کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

بھاری چیز

اشتیاق احمد


ہماری زندگی بھی کیا زندگی ہے۔ جب دیکھو۔ دوڑ دھوپ ہو رہی ہے۔ فرزانہ نے سرد آہ بھر کر کہا۔

وہ دیکھو۔ ہمارے سروں پر سیا ہ بادل آ گیا۔ دھوپ یہاں سے ہٹ گئی۔ اب ہماری زندگی دوڑ دھوپ نہیں دوڑ بادل بن گئی ہے۔ فاروق مسکرایا۔ دماغ چل گیا ہے شاید۔ محمود نے اسے گھورا۔ یہ تمہارا خیال ہے جو کہ سند نہیں فاروق بولا۔ میرا خیال ہے بہت جلد ہم کہیں الجھنے والے ہیں۔ فرزانہ نے کہا۔ فضول خیال ہے۔ الجھ کر ہی تو آ رہے ہیں اب اور کیا الجھیں گے۔ کتنے دن ہو گئے ہمیں گھر سے نکلے ہوئے۔ اب فارغ ہوئے ہیں تو تم کہ رہی ہو کہ ہم الجھنے والے ہیں کم از کم ایک بار گھر تو چلے جائیں اس کے بعد الجھ جائیں گے۔

اگر تقدیر نے گھر جانے کا وقت دیا تبھی جائیں گے نا وہ دیکھو ایک عمارت نظر آ رہی ہے۔ ہم کچھ دیر یہاں آرام کر کے آگے بڑھیں گے ۔ میں تو گاڑی چلا چلا کر بری طرح تھک گیا ہوں۔ محمود نے جلدی جلدی کہا۔

ابا جان۔ انکل خان رحمان اور پروفیسر انکل بھی ہمارے ساتھ آ جاتے تو کتنا اچھا تھا لیکن  ابا جان نے ہمیں پہلے بھیج دیا ہے کوئی تک فاروق نے جل بھن کر کہا۔

کوئی تک ہے تبھی تو انہوں نے ہمیں پہلے بھیج دیا ہے اگر تک نہ ہوتی تو وہ کیوں بھیجتے۔

عمارت بہت خوبصورت لگتی ہے چاروں طرف سبزہ زار بھی ہے میں تو کہتا ہوں یہیں رک کر ابا جان اور انکلز کا انتظار کر لیتے ہیں  فاروق نے کہا۔ ہرگز نہیں ابا جان کا حکم ہے کہ ہم فوراً گھر پہنچیں گھر پہنچنے سے پہلے ہم کہیں رکنا پسند نہیں کریں گے۔ یہ ان کے حکم کی خلاف ورزی ہو گی۔ عین اسی وقت ٹائر پھٹنے کی آواز گونجی۔ ساتھ ہی فاروق نے قہقہہ لگایا۔ اب بھی رکو گے یا نہیں۔

ہرگز نہیں ٹائر تبدیل کر کے آگے بڑھ جائیں گے۔ اب شاید تمہارا دماغ چل گیا ہے۔ فاروق نے منہ بنایا۔ فاروق ٹھیک کہ رہا ہے محمود۔

کیا ٹھیک کہہ رہا ہے ؟

یہ کہ تمہارا دماغ چل گیا ہے۔ فرزانہ مسکرائی

پاگل ہو گئی ہو کیا بھلا میرا دماغ کیوں چلنے لگا دماغ کی بھی ایک ہی کہی۔ چلنے کو اس دنیا میں کیا نہیں چل سکتا۔ فاروق بولا۔ ہاں یاد آیا۔ ایک ٹائر تو پہلے ہی پنکچر ہو چکا ہے ارے باپ رے۔ خیر ہم اس عمارت والوں سے مد د مانگ لیتے ہیں شاید یہاں سے کوئی ٹائر مل جائے اس صورت میں بھی ہمیں رکنا تو پڑے گیا نا۔ اسے رکنا نہیں کہتے محمود نے فوراً کہا۔ بھئی تم شوق سے اسے رکنا نہ کہو میں کہ لیتا ہوں۔ رکنا۔ بلکہ ٹھہرنا۔ قیام کرنا۔ فاروق نے آنکھیں نکالیں۔

بس بس اتنی باہر نہ نکالو یہ آنکھیں کہیں بالکل ہی باہر آ کر گالوں پر نہ اٹک جائیں فرزانہ گھبرا گئی۔ پھر ان کو گالوں پر اٹکنے کی کیا ضرورت رہ جائے گی فاروق نے منہ بنایا۔ اچھا آؤ۔ ٹائر کا پتا کریں۔ محمود بولا۔ ٹائر کی بجائے کہیں ہمیں کسی اور چیز کا پتا نہ چل جائے۔ فاروق نے کہا۔ میں نے ٹائر کا پتا کرنے کی بات کی ہے۔ پتا چلنے کی نہیں۔ حد ہو گئی۔ تم دونوں تو بس ایک دوسرے سے لڑنے پر تلے رہتے ہو کوئی موقع تو خالی جانے دیا کرو۔ تمہیں خالی موقعوں کی آخر ایسی کیا ضرورت ہے۔ فاروق نے حیران ہو کر کہا اور فرزانہ اسے گھور کر رہ گئی۔ مم۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے۔ کس سے۔ فرزانہ کی آنکھوں سے ؟

