کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

خمیازہ

کرشن چندر


آپ مجھے پہچان گئے جی ہاں میں ہی ا کرام علی شاہ بین الاقوامی شہرت یافتہ فوٹو گرافر ہوں ، کلب کے باہر شربتی رنگ کی جو ٹویوٹا گاڑی کھڑی ہے، وہ مجھے پچھلے سال جاپان کی ایک فوٹو گرافک نمائش میں اول آنے پر انعام میں  ملی تھی اور یہ پولو رائیڈ کیمرہ اور آئی کن زیوس کیمرہ دونوں مجھے  نیویارک میں نمائش میں دوسرے نمبر پر آنے پر ملے تھے، جی ہاں ، آپ نے  مجھے جس فاران لڑکی کے ساتھ میرین ڈرائیور پر اکثر گھومتے دیکھا ہے، بمبیی میں وہ ماریسا تھی، میری ماڈل، میں نے سمندر کی کنارے اس کی بہت سے تصویریں لی ہیں ، مجھے عورت اور سمندر میں زیادہ فرق نظر نہیں آتا ہے، دونوں کی شخصیت پر اسرار ہے، دونوں بلا وجہ طوفانی ہو جاتے ہیں ، کبھی بلاوجہ شانت، ابھی سمندر کی لہریں پیار کرنے والی عورت کی طرح ساجل کو اپنی انگلیوں سے گد گداتی ہیں ، چند لمحوں بعد یہی کمزور لہر مہیب اچھال بن کر ساجل کو کاٹنے لگتی ہے، نہ سمندر سمجھ میں آتا ہے نہ عورت، شاید اسی لئے ان دونوں میں بے جد کشش محسوس کرتا ہوں ۔  آپ نے ابھی عورت کے مجہول اور بے وقوف ہونے کی وجوہات کہی تو اس سلسلے میں ایک قصہ سناتا ہوں ، قصہ کیا ہے، واقعہ ہے، ذرا وہسکی اور لے  لوں ، جام خالی ہے، بیرہ، ادھر گلاس میں ایک ڈبل ڈمپل مارو۔  ہم سب پہلگام کلب کی بار کے اونچے اونچے اسٹولوں پر بیٹھے ہوئے عورتوں  کی معصومیت، انجان پن اور حماقتوں کے قصے بیان کر رہے تھے، کیونکہ ہم میں کوئی عورت نہیں تھی اور تین تین پیگ اندر جا چکے تھے، ا کرام علی کا البتہ یہ پانچواں ہو گا، اس کا چہرہ انار کی طرح سرخ تھا، اس نے پولو نیک کا گلابی رنگ کا موٹا سوئیٹر پہن رکھا تھا اور گہری بزکارڈ مخمل کی بیل باٹ، دونوں گھنی بھویں ماتھے کے بیچ آ کر مل گئی تھیں ، اس کی آنکھوں میں ایک تیز عیار چمک تھی، جب ہنستا تھا تو اس کے چہرے پر ایک کامیاب اور کھڑے  ہوئے لفنگے کی مطمئن بے فکری چھا جاتی، مگر ایسی بے فکری جس میں  ایک رنگ ذہانت کا بھی تھا اور وہ ذہانت اس کی آنکھوں میں تھی۔  ا کرام علی وہسکی کے دو گھونٹ لئے، گلاس اٹھا کر اسے دو تین بار مختلف زاویوں سے ابر کی سنگ مر مر سطج پر دائرے بنائے، غالباً  وہ سوچ رہا تھا، کہاں سے شروع کرے، پھر جیسے اس کی سمجھ میں پورا واقعہ آگیا۔  