کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

دعا

عوض سعید


میں  نے  جس آدمی کو برسوں  دیکھا وہ ان دنوں  پتہ نہیں  کہاں  غائب ہے۔ آپ نے  بھی اگر اسے  کہیں  دیکھا ہو تو کم و بیش وہی خلِش اپنے  دل میں  محسوس کر رہے  ہوں  گے  جو میں  نے  محسوس کی ہے۔ ہو سکتا ہے  میرا خیال غلط ہو۔ آپ نے  اُسے  دیکھا ہی نہ ہو۔ اگر تھوڑی دیر کے  لیے  یہ مان بھی لیا جائے  کہ آپ نے  اُسے  دیکھا تھا، لیکن یہ کیا ضروری ہے  کہ اُس کی شخصیت کے  سارے  خد و خال آپ کے  ذہن کے  پردے  پر اسی طرح متحرک ہوں  جس طرح ابھی ابھی میں  نے  دیکھا اور محسوس کیا ہے۔ ہر شخص کی ذہنی سطح یکساں تو نہیں  ہوتی کہ وہ بہتے  پانی کی طرح کسی سنگم میں  پہنچ کر اپنی عافیت سنبھالے۔ پھر بھی انیس بیس کا فرق رہے  گاہی۔ اِس فرق کو نہ آپ مٹاسکیں گے  اور نہ میں۔ تفریق کا یہ ناگ ازل سے  ہمارا پیچھا کر رہا ہے۔

          میں  آج جس آدمی کے  بارے  میں  لکھنے  جا رہا ہوں   کبھی میں  نے  بھی اس کا پیچھا کیا تھا۔ ان اسرار کو جاننے  کی کوشش کی تھی جو اس کی ذات کے  نہاں  خانے  کا ایک حصہ تھے، لیکن میری اس ساری کوشش کو وہ اپنے  پاؤں  تلے  یوں  دبا دیتاجیسے  وہ آدمی نہ ہو کوئی قلندر یا ولی ہو یا بہت بڑا ساحر ہو۔ بہر حال وہ کچھ نہ ہوتے  ہوئے  بھی بہت کچھ تھا اور بہت کچھ ہوتے  ہوئے  بھی کچھ نہ تھا۔

          میں  نے  پہلی بار اُسے  شاہ صاحب کے  تکیے  سے  لگے  ویران و خستہ حال قبرستان میں  دیکھا تھا۔ وہ لوگوں  کے  ہجوم میں  شامل ہوتے  ہوئے  بھی الگ سادکھائی دے  رہا تھا۔

          جنازے  کو قبر کے  منہ میں  پھینک آنے  کی رسم ادا کرنے  کے  بعد جب وہ لوگ پیچھے  ہٹنے  لگے  تو اس نے  آگے  بڑھ کر اپنے  دونوں  ہاتھ فاتحہ خوانی اور دعا کے  لیے  اٹھا دئیے۔

          اُس کے  ملگجے  ہونٹ آہستہ آہستہ یوں  پھڑک رہے  تھے  جیسے  وہ مرحوم کی بخشش کے  لیے  گڑگڑا کر دعا مانگ رہا ہو۔

          مرنے  والے  کو دفن کرنے  کے  بعد جو گروہ تیز تیز قدم ناپتا قریب کی ٹوٹی ہوئی منڈیر تک پہنچ چکا تھا  اُن میں  اس کے  سبھی بھائی بند تھے۔ ڈر اور خوف کی چادر اوڑھے  ہوئے  ایک انجان اور نامعلوم وسوسے  میں  گرفتار۔

           ارے  بھئی ذرا رکنا۔۔ میری آواز قبرستان کے  سناٹے  میں  سرسراسی گئی لیکن وہ لوگ آگے  بڑھتے  ہی گئے۔

          میں  نے  پلٹ کر دیکھا۔ وہ آدمی ابھی تک فاتحہ خوانی میں  مشغول تھا۔

          اور اب اس گروہ کے  بیشتر لوگ قبرستان سے  لگے  ہوٹل میں  بیٹھے  چائے  کی چُسکیاں  لے  رہے  تھے   جیسے  وہ موت کے  پھندے  کو گلے  سے  نکال کر اسے  کہیں  دور پھینک آئے  ہوں۔ جس کھنڈر میں  جہاں  ابھی ابھی وہ بدیدۂ تر تھے، اب ان کے  ہونٹوں  پر زندگی کی مُسکان تھی۔ ہو سکتا ہے  جو میں نے  دیکھا ہے  وہ غلط ہو۔ لیکن تیسری آنکھ کبھی دھوکا  نہیں  کھاتی۔