نن۔ نہیں اس عمارت سے فاروق نے واقعی خوف زدہ ہو کر کہا۔ لو۔ اب یہ حضرت عمارتوں سے بھی ڈرنے لگے۔

عمارتیں ہی تو ہوتی ہیں جن سے ڈرا جاتا ہے۔ تم نے نہیں سنا۔ بھوت بنگلہ ، چڑیل محل ، جنوں کا گھر۔ یہ تو شاید جھوٹے بچوں کی کہانیوں کی کتابوں کے نام ہیں۔جو فضول قسم کے لکھنے والے لکھتے رہتے ہیں

میرا خیال ہے۔ ہم باتوں میں وقت ضائع کر رہے ہیں۔ ہمیں فوراً اس عمارت میں پہنچنا چاہیے۔ اگر ٹائر مل گیا تو مزا آ جائے گا۔ فرزانہ نے کہا۔

نہیں ملا تو زیادہ مزا آئے گا۔ فاروق مسکرا کر بولا۔ لیکن ہم مزے کے پیچھے کیوں پڑیں۔ ہمیں تو بس گھر جانا ہے۔ آؤ۔

تینوں تیزی سے اس عمارت کی طرف قدم اٹھانے لگے اس کے گرد یہ خوب صورت باغ دیکھ کر میرا جی بے تحاشہ چاہنے لگا ہے کہ ہم کچھ دیر کے لیے یہاں رک جائیں فرزانہ بولی۔

لیکن ابا جان کے حکم کا کیا کریں۔ محمود نے کہا۔ انہوں نے خاص طور پر تو ہم سے یہ کہا نہیں کہ سیدھے گھر جائیں۔ راستے میں کہیں نہ رکیں۔ میں پھر بھی اسے مناسب نہیں سمجھتا۔ ہو سکتا ہے۔ شہر میں ہماری شدید ضرورت ہو اور ہم یہاں رک کر رہ جائیں۔ پھر ابا جان ضرور ہم پر بگڑیں گے۔

اچھا بابا۔ اللہ کرے ٹائر مل جائے پھر ہم سیدھے گھر ہی جائیں گے۔ بلکہ اگر تم کہو تو ہم ناک کی سیدھ میں چلے جائیں گے۔ بس خاموش۔ ہم عمارت کے نزدیک پہنچنے والے ہیں۔ لیکن اس عمارت کے نزدیک باتیں کرنا منع تو نہیں ہے۔ دھت تیرے کی محمود نے جھلا کر اپنی ران پر ہاتھ مارا لیکن اس کا ہاتھ فرزانہ کی کہنی پر لگا۔ تم تو کہنی اور ران میں پہچان بھی بھول گئے فرزانہ نے تلملا کر کہا۔ اوہ معاف کرنا فرزانہ۔ دراصل میرا ہاتھ پھسل گیا تھا۔ محمود نے گھبرا کر کہا۔

 تمہارا ہاتھ پھسل گیا۔ فاروق کی زبان پھسلتی رہتی ہے۔ آخر ہم گھر کس طرح پہنچیں گے۔ فرزانہ نے گھبرا کر کہا۔ ہاں واقعی۔ یہ بات تو قابل غور  ہے محمود بولا۔ بھئی دوسرا ٹائر تو جیسے اس عمارت والے تیار لیے بیٹھے ہیں  ہمارے لیے فرزانہ نے اسے گھورا

 ان کی کسی کار میں سے نکالنے کے لیے کتنا وقت لگ جائے گا۔ ارے واہ۔ یہاں تو چھے سات کاریں نظر آ رہی ہیں۔ سمجھ لو۔ بن گیا کام۔

امید تو یہی ہے لیکن ہو سکتا ہے یہ لوگ ہماری مد د نہ کریں۔

اس صورت میں ہم زبردستی ٹائر حاصل کریں گے۔ محمود نے کہا یہ تو شرافت نہیں۔ لیکن کسی کی مصیبت میں کام نہ آنا بھی تو شرافت نہیں۔ محمود بولا۔ وہ یہ خیال کر سکتے ہیں کہ ہم ان کا ٹائر واپس کرنے نہیں آئیں گے۔

اگر وہ یہ خیال ظاہر کریں گے تو ہم ٹائر کی قیمت انہیں دے دیں گے۔ اس صورت میں تو وہ کوئی اعتراض نہیں کریں گے نا۔ اس صورت میں بھی اگر اعتراض کریں گے تو ہم ان کے اعتراض کی ایسی کی تیسی کر دیں گے۔ ایسی کی تیسی کرنے سے یہ کہیں بہتر ہے کہ ہم ان کی تیسی کی ایسی کریں۔ فاروق نے کہا۔ وہ تم کرنا محمود نے جل کر کہا۔ اور فرزانہ کیا کرے گی۔ تم دونوں کا انتظار۔ کم از کم ٹائر مانگنے کے سلسلے میں میں تمہارا ساتھ نہیں دوں گی۔ تم ضرور اوٹ پٹانگ طریقہ اختیار کرو گے۔ فرزانہ نے گھبرا کر کہا۔