یہ چار دن پہلے کا واقعہ ہے اور اب اسے سنانے میں کوئی اندیشہ بھی نہیں ہے  کیونکہ وہ لڑکی یہاں سے جا چکی ہے، آج سے چار دن پہلے میں نے اس لڑکی کو غلام بٹ کے جنرل اسٹور میں خریداری کرتے ہوئے دیکھا تھا، کندھے سے  لٹکے ہوئے جھولے میں لنچ باکس تھی اور وہ غلام بٹ کے پھلوں کے ڈبے، خرید  Tinned Foodsمکھن کا ڈبہ، سامن مچھلی کا ڈبہ اور دوسری بہت سی رہی تھی، میں اسے دیکھ کر ٹھٹھک گیا، کیونکہ میں نے پہلی نظر میں اسے ‫‫پہچان لیا تھا، جیسے آپ نے پہلی نگاہ میں مجھے پہچان لیا، یہ سجاتا تھی۔  سجاتا کو آپ نہیں جاتے ؟ حیرت ہے، سجاتا کا شمار بمبئی کی جیسن ترین لڑکیوں میں ہوتا تھا، ایک زمانے میں اس کا بڑا غلبہ تھا کچھ عرصے تک اس نے فلموں میں بھی کام کیا، مگر چلی نہیں ، فلم میں چلنے کے لئے مشکل کے  علاوہ تھوڑی سی عقل بھی چاہئیے، خوب صورت عورت کو زیادہ عقل کی ضرورت نہیں ، لیکن پھر بھی تھوڑی سی تو چاہئیے، یعنی آٹے میں نمک کے  برابر، میں نہیں کہہ سکتا ہوں فلموں میں کیوں نہیں چلی کیونکہ میرا تعلق کسی فلم نہیں ہے، اس کے بعد سنا ہے، وہ لندن جا کر ماڈلنگ کرنے لگی، مگر وہاں  بھی زیادہ نہیں چلی، کیونکہ ہندوستانی لڑکی تھی اور یورپین لوگ زیادہ تر یورپین لڑکیوں کے خد و خال ہی پسند کرتے ہیں ، پھر وہ واپس ہندوستان آگ اور کرمان اینڈ سنن بک سیلز اینڈ پبلشر کے ہاں کتابیں بیچنے لگے، مگر وہاں بھی اس کا دل نہیں لگا، کیونکہ خوب صورت عورت خود ایک کتاب ہوتی ہے، کئی باب میں تقسیم کے بعد اس نے توبہ کر لی اور اپنے لئے ایک شوہر ڈھونڈنے  لگی۔  یہ سب باتیں میں اس لئے جانتا ہوں کہ میں ایڈورڈ ایوی نیو میں رہتا ہوں اور سجاتا آرام ایوی نیو میں رہتی ہے، جو ایڈورڈ ایوی نیو سے ملحق ہے، ایڈورڈ ایو نیو کے نکڑ پر جی وائین کا جنرل اسٹور ہے، یہاں پر کبھی کبھار میری اور اس کی ملاقات ہو جاتی ہے، گو گفتگو کی کبھی نوبت نہیں آئی، اس جنرل اسٹور میں وہ تصویر کشی کے کاغذ خریدنے آتی تھی اور میں اپنی فوٹو گرافی کا سامان، کئی بار ہم کاؤنٹر پر ساتھ ساتھ کھڑے دیکھے گئے، ایک دو بار میری اور اس کی کہنی کے درمیان ایک دو انچ کا فاصلہ رہ گیا، مگر اس بات چیت کی نوبت نہیں آئی کیونکہ، سجاتا اپنے جسن پر اپنے سنہری بالوں پر اپنے  کٹیلے سرخ لبوں پر اپنی بھوری بھوری آنکھوں پر بے جد مغرور نظر آتی ہے، شاید وہ چاہتی تھی کہ میں پہل کرو اور میں چاہتا تھا کہ وہ پھل کرے اور میں  نے دیکھ لیا ہے جس معاشقے میں مرد پہل کرتا ہے، اسے اس کا ضرورت سے  زیادہ خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے، پھر کچھ یہ بات بھی ہے، کہ میں اپنی ٹویوٹا پر بے جد نازاں تھا، اور سوچتا تھا کہ جس مرد کے پاس ایسی خوبصورت گاڑی ہو گی اس کا دروازہ کھول کر لڑکی کو خود بخود بیٹھ جانا چاہئے۔  