کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

کِنّی کا راجکمار

قاسم خورشید


 ہاں تو صاحبان… قدردان… مہربان

جگر تھام کر بیٹھ جائیے۔ جی چاہے تو اٹھ جائیے

اپنے مایوس چہروں پر ہنسی لائیے۔ دنیا سے تھوڑی غشی لائیے

بہت رو چکے۔ بے حسی لائیے

صاحبان… قدردان… میں کون ہوں۔ کیا ہوں۔ کیوں ہوں

یہ سب آپ جانتے ہیں

مجھے دل سے مانتے ہیں

یہ آپ کی بستی ہے

جہاں جان سستی ہے

روز کوئی مرتا ہے

اور مرنے سے ڈرتا ہے

موت تو برحق ہے

اوپر بھی دوزخ ہے

میرے پاس جنت ہے۔ میرے پاس سپنے ہیں۔ آپ سبھی اپنے ہیں۔

یہ کون سی بستی ہے

جو ہمیشہ سسکتی ہے

چیخ ہے پکار ہے

غصہ ہے انگار ہے۔ کچھ ہونے کا انتظار ہے

یہاں سپنوں کا شاسن ہے

اور ہوا میں آسن ہے

جہاں سورج بیکار ہے

اندھیروں کا بیوپار ہے

میرے پاس تیج کا بھنڈا رہے

تو حاضرین! آپ کے سامنے سپنوں کا راجکمار ہے

میں جانتا ہوں۔ کنّی بھی بھوکی ہے۔ مہرالنساء بھی دکھی ہے

کنّی کو روٹی کا انتظار ہے۔ مہرالنساء شادی کے لئے بے قرار ہے۔ تو صاحبان۔ قدردان۔ آج میں مہر النساء کو لڑکا دوں گا اور کنّی کو روٹی۔ یہ رہی میرے سپنوں کی جھولی۔ دھیرے دھیرے سبھوں کو خوشی دوں گا۔ چلو کنّی چلو۔ میرے ساتھ چلو میری دنیا میں چلو۔ ارے گھبراؤ نہیں۔ کچھ پل کے لئے تو زندہ رہنے کی کوشش کرو۔ کنّی اپنی آنکھوں کے آنسوؤں کو مجھے دے دو۔ اپنی بڑی بہن مہرالنساء کو بھی سمجھاؤ کہ ابا اس کی شادی کر ہی نہیں سکتے۔ اب وہ چھتیس کی ہو گئی ہے۔ آنکھوں کے نیچے کالے دھبے آ گئے ہیں۔ ہڈیاں ہر طرف سے ابھرنے لگی ہیں۔ کنّی سمجھاؤ اسے کہ ابا نہیں لاسکتے اب دو وقت کی بھی روٹی۔ بھلا مہرالنساء کی شادی کہاں سے کریں گے۔ کنّی تم بھی پندرہ سال کی ہو گئی ہو اور اب تک روتی ہو روٹی کے لئے! تمہیں تو اور بھی رونا ہو گا۔ دیکھ لو مہرالنساء کی آنکھوں کے نیچے ابھرتے ہوئے کالے دھبے کو۔ تم نہیں ڈرتیں اس دھبے سے؟ تم نہیں ڈرتیں جگہ جگہ سے نکلنے والی ہڈیوں سے؟ کنّی…! میری اچھی کنّی۔ تم ابھی کام کی ہو۔ ہونٹوں کے لئے جام سی ہو۔روٹی کے لئے رونا چھوڑ دو۔ اپنے جیون کی نیاّ موڑ دو۔ اوہ! اب تم کیا سوچنے لگی۔ تم ایسی گمبھیرتا سے مت جیو۔ اس سے پہلے کہ کنّی سے قمرالنساء بن جاؤ۔ آؤ میرے ساتھ آؤ۔ میں لال پری بنا دوں گا۔ دیکھو میری جھولی میں رکھے ہیں، رنگ برنگ کے پریوں کے پر۔ تمہیں اپنے لئے جو اچھا لگے چن لو۔ ہاں ہاں آؤ میرے ساتھ آؤ۔ اب مت دیکھو مہرالنساء کی طرف۔ بڑھو۔ آگے بڑھو کنّی۔ مت منانے کی کوشش کرو مہرالنساء کو۔ وہ جانتی ہے اپنی حقیقت۔ وہ آنکھوں کے نیچے جمے کالے دھبے کو لے کر کہاں جائے گی؟ تھوڑا سفر اور طے کرنا ہے اسے۔ پھر راہ میں ہی مر جائے گی۔ کنّی! اگر تم نے سب کچھ پا لیا تو بدل جائیں گے حالات بھی۔ مہرالنساء کے دس سال کم کر دینے، اسے گوشت پوست میں تبدیل کرنے، صرف ایسا ہی نہیں، موت کے انتظار میں، جینے والے تمہارے ابا کو جینے کی چاہت دلانے کی بھی گارنٹی۔ کنّی کیا سوچ رہی ہو۔ تم خوبصورت ہو۔ زندہ ہو۔ پھر کاہے کا غم…! اچھا ایسا کرو آج کی رات سوچ لو۔ کل کا دن بھی تمہارا۔ چلو نیند آنے تک دوسری شب کی آدھی رات بھی تمہاری۔ میں پھر آؤں گا پچھلے پہر۔ اگر کھلی آنکھوں کا سپنا ہو تو میرے ساتھ چلنا۔ سونے دینا مہرالنساء اور ابا کو۔ا نہیں اب جگانے کی بھی ضرورت نہیں ہے لیکن تم جو اور آنے والی راتوں میں ان کے ساتھ سوئیں تو میں تمہاری بستی سے چلا جاؤں گا۔ کنّی تم میرے ساتھ نہیں آئیں تو کوئی خواب پورا نہیں ہو گا مہرالنساء اور تمہارے اباکا۔ میں رات کے پچھلے پہر آؤں گا۔ تم سوچ لینا۔ خوب سوچ لینا۔