اچھا تو پھر تم یہیں ٹھہرو۔ ہم ٹائر لے کر ابھی آتے ہیں۔ شکریہ میں بھی یہی چاہتی ہوں یہ کہہ کر فرزانہ کرک گئی۔ دونوں منہ بنا کر آگے بڑھ گئے۔ اس کا خیال ہے ہمیں ٹائر نہیں ملے گا۔ جب کہ ہم یہاں سے ایک دو نہیں پورے سات ٹائر حاصل کر سکتے ہیں فاروق نے کہا۔ لیکن یار ہم اتنے ٹائروں کا کریں گے کیا۔ محمود نے گھبرا کر کہا۔ اوہو۔ بھئی میں نے کہا ہے حاصل کر سکتے ہیں ، یہ نہیں کہا کہ حاصل کریں گے۔حاصل تو ہم صرف ایک کریں گے۔ لیکن اگر نہ کر سکے تو فرزانہ بہت مذاق اڑائے گی۔ محمود بولا۔ دونوں دروازے پر پہنچ گئے۔ گیٹ کھلا تھا وہ بے دھڑک اندر داخل ہو گئے لیکن پھر ٹھٹک کر رک گئے ساتھ ہی دیوار پر ہاتھ سے لکھا ایک پوسٹر لگا تھا اس کے الفاظ پڑھ کر انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ یہ۔ یہ۔ یہ کیا ؟ فاروق نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا۔

شش۔ شاید۔ ایک عدد کیس۔ محمود نے بھی ہکلا کر کہا۔

آؤ۔ فوراً۔ یہاں سے نکل جائیں ، ورنہ یہ کیس ہمیں چمٹ جائے گا۔ کسی بھوت کی طرح۔ لل۔ لیکن ٹائر کے بغیر۔

بھئی ٹائر کسی اور سے لے لیں گے۔ وہاں اس پوسٹر سے تو واسطہ نہیں پڑے گا۔ اچھی بات ہے۔ محمود نے کہا۔ دونوں فوراً واپس مڑے اور فرزانہ کی طرف بڑھنے لگے۔ ابھی تک انہیں کسی نے نہیں دیکھا تھا۔ فرزانہ نے جب انہیں خالی ہاتھ آتے دیکھا تو بھنا اٹھی۔ میں نے پہلے ہی کہا تھا۔ تم ٹائر نہیں لا سکو گے۔ اب تم یہاں ٹھہرو میں ٹائر لا کر دکھاتی ہوں۔

 تم ٹائر لاؤ گی۔ میں کہتا ہوں۔ رہنے ہی دو۔ کہیں یہ عمارت ہمارے گلے نہ پڑ جائے۔ فاروق نے جلدی جلدی کہا۔ کیا باتیں کر رہے ہو۔ عمارت گلے نہ پڑ جائے۔ اس نے بوکھلا کر کہا۔

اگر ہماری باتیں تمہیں کسی پاگل کی باتیں لگتی ہیں تو جاؤ۔ جا کر ٹائر لے آؤ۔ محمود نے جل کر کہا۔ لگتی تو خیر ہیں۔ لہذا میں جا رہی ہوں۔ اور وہ پیر پٹختی چلی گئی۔ لیکن جلد ہی اس کی بھی واپسی ہو گئی۔ تم نے وہاں دیوار پر لگا پوسٹر پڑھا؟ فرزانہ نے کھوئے کھوئے انداز میں کہا۔ ہاں اور عمارت کے دروازے پر یا اندر کوئی نظر بھی نہیں آیا۔ ہاں اس کا مطلب ہے۔ شاید۔ اندر کوئی واردات ہو چکی ہے۔

ارے باپ رے۔ فاروق نے کہا اور تھر تھر کانپنے لگا۔ بھئی اب تمہیں کانپنے کی اتنی بھی ضرورت نہیں۔ جتنا کہ کانپ رہے ہو۔ آؤ دیکھتے ہیں۔ کیا چکر ہے۔ فرزانہ نے کہا۔ دیکھ لو۔ کہیں لینے کے دینے نہ پڑ جائیں۔ فاروق نے کہا۔ اور ہم تینوں کو لینے کے دینے کب نہیں پڑتے۔ یہ تو ہمارا مقدر ہے۔ فرزانہ مسکرائی۔

تینوں ایک ساتھ عمارت کے دروازے پر پہنچے ، اس سے پہلے وہ سبزہ زار کو تعریف بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے آئے تھے۔ جونہی وہ دروازے پر پہنچے۔ ایک بھاری چیز ان پر آ گری۔