چنانچہ یہ دلچس کشمکش دیر تک چلتی رہی۔  میں اسے اکثر مختلف مردوں کے ساتھ دیکھنے لگا، وہ لوگ بھی گاڑی والے  تھے اور خوش پوش اور کھاتے پیتے چہرے والے، جب وہ بار بار جلدی جلدی اپنے بواۓ فرینڈز بدلنے لگی تو مجھے اس کے اخلاق پر شبہ ہونے لگا، حالانکہ جلدی جلدی بوائے فرینڈز بدلنا آج کل ہر شریف لڑکی کا شیوہ بن گیا ہے، کیونکہ یہی فیشن ہے۔  جو لڑکی اس فیشن کو اختیار کرتی ہے وہ ہائی سوسائٹی کی نظروں سے گر جاتی ہے، مگر بار بار اور نئے نئے چہروں کے بیچ میں ایک چہرہ بار بار دیکھتا تھا، وہ درمیانے قد کا مضبوط بدن کا ٹھوڑی پر مخروطی داڑھی لئے  ہوئے ایک نوجوان تھا، ہرے رنگ کی فیاٹ میں آتا تھا اور دھیرے دھیرے  مجھے اس سے نفرت ہوتی جاتی، مگر یہ جان کر تسلی ہوئی تھی کہ، سجاتا دوسرے مردوں کے ساتھ بھی جاتی ہے، اور کسی دن دوسرے مردوں میں میرا نمبر بھی آ سکتا ہے، زندگی اور عشق امید پر قائم ہیں ، اسی لئے تو میں آج چار دن پہلے سجاتا کو پہلگام کے بازار میں غلام بٹ کی دکان پر دیکھ کر چونک اٹھا، وہ اکیلی تھی، جگہ بھی نئی تھی اور مارسیا مجھے غچا دے کر لندن چلی گئی اور میں اکیلا تھا اور پہاڑوں پر سرگوشیاں کرتے ہوئے اشجار سب عورتوں کی یاد دلاتے ہیں ٹورازم کے محکمے کواس طرف دھیان دینا چاہئیے، کال گرل کا نام تو بہت بدنام ہو چکا ہے اس کی جگہ اگر ٹورسٹ ہوسٹس کا نام  رکھ دیا جائے تو اپنا کام بھی بن جائے اور حکومت پر بد اخلاقی کا الزام بھی نہ آئے، کیوں کیسی رہی یہ تجویز؟ خیر صاحب میں دکان کے اندر چلا گیا اور بڑی بے اخلاقی بے خوفی بلکہ گہری اپنائیت سے اسے کہا ہیلو۔  وہ میری طرف مڑی، آنکھوں میں حیرت لئے ہوئے، پھر مجھے پہچان لیا اور جب پہچان لیا تو اس کا چہرہ ماتھے سے ٹھوڑی تک ایک روشن مسکراہٹ سے  چمک چمک گیا، دراصل اجنبی پہاڑوں پر اگر کوئی اپنا پہچان والا مل جائے تو بڑی خوشی ہوتی ہے۔  ہیلو وہ بولی آپ ایڈورڈ ایوی نیو میں رہتے ہیں نا؟ ہاں میں نے سر ہلایا اور آپ آرام ایوی نیو میں ۔  گویا ہم دونوں ہمسائے ہیں ، وہ خوشی سے ہنسی۔  میں پوچھا آپ اکیلی آئی ہیں ؟ بھئی اس امر کا اطمینان کر لیا ضروری ہے۔  بالکل شہری زندگی کی گہماگہمی سے بہت دب گئی تھی۔ وہ بولی سوچا پہلگام جا کر کچھ دن اکیلے رہوں گی، قدرتی مناظر کی مصوری کروں گی۔  