کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

بھگت رام

کرشن چندر


ابھی ابھی میرے بچے نے میرے بائیں ہاتھ کی چھنگلیا کو اپنے دانتوں تلے  داب کر اس زور سے کاٹا کہ میں چلائے بغیر نہ رہ سکا اور غصے میں آ کر اس کے دو تین طمانچے بھی جڑ دئیے ہیں ، بیچارہ اسی وقت سے ایک معصوم پلے کی طرح چلا رہا تھا، یہ بچے کم بخت دیکھنے سے کتنے نازک ہوتے ہیں ، لیکن ان کے ننھے ننھے ہاتھوں کی گرفت بڑی مضبوط ہوتی ہے، ان کے دانت یوں تو دودھ کے ہوتے ہیں ، لیکن کاٹنے میں گلہریوں کو بھی مات کرتے ہیں ، اس بچے کی معصوم شرارت سے معاً میرے دل میں بچپن کا ایک واقعہ ابھر آیا ہے، اب تک میں اسے بہت معمولی واقعہ سمجھتا تھا اور اپنی دانست میں اسے  قطعاً بھلا چکا تھا، لیکن دیکھئے یہ لاشعور کا بھی کس قدر عجیب ہے، اس کے  سہارے میں بھی کیسے کیسے عجائب مستور ہیں ، بظاہر اتنی سی بات ہے کہ بچپن میں نے ایک دفعہ اپنے گاوں کے ایک آدمی بھگت رام کے بائیں ہاتھ کا انگوٹھا چبا ڈالا تھا، اور اس نے مجھے طمانچے مارنے کے بجائے سیب اور آلوچے کھلائے تھے اور بظاہر میں اس واقعہ کو اب تک نہیں بھول چکا ہوں ، لیکن ذرا اس بھان متی کے بارے پٹارے کی بو العجبیاں ملاحظہ فرمائیے، یہ معمولی سا واقعہ اک خوابیدہ ناگن کی طرح ذہن کے پشتارے میں دبا ہے اور جونہی میرا بچہ میری چھنگلیا کو دانتوں تلے دباتا ہے اور میں اسے پیٹتا ہوں ، یہ پچیس تیس سال کا سویا ہوا ناگ بیدار ہو جاتا ہے، اور پھن پھیلا کر میرے ذہن کی چار دیواری میں لہرانے لگا، اب کوئی اسے کس طرح مار بھگائے، اب تو اسے دودھ پلانا ہو گا، خیر تو وہ واقعہ بھی سن لیجئے، جیسا کہ میں  یہ پچیس تیس سال کا سویا ہوا ناگ بیدار ہو جاتا ہے، اور پھن پھیلا کر میرے ذہن کی چار دیواری میں لہرانے لگا، اب کوئی اسے کس طرح مار بھگائے، اب تو اسے دودھ پلانا ہو گا، خیر تو وہ واقعہ بھی سن لیجئے، جیسا کہ میں ابھی عرض کر چکا ہوں یہ میرے بچپن کا واقعہ ہے جب ہم لوگ رنگپور کے گاؤں میں  رہتے تھے، رنگپور کا گاؤں تحصیل جوڑی کا صدرمقام ہے اس لئے اس کی حیثیت اب ایک چھوٹے موٹے قصبے کی ہے، لیکن جن دنوں ہم وہاں رہتے  تھے، رنگپور کی آبادی بہت زیادہ نہ تھی، یہی کوئی ڈھائی تین سو گھر ہوں  گے، جن میں بیشتر گھر برہمنوں اور کھتریوں کے تھے، دس بارہ گھر جلاہوں  اور کمہاروں کے ہوں گے پانچ چہ بڑھئی اتنے ہی چمار اور دھوبی اور یہی سارے گاؤں میں لے دے کے آٹھ دس گھر مسلمانوں کے ہوں گے لیکن ان کی حالت نا گفتہ بہ تھی، اس لئے یہاں تو ان کا ذکر کرنا بھی بیکار سا معلوم ہوتا ہے۔  