کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

ایرانی پلاؤ

کرشن چندر


آج رات اپنی تھی، کیونکہجیب میں پیسے نہیں تھے ، جب جیب میں تھوڑے سے پیسے ہوں رات مجھے اپنی نہیں معلوم ہوتی، اس وقت رات میرین ڈرائیو پر تھرکنے والی گاڑیوں کی معلوم ہوتیہے ، جگمگاتے ہوئے فلیٹوں کی معلوم ہوتی ہے ، ایمبسڈر کی چھت پر ناچنے والوں کی معلوم ہوتی ہے ، لیکن آج رات بالکل اپنی تھی، آج رات آسمان کے سارے ستارے اپنی تھے اور بمبئی کی ساری سڑکیں اپنی تھیں ، جب جیب میں تھوڑے سے پیسے ہوں تو سارا شہر اپنے اوپر مسلط ہوتا ہوا معلوم ہوتا ہے ، ہر شے گھورتی ہے ڈانٹتی ہے ، اپنے آپ سے دور بیٹھنے پر مجبور کرتی اونی پتلون سے لے کر خوش نما ریڈیو پروگرام تک ہر چیز کہتی ہے ، مجھ سے دور ہو، لیکن جبجیب میں ایک پائی نہ ہو تو سارا شہر اپنا بنا ہوا معلوم ہو تا ہے ، اس کے ہر کھمبے پر گویا لکھا ہوتا تھا تعمیر کیا گیا برائے بشن ایک فاقہ مستصنف، اس دن نہ حوالات کا کارڈ ہوتا ہے نہ گاڑی کی لپٹ میں آ جانے کا، نہہوٹل میں کہانے کا، ایک ایسی وسیع بے فکری اور بے کنار فاقہ مستی کا نشہ آورموڈ ہوا ہے ، جو میلوں تک پھیلتا چلا جا رہا ہے ، اس رات میں خود نہیں چلتا ہوں اس رات بمبئی کی سڑکیں مجھے اٹھائے اٹھائے چلتی ہیں اور گلیوں کے موڑ پراور بازاروں کے ٹکڑ اور بڑی بڑی عمارتوں کے تاریک کونے مجھے خود دعوت دیتے ہیں ادھر آؤ ہمیں بھی دیکھو ہم سے ملو، دوست تم آٹھ سال سے اس شہر میں رہتے ہوں ، لیکن پھر بھی اجنبیوں کی طرح کیوں چل رہے ہو، ادھر آؤ ہم سے ہاتھ ملاؤ۔

آج رات اپنی تھی، آج رات کسی کا ڈر نہیں تھا، ڈر اسے ہوتا ہے ، جس کی جیببھاری ہوتی ہے ، اس خالی جیبوں والے ملک میں بھاری جیب والوں کو ڈر ہوناچاہئیے ، لیکن اپنی پاس کیا تھا جسے کوئی چھین سکتا۔

سنا ہے کہ حکومت نے ایک قانون بن رکھا ہے ،جس کی رو سے رات کو بارہبجے کے بعد سڑکوں پر گھومنا منع ہے ، کیوں کیا بات ہے ، رات کے بارہ بجے کے بعد بمبئ میں کیا ہوتا جسے وہ مجھ سے چھپانا چاہتے ہیں ، میں تو ضروردیکھوں گا، چاہے کچھ بھی ہو جائے ، آج رات تو مجھے کسی کا ڈر نہیں ہے ، نہکسی وزیر کا ، نہ کسی حوالات کا، کچھ بھی ہو جائے آج تو میں ضرور گھوموں گااور اپنے دوستوں سے ہاتھ ملاؤں گا۔