میں بھی اکیلا ہوں ، میں نے اسے بتایا، پہلگام کی فوٹو ڈاکومنڑی تیار کرنے  کے لئے آگیا، مگر اس ڈاکو منٹری کے لئے آپ کی مدد درکار ہو گی۔  وہ کیسے ؟میں نے کہا خالی قدرتی مناظر کی تصاویر لینا میری ڈاکومنٹری کو گھس پٹی بنا دے گا، ان خوبصورت مناظر میں جان ڈالنے کے لئے ایک خوبصورت لڑکی بھی چاہئے، تم ان مناظر میں معنی پیدا کر دو گی۔  آپ تعریف کرنا جانتے ہیں ، وہ پہلے تو شرمائی پھر کھلکھلا کر ہنس دی۔  عجیب بات ہے میں نے اسے کہا اتنے دنوں سے ہم دونوں اک دوسرے کے  ہمسائے ہیں مگر ملاقات آج ہوئی۔  میں بھی آپ کو مادام ڈاینس کی دکان پر فوٹو گرافری کا سامان خریدتے دیکھتی تھی اکثر مگر نہ جانے بات چیت کیوں نہیں ہوئی۔  قصور دراصل میرا ہے، اتنی جسین و جمیل لڑکی سے مرعوب ہو جانا قدرتی امر ہے۔  

‫‫مگر میں تو معمولی لڑکی ہوں اور مغرور بھی نہیں ہوں ۔  خیر جو وقت وہاں ممبئی میں ضائع کیا اس کی تلافی ہو سکتی ہے، میں نے  گہری نظروں سے اسے تاکتے ہوئے کہا۔  آپ نے اپنا نام، تو بتایا ہی نہیں ، وہ بولی۔  مجھے ا کرام کہتے ہیں ، اور آپ کا نام تو میں جانتا ہوں سجاتا، آپ کہاں ٹھہری ہیں ۔  منور ہوٹل کے قریب کاٹج بی چالیس اس کا نمبر ہے اور آپ۔ ۔ ۔ ۔ ؟ میں روز ویو ہوٹل میں ٹھہرا ہوں ، کمرہ نمبر اٹھارہ۔  اچھا میں چلتی ہوں ، اس نے کاؤنٹر سے مڑ کر ایک قدم دکان کے باہر کی جانب بڑھایا۔  میرا ہاتھ بے اختیار اس کی کلائی پر گیا، ایسی بھی کیا جلدی ہے، چلئے روز ویو ہوٹل میں آپ کو بہت بڑھیا کافی پلاؤں ، اتنی اچھی کافی پہلگام میں اور کہیں نہیں ملتی۔  وہ تھوڑی دیر تو مجھے عجیب نظروں سے دیکھتی رہی، پھر اس نے جیسے  کوئی فیصلہ کر لیا ہو، مسکرا بولی، اچھا چلئیے۔  میں نے سوچا یہ پہلا قدم ہے لاونج میں بیٹھیں گے، نرگسی پھولوں کے گلدان کی اوٹ میں اس کی آنکھوں کے بدلتے ہوئے رنگ دیکھتا رہوں گا اور اس کے  پیارے چہرے کی دلچس ادائیں ، باتیں ہوں گی، کتابوں کی، مصوری کی، ماڈلنگ کی، جدید فیشن کی، پھر میں اسے اپنے تازہ ترین فوٹو البم دکھانے  کے لئے اپنے کمرے میں جانے کی دعوت دوں گا، یونہی زینہ بہ زینہ عشق کا جذبہ بلند ہوتا ہے۔  وہ بولی ا کرام کہنے میں جبڑا دکھنے لگا ہے، اگر تمہیں برا نہ لگے تو میں اکی کہا کروں ؟ اکی میں دل ہی دل میں خوشی سے اچھل پڑا، ایسا نام میری کسی بھی گرل فرینڈ کو آج تک کیوں نہیں سوجا۔  تمہارے منہ سے اکی بہت اچھا لگتا ہے، مگر خدا کیلے کبھی مجھے اکا نہ کہنا۔  