          قبرستان میں  بچھی ہوئی یہ ٹیڑھی میڑھی قبریں، اس پر پھولوں کے  بجائے  جا بجا پرندوں  کی بیٹ۔ یہ بیمار اور خستہ دیواریں، صدیوں  پہلے  لگائے  ہوئے  یہ دوچار بوڑھے  درخت، یہ خود رو جھاڑیاں  اور اُس پر رینگتے  ہوئے  یہ عجیب و غریب کیڑے۔

          میں  نے  لوٹنے  سے  پہلے  پھر ایک بار پلٹ کر اُسے  دیکھا۔ وہ آدمی ابھی تک فاتحہ خوانی میں  مشغول تھا۔ میں  اس کے  چہرے  کو اس لیے  بھی دیکھ نہیں  سکتا تھا کہ اس کا چہرہ میری نگاہوں  سے  اوجھل تھا۔ صرف اس کی پیٹھ دکھائی دے  رہی تھی  اور دعا کے  لیے  اٹھے  ہوئے  اس کے  دو ہاتھ۔

          میں  نے  سوچا، آخر وہ کب تک اس طرح کھڑا رہے  گا۔ یہ دعا دے  رہا ہے  یا محض مرحوم سے  ہم کلام ہے۔ ایک لمحہ بعد ہی میں  نے  ایک سیاہ زہریلے  ناگ کو جھاڑیوں  میں سے  نکلتے  دیکھا۔ میں  وحشت سے  لڑکھڑا سا گیا۔ اب میرے  سامنے  ناگ کی شکل میں  موت کھڑی تھی۔

          دیکھ لیا نا۔۔ ویران قبرستان میں  جانے  کا انجام۔ اب بھگتو،ناگ کے  کاٹے  کا کہیں  علاج بھی ہے   ؟  جیسے  میرے  اندر کے  انسان نے  کہا۔

          ’’  نہیں  نہیں۔۔۔ میں  ابھی مرنا نہیں  چاہتا۔ مجھے  بچا لو۔ مجھے  بچا لو۔

          میں  کب اس ویرانہ سے  واپس لوٹا مجھے  کچھ یاد نہیں۔ میں  نے  مُندی مُندی آنکھوں  سے  باہر دیکھا۔ وہ لوگ ابھی تک ہوٹل کی کرسیوں پر ڈٹے  ہوئے  تھے۔

          میں  جیسے  تیسے  ہوٹل میں  داخل ہوا۔ بیرے  نے  آگے  بڑھ کر میرا ہاتھ تھاما۔

          ’’  بابو صاحب۔ چائے  یا کافی۔ ‘‘

          ’’  چائے  اور کچھ سموسے  بھی۔ ‘‘

          ’’  سموسے  تو ان سامنے  بیٹھے  ہوئے  لوگوں  نے  ختم کر دئیے۔ ‘‘

          ’’  کچھ  بسکٹ تو ہوں گے  ہی۔ ‘‘

          ’’  وہ بھی نہیں۔  ‘‘

          ’’  کیا وہ  بسکٹ بھی وہی لوگ۔۔ ؟

          ’’  خوب کھاتے  ہیں  صاحب۔ اسی لیے  تو زندہ ہیں۔ ؟

          دیکھو صاحب وہ لوگ اِدھر ہی دیکھ رہے  ہیں۔

          دیکھنے  دو۔ اس سے  کیا فرق پڑتا ہے۔

          بیرا۔۔۔  منیجر کی گرجدار آواز گونجی۔

          اس میز پر کھڑا کیا کر رہا ہے۔ دیکھ وہ کنارے  والا بابو کب سے  چائے  کے  لیے  پکار رہا ہے۔ بیرا جب بڑی شتابی سے  آگے  بڑھ گیا تو میں نے  دیکھا۔ وہ لوگ کپڑے  جھاڑ کر یوں  اٹھ کھڑے  ہوئے  جیسے  اچانک انھیں  کوئی اہم کام یاد آ گیا ہو۔ ایک ایک کر کے  جب وہ سب جا چکے  تو میں  نے  بھی باہر نکلنے  میں  نجات محسوس کی، مگر وہ سامنے  کے  پنواڑی سے  اپنے  اپنے  لیے  پان بنوا رہے  تھے۔ میرے  ہاں  سگریٹیں  ختم ہو چکی تھیں۔ ہوٹل کی کسیلی چائے  نے  جس انداز سے  منہ کا مزا  بگاڑا تھا، اس کے  لیے  سگریٹ کے  دوچار لمبے  کش لگانے  ضروری تھے،ایک پیکٹ فور اسکوائر۔ ‘‘