گاؤں کی برادری کے مکھیا لالہ کانشی رام تھے، یوں تو برہمنی سماج کے  اصولوں کے مطابق برداری کا مکھیا کسی براہمن ہی کو ہونا چاہئیے تھا اور پھر برہمنوں کی آبادی بھی گاؤں میں سب سے زیادہ تھی اس پر برادری نے  لالہ کانشی رام کو جو ذات کے کھتری تھے، اپنا مکھیا چنا تھا، پھر وہ سب سے  زیادہ لکھے پڑہے تھے، یعنی شہر تک پڑہے تھے، جو خط ڈاکیہ نہیں پڑہ سکتا تھا، اسے بھی وہ اچھی طرح پڑھ لیتے تھے، تمسک ہنڈی، نالش، سمن، گواہی، نشان دہی کے علاوہ نئے شہر کی بڑی عدالت کی ہر کاروائی سے وہ بخوبی واقف تھے، اس لئے گاؤں کا ہر فرد اپنی ہر مصیبت میں چاہے وہ خود لالہ کانشی رام ہی کی پیدا کردہ ہو، لالہ کانشی رام ہی کا سہارا ڈھونڈتے تھے، اور لالہ جی نے آج تک اپنے کسی مقروض کی مدد کرنے سے انکار نہ کیا، اسی لئے وہ گاؤں کے مکھیا تھے، گاؤں کے مالک تھے اور رنگ پور سے  باہر بھی دور دور تک جہاں تک دہان کے کھیت دکھائی دیتے تھے، لوگ ان کے گن گاتے تھے۔  ایسے شریف لالہ کا منجھلا بھائی لالہ بانشی رام، جو اپنے بڑے بھائی کے ہر نیک کام میں اس کا ہاتھ بٹاتا تھا، لیکن گاؤں کے لوگ اسے اتنا اچھا نہیں  سمجھتے تھے، کیونکہ اس نے اپنے برہمن دہرم کو تیاگ دیا تھا، اور گورو نانک جی کے چائے ہوئے پنتھ میں شامل ہو گیا تھا، اس نے اپنے گھر میں ایک چھوٹا سا گورودوارہ بھی تعمیر کرایا تھا اور ان کے شہر سے ایک نیک صورت، نیک طینت، نیک سیرت، گرنتھی کو بلا کر اسے گاؤں میں سکہ کے پرچار کے لئے مامور کر دیا تھا۔ ۔ ۔ لالہ کانشی رام کے سکہ بن جانے سے گاؤں میں  جھٹکے اور جلال کا سوال پیدا ہو گیا تھا۔ مسلمانوں اور سکھوں کے لئیے تو گویا یہ اک مذہبی سوال تھا، لیکن بھیڑ بکریوں اور مرغے مرغیوں کے لئے تو زندگی اور موت کا سوال تھا، لیکن انسانوں کے نقار خانے میں جانوروں کی کون سنتا ہے۔  لالہ بانشی رام کے چھوٹے بھائی کا نام تھا بھگت رام، یہ وہی شخص ہے جس کا انگوٹھا میں نے بچپن میں چبا ڈالا تھا، کس طرح یہ تو میں بعد میں بتاؤں گا، ابھی تو اس کا کردار دیکھئے، یعنی کہ سخت لفنگا، آوارہ بدمعاش تھا یہ۔ ۔ ۔ ۔  شخص نام تھا بھگت رام لیکن دراصل یہ آدمی رام بھگت رام نہیں شیطان کا بھگت تھا، رنگ پور کے گاؤں میں آوارگی، بدمعاشی ہی نہیں ، ڈھٹائی اور بے  حیائی کا نام اگر زندہ تھا محض بھگت رام کے وجود سے ورنہ رنگپور تو ایسی شریف روحوں کا گاؤں تھا کہ غالباً  فرشتوں کو بھی وہاں آتے ہوئے ڈر معلوم ہوتا ہو گا، نیکی پاکیزگی اور عبادت کا ہلکا سا نور گویا ہر ذی نفس کے چہرے  سے چھنتا نظر آتا تھا، کبھی کوئی لڑائی نہ ہوتی تھی، فرقہ وقت پر وصول ہو جاتا تھا، ورنہ زمین قرق ہو جاتی تھی اور لالہ کانشی رام پھر روپیہ دے کر اپنے مقروض کو