کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

چھلاوے

عوض سعید


پوسٹ مین کی مانوس آواز پر وہ اچانک اُٹھ کر دروازے  تک پہنچا اور ایک ثانیے  کے  لیے  خط کی پیشانی پر لکھے  ہوئے  پتے  پر نگاہ ڈالی۔ پتہ صحیح تھا مگر نام کچھ اور تھا۔ قبل اس کے  کہ پوسٹ مین کو آواز دیتا وہ خط پھینک کر سیڑھیاں  پھلانگتا ہوا نیچے  جا چکا تھا۔

          شام کو جب وہ باہر نکلا تو اُس نے  اس خط کو احتیاط سے  جیب میں  رکھا اور چورا ہے  پر کھڑے  ملگجے  پوسٹ بکس کے  منہ میں  اُسے  بڑی بیدردی کے  ساتھ پھینک دیا۔

          اب وہ جانے  کیوں  اپنے  آپ کو ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا، لیکن دوسرے  ہی لمحے  اسے  احساس ہوا کہ اُس نے  خواہ مخواہ جلد بازی سے  کام لیا۔ ہو سکتا ہے  پھینکا ہوا وہ خط اُسی کا ہو۔ پتہ تو اُسی کا تھا۔ نام میں  بھلا کیا دھرا ہے۔ نہیں  نہیں۔۔ نام ہی شناخت کا زینہ ہے۔ اگر وہ اُسے  بھی کھو دے  تو باقی صرف اس کا چہرہ ہی رہ جاتا ہے، مگر شناخت تو چہرے  سے  ہی ہوتی ہے، نام تو اُس کے  پیچھے  ہاتھ باندھے  چلتا ہے۔ وہ ایک لمحے  کے  لیے  گڑبڑا گیا اور بے  ارادہ تارکول کی لمبی سڑک پر تیز تیز چلنے  لگا۔

          ارے  فہیم۔۔۔ یکبارگی ہجوم میں  سے  کسی نے  آواز لگائی۔ آواز کے  دوش پر اڑتا ہوا جب وہ اس کے  قریب پہنچا تو وہاں  دو اجنبی آپس میں  گلے  مل رہے  تھے  جیسے  برسوں  بعد وہ ایک دوسرے  سے  ملے  ہوں۔ یہ منظر اُسے  بڑا پیارا لگا۔ کہیں  ایسا تو نہیں  کہ اُس نے  خود آگے  بڑھ کر اس اجنبی کو گلے  لگا یا ہو۔ وہ بھی تو فہیم ہی ہے  مگر اُس کا چہرہ۔۔۔

          اب وہ کھویا کھویا سا راستہ طے  کرنے  لگا۔ وہ منظر جو تھوڑی دیر پہلے  اُس نے  دیکھا تھا اب وہ اپنی ذراسی جھلک دکھا کر غائب ہو چکا تھا۔ اب اس کی جگہ دو آدمی آپس میں  گتھم گتھا ہو رہے  تھے۔ دونوں  کے  جسم سے  خون کی سُرخ سُرخ بوندیں  ٹپک رہی تھیں  مگر لوگوں  کے  مشاغل میں  کوئی کمی نہ آئی تھی۔ اپنا بھائی مر رہا ہے  ارے  کوئی اُسے  بچاؤ۔ ‘‘ مگر وہاں بچانے  والا کوئی نہ تھا۔

          ایسے  تماشے  اس نے  بہت دیکھے  تھے، ایک طرح سے  وہ خود ایک بہت بڑا تماش بین تھا۔ پھر لوگ ایک ایک کر کے  آہستہ آہستہ موت کے  کنویں  میں  چھلانگ لگا رہے  تھے،اپنی چوّن سالہ زندگی میں اس نے  اپنے  کئی عزیزوں  یاروں  کو قبر کے  منہ میں  پھینک آنے  کی اذیت دہ رسم ادا کی تھی۔ اس سے  بڑا ظلم اس کے  ساتھ اور کیا ہو سکتا تھا۔ اور تو اور مرنے  والوں  کی ایک لمبی فہرست اُس نے  اپنے  پاس رکھ چھوڑی تھی  جسے  وہ ہر برس یوں دیکھتا جیسے  وہ اپنی عمر کا حساب لگا رہا ہو۔ اکثر دفعہ تو اس نے  چپکے  سے  اپنے  نام کا اضافہ کر دیا تھا لیکن جب فہرست پر اس کی نگاہ جاتی تو ناموں  کے  جھرمٹ میں  اس کا اپنا نام کہیں  معدوم سا ہو کر رہ جاتا۔ تلاش بسیارکے  باوجود جب اُسے  فہرست میں  اپنا نام دکھائی نہ دیتا تو وہ چپکے  چپکے  سسکیاں  بھرنے  لگتا۔ آخر وہ کب تک زندگی کی اس بے  ہنگم سیڑھی سے  چمٹا رہے  گا۔ آخر کب تک؟ پھر ایک بار اُسے  لگا جیسے  سامنے  کے  ٹیڑھے  میڑھے  قبرستان میں  لوگ کسی اور آدمی کے  بجائے  اُسے  دفنا کر لوٹ رہے  ہوں۔ اُن کے  چہروں  پر کہیں  بھی اُداسی کی لکیریں  نہیں  تھیں۔ وہ چاہتا بھی یہی تھا کہ اُس کی موت کسی کے  لیے  بھی اُداسی کا سبب نہ بنے  مگر یہ خواب اچانک ٹوٹ پھوٹ کر کانچ کے  ذروں  کی طرح سڑک پر بکھر کر رہ گیا۔

