کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

پیاسا

کرشن چندر


نواب بڑا تریلا اور زنخا سا لونڈا تھا۔ زرینہ کو اس لئے پسند تھا کہ وہ زرینہ کے ہاتھوں سے پٹ کر رو دھو کر صبر کر لیتا تھا۔ وہ دوسرے لوگوں کی طرح بوریا بستر باندھ کر رخصت نہیں ہو جاتا تھا۔  اس کے گندمی چہرے پر چیچک کے داغ تھے۔ اور وہ بہت دبلا تھا اور بہت کھاتا تھا۔ اور سمجھ میں نہ آتا تھا جو تھا وہ کھاتا تھا کہاں جاتا ہے اس کی آواز میں ہلکی سے تتلاہٹ تھی۔ جب وہ کھڑا ہوتا تھا تو کبھی سیدھا کھڑا نہیں ہو سکتا تھا۔ کسی دیوار یا کسی دروازے سی لگ کر نیم دراز حالت میں یوں کھڑا ہوتا تھا کہ پاؤں فرش پر گھسیٹ رہے ہیں سر بائیں طرف لٹکا ہوا ہے تو کولھا دائیں  نکلا ہوا ہے۔ ایک ہاتھ ماتھے پر ہے تو دوسرے سے پیٹھ کھجا رہا ہے۔ نواب کی عورتوں کی طرح ہاتھ ہلا ہلا کر بات چیت کرنے کا شوق تھا۔ انہی کی طرح وہ فقرے چبا کے چٹا کر کے یا ربڑ کی طرح کھینچ کے بولتا تھا۔ مگر باہر کے کام میں بہت ہوشیار تھا۔ اس لئے اپنی تمام مضحکہ خیز اداؤں اور غمزدوں کے  باوجود قابل برداشت تھا۔ گھر کا باورچی تین دن سے غائب تھا اور نواب کو کچن میں کام کرنا پڑ رہا تھا حالانکہ اس صرف اوپر کے کام کے لئے رکھا گیا تھا۔ زرینہ لڑکیوں کے کالج میں پڑھانے جاتی تھی، میں اپنے دفتر جاتا تھا۔ اس لئے اگر نواب کھانا نہ پکائے تو کون پکائے اور اس سے مشکل مسئلہ یہ تھا۔  باورچی کون ڈھونڈے اور کب؟ یہاں کسی کو فرصت ہی میسر نہ تھی۔  نواب کو جب تین دن اور کچن میں بینگن بگھارنا پڑے اور لہسن کی چٹنی پیس کر کھڑے مسالے کا قورمہ تیار کرنا پڑا تو اس کی ساری تتلاہٹ اور نسائیت ختم ہو گئی۔ مردوں کو طرح بڑے کرخت اور جھلائے ہوئے لہجے میں بول پڑا صاحب ہم سے نہیں ہوتا۔ ہم کو ایک دن کی چھٹی دو۔ ہم آپ کے لئے ایک باورچی ڈھونڈ کے لائے گا۔  کوئی باورچی ہے تمہاری نظر میں ، زرینہ نے اس کی جھجھلاہٹ پر مسکرا کر پوچھا۔  کچن سے باہر آ کر نواب کو جو ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے لگے تو اس کے  مزاج کی نسائیت پھر ابھرنے لگی اس پر اسے گھر کی مالکن کی مسکراہٹ جو ملی اور بھی پھیل گئے۔ آپ نے ایک کندھا اوپر ا چکایا اور دوسرا نیچے کیا بایاں  کولہا اندر کی طرف جھکایا، دایاں کولہا ذرا سا باہر نکالا اور اپنے دونوں ہاتھ ادا سے ملتے ہوئے بولے اب لائیں گے، کہیں نہ کہیں سے آپ کے لئے ‫‫باورچی۔  نواب نے اپنے دیدے گھماتے ہوئے باورچی کا مسئلہ ایک پراسرار سیاسی راز کی طرح ہمارے سامنے کچھ اس طرح پیش کیا کہ جی جل کے کباب ہو گیا۔ جی چاہا سالے کو کو دوں جھانپڑ اور اس کی ساری اتراہٹ نکال دوں مگر ضرورت باورچی کی تھی۔ اور باورچی ڈھونڈنے کی فرصت مجھے نہ تھی۔ نہ زرینہ کو اس لئے نواب کو ایک دن کی چھٹ دینی پڑی۔  ایک دن کے بعد اتوار تھا۔ میں اپنے کمرے میں بیزار بیٹھا ہوا تھا ملگجی صبح کی نیلی نیلی روشنی میں اپنا سر خود ہی ہولے ہولے دبا رہا تھا۔ کبھی کبھی مجھے اپنا سر ٹوتھ پیسٹ کے ٹیوب کی طرح معلوم ہوتا تھا۔ جب تک دباؤ نہیں  کچھ نکلتا نہیں اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ نواب دونوں ہاتھوں سے دروازے کی پٹ تھامے گردن ایک طرف لٹکائے نیم باز آنکھوں سے مجھے دیکھ رہے  ہیں ۔ میں ۔ میں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ ہنس پڑے۔ ۔ ۔ ۔ ہم باورچی لے آئے  کدھر ہے۔ میں نے ڈپٹ کر پوچھا۔  نواب خائف ہو کر ذرا سے سیدھے ہوئے اپنے دونوں بازوں دروازے کی پٹ اتار کر اپنی کمر پر رکھ لئے۔ پھر ذرا پیچھے ہٹ کر کسی اور کو راستہ دے کر بولے، اندر چلے آؤ۔  کالا دبلا پتلا کرنجی آنکھوں والا آدمی اندر آیا، عمر کوئی پینتیس برس کی ہو گی۔ چھوٹے چھوٹے کالے ہونٹ چھوٹ چھوٹی چھوٹی کرنجی آنکھیں تنگ ما تھا، بال الجھے ہوئے گال اندر دھنسے ہوئے، دانتوں کی ریخوں میں پان کا بھورا میل نمایاں شیو کے باوجود ٹھوڑی پر کہیں بال رہ گئے تھے، عجب کراہت سی محسوس ہوئی۔  تم باورچی ہو میں نے اس سے پوچھا۔  جی۔  کیا نام ہے تمہارا؟ اوم پر کاش۔  میں نے اسے سر سے پاؤں تک دیکھا۔ پھر نواب سے کہا۔ اسے بیگم صاحب کے پاس لے جاؤ۔ وہ دیکھ لیں اور چاہیں تو رکھ لیں ۔  دوپہر کے کھانے میں شاہجہانی قورمہ اور شملہ مرچ میں بھرا قیمہ تھا۔ اور دم کئے ہوئے آلو تھے۔ مٹر پلاؤ اور رائتہ اور دو طرح کا میٹھا شاہی ٹکڑے اور وردھی حلوہ ہر چیز عمدہ اور نفیس تھی۔ صحیح ذائقے والی۔ میں نے خوش ہو کر کہا اوم پر کاش کھانا تم ٹھیک پکا لیتے ہو۔  اوم پرکاش، زرینہ میری طرف حیرت سے دیکھ کر بولی مگر اس کا نام تو اشتیاق ہے ؟ میں نے باورچی کی طرف دیکھا، جو ایک کونے میں دونوں ہاتھ اپنی ناف پر رکھے کھڑا تھا اور مجھے دیکھنے کی بجائے زمین کو دیکھ رہا تھا۔  کیوں بے تم نے مجھے اپنا نام غلط کیوں بتایا، میں نے باورچی سے پوچھا۔  بولا۔ صاحب آپ کے کمرے میں آیا اور آپ کو دیکھا تو ایسا لگا کہ شاید آپ ہندو ‫‫ہیں تو میں نے آپ کو اپنا نام اوم پرکاش بتایا، پھر میں بیگم صاحب کے کمرے  میں گیا تو مجھ کو ایسا لگا جیسے وہ مسلمان ہیں تو میں نے ان کو اپنا نام اشتیاق بتا دیا۔  مگر بے وقوف، تم اک کمرے میں اوم پرکاش اور دوسرے میں اشتیاق کیسے  ہو سکتے ہو۔  دلی میں ایسا کرنا پڑتا ہے۔ صاحب ایک گھر میں اوم پرکاش تو دوسرے گھر میں  اشتیاق بتانا پڑتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پیٹ روٹی مانگتا ہے صاحب، اس نے کسی قدر شکایت لہجے میں کہا، اور اس کے لہجے سے یہ بھی معلوم ہوتا تھا جیسے شکایت اس امر کی نہیں ہے کہ اسے اپنا نام غلط کیوں بتانا پڑا بلکہ اس بات کی ہے کہ پیٹ روٹی کیوں منگتا ہے۔  