سپنے لے کر آنے والا نوجوان اپنی چھڑی ہلاتا ہوا چلا جاتا ہے۔ چونکہ ایک امید دے کر وہ رخصت ہوا تھا اس لئے کنّی نے روکا نہیں۔ اس کے جانے کے بعد مہرالنساء نے کنّی کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ وہ بوسیدہ کمرے میں لوٹ آئی۔

آج پہلی رات تھی۔

مہرالنساء کا یوں بھی برسوں سے نیند سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ وہ اپنی آنکھیں بند کیے سوچتی رہی۔ آج کنّی بھی اس کی بیداری میں شامل تھی۔ مہر النساء نے محسوس کیا کہ وہ بے چین ہے۔

’کیا ہوا کنّی… سو کیوں نہیں جاتی؟‘

’ہاں سو جاؤں گی…‘

’کنّی کیا سوچا ہے تم نے…‘

’کچھ بھی نہیں۔‘

’تو پھر کیوں جاگ رہی ہو؟‘

’اب تو حد ہو گئی۔ دو دنوں سے پیٹ میں کچھ بھی نہیں، تو پھر نیند کہاں سے آئے گی۔‘

’کنّی…! میں تیری بڑی بہن ہوں۔ برا تو نہیں چاہ سکتی۔ تو مجھ جیسا کیوں بننا چاہتی ہے۔ ابا کسی لائق نہیں رہے۔ اماں تھیں تو کس طرح گھر میں رونق تھی، کوئی نہیں جانتا تھا۔ وہ کیا گئیں۔ سب کچھ؟ ابا شرافت کے پردے میں رہ کو خود بھی ایک روز گزر جائیں گے۔ تو بھی مجھ جیسی ہو کر مت رہنا کنّی۔ ہم پردے کے باہر نہیں جا سکتے۔ صرف مل سکتے ہیں سپنوں کے راجکمار سے۔ میرا راجکمار تو بوڑھا ہو گیا ہے۔ وہ برسوں سے میرے پاس نہیں آتا۔ تیرا راجکمار ڈھیر ساری امنگوں کے ساتھ تیرے پاس آیا ہے۔ تو چلی جا اس کے ساتھ۔‘

