کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

اندھا کنواں

عوض سعید


روز کی طرح آج بھی وہی اندھے  مہیب سائے  رینگ رہے  تھے۔ گو اس نے  گھر کے  سارے  کمروں  کی روشنی جلا رکھی تھی لیکن ہر بار اُسے  یہی احساس ہوتا تھا کہ یہ مہیب سائے  آناً فاناً میں  اس کے  اپنے  وجود کو کسی خونخوار اژدہے  کی طرح نگل جائیں گے  اور وہ چُپ چاپ ایک اندھے  اور بے  نام کنویں  میں  گر پڑے  گا، لیکن اس کا اپنا یہ گھر بھی تو ایک اندھا کنواں ہی ہے، جہاں  وہ روز ڈوبتا اور ابھرتا رہتا ہے۔ اُسے  احساس ہوا جیسے  کوئی دبے  پاؤں  اس کے  گھر کی چوکھٹ پر آ کر اُسے  آواز دے  رہا ہو۔

          اسے  کون آواز دے  گا۔ کوئی بھی تو نہیں، جو اُسے  اس کے  اپنے  نام سے  پکارے۔ نہ کوئی یار نہ غم گسار۔

          اس کے  اپنے  ہی بچے  جب ایک روشن مستقبل کا بہانہ بنا کر اُسے  تنہا چھوڑ جائیں  تو وہ کسی اور سے  کیا گلہ کرے  گا۔ یہی نا کہ تم بھی میرے  بچوں  کی طرح خود غرض ہو۔

          نہیں  نہیں۔۔ اس کے  سار ے  دوست تو ایسے  نہ تھے  کہ وہ ان پر لعنت بھیجے۔ وہ اس سے  ملنے  آئیں  تو وہ اٹھ کر دوسرے  کمرے  میں  چلا جائے، اور جب وہاں  بھی آ کر اسے  دبوچ لیں  تو وہ نڈھال سا ہو کر کسی زخمی پرندے  کی طرح پھڑپھڑانے  لگے  اور وہ۔۔۔

          پھر اُس نے  دیکھا اس کے  آنگن میں  ایک کالا کلوٹا کوّا مرا پڑا تھا، اور دیواروں  سے  چمٹے  ہوئے  ہزاروں  بدصورت کوّے  شور مچا رہے  تھے، ہو سکتا ہے  وہ بین کر رہے  ہوں، شکایت کر رہے  ہوں، یہ ایک طرح کا احتجاج بھی ہو سکتا ہے،مگر اس شکایت اور اس احتجاج سے  اُس کا کیا تعلق۔ کچھ بھی تو نہیں، مگر شور بڑھتا ہی جا رہا ہے۔

          بڑا جان لیوا شور۔۔ مگر یہ کیا ؟ وہ اسے  چونچ میں  دبائے  کہاں  اٹھا لے  گئے۔

          اب اس کے  آنگن میں  موت کی سی خاموشی طاری ہے۔ ایک عجیب سا سکوت، جیسے  ہوا چلتے  چلتے  اچانک رک گئی ہو، جیسے  شہر کے  سارے  راستے  مسدود ہو گئے  ہوں، مگر اس وقت اس کے  بیمار دروازے  کی چوکھٹ سے  چمٹا کون کھڑا ہے۔

          نہیں  نہیں۔۔۔۔ کوئی بھی نہیں۔۔ یہ اس کا واہمہ ہے، مگر وہ تو اسے  دکھائی دے  رہا ہے۔ بلکہ اس کے  منجمد ہونٹ ہولے  ہولے  ہل بھی رہے  ہیں۔ جیسے  وہ ایک کرب اور آزمائش سے  گزر رہا ہو، مگر وہ چوکھٹ سے  چمٹا کیوں  کھڑا ہے۔ کہیں  ایسا تو نہیں  کہ اُسے  ان کالے  کلوٹے  بدصورت کووں  کا انتظار ہے  جو اُسے  اپنی نکیلی چونچ میں  دبائے  دُور بہت دُور۔۔۔