اگر گرمیوں کے دن تھے دوپہر میں جب جبس بڑھنے لگا، تو میں گھبرا کر دوبارہ نہانے کے لئے باتھ روم میں جا گھسا ٹونٹی گھما کر معلوم کیا کہ شاور خراب ہو چکا ہے نواب کو آواز دی تو معلوم ہوا کہ وہ اپنے تلوؤں میں تیل چڑھا رہا ہے، اشتیاق بھاگا بھاگ آیا، میں نے اس سے کہا۔ چوک میں جا کر منشی پلمبر کو بلاؤ۔ شاور خراب ہے۔  میں ٹھیک کئیے دیتا ہوں ۔ اشتیاق بولا تم۔  وہ سر جھکا کر بڑی عاجزی سے بولا، جی میں پلمبنگ کا کام بھی جانتا ہوں ۔  پانچ منٹ میں اس نے شاور ٹھیک کر دیا۔  شام کو بجلی کا پیڈسٹل پنکھا جو صحن میں خراب ہو گیا۔ زرینہ نے نواب کو آواز دی تو معلوم ہوا کہ وہ ابھی دوپہر کی نیند سے فارغ نہیں ہوا ہے۔ لہذا اشتیاق کو بلایا گیا اور اس سے کہا گیا کہ وہ چوک میں پنکھے والے کے پاس چلا جائے اور اپنے سامنے پنکھا درست کرا کے لائے، بہت گرمی ہے آج تو رات بھر صحن میں پنکھا چلے گا اشتیاق نے گہرے تجسس سے پنکھے کا معائنہ کیا معائنہ کرنے کے بعد اس نے اپنے دونوں بازو اپنی ناف پر رکھ لئے۔ بولا حضور میں یہ پنکھا ٹھیک کر سکتا ہوں ۔  کیا تم پنکھے کا کام بھی جانتے ہو۔ میں نے اس سے پوچھا۔  سر جھکا کر بولا جی بجلی کا کام بھی جانتا ہوں ، پنکھا فٹ کر لیتا ہوں ، ابھی کر کے دکھاتا ہوں ۔  ڈیڑھ گھنٹے میں پیڈ سٹل فین فرفر چلنے لگا میں نے اشتیاق کو نئی نظروں  سے۔ وہ کچھ مسکرایا۔ آخر میں اکڑ کر کچھ سمیٹ کر کچھ دبک کر کچن میں چلا گیا۔  رات کو کھانے میں رام پوری چکن تھا۔ چکن کاٹو تو اندر بریانی ملتی ہے۔  بریانی ہٹاؤ تو اندر چکن چاٹ نظر آتی ہے۔ چکن چاٹ کھا لو تو اندر انڈوں کا خاگینہ ملتا ہے اور بادام اور کشمش کے ساتھ عجیب بھول بھلیاں قسم کی ڈش تھا۔ مگر ستھری اور مزے دار میں نے ایک روپیہ انعام دیا تو جھک کر سات بار ‫‫کورنش بجا لائے بولے آپ نے انعام دیا ہے یہ ہے بندے پر ا کرام۔  ارے میرے منہ سے نکلا۔  جی ہاں سر جھکا کر بولے۔ میں شاعر بھی ہوں میرا تخلص تنہائی ہے۔  میری طبعیت شاعروں سے بہت الجھتی ہے سنا ہے ہر وقت پان کھاتے رہتے  ہیں اور شعر اگلتے رہتے ہیں پہلے جی چاہا آج ہی جواب دے دوں ۔ پھر اگلے  بیس روز میں معلوم ہوا کہ حضرت بیس بائیس دوسرے پیشے بھی جانتے ہیں ۔  کرسیاں بن لیتے ہیں ۔ مونڈھے ٹھیک کر لیتے ہیں ۔ لکڑی کا ٹوٹا پھوٹا سامان بھی ٹھیک کر لیتے ہیں ۔ کیونکہ بڑھئی کا کام بھی سیکھا ہے۔ سینما کے گیٹ کیپر بھی رہ چکے ہیں ۔  گنڈیریاں بیچی ہیں ۔ پنواڑی کے ہاں بھی کام کیا ہے۔ ٹھیلا کھینچا ہے۔ کھلونوں  کی فیکٹری میں کام کیا ہے حجام یہ رہ چکے ہیں ۔ سالئی سے لے کر دھلائی تک کے سب مراحل یہ پیشہ ور کی حیثیت سے پرکھ چکے ہیں ۔ بڑے عمدہ مالشئے  بھی ہیں ، سر کی چمپی کے استاد ہیں ۔ کن ملئے بھی ہیں اور چاٹ بنانا بھی جانتے ہیں اور سب سے بڑی یہ بات کہ انتہائی کم خوراک ہیں ۔ زرینہ کو ان کی عادت بہت بھا گئی ہے کیونکہ وہ نواب کی اشتہا سے عاجز رہتی ہے اس لئے  اس نے دھیرے دھیرے گھر کا سارا کام اشتیاق کو سونپ دیا۔  دو ماہ میں اشتیاق کا سکہ گھر میں جم گیا اس طرح بھاگ بھاگ کے کام کرتا تھا کہ نواب اور بھی کاہل اور ناکارہ ہوتا گیا اور میں نے دیکھا کہ اشتیاق بھی یہی کچھ چاہتا تھا عمر میں نواب اشتیاق سے سترہ اٹھارہ برس چھوٹا ہو گا مگر تھوڑے ہی عرصے میں نواب اشتیاق سی ایسا سلوک کرنے لگا جیسے وہ مالک ہو اور اشتیاق اس کا غلام ہو، پہلے تو میں یہ سمجھا کہ یہ سب کچھ جذبہ احسان مندی میں ہو رہا ہے اور بعد میں خیال آیا ممکن ہے اشتیاق نواب پر عاشق ہو گیا ہو حالانکہ نواب پر عاشق ہونا بڑے دل گردے کی بات ہے۔  اس کے لئے ضروری ہے کہ عاشق کی آنکھوں کی بینائی بہت کمزور ہو جس کی سماعت تقریباً نہ ہو اور کوئی لطیف جذبہ دل میں نہ ہو، بعد میں معلوم ہوا کہ میرا یہ خیال بھی صحیح نہ تھا اشتیاق نہ نواب کو اپنا محسن سمجھتا تھا اور نہ اس پر فریفتہ تھا بس اس دوسروں کھلانے کا مرض تھا اور دوسروں کو کھلا پلانے میں اک عجیب سی خوشی محسوس کرتا تھا۔ چونکہ وہ خود کم کھلاتا تھا اس لئے وہ اپنے حصے کی خوراک بھی نواب کو منتقل کر دیتا، ہمارے بعد اس کے لئے سالن کا بہترین حصہ مخصوص کر دیتا۔ پہلے اسے کھلاتا اور پھر خود کھاتا ہولے ہولے نواب نہ کام میں دلچسپی لینا بالکل ختم کر دی کسی بڑی بی کی طرح ایک کھٹیا پر آ کر پڑا رہتا اور میں نے دیکھا کہ اشتیاق اس کی فرضی بیماری بڑھا چڑھا کر بیان کرنے میں بڑا مزا لیتا تھا اور اسے کھٹیا پر مستقل آرام کرنے کا مشورہ دیتا اس کے لئے بازار سے دوا لاتا اور پھل سگریٹ اور بیڑی کے پیسے بھی خود دیتا کبھی کبھی ایک آدھ بش شرٹ اور پاجامہ پتلون بھی سلا دیتا۔ ہولے ہولے اشتیاق کی تنخواہ کا بیشتر حصہ نواب پر خرچ ہونے  لگا۔ اور نواب اپنی تنخواہ کی کل رقم بچا کر ماں کو علی گڑھ بھیجنے لگا۔  

