔ ابھی میں اپنی ساری توجہ دفتری امور پر مرکوز کرنا چاہتا تھا مگر مسکان بیچ اسکرین پر آ جاتی، اوہ نو۔۔۔ ! یہ کیا ہو رہا ہے؟ اگر پیشکش کے دوران بھی ایسا ہو گیا تو بہت ہُوٹنگ ہو جائے گی۔ ہیڈ آفس تک یہ بات پہنچ جائے گی۔ نو۔۔۔ ! ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ مسکان۔۔۔ ! پلیز ایسا مت کرنا۔ اِٹ اِز ناٹ فیئر۔۔۔ لگتا ہے وہ مان گئی۔ وہ ہلکے سے اشارے کے بعد ہی ا سکرین سے غائب ہو گئی۔

شام سات بجے تھکا ہارا اپنے گیسٹ ہاؤس پہنچا۔ موبائل آن کرتے ہی مسکان نے پکارا۔۔۔

’یہ تم موبائل کب سے آف کرنے لگے‘

’ارے نہیں یار۔۔۔ میٹنگ میں ڈِسٹرب ہو رہا تھا۔ بس ابھی لوٹا ہوں۔ تم سے بات کرنے کے لیے ہی اسے آن کیا تھا‘

’میٹنگ کیسی چل رہی ہے۔۔۔‘

’ ٹُو گڈ۔۔۔ ! صبح تم نے بہت ڈسٹرب کر دیا تھا‘

’میں۔۔۔ ! میں کہاں سے آ گئی۔۔۔‘

’تم گئی کہاں ہو۔۔۔‘

’او کے۔۔۔ ! کو نسنٹریشن رکھو۔۔۔ ورک فرسٹ‘

’اور تم پر۔۔۔‘

’میں نے کام پر توجہ دینے کے لیے کہا ہے، کسی بھی کام پر۔۔۔‘

’یو آر جینیس یار‘

’سو تو میں ہوں۔۔۔‘

’اب ہم سیریس ہو جائیں ‘

’کیوں، کیا ہوا؟۔۔۔وہاں کوئی اور ہے کیا۔۔۔؟‘

’یہیں پر دنیا کی ہر عورت ایک ہو جاتی ہے‘

’وھاٹ ڈَز اِٹ مٖین۔۔۔‘

’پہلے یہ بتاؤ کہ تم نے اپنے پاپا سے بات کی۔۔۔ اِز ہی ریڈی‘؟

’میں ان سے کیا بات کروں اور کیسے؟ ذرا سوچو، ممی کے گزر جانے کے بعد وہ ایک دم تنہا ہو گئے ہیں۔ بھائی ڈاکٹر ہو گیا۔ بیوی بھی ڈاکٹر مل گئی۔ دونوں انگلینڈ میں سیٹلڈ ہو گئے۔ بس ہر مہینے بینک اکاؤنٹ میں روپے آ جاتے ہیں۔ پاپا کبھی کبھی ان سے ملنے جاتے ہیں مگر لوٹ کر اور بھی اُداس ہو جاتے ہیں۔ میں اُن سے کیسے کہوں کہ اب میں بھی آپ کو چھوڑ کر جانا چاہتی ہوں۔ نو۔۔۔ یہ ہم سے نہیں ہو پائے گا۔۔۔‘۔

’لِسن۔۔۔ پلیز سنو۔۔۔ میری ماں بھی اکیلی ہے۔ اسے بھی کوئی دیکھنے والا نہیں۔ اس نے تمام عمر ہمارے لیے بہت اسٹرگل کیا۔ اب میں انھیں تکلیف دینا نہیں چاہتا۔ انھیں بھی تمھاری بہت ضرورت ہے۔ تم ان کی بیٹی بن کر رہو گی پلیز کچھ سوچو‘۔

’میں اپنے پاپا کو اچھی طرح جانتی ہوں۔ وہ کبھی انکار نہیں کریں گے۔ وہ صرف ہماری خوشی چاہتے ہیں۔ لیکن وہ تنہا ہو جائیں گے بلکہ مر جائیں گے‘۔

’کیا پاپا ہمارے ساتھ نہیں رہ سکتے۔۔۔‘؟

’وھاٹ نان سِنس یو آر ٹاکنگ؟ ہِی اِز ہائیلی سینسٹِو پرسن۔ بہت خوددار ہیں اور سوشل بھی‘۔

’مسکان۔۔۔ کوئی راستہ نکالو۔ میرے پرابلم کو بھی سمجھو۔۔۔‘

’میں اگر تمھیں  ایک ایڈوائس دوں تو تم مانو گے‘

’پہلے بتاؤ بھی کہ مشورہ کیا ہے‘؟

’سننے کے بعد ہی کہہ سکوں گا‘

’اگر ہمارا رشتہ مضبوط ہے تو پھر تم میرے مشورے پر عمل کرو گے‘۔

’اچھا۔۔۔ چلو۔۔۔ کہو۔۔۔ بولو بھی۔۔۔‘

’تم کہیں اور شادی کر لو۔ تمھاری امی کو ایک گھریلو بہو چاہیے، بس اس کا خیال رکھنا‘