کام پر لگا دیتے تھے، مسلمان بچارے اتنے کمزور تھے اور تعداد میں اس قدر کم تھے کہ ان میں لڑنے کی ہمت نہ تھی، سب بیٹھے مسجدوں  کے مناروں اور ا سکے کنگروں کو خاموشی سے تکا کرتے کیونکہ گاؤں میں  انہیں اذان دینے کی بھی ممانعت تھی، کیروں اور اچھوتوں کا سارا دھندا دو جنمے لوگوں سے وابستہ تھا اور وہ چوں تک نہ کر سکتے تھے، اس کے علاوہ انہیں یہ احساس بھی نہ ہوتا تھا کہ زندگی اس کے علاوہ کچھ اور بھی ہو سکتی ہے بس جو ہے وہ ٹھیک ہے، یہی مسلمان سمجھتے تھے، یہی براہمن، یہی کھتری۔ ۔ ۔ ہی چمار اور سب مل کر بھگت رام کو گالیاں سناتے تھے کیونکہ اس کی کوئی کل سیدہی نہ تھی۔  بھگت رام لٹھ گنوار تھا، بات کرنے میں اکھڑا دیکھنے میں اکھڑ، کندۂ نا تراش، بڑے بڑے ہاتھ پاؤں بڑے بڑے دانت بتیسی ہر وقت کھلی لبوں سے رال ٹپکی ہوئی جب ہنستا تو بتیسی مسوڑہوں کی بھی پوری پوری نمائش ہوتی۔  گاؤں میں ہر شخص کا سر گھٹا ہوا تھا اور ہر ہندو کے سر پر چوٹی تھی، لیکن بھگت رام نے بلوچوں کی طرح لمبے لمبے بال بڑھا لئے تھے اور چوٹی غائب تھی بالوں میں بڑی کثرت سے جوئیں ہوتیں ، جنہیں وہ اکثر گھراٹ کے باہر بیٹھ کر چنا کرتا تھا، سرسوں کا تیل سر میں دو تین بار رچایا جاتا، گلے میں پھولوں  کے ہار ڈالے جاتے اور بیچ میں سے سیدہے مانگ نکال کر اور زلفیں سنوار کر ہ سر شام گاؤں کے چشموں کا طواف کیا کرتا، اپنی ان بری حرکتوں سے اکپ بار پٹ چکا تھا لیکن اس کا اس پر کوئی اثر نہ ہوتا تھا، بڑی موٹی کھال تھی اس کی اور پھر اس میرا خیال ہے کہ اس کے شعور میں ضمیر کی آگ کبھی روشن نہ ہوئی تھی، وہ شرارہ بیدار تھا، جو حیوان کو انسان بنا دیتا ہے، بھگت رام سو فیصد حیوان تھا اور اسی لئے گاؤں والے برہمن اور کھتری، امیر اور غریب ہندو اور مسلمان اور سنار اور چمار سب اس سے نفرت کرتے تھے۔  لیکن چونکہ لالہ کانشی رام کا چھوٹا بھائی تھا، اور بظاہر گاؤں کے سب سے  بڑے گھر کا ایک معزز فرد، اس لئے اپنی ناپسندیدگی کے باوجود گاؤں کے  لوگ اس کے وجود کو اور اس کے وجود کی بد  حرکات کو برداشت کرتے تھے، اور آج کرتے چلے آئے تھے، لیکن جب رنگ پور میں آئے اس وقت بھگت رام کے بڑے بھائی نے پریشان ہو کر اسے اپنے گھر سے نکال دیا تھا، توی کا یاک گھراٹ اس کے سپرد کر دیا تھا، جہاں بھگت رام رہا کرتا تھا، اور وہ رات کو سوجاتا بھی وہیں تھا، کیونکہ گھراٹ تو دن رات چلتا تھا، نہ جانے کس وقت کسے آٹا پسانے کی ضرورت پیش ہو اور وہ چادر میں یا بھیڑ کی کھال میں کئی یا گندم کے دانے گھراٹ پر چلا آئے اور پھر اس کے علاوہ یہ بھی تو ہے کہ دن بھر میں جو گیہوں جمع ہوتا ہے یا اناج ابھی پسا نہیں جاتا