یہی سوچ کر گیٹ ری کلے مشین کے سامنے کی سڑک سے گزر کر یونیورسٹیگراؤنڈ میں گھس گیا، ارادہ تو یہ تھا کہ میدان کے بیچ سے گزر کر دوسری طرفبڑے تار گھر کے سامنے جا نکلوں گا، اور وہاں سے فلورا فاونٹین چلا جاؤں  گا،مگر میدان سے گزرتے ہوئے میں نے دیکھا کہ ایک کونے مین چند لڑکے دائرہبنائے بیٹھے ہیں اور تالی بجا بجا کر گا رہے ہیں

تیرا میر پیار ہو گیا۔

تیرا میرا

تیرا میرا

تیرا،میرا، پیار ہو گیا۔

وہ تین لڑکے تالی بجاتے تھے ، ایک لڑکا منہ سے بانسری کی آوازنکالنے کی کوشش کر رہا تھا، ایک لڑکا سر ہلا تے ہوئے ایک لکڑی کے بکس سے طبلے کے بول نکال رہا تھا، سب خوشی سے جھوم رہے تھے ، اور موٹی پتلی اونچینیچی آوازوں میں گا رہے تھے ، میں نے قریب جا کر پوچھا

کیو ں بھئی کس سے پیار ہو گیا۔

وہ لوگ گانا بند کر کے ایک لمحے کے لئے مجھے دیکھنے میں مصروف ہو گئے ،پتہ نہیں لوگوں کو دیکھنے میں کیسا لگتا ہوں میں ، لیکن اتنا مجھے معلوم ہے کہ ایک لمحے کے لئے دیکھنے کے بعد لوگ بہت جلدی مجھ سے گھل مل جاتے ہیں ،مجھ سے ایسے مانوس ہو جاتے ہیں کہ زندگی بھر کے سارے راز اور اپنی مختصرسی کائنات کی ساری تصویریں اور اپنے دل کے سارے دکھ درد مجھ سے کہنے لگجاتے ہیں ، میرے چہرے پر کوئی بڑائی نہیں کوئی خاص اجنبیت سی ہے ، کوئی رعباور دبدبہ نہیں میرے لباس میں بھی کوئی خاص شوکت نہیں ، وہ طعنہ نہیں جوکالی اچکن اور سرخ گلاب کے پھول میں ہوتا ہے ، شارک اسکین کے سوٹ میں ہوتاہے ، بس پاؤں میں معمولی چپل ہے ، اس کے اوپر لٹھے کا پاجامہ اس کے اوپرلٹھے کی قمیض ہے جو اکثر پیٹھ سے میلی رہتی ہے ،کیونکہ ایک تو مجھے اپنے جھونپڑے میں زمین پر سونے کی عادت ہے ، دوسرے مجھ میں یہ بھی بری عادت ہے ،جہاں بیٹھتا ہوں دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھتا ہوں یہ الگ بات ہے کہمیری زندگی میں میلی دیوار زیادہ آتی ہیں اور اجلی دیواریں بہت کم، قمیضکم بخت کندھوں سے بہت جلد جاتی ہے اور ہاں اکثر آپ کو ٹانکے پھٹے پرانے کپڑے کو جوڑنے کی بار بار کوشش کی جاتی ہے ، کیونکہ ہر آدمی کالی اچکن پراور سرخ گلاب کا پھول نہیں ٹانک سکتا، اس ٹانکے اور ٹانکے میں اس قدر فرقکیوں ؟ یہ سچ ہے کہ وہ انسان ایک جیسے نہیں ہوتے ایک شکل کے و صورت کے نہیں ہوتے ہیں ، بمبئی میں شب و روز مختلف چہرے ، لیکن یہ کی کیا بات ہے کہ انسب کے کندھوں پر وہی ٹانکے لگے ہوتے ہیں ، لاکھوں ٹانکے پھٹی ہوئی زندگیوں کے کناروں کو ملانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں ایک نقاد نے میرے افسانے پڑھکر کہا تھا، کہ مجھے ان میں کسی انسان کا چہرہ نظر نہیں آتا، یہی مجھ میں مصیبت ہے کہ میں اپنے کر داروں کے چہرے بیان نہیں کرستا، ان کے کندھے کے ٹانکے دیکھتا ہوں ، ٹانکے مجھے انسان کا اندرونی چہرہ دکھاتے ہیں اس کی دنرات کی کشمکش اور اس کی شب و روز کی محنت کاسراغ بتاتے ہیں ، جس کے بغیرزندگی کا کوئی ناول اور سماج کا کوئی افسانہ مکمل نہیں ہو سکتا اس لئے اسبات کی مجھے خوشی ہے کہ میرا چہرہ دیکھ کر کوئی مجھے کلرک سمجھتا ہے ، کوئیکباڑیا کوئی کنگھی بیچنے والا یا بال کاٹنے والا آج تک کسی نے مجھے وزیریا جیب کاٹنے والا نہیں سمجھا، اس بات کی مجھے خوشی ہے کہ ان میں لاکھوں کروڑوں آدمیوں میں سے ایک ہوں جو بہت جلد ایک دوسرے سے بغیر کسی رسمیتعارف کے مانوس ہو جاتے ہیں۔یہاں بھی ایک امتحانی لمحے کی جھجک کے بعد وہلوگ میری طرف دیکھ کر مسکرائے ، ایک لڑکے نے مجھ سے کہا، آؤ بھائی تم بھییہاں بیٹھ جاؤ اور اگر گانا چاہتے ہو تو گاؤ۔