          ابھی دیا صاحب۔۔ پہلے  انھیں  پان دے  دوں۔ ارے  ہاں  فور اسکوائر تو نہیں  ہے  صاحب۔ ‘‘

          ’’  تو پھر جانے  دو۔۔ آگے  کہیں دیکھ لیں  گے۔ ‘‘

          ’’ ٹھہریے۔ اگر آپ برا نہ مانیں  تو میں  آپ کی خدمت میں  فور اسکوائرکا ایک سگریٹ پیش کر سکتا ہوں۔ اسی گروہ کے  ایک نوجوان نے  اخلاق کا مظاہرہ کرتے  ہوئے  کہا

          ’’  جی نہیں۔ شکریہ۔ میں  مانگے  تانگے  کی سگریٹ نہیں  پیتا۔ ‘‘

          ’’  یہ زندگی بھی تو اُدھار مانگی ہوئی ہے، جس کا قرض آج نہیں  تو کل ہمیں  چکانا ہے، یہ تو ایک معمولی سگریٹ ہے۔ خیر۔ ‘‘

          وہ جب آگے  بڑھ گیا تو میں  نے  اُسے  آواز دی۔ ذرا ٹھہریے۔ ‘‘

          وہ لپک کر میری طرف آیا۔ اس کے  سارے  ساتھی کچھ دور کھڑے  اس کا انتظار کر رہے  تھے۔

          ’’  آخر آپ مان گئے۔ ‘‘

          ’’  نہیں۔ آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ میں  صرف یہ جاننا چاہتا تھا کہ وہ آدمی کون تھا جو قبر کے  قریب کھڑا ہاتھ پھیلائے  فاتحہ خوانی میں  مشغول تھا۔ کہیں  مرنے  والے  سے  اس کا کوئی نازک رشتہ تو نہ تھا۔ ‘‘

          رشتہ وشتہ کچھ بھی نہیں، وہ ایک دوسرے  کے  لیے  محض اجنبی تھے،بالکل اجنبی۔

          ہاں  ہم سب اس کے  قریبی عزیز تھے،مگر یہ سب کچھ آپ کیوں  پوچھ رہے  ہیں۔ ‘‘

نہیں۔۔۔ وہ آدمی مجھے  بڑا بھلا لگا۔ میں  نے  اسے  ایک بار نہیں، کئی بار اُسے  اسی عالم میں  دیکھا۔ دعا کے  لیے  اوپر ہاتھ اٹھائے  ہوئے۔ ‘‘

          ’’  ہاں  میں  نے  بھی کئی بار اُسے  اسی قبرستان میں  دیکھا اور اسی روپ میں۔

          وہ مجھے  کسی اور جگہ کبھی دکھائی نہ دیا۔

          ’’  ارے  یار آتا بھی ہے  کہ نہیں۔ وہاں  کھڑا کھڑا کیا مغز پاشی کر رہا ہے۔ ‘‘

          ’’  وہ لوگ مجھے  بلا رہے  ہیں۔ اب اجازت دیجیے۔ پھر کبھی ملاقات ہو گی۔ ‘‘

          ’’  کیا قبرستان میں۔ ؟

          ’’  یہ بھی ہو سکتا ہے۔

          ’’  مگر ہماری شہادت کون دے  گا۔ ‘‘

          اوپر والا۔۔۔ ‘‘

          میری عجیب و غریب کھوکھلی مسکراہٹ پر وہ ہنس پڑا اور اپنے  ساتھیوں  کے  ساتھ آگے  بڑھ گیا۔

          میں  نے  اُسے  دور تک جاتے  دیکھا۔ جب وہ ہجوم میں  غائب ہو گیا تو میں  نے  بھی اپنے  گھر کی راہ لی۔

            ً  ارے  نفیس یہ کیا۔۔ ؟ تم تو گھر کی چوکھٹ پر کھڑی ہو۔ کیا کوئی خاص بات۔ ؟

          آج بڑی دیر لگا دی آپ نے۔ مگر یہ آپ کے  چہرے  کو ہو کیا گیا ہے۔ بڑے  ملول لگ رہے  ہو۔ آخر کیا بات ہے۔ ‘‘