وہ ہیں ، گھراٹ پر دھرا رہتا ہے اور اس کی نگہبانی کے لئے بھی تو ایک آدمی کا وہاں موجود ہونا ضروری ہے، یہی سوچ کر لالہ منشی رام کا گھراٹ گاؤں میں  سے نامی گھراٹ تھا، یعنی تقریباً سارے گاؤں کا اناج وہیں پسوایا جاتا تھا، ایک اور گھراٹ بھی تھا، لیکن بالعموم مسلمانوں ، اچھوتوں اور کمیروں کے لئے  اناج جہاں پسایا جاتا تھا، جب کبھی بڑا گھراٹ چلتے چلتے رک جاتی اور اس کی مہیب چکی کام کرنے سے انکار کر دیتی یا جب پاٹوں کی سطح پر پتھریلے  دندانے بنانے کے لئے انہیں الٹا دیا جاتا۔  تو اس صورت میں دوسرے گھراٹ والوں کو چند روز کے لئے اچھی آمدنی ہو جاتی تھی، بصورت دیگر بڑے گھراٹ پر گاہکوں کی بھیڑ لگی رہتی، جب بڑا گھراٹ چلتا تھا، اس وقت کسی مسلمان، کسی کمیرے، کسی اچھوت، کی یہ جرات نہ تھی، جرات تو کیا کبھی ان کے ذہن میں یہ خیال بھی نہ آیا تھا، کہ ان کا اناج کبھی بڑے گھراٹ پر پس سکتا ہے، شروع شروع میں جب بھگت رام نے کام سنبھالا تو اس نے چند روز تک یہی وطیرہ اختیار کیا، لیکن بعد میں  اسے مزاج کے لا ابالی پن نے بلکہ یوں کہئے کہ شیطانی پن نے زور مارا اور اس نے سوچا جی کیا ہے اس میں جو آئے، آٹا پسا کر لے جائے، ان پتھروں کے دو پاٹوں میں دہرا ہی کیا ہے، اور یہ آخر اناج ہی تو ہے، جسے کتا بھی کھاتا ہے اس سے گھراٹ کی آمدنی میں اضافہ بھی ہو گا، دسرے گھراٹ بالکل ہی بند ہو جائے نہ جانے اس نے کیا سوچا، بہر حال اس نے کوئی ایسی ہی بات سوچی ہو گی، جو اس نے گاؤں کے چماروں اور کمیروں کو بھی اپنے گھراٹ پر سے آٹا پسانے کی دعوت دی، پہلے تو لوگوں نے بڑی شد و مد سے انکار کیا، بھلا ایسا بھی ہو سکتا ہے کیا کہتے ہو لالہ ہم رعیت، ہیں تم راجہ ہو، یہ تمہارا گھراٹ ہے، ہمارا گھراٹ ہے، ہم بھلا یہاں آٹا پسانے کیوں آئیں گے نا بابا نہ یہ کام ہم سے نہ ہو گا، اور جو چاہے ہم سے کام لے لو یہ کام ہم سے نہ ہو گا، لیکن بھگت رام نے آخر اپنی چالاکیوں سے ان بیچاروں کو پھسلا ہی لیا اور انہیں اس بات پر آمادہ کر لیا کہ وہ اناج اسی کے گھراٹ پر لایا کریں گے وہیں  پسایا کریں گے۔  بھلا ایسی بات بھی برادری میں چھپی رہ سکتی ہے، برادری میں اک کہرام مچ گیا، چہ می گو ئیاں ہونے لگیں ، ہر روز بھگت رام سے لڑائی ہونے لگی، تگڑا آدمی تھا، اس لئے گالیاں سہہ گیا ہنس ہنس کر ٹالتا تھا، پھر اسے غصے میں  آ کر دو چار کو پیٹ دیا، پھر ایک دن خود پٹ گیا، یہ معاملہ بڑھتے بڑھتے لالہ کانشی رام کے پاس پہنچا، انہوں نے بھگت رام کو بلا کر ڈانٹا سمجھایا ٹھنڈے  دل نرمی سے پچکار کر باتیں کیں ، اونچ نیچ سمجھائی لیکن جس دل میں کمینہ پن ہ وہ دہرم کرم کی بات کب سننے گا۔