          نہیں  نہیں  یہ تو ایک۔۔۔۔

          کیا کسی نے  آواز دی۔

          آواز۔۔۔۔۔۔۔ ؟

          آواز کی چھتیں تو کب کی طوفان کی زد سے  گر چکیں،اب یہاں  ایک کھنڈر ہے۔ صرف ایک کھنڈر۔۔۔ ایک قبرستان مگر کھنڈر میں بھی لوگ پانی کی تلاش میں  آ نکلتے  ہیں۔ وہ لوگ کہاں  ہیں۔ میں  انہیں  ڈھونڈتا ڈھونڈتا تھک سا گیا ہوں۔

          جب میرے  بچے  خود میرے  لیے  عصائے  پیری نہ بن سکے،تو یہ لوگ۔۔۔۔ نہیں  نہیں۔۔ دراصل یہی لوگ، یہی جیالے  اس کے  بیٹے  ہیں، اس کے  بچے  ہیں   ورنہ اس ویرانے  میں  کون آتا ہے۔ کسی کو کیا پڑی ہے  کہ اس کے  گھر آ کر ایک نظر اسے  بھی دیکھ ڈالے، مگر روشنیوں  سے  بھرے  اس گھر میں  رینگتا ہوا یہ مہیب سنّاٹا، یہ تاریکی !

          مگر وہ کب تک اس طرح گھٹ گھٹ کر جیے  گا۔ آخر کب تک۔

          وہ آدمی کچھ بولتا بھی تو نہیں۔ اُسے  بولنے  سے  کس نے  منع کیا ہے۔ کسی نے  بھی تو نہیں، تو پھر اُس نے  یہ چُپ کی چادر کیوں  اوڑھ رکھی ہے۔ وہ اس گونگی چادر کو تار تار بھی تو کر سکتا ہے۔ وہ اس کے  سامنے  ننگا ہونا نہیں  چاہتا،وہ اپنا لباس،اپنی چادر کیوں  تار تار کرے۔ کوئی وجہ، کوئی سبب، کچھ بھی تو نہیں۔

          ایسا سوچنا ہی غلط ہے۔ پھر صحیح کیا چیز ہے، کوئی چیز صحیح نہیں  ہے۔ پھر بھی سب کچھ صحیح ہے۔

          مگر درمیان میں  کوئی تو چیز ہو گی۔ کوئی راستہ، کوئی منزل۔

          منزل کا کوئی راستہ نہیں  ہوتا، اور نہ راستے  کی کوئی منزل۔

          کیا کسی نے  مجھے  آواز دی۔

          نہیں۔۔۔۔  نہیں۔۔۔۔  نہیں۔۔۔۔

          پھر یہ آواز کہاں  سے  آ رہی ہے۔

          آواز۔۔۔۔۔۔ ؟

          کون سی آواز۔

          آواز کا کوئی نام نہیں  ہوتا۔

          رشتہ تو ہوتا ہو گا۔

          کہیں  ایسا تو نہیں کہ چوکھٹ پر کھڑے  کھڑے  ہی وہ چل بسا ہو۔

          مگر وہ اس ویرانے  میں  آ کر کیوں  مرنا پسند کرے  گا۔ کیا اس کے  لیے  اب ایسا کوئی سائبان نہیں  جہاں  جا کر وہ۔۔۔

          مگر یہ آواز۔۔۔ یہ شور۔۔۔۔ کہیں  اس کے  آنگن میں  پھر کوئی کالا کلوٹا بد صورت سا کوا  مرا پڑا نہ ہو۔

          پھر یہ کائیں  کائیں۔۔ یہ جان لیوا شور۔۔ یہ بکھرے  ہوئے  دانے۔۔ یہ نُچے  ہوئے  پَر۔ یہ سب کچھ کیا ہے۔ کچھ بھی تو نہیں۔

          محض ایک واہمہ۔ ایک خواب۔

          کیا کوئی جاگتے  میں  بھی خواب دیکھ سکتا ہے۔

          ہاں۔۔ دیکھ سکتا ہے۔ ضرور دیکھ سکتا ہے۔

          ہیں  خواب میں  ہنوز کہ جاگے  ہیں  خواب میں۔

          مگر یہ بات کہنے  والا تو کبھی کا۔۔

          مجھے  کچھ بھی نہیں  معلوم۔۔۔

          پھر اسرار کا یہ پردہ کب ہٹے  گا۔

          کون سا اسرار۔۔۔ کون ساپردہ؟

          وہ جو ہمارے  درمیان ہے۔

          مگر میرے  گھر کے  سارے  زخمی پردوں  کے  درمیان صرف میں  ہوں   یا میرا وجود، تم ادھر کہاں بھٹک کر آ گئے  ۰۰۰۰۰۰سارے  راستے  تو بند ہیں۔