          باتیں  تو بعد میں  ہوں گی۔ پہلے  مجھے  سگریٹ چاہیے۔ کہیں  تم نے  چھپا کر رکھ دیا ہو تو فوراً لادو۔ ورنہ مجھے  دوبارہ باہر جا نہ پڑے  گا۔ ‘‘

          اسی طرح ٹھہرے  رہیے۔ میں  دیکھتی ہوں۔ ‘‘

          کیا سگریٹ کی ڈبیہ مل گئی۔ ‘‘

          دیکھ تو رہی ہوں۔ کچھ تو صبر کیجیے۔ ‘‘

          نہیں  نہیں۔ میں  ابھی آتا ہوں۔ ‘‘

          آنے  کی ضرورت نہیں۔ سگریٹ مل گئی۔

          سگریٹ مل گئی۔ چلو اچھا ہوا۔ نہیں  تو میں  مرگیا ہوتا۔ ‘‘

          لیجیے  سگریٹ۔ اب اتنے  لمبے  لمبے  کش لگائیے  کہ گھر کے  سارے  کمرے  دھوئیں  سے  اٹ جائیں۔ میں  نے  سگریٹ جھپٹ کر دو تین لمبے  کش لگائے  اور دھیمے  لہجے  میں  کہا۔

          آج میں  بہت پریشان ہوں نفیس۔ ایک نا معلوم سا خوف،ایک بے  نام سی اداسی میرے  ارد گرد گھوم رہی ہے   اور میں  ادھ مواسا ہوا جا رہا ہوں۔ ‘‘

          ’’  وہ تو میں  دیکھ رہی ہوں۔ ‘‘

          صرف دیکھنے  سے  کیا ہوتا ہے۔ نفیس مجھے  تمھارا سہارا چاہیے۔ تمھارا سہارا۔ ‘‘

          یہ کیا کہہ رہے  ہیں  آپ۔ آج تک کبھی مجھ سے  کوئی کوتاہی ہوئی ہے۔ ؟‘‘

          نہیں  نفیس۔ یہ بات نہیں۔ تم نہیں  جانتیں۔ میں کن زہریلی را ہوں  سے  ہو کر آیا ہوں۔

          وہ سیاہ ناگ۔ وہ آدمی۔ ؟

          خدارا۔ اب آپ آرام کیجیے۔ دیکھیے  آپ کا بدن بھٹی کی طرح جل رہا ہے۔ ‘‘

          تم فکر نہ کرو۔ میں  ابھی نہیں  مروں گا۔ مجھے  وہ سب کچھ کہنے  دو  جو آج مجھ پر بیتی ہے۔

          کیا آج آفس کے  منیجر سے  پھر لڑائی مول لی۔ ‘‘  ؟

          نہیں۔۔ کاش میں  آفس ہی چلا گیا ہوتا۔

          میں  نے  گھر سے  نکلنے  کے  بعد راستے  میں  ایک جنازے  کو دیکھا۔ ڈولے  کو صرف چا رہی آدمی کندھے  پر اٹھائے  ہوئے  آہستہ آہستہ چل رہے  تھے۔ باقی ماندہ لوگ پیچھے  تھے۔ بہت پیچھے۔  ایک ایک کر کے  آہستہ آہستہ غائب ہو جانے  والوں  میں، میں  بھی ایک تھا،لیکن پتہ نہیں  جب میں  نے  اس آدمی کو دیکھا جو سفید دھاریوں  والا کالا کرتہ اور ہرک کا ڈھیلا ڈھالا پاجامہ پہنے  سڑک پر ننگے  پاؤں چل رہا تھا۔ اس نے  مجھے  کچھ اس انداز سے  دیکھا کہ میں  غائب ہونے  والی ٹولی کی صف سے  نکل کر جنازے  کے  آگے  پیچھے  چلنے  لگا۔ ایسا لگتا تھا جیسے  اُس نے  مجھ پر سحر کر دیا ہو۔ اب میں  اس اجنبی جنازے  کا ایک جزو تھا، جس سے  میرا کوئی خونی رشتہ نہ تھا اور لوگوں  کے  ساتھ جب میں  تکیہ والے  شاہ صاحب کے  قبرستان پہنچا تو گو رکن قبر کی تازہ مٹی کی خوشبو سونگھ رہا تھا۔ اس کے  عزیزوں  نے  جب ڈولا قبر کے  سینے  پر رکھا تو میں  احترام سے  ہاتھ باندھے  کھڑا ہو گیا۔ جنازے  کو قبر میں  اتارنے  کے  بعد جن لوگوں  نے  مٹی ڈالی اُن میں، میں  بھی شامل تھا۔ لوگ فاتحہ پڑھنے  کے  بعد ایک ایک کر کے  رخصت ہو رہے  تھے، لیکن وہ آدمی اپنے  دونوں  ہاتھ اٹھائے  ابھی تک قبر کے  پاس کھڑا تھا۔