اتنا کہہ کر اس نے دبلے پتلے لڑکے نے اپنے سر کے بال جھٹک کے پیچھے کر لئیے اور اپنا لکڑی کے بکس کا طبلہ بجانے لگا، ہم سب لوگ مل کر پھر گانے لگے۔

تیرا میرا

میرا تیرا

پیار ہو گیا

یکایک اس دبلے پتلے لڑکے نے طبلہ بجانا بند کر دیا اور اپنے ایکساتھی کو جو اپنی گردن دونوں ٹانگوں میں دبائے اکڑوں بیٹھا تھا، ٹہو کا دے کے کہا، ابے مدھو بالا تو کیوں نہیں گاتے۔

مدھو بالا نے اپنا چہرہ ٹانگوں میں بڑی وقت سے نکالا، اس کا چہرہمدھو بالا ایکٹرس کی طرح حسین نہیں تھا، ٹھوڑی سے لے کر دائیں ہاتھ کی کہنیتک آگ سے جلنے کا ایک بہت بڑا نشان یہاں سے وہاں تک چلا گیا تھا، اس کے چہرے پر کرب کے آثار نمایاں تھے ، اس کی چھوٹی چھوٹی آنکھوں میں جو اس کے گول چہرے پر دو کالی درزیں معلوم ہوتی تھیں انتہائی پریشانی جھلک رہی تھی،اس نے اپنے ہونٹ سیکڑ کر طبلے والے سے کہا سالے مجھے رہنے دے میرے پیٹ میں درد ہو رہا ہے۔

کیوں درد ہوتا ہے ، سالے تو نے آج پھر ایرانی پلاؤ کھایا ہو گا؟

مدھو بالا نے بڑے دکھ سے سر ہلایا، ہاں وہی کھایا تھا۔

کیوں کھایا تھا سالے

کیا کرتا ، آج صرف تین جوتے بنائے تھے

جو عمر میں ان سب سے بڑا معلوم ہوتا ہے تھا، جس کی ٹھوڑی پر تھوڑیداڑھی اگی تھی اور کنپٹیوں کے بال رخساروں کی طرف بڑھ رہے تھے اپنی ناککھجاتے ہوئے کہا، اے مدھو بالا، اٹھ میدان میں دوڑ لگا ، چل میں تیرے ساتھدوڑتا ہوں ، دو چکر لگانے سے پیٹ کا درد ٹھیک ہو جائے گا۔

نہیں بے رہنے دے

نہیں بے سالے اٹھ، نہیں تو ایک جھانپڑ دوں گا۔

مدھو بالا نے ہاتھ جوڑ کر کہا، ککو رہنے دو، میں تیری منت کرتا ہوں ، یہ پیٹ کا درد ٹھیک ہو جائے گا۔