‫‫زرینہ نے کئی بار اشتیاق کو سمجھایا اسے اپنی تنخواہ جمع کرنے کے فائدے  سمجھائے مگر اشتیاق پر اس کے سمجھانے بجھانے کا کوئی اثر نہ ہوا مسکرا کر بولا۔ بیگم صاحبہ بچہ ہے۔ کھا لیتا ہے تو کیا کرتا ہے۔  ارے تم اپنے لئے بھی کچھ کر لو کم بخت۔ زرینہ چٹ کر اسے کہتی۔ دوسروں  کے لئے کیوں مرتا ہے۔  میرا آگے پیچھے کون ہے بیگم صاحب۔ اشتیاق گردن جھکا کر جواب دیتا۔ بھائی نہیں ۔ بہن نہیں ۔ ماں نہیں ۔ باپ نہیں ۔ سب بھرت پور سے فسادوں میں مادے گئے۔  میرا سینہ ہر وقت خالی خالی سا رہتا ہے۔  کچھ دنوں بعد نواب کی ماں کا خط علی گڑھ سے آیا اس نے نواب کے لئے ایک لڑکی ٹھیک کر لی تھی۔ دو ماہ بعد شادی تھی ماں اسے بلا رہی تھی۔ غفور سائیکل والا جس کے ہاں دہلی آنے سے پہلے نواب کے لئے تیار ہو گیا۔ ہم بھی اندر سے بہت خوش تھے کیونکہ اب تو تقریباً مفت کی کھاتا تھا ورنہ سارا کام اشتیاق نے سنبھال لیا تھا۔ زرینہ نے بھی طے کر لیا تھا نواب کے جانے کے بعد دوپہر کے کام کے لئے کسی کو نہ رکھے گی اشتیاق کی موجودگی میں کسی دوسرے نوکر کی ضرورت نہیں تھی۔  زرینہ بولی نواب کی شادی ہو رہی ہے اب تو بھی شادی کر لے، اشتیاق میں  تیری بیوی کو رکھ لوں گی، مجھے ایک ملازمہ کی ضرورت ہے۔  شادی کے نام پر میں نے دیکھا کہ اشتیاق کچھ چڑ سا گیا اس کی بھنویں تن گئیں  تنگ ماتھے پر بالوں کی لٹیں ڈولنے لگیں اور اس کے چھوٹے سے ہونٹ پھڑکنے لگے۔ مگر وہ کچھ نہ بولا سر جھکا کر کھانے کہ کمرے میں سے باہر نکل گیا اس کے جانے کے بعد نواب کے چہرے پر ایک عجیب سی مسکراہٹ آئی کھانے کی میز کے قریب آ کر بڑی راز داری سے بولا ارے صاحب یہ کیا شادی کرے گا اس کی بیوی تو ا س کو شادی کے دوسرے دن ہی چھوڑ کر بھاگ گئی تھی۔  کیوں ؟زرینہ نے پوچھا۔  معلوم نہیں بیگم صاحب یہ کچھ بتاتا تو ہے نہیں۔  چند منٹ بعد ہم لوگ کھانا کھا کر صحن میں ہاتھ دھونے کے لئے آئے تو دیکھا اشتیاق کچن میں میلے برتن اور راکھ کا ڈھیر اپنے سامنے رکھ کر خال میں  گھور رہا ہے اور اس کی چھوٹ چھوٹ آنکھیں کسی نا معلوم جذبے سے بھیگ کر تار سی چمک رہی تھیں ، مجھے اشتیاق میں دلچسپی پیدا ہوئی۔  آٹھ دس روز بعد نواب نے علی گڑھ جانے کا پروگرام بنایا۔ ا سکے جانے پر اشتیاق چپکے چپکے بہت رویا، اس کی آنکھیں سرخ تھیں اور ہونٹوں کے  کونے بے طرح پھڑکتے تھے۔ مگر زبان سے اس نے کچھ نہیں کہا، اس نے  نواب کے لئے سفری ناشتہ تیار کر لیا، حالانکہ صرف ڈھائی گھنٹے کا سفر تھا مگر قیمے کے پراٹھے اور سرخ مرچوں کا اچار اور آلو کا بھرتا اور بیسنی روٹی مکھن کی ایک گولی وہ نواب کی بھوک سے واقف تھا خود اپنے خرچ سے اس نے نواب کا ناشتہ تیار کیا تھا۔ اس لئے ہم شکایت بھی کر سکتے تھے۔  

‫‫وہ خود نواب کے لئے ا سکوٹر لے آیا اس کا سامان ا سکوٹر پر رکھا اور اسے  پرانی دلی کے اسٹیشن پر گاڑی میں سوار کرا کے واپس آیا۔  دو دن تک اس طرح مضطرب اور بے چین پھرتا رہا، جیسے اس کا گھر لٹ گیا ہو اور وہ کسی اجاڑ ویرانے میں گھوم رہا ہو۔ کھانے کا معیار ایک دم گر گیا تھا، قورمہ اس کے جذبے کی طرح تلخ تھا اور قلیہ اتنا پتلا جیسے کسی نے اس کی ساری امیدوں پر پانی پھیر دیا ہو، چپاتیاں بے ڈول اور بے ڈھنگی اور ان پر جگہ جگہ مایوسی کی راکھ لگی ہوئی تھی وہ دو دن تک ہم نے کسی نہ کسی طرح صبر کر کے کھانا زہر مار کیا اور یہ سوچ لیا کہ اگر معاملہ یوں ہی چلتا رہا تو اشتیاق کے جواب دینا پڑے گا۔  مگر وہ دو دن بعد اشتیاق سنبھل گیا کہیں سے وہ ایک بلی بچہ اٹھا لایا۔ اور اب وہ بلی کا بچہ اشتیاق کی توجہ کا مرکز بن گیا گھر کا کام کرنے کے بعد وہ اپنا سارا وقت جو اس سے پہلے نواب کو دیتا تھا۔ اب بلی کے بچے کو دیتا تھا اور اپنی تنخواہ کا کافی حصہ بلی کے لئے دودھ اور گوشت پر خرچ کرنے لگا اور یوں دیکھا جائے تو بلی کا بچہ نواب سے کچھ کم نہیں تھا۔ اور اس کے عشوے و نخرے بھی نواب سے کم نہ تھے اور وہ اتنا ہی اتریلا تھا اور ویسے ہی ادائیں  دکھاتا تھا اور دو دن میں اشتیاق سنبھل گیا اور کھانے کا اور کھانے کا معیار بھی ٹھیک ہوتے ہوتے پھر اپنی اصل حالت پر آگیا اور ہم لوگوں نے چین کا سانس لیا۔  اشتیاق کسی کام کو ناں نہیں کرتا تھا۔ کیونکہ وہ اپنی دانست میں سب کچھ جانتا تھا یہ کسی شیخی خورے کی عادت نہ تھی اس قدر احساس کہ مجھے یہ کام بھی کر کے دکھا دینا چاہئیے اسے اپنے ذاتی وقار کے تحفظ کا بہت خیال تھا۔  اور ایک عجیب سی لگن تھی اس کے دل میں جو اسے ہر کام کو پورا کرنے  کے لئے اکساتی تھی چاہے وہ اسے جانتا ہو یا نہ جنتا ہو کئی دنوں سے ریڈیو خراب پڑا تھا اور چونکہ میں ریڈیو کا کام اچھی طرح جانتا ہوں اس لئے زرینہ نے مجھے کئی بار ٹھیک کرنے کے لئے کہا مگر دفتر کی طویل جھک جھک کے بعد ذہن اور جسم دونوں اس قدر تھک جاتے ہیں کہ ریڈیو کھولنے اور ٹھیک کرنے کی ہمت کہاں سے لائیں ؟ میں یہ کام آج اور کل پر ٹالتا رہا۔  ایک دن دفتر سے جو آیا تو دیکھا ڈرائنگ روم کے ایک کونے میں پورا ریڈیو کھلا پڑا ہے اور اشتیاق گھبرائی ہوئی حالت میں اس کو ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور زرینہ قریب کھڑی ہوئی رونکھی ہو رہی ہے۔ میں نے  آنکھوں کے اشارے ہی اشارے میں پوچھا کیا بات ہے ؟ زرینہ بولی۔ اشتیاق نے  کہا تھا میں یہ ریڈیو ٹھیک کر دوں گا اور تمہیں کئی دن سے فرصت نہیں مل رہی ہے۔ اس لئے میں نے اشتیاق کا کام پر لگا دیا۔ وہ ڈھائی گھنٹے سے یہ کام کر رہا ہے۔ حالانکہ تم نے بتایا تھا کہ معمولی سا نقص ہے۔  میں معاملے کی نزاکت سمجھ گیا۔ اشتیاق اپنے چھوٹے سے ماتھے پر بال گرائے  مجھ سے آنکھیں چرائے ریڈیو پر کام کر رہا تھے صاف معلوم ہوتا تھا کہ ریڈیو