          اب اُس کے  سامنے  اُس کی اپنی بیوی کھڑی تھی۔

          ’’کیا تم بھی ان ہی لوگوں  میں  سے  تھیں۔ ‘‘

          ’’ آپ کن لوگوں  کی بات کر رہے  ہیں۔ ‘‘

          ’’ اُن ہی لوگوں  کی جو ابھی ابھی۔۔۔  ‘‘

          ’’چلیے  یہ ناٹک بہت ہوا۔ گھر پر کچھ مہمان آپ کا انتظار کر رہے  ہیں۔ ‘‘

          بھری سڑک پر اس کی بیوی نے  جب اس کا ہاتھ تھاما تو اُسے  محسوس ہوا کہ اُس نے  دوبارہ جنم لیا ہے۔ گھر پر کچھ لوگ واقعی اس کا انتظار کر رہے  تھے۔ ان کے  چہرے  بھی کچھ عجیب سے  تھے۔ جیسے  وہ کسی انجانی دنیا کے  باشندے  ہوں۔

          اُسے  ڈرائنگ روم میں آتے  دیکھ کر سب احتراماً  اُٹھ کھڑے  ہو گئے  اور فرداً فرداً مصافحہ کے  لیے  ٹوٹ پڑے۔ اُسے  یہ سب کچھ عجیب سا لگا۔

          جب کافی دیر ہو گئی اور کسی نے  اپنی زبان کو جنبش نہ دی تو اسے  حیرانی ہوئی،اور یہ حیرانی لمحہ لمحہ بڑھتی جا رہی تھی۔

          وہ لوگ ابھی تک احترام کا لبادہ اوڑھے  اس کے  سامنے  کھڑے  تھے  جیسے  اس کے  حکم کے  منتظر ہوں۔ پھر اس نے  اپنی بیوی کو آتے  دیکھا،جس کے  ہاتھ میں  چائے  کی ٹِرے  تھی۔ اس نے  اشارے  سے  اُسے  اندر بلایا۔

          ’’وہ آپ سے  مسلسل باتیں  کر رہے  ہیں  اور آپ ہیں  کہ اُن کا کوئی جواب ہی نہیں  دیتے۔ ‘‘

          ’’ کیا کہہ رہی ہو، ان لوگوں  نے  ابھی تک کوئی بات ہی نہیں  چھیڑی۔ تم مجھے  پاگل بنا دو گی۔ ‘‘

          جب وہ بیوی سے  دامن چھڑا کر ڈرائنگ روم میں  داخل ہوا تو سارے  لوگ چائے  پی کر رخصت ہو چکے  تھے۔ میز پر خالی دھری ہوئی پیالیاں  جیسے  اُس کا مُنہ تک رہی تھیں۔

          یہ آنے  والے  بھی عجیب لوگ تھے  جو آئے  اور چلے  بھی گئے، مگر وہ یہاں  آئے  کیوں تھے۔ کوئی سبب۔۔ کوئی وجہ۔۔ کوئی کام۔۔ کچھ بھی تو نہیں۔۔ وہ جھنجھلاسا گیا۔

          ’’ وہ کوئی عام لوگ معلوم نہیں  ہو تے  تھے۔ ‘‘کسی نے  سپاٹ لہجے  میں  کہا اور آگے  پڑھ کر ٹی وی کے  بٹن کو گھما دیا۔ اس نے  پلٹ کر دیکھا۔ یہ اُس کی بیوی کی آواز تھی جو سفید ساری میں  ملبوس ایک سوالیہ علامت بنی اس کے  سامنے  کھڑی تھی۔

          اب اسکرین پر وہی گھسی پٹی سیریل چل رہی تھی جس سے  بچنے  کے  لیے  وہ دنوں  سڑکیں  ناپتا رہا تھا۔

          جب اس کی بیوی نے  کرسی سنبھالی تو وہ دبے  پاؤں گھر سے  نکل پڑا۔

          سڑک انسانی قافلوں  سے  لدی ہوئی تھی۔ سائیکلیں۔ کاریں،رکشائیں اور اسکوٹروں  سے  بچتا بچاتا جب وہ سڑک کے  کنارے  آیا تو اس کی پیشانی پر پسینے  کی دو ایک بوندیں  چمک رہی تھیں۔