          پھر ایک سرسراہٹ سی میں  نے  محسوس کی۔ کیا دیکھتا ہوں  کہ ایک سیاہ ناگ پھن پھیلائے  میری طرف بڑھ رہا ہے۔ مجھ پر اچانک بے  ہوشی سی طاری ہو گئی۔ جیسے  کسی نے  مجھے  پیتھوڈین [PETHEDIN]کا انجکشن دے  دیا ہو۔ مجھے  لگا جیسے  میں  موت کی دہلیز پر کھڑا ہوں،مگر وہ زہریلا ناگ مجھے  ڈسے  بغیر جھاڑیوں  میں  کہیں  غائب ہو گیا اور میں  موت کی دہلیز کو پھلانگتا ہوا باہر آ گیا۔ بتاؤ نفیس یہ سب کچھ کیا ہے۔ ؟

          ً  یہ محض تمھارا  واہمہ ہے۔ تم اس جنازے  میں  گئے  ہی نہیں اور نہ تم تدفین کے  وقت وہاں  تھے۔ ‘‘

          کیا کہہ رہی ہو۔  ؟

          آج تم معمول کے  مطابق آفس گئے  تھے   اور وہیں  سے  لوٹ رہے  ہو۔ یہ اور بات ہے  کہ تم نے  آج دیر زیادہ لگا دی۔ ‘‘

          ’’  تمھیں  یقین نہ آئے  توآفس فون کر کے  پوچھ لو۔ وہاں  کوئی نہ کوئی او ور ٹائم [OVER TIME]کرنے  والا لالچی آدمی ضرور  ریسیور اٹھائے  گا اور کہے  گا۰۰۰۰۰  لو  فون کی گھنٹی بھی بجنا شروع ہو گئی۔

          ارے  اتنی رات گئے  کون بیوقوف فون کر رہا ہو گا۔ فون کی گھنٹی کی کرخت آواز مجھے  کچوکے  لگا رہی ہے۔ ذرا تم دیکھ لینا۔ ‘‘

          ’’  ہیلو۔  جی۔ جی۔ نہیں  ایسی کوئی بات نہیں۔ آج ان کی طبیعت ناسازہونے  کے  سبب وہ آفس نہ آ سکے۔ کل ضرور آ جائیں  گے۔ اپنے  منیجر سے  کہنا کہ نفیس نے  خود بات کی تھی۔ ‘‘

          ’’  تم تو حقیقت کو بھی واہمہ سمجھنے  لگی تھیں، اب ثبوت مل گیا نہ تمھیں۔ نفیس تم چُپ کیوں  ہو۔ کیا تمھیں  اب بھی یقین نہیں آ رہا ہے۔ ‘‘

          ’’  پلیز۔ اب آپ سوجائیے۔ صبح ساری باتیں  ہوں گی۔ شب بخیر۔ ‘‘

۔۔۔

          سویرے  جب میری آنکھ کھلی تو میں  نے  دیکھا۔ نفیس تخت پر بے  سُدھ پڑی تھی۔ اُس کے  گالوں  پر آنسوؤں  کے  چند قطرے  جیسے  کانپ رہے  تھے۔

          میں  نے  آگے  بڑھ کر جب رومال سے  اس کے  گالوں  پر آئے  ہوئے  قطروں  کو جذب کرنے  کی کوشش کی تو وہ اچانک ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔۔۔ ’’ ارے  دھوپ تو آنگن تک چلی آئی ہے، میں  آپ کے  لیے  پہلے  چائے  بنا لاتی ہوں۔ آج ناشتہ میں  شاید کچھ دیر ہو جائے۔ ‘‘

          میں  نے  حسبِ عادت پہلے  چائے  پی۔ بچے  کھچے  دو چار سگریٹ پھونک مارے، نفیس کی پیشانی کو چوما اور آفس کے  لیے  نکل پڑا، لیکن دِل وسوسوں  سے  بھرا تھا کہ کہیں  وہ آدمی پھر نظر نہ آ جائے۔ نظر بھی آ جائے  تو وہ میرا کیا بگاڑے  گا۔ میں  نے  دل کو ڈھارس دی۔ دراصل میں  خوف کے  خول میں  ابھی تک بند تھا۔