‫‫کھول تو لیا ہے مگر اب جوڑنا نہیں آتا پھر چہرے پر پسینہ پھوٹ پڑا تھا میں  نے زرینہ کو باہر بھیج دیا اور خود اشتیاق کے ساتھ کام کرنے میں مصروف ہو گیا، مگر میں نے اشتیاق کو بھی محسوس نہیں ہونے دیا کہ مجھے معلوم ہے  کہ اسے یہ کام نہیں آتا، بلکہ میں نے اس طریقے پر کام آگے بڑھایا جیسے ہر کام اشتیاق کی مرضی ہو رہا ہے۔ گھنٹے بھر میں ریڈیو ٹھیک ہو گیا۔ زرینہ بہت خوش ہوئی اس نے اشتیاق کو دو روپے انعام دیا مگر چند دنوں بعد پھر اشتیاق کی شامت آئی، زرینہ نے کہیں اس سے پوچھا۔ کیا تم رس گلے بنا سکتے ہو؟۔  جی ہاں ۔ اشتیاق فوراً بولے۔  ایک دن بنا کے دکھاؤ؟ آج کی رات ہی کو بناؤں گا۔  رات کے کھانے کے بعد دیر تک اشتیاق کچن میں کچھ کھڑ پڑ کرتا رہا۔  انگیٹھی سے دیر تک دھواں سلگتا رہا، منہ میں بیڑی جلتی رہی، ماتھے کے بال الجھتے رہے اور کچن کی زرد روشنی دیر تک صحن میں اپنا سر ٹپکتی رہی۔  کوئی ایک بجے کے قریب کچن کی بتی بجھی اور اشتیاق نے دوسرے دن صبح ناشتے میں برف کے ٹھنڈے رس گلے تازے اور عمدہ گلاب کی خوشبو سے  مہکتے ہوئے پیش کئے۔  یہ رس گلے تم نے بنائے ہیں ۔ زرینہ نے حیرت سے پوچھا۔  جی اسی خاکسار نے۔ اشتیاق دروازے سے لگ کر نظریں جھکا کر پاؤں سے  فرش کریدنے کی کوشش کرتے ہوئے بولا۔  بالکل بازار کے سے معلوم ہوتے ہیں ۔ زرینہ نے تعریف کرتے ہوئے کہا۔  یہ ہی تو ان کی خوبی ہے۔ میں نے کہا۔ سیدھی بازار سے لائے گئے ہیں ۔  جی نہیں ۔ اشتیاق نے زور سے احتجاج کیا۔  اس کے احتجاج کی شدت دیکھ کر زرینہ کا شبہ اور بھی بڑھ گیا۔ بولی تو آج رات میرے سامنے رس گلے بناؤ، میں خود دیکھوں گی۔  جی بہت اچھا۔  اشتیاق نے رس گلوں کے سلسلے میں ایک فہرست پیش کی ج منظور کر دی گئی دوپہر میں بہت دیر تک اشتیاق بازار میں رہے۔ سر شام زرینہ نے ان کے  جھولے کی تلاشی لی کہ کہیں وہ رس گلے بازار سے نہ لے آئے ہوں ، رات کو کھانے کے بعد اشتیاق نے بڑے اہتمام سے رس گلے بنانے کا کاروبار کچن میں  پھیلا دیا زرینہ نے گھر اندر سے بند کر کے تالا لگا دیا اور ہر پندرہ بیس منٹ بعد کچن میں جھانک لیتی تھی۔ کوئی دو بجے کے قریب جب نیند کا غلبہ ہونے  لگا تو رس گلے تیار ہو گئے۔ اشتیاق ایک تاب میں رس گلے لے کر آئے  تھے۔ کھانڈ کے معطر شیرے میں فینائل کو گولیوں سے بھی دو تہائی کم حجم کی سفید سفید گولیاں تیر رہی تھیں ۔ زرینہ چیخی ارے یہ رس گلے ہیں بکری کی مینگنی کے برابر؟ ابھی چھوٹے ہیں ۔ دیکھئے سمجھئیے بیگم صاحب اور یہ رس گلے ابھی چھوٹے  ہیں مگر رات بھر شیرا پئیں گے، صبح کو پھول کر پورا رس گلا ہو جائیں گے۔  

‫‫اشتیاق نے سمجھایا۔  زرینہ کو یقین نہ آیا مجھے مگر نیند کا غلبہ شدید تھا اس لئے ہم سو گئے۔ صبح جب ناشتے پر پورے حجم کے بڑی گولائی کے سفید رس گلے کھانے  کو ملے۔ کسی طرح یقین نہ آتا تھا کہ رات کو کونین کی گولیاں کے برابر حجم والے رس گلے پھول کر اس قدر بڑے ہو گئے تھے۔ مگر رات بھر کون جاگے  اور کون چوکیداری کرے ؟ اشتیاق ضرور صبح صبح بازار سے رس گلے خرید لائے ہوں گے اور رات کی گولیاں انہوں نے نالی میں بہا دی ہوں گی۔ مگر اب کیا ہو سکتا ہے ؟جو شخص اپنے ذاتی وقار کی خاطر رات بھر جاگ سکتا ہے اور اپنی جیب سے پیسے خرچ کر کے دوسروں کو رس گلے کھلا سکتا ہے محض اپنی صامت کی اہمیت جتانے کے لئے اس سے الجھنا بے کار ہے۔  جوں جوں بلی کا بچہ بڑا ہوتا گیا، اشتیاق کا جذبہ اور بڑھتا گیا، جند ماہ میں  ہمارے سامنے ایک خوبصورت بلی صحن میں گھومتی تھی، جس کے بال مکھن کی طرح ملائم تھے جو ایک انتہائی میٹھی سرگرمیوں میں خر خر کرتی تھی، اور جب گردن نیوڑھا کے آنکھیں جھپا کے اشتیاق کی طرف دیکھتی تو وہ بے چارہ دل تھام کے رہ جاتا تھا۔ تھی بھی قیامت کی حرافہ، موٹ گل کو تھلی سی، کبھی دھیرے دھیرے مٹک مٹک کر چلتی، کبھی ایک دم چنچل ہو کر چھلانگ لگاتی اور اشتیاق کے کندھے پر جا کر بیٹھ جاتی اور پیار سے اس کی گردن چاٹنے لگتی۔ کبھی اون کا گولہ بنی ہوئی پائنتی بیٹھ کر دھوپ کا مزا لیتی کبھی اس کی باہوں میں پوری طرح پھیل کر بیٹھ جاتی، عورت کی پوری سپردگی کے ہزار انداز میں کبھی شریر تغافل، ادا سے ایک مست انگڑائی لیتی، اور جب اشتیاق ایک عجیب مسرت اور حسرت سے اس کی طرف دیکھے  لگتا۔ اشتیاق نے اس کا نام گلشن رکھا تھا، مگر پیار کی اہمیت میں اسے صرف گلو کہہ کر پکارتا تھا۔  ایک دن میری غیر حاضری میں اشتیاق نے رزینہ کے بیڈ روم میں دستک دی سڑیوں کے دن آ چکے تھے اس لئے رزینہ صبح ختم ہونے کے باوجود اپنے  نائٹ گون میں ملبوس ایک سوئیٹر بن رہی تھی۔ کون ہے زرینہ نے پوچھا۔  میں ہوں اشتیاق۔  اندر آ جاؤ۔ زرینہ بولی۔  کاغذ پنسل لئے ہوئے اشتیاق جھکتے جھکتے ہوئے انتہائی مودبانہ انداز میں  دروازے سے لگ کر کھڑا ہو گیا، پھر اس نے چپکے سے کاغذ اور پنسل آگے  بڑھا دیا اور بولا لکھئیے۔  زرینہ بولی۔ کیا کل کا حساب ابھی نہیں ، بعد میں دیکھوں گی۔  حساب نہیں ہے۔  پھر کیا ہے ؟ آپ لکھئیے تو۔ اشتیاق بار بار کاغذ پینسل آگے بڑھا رہے تھے۔  آخر ہے کیا؟

‫‫ایک غزل کے تین شعر ہوئے ہیں ۔  زرینہ چند لمحوں کے لئے بھونچکی رہ گئی، پھر اس کے دل میں ہنسی پھوٹنے  لگی اور مسکرا کر بولی۔ تم خود نہیں لکھ سکتے ؟ جی نہیں میں نہ لکھ سکتا ہوں نہ پڑھ سکتا ہوں ۔  مگر شعر کہہ سکتے ہو۔ زرینہ نے فقرہ مکمل کیا۔  جی، جی بالکل کہہ سکتا ہوں ، آپ لکھئیے میں بولتا ہوں ۔ کہے زرینہ نے زچ ہو کر کہا۔  اشتیاق نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور ایک عجیب محویت کے عالم میں بولا۔  تنہائی میرا کام ہے گلشن تیرا نام ہے جو ہو سو ہو ہم مرتی ہیں تہہ پر تو ڈرتی ہے مجھ سے جو ہو سو ہو۔  مگر اس کی بحر کیا ہے ؟ زرینہ نے پوچھا۔  بحر؟ اشتیاق نے حیرت سے آنکھیں کھول کر پوچھا۔ بہر حال غزل تو غزل ہے۔  مگر اس کا وزن۔ زرینہ نے پھر توجہ دلائی۔  بڑی وزنی غزل ہے بیگم صاحب آپ لکھئیے تو اشتیاق نے کامل دل جمی سے  کہا۔  بڑی مشکل سے زرینہ نے اپنی ہنسی روکی بولی آگے چلئے۔ اشتیاق نے پھر آنکھیں بند کر لیں اور گہرے مراقبے میں جا کر بولے۔  تیری جدائی میں ہوئے ہم مست فگار جو ہو سو ہو۔  کہتا ہے تنہائی اب گلشن میں کون آیا جو ہو سو ہو۔  زرینہ نے پوچھا۔ کہتا ہے تنہائی، مگر تنہائی تو مونث ہے۔  مگر تنہائی تو میرا تخلص ہے اور میں مونث ہوں ؟ اشتیاق نے سمجھایا۔  اس کے چہرے پر کچھ ایسی مسکراہٹ تھی، جیسے وہ کہنا چاہتا ہو۔  اجی بیگم صاحبہ یہ شعر و شاعری ہے آپ کیا جانیں ۔  اور یہ مست فگار کہاں کی ترکیب ہے تنہائی صاحب۔ زرینہ نے پھر پوچھا۔  ہمارے مراد آباد میں ایسا ہی بولتے ہیں ۔ اشتیاق نے جواب دیا۔  زرینہ نے ایک دم کاغذ اور پینسل بیڈ روم کی کھڑی سے باہر پھینک دئیے گرج کو بولی اشتیاق آج کے بعد تو نے مجھے اپنا کوئی شعر سنایا تو کھڑے کھڑے  گھر سے باہر نکال دوں گی، اشتیاق کھسیا کر سر کھجانے لگے بے حد محجوب اور شرمندہ سے دکھائی دے رہے تھے۔ زرینہ کو اس پر رحم آگیا مجرم لہجے  میں مسکرا کر کہنے لگی میرے خیال میں اگر آپ شعر و شاعری چھوڑ کر ناول نگاری کی طرف توجہ کریں تو بہتر ہو گا۔  کیا نام ہے اس ناول کا؟ لائف اینڈ کک۔ ۔ ۔ ۔ اشتیاق انگریزی میں بولے  اشتیاق کی انگریزی ایسی تھی جیسے پرانے زمانے میں ان باورچیوں کی ہوا کرتی تھی۔ جو انگریزوں کے پاس کام کیا کرتے تھے۔ یا آج کے ان مزدوروں کی جو ان پڑھ ہونے کے باوجود ٹیکنیکل دھندوں میں پڑ جاتے ہیں یہ انگریزی بڑی مختصر اور جامع ہوتی ہے اور بالعموم مصدر کی محتاج نہیں مگر اپنا ‫‫مفہوم ادا کرنے میں اس کی انگریزی سے کہیں بہتر ہوتی ہے جسے آج کے  طالب علم میٹرک تک پڑھتے ہیں ۔  ایک دن جب اشتیاق میرے سر کی چمپی سے فارغ ہو چکا ت میں نے اس سے  کہا تم اتنے سارے دھندے جانتے ہو، اگر تم کوئی ایک دھندا پکڑ کر بیٹھ جاتے  تو غالباً  بہت ترقی کر جاتے۔  صاحب میرا کسی کام میں زیادہ دیر تک جی نہیں لگتا۔ اشتیاق ایک چھوٹے سے  تولیا سے اپنے ہاتھ صاف کرتے ہوئے بولا سال چہ ماہ ایک دھندا کیا پھر دوسرے میں چلا گیا، اسی طرح زندگی کے پینتیس چھتیس برس گزر گئے باقی بھی گزر جائیں گے۔  تو تم کسی ایک دھندے میں جی کیوں نہیں لگاتے ؟میں نے پوچھا جی نہیں لگتا۔ اشتیاق سر جھکا کر کسی اقبالی مجرم کی طرح شرمندہ ہو کر بولا۔  میرا سینہ ہر وقت خالی خالی سا رہتا ہے۔  میاؤں ۔ دروازے پر گلو تشریف لائیں اور وہ منہ اٹھا کر بڑی بڑی آنکھوں سے  اشتیاق کی طرف دیکھنے لگی اشتیاق نے اسے گود میں اٹھا لیا اور اس کے  بالوں پر دھیرے دھیرے پھیرتے ہوئے بولا، گلو بھوکی ہے اسے دودھ دے آؤں ۔  اشتیاق پر کبھی کبھی ذہنی عشق کے لمبے لمبے دورے پڑتے ہیں ۔ جبکہ وہ خود گھنٹوں اپنے خیالوں میں ڈوبا ہوا کچن میں غائب بیٹھا رہتا تھا۔ جانے کیا سوچتا ہے، خود ہی مسکراتا ہے خود ہی گھورتا ہے خود ہی سلگنے لگتا ہے، کبھی کبھی منہ میں کیا جانے کیا بڑ بڑا نے لگتا ہے۔ کیا گزرتی ہے اس پر وہ کون سا کرب ہے جو اسے اندر ہی اندر کھائے جاتا ہے کون جانے کچھ بتاتا تو ہے نہیں  کبھی کبھی نشہ بھی کرتا ہے قیاس غالب ہے جب دل کی گھٹن اور سینے کا سونا پن جد سے آگے بڑھنے لگتا ہے تو کوئی نشہ ضرور کر سکتا ہے، اور دو دن کے بعد جب وہ ہوش میں آ جاتا ہے تو اصرار کرتا ہے کہ، دن نہ بدلہ نہ تاریخ بدلی ہے نہ اس نے کوئی نشہ کیا ہے۔ اور ہم بھی اس لئے چپ رہتے ہیں ، یہ کام بہت اچھا کرتا ہے ماہر ہی نہیں آرٹسٹ بھی ہے۔ اپنے کام کا اور فن کاروں کے دماغ کی ایک چول ڈھیلی ہوتی ہی ہے، یہ سب جانتے ہیں ۔  اس لئے کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے اس سے کہا حیدر آبادی بینگن بنائے اور وہ لے آئے،کچھ عجیب سی ڈش، جس میں شوربہ پانی کی طرح پتلا تھا اور اس میں بینگن کے کالے کالے ٹکڑے مرے ہوئے چوہوں کی طرح تیر رہے تھے۔  یہ جیدر آبادی بینگن ہیں ، زرینہ چیخ کر پوچھتی ہے۔  جی نہیں یہ چائنا ٹاؤن ہے۔ اشتیاق کہتا ہے۔ بالکل نئی ڈش ہے کھا کے  دیکھئے۔ سمجھئیے چکھئے بالکل نیا مزا ہے۔  اٹھا کر لے جا ابھی ابھی اسے یہاں سے ورنہ سر پر دے ماروں گا۔ میں گرج کر کہتا ہوں ، کیونکہ اس کو دیکھ کر ہی جی متلی ہونے لگا تھا۔  اس وقت تو اشتیاق ڈش اٹھا کر لے گیا مگر بعد میں اس نے زرینہ سے ‫‫کہا۔ صاحب بھی کیسی نہ انصافی کرتے ہیں چکھے بغیر نا پاس کر دیتے ہیں  کھانے کو۔  اشتیاق موتی قلیہ بہت عمدہ پکاتا ہے، ایک دفعہ گھر پر مخصوص مہمانوں کی دعوت تھی۔ اشتیاق سے موتی قلیہ پکانے کی فرمائش کی گئی جب دستر خوان بچھا تو منجملہ دوسری کی چیزوں کے ایک نہایت بدبو دار اور سڑی ہوئی ڈش سامنے آئی۔  یہ موتی قلیہ ہے۔ زرینہ نے حیرت سے پوچھا۔  جی نہیں ۔ اشتیاق فورا بولے یہ پیسٹ ہے۔  پیسٹ کیا۔ تمہیں موتی قلیہ تیار کرنے کو کہا تھا۔ کہا تھا کہ نہیں زرینہ خفا ہو کے بولی۔  جی موتی قلیہ بگڑ گیا اس لئے میں نے نئی ڈش تیار کر دی ہے، اشتیاق کی یہ عادت اب ہمیں معلوم ہو چکی تھی، کہ جب کوئی سالن بگڑ جاتا ہے تو اسے فوراً نیا نام دے کر دستر خوان پر پیش کر دیتے ہیں ۔ اور ڈش کے بگڑنے کا یوں تذکرہ کرتے ہیں ، جیسے کسی اعلی خاندان کا لڑکا خود بخود بگڑ جائے اور اس کے  بگاڑنے میں ان کا کوئی ہاتھ نہ ہو۔  اب کیا کہیں چند ایسے مہمانوں کی دعوت تھی جب کے سامنے بے تکلف نہ ہو سکتا تھا ورنہ آج میرا ارادہ اشتیاق سے بے تکلف ہونے کا تھا مگر مہمان موجود تھے، اور دوسرا سالن بے جد عمدہ تھے اس لئے خاموش ہونا پڑا۔  