’اوہ نو۔۔۔ تمھیں پتہ ہے تم کیا کہہ رہی ہو۔۔۔‘؟

’آئی ایم ویری کُول۔ میں بہت سوچ سمجھ کر ایسا کہہ رہی ہوں۔ ہم اپنا ٹائم ویسٹ نہ کریں۔ تمھاری ماں کا بھی تم پر حق ہے جس طرح میرے پاپا کا مجھ پر ہے پلیز تم مان جاؤ۔۔۔ پلیز‘

’مسکان۔۔۔ یہ میری زندگی کا سوال ہے‘

’اسی لیے تو تمھیں فیصلہ کرنے کا حق ہے‘

’لیکن ہم تو بہت دور نکل چکے ہیں۔ شادی تو محض فارملٹی ہو گی‘

’تم کیوں گِلٹ فیل کر رہے ہو۔ تم جسے گناہ سمجھتے ہو وہ میرے وجود کا حصہ ہے۔ تم ڈار سے بچھڑ چکے ہو۔ میں کوئی دعویٰ پیش نہیں کرتی تو تم کیوں پریشان ہو‘۔

’تو یہ تمھارا آخری فیصلہ ہے۔۔۔ پلیز ٹھیک سے سوچ لو۔۔۔‘

’ارے یار۔۔۔ ! میں فیصلے پر یقین رکھتی ہوں سوچنے پر نہیں۔ یہ ہم دونوں کے لیے اچھا ہو گا۔ تم خیال مت کرنا۔۔۔ پلیز۔۔۔‘

اس سفر میں کئی بار مسکان سے باتیں ہوئیں۔ بہت خوشگوار ماحول میں، کبھی کبھی ہم سوگوار بھی ہوئے۔ وہ اپنے فیصلے سے بہت مطمئن تھی۔ بہت کوششوں کے بعد بھی اس نے ارادہ نہیں بدلا۔ میں سوچنے لگا کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ رشتوں میں اتنی شدت اور ایمانداری کے باوجود ہم الگ ہونے کے لیے نہ صرف یہ کہ راضی ہو گئے بلکہ اس نے میری امی کی پسند کی لڑکی روبینہ سے میری شادی بھی کروا دی۔ بہت پیش پیش رہی۔ امی کی نظر میں تو وہ اور بلند ہو گئی۔ میری شادی بہت دھوم دھام سے ہوئی۔ مسکان کے پاپا نے بھی بہت دلچسپی کا مظاہرہ کیا بلکہ اسی دوران میری امی سے کہا کہ ’آپ مسکان کو بھی شادی کے لیے راضی کیجئے۔ یہ جہاں چاہے رشتہ کر سکتی ہے۔ میرے بارے میں سوچتی رہتی ہے۔ میں نے اسے کئی بار سمجھایا کہ میں بہت دولتمند ہوں، کیئر ٹیکر کی کمی نہیں ہو گی۔ مگر اسے کون سمجھائے‘۔ اسی دوران مسکان نے آ کر ساری امیدوں پر پانی پھیر دیا۔

’پاپا آپ پھر شروع ہو گئے۔ نئے کپَل کو مبارک باد دیجئے اور گھر چلئے۔ دوا بھی لینی ہے آپ کو۔۔۔ پلیز۔۔۔‘

اس روز وہ میرا گھر بسا کر چلی گئی۔ کبھی کبھی فون بھی کرتی۔ پہلے پوچھتی کہ روبینہ  کہاں ہے۔ میں کہتا رسوئی میں ہے یا امی کی خدمت کر رہی ہے یا سو رہی ہے۔

اب ہم دنیا داری پر اُتر آئے تھے۔۔۔

’تم نے کون سا ٹی وی خریدا ہے۔۔۔‘

’وہ کوئی بِگ اسکرین والا ہے۔ دیوار پر آویزاں کر دیا ہے۔ ریموٹ سے ہی تصویریں بدل بدل کر دیکھتا رہتا ہوں ‘

’کار بھی تم نے اچھی خریدی ہے۔ مَیرون کلر ہے نا۔۔۔ میں نے ایک دن تمھیں اور روبینہ کو اس پر سوار ہو کر کہیں جاتے ہوئے دیکھا تھا‘

’ہاں بہت آرام ہے۔ اے۔ سی۔ بھی بہت اچھا ہے۔ کُول۔۔۔ ایک دم کُول۔۔۔ ذرا بھی سفوکیشن نہیں ہوتا‘

’ویل۔۔۔ او کے۔۔۔ بائی۔۔۔‘

مسکان میرے لیپ ٹاپ (laptop) سے دھیرے دھیرے غائب ہونے لگی۔ اب وہ شاید میموری میں بھی نہیں تھی۔ کسی آئی کون (Icon) میں اس کا نام و نشان باقی نہیں تھا۔ میری بیوی بہت خوش تھی۔ میں بھی اس کا پورا خیال رکھنے لگا تھا۔