اٹھ بے ، کیوں ہماری سنگت خراب کرتا ہے۔

ککو نے ہاتھ بڑھا کر مدھو بالا کو اٹھایا اور وہ دونوں یونیورسٹی کے گراؤنڈ میں چکر لگانے لگے ، پہلے تو تھوڑی دیر تک ان دوڑتے ہوئے لڑکوں کیطرف دیکھتا رہا، پھر جب میرے قریب بیٹھے ہوئے لڑکے نے سر کھجا کے کہا،سالی کیا مصیبت ہے ایرانی پلاؤ، کھاؤ تو مصیبت اور نہ کھاؤ تو مصیبت۔

میں نے کہا بھائی پلاؤ تو بڑے مزے کی چیز ہے ، اسے کھانے سے پیٹدرد کیسے ہو سکتا ہے ؟ میری بات سن کر وہ ہنسے ، ایک لڑکے نے جس کا نام بعدمیں مجھے کلدیپ کور معلوم ہوا اور جو اس وقت ایک پٹھی ہوئی پنڈی اور ایکپھٹی نیکر پہنے ہوئے ہے ، مجھ سے ہنس کر کہا، معلوم ہوتا ہے تم نے ایرانیپلاؤ کبھی نہیں کھایا۔

کلدیپ کور نے اپنی بنڈی کے بٹن کھولتے ہوئے مجھے بتایا کہ ایرانیپلاؤ ان لوگوں کی خاص اصطلاح ہے ، اسے ایسے لوگ روز روز نہیں کھاسکتے لیکنجس دن لڑکے نے جوتے بہت کم پالش کئے ہوتے ہیں یا جس دن اس کے پاس بہت کمپیسے ہوتے ہیں اس دن اسے ایرانی پلاؤ ہی کھانا پڑتا ہے اور یہ پلاؤ سامنے کے ایرانی ریستوران سے رات کے بارہ بجے کے بعد ملتا ہے ، جس سب گاہک کھاناکھا کر چلے جاتے ہیں ، دن بھر میں لوگ ڈبل روٹی کے ٹکڑے اپنی پلیٹوں میں چھوڑ جاتے ہیں ، ڈبل روٹی کے ٹکڑے گوشت اور ہڈیاں چچوڑی ہوئی، چاول کے دانے ،آملیٹ کے ریزے ، آلوؤں کے قتلے ، یہ سارا جھوٹا کھانا ایک جگہ جمع کر کے ایکملغوبہ تیار کر لیا جاتا ہے اور ملغوبہ دو آنے پلیٹ کے حساب سے بکتا ہے ،پیچھے کچن کی دروازے پر اسے ایرانی پلاؤ کہا جاتا ہے ، اسے عام طور پراسعلاقے کے غریب لوگ بھی نہیں کھاتے پھر بھی ہر روز دو تین سو پلیٹیں بک جاتیہیں ، خریداروں میں زیادہ تر جوتے پالش کرنے والے ، فرنیچر ڈھونے والے ،گاہکوں کیلئے ٹیکسی لانے والے ہوتے ہیں یا آس پاس کے بلڈنگوں میں کام کرنے والے مزدور بھی ہوتے ہیں۔

میں نے کلدیپ کور سے پوچھا تمہارا نام کلدیپ کور کیوں ہے ؟ کلدیپ کورنے اپنی بنڈی بالکل اتار دی اور اب وہ بڑے مزے سے لیٹا ہوا ہے اپنا سیاہ پیٹسہلا رہا تھا، وہ میرا سوال سن کر وہیں گھاس پر لوٹ پوٹ ہو گیا، پھر ہنسچکنے کے بعد اپنے ایک ساتھی سے کہنے لگا