دوپہر کے کھانے کے بعد ہم مہمانوں کو لے کر میٹنی شو دیکھنے چلے گئے  اور چلتے چلتے زرینہ نے اشتیاق کو رات کے کھانے کے متعلق ہدایات دے  دیں ، میٹنی شو دیکھنے کے بعد جن ہم شام کو واپس ہوئے تو دیکھا کہ گھر کے  باہر فائر برگیڈ کھڑا ہے، بہت سے لوگ جمع ہیں اور کچن کی چمنی اور چھت اور کھڑکیوں دھوئیں کے بادل اٹھ رہے تھے، آگ آگ میرا گھر بچاؤ، لینڈ لارڈ زور زور سے چلا رہا تھا۔  اشتیاق کہاں ہے ؟ میں نے پوچھا کیا معلوم۔ لینڈ لارڈ اپنے سر کے بال نوچتے ہوئے بولا ایک گھنٹے سے چیخ رہا ہوں ،اور وہ دروازہ ہی نہیں کھولتا، اور اندر کچن میں شاید نشہ کر کے بے ہوش پڑا ہے۔  میں اور زرینہ دونوں نے چلا کر دروازہ اشتیاق سے کھلوایا۔ اشتیاق بے جد حیرت زدہ کچن سے نکلے اور دھواں دیکھ کر پلٹے اور کچن کی دونوں انگیٹھیوں پر پانی ڈال کر بجھانے لگے دونوں پتیلیوں کے سالن جل چکے تھے مگر خدا جانے ان میں اس نے کون سا مسالا ڈال تھا کہ دھوئیں کہ گہرے سیاہ بادل اب تک ان کی پتیلیوں سے اٹھ رہے تھے۔ آگ آگ لینڈ لارڈ غصے میں چلا رہا تھا۔  کدھر ہے آگ؟ اشتیاق حیرت سے پوچھنے لگا زرینہ بولی۔ یہ بے چارے ایک گھنٹے سے چیخ رہے ہیں ، دروازے پیٹ رہے  ہیں اور تمہیں کچھ پتہ ہی نہیں فائر برگیڈ تک آ گئی اور کچن کا دروازہ بند کئے  غافل بیٹھے ہو۔  

‫‫اشتیاق سب لوگوں کو متوجہ دیکھ کر چونکا۔ شرمندہ ہو کر سر کھجانے لگا۔ ایک انگلی اپنی کھوپڑی پر رکھ کر بولے۔ بحث چل رہی تھی۔  کیسی بحث؟ زرینہ کا پارہ چڑھنے لگا۔ تم یہاں اکیلے بیٹھے ہو۔  کورٹ کا مقدمہ تھا۔  کیا مقدمہ؟ آبائی مکان کا مقدمہ تھا میرے اور چچا زاد بھائی لطیف کے درمیان وکیل استغاثہ اور وکیل صفائی کے درمیان بحث ہو رہی تھی۔  کدھر ہے وکیل استغاثہ اور وکیل صفائی۔ زرینہ کا غصے سے پارہ چڑھنے لگا۔  میں خود ہی دونوں طرف سے وکیل ہوں ۔ خود ہی کورٹ ہوں ، خود ہی مدعی، خود ہی مدعا علیہ، خود ہی بحث کرتا تھا۔ خود ہی جواب دیتا تھا۔ اشتیاق نے بتایا۔  مگر یہاں کہاں بحث چل رہی تھی۔ زرینہ نے دانت پیس کر کہا۔  یہاں اشتیاق نے اپنی کھوپڑی پر انگلی رکھ کر کہا۔ اور سر جھکا لیا۔  زرینہ کا دل اشتیاق سے ہٹنے لگا، میرا بھی۔ عمدہ باورچی ہونے کے باوجود اس کی خامیاں اب جان لیوا ثابت ہونے لگے۔ ادھر اشتیاق سے زیادہ اس کی بلی گلشن نے مجھے عاجز کر دیا۔ میں دراصل اشتیاق کی وجہ سے اس سے بے  اعتنائی تو نہ برتتا تھا۔ کیونکہ اشتیاق نہیں رکھنا چاہتا تھا کہ اس کے سوا کوئی دوسرا اس کو توجہ دے مگر غالباً  گلشن کو یہ بات پسند نہ تھی وہ مجھے بھی اپنے مداحوں کی فہرست میں شامل کرنے پر مصر تھی وہ ایک بار وہ ایک کمرے میں اٹھلائی ہوئیں آئیں مگر میں نے شش کر کے بھگا دیا پھر میری غیر حاضری میں ایک بار وہ میرے بستر پر چڑھ کر سو گئیں ۔ دراصل سوئی نہ تھی سونے کا بہانہ کر رہی تھی وقت بھی گلشن نہ وہ چنا جو میرے دفتر سے آنے کا تھا، مقصد یہ تھا کہ ہم تمہارے بستر پر چڑھ کر کے سوئیں گے اور تم اسے  برداشت کر گئے تو دوسری بار تمہارے سینے پر چڑھ کر سوئیں گے یعنی جس قدر میں بے اعتنائی دکھا رہا تھا اسی قدر وہ مجھے اپنے قریب لانے پر مصر تھیں ۔ اس وقت میں نے جو انہیں بستر پر سوئے ہوئے دیکھا تو غصے میں آ کر انہیں دم سے پکڑا اور بستر سے نیچے پھینک دیا بے جد خفا ہو کر غرائیں اور جھلا کر کمرے سے باہر چلی گئیں مگر اس کا بدلہ گلشن نے یوں لیا کہ دوسرے دن دفتر سے جو آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ میرے کمرے میں سیمل کی ریشمیں روئی کے دونوں تکئیے ادھڑے پڑے ہیں اور گلشن انہیں پنجے مار مار کر نوچ رہی ہے اور سمبل ہوا میں اڑ رہی ہے۔   پیچھے آنے لگا۔ مگر وہ میرا غصہ دیکھ کر منہ سے کچھ بول نہیں رہا تھا۔ صرف اس کے ہونٹوں کے کونے پھڑکتے رہے۔  بڑی سڑک پر آ کر میں ایک کونے میں کھڑا ہو گیا۔ اس سڑک پر کئی کھڈے اور گڑھے تھے اور اس پر ان گنت وزنی ٹرکوں گھوں گھوں کرتے ہوئے گزرتے  تھے، میں نے ایک ٹرک قریب آتی ہوئے دیکھ کر یکایک گلشن کو زور سے  سے جھلایا اور نشانہ باندھ کر گزرتے ہوئے ٹرک کے نیچے پھینک دیا، اشتیاق کے گلے سے ایک گھٹی ہوئی چیخ نکلی۔  ٹرک سڑک سے گزر گیا، چند لمحوں تک ایسا محسوس ہوا جیسے گلشن سڑک پر پس کر بھی لیٹی ہوئی پھر یکا یک وہ چونک کر کھڑی ہو گئی اور بجلی کی سرعت سے چھلانگ لگا کر سڑک پار کرتی ہوئی مخالف سمت میں چلی گئی وہ ایک بار اس نے پلٹ کر ہماری طرف دیکھا مگر ہمارے گھر کی طرف آنے کی بجائے، وہ مخالف سمت میں دوڑتی ہوئی چلی گئی اور پھر ہمارے گھر کبھی نہیں آئی۔  تین دن تک اشتیاق نے انتظار کیا مگر گلشن کہیں نظر نہیں آئی چوتھے دن اس نے سامان باندھ لیا۔ اور بولا، صاحب میرا حساب کر دیجئے، میں جانا چاہتا ہوں ۔  کیوں ، تمہیں کیا تکلیف ہے، زرینہ نے پوچھا۔  اشتیاق نے مجھ سے آنکھیں چرا کے زرینہ سے کہا۔ بیگم صاحب جس طرح صاحب نے میری بلی کے ساتھ سلوک کیا وہ میں برداشت نہیں کر سکتا۔  اور وہ جو تمہاری بلی نے میرے چالیس روپے کے دو قیمتی تکئے پھاڑ ڈالے  ہیں اس کا ہرجانہ کون دے گا میں نے غصے میں بلند آواز میں کہا۔  زرینہ نے معاملہ سلجھانے کے خیال سے بولی ارے ایک بلی کی وجہ سے لگی ‫‫لگائی نوکری چھوڑتا ہے۔ میں تجھے ایسی دس بلیاں لا دوں گی۔  نہیں وہ تو میری گلشن تھی، اشتیاق کی آواز کمزور ہو کر لرزنے لگی جیسے وہ ابھی رو دے گا۔  ارے گلشن تھی کہ زلفن تھی کہ کریمن جو نام چاہے رکھ لینا میں نے اسے ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ سینکڑوں بلیاں گھومتی ہیں اس علاقے  میں ۔  اشتیاق نے پھر نظریں چرا کے مجھ سے رخ موڑ کر زرینہ کی طرف ہو کر بولا مجھے صاحب سے بڑا ڈر لگتا ہے اب تو۔  کیوں ۔ زرینہ نے پوچھا۔  