وہ زور سے ہنسی دیر تک ہنستی رہی، میں نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا، اس نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں رہنے دیا، میں اس کی انگلیوں سے کھیلنے لگا وہ دوسرے ہاتھ کی انگلیوں سے گلدان کے نرگسی پھولوں کو سجانے لگی۔  میں نے پوچھا سجاتا تمہیں عقل رکھنے والی کتابوں سے نفرت کیوں ہے ؟ اس نے کہا میں اکثر دیکھتی ہوں کہ تمام کتابوں پر جتی کہ فلسفے کی کتابوں پر بھی کسی خوبصورت عورت کی تصویر ہوتی ہے، اب اگر کسی کتاب کو عورت کے سہارے کے بغیر بیچا نہیں جا سکتا تو یہ عقل کی بہت بڑی توہین ہے۔  عقل کی توہین نہیں ہے، عورت کی توصیف ہے، دراصل خود ایک طرح کا فلسفہ ہے، اس کتاب کو کھول کر ورق ورق پڑہنا چاہئیے۔  میں نے پوچھا فلموں میں تمہیں کیسی فلمیں پسند ہیں ؟

‫‫وہ بولی ایک ایسی فلمیں جن میں مرد بے وفا ہوتے ہیں اور عورتیں ان کے لئے  رو رو کر جان دے دیتی ہیں ، یعنی بالکل روایتی فلمیں ۔  اور ماڈلنگ کیوں چھوڑ دی؟ وہ لوگ اسٹوڈیوں کو بیڈ روم میں بدلنے کے خواہش مند ہوتے ہیں اور میں  دونوں جگہوں کو الگ الگ سمجھتی ہوں ۔  کافی جلدی ختم ہو گئی میں نے اس سے کہا تمہارے لئے کافی اور منگاؤں ؟ نہیں اب میں جاؤں گی، وہ گھڑی دیکھ کر بولی۔  میں نے کہا اوپر چلو میرا تازہ فوٹو البم دیکھو میرے کمرے میں ۔  یہ تو مجھے کہا ہی تھا، اس بات کو تو کہا ہی جاتا ہے، ایک نہ ایک وقت اور جواب سننے کے لئے دل دھڑکتا ہے۔  وہ رکی سنجیدہ ہوئی، مسکرائی، پھر میری طرف دیکھ کر کھلکھلا کر ہنسی۔  میں نے اداس ہو کر کہا، شاید تمہارے پاس وقت نہیں ہے۔  میرے پاس وقت ہی وقت ہے، وہ لاپرواہی کے انداز میں ہاتھ جھلا کر بولی۔  مگر کمرے میں کیوں چلیں ، کیا ہم لوگ پہاڑوں پر کمروں میں بند ہونے آئے  ہیں ۔  پھر تمہارا کیا ارادہ ہے ؟ میں نے پوچھا۔  اس نے پوچھا، تمہارے پاس گاڑی ہے۔  ہاں ، کچھ امید بندھنے لگی، میں نے جلدی سے کہا، اپنی ٹویوٹا ساتھ لایا ہوں ۔  تو پہلگام سے دور کہیں چلتے ہیں ، وہ بولی میرے ذہن میں ایک جگہ ہے، چندن واڑی کے راستے پر بائیں جانب ایک وادی کے دامن میں پہاڑی جھرنا ہے  دیودار کے پیڑوں کا ایک خوبصورت کنج ہے، سامنے پھولوں کی جھاڑیوں  سے بھرا ہوا ایک میدان ہے وہاں چلیں گے، وہاں دن بھر رہیں گے، شام کو لوٹ آئیں گے، تم اپنا کیمرہ لے چلو، میں اپنا مصوری کا سامان لے چلتی ہوں ، یعنی اگر ہم ایک دوسرے سے اکتا گئے ہیں تو۔ ۔ ۔ ۔ وہ عجیب طریقے سے ہنسی۔  