ذرا میرا بکسا لانا۔

ساتھی نے کلدیپ کور کو بکسا دیا، کلدیپ کور نے بکسا کھولا، اس میں پالش کا سامان تھا، پالش کی ڈبیوں پر کلدیپ کور کی تصویر بنی ہوئی تھی،پھر اس نے اپنے ایک ساتھی سے کہا، تو بھی اپنا بکسا کھول اس نے بھی اپنابکسا کھولا ، اس بکس میں پالش کی جتنی چھوٹی بڑی ڈبیاں تھیں ان پر نرگس کیتصویریں تھیں ، جو رسالوں اور اخباروں کے صفحوں سے کاٹ کر لگائی گئی تھیں۔

کلدیپ کور نے کہا یہ سالا نرگس پالش مارتا ہے ، وہ نمی کا وہثریا کا، ہم میں جتنا پالش والا ہے ، کسی نہ کسی فلم ایکٹریس کی تصویریں کاٹکر اپنے ڈبوں پر لگاتا ہے اس کا پالش مارتا ہے۔

سالا گاہک ان باتوں سے بہت خوش ہوتا ہے ، ام اس سے بولتا ہے ، صاحبکون سا پالش لگاؤں ، نرگس کہ ثریا کہ مدھو بالا؟ پھر جب گاہک جس فلم کیایکٹریس کو پسند کرتا ہے ، اس کا پالش مانگتا ہے ، ہم اس کو اس لڑکے کے حوالے کر دیتا ہے جو نرگس کا پالش یا نمی کا یا کسی دوسری فلم ایکڑس کاپالش مارتا ہے ، ہم آٹھ لڑکے ہیں ، ادھر سامنے چرچ گیٹ پر سے بس اسٹینڈ کے پیچھے بیٹھتے ہیں ، جس کے پاس جس ایکڑس کا پالش ہے وہ ہی اس کا نام لے گا،اسی سے ہمارا دھندا بہت اچھا چلتا ہے اور کام میں مجا آتا ہے۔

میں نے کہا تم اور بس اسٹینڈ کے نیچے فٹ پاتھ پر ایرانی ریستوران کے سامنے بیٹھے ہوں تو پولیس والا کچھ نہیں کہتا؟

کلدیپ کور اوندھے منہ لیٹا ہوا تھا، اب سیدھا ہو گیا، اس نے اپنے ہاتھ کے انگوٹھے کو ایک انگلی سے دبا کر اسے یکایک ایک جھٹکے سے یوں نچایاجیسے وہ فضا میں اکنی اچھال رہا ہوں ، بولا وہ سالا کیا کہے گا؟۔

اسے پیسہ دیتا ہے اور یہاں اس میدان میں جو سوتا ہے اس کا بھیپیسہ دیتا ہے ، پیسہ؟ اتنا کہہ کر کلدیپ کور نے پھر انگوٹھے سے ایک خیالیاکنی ہوا میں اچھالی اور فضا میں دیکھنے لگا، اور پھر دونوں ہاتھ کھول کردیکھا ، مگر دونوں خالی تھے کلدیپ کور بڑی مزے دار اور تلخی سے مسکرادیا،اس نے کچھ نہیں کیا چپ چاپ اوندھا لیٹ گیا۔

نرگس نے مجھ سے پوچھا تم ادھر داور میں پالش مارتے ہو ؟ میں نے تم کو ویزاں ہوٹل کے سامنے دیکھا ہے۔

میں نے کہا، ہاں مجھ کو بھی ایک پالش والا ہی سمجھو۔ایک طرح سے۔

ایک طرح سے کیا؟ کلدیپ کور اٹھ کر بیٹھ گیا، اس نے میری طرف گھور کر دیکھا، سالہ سیدھے بات کرو نا، تم کیا کام کرتا ہے ؟