’لیکن باجی …تم…!‘

’کنّی…! میں ؟ میں ہوں کہاں ؟ تجھے لگتا ہے کہ میں کہیں ہوں ؟ تو نے نہیں دیکھا راجکمار تجھے بلانے آیا تھا۔ تیرے لئے اس نے روپ بھی بدل لیا تھا۔ مجھے تو اس نے ایک پُل سمجھ رکھا تھا۔ مجھے چونکانے کے لئے پرانے زخم کرید رہا تھا۔‘

مہرالنساء بولتی رہی۔ بہت دیر تک بولتی رہی۔ پھر وہ بہک جاتی ہے۔ اندھیروں میں جا کر کچھ تلاش کرنے لگتی ہے۔ اپنی چکٹ سی پوٹلی سے نکالتی ہے بندیا۔ ٹوٹا ہوا آئینہ۔ اور چاہ کر بھی کوئی روشنی نہیں ملتی کہ وہ اپنے ماتھے پر اسے چمکتے ہوئے اس آئینے میں دیکھ سکے۔ تب وہ دیر تک رات کو سرکتے ہوئے دیکھتی رہتی ہے۔ دیکھتی ہی جاتی ہے۔ وہ اپنے روایتی مگر بوڑھے راجکمار کے بارے میں پھر سے سوچنے لگتی ہے۔

گھریلو تعلیم مکمل کرنے کے بعد پورے خاندان میں صوم و صلوٰۃ کے پابند ہونے کی خوبیوں نے اس میں زبردست اعتماد بھر دیا تھا۔ اس قدر پُرخلوص کہ ہر کوئی پنے گھر کی بہو بنانے کے لئے بے چین۔ ڈگری یافتہ نہ ہونے کے باوجود اخباروں اور رسائل پر گہری نظر رکھتی تھی۔ آئی۔اے۔ ایس کی تیاری کرنے والے اپنے خالہ زاد بھائی میاں شبو سے وہ اکثر بحث کرتی تھی۔ چونکہ دونوں بچپن سے ایک دوسرے کو بہت پسند کرتے تھے اس لئے گھر والوں کے سامنے نفسیاتی سطح پر غیر محرم ہونے کا مسئلہ بھی نہیں اٹھ پایا تھا۔

جنرل نالج کے معاملے میں اکثر مہرالنساء شبو بھائی پر حاوی ہو جاتی تھی۔ شبو بھائی کہتے کہ یہ تیاری تمہیں کرنی چاہئے تھی تومہرالنساء کہہ دیتی کہ یہاں نالج سے زیادہ ڈگری کی اہمیت ہے۔ کیونکہ ہمارا ایجوکیشنل سسٹم ہی کچھ ایسا ہے کہ چاہے صلاحیتیں ہوں کہ نہ ہوں، لیکن ڈگریوں کا بوجھ بہت ضروری ہے۔ میرے ابا کی تو انگریزی اتنی اچھی ہے کہ ان کے ڈرافٹ پر نام نہاد ڈگری یافتہ چاہ کر بھی غلطی نہیں نکال سکے۔ لیکن…؟

شبو بھائی مہرالنساء کی ذہانت سے بخوبی واقف تھے۔ اسے بہت پسند بھی کرتے تھے۔ یہاں تک کہ صوم و صلوٰۃ کی پابند لڑکی کو جسم و جان کی اہمیت سے واقف کروایا۔ اسے عشق مجازی کی تمام تر لذتوں سے گزارنے کی کامیاب کوشش کرتے ہوئے زندگی بھر ساتھ رہنے کا اعتماد بھی دے ڈالا۔ مہر النساء خواب دیکھنے لگی۔ وہ دلہن کے روپ میں سجی سنوری۔ ڈھولک کی تھاپ، میراثن کی بے سُری آواز۔