جب صاحب نے گلشن کو اٹھا کر سڑک پر پھینک دیا تو مجھے ان کا چہرہ بالکل اپنے باپ کی طرح نظر آیا۔  اپنے باپ کی طرح؟ کیا بکتے ہو؟ زرینہ غصے سے بولی۔  اشتیاق نے ایک دو لمحے توقف کیا پھر گھمبیر لہجے میں کہنے لگا اسی طرح میرے باپ نے ایک دن نشے کی حالت میں مجھے کمرے سے اٹھا کر باہر پھینک دیا تھا اس وقت میری عمر چار سال تھی، میں یقیناً مر جاتا مگر سڑک پر جہاں میں گرا اس پر ایک بڑا سا گڑھا اور میں اس کے گڑھے میں سے رات بھر باہر نہ آ سکا، اور رات کا وقت تھا دو ایک ٹرک پرے پرے گزر گئے پھر شاید میں بے ہوش ہو گیا۔ اور ماں دو ہتڑیاں مار کر چیخنے لگی یکا یک میرے  باپ کو تیش آگیا اور وہ بھاگا بھاگا آیا اور سڑک کے گڑھے سے اٹھا کر اپنے  سینے سے لگا کر گھر لے گیا اور میرا منہ چومتا رہا اور زور زور سے روتا رہا اور کبھی میری ماں اس سے چھین کے اپنے سینے سے لگا لیتی تھی، اور کبھی میرا باپ مجھے میری ماں سے لے کر چھاتی سے لگا لیتا تھا مگر میں  اس کا وہ چہرہ کبھی نہیں بھول سکتا۔ جب اس نے مجھے غصے میں اپنے  ہاتھوں سے اٹھا کر سڑک پر پھینک دیا تھا بالکل ویسا ہی چہرہ تھا اس وقت صاحباکپ اس لئے میرا حساب کر دو۔ میں یہاں ہیں رہوں گا؟ اشتیاق میرے پاؤں کو ہاتھ لگانے لگا جیسے گستاخی کی مجھ سے معافی مانگ رہا ہو۔  زرینہ نے اس کا ا کر دیا۔  تین سال بعد جب ہمارا تبادلہ ممبئی ہوا تو وہ ہمیں بمبئی میں ملا ہمیں ایک گھر کی تلاش تھی اور اشتیاق ایک ہاؤس ایجنٹ تھا اور اس کا نام اب لالو کرمانی تھا اور وہ سنگھی تھا اور سندھی زبان بڑے فراٹے سے بولتا تھا وہ کھدر کا پاجامہ اور کھدر کا یاک لمبا کرتا پہنتا تھا، اور پہلی نظر میں کسی مجلہ کمیٹی کا کانگریسی نیتا معلوم ہوتا تھا یہ کیا ڈھنگ ہیں تمہارے یہاں ؟زرینہ نے اپنے  دونوں ہاتھ اٹھا کر اس سے پوچھا۔  ادھر۔ بلڈنگ کا اکھا دھندا سندھی لوگ کے پاس ہے اس لئے ہم بھی سندھی بن گیا، بیگم صاحب کیا کریں پیٹ روٹی مانگتا ہے۔  

‫‫کوئی بلی ولی پالی رکھی ادھر بھی۔ میں نے اس سے پوچھا۔  وہ شرمندہ سا ہو گیا۔ آنکھیں جھپکائے ہوئے بولا۔ صاحب ادھر بمبئی میں جندا  رہنا بھی مشکل ہے ایک ایرانی ہوٹل کے مالک نے ترس کھا کر میرا ٹرنک اور بستر اپنے باورچی خانے میں رکھنے کی اجازت دے دی ہے، رات کو اس کی دکان کے سامنے پڑا رہتا ہوں ، صبح گیارہ بجے تک اس کی دکان میں سموسے  بناتا ہوں ۔ پھر رام داس ماکی جانی کے دفتر میں جاتا ہوں ۔  یہ ماکی جانی کون ہے ؟زرینہ نے پوچھا۔  اصل میں ہاؤس ایجنٹ تو وہ ہی ہے، میں اس کام کا دوسرا اسسٹنٹ ہوں ۔  تم کو کیا ملتا ہے ؟ کمیشن ملتا ہے ؟ کتنا؟ ماکی جانی کو ٹونٹی فائیو پرسنٹ ملتا ہے پہلے اسسٹنٹ کو فائیو پرسنٹ ملتا ہے، اشتیاق انگریزی بگھارنے لگے ہم کو ون پرسنٹ۔  ون پرسنٹ؟ زرینہ نے پوچھا ون پرسنٹ آف واٹ؟ اشتیاق بولے۔ ون پرسنٹ آف دی فایو پرسنٹ آف دی ٹونٹی فائیو پرسنٹ آف دی ہنڈرڈ پر سنٹ۔  زرینہ ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہو گئی، اشتیاق خود بھی بے جد محظوظ ہوئے  آخر جب زرینہ نے کسی طرح اپنی ہنسی پر قابو پالیا تو بولے۔ آپ کو ایک فلیٹ دے سکتا ہوں ۔  کیسا ہے وہ فلیٹ۔  اشتیاق انگلی پر کمرے گنواتے ہوئے بولے ون بیڈ روم، ون باتھ روم، ون بیڈ روم، مون ون کچن، ون ہال اینڈ سیپرٹیس۔  یہ اینڈ سپیر ٹیس کیا بلا ہے ؟ زرینہ نے پوچھا۔  بس اینڈ سیپرٹیس۔ اشتیاق نے اس طرح حیرت سے زرینہ کی طرف دیکھا گویا کہ رہا ہو، ایم اے کرنے کے بعد اتنی معمولی سی انگریزی نہیں سمجھ سکتیں ۔  آپ؟ اینڈ سیپریٹس۔ بیگم صاحب اشتیاق نے پھر سمجھایا۔  زرینہ یے یکایک سمجھ کر کہا۔ اچھا تمہارا مطلب ہے آل سیپرٹیس یعنی ہر کمرہ دوسرے سے الگ الگ ہے۔  بس اینڈ سیپر یٹس اشتیاق کے چہرے پر احساس برتری کی ایسی جھلک آئی گویا کہہ رہا ہو افواہ کتنی دیر سے بات آپ کی سمجھ میں آئی۔  زرینہ پھر ہنسنے لگی میں نے بات ٹالنے کی غرض سے کہا، اور بھی کچھ کام کرتے ہو؟ جی ہاں ایک ٹوتھ پیسٹ تیار کیا ہے میری ٹوتھ پیسٹ۔  یہ میری کون ہے ؟زرینہ نے چونک کر کہا۔  شرما کر بولے۔ چھوکری ہے۔  تمہاری منگیتر۔  بھئی نہیں ۔ سر ہلا کر بولے ہمارے ہوٹل میں ایک عیسائی بڑھیا کام کرتی ہے، ‫‫اس کی چھوکری ہے۔ کوکن کے گاؤں میں بڈھی اپنی چھوکری کی شادی بناتا ہے۔  تمہارے سنگ۔ زرینہ نے خوش ہو کر پوچھا۔  نہیں کسی عیسائی چھوکرے کے سنگ، ایلفرڈ اس کا نام ہے۔ وہ بھی ادھر کوکن کے گاؤں میں رہتا ہے، مگر بڈھی بہت گریب ہے، اس کے پاس پیسہ نہیں ہے۔  اس لئے ہم نے میری ٹوتھ پیسٹ نکالا ہے اور اس کو شام کے ٹائم میں بیچتا ہے اور اس پیسہ اس کرسچن بڈھی کو دیتا ہے۔  الو کا جنم کیوں اشتیاق؟ روکنے کے باوجود میری ہنسی میرے سوال سے باہر چھلکتی پڑتی ہے۔  الو کا جنم اس لئے صاحب۔ اشتیاق نے گہری سنجیدگی سے کہا کہ اشتیاق کو یعنی ظلم کے ہیرو کورات میں نیند نہی آتی ہے۔ ہیروئن کے فراق میں رات رات بھر جاگتا ہے اور الو بھی رات کو جاگتا ہے اس لئے بات سمجھئے ذرا ذرا سوچنے کیا گہری جقیقت بیان کیا ہوں ۔  ارے الو کے پٹھے۔ زرینہ نے دوپٹا منہ سے نکال کر یکایک چیخ کر کہا۔ بھاگ جا یہاں سے ورنہ اپنی چپل اتار کر اتنے ماروں گی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اتنے مروں  گی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ زرینہ چپل اتارنے لگی اشتیاق بھاگ کھڑا ہوا۔  اشتیاق کا کاروبار ایرانی ہوٹل والے کے ہاں خوب چمک گیا۔ پہلے وہ صرف سموسے بناتا تھا پھر اس نے ایرانی ہوٹل کے مالک کو ڈھرے پر لگا کر اسے  شاہی ٹکڑے بیچنے کی ترغیب دی۔ بہت سستے میں بن جائے گا۔ سیٹھ تمہارے  ادھر ڈبل روٹی کا کتنا ٹکڑا بے کار میں پھنکتا ہے ہم اس کو کام میں لائے گا خالی شکر کا خرچ ہے اور تھوڑی سی بالائی اشتیاق نے اسے سمجھایا اور تمہارے پاس تین تین ریفریجریٹر ہے۔ ایک ریفریجریٹر میں شاہی ٹکڑا رکھے  گا۔ گاہک کو ٹھنڈا ٹھنڈا سرو کرے گا۔  ایرانی مان گیا کیونکہ خرچا بہت کم تھا اس مٹھائی کا پہلے دن اشتیاق نے جو شاہی ٹکڑا بنایا تو وہ دو آنے فی ٹکڑے کے ا سے ہاتھوں ہاتھ بک گیا۔  ایسی عمدہ ڈش جس سے پیٹ بھی بھرے اور مٹھائی کی مٹھائی بھی معلوم ہو ایرانی ہوٹل میں بیٹھنے والوں نے آج تک کا ہے کو کھائی تھی۔ اب تو یہ حالت تھی کہ اشتیاق کو دن میں دو بار شاہی ٹکڑے تیار کرنے پڑتے اور بکری بڑھتی دیکھ کر ایرانی ہوٹل کے مالک نے اشتیاق کو اپنے کچن کا ہیڈ کک مقرر کر دیا کچن میں کام کرنے والے نوکر اشتیاق کو استاد جی کہہ کرتے تھے اور ہوٹل کا مالک میں نے دہرا کر پوچھا۔ نا الیون ون پرسنٹ آف دی فایو پرسنٹ آف دی ٹونٹی فایو پرسنٹ آف دی ہنڈرڈ پرسنٹ؟ نو سر۔ اشتیاق نے سر ہلا دیا۔  تو اس فلم کے گانے کون لکھے گا۔ تم نے تو شاعری ترک کر دی ہے۔  جی اشتیاق نے اپنے ہاتھ کا ناخن دوسرے سے کریدتے ہوئے بولے شاعری تو چھڑ دی ہے مگر اس فلم کے گانے تو میں ہی لکھوں گا، ایک مکھڑا کہا ہے ؟ ‫‫کیا؟ نگاہیں نیچی کئے آنکھوں کے کونوں سے ڈرتے ڈرتے چور نگاہوں سے زرینہ کی طرف دیکھتے ہوئے بولے، صاحب بات یہ ہے کہ غزل سے بیگم نے ہم کو بہت ڈرایا دیا تھا۔ کہ اس کا وزن بہت بڑا ہوتا ہے۔ اس لئے ہم نے غزل چھوڑ دیا مگر فلمی گیت ہم دیکھتے ہیں کہ اس کا وزن بہت چھوٹا ہوتا ہے کیا مطلب کہ چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہوتے ہیں ۔ اور بیچ بیچ میں میوزک ہوتا ہے۔ اس لئے ہم نے فلمی گیت شروع کیا ہے۔ اس طرح سے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے والا؟ تو سناؤ؟میں نے بے چین ہو کر کہا۔  اشتیاق نے کھنکار کے گلا صاف کیا۔  او صنم او صنم۔  میں نے لیا۔  الو کا جنم۔  تیرے لئے۔  زرینہ کی بری حالت تھی دوپٹا ٹھونستے ہوئے اس کا چہرہ لال ہوتا جا رہا تھا بڑی مشکل سے میں نے اپنی ہنسی روکی اور اس سے پوچھا۔ مگر تاکہ اپنی چھوکری کی شادی تمہارے سوا کہیں اور کر سکے۔ زرینہ نے بے جد تلخ ہو کر پوچھا۔  یکایک اشتیاق سٹپٹا گیا۔ اس کی آنکھوں کی پتلیاں جلدی جلدی گھومنے لگیں ۔ اس کے ہونٹوں کے کونے تیزی سے پھڑکنے لگے اور گال بھی اندر دھنستے گئے  اور اس کا چہرہ ایک ایسی کالی کھوپڑی کی طرح نظر آئے گا۔ جس پر صرف کھال منڈی ہو۔ اسے دیکھ کر مجھے بہت رجم آیا وہ اس وقت زرینہ سے نظریں  چرا کر یوں چاروں طرف دیکھ رہا تھا جیسے چاروں طرف سے دیواریں اس پر گر رہی ہوں اور اس کے بیچ نکلنے کا کوئی راستہ نہ ہو میں نہ جلدی سے  بات کا رخ پھیرتے ہوئے اس سے پوچھا۔ شعر و شاعری جاری ہے۔  اس نے انکار میں سر ہلا دیا۔ کیوں ؟میں نے پوچھا۔  اب تو ایک فلمی کہانی لکھ رہا ہوں ۔ اشتیاق نے بڑے فخر سے اعلان کیا۔ وہ اپنی گھبراہٹ پر قابو پا چکا ہے۔  ہیرو کون ہے ؟میں نے پوچھا۔  اشتیاق اپنا نام لے کر بولے۔ ڈبل رول ہے اشتیاق اس کا اس پکچر میں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اور ولن کون ہے ؟ زرینہ نے پوچھا۔  اور شاید دلی کمار نبھا جائے۔ اشتیاق سوچ سوچ کر بولے۔ ولن کا رول بہت مشکل ہے۔  زرینہ نے ہنسی روکنے کیلے اپنے منہ میں دوپٹا ٹھونس لیا۔  اور ہیروئن۔ میں نے پوچھا۔  فلم انڈسٹری میں کوئی نہیں ہے۔ اشتیاق سنجیدہ ہو کر بولے باہر دیکھ رہا ہوں ۔  فلم انڈسٹری میں کوئی نہیں ہے ؟ میں نے پوچھا پھر اسی کا انگریزی فقرہ اشتیاق کو شاہی ٹکڑے کے مناسبت سے میرے دل کا ٹکڑا کہتا تھا۔  

‫‫اگر میں نے کبھی اشتیاق کے جسم اور روح پر بہار آتے ہوئے دیکھی ہے تو وہ یہی دن تھے۔ اس کے کلے بھرنے لگے اور کالے رخساروں پر صحت کا اودا پن چھلکنے لگا اور وہ کشتیاں اس کی پتلیوں کی جو اس کی آنکھوں میں ہر وقت بے چین اور مضطرب ہو کر تیرتی رہتی تھی۔ اب بمبئی کے ساحل پر لنگر ڈالتی معلوم ہوتی تھیں جہاں اشتیاق نے ہمیں مکان دلوایا تھا۔ اس کے قریب کوئی ایک فرلانگ کے فاصلے پر وہ ایرانی کا ہوٹل تھا۔ یہ چوک کے نکڑ پر سامنے  ٹیکسیوں کا اڈا تھا اور قریب ہی ایک نئی مارکیٹ کھل گئی۔  صبح سے شام تک اس ایرانی ہوٹل میں بڑی بھیڑ رہتی تھی۔ بوٹ پالش کرنے  والے اور پان بیچنے والے اور بھیل پوری کی چاٹ بیچنے والے اور آس پاس کے گھروں اور بنگلوں کے نوکر اور چا کر اور کالجوں کے ٹیڈی بوائز اور کام کی تلاش میں گھومنے والے بے کار اور آوارہ گرد لونڈے جو کالج کی لڑکیوں  سے زیادہ ٹیڈی معلوم ہوتے ہیں ۔ ان سب کا جمگھٹا اس ہوٹل میں اندر اور باہر رہتا تھا اور اس ہوٹل میں اشتیاق بہت پاپولر ہو گیا تھا۔  آتے جاتے میں اسے دیکھتا تھا سہ پہر تک وہ اپنے ملگجے کپڑوں میں کبھی کچن کے اندر کبھی کچن کے باہر مستعدی سے کام کرتا دکھائی دیتا کوئی چار بجے کے قریب وہ نہا کر دھو کر گیروے رنگ کا بنگالی کرتہ اور اس کے  نیچے کھلے پائنچوں والا پاجامہ اور چپل پہن کر ایرانی ہوٹل کے باہر آ کر کھڑا ہوتا۔ اس وقت اس کام کی تلاش میں آئے ہوئے ادھر ادھر کے بہت سے لونڈے  گھیر لیتے تھے۔  وہ ادھر ادھر کے بنگلوں اور فلیٹوں میں ان لڑکوں کو نوکر کرا دیتا کیونکہ ہاؤس ایجنٹ کا اسسٹنٹ ہونے کی وجہ سے آس پاس کے بلڈنگوں میں اس کی خاصی جان پہچان تھی جن لونڈوں کو وہ نوکری نہ دلوا سکتا، انہیں دوسرے دن آنے کا مشورہ دیتا، پھر چلا جاتا۔ پھر بیڑی