          پھر اچانک وہ مجھے  سامنے  سے  آتا دکھائی دیا۔ میرے  کنّی کاٹنے  سے  پہلے  وہ سڑک پر پھیلے  ہوئے  ہجوم میں  کہیں  غائب ہو گیا۔

          پھر میں  نے  اسے  کئی بار دیکھا۔ ہر بار اُسے  دیکھ کر چھپنے  کی کوشش کی اور اس میں  کامیاب بھی رہا۔ برسوں  یہ تماشا ہوتا رہا  لیکن میں  اندر ہی اندر جیسے  ٹوٹتا جا رہا تھا۔

          پھر ایک دن شاید اس کی تیسری آنکھ نے  مجھے  دیکھ لیا۔ ہو سکتا ہے  یہ میرا وہم ہو لیکن یہ میرا وہم نہیں  تھا۔ اس نے  سچ مچ مجھے  دیکھ لیا تھا۔

          آج بھی وہ ایک جنازے  کے  ساتھ آہستہ آہستہ چل رہا تھا۔ جنازے  کو کاندھا دینے  والوں  کی تعداد انگلیوں  پر گنی جاسکتی تھی۔ لیکن لگتا تھا جیسے  یہ جنازہ کسی غریب یتیم اور یسیر کا ہو۔

          میں  ایک غیر مرئی طاقت کے  زیر اثر جنازے  کے  ساتھ اور لوگوں  کی طرح چلنے  لگا۔ کبھی آگے۔۔۔ کبھی پیچھے

          لوگ جنازے  کو قبر کے  منہ میں  پھینک کر چلے  گئے    لیکن وہ آدمی بدستور قبر کے  قریب کھڑا ہاتھ پھیلائے  دُعا مانگ رہا تھا۔

          میں  نے  اضطراری کیفیت سے  اِدھر ادھر دیکھا اور دبے  پاؤں  اس کے  قریب جا کر کھڑا ہو گیا۔ اب میرے  دونوں  ہاتھ آسمان کی اور اٹھے  ہوئے  تھے۔ غیر  ارادی طور پر جب اس کے  بازوؤں  سے  ٹکرا گیا تو اس نے  وحشت ناک نگاہوں  سے  مجھے  دیکھا۔

          ’’ اتنی لمبی دعا مانگنے  کا حق تجھے  کس نے  دیا۔ بول۔ چپ کیوں  ہے۔ کیا تو مجھ سے  بازی لے  جانا چاہتا ہے۔ ‘‘

          ویران قبرستان کے  ذرّے  ذرّے  میں  اُس کی آواز یوں  گونج رہی تھی جیسے  وہ ملبے  کی چیخ ہو۔

          قبرستان کے  سینے  پر رینگنے  والے  سارے  کیڑے  مکوڑے  اُچھل اچھل کر گر رہے  تھے  یا مر رہے  تھے۔ آسمان پر کالے  کلوٹے  کوؤں  کی کائیں کائیں  سے  زمین پھٹی جا رہی تھی۔ وہ مسلسل چیخے  جا رہا تھا۔ اتنی لمبی دعا مانگنے  کا یہ حق تجھے  کس نے  دیا۔ بول۔۔ بولتا کیوں  نہیں۔ کیا زبان پر تالے  پڑ گئے  ہیں۔ سن نہیں  رہا ہے  مردود۔  ‘‘

          میں  خوف کے  مارے  تھر تھر کانپ رہا تھا۔ لگتا تھا جیسے  وہ زہریلا ناگ میرے  جسم میں  آہستہ آہستہ زہر کی بوندیں  انڈیل رہا ہو۔ مجھ پر ایک غنودگی سی طاری تھی۔ ایک عجیب سی غنودگی۔

          پھر وہ اچانک مجھ پر جھپٹ پڑا۔ جیسے  وہ آدمی نہیں  جنگل کا کوئی خونخوار شیر ہو۔

          دفعتاً اُس نے  میرے  اوپر اٹھتے  ہوئے  ہاتھوں کو دیکھا۔ اس کے  سیاہ ملگجے  ہونٹوں  پر ایک عجیب سی مسکراہٹ رینگ گئی۔

          جا۔  میں  نے  تجھے  معاف کیا۔ پھر اچانک وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے  لگا اور اپنے  دونوں  ہاتھ آسمان کی طرف پھیلا دئیے۔ جیسے  وہ خدا سے  پھر ایک بار کچھ مانگ رہا ہو۔

٭٭٭