اس نے کہا میں بہت خوش ہوا، کوئی اور کہتا تو میں اسے ایک جڑ دیتا،مگر جب اس لڑکے نے مجھے سالا کہا تو میں بہت خوش ہوا کیونکہ سالا گالی کالفظ نہیں تھا ، برادری کا لفظ تھا، ان لوگوں نے مجھے اپنی برادری میں شاملکر لیا تھا، اس لئے میں نے کہا ، بھائی ایک طرح سے میں بھی پالش والا ہوں ،مگر میں لفظ پالش کرتا ہوں اور کبھی کبھی پرانے میلے چمڑوں کو کھرچ کے دیکھتا ہوں کہ ان کی بوسیدہ تہوں میں کیا ہے۔

نرگس اور نمی ایک دم بول اٹھے ، تو سالہ پھر گڑ بڑ گھوٹالا کرتا ہے ، صاف صاف کیوں نہیں بولتا کیا کام کرتا ہے۔

میں نے کہا۔میرا نام بش ہے ، میں کہانیاں لکھتا ہوں۔

اوہ تو بابو ہے نمی بولا، نمی ایک چھوٹا سا لڑکا تھا ، یہاں دائرے میں جتنے لڑکے تھے ان سب میں سب سے چھوٹا ، مگر اس کی آنکھوں میں ذہانت کی تیزچمک تھی اور چونکہ وہ اخبار بھی بیچتا تھا، اس لئیے اسے مجھ سے دلچسپیپیدا ہو گئی تھی، اس نے میرے قریب قریب آ کر کہا ، کون سے اخباروں میں لکھتے ہو؟ پھری ریس ،سنٹل ٹایمس، بمبئے کرانیکل، میں سب اخباروں کو جانتا ہوں۔

وہ بڑھ کر میرے قریب آ گیا۔

میں نے کہا میں شاہراہ میں لکھتا ہوں۔

ساہرہ؟ کون نوز پیپر ہے ؟

دہلی سے نکلتا ہے۔

دلی کے چھاپے خانے سے وہ؟ نمی کی آنکھیں میرے چہرے پر پھیل گئیں۔

اور اب ادب لطیف میں لکھتا ہوں ، میں نے رعب ڈالنے کیلئے کہا۔

کلدیپ کور ہنسنے لگا۔ کیا کہا بدبے خلیف میں لکھتا ہے ،سالے یہ توکسی انگلش فلم ایکٹریس کا نام معلوم ہوتا ہے ، بدبے خلطیف آہا آہا آہا، ابے نمی تو اپنا نام بدل کر خلطیف رکھ لے ، بڑا اچھا نام مالوم ہو گا،ہاہاہاہا جبسب لڑکے ہنس چکے تو میں نے بڑی سنجیدگی سے کہا، بدبے خلطیف نہیں ، ادب ،ادب لطیف، لاہور سے نکلتا ہے ، بہت اچھا پیپر ہے۔

نرگس نے بے پرواہی سے سر ہلا کے کہا، ہاں سالے ہو گا ادب لطیف ہی ہو گا ہم کو کیا، ہم اس کو بیچ کے ادھر پیسہ تھوڑی کماتے ہیں۔

تقریباً اتنا ہی جتنا تمھیں ملتا ہے ، اکثر کچھ بھی نہیں ملتا جبمیں لفظوں پر پالش کر چکتا ہوں تو اخبار والے شکریہ کہہ کر مفت لے جاتے ہیں اور اپنی رسالے یا اخبار کو چمکا لیتے ہیں۔

تو خالی مغز ماری کیوں کرتا ہے۔ہماری طرح پالش کیوں نہیں کرتا، سچ کہتاہوں تو بھی آجا ہماری برادری میں ، بس تیری ھی کسر تھی، اور تیرا نام ہمبدبے خلطیف  ہی رکھ دیں گے ، لا ہاتھ میں نے کلدیپ کور سے ہاتھ ملایا۔