میرے ذہن میں وہ وادی گھوم گئی اور دونوں بچوں کی طرح پھولوں کے  قطعوں پر لوٹتے ہوئے، ہاتھ میں ہاتھ ڈالے دوڑتے ناچتے ہوئے، پھولوں میں  گھر کر ایک دوسرے سے لپٹ کر پیار کرتی ہوئی نگاہوں میں گرم گرم سانسوں  میں ننھی ننھی سرگوشیاں جو محبت کے چشمے پر بلوریں حباب کی طرح ناچتی رہتی ہیں ، وہ سب کچھ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  میں نے اپنی گاڑی نکالی اور پن چکی کے پل سے ہو کر چندن واڑی کی طرف بڑھ گیا، ہوا تیز تھی، سجاتا کے بال گہرے گلابی ہو چکے تھے، اس نے اپنے  اڑتے ہوئے بالوں پر ایک کشمیری رومال باندھ لیا تھا جس سے وہ بے جد پر اسرار معلوم ہونے لگی تھی، میں جلد سے جلد اس کنج میں پہنچ جاتا چاہتا تھا، مبادا کہیں سجاتا اپنا ارادہ تبدیل نہ کر دے۔  آدھے گھنٹے سے بھی کم عرصے میں وہ وادی سامنے آ گئی، یہاں سڑک اوجھل ہو گئی، میں نے انجن کٹ کر دیا، اور پٹ کھول دیا، سجاتا اپنا سامان لے کر باہر ‫‫نکل اور میں اپنا سامان لے کر ہم دونوں جھرنے کی طرف بڑھ گئے۔  بڑی خوبصورت جگہ تھی، جیسا کہ سجاتا نے بیان کیا تھا صاف شفاف پانی گنگناتا ہوا، اور جنگلی پھولوں کے قطعے قطار اندر قطار ڈھلانوں پر دیوار کے پیڑا اور بادل سفید بطخوں کی طرح آسمان پر تیرتے ہوئے، یکا یک ایک آدمی جھرنے کے قریب سے اٹھا، میں نے اسے دیکھا جہاں سے وہ اٹھا تھا، اس کے قریب ایک ایزال بھی اپنے لکڑی کے چوکھٹے کو لئے کھڑا تھا، میں نے  اس آدمی کو پہچان لیا تھا، یہ وہی آدمی تھا جو اپنی ہری فیاٹ میں سجاتا سے  ملنے سجاتا کے گھر آتا تھا۔  وہ آدمی مسکراتے ہوئے سجاتا کی طرف بڑھا بڑی دیر کر دی، اس کے منہ سے نکلا۔  سجاتا اس کا ہاتھ پکڑ کر بڑی لجاجت سے بولی کیا کرتی ڈارلنگ کوئی گاڑی ہی نہیں ملی، بڑی مشکل سے ان کو میری طرف اشارہ کر کے تیار یہاں تک آئی ہوں ، یہ ہیں مسٹر ا کرام، اور مسٹر ا کرام یہ ہیں میرے شوہر نور شاہ۔  نور شاہ نے زبردستی میرا ہاتھ کھینچ کر مجھے سے مصافحہ کیا اور بولا آپ لنچ تک تو ٹھیریں گے نا؟ میں نے اس کی آواز سنی اور پھر چند لمحوں کے لئے  ساری وادی میری نگاہوں میں گھوم گئی۔  شکریہ ایک پھنسی ہوئی آواز میرے گلے سے نکلی، پھر میں وادی میں سے  مڑا اور اپنا ٹویوٹا میں بیٹھ کر واپس چلا گیا۔  چلے چلتے دیر تک سجاتا فاتحانہ قہقہہ میرے کانوں میں گونجتا رہا۔  ا کرام نے اتنا کہہ کر قصہ ختم اور گلاس ختم کر دیا، پھر بار میں بیٹھے ہوئے  اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھ کر بولا۔  تو صاحب یہ ہے کل کی داستان، آئیے عورت کی بے وقوفی اور حماقت کو ٹوسٹ کرتے ہوئے ایک جام پئیں ، بیرہ ایک ڈبل ڈمپل اور مارو۔