بنّو تیرا مکھڑا لاکھ کا رے

بنّو تیرا بیسر لاکھ کا رے

بنّو تیری نتھیا ہے ہزاری

بنّو تیری انکھیاں سرمے دانی

پھر ایک گھر،ایک خوبصورت خاوند، بچے، دفتر، انتظار، نوک جھونک، راز کی باتیں، تفریح۔

لیکن شبو بھائی آئی۔ اے۔ ایس آفیسر نہیں ہو سکے۔ سخت ذہنی الجھنوں میں گرفتار ہوئے۔ سارے خاندان میں، مورد الزام مہرالنساء کو ٹھہرایا گیا اور پھر بدنامیاں گھر سے گلی اور گلی سے بازار پہنچیں۔ شبو بھائی دو تین عشقیہ تجربوں کے بعد ایک تجربہ کار عورت نما لڑکی کی گرفت میں آ گئے۔ اور پھر بمشکل کلرک ہوئے اور چار بچیوں کے باپ بننے کے بعد داڑھی بڑھا لی۔ سخت مذہبی ہو گئے۔ مہرالنساء کے بارے میں سوچنا بھی گناہ سمجھنے لگے۔ لیکن بیچاری مہرالنساء کر بھی کیا سکتی تھی۔ اس نے جو نہیں کیا ان گناہوں کی سزا جھیل رہی تھی۔ اب تو زندہ رہنے کے لئے شبو بھائی کو راجکمار کے روپ میں دیکھنا اس کی مجبوری تھی۔ اور ایسے میں جب دور سے آتی ہے فجر کی اذان کی آواز تو وہ ابا کے لئے وضو کا پانی رکھ دیتی ہے اور خود مصلّیٰ بچھا کر بیٹھ جاتی ہے کہ اب اکثر اسے وضو کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوتی۔ وہ دعا کے لئے ہاتھ نہیں اٹھاتی، صرف جھک کر کچھ سوچتی رہتی ہے۔ چاہتی ہے آنکھوں میں آنسو آئے لیکن یہ دعا بھی قبول نہیں ہوتی۔

اس روز کنّی کو اپنے ہاتھوں سے خوب سجایا سنوارا۔ اپنی بندیا اس کے ماتھے پر لگا دی۔ سورج کی کرنوں میں اس کا روپ اور بھی دمکنے لگا۔ ایسا لگا جیسے گھر کی کھوئی ہوئی رونق لوٹ آئی ہو۔ اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ کنّی اتنی خوبصورت بھی ہے۔ سپنوں کے راجکمار کی نگاہ پر مہرالنساء کو رشک ہونے لگا تھا۔ اس روز کنّی کو بھوک بھی نہیں لگی۔ وہ امیدوں کے ساگر میں ڈوبتی چلی جا رہی تھی اور جب جب وہاں سے ابھرتی ہتھیلیاں موتیوں سے بھری ہوتیں۔ وہ کنارے پر کھڑی مہرالنساء کی طرف سب کچھ اچھالتی جاتی۔ مہرالنساء ساحل پر ہی مچلتی رہتی۔