کلدیپ کور کہنے لگا، مگر چار آنے روز پولیس والے کو دینے پڑیں گے۔

اور اگر کسی روز چار آنے نہ ہوئے تو؟

تو ہم کو مالوم نہیں ، کسی سے مانگ ، چوری کر ڈاکہ ڈال، مگر سنتریکو چار آنے دینے پڑیں گے اور مہینے میں دو دن حوالات میں رہنا پڑے گا۔

ارے وہ کیوں ؟

یہ ہم نہیں جانتے ، سنتری کو ہم ہر روز چار آنے دیتے ہیں ہر ایکپالش والے دیتا ہے ، پھر بھی سنتری ہر مہینے میں دو دفعہ ہم کو پکڑ کے لے جاتا ہے ، ایسا اس کا قاعدہ ہے ، وہ بولتا ہے ، ام کیا کریں۔

میں نے کہا، اچھا دو دن حوالات میں بھی گزار لیں گے۔

اور کلدیپ کور نے کہا ، تم کو مہینے میں ایک بار کورٹ بھی جانا پڑے گا، تمہارا چالان ہو گا، کمیٹی کے آدمی کی طرف سے ، تم کو کورٹ میں بھیجانا پڑے گا دو روپے یا تین روپے وہ بھی تم کو دینا پڑے گا۔

وہ کیوں ؟جب میں چار آنے سنتری کو دیتا ہوں ، پھر ایسا کیوں ہو گا؟

ارے یار سنتری کو بھی تو اپنی کار گزاری دکھانی ہے نہیں ، تو سمجھتا نہیں ہے سالے بدبے خلطیف؟

میں نے آنکھ مار کر کلدیپ کور سے کہا، سالے سمجھتا ہوں ، ہم دونوں ہنسنے لگے ، اتنے میں مدھو بالا اور ککو دونوں میدان کے چکر لگا کر پسینے میں ڈوبے ہوئے واپس آئے۔

مین نے مدھو بالا سے پوچھا، تمہارا پیٹ کا درد غائب ہو گیا۔

مدھو بالا  نے کہا درد تو غائب ہو گیا، مگر اب بھوک بڑے زور سے لگی ہے۔

نرگس نے کہا اور مجھے بھی۔

تو کیا پھر ایرانی پلاؤ آئے گا؟ پھر پیٹ میں درد ہو گا، پھر میدان کے چکر اور پھر بھوک؟ کلدیپ کور نے بڑی تلخی سے کہا۔

نمی نے کہا میں دو پیسے دے سکتا ہوں

میں نے کہا ایک آنہ میری طرف سے

سب سے مل کر چار آنے ہوئے ، نمی کو ایرانی پلاؤ لانے بھیجا گیا کہ سبسے چھوٹا وہی تھا، پھر ایرانی ریستوران کا باورچی اسے پسند بھی کرتا تھا،ممکن ہے نمی کو دیکھ کر چار آنے میں دو پلیٹوں کے بجائے تین پلیٹں یا کم ازکم تین پلیٹوں کا مال مل جائے۔

جب نمی چلا گیا تو میں نے پوچھا کیا تم لوگ روز یہیں سوتے ہو؟

مدھو بالا کے سوا سب یہیں سوتے ہیں ، ککو نے کہا، مدھو بالا اپنے گھر میں جاتا ہے ، مگر آج نہیں گیا۔

میں نے مدھو بالا سے پوچھا تمہارا گھر ہے۔

ہاں ، سائیں میں ایک جھونپڑا ہے ، ماں وہاں رہتی ہے۔

اور باپ؟

مدھو بالا نے کہا باپ؟ کا مجھے کیا پتہ؟ ہو گا سالا سامنے والی بلڈنگ کا سیٹھ

یکایک وہ سب چپ ہو گئے ، جیسے کسی نے ان کے چہرے پر چپت مار دی ہو،لڑکے جو بے آسراتھے ، بے گھر تھے ، بے نام تھے ، جنہوں نے اپنی زندگی میں کبھی نہ آنے والی محبت کو فلمی گانوں سے بھرنے کی کوشش کی تھی۔