          راستے  تمھارے  لیے  بند ہو سکتے  ہیں، میرے  لیے  نہیں۔

          ویسے  بھٹکنا ہی شاید ہوش مندی کی علامت ہے۔

          شاید سے  تمھاری کیا مراد ہے۔

          اپنی ذات کی بازیافت جو تمھاری بھی ہو سکتی ہے۔

          میری؟

          ہاں  تمھاری؟ تم نے  تھوڑی دیر پہلے  یہی کہا تھا نا کہ تمہارے  گھر کے  دروازوں  کے  سارے  پردے  تو زخمی ہو چکے  ہیں۔۔ گھر کے  زخمی پردوں  کے  درمیان صرف تم ہو یا پھر تمھارا وجود۔

          ہاں  کہا تو تھا۔ مجھے۔ اس سے  کب انکار ہے۔

          انکار اقرار کے  آگے  ہاتھ جوڑتا ہے  یا اقرار انکار کے  آگے  ؟

          میں  الفاظ کے  ان گورکھ دھندوں  میں  پھنسنا نہیں  چاہتا، تم یہاں  آ کر مجھے  خواہ مخواہ کچوکے  لگا رہے  ہو۔ خدا کے  لیے  یہاں  سے  دفع ہو جاؤ۔

          کیوں  گھبرا گئے۔۔ وہ بھی اتنی جلد۔۔۔ ؟

          سچ کا کڑوا زہر جس نے  پی لیا ہو  وہ کسی سے  کیا گھبرائے  گا۔

          مگر میں  دیکھ رہا ہوں  تم مجھ سے  گھبرا رہے  ہو۔

          تم نے  شاید یہ زہر صرف ایک بار پیا ہے۔

          میں  سچ کے  اس کڑوے  زہر کو روزانہ چکھتا ہوں، بلکہ پیتا ہوں، کسی ٹھنڈے  مشروب کی طرح کبھی آہستہ۔۔ کبھی تیز۔۔۔ بہت تیز۔

          اِس پر بھی زندہ ہو۔۔۔ ؟

          دیکھ نہیں  رہے  ہو۔ میں  تمھارے  سامنے  ہی تو کھڑا ہوں،مجھے  ٹٹولو۔ مجھے  تلاش کرو۔ کنویں  میں  جب ڈول نہ گراؤ گے  تو پانی کس طرح پیو گے۔

          میں  تو پیاسا ہوں  جس کے  لیے  کنواں  خود روز چل کر آتا ہے، اور میری پیاس۔۔۔ مگر لگتا ہے  جیسے  تم پھر بھی پیاسے  ہو۔ جنم جنم کے  پیاسے۔

          کیا تم مجھے  یہاں  یہی جلی کٹی سنانے  کے  لیے  آئے  ہو۔

          ہاں  ہر نقاب کے  پیچھے  ایک حقیقت اور ہر حقیقت کے  پیچھے  ایک نقاب۔

          تم کہنا کیا چاہتے  ہو۔

          کچھ بھی نہیں۔۔ مجھے  جو کچھ کہنا تھا وہ میں  نے  کہہ دیا۔ اب میں  خود ایک کا سہ بکف ہوں   بالکل تمھاری طرح !

          مگر یہ کیا ؟ پھر وہی شور، وہی جان لیوا اور کریہہ آوازیں۔

          کائیں۔۔۔۔ کائیں۔۔۔۔ کائیں۔۔۔۔ کائیں۔

          اُسے  محسوس ہوا جیسے  ساری دنیا کے  بدصورت اور کالے  کلوٹے  کوّے  اس کے  وجود کے  سارے  ٹکڑوں  کو اپنی نوکیلی چونچ میں  دبائے  ایک نامعلوم سمت کی طرف پرواز کر رہے  ہوں !!

٭٭٭