شام سے ہی سپنوں کے راجکمار کا انتظار تھا۔ کنّی بار بار دریچے کی طرف دیکھتی اور پھر بے چینی کے عالم میں بوسیدہ کمرے میں ٹہلنے لگتی۔ مہرالنساء اس کی بے بسی میں جینے کی آرزوؤں کو محسوس کرتے ہوئے بہت خوش تھی۔ وہ جانتی تھی کہ راجکمار وعدے کے مطابق رات کے پچھلے پہر آئے گا لیکن انتظار فیصلے کو مستحکم بنانے کے لئے ضروری تھا۔ اس نے کنّی کو نہیں سمجھایا کہ راجکمار رات کے پچھلے پہر آئے گا۔ اسے خوف تھا کہ کہیں کنّی سو نہ جائے کیونکہ وہ کھلی آنکھوں کی راجکماری کے لئے آنے والا تھا۔ نیند میں ڈوبی ہوئی کنّی کے لئے نہیں۔ کچھ اور رات گزرتی ہے۔ مہرالنساء جان بوجھ کر بستر پر جا کر آنکھیں بند کر لیتی ہے اور وہ کنّی کی بے چینی کو محسوس کرتی رہتی ہے۔ کنّی اس دوران ابا کے کمرے میں بھی جاتی ہے۔ انہیں بھی روز کی طرح مضمحل پاتی ہے۔ سوچتی ہے کہ کیسے انہیں زندہ کیا جائے۔ وہ تو اب زور سے کھانس بھی نہیں سکتے۔ نہ جانے ایک ٹک کیا دیکھتے رہتے ہیں۔ کسی کو ٹھیک سے پہچانتے بھی نہیں۔ آہٹوں پر چونکنے کا سلسلہ بھی بند ہو چکا ہے۔ کنّی کی آنکھوں میں تو آنسو ہیں۔ وہ اپنے تمام آنسوؤں کو آج اس گھر کی نذر کر دینا چاہتی ہے۔ باجی اسے نہیں دیکھ پا رہی ہیں۔ ابا بھی اس قابل نہیں کہ اسے پہچان سکیں۔ وہ ماتم تو کر ہی سکتی ہے۔ راجکمار کے آنے سے پہلے وہ گھر کی دہلیز کی مفلسی کو آنسوؤں سے دھو دینا چاہتی ہے۔ مہر النساء اسے رونے دیتی ہے۔ اس کے من کے بھاری پن کو دور ہونے دیتی ہے۔ اور پھر ایسے میں رات کا پچھلا پہر شروع ہونے لگتا ہے۔

راجکمار کی آمد کے لئے وہ چہرے کو مسکان سے بھر دیتی ہے۔ آنکھیں ایک دم کھلی رکھتی ہے۔ نیند سے کوئی رشتہ رکھنا نہیں چاہتی آج کی رات۔

اور ایسے میں آتا ہے راجکمار۔ وہ دھیرے دھیرے گھر کا دروازہ کھولتی ہے۔ راجکمار کے بڑھے ہوئے ہاتھوں میں خود کو سونپ دیتی ہے۔ اور پھر چاروں طرف اندھکار بکھیر کر وہاں سے غائب ہو جاتی ہے۔ مہرالنساء بند آنکھوں سے ہر منظر کو سرکتے ہوئے محسوس کرتی ہے اور پھر دروازہ بند کرنے کے بعد مصلیٰ پر بیٹھ جاتی ہے۔ دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتی ہے۔

راجکمار کنّی کو پریوں کے لباس میں شہر کی رونقوں کے سپرد کر دیتا ہے۔ کنّی مختلف ہاتھوں سے گزرتے ہوئے لال پری بن جاتی ہے۔ کنّی سب کچھ جانتی تھی۔ اس نے کھلی آنکھوں سے فیصلہ کیا تھا۔ ایسانہیں کہ وہ خوش نہیں ہے کیونکہ راجکمار نے اپنا وعدہ پور اکر دیا ہے۔ مہرالنساء کی عمر دس سال کم ہو گئی ہے۔ اسے اب اپنا بوڑھا راجکمار بھی یاد نہیں آتا۔ ابا گھر میں رنگین ٹیلی ویژن پر فلمیں دیکھتے رہتے ہیں اور انہیں انتظار ہوتا ہے ڈاکیے کا، جو کنّی کے بھیجے ہوئے روپے لے کر آتا ہے۔

ہاں تو صاحبان… قدردان…

یہ کھلی آنکھوں کے سپنوں کو پورا کرنے والا راجکمار کون ہے۔ وہ اپنے وعدے بھی حقیقتوں کے رنگ میں ڈھالنا جانتا ہے۔ بس ضروری ہوتا ہے یہاں بیٹی کا جنم۔ آپ کی بوسیدہ بستیوں میں بیٹیاں ہوں تو چہرے پر ہنسی لائیے۔ بہت رو چکے۔ بے حسی لائیے۔

صاحبان… قدردان…!

٭٭٭