مگر بظاہر سب کچھ نارمل ہونے کے بعد جب کچھ سال بیت گئے تو میرے ساتھ یہ کیا ہونے لگا۔ بھولنے کی بیماری۔ کچھ بھی یاد نہیں رہتا۔ گھر سے دفتر تک صرف پریشانی۔ کبھی چابی بھول گیا تو کبھی لیپ ٹاپ۔ کبھی پرس تو کبھی۔۔۔ ! کسی سے کیا گیا وعدہ تو روز ہی بھول جاتا ہوں۔ دیوار پر آویزاں ٹیلی ویژن ہو، اے۔ سی۔ کار یا پھر آسائش کے دوسرے سامان، کہیں دلچسپی باقی نہیں رہ گئی تھی۔ بہت محنت اور عرق ریزی کے باوجود کوئی بھی کام معیاری نہیں ہوپا رہا تھا۔ نیشنل یا انٹرنیشنل میٹنگوں میں پہلے میں نمائندگی کیا کرتا تھا لیکن مستقل بے اثر ہونے کی وجہ سے اب دوسرے جونیر اسٹاف کو زیادہ ترجیح دی جانے لگی تھی۔ ذرا ذرا سی بات پر ناراضگی۔ زیادہ تر لوگوں سے تعلقات بھی دوریوں میں تبدیل ہو چکے تھے۔ گھر میں داخل ہوتے ہی بے ترتیب پڑے ہوئے سامانوں سے لے کر گھر کے افراد تک میری زد میں آنے لگے تھے۔ ایک شور شرابہ۔ بے مقصد ہنگامہ۔ پڑوسیوں کے لیے میرا گھر تفریح کا مرکز بن چکا تھا۔

میرے بے ترتیب ہونے کا سلسلہ جب طویل ہونے لگا تو مجھے بہت تشویش ہوئی کہ آخر یہ کیا ہو رہا ہے۔ گھر میں سب کے ہونے کے باوجود میں اکیلا رہنا چاہتا ہوں۔ اپنا کمرہ بھی الگ کر لیا ہے۔ ڈِنر کے بعد اندر سے اسے مقفّل کر لیتا ہوں۔ پھر دیر رات تک کتابوں میں سر کھپاتا رہتا ہوں۔ کبھی کبھی جی چاہا تو کمپیوٹر پر بیٹھ گیا۔ روبینہ میں بھی کوئی خاص دلچسپی نہیں رہ گئی تھی۔ سبھوں کے سو جانے کے بعد دیر تک ٹیرس پر ٹہلتا رہتا۔ نیند بھی بہت دیر سے آتی۔ کبھی کبھی تو تمام رات یوں ہی گزر جاتی۔ نیند کی گولیوں سے مستقل افاقے کا امکان بھی ختم ہونے لگا تھا۔ ذہنی کمزوری اور لگاتار بھولنے کے عمل سے میری پریشانی بڑھتی جا رہی تھی۔ تب خیال آیا کہ یوگ کرنا چاہیے۔ سی۔ ڈی۔ لا کر یوگا اچاریہ کی نقل کرنے لگا۔ ہدایت کے مطابق آنکھیں بند کرنے کے بعد کہیں خلا میں کھو جانے کی کوشش کرنے لگا۔ مگر اس دوران بہت ساری دشواریاں درپیش آنے لگیں۔ کھونا کہاں ہے یہی واضح نہیں ہو پا رہا تھا …پھر بھی مصنوعی طور پر یہ سب کرتا رہا لیکن دیر تک طبیعت مائل نہ ہونے کی وجہ سے یہاں بھی جی اُچاٹ ہو گیا۔ بات بات پر ناراض ہو جانے، خود کو لگاتار کمزور ہوتا ہوا محسوس کرنے یا زندگی کی اہم ضرورتوں کو بھی بھول جانے کے عمل سے دوچار ہونے کا سلسلہ اور طویل ہوتا گیا۔ کبھی کبھی تنہائی میں جی بھر کر رو لیتا تو تھوڑا سکون ضرور ملتا بلکہ اس وقت یہ تجسّس اُبھرتا کہ سب کچھ بھول گیا ہوں یا بھول جاتا ہوں تو پھر مسکان مجھے روز کیوں یاد آتی رہتی ہے۔ اسے بھی تو بھول جانا چاہیے تھا۔ اب تو بظاہر اس کا کوئی نقش باقی نہیں ہے۔ نہ موبائل میں، نہ ڈائری میں نہ لیپ ٹاپ یا کسی البم میں۔ پھر وہ کیوں مجھے جگا دیا کرتی ہے۔ میرے اندر کیوں رَچ بس گئی ہے۔ مجھے کیوں احساس دلاتی ہے کہ میرا جرم قابل معافی نہیں ہے۔ دوا لے کر بھی گہری نیند نہیں سو پاتا، اس کے آنے کی آہٹ یا کبھی کبھی چیخنے کی کوئی آواز مجھے جگا دیا کرتی ہے۔

مسکان۔۔۔! میں سچ مچ تم سے مُکتی چاہتا ہوں۔ میرے گناہوں کے ساتھ تم جینے کی کوشش مت کرو۔ پلیز مجھے جینے دو۔۔۔ پلیز۔    

٭٭٭