          اب وہ کھویا کھویا سا مریل ٹٹّو کی طرح سڑک پر چل رہا تھا۔ شام نے  اپنے  بادبان کھول رکھے  تھے  اور ہوائیں  سائیں  سائیں  کرتی ہوئی جیسے  چیخ رہی تھیں۔ پھر ایک بار اس کے  دماغ کے  پردے  پر کچھ آڑھی ترچھی تصویریں  ابھرتی چلی گئیں۔ ڈوبتے  ابھرتے  ان چہروں  کو جھٹکنے  کی اس نے  بہت کوشش کی لیکن بے  سود۔

          آخر وہ کون لوگ تھے۔ کیوں  اس سے  ملنے  آئے  تھے۔ اگر انہوں  نے  چپ کی چادر اوڑھ بھی رکھی تھی تو کم از کم وہ خود ہی پہل کر کے  پوچھ لیا ہوتا۔ کیا وہ ان ہی کاموں  کے  لیے  رہ گیا ہے ؟ یہ کام وہ خود بھی تو کر سکتے  تھے، مگر ساجدہ نے  یہ کیوں  کہہ دیا کہ ان لوگوں  نے  اس سے۔۔۔ کہیں  ایسا تو نہیں کہ وہ آئے  ہی نہ تھے  اور خواہ مخواہ۔۔ نہیں  نہیں وہ آئے  تھے  اُس سے  مصافحہ بھی کیا تھا اور چائے  بھی پی تھی۔ وہ پھر ایک بار گڑبڑا سا گیا اور چلتے  چلتے  ایک لمحے  کے  لیے  رُک گیا۔ اوپر آسمان کی چادر پھٹنے  سے  بادل پہلے  کی طرح گرج رہے  تھے۔ لگتا تھا جیسے  بہت بڑا طوفان آنے  والا ہو۔ ہلکی پھلکی بوندا باندی کے  بعد جب دفعتاً بارش نے  زور پکڑا اور بجلیوں  نے  بے  تحاشہ چمکنا شروع کر دیا تو وہ شیلٹر کی تلاش میں  ایک سائباں کے  نیچے  جا کھڑا ہو گیا جہاں  پہلے  ہی سے  کئی لوگ جمع تھے۔ وہ سامنے  والے  ہوٹل میں  داخل ہونا ہی چاہتا تھا کہ لائٹ آف ہو گئی اور ایک مہیب سا اندھیرا اس کے  اطراف منڈلانے  لگا۔ اُس نے  سوچا۔ اب وہ اندر جا کر کیا کرے  گا، مگر لائیٹ نہ سہی ہوٹل کے  منیجر نے  موم بتیاں  تو جلا رکھی ہوں  گی۔

          ’’اندر چلے  آیئے  صاحب۔ لائٹ آ ہی جائے  گی۔ ‘‘ کسی نے  اسے  آتے  دیکھ کر کہا۔

          ہوٹل میں  چاروں  طرف اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔ میزوں  پر دھری چھوٹی چھوٹی کچھ موم بتیاں  اپنی آخری سانسیں  لے  رہے  تھیں  اور ادھر ادھر بکھرے  ہوے  لوگ اسے  ہیولوں  کی طرح دکھائی دے  رہے  تھے  کچھ عجیب پر اسرار فضا تھی۔

          ’’ روشنی اگر زندگی کی علامت بن سکتی ہے  تو کیا تاریکی موت کا استعارہ نہیں  بن سکتی۔ ‘‘

          ’’ کیوں  نہیں۔۔۔ کیوں  نہیں۔۔۔ پھر اس کے  بعد ایک لمبی سی چُپ۔

          اسے  محسوس ہوا کہ وہ غلط جگہ آ گیا ہے۔ اگر موسلادھار مینہ برسا نہ ہوتا تو وہ یہاں  کیوں  چلا آتا۔ کوئی اور جگہ ڈھونڈ لیتا۔ ایک گوشہ تنہائی پھر وہ اور صرف اُس کی ذات، اُس کا وجود۔

          مگر یہ لائٹ آخر کب آئے  گی۔ بارش کب ختم ہو گی۔ کوئی بھی تو نہیں  جو اُسے  یہ جھوٹا دلاسا ہی دے  سکے۔ مگر وہ اجنبی چہرے۔ وہ لوگ۔

          جب ٹیبل پر دھری بیمار موم بتی نے  آخری سانس لی تو کوئی اندھیرے  کی چادر میں  لپٹا چیخ اٹھا۔

          ’’ ارے  بھائی یہاں  کوئی آئے۔ ‘‘

          پھر دفعتاً ایک زوردار گرج کے  ساتھ بادلوں  کے  قافلے  ایک دوسرے  سے  اس طرح ٹکرائے  کہ لہراتی ہوئی بجلی شیشوں  میں  چھُپے  چہروں  کو جیسے  ٹٹولنے  لگی۔ ایک لمحے  کے  لیے  جب اس کی نگاہ اُن عجیب و غریب چہروں  سے  ٹکرائی تو وہ یکبارگی بھونچکا سا ہو کر رہ گیا۔

          ’’ ارے  یہ تو وہی لوگ ہیں  جو اُس کے  گھر۔۔۔ ‘‘

٭٭٭