تیرا میرا پیار ہو گیا، کدھر ہے تیرا پیار؟ اے میرے باپ اے میری ماں اے میرے بھائی تو کون ہے ؟ تو کون تھا؟ کس لئے تو مجھے اس دینا میں لے آیا اور ان سخت بے رحمعمارتوں کے ٹایلس زدہ فٹ پاتھوں پر دھکے کھانے کے لئے چھوڑ دیا گیا، ایکلمحے کے لئے ان لڑکوں کے فق فریادی چہرے کسی نا معلوم ڈر سے خوفزدہ ہو گئے اور بڑی سختی سے انہوں نے ایک دوسرے کے ہاتھ پکڑ لئیے ، جیسے کہیں سے انہیں آسرانہ ملا، جسیے اس شہر کی ہر بڑی عمارت ہر فٹ پاتھ اور ہر چلنے والے قدمنے انہیں ٹھکرا دیا، اور انہیں مجبور کر دیا کہ وہ رات کی تاریکی میں ایکدوسرے کا ہاتھ پکڑ لیں مجھے وہ اس لئیے ہی خوفزدہ اور معصوم معلوم ہو رہے تھے ، جیسے بھولے بھالے بچے کسی نا معلوم بے کنار جنگل میں کھو جائیں ، اسیلئے کبھی کبھی مجھے ایک شہر نہیں معلوم ہوتا ہے ، جس میں معاشرے کے بے ناماولاد سڑکوں کی بھول بھلیوں میں اپنا راستہ ٹٹولتی ہے اور جب راستہ نہیں ملتا تو آنکھیں بند کر کے ایک درخت کے نیچے بیٹھ جاتی ہے ، پھر میں سوچتاہوں ایسا نہیں ہے۔

بمبئ ایک جنگل نہیں ہے ، شہر ہے ، لوگ کہتے ہیں ، اس کی ایک میونسپلکارپوریشن ہے ، اس کی ایک حکومت ہے ، ایکنظام ہے ، اس کی گلیاں ہیں ، بازار ہیں ، دکانیں ہیں ، راستے ہیں اور گھر ہیں اور یہ سب ایک دوسرے سے ایسے جڑے ہوئے ہیں جیسے ایک مذہب اور متمدن شہرمیں چیزیں ایک دوسرے سے منسلک ہوتی ہیں ، یہ سب میں جانتا ہوں ، اس کے راستے اور گھروں کو پہچانتا ہوں ، ان کی عزت و احترام کرتا ہوں ، لیکن اس عزت اوراحترام ، اس محبت کے باوجود میں کیوں دیکھتا ہوں کہ اس بمبئ شہر میں کتنیہی گلیاں ایسی ہیں جن سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے ، کتنے ہی راستے ایسے ہیں جو کسی منزل کو نہیں جاتے ، کتنے ہی بچے ایسے جن کیلئے کوئی گھرنہیں ہے ، یکایک اس خاموشی کو نمی نے توڑ دیا، وہ بھاگتا ہوا ہمارے پاس آیا،اس کے ہاتھ میں ایرانی پلاؤ کی تین پلیٹیں تھیں ، ان سے گرم گرم سوندھاسوندھا دھواں اٹھ رہا تھا، جس اس نے پلیٹیں لا کر گھاس پر رکھ دیں ، تو ہمنے دیکھا کہ نمی کی آنکھوں میں آنسو ہیں۔

کیا ہوا؟

کلدیپ کور نے پوچھا؟

نمی نے غضب ناک لہجے میں کہا۔

باورچی نے بڑے زور سے یہاں کاٹ کھایا۔

نمی نے اپنا بایاں رخسار ہماری طرف کر دیا۔

ہم نے دیکھا بائیں رخسار پر بہت بڑا نشان تھا۔

کلدیپ کور نے باورچی کو گالی دیتے ہوئے کہا

حرام زادہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مگر اس کے بعد وہ سب لوگ ایرانی پلاؤ پر ٹوٹ پڑے۔