کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

کینوس پر چہرے اور میں

قاسم خورشید


شروعِ سفر میں لگاتار حادثوں کے حصار میں رہا، سمجھ نہیں پارہا تھا کہ بچپن کب شروع ہوتا ہے، سن بلوغت کی کیا اہمیت ہے یا پھر والدین کے سائے میں کس طرح سکون کا احساس ہوتا ہے۔ دراصل کم عمری میں باپ کی شفقت سے محروم ہونے، زمینداری کے مٹتے ہوئے نقوش کے درمیان شرافت کے لبادے میں اوڑھی ہوئی مفلسی کو دیکھ کر عجیب کیفیت میں مبتلا ہو گیا۔ ہوا تیز تھی اور چراغوں کو بھی روشن رہنا تھا۔ زمین اور آسمان کے درمیان سوالوں کا لامتناہی سلسلہ تھا۔ بار بار حضرت ابراہیم ؑ کی اس روایت پر ایمان لانے کی خواہش ہوئی کہ جب آسمان کی طرف نگاہ اٹھتی، سورج کو پہلی بار دیکھتا، اور اس کی روشنی سے سارے عالم کو منور ہوتا ہوا محسوس کرتا تو اُسے اپنا خدا مان لینے کی خواہش ہوتی۔ مگر یہ سلسلہ بھی دن کی روایت کے ساتھ ختم ہو جاتا۔ مایوسی، ڈوبتے ہوئے سورج اور گہری ہوتی ہوئی شام کے سائے میں ایک بار پھر ابھرتی اور چند لمحوں بعد پھر میں آسمان پر بکھرے ہوئے ستاروں کو دیکھ کر اپنے خدا کی تلاش میں سرگرداں ہو جاتا۔ مگر یہ کیا! کہ لگاتار تیرہ دنوں کی تگ و دو کے بعد آسمان پر مکمل چاند نمودار ہو گیا، تو پھر اس میں ہی اپنے خالق کو، اپنے رہنما کو تلاش کرنے لگا۔

مجھے یاد ہے کہ جب میرے والد کو قبر میں اُتار کر آخری دیدار کے لیے لوگوں کو بلایا گیا تھا تو کسی نے مجھے بھی گود میں اٹھا کر ان کا دیدار کروایا تھا۔ اس وقت قبر میں اُتارنے والے شخص نے مجھ سے یہ کہا تھا کہ ’’دیکھ لو بابو! اب تمھارے ابّو کبھی نہیں آئیں گے‘‘۔ میری سمجھ میں اس وقت یہ بات نہیں آئی تھی اس لیے فرمانبردار بچے کی طرح حامی میں سر ہلا دیا تھا۔ مگر جب واقعی ابّو کئی مہینوں تک نہیں لوٹے اور شامِ غریباں طویل ہوتی رہی، ایسے میں لوگ غم سے نڈھال ہو کر سو جاتے تو ایک روز مَیں چپکے سے آنگن کی چھت کے نیچے اُولتی کی اُوٹ میں چھپ کر دیر تک آسمان کو دیکھتا رہا۔ پھر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ میرا بچپن آسمان سے مخاطب ہو کر گڑگڑاتے ہوئے کہنے لگا کہ اے اللہ! مجھے معلوم ہے، تُو آسمان پر رہتا ہے، میرے ابّو کو تو نے بلا لیا ہے۔ میرے گھر کے سب لوگ بہت غمگین ہیں، تُو انھیں بھیج دے۔ میری دعا سن لے۔ اور جب یہ دعا قبول نہیں ہوئی تو ایک روز پھر میں نے آسمان کے خدا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر میرے ابّو کی تمھیں بہت زیادہ ضرورت ہے تو انھیں رکھ لے مگر مجھے جلدی سے بڑا کر دے تاکہ میں ا بّو کی طرح سارے گھر کا بوجھ اٹھا سکوں، سب کی آنکھوں میں خوشیاں بھر سکوں۔ مگر یہ دعا بھی قبول نہیں ہوئی بلکہ اذیتوں کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا۔ بچپن کھو گیا اور ہر لمحہ میلوں تک پھیل گیا۔ وقت کی لمبی اسیری اور پربت کاٹ کر راستے گڑھنے کا عمل شروع ہو گیا۔ حقیقتیں  بے اماں ہوتی رہیں۔سورج، چاند، ستارے ایک ایک کر کے سب میری رہنمائی سے قاصر ہوتے رہے۔ میرا تو حضرت ابراہیم ؑجیسا کوئی رہنما بھی نہیں تھا تو پھر تھک ہار کر اپنے اندر ہی کسی تلاش میں سرگرداں ہو گیا۔ کہاں شفقتیں، کہاں محبتیں، کہاں کامیابیاں، کہاں خوشیاں، کہاں لوگوں کی توجہ کا مرکز، کہیں کچھ بھی تو نہیں تھا۔ مگر ایک جذبہ بار بار مجھے وسعتیں عطا کر رہا تھا اور وہ تھا تخلیقی کرب کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ۔ نہ جانے کیا کچھ میرے اندر ایک بیج سے پیڑ اور پھر پیڑ سے تناور درخت بننے کے عمل میں تھا اور اذیتوں کے درمیان ہی شاخیں ہری ہو رہی تھیں بلکہ مجھے یہ کہنے میں تامل نہیں کہ انہیں کے سائے میں میری تخلیقی کائنات بتدریج وجود میں آرہی تھی۔ میں نقشِ فریادی اور شوخیِ تحریر کے معنیٰ کو سمجھنے کی کوششوں میں مشغول ہو چکا تھا۔ یہ تو عجیب دنیا تھی۔ اسے سمجھنے کے لئے ایک کیا ہزاروں زندگیاں بھی کم تھیں۔ میں نے اپنے جوان باپ کی موت دیکھی تو یہ احساس شدید رہا کہ ہمارے پاس بہرحال طبعی زندگی بہت کم ہے۔ اور جہاں تک روح کا تعلق ہے تو وہ بھی اپنی دسترس میں نہیں۔ مگر جو کچھ بھی ملا ہے، اسے کوئی معنیٰ ضرور عطا کرنا ہے۔ دورانِ سفر میرے ہاتھ میں ایک قلم آیا۔ پھر خود کو لکھ کر حرف حرف آشنا ہونے لگا۔ کبھی اندر کے اداکار نے دنیا کے اسٹیج سے اپنے ناظرین کو متوجہ کیا کبھی پینٹنگ کے ذریعہ اپنے جذبات کی ترجمانی میں لگ گیاتو کبھی خاموش رہ کر خواب بُنتا رہا۔ خیر! مجھے اس حقیقت کا بخوبی اندازہ ہو چکا تھا کہ واقعی یہاں کسی کو کوئی راستہ نہیں دیتا۔ بلکہ ہم جو راہیں بناتے ہیں اس کے دعویدار بھی لگاتار ہمارا تعاقب کرتے رہتے ہیں۔ کئی بار اپنی بنائی ہوئی زمین پر یزیدی لشکروں کو قبضہ کرتے ہوئے دیکھا۔ ایسا نہیں کہ میں ان سے کمزور تھا مگر اپنی وسعتوں یا نیاآسمان گڑھنے کی وجہ سے ہم نے اپنی زمینوں کو ان کے حوالے کر دیا۔ یوں تو دادی اماں سے سنی ہوئی کہانیوں میں اپنے کرداروں کو شامل کرتا رہا یا پھر ان کہانیوں کی تخلیقیت سے اپنی دنیا روشن کی۔ اور نہ جانے کب؟ شاید اس وقت جب محض اسکول سے فارغ ہوا تھا، میں نے پہلا افسانہ ’روک دو‘ تخلیق کیا۔ افسانہ شائع ہونے کے بعد جب بے حد پذیرائی ہوئی تو میرے اندر مزید اعتماد پیدا ہوا اور پھر اس کے بعد یہ سلسلہ جاری رہا۔ ہاں، میں نے کبھی فورم کو اتنی زیادہ اہمیت نہیں دی جتنی کہ تخلیقیت کو۔ یہی وجہ تھی کہ متن کے حوالے سے میں جس فارمیٹ میں خود کو ڈھالنے کی کوشش کرتا، بہ آسانی ڈھل جاتا۔ اسی لئے جہاں افسانے لکھتا رہا وہیں ڈرامے، فیچر اور غزلیں، نظمیں بھی تخلیق کرتا رہا۔ مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ آخر لوگ صنف سے فنکار کا تعین کیوں کرتے ہیں ؟ غالب جیسے بڑے شاعر کے نثری کارناموں، یا شیکسپیئر کی نظموں اور ان کے ڈراموں یا پھر احمد ندیم قاسمی اور ایسے ہی دنیا کے بڑے تخلیق کاروں کو کیا کسی ایک صنف میں  طبع آزمائی کے لئے جانا پہچانا جاتا ہے؟ اصل میں یہ سوال ان کے لئے زیادہ اہم ہو سکتاہے جو اپنے متن کو ضرورت کے مطابق مختلف اصناف میں ڈھالنے کے اہل نہیں ہوتے ہیں۔ اس لئے میں خود کو محض افسانہ نگار یا شاعر یا ڈرامہ نگار کہلانے کے لئے تگ و دو کرنے سے قاصر رہا بلکہ اپنے متن یا Contentکے حوالے سے ہی لوگوں کی توجہ کا طالب رہا۔ جن کا وژن وسعتوں پر مبنی ہے انہوں نے ہمارے اس جذبے کی بے حد پذیرائی کی بلکہ میرے اعتماد کو اصناف کے حوالے سے بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا۔ ظاہر ہے کہ ایسے میں خود کو منوا لینا جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہوتا ہے۔ خصوصی طور پر اردو ادب کے لئے یہ مشکل ترین مرحلہ تھا۔ مگر یہاں بھی بہرحال ذہانت کی کمی نہیں رہی ہے اسی لئے میں خاموشی سے جو کچھ بھی لکھتا، ہند و پاک کے بڑے رسائل کے حوالے کر دیا کرتا۔ میرے افسانے سب سے پہلے ہند و پاک کے مختلف ادبی رسائل میں شائع ہوتے رہے۔ بعد میں بہار نے مجھے قومی یا بین الاقوامی رسائل کے توسط سے ہی پہچانا۔ ممکن ہے اگر لوگ میری عمر یا ایک معمولی شخص کی سماجی حیثیت سے واقف ہو جاتے تو تخلیقی ادب میں وہ اہمیت نہیں ملتی۔ اس لئے تخلیق کاروں کے لئے سب سے ضروری ہے کہ وہ اپنی تخلیق کو بہت اعتماد کے ساتھ زمانے کے سامنے پیش کریں۔ دنیا کی کوئی